🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
👍1
#فیضان_امام_جعفر_صادق
حضرت سیدنا امام جعفر صادق
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَبَارَڪَ وَ تَعَالیٰ عَـنۡـهٗ
یومِ ولادت ¹⁸ربیع الاول ۲۸؁ھ
وصال ¹⁵ رجب المرجب ۹۴۱؁ ھ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
ولادت و وصال | #ضیاء_طیبہ
مختصر سیرت امام جعفر صادق
مختصر تعارف امام جعفر صادق
اپنے بچوں بزرگوں کے بارے میں
مختصر تعارف امام جعفر صادق
کرامت | خلیفہ پر دبدبہ طاری ..
امام جعفر صادق | مدنی پھول
امام جعفر صادق کی عاجزی ...
آپکا ارشاد یا ربنا کہنے کی برکت
آپ کا فرمان بخار کا مدنی علاج
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
رجب کے کونڈے 🤲 کونڈے کی نیاز
حضرت امام جعفر صادق علیہ‌الرحمہ

حضور صَدرُالشَّریعہ، بَدرُالطَّریقہ حضرتِ علّامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں:

ماہِ رجب میں بعض جگہ حضرتِ ( سَیِّدُنا ) امام جعفر صادِق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو ایصالِ ثواب کے لیے پور یوں کے کونڈے بھرے جاتے ہیں یہ بھی جائز مگر اس میں بھی اسی جگہ کھانے کی بعضوں نے پابندی کررکھی ہے یہ بے جا پابندی ہے۔ اس کونڈے کے متعلق ایک کتاب بھی ہے جس کا نام ’’داستانِ عجیب‘‘ ہے، اس موقع پر بعض لوگ اس کو پڑھواتے ہیں اس میں جو کچھ لکھا ہے اس کا کوئی ثبو ت نہیں وہ نہ پڑھی جائے فاتحہ دلا کر ایصالِ ثواب کریں (بہارِ شریعت ج ۳ص۶۴۳)

اِسی طرح ’’دس بیبیوں کی کہانی،‘‘ ’’لکڑہارے کی کہانی‘‘ اور’’ جنابِ سیِّدہ کی کہانی‘‘ سب من گھڑت قِصّے ہیں ان کو نہ پڑھا کریں، اِس کے بجائے ایک بار سُوْرَۂ یٰسٓ پڑھ لیا کریں کہ دس قراٰنِ کریم ختم کرنے کا ثواب ملے گا ۔ یہ بھی یاد رہے کہ کونڈے ہی میں کھیر کھانا ،کھلانا ضَروری نہیں، دوسرے برتن میں بھی کھا اور کھلا سکتے ہیں ۔

ایصالِ ثواب (یعنی ثواب پہنچانا) قراٰنِ کریم و احادیثِ مبارَکہ سے ثابت ہے ، ایصالِ ثواب دُعا کے ذریعے بھی کیا جا سکتا ہے اور کھانا وغیرہ پکا کر اُس پر فاتحہ دلا کر بھی ۔

کونڈوں کی نیاز بھی ایصالِ ثواب ہی کی ایک صورت ہے اِس کو ناجائز کہنا شریعت پر اِفترا (یعنی تہمت باندھنا) ہے۔ ناجائز کہنے والے پارہ 7 سُوْرَۃُ الْمَائِدہ کی آیت نمبر 87 میں بیان کردہ حکمِ الٰہی سے عبرت پکڑیں چنانچِہ ارشاد ہوتا ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُحَرِّمُوْا طَیِّبٰتِ مَاۤ اَحَلَّ اللّٰهُ لَكُمْ وَ لَا تَعْتَدُوْاؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ(۸۷)

ترجَمۂ کنزالایمان: اے ایمان والو!حرام نہ ٹھہرا ؤ وہ ستھری چیزیں کہ اللہ نے تمہارے لئے حلال کیں اور حد سے نہ بڑھو۔ بے شک حد سے بڑھنے والے اللہ کو نا پسند ہیں ۔

’’رَجَب کے کونڈے ‘‘کِس تاریخ کو کریں؟
پورے ماہِ رَجب میں بلکہ سارے سال میں جب چاہیں ایصالِ ثواب کیلئے کونڈوں کی نیاز کر سکتے ہیں، البتّہ مناسب یہ ہے کہ 15 رَجَبُ المُرَجَّب کو ’’ رَجب کے کونڈے‘‘ کئے جائیں کیوں کہ یہ آپ کا یومِ عُرس ہے جیسا کہ فتاوٰی فقیہِ ملّت جلد 2 صَفْحَہ 265 پر ہے:’’حضرتِ (سَیِّدُنا ) امام جعفرِ صادِق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی نیاز 15 رجب کو کریں کہ حضرت کا وصال 15 ہی کو ہواہے۔‘‘نیز مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ کتاب شرحِ شجرۂ قادریہ ‘‘ صَفْحَہ 59 پر ہے: آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو 68 برس کی عمر میں([1]) 15 رَجَبُ المُرَجَّب([2]) ۱۴۸؁ھ کو کسی شَقِیُّ الْقَلْب (یعنی سنگ دل۔ظالم) نے زہر دیاجو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی شہادت کا سبب بنا ۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا مزارِ اقدس جنَّتُ الْبقیع (مدینۃُ المنوّرہ) میں والد محترم حضرت سیِّدُنا امام محمد باقِر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے پہلو میں ہے ۔ اللّٰہ ربُّ العزّت عَزَّ وَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور اُن کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو۔اٰمِین بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

کھانا کھلانے کے ذریعے ایصالِ ثواب کرنا سنّتِ صحابہ ہے اور رجب کے کونڈے میں بھی غذا یعنی کھانے ہی کی چیز ہوتی ہے جو کہ ایصالِ ثواب کیلئے کھلائی جاتی ہے۔
چُنانچِہ صَحابہ سات دن تک ایصالِ ثواب کرتے
حضرتِ علّامہ جلالُ الدّین سُیُوطِی شافِعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی نقل فرماتے ہیں کہ صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان سات روز تک وفات پاجانے والوں کی طرف سے کھانا کھلایا کرتے تھے ۔
(اَلْحاوِی لِلْفَتاوِی لِلسُّیُوطی ج۲ص۲۲۳)

صحابی نے ماں کی طرف سے باغ صدقہ کر دیا:
بخاری شریف میں ہے:حضرتِ سیِّدُنا سعد بن عُبادہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی امّی جان کا انتقال ہوا توانہوں نے بارگاہ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ میں حاضر ہو کر عرض کی: یَارَسُولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ! میری امّی جان کا میری غیر موجودگی میں انتقال ہو گیا ہے ،اگر میں ان کی طرف سے کچھ صَدَقہ کروں تو کیا انہیں کوئی فائدہ پہنچ سکتا ہے؟ ارشاد فرمایا: ہاں ، عرض کی: تو میں آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میر ا باغ ان کی طرف سے صَدَقہ ہے ۔ ( بُخاری ج۲ص ۲۴۱ حدیث۲۷۶۲)

معلوم ہو ا کھانا کھلانے کے علاوہ باغ یعنی مال خرچ کرنے کے ذَرِیعے بھی ایصالِ ثواب جائز ہے اور کونڈے شریف کی نیاز بھی مالی ایصالِ ثواب میں شامل ہے۔میرے آقااعلیٰ حضرت امام اَحمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں:امواتِ مسلمین (یعنی مرحومین)کے نام پر کھانا پکاکر ایصالِ ثواب کے لئے تَصَدُّق
1
(یعنی خیرات) کرنا بلا شبہ جائز ومُسْتَحسَن (یعنی پسندیدہ) ہے اور اس پر فاتحہ (کے ذریعے ) سے ایصالِ ثواب (کرنا) دوسرا مُسْتَحسَن (یعنی پسندیدہ) ہے اور دوچیزوں کا جمع کرنا زِیادتِ خیر(یعنی بھلائی میں اِضافہ) ہے(فتاوٰی رضویہ مُخَرَّجہ ج۹ ص۵۹۵)

ہر شخص کو افضل یہی کہ جو عملِ صالح (یعنی جو بھی نیک کام)کرے اُس کا ثواب اوّلین وآخِرین اَحیاء واَموات (یعنی سیِّدُنا آدم صَفِیُّ اللّٰہ عَلٰی نَبِیِّنا وَ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام سے لے کر تا قیامت ہونے والے) تمام مؤمنین ومؤمِنات کے لیے ہدِیَّہ (ہَ۔دی۔یہ) بھیجے (یعنی ایصالِ ثواب کرے)، سب کو ثواب پہنچے گا اور اُسے (یعنی جس نے ایصالِ ثواب کیا) اُن سب کے برابر اجرملے گا۔ (ایضاً ص۶۱۷)

ایصالِ ثواب اچّھی نیّت سے کیا جائے اس میںنُمود و نمائش (یعنی دِکھاوا ) مقصود نہ ہو، نہ اس کی اُجرت اور مُعاوَضہ لیا گیا ہو، ورنہ نہ ثواب ہے نہ ایصالِ ثواب۔ یعنی جب ثواب ہی نہ ملا تو پہنچے گا کیسے!(ماخوذاز بہار شریعت ج۱ ص۱۲۰۱ ج۳ ص۶۴۳)

https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp
پیشکش📮فیضان دارالعلوم امجدیہ ناگپور گروپ 966551830750+
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
👍1