🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
#فیضان_حضرت_علی_مرتضی
حضرت سیدنا مولا علی مشکل کشا
رَضِیَ الــلّٰــهُ تَـبَـارَڪَـ وَ تَـعَـالیٰ عَـنۡـہۡ
@islaamic_Knowledge
#منقبت_شان_مولی_علی قسط❻
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
Photo
#فیضان_حضرت_علی_مرتضی
حضرت سیدنا مولا علی مشکل کشا
رَضِیَ الــلّٰــهُ تَـبَـارَڪَـ وَ تَـعَـالیٰ عَـنۡـہۡ
@islaamic_Knowledge
#منقبت_شان_مولی_علی قسط❼
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
📚 « مختصــر ســوانح حیــات » 📚
-----------------------------------------------------------
🕯سلطان الشھداء حضرت سیدنا سالار مسعود غازی رضی اللّٰه عنہ🕯


سلطان الشھداء سیدناسالار مسعود غازی علیہ الرحمہ ہندوستان کے ان اولیاء کرام، شھداء عظام و مشائخ میں سے ہیں جنھوں نے اس کفر و شرک کی سر زمین پر اسلام کا پرچم بلند فرمایا.

ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 21رجب المرجب 405ھ مطابق 15 فروری 1015ع بروز اتوار بوقت صبح صادق اجمیر شریف میں ہوئی۔
یہ حضرت خواجہ غریب نواز علیہ الرحمہ کی آمد سے ایک سو اکیاسی برس پہلے کا زمانہ تھا آپ کاسلسلہ نسب بارھویں پشت میں شیر خدا حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے ملتا ہے.

تعلیم: جب آپ چار برس کے ہوئے تو رسم بسم اللہ خوانی ادا کی گئ والد سالار ساہو نے سید ابراہیم بارہ ہزاروی کو آپ کا استاذ مقرر فرمایا اس وقت آپ کے والد سلطان محمود غزنوی کی جانب سے ھندوستان کے گورنر مقرر تھے۔ 9 سال کی عمر میں آپ نے علوم ظاھری و باطنی میں کمال حاصل کیا.

سیرت و خصائص: آپ سلطان محمود غزنوی علیہ الرحمہ کے حقیقی بھانجے ہیں۔ جنھوں نے اپنے والد سلطان سبکتگین کے کے بعد 23 برس تک سلطنت کی ذمہ داری نبھائی۔
والی قنوج کی سرکوبی کے لئے جب سلطان محمود غزنوی نے ھندوستان کارخ کیا توپہلی بار پیارے بھانجے حضرت مسعود غازی کا دیدار کیا۔ جب واپس ہوئے تو بہن بی بی ستر معلی اور بھانجے مسعود غازی کو اپنے ساتھ غزنہ لے گئے. جب کاہیلر میں بغاوت رونما ہوئی اس وقت سالار ساہو نے بیوی ستر معلی اور فرزند مسعو د غازی کو غزنہ سے کاہیلر بلالیا جہاں مسعود غازی کچھ دن قیام کے بعد دوبارہ غزنہ چلے گئے۔
سلطان محمود غزنوی کا ایک وزیر خواجہ حسن میمندی تھا جسے مسعود غازی کی بلند اقبالی کی بناء پر عداوت وحسد تھا سلطان اس حسد سے واقف تھے مگر عجلت میں کوئ اقدام کرنے کے بجائے آپ کو ھندوستان والدین کے پاس بھیجنے کا اردہ کیا جب سلطان نے اپنے بھانجے مسعود غازی سے اس ارادہ کااظہار کیا تو مسعود غازی نے فرمایا کہ میری خواہش ہے کہ آپ مجھے ھندوستان میں اشاعت اسلام کی اجازت مرحمت فرمائیں تاکہ اس کفر وشرک کی سر زمین پر اللہ کا نام بلند ہو سکے۔
سلطان نے کلیجے سے لگاکر آپ کو رخصت کیا۔ اور گیارہ ہزار جانثاروں کا قافلہ بھی آپ کے ہمرکاب ہوا.

چند ہی ماہ بعد 30 ربیع الاول 430ھ کو سلطان محمود غزنوی علیہ الرحمہ کا وصال پر ملال ہوگیا۔
ادھر مسعود غازی علیہ الرحمہ نہایت ہی شان و شوکت کے ساتھ دریائے سندھ کے راستے اجودھن ( پاک پٹن ) پہونچے جہاں کے راجاؤں کو شکشت دیکر دہلی روانہ ہوئے اس وقت دہلی کاراجہ مہ پال رائے تھا جس کے سامنے مسعود غازی علیہ الرحمہ نے دعوت اسلام پیش کی بالآخر جنگ کی نوبت آگئ جنگ جاری ہوئ جس میں دشمنوں کی طاقت وقوت بہت زیادہ تھی اس کے باوجود آپ نے اور آپ کے رفقاء نے جم کر مقابلہ کیا بالآخر دشمنوں کو شکشت ہوئ اور بہت سے راجاؤں نے اطاعت قبول کی۔
میرٹھ اور قنوج ہوتے ہوئے ضلع بارہ بنکی کے قصبہ سترکھ پہونچے جہاں کے راجاؤں سے مقابلہ کے بعد آپ بہرائچ روانہ ہوئے.
شعبان 423ھ میں آپ بہرائچ پہونچے۔
مؤرخین کا بیان ہے کہ موجودہ درگاہ شریف کے پاس ایک مہوہ کا درخت تھا جس کے نیچے آپ اکثر قیام فرمایا کرتے تھے۔
آپ فرماتے کہ ھندوستان آنے کے بعد مجھے کہیں سکون نہیں ملا اس درخت کے نیچے سکون محسوس کرتا ہوں۔ یہ آپ کی شھادت کی جانب اشارہ تھا۔
آپ کے بہرائچ آمد کے بعد ہر طرف مخالفت کی ہوائیں چلنے لگیں انہی دنوں آپ کے والد سالار ساہو کا بھی وصال ہوگیا.
والد کے وصال کے بعد بھی آپ کے عزم و حوصلہ میں کوئ کمی نہیں آئ بلکہ تبلیغ دین کے لئے جانفشانی کے ساتھ لگے رہے۔

بہرائچ و قرب و جوار کے راجاؤں کو آپ کی اقامت سے ناگواری ہوئی۔ انھوں نے آپ کو بھگانا چاہا اور کہا کہ اگر یہاں سے نہیں گئے تو لڑائی سے معاملہ طے ہوگا.
آپ نے فرمایا کہ چند روز بعد چلاجاؤں گا پھر بھی وہ نہ مانے یہاں تک کہ جنگ کی نوبت آگئ۔ مخالفین نے دریائے بھکلہ پر پڑاؤ ڈالا جہاں دونوں فوجوں کے مابین جم کر مقابلہ ہوا اسلام کے شیروں نے اس قدر جواں مردی کا مظاھرہ فرمایا کہ دشمنوں کے پاؤں اکھڑ گئے وہ بھاگ کھڑے ہوئے اور ان کے کئ سردار گرفتار ہوئے۔
اس شکشت سے تمام راجاؤں میں بے چینی پیدا ہوگئ۔ راجا سہر دیو نے مشورہ دیا کہ اس بار میدان جنگ میں لوہے کی زھر آلود کیلیں بچھادی جائیں چنانچہ ایسا ہی کیا گیا اور دونوں فوجیں ایک بار پھر آمنے سامنے ہوئیں اس بار بھی دشمنوں کو شکشت کامنھ دیکھنا پڑا۔ اس جنگ میں سرکار غازی کے دوتہائی احباب نے جام شہادت نوش فرمایا۔
1👍1