صحابہ و اہلبیت رضی اللہ عنہم کی آپس میں محبت و رشتہ داریاں حصہ دوم
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/292976576271722/
محترم قارئینِ کرام : ابتدائے اسلام ہی سے اسلام دشمن قوتوں یہودی ابنِ سبا کی نسل سباٸیوں اور خارجیوں و ناصبیوں نے مسلمانوں کے ذہنوں کو خراب کرنے کےلیے صحابہ کرام اور اہلبیت رضی اللہ عنہم کے مابین اختلاف ابھارا تاکہ بعد میں آنے والے مسلمانوں کو انتشار کا شکار کر دیا جائے ۔ ان کی یہ کوشش ہوتی کہ جماعتِ صحابہ رضی اللہ عنہم کی کوئی ایسی بات پکڑی جائے جسے اہلبیت رضی اللہ عنہم کے خلاف ابھارا جا سکے اور اس طرح اہلبیت رضی اللہ عنہم کی محبت ظاہر کر کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی توہین کی جا سکے ۔ آج بھی یہود و نصارٰی کے آلہ کار ابنِ سبا یہودی کی نسلیں اس ناپاک سازش میں مصروف ہیں اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کی شان میں گستاخی کر کے اپنے بغض و حسد کی آگ کو ٹھنڈا کر رہے ہیں ۔ حالانکہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین اور اہلبیت رضوان اللہ علیھم اجمعین میں کسی نوعیت کا کوئی ذاتی اختلاف نہ تھا ۔ وہ تو ایک دوسرے سے رشتے داریاں کرتے ، گویا قدرت نے انہیں ایک لڑی میں پرو دیا تھا ۔ اللہ پاک ہمیں سب صحابہ کرام اور تمام اہلبیت رضی اللہ عنہم سے سچی اور حقیقی محبت نصیب فرمائے آمین ۔
امام عبدالرءوف مُناوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : کوئی بھی امام یا مجتہد ایسا نہیں گزرا جس نے اہلِ بیت کی محبت سے بڑا حصّہ اور نُمایاں فخر نہ پایا ہو ۔ (فیض القدیر،ج 1،ص256)
امام یوسف بن اسماعیل نبہانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : جب اُمّت کے ان پیشواؤں کا یہ طریقہ ہے تو کسی بھی مؤمن کو لائق نہیں کہ ان سے پیچھے رہے ۔ (الشرف المؤبد لآل محمد، صفحہ نمبر 94،چشتی)
حضرت صدر الافاضل سد محمد نعیم الدین مراد آبادی رحمة علیہ فرماتے ہیں : نبی کریم صلَّی اللہ علیہ و آلہ وسلَّم کی محبّت اور آپ کے اَقارِب کی مَحبّت دِین کے فرائض میں سے ہے ۔ (تفسیر خزائنُ العرفان، پ25،الشوریٰ، تحت الآیۃ:23، ص894)
صَحابَۂ کرام رضی اللہ عنہم جو خود بھی بڑی عظمت و شان کے مالِک تھے ، وہ عظیمُ الشّان اہلِ بیتِ اطہار رضی اللہ عنہم سے محبت رکھتے تھے اور اپنے قول و عمل سے اس کا کس طرح اِظْہار کیا فرمایا کرتے تھے :
صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم حضرت سیّدُنا عباس رضی اللہ عنہ کی تعظیم و توقیر بجا لاتے ، آپ کے لئے کھڑے ہوجاتے ، آپ کے ہاتھ پاؤں کا بوسہ لیتے، مُشاوَرت کرتے اور آپ کی رائے کو ترجیح دیتے تھے۔(تہذیب الاسماء،ج 1،ص244، تاریخ ابنِ عساکر،ج 26،ص372)
حضرت عباس رضی اللہ عنہ بارگاہِ رسالت میں تشریف لاتے تو حضرت ابوبکر صِدّیق رضی اللہ عنہ بطورِ اِحترام آپ کے لئے اپنی جگہ چھوڑ کر کھڑے ہوجاتے تھے ۔ (معجمِ کبیر،ج 10، صفحہ 285 ، حدیث:10675)
حضرت عباس رضی اللہ عنہ کہیں پیدل جا رہے ہوتے اور حضرت عمر فاروق اور حضرت عثمان ذُوالنُّورَین رضی اللہ عنہما حالتِ سواری میں حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرتے تو بطورِ تعظیم سواری سے نیچے اُتر جاتے یہاں تک کہ حضرت عباس رضی اللہ عنہ وہاں سے گزر جاتے ۔ (الاستیعاب،ج 2،ص360)
حضرت سیّدُنا ابوبکر صِدّیق رضی اللہ عنہ کے سامنے اہلِ بیت کا ذِکر ہوا تو آپ نے فرمایا : اُس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قُدْرت میں میری جان ہے ! رسولِ پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے قَرابَت داروں کے ساتھ حُسنِ سُلوک کرنا مجھے اپنے قَرابَت داروں سے صِلۂ رحمی کرنے سے زیادہ محبوب و پسندیدہ ہے ۔ (صحیح بخاری ، جلد نمبر 2 صفحہ نمبر 438 حدیث نمبر 3712)
ایک بار حضرت صِدّیقِ اکبر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : رسولِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے احترام کے پیشِ نظر اہلِ بیت کا احترام کرو ۔ (صحیح بخاری جلد 2 حدیث 3713،چشتی)
حضرت عُقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابوبکر صِدّیق رضی اللہ عنہ نے ہمیں عَصْر کی نَماز پڑھائی ، پھر آپ اور حضرت علیُّ الْمُرتضیٰ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوکر چل دئیے ، راستے میں حضرت حَسن کو بچّوں کے ساتھ کھیلتے ہوئے دیکھا تو حضرت سیّدُنا صِدّیقِ اکبر رضی اللہ عنہ نے انہیں اپنے کندھے پر اُٹھا لیا اور فرمایا : میرے ماں باپ قربان! حُضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے ہم شکل ہو، حضرت علی کے نہیں۔ اس وقت حضرت علیُّ الْمُرتضیٰ رضی اللہ عنہ مُسکرا رہے تھے ۔ (سنن الکبریٰ للنسائی،ج 5،ص48، حدیث نمبر 8161،چشتی)
ایک بار حضرت عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ حضرت سیّدَتُنا فاطمۃُ الزَّہراء رضی اللہ عنہا کے ہاں گئے تو فرمایا : اے فاطمہ ! اللہ کی قسم! آپ سے بڑھ کر میں نے کسی کو نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا محبوب نہیں دیکھا اور خدا کی قسم ! آپ کے والدِ گرامی کے بعد لوگوں میں سے کوئی بھی مجھے آپ سے بڑھ کر عزیز و پیارا نہیں ۔ (مستدرک،ج 4،ص139، حدیث:4789)
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/292976576271722/
محترم قارئینِ کرام : ابتدائے اسلام ہی سے اسلام دشمن قوتوں یہودی ابنِ سبا کی نسل سباٸیوں اور خارجیوں و ناصبیوں نے مسلمانوں کے ذہنوں کو خراب کرنے کےلیے صحابہ کرام اور اہلبیت رضی اللہ عنہم کے مابین اختلاف ابھارا تاکہ بعد میں آنے والے مسلمانوں کو انتشار کا شکار کر دیا جائے ۔ ان کی یہ کوشش ہوتی کہ جماعتِ صحابہ رضی اللہ عنہم کی کوئی ایسی بات پکڑی جائے جسے اہلبیت رضی اللہ عنہم کے خلاف ابھارا جا سکے اور اس طرح اہلبیت رضی اللہ عنہم کی محبت ظاہر کر کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی توہین کی جا سکے ۔ آج بھی یہود و نصارٰی کے آلہ کار ابنِ سبا یہودی کی نسلیں اس ناپاک سازش میں مصروف ہیں اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کی شان میں گستاخی کر کے اپنے بغض و حسد کی آگ کو ٹھنڈا کر رہے ہیں ۔ حالانکہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین اور اہلبیت رضوان اللہ علیھم اجمعین میں کسی نوعیت کا کوئی ذاتی اختلاف نہ تھا ۔ وہ تو ایک دوسرے سے رشتے داریاں کرتے ، گویا قدرت نے انہیں ایک لڑی میں پرو دیا تھا ۔ اللہ پاک ہمیں سب صحابہ کرام اور تمام اہلبیت رضی اللہ عنہم سے سچی اور حقیقی محبت نصیب فرمائے آمین ۔
امام عبدالرءوف مُناوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : کوئی بھی امام یا مجتہد ایسا نہیں گزرا جس نے اہلِ بیت کی محبت سے بڑا حصّہ اور نُمایاں فخر نہ پایا ہو ۔ (فیض القدیر،ج 1،ص256)
امام یوسف بن اسماعیل نبہانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : جب اُمّت کے ان پیشواؤں کا یہ طریقہ ہے تو کسی بھی مؤمن کو لائق نہیں کہ ان سے پیچھے رہے ۔ (الشرف المؤبد لآل محمد، صفحہ نمبر 94،چشتی)
حضرت صدر الافاضل سد محمد نعیم الدین مراد آبادی رحمة علیہ فرماتے ہیں : نبی کریم صلَّی اللہ علیہ و آلہ وسلَّم کی محبّت اور آپ کے اَقارِب کی مَحبّت دِین کے فرائض میں سے ہے ۔ (تفسیر خزائنُ العرفان، پ25،الشوریٰ، تحت الآیۃ:23، ص894)
صَحابَۂ کرام رضی اللہ عنہم جو خود بھی بڑی عظمت و شان کے مالِک تھے ، وہ عظیمُ الشّان اہلِ بیتِ اطہار رضی اللہ عنہم سے محبت رکھتے تھے اور اپنے قول و عمل سے اس کا کس طرح اِظْہار کیا فرمایا کرتے تھے :
صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم حضرت سیّدُنا عباس رضی اللہ عنہ کی تعظیم و توقیر بجا لاتے ، آپ کے لئے کھڑے ہوجاتے ، آپ کے ہاتھ پاؤں کا بوسہ لیتے، مُشاوَرت کرتے اور آپ کی رائے کو ترجیح دیتے تھے۔(تہذیب الاسماء،ج 1،ص244، تاریخ ابنِ عساکر،ج 26،ص372)
حضرت عباس رضی اللہ عنہ بارگاہِ رسالت میں تشریف لاتے تو حضرت ابوبکر صِدّیق رضی اللہ عنہ بطورِ اِحترام آپ کے لئے اپنی جگہ چھوڑ کر کھڑے ہوجاتے تھے ۔ (معجمِ کبیر،ج 10، صفحہ 285 ، حدیث:10675)
حضرت عباس رضی اللہ عنہ کہیں پیدل جا رہے ہوتے اور حضرت عمر فاروق اور حضرت عثمان ذُوالنُّورَین رضی اللہ عنہما حالتِ سواری میں حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرتے تو بطورِ تعظیم سواری سے نیچے اُتر جاتے یہاں تک کہ حضرت عباس رضی اللہ عنہ وہاں سے گزر جاتے ۔ (الاستیعاب،ج 2،ص360)
حضرت سیّدُنا ابوبکر صِدّیق رضی اللہ عنہ کے سامنے اہلِ بیت کا ذِکر ہوا تو آپ نے فرمایا : اُس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قُدْرت میں میری جان ہے ! رسولِ پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے قَرابَت داروں کے ساتھ حُسنِ سُلوک کرنا مجھے اپنے قَرابَت داروں سے صِلۂ رحمی کرنے سے زیادہ محبوب و پسندیدہ ہے ۔ (صحیح بخاری ، جلد نمبر 2 صفحہ نمبر 438 حدیث نمبر 3712)
ایک بار حضرت صِدّیقِ اکبر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : رسولِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے احترام کے پیشِ نظر اہلِ بیت کا احترام کرو ۔ (صحیح بخاری جلد 2 حدیث 3713،چشتی)
حضرت عُقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابوبکر صِدّیق رضی اللہ عنہ نے ہمیں عَصْر کی نَماز پڑھائی ، پھر آپ اور حضرت علیُّ الْمُرتضیٰ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوکر چل دئیے ، راستے میں حضرت حَسن کو بچّوں کے ساتھ کھیلتے ہوئے دیکھا تو حضرت سیّدُنا صِدّیقِ اکبر رضی اللہ عنہ نے انہیں اپنے کندھے پر اُٹھا لیا اور فرمایا : میرے ماں باپ قربان! حُضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے ہم شکل ہو، حضرت علی کے نہیں۔ اس وقت حضرت علیُّ الْمُرتضیٰ رضی اللہ عنہ مُسکرا رہے تھے ۔ (سنن الکبریٰ للنسائی،ج 5،ص48، حدیث نمبر 8161،چشتی)
ایک بار حضرت عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ حضرت سیّدَتُنا فاطمۃُ الزَّہراء رضی اللہ عنہا کے ہاں گئے تو فرمایا : اے فاطمہ ! اللہ کی قسم! آپ سے بڑھ کر میں نے کسی کو نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا محبوب نہیں دیکھا اور خدا کی قسم ! آپ کے والدِ گرامی کے بعد لوگوں میں سے کوئی بھی مجھے آپ سے بڑھ کر عزیز و پیارا نہیں ۔ (مستدرک،ج 4،ص139، حدیث:4789)
❤1
ایک موقع پر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے حضراتِ صَحابَۂ کرام رضی اللہ عنہم کے بیٹوں کو کپڑے عطا فرمائے مگر ان میں کوئی ایسا لباس نہیں تھا جو حضرت امام حسن اور امام حُسین رضی اللہ عنہما کی شان کے لائق ہو تو آپ نے ان کےلیے یمن سے خُصوصی لباس منگوا کر پہنائے ، پھر فرمایا : اب میرا دل خوش ہوا ہے ۔ (ریاض النضرۃ،ج1،ص341)
یوں ہی جب حضرت فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ نے لوگوں کے وظائف مقرر فرمائے تو حضراتِ حَسَنَینِ کَرِیْمَین رضی اللہ عنہما کےلیے نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی قَرابَت داری کی وجہ سے اُن کے والد حضرت علیُّ الْمُرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے برابر حصّہ مقرر کیا، دونوں کے لئے پانچ پانچ ہزار دِرہم وظیفہ رکھا ۔(سیر اعلام النبلاء ج3،ص259،چشتی)
حضرت امیر مُعاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : حضرت علیُّ الْمُرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے چند نُقُوش بھی آلِ ابوسفیان (یعنی ہم لوگوں) سے بہتر ہیں ۔ (الناھیۃ صفحہ نبر 59)
حضرت امیر مُعاویہ رضی اللہ عنہ نے حضرت علیُّ الْمُرتضیٰ اور اہلِ بیت رضی اللہ عنہم کے زبردست فضائل بیان فرمائے ۔ (تاریخ ابن عساکر،ج 42،ص415)
حضرت امیر مُعاویہ رضی اللہ عنہ نے حضرت علیُّ الْمُرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے فیصلے کو نافِذ بھی کیا اور علمی مسئلے میں آپ سے رُجوع بھی کیا ۔ (سنن الکبریٰ للبیہقی،ج10،ص205، مؤطا امام مالک،ج2،ص259)
ایک موقع پر حضرت امیر مُعاویہ رضی اللہ عنہ نے حضرت ضَرّار صَدائی رضی اللہ عنہ سے تقاضا کرکے حضرت علیُّ الْمُرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے فضائل سنے اور روتے ہوئے دُعا کی : اللہ پاک ابوالحسن پر رحم فرمائے ۔ (الاستیعاب جلد 3،صفحہ 209،چشتی)
یوں ہی ایک بار حضرت امیر مُعاویہ نے حضرت امام حسن بن علی رضی اللہ عنہم کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا : یہ آبا و اَجْداد ، چچا و پھوپھی اور ماموں و خالہ کے اعتبار سے لوگوں میں سب سے زیادہ معزز ہیں ۔ (العقد الفرید،ج 5،ص344)
حضرت امیر مُعاویہ رضی اللہ عنہ ہم شکلِ مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہ وسلَّم ہونے کی وجہ سے حضرت امام حَسَن کا احترام کرتے تھے۔ (مراٰۃ المناجیح،ج 8،ص461)
ایک بار حضرت امیر مُعاویہ رضی اللہ عنہ نے امام عالی مقام حضرت امام حُسین رضی اللہ عنہ کی علمی مجلس کی تعریف کی اور اُس میں شرکت کی ترغیب دلائی ۔ (تاریخ ابن عساکر،ج14،ص179)
حضرت امیر مُعاویہ رضی اللہ عنہ نے سالانہ وظائف کے علاوہ مختلف مواقع پر حضراتِ حَسَنَینِ کَرِیْمَین رضی اللہ عنہما کی خدمت میں بیش بہا نذرانے پیش کئے ، یہ بھی محبت کا ایک انداز ہے ، آپ نے کبھی پانچ ہزار دینار ، کبھی تین لاکھ دِرہم تو کبھی چار لاکھ درہم حتی کہ ایک بار 40 کروڑ روپے تک کا نذرانہ پیش کیا ۔ (سیراعلام النبلاء جلد 4 صفحہ 309)(طبقات ابن سعد جلد 6 صفحہ 409)(معجم الصحابہ،ج 4،ص370)(کشف المحجوب صفحہ 77)(مراٰۃ المناجیح،ج 8،ص460)
حضرت سیّدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : آلِ رسول رضی اللہ عنہم کی ایک دن کی محبت ایک سال کی عبادت سے بہتر ہے ۔ (الشرف المؤبد لآل محمد، ص92) ۔ نیز آپ فرمایا کرتے تھے : اہلِ مدینہ میں فیصلوں اور وِراثت کا سب سے زیادہ علم رکھنے والی شخصیت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی ہے ۔ (تاریخ الخلفاء،ص135)
حضرت سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:میں جب بھی حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کو دیکھتا ہوں تو فَرطِ مَحبّت میں میری آنکھوں سے آنسو جاری ہوجاتے ہیں ۔ (مسند امام احمد،ج 3،ص632)
ابومہزم رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں : ہم ایک جنازے میں تھے تو کیا دیکھا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اپنے کپڑوں سے حضرت امام حُسین رضی اللہ عنہ کے پاؤں سے مٹی صاف کررہے تھے ۔ (سیراعلام النبلاء جلد 4 صفحہ 407)
عیزار بن حریث رحمۃ اللہ علیہ کا بیان ہے کہ حضرت عَمْرو بن عاص رضی اللہ عنہ خانۂ کعبہ کے سائے میں تشریف فرما تھے ، اتنے میں آپ کی نظر حضرت امام حُسین رضی اللہ عنہ پر پڑی تو فرمایا : اس وقت آسمان والوں کے نزدیک زمین والوں میں سب سے زیادہ محبوب شخص یہی ہیں ۔ (تاریخ ابن عساکر جلد نمبر 14 صفحہ نمبر 179،چشتی)
محترم قارٸینِ کرام : آپ نے بیان کردہ روایات میں پڑھا کہ حضراتِ صَحابَۂ کرام رضی اللہ عنہم کس کس انداز سے اہلِ بیتِ اَطہار رضی اللہ عنہم سے اپنی محبت کا اظہار کرتے ، انہیں اپنی آل سے زیادہ محبوب رکھتے ، ان کی ضَروریات کا خیال رکھتے ، ان کی بارگاہوں میں عمدہ و اعلیٰ لباس پیش کرتے ، بیش بہا نذرانے اُن کی خدمت میں حاضر کرتے ، اُن کو دیکھ کر یا اُن کا ذِکر پاک سُن کر بے اختیار رو پڑتے ، ان کی تعریف و توصیف کرتے اور جاننے والوں سے اُن کی شان و عظمت کا بیان سنتے ۔ لہٰذا ہمیں بھی چاہئے کہ ساداتِ کرام اور آلِ رسول کا بے حَدادب و احترام کریں ، ان کی ضَروریات کا خیال رکھیں ، ان کا ذِکرِخیر کرتے رہا کریں اور اپنی اولاد کو اہلِ بیت و صَحابَۂ کرام رضی اللہ عنہم کی محبت و احترام سکھائیں ۔
(مزید حصّہ سوم میں ان شاء اللہ) ۔
یوں ہی جب حضرت فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ نے لوگوں کے وظائف مقرر فرمائے تو حضراتِ حَسَنَینِ کَرِیْمَین رضی اللہ عنہما کےلیے نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی قَرابَت داری کی وجہ سے اُن کے والد حضرت علیُّ الْمُرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے برابر حصّہ مقرر کیا، دونوں کے لئے پانچ پانچ ہزار دِرہم وظیفہ رکھا ۔(سیر اعلام النبلاء ج3،ص259،چشتی)
حضرت امیر مُعاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : حضرت علیُّ الْمُرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے چند نُقُوش بھی آلِ ابوسفیان (یعنی ہم لوگوں) سے بہتر ہیں ۔ (الناھیۃ صفحہ نبر 59)
حضرت امیر مُعاویہ رضی اللہ عنہ نے حضرت علیُّ الْمُرتضیٰ اور اہلِ بیت رضی اللہ عنہم کے زبردست فضائل بیان فرمائے ۔ (تاریخ ابن عساکر،ج 42،ص415)
حضرت امیر مُعاویہ رضی اللہ عنہ نے حضرت علیُّ الْمُرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے فیصلے کو نافِذ بھی کیا اور علمی مسئلے میں آپ سے رُجوع بھی کیا ۔ (سنن الکبریٰ للبیہقی،ج10،ص205، مؤطا امام مالک،ج2،ص259)
ایک موقع پر حضرت امیر مُعاویہ رضی اللہ عنہ نے حضرت ضَرّار صَدائی رضی اللہ عنہ سے تقاضا کرکے حضرت علیُّ الْمُرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے فضائل سنے اور روتے ہوئے دُعا کی : اللہ پاک ابوالحسن پر رحم فرمائے ۔ (الاستیعاب جلد 3،صفحہ 209،چشتی)
یوں ہی ایک بار حضرت امیر مُعاویہ نے حضرت امام حسن بن علی رضی اللہ عنہم کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا : یہ آبا و اَجْداد ، چچا و پھوپھی اور ماموں و خالہ کے اعتبار سے لوگوں میں سب سے زیادہ معزز ہیں ۔ (العقد الفرید،ج 5،ص344)
حضرت امیر مُعاویہ رضی اللہ عنہ ہم شکلِ مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہ وسلَّم ہونے کی وجہ سے حضرت امام حَسَن کا احترام کرتے تھے۔ (مراٰۃ المناجیح،ج 8،ص461)
ایک بار حضرت امیر مُعاویہ رضی اللہ عنہ نے امام عالی مقام حضرت امام حُسین رضی اللہ عنہ کی علمی مجلس کی تعریف کی اور اُس میں شرکت کی ترغیب دلائی ۔ (تاریخ ابن عساکر،ج14،ص179)
حضرت امیر مُعاویہ رضی اللہ عنہ نے سالانہ وظائف کے علاوہ مختلف مواقع پر حضراتِ حَسَنَینِ کَرِیْمَین رضی اللہ عنہما کی خدمت میں بیش بہا نذرانے پیش کئے ، یہ بھی محبت کا ایک انداز ہے ، آپ نے کبھی پانچ ہزار دینار ، کبھی تین لاکھ دِرہم تو کبھی چار لاکھ درہم حتی کہ ایک بار 40 کروڑ روپے تک کا نذرانہ پیش کیا ۔ (سیراعلام النبلاء جلد 4 صفحہ 309)(طبقات ابن سعد جلد 6 صفحہ 409)(معجم الصحابہ،ج 4،ص370)(کشف المحجوب صفحہ 77)(مراٰۃ المناجیح،ج 8،ص460)
حضرت سیّدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : آلِ رسول رضی اللہ عنہم کی ایک دن کی محبت ایک سال کی عبادت سے بہتر ہے ۔ (الشرف المؤبد لآل محمد، ص92) ۔ نیز آپ فرمایا کرتے تھے : اہلِ مدینہ میں فیصلوں اور وِراثت کا سب سے زیادہ علم رکھنے والی شخصیت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی ہے ۔ (تاریخ الخلفاء،ص135)
حضرت سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:میں جب بھی حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کو دیکھتا ہوں تو فَرطِ مَحبّت میں میری آنکھوں سے آنسو جاری ہوجاتے ہیں ۔ (مسند امام احمد،ج 3،ص632)
ابومہزم رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں : ہم ایک جنازے میں تھے تو کیا دیکھا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اپنے کپڑوں سے حضرت امام حُسین رضی اللہ عنہ کے پاؤں سے مٹی صاف کررہے تھے ۔ (سیراعلام النبلاء جلد 4 صفحہ 407)
عیزار بن حریث رحمۃ اللہ علیہ کا بیان ہے کہ حضرت عَمْرو بن عاص رضی اللہ عنہ خانۂ کعبہ کے سائے میں تشریف فرما تھے ، اتنے میں آپ کی نظر حضرت امام حُسین رضی اللہ عنہ پر پڑی تو فرمایا : اس وقت آسمان والوں کے نزدیک زمین والوں میں سب سے زیادہ محبوب شخص یہی ہیں ۔ (تاریخ ابن عساکر جلد نمبر 14 صفحہ نمبر 179،چشتی)
محترم قارٸینِ کرام : آپ نے بیان کردہ روایات میں پڑھا کہ حضراتِ صَحابَۂ کرام رضی اللہ عنہم کس کس انداز سے اہلِ بیتِ اَطہار رضی اللہ عنہم سے اپنی محبت کا اظہار کرتے ، انہیں اپنی آل سے زیادہ محبوب رکھتے ، ان کی ضَروریات کا خیال رکھتے ، ان کی بارگاہوں میں عمدہ و اعلیٰ لباس پیش کرتے ، بیش بہا نذرانے اُن کی خدمت میں حاضر کرتے ، اُن کو دیکھ کر یا اُن کا ذِکر پاک سُن کر بے اختیار رو پڑتے ، ان کی تعریف و توصیف کرتے اور جاننے والوں سے اُن کی شان و عظمت کا بیان سنتے ۔ لہٰذا ہمیں بھی چاہئے کہ ساداتِ کرام اور آلِ رسول کا بے حَدادب و احترام کریں ، ان کی ضَروریات کا خیال رکھیں ، ان کا ذِکرِخیر کرتے رہا کریں اور اپنی اولاد کو اہلِ بیت و صَحابَۂ کرام رضی اللہ عنہم کی محبت و احترام سکھائیں ۔
(مزید حصّہ سوم میں ان شاء اللہ) ۔
❤1
https://t.me/islaamic_Knowledge/24788
صحابہ و اہلبیت رضی اللہ عنہم کی آپس میں محبت و رشتہ داریاں حصہ دوم
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/292976576271722/
✍ #ڈاکٹر_فیض_احمد_چشتی
صحابہ و اہلبیت رضی اللہ عنہم کی آپس میں محبت و رشتہ داریاں حصہ دوم
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/292976576271722/
✍ #ڈاکٹر_فیض_احمد_چشتی
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
صحابہ و اہلبیت رضی اللہ عنہم کی آپس میں محبت و رشتہ داریاں حصہ سوم
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/292981852937861/
محترم قارئینِ کرام : حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ اور حضرت سیدنا علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ کے گھرانے کی آپس میں رشتہ داریاں کی تفصیل دیکھیں یہ سب اہل سنت اور شیعہ دونوں کی معتبر کتابوں میں موجود ہے ۔ پہلی رشتہ داری تو یہ ہے کہ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے سسر ہیں وفات سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم غم زدہ تھے ۔ تو سیدنا صدیق اکبر نے اپنی خود بارگاہ رسالت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم میں اس رشتہ کی پیش کش کی آپ کی اس بیٹی کا نام محبوبہ محبوبِ خدا سیدہ امی عائشہ صدیقہ بنت صدیق اکبر ہے ۔ جو ام المومنین ہیں ۔ رضی اللہ عنہم ۔ (تہذیب جلد نمبر 4 صحفہ نمبر 298ابن حجر عسقلانی،چشتی)(تاریخ ائمہ صحفہ نمبر 147 علی حیدر نقوی)
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو ہز اروں احادیث زبانی یاد تھیں ان کا مقام یہ ہے کہ جلیل القدر صحابہ کرام کو مسئلہ درپیش ہوتا تووہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے عورتوں کے مسائل ہوں یا فقیہی مسائل آپ ان کا حل اپنی دانش اور فہم و فراست سے حل کر دیتی ام المومنین سید ہ عائشہ صدیقہ اہلبیت کی شان میں درجنوں احادیث کی اکلوتی راوی ہیں ۔ رضی اللہ عنہم ۔
دوسرا رشتہ سیدنا صدیق اکبر امام جعفر صادق کے نانا اور دادا لگتے ہیں ، آپ کا شجرہ نسب والد اور والدہ کی طرف سے سیدنا جعفر بن ام فروابنت قاسم بن محمد بن ابی بکرالصدیق (والدہ کی طرف سے) ۔ سیدنا جعفر بن محمد الباقر بن علی بن زین العابدین بن حسین بن علی المرتضٰی (والد کی طرف سے) یوں امام جعفر الصادق والد کی جانب سے علوی و فاطمی اور والدہ کی طرف سے صدیقی ہیں ۔ رضی اللہ عنہم ۔ (احقاق الحق صحفہ7)(شرح العقائد صحفہ 195،چشتی)(عمدةالطالب آ ل ابی طالب صحفہ 195)(اصول کافی جلد نمبر 586 شیعہ کی معروف کتاب ہے)
تیسرارشتہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم اور سیدنا صدیق اکبر دونوں ہم زلف ہیں وہ اس طرح کے زوجہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم سیدہ میمونا بنت حارث اور زوجہ صدیق اکبر سیدہ اسماء بنت عمیس والدہ کی طرف سے دونوں بہنیں ہیں ۔ رضی اللہ عنہم ۔ (طبقات الکبری جلد 8 صحفہ نمبر 104)
چوتھا رشتہ امام حسین سیدنا صدیق اکبر کے بیٹے محمد بن ابی بکر کے ہم زلف تھے اور امام زین العابدین کے خالہ زاد بھائی تھے ۔ رضی اللہ عنہم ۔ (فتیی الاحال جلد نمبر2صحفہ نمبر 4)(مناقب آل ابی طالب جلد نمبر 4صحفہ نمبر 49)(اصول کافی جلد1صحفہ نمبر 586)(کشف الغمہ جلد نمبر 2 نمبر 84) ۔ یہ تمام حوالے سنی شیعہ مکاتب فکر کی معتبر کتب میں بھی موجو د ہیں ۔
پانچواں اور چھٹا رشتہ : سیدنا صدیق اکبر کے بیٹے عبدالرحمان ابی بکر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے ہم زلف تھے اور امام حسین عبدالرحمن بن ابی بکر کے داماد تھے ۔ عبدالرحمان کی زوجہ قرین الصغری زوجہِ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم ام سلمٰی کی ماں جائی بہن تھیں اس طرح حضرت ام سلمٰی کی ماں جائی بہن تھیں اس طرح حضرت ام سلمٰی عبدالرحمان بن ابی بکر کی سالی ہوئی ، حفصہ بن عبدالرحمان جن کا نکاح منذر بن زبیر سے ہوا اور اس کے بعد اپ کا نکاح امام حسین بن علی بن ابی طالب سے ہوا ۔ رضی اللہ عنہم ۔ (طبقات ابن سعد جلد نمبر 8 صحفہ نمبر 468، 469،چشتی)
ساتواں رشتہ : امام حسن کے عقد میں عبدالرحمان بن ابی بکر کی دو صاحبزادیاں حفصہ بن عبدالرحمان او ر ہندہ بنت عبدالرحمان یکے بعد دیگرے آئیں ۔ رضی اللہ عنہم ۔ (شیعہ کتب ۔ ابن حدید شرح نہج البلاغہ جلد نمبر 4 صحفہ نمبر 5)(بحار الانوار جلد نمبر 4 صفحہ نمبر 8،چشتی)
اس رشتہ میں درج ذیل رشتے ثابت ہوئے ۔ 1۔عبدالرحمان بن ابی بکر ہم زلف رسول بنے ۔ 2۔ سیدہ عائشہ حفصہ کی پھوپھی بنی ،۔
3۔ سیدنا ام سلمیٰ ان کی خالہ بنی ۔ رضی اللہ عنہم ۔
آٹھوا ں رشتہ : امام حسن کی بیٹی (ام الحسن) سے صد یق اکبر کے نواسے (عبداللہ بن زبیر) کا عقد ہو ا ۔ رضی اللہ عنہم ۔ (شیعہ کتاب ۔ ناسح التواریخ جلد نمبر 2 صحفہ نمبر 271) ۔ اس کے علاوہ خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق کی ایک صاحبزادی بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے عقد میں تھیں ۔ اس طرح وہ بھی ام المومنین کی حیثیت سے معتبر تھیں ، اس مکمل تفصیل سے معلوم ہوا کے سیدنا صدیق اکبر اور سیدنا علی المر تضٰی باہمی الفت و محبت کے پیکر تھے ان میں کسی قسم کا کوئی اختلاف نہیں تھا ۔ اور آل نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم بھی عظمت صدیق اکبر کو تسلیم کرتی تھی ۔ اور آل صدیق اکبر بھی اہل بیت پر نچھاور ہوتی تھی ، یہی وجہ ہے کہ شان و خصائل صدیق اکبر بزبان علی المرتضیٰ میں بکثرت روایت ہیں اور مزید یہ ان کی آپس میں رشتہ داریاں بھی قائم ہوتی رہی ہیں ، خلفائے راشدین کی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے گھرانے میں رشتہ داریوں سے یہ بھی
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/292981852937861/
محترم قارئینِ کرام : حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ اور حضرت سیدنا علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ کے گھرانے کی آپس میں رشتہ داریاں کی تفصیل دیکھیں یہ سب اہل سنت اور شیعہ دونوں کی معتبر کتابوں میں موجود ہے ۔ پہلی رشتہ داری تو یہ ہے کہ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے سسر ہیں وفات سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم غم زدہ تھے ۔ تو سیدنا صدیق اکبر نے اپنی خود بارگاہ رسالت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم میں اس رشتہ کی پیش کش کی آپ کی اس بیٹی کا نام محبوبہ محبوبِ خدا سیدہ امی عائشہ صدیقہ بنت صدیق اکبر ہے ۔ جو ام المومنین ہیں ۔ رضی اللہ عنہم ۔ (تہذیب جلد نمبر 4 صحفہ نمبر 298ابن حجر عسقلانی،چشتی)(تاریخ ائمہ صحفہ نمبر 147 علی حیدر نقوی)
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو ہز اروں احادیث زبانی یاد تھیں ان کا مقام یہ ہے کہ جلیل القدر صحابہ کرام کو مسئلہ درپیش ہوتا تووہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے عورتوں کے مسائل ہوں یا فقیہی مسائل آپ ان کا حل اپنی دانش اور فہم و فراست سے حل کر دیتی ام المومنین سید ہ عائشہ صدیقہ اہلبیت کی شان میں درجنوں احادیث کی اکلوتی راوی ہیں ۔ رضی اللہ عنہم ۔
دوسرا رشتہ سیدنا صدیق اکبر امام جعفر صادق کے نانا اور دادا لگتے ہیں ، آپ کا شجرہ نسب والد اور والدہ کی طرف سے سیدنا جعفر بن ام فروابنت قاسم بن محمد بن ابی بکرالصدیق (والدہ کی طرف سے) ۔ سیدنا جعفر بن محمد الباقر بن علی بن زین العابدین بن حسین بن علی المرتضٰی (والد کی طرف سے) یوں امام جعفر الصادق والد کی جانب سے علوی و فاطمی اور والدہ کی طرف سے صدیقی ہیں ۔ رضی اللہ عنہم ۔ (احقاق الحق صحفہ7)(شرح العقائد صحفہ 195،چشتی)(عمدةالطالب آ ل ابی طالب صحفہ 195)(اصول کافی جلد نمبر 586 شیعہ کی معروف کتاب ہے)
تیسرارشتہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم اور سیدنا صدیق اکبر دونوں ہم زلف ہیں وہ اس طرح کے زوجہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم سیدہ میمونا بنت حارث اور زوجہ صدیق اکبر سیدہ اسماء بنت عمیس والدہ کی طرف سے دونوں بہنیں ہیں ۔ رضی اللہ عنہم ۔ (طبقات الکبری جلد 8 صحفہ نمبر 104)
چوتھا رشتہ امام حسین سیدنا صدیق اکبر کے بیٹے محمد بن ابی بکر کے ہم زلف تھے اور امام زین العابدین کے خالہ زاد بھائی تھے ۔ رضی اللہ عنہم ۔ (فتیی الاحال جلد نمبر2صحفہ نمبر 4)(مناقب آل ابی طالب جلد نمبر 4صحفہ نمبر 49)(اصول کافی جلد1صحفہ نمبر 586)(کشف الغمہ جلد نمبر 2 نمبر 84) ۔ یہ تمام حوالے سنی شیعہ مکاتب فکر کی معتبر کتب میں بھی موجو د ہیں ۔
پانچواں اور چھٹا رشتہ : سیدنا صدیق اکبر کے بیٹے عبدالرحمان ابی بکر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے ہم زلف تھے اور امام حسین عبدالرحمن بن ابی بکر کے داماد تھے ۔ عبدالرحمان کی زوجہ قرین الصغری زوجہِ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم ام سلمٰی کی ماں جائی بہن تھیں اس طرح حضرت ام سلمٰی کی ماں جائی بہن تھیں اس طرح حضرت ام سلمٰی عبدالرحمان بن ابی بکر کی سالی ہوئی ، حفصہ بن عبدالرحمان جن کا نکاح منذر بن زبیر سے ہوا اور اس کے بعد اپ کا نکاح امام حسین بن علی بن ابی طالب سے ہوا ۔ رضی اللہ عنہم ۔ (طبقات ابن سعد جلد نمبر 8 صحفہ نمبر 468، 469،چشتی)
ساتواں رشتہ : امام حسن کے عقد میں عبدالرحمان بن ابی بکر کی دو صاحبزادیاں حفصہ بن عبدالرحمان او ر ہندہ بنت عبدالرحمان یکے بعد دیگرے آئیں ۔ رضی اللہ عنہم ۔ (شیعہ کتب ۔ ابن حدید شرح نہج البلاغہ جلد نمبر 4 صحفہ نمبر 5)(بحار الانوار جلد نمبر 4 صفحہ نمبر 8،چشتی)
اس رشتہ میں درج ذیل رشتے ثابت ہوئے ۔ 1۔عبدالرحمان بن ابی بکر ہم زلف رسول بنے ۔ 2۔ سیدہ عائشہ حفصہ کی پھوپھی بنی ،۔
3۔ سیدنا ام سلمیٰ ان کی خالہ بنی ۔ رضی اللہ عنہم ۔
آٹھوا ں رشتہ : امام حسن کی بیٹی (ام الحسن) سے صد یق اکبر کے نواسے (عبداللہ بن زبیر) کا عقد ہو ا ۔ رضی اللہ عنہم ۔ (شیعہ کتاب ۔ ناسح التواریخ جلد نمبر 2 صحفہ نمبر 271) ۔ اس کے علاوہ خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق کی ایک صاحبزادی بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے عقد میں تھیں ۔ اس طرح وہ بھی ام المومنین کی حیثیت سے معتبر تھیں ، اس مکمل تفصیل سے معلوم ہوا کے سیدنا صدیق اکبر اور سیدنا علی المر تضٰی باہمی الفت و محبت کے پیکر تھے ان میں کسی قسم کا کوئی اختلاف نہیں تھا ۔ اور آل نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم بھی عظمت صدیق اکبر کو تسلیم کرتی تھی ۔ اور آل صدیق اکبر بھی اہل بیت پر نچھاور ہوتی تھی ، یہی وجہ ہے کہ شان و خصائل صدیق اکبر بزبان علی المرتضیٰ میں بکثرت روایت ہیں اور مزید یہ ان کی آپس میں رشتہ داریاں بھی قائم ہوتی رہی ہیں ، خلفائے راشدین کی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے گھرانے میں رشتہ داریوں سے یہ بھی
❤1
معلوم ہوتا ہے کہ ان سب (رضی اللہ عنہم) کے درمیان محبت ، پیار اور اخوت قائم تھا ۔ لیکن آج یہ سب مصلحتوں اور فرقہ واریت کا شکار ہوکر رہ گے ہیں ، یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں کے درمیان اختلافات میں برابر اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے مذہبی سکالرز علماء کرام اور ذاکرین یہ اختلافات اور فاصلے کم کرنے کی کوشش کریں تو مسلم امہ کی بہت بڑی خدمت ہوگی ۔
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی پوتی قرینۃالصغری (سیدہ حفصہ) بنت عبدالرحمن بن ابی بکر امام حسن کی اہلیہ تھیں ، امام حسن کی وفات کے بعد امام حسین سے نکاح ہوا ۔ (رضی اللہ عنہم)
اسماءبنت عمیس جو پہلے حضرت صدیقِ اکبر کی بیوی تھیں حضرت فاطمۃ الزھراء کی وفات کے بعد حضرت علی المرتضی سےشادی ھوئی ، اسماء سے امام حسین کے دو بھائی یحی بن علی اور عون بن علی پیدا ہوۓ ـ (رضی اللہ عنہم)
حضرت امام حسین اور حضرت محمد بن ابی بکر ہم زلف تھے ، شاہِ ایران یزدگر کی 2 بیٹیاں مالِ غنیمت میں آئیں ایک کا نکاح امام حسین سے اور دوسری کا نکاح محمد بن ابوبکر رضی اللہ عنہم سے کیا گیا ـ
حضرت بی بی شہربانو زوجہ امام حسین کے صاحبزادے امام زین العابدین کے خالہ زاد بھائی قاسم بن محمد بن ابوبکر کی بیٹی ام فروہ فاطمہ کا نکاح امام باقر بن زین العابدین سے ہوا جن سے امام جعفرصادق پیدا ہوئے رضی اللہ عنہم ۔
قرینۃالکبری بنت ھند بنت عبدالرحمان بن ابوبکر کا نکاح امام حسن سے ہوا یوں امام حسن خاندانِ صدیقی کے ذوالنورین بن گئے ۔ (رضی اللہ عنہم)
امام حسین امیرالمؤمنین عمر کےنسبتی بھائی ہیں ، امام حسین کی بہن امِ کلثوم بنت علی (حضرت سیدہ فاطمہ کی بیٹی) کا نکاح 17 ھ ذوالقعدہ میں ہوا 40،000 درھم حق مہر طے ہوا ان سے بیٹا زید بن عمر ، بیٹی رقیہ بنت عمر رضی اللہ عنہم پیدا ہوئیں ۔ (شیعہ کتب ۔ الشافی صفحہ نمبر 116)(مناقب ابن ابی طالب جلد 3 صفحہ 162)(المبسوط ج 4 ص 272،چشتی)
حضرت عبداللہ بن عمرو بن عثمان کا نکاح حضرت فاطمہ بنت امام حسین بن علی رضی اللہ عنہم سے ہوا ، یعنی دادا حضرت عثمان داماد ہیں نانا رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے ، اور پوتا عبداللہ داماد ہیں نواسہ حسین کے ، <اولاد> بقاسم و محمد ، بیٹی رقیہ تھی رضی اللہ عنہم ۔ (طبقات ابن سعد جلد 8)
حضرت بی بی سکینہ’بنت’ امام حسین
کا پہلا نکاح حضت ابوبکر صدیق کے نواسے مصعب ابن زبیر سے ہوا شہادتِ مصعب کے بعد زید بن عمرو بن عثمان سے ہوا یعنی دادا حضرت عثمان داماد ہیں نانا رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے ، اور پوتا زید داماد ہیں نواسے حسین کے ، حضرت امام حسین اپنی 2 بیٹیاں حضرت عثمان کے دو پوتوں کے نکاح میں دیں رضی اللہ عنہم ۔ (طبقات ابن سعد جلد 8)
حضرت جعفر طیار کی پوتی ، ام کلثوم بنت عبداللہ بن جعفر طیار کا نکاح عثمان غنی کے صاحبزادے ابان سے ہوا ۔ رضی اللہ عنہم ۔
حضرت امام حسن کی پوتی ام القاسم کا نکاح حضرت سیدنا عثمان غنی کے پوتےمروان بن
ابان بن عثمان سے ہوا رضی اللہ عنہم ۔ (طبقات ابن سعد جلد 8)
محترم قارٸینِ کرام تینوں مضامین میں دیے گۓ مکمل حوالجات سے ثابت ہوا کہ صحابہ کرام اور اہلبیتِ اطہار رضی اللہ عنہم کی آپس محبت و قریبی رشتہ داریاں ۔ شمنانانِ اسلام ، یہودیوں ، سباٸیوں ، رافضیوں ، ناصبیوں اور خارجیوں نے من گھڑت تاریخی روایات گھڑیں اور مسلمانوں میں نفرت ، تفرقہ اور انتشار پھیلایا جس میں بڑی حد تک وہ کامیاب بھی ہوۓ ان کی اس کامیابی میں جاہل پیروں ، جاہل خطیبوں ، جاہل نوٹ خوانوں نقیبوں اور اجہل ذاکروں کا بہت بڑا ہاتھ ہے ۔ فقیر اِس گمراہی و نفرت و تفرقہ کے پیروکاروں کو اپنی حد تک دلاٸل کے ذریعے عرصہ دراز سے جواب بھی دے رہا ہے اور بے نقاب بھی کر رہا ہے۔ جواب میں گالیاں بھی سنیں ، ستم بھی برداشت کیے اور کر رہا ہے مگر الحَمْدُ ِلله فقیر نے حالات سے دلبرداشتہ ہو کر اپنا مشن نہیں چھوڑا اگرچہ فقیر کو غیروں سے زیادہ اپنوں سے شکوہ عدمِ تعاون ضرور ہے ہمارے سنی صاحبِ حیثیت لوگ جاہل پیروں ، جاہل خطیبوں ، جاہل نوٹ خوانوں اور نقیبوں پر تو سب کچھ نچھاور کر دیتے ہیں مگر وہ اہلِ علم جو ہر طرح کے کسمپرسی کے حالات میں دفاعِ عقاٸدِ مسلکِ حق اہلسنت و جماعت کر رہے ہیں ان کے ساتھ تعاون کرنے کو تیار نہیں ۔ اللہ عزوجل اہلسنت صاحبِ ثروت حضرات کو سمجھ عطا فرماۓ اور اہلِ حق اہلِ علم کی مدد و حفاظت فرماۓ آمین ۔
(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی لاہور پاکستان)
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی پوتی قرینۃالصغری (سیدہ حفصہ) بنت عبدالرحمن بن ابی بکر امام حسن کی اہلیہ تھیں ، امام حسن کی وفات کے بعد امام حسین سے نکاح ہوا ۔ (رضی اللہ عنہم)
اسماءبنت عمیس جو پہلے حضرت صدیقِ اکبر کی بیوی تھیں حضرت فاطمۃ الزھراء کی وفات کے بعد حضرت علی المرتضی سےشادی ھوئی ، اسماء سے امام حسین کے دو بھائی یحی بن علی اور عون بن علی پیدا ہوۓ ـ (رضی اللہ عنہم)
حضرت امام حسین اور حضرت محمد بن ابی بکر ہم زلف تھے ، شاہِ ایران یزدگر کی 2 بیٹیاں مالِ غنیمت میں آئیں ایک کا نکاح امام حسین سے اور دوسری کا نکاح محمد بن ابوبکر رضی اللہ عنہم سے کیا گیا ـ
حضرت بی بی شہربانو زوجہ امام حسین کے صاحبزادے امام زین العابدین کے خالہ زاد بھائی قاسم بن محمد بن ابوبکر کی بیٹی ام فروہ فاطمہ کا نکاح امام باقر بن زین العابدین سے ہوا جن سے امام جعفرصادق پیدا ہوئے رضی اللہ عنہم ۔
قرینۃالکبری بنت ھند بنت عبدالرحمان بن ابوبکر کا نکاح امام حسن سے ہوا یوں امام حسن خاندانِ صدیقی کے ذوالنورین بن گئے ۔ (رضی اللہ عنہم)
امام حسین امیرالمؤمنین عمر کےنسبتی بھائی ہیں ، امام حسین کی بہن امِ کلثوم بنت علی (حضرت سیدہ فاطمہ کی بیٹی) کا نکاح 17 ھ ذوالقعدہ میں ہوا 40،000 درھم حق مہر طے ہوا ان سے بیٹا زید بن عمر ، بیٹی رقیہ بنت عمر رضی اللہ عنہم پیدا ہوئیں ۔ (شیعہ کتب ۔ الشافی صفحہ نمبر 116)(مناقب ابن ابی طالب جلد 3 صفحہ 162)(المبسوط ج 4 ص 272،چشتی)
حضرت عبداللہ بن عمرو بن عثمان کا نکاح حضرت فاطمہ بنت امام حسین بن علی رضی اللہ عنہم سے ہوا ، یعنی دادا حضرت عثمان داماد ہیں نانا رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے ، اور پوتا عبداللہ داماد ہیں نواسہ حسین کے ، <اولاد> بقاسم و محمد ، بیٹی رقیہ تھی رضی اللہ عنہم ۔ (طبقات ابن سعد جلد 8)
حضرت بی بی سکینہ’بنت’ امام حسین
کا پہلا نکاح حضت ابوبکر صدیق کے نواسے مصعب ابن زبیر سے ہوا شہادتِ مصعب کے بعد زید بن عمرو بن عثمان سے ہوا یعنی دادا حضرت عثمان داماد ہیں نانا رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے ، اور پوتا زید داماد ہیں نواسے حسین کے ، حضرت امام حسین اپنی 2 بیٹیاں حضرت عثمان کے دو پوتوں کے نکاح میں دیں رضی اللہ عنہم ۔ (طبقات ابن سعد جلد 8)
حضرت جعفر طیار کی پوتی ، ام کلثوم بنت عبداللہ بن جعفر طیار کا نکاح عثمان غنی کے صاحبزادے ابان سے ہوا ۔ رضی اللہ عنہم ۔
حضرت امام حسن کی پوتی ام القاسم کا نکاح حضرت سیدنا عثمان غنی کے پوتےمروان بن
ابان بن عثمان سے ہوا رضی اللہ عنہم ۔ (طبقات ابن سعد جلد 8)
محترم قارٸینِ کرام تینوں مضامین میں دیے گۓ مکمل حوالجات سے ثابت ہوا کہ صحابہ کرام اور اہلبیتِ اطہار رضی اللہ عنہم کی آپس محبت و قریبی رشتہ داریاں ۔ شمنانانِ اسلام ، یہودیوں ، سباٸیوں ، رافضیوں ، ناصبیوں اور خارجیوں نے من گھڑت تاریخی روایات گھڑیں اور مسلمانوں میں نفرت ، تفرقہ اور انتشار پھیلایا جس میں بڑی حد تک وہ کامیاب بھی ہوۓ ان کی اس کامیابی میں جاہل پیروں ، جاہل خطیبوں ، جاہل نوٹ خوانوں نقیبوں اور اجہل ذاکروں کا بہت بڑا ہاتھ ہے ۔ فقیر اِس گمراہی و نفرت و تفرقہ کے پیروکاروں کو اپنی حد تک دلاٸل کے ذریعے عرصہ دراز سے جواب بھی دے رہا ہے اور بے نقاب بھی کر رہا ہے۔ جواب میں گالیاں بھی سنیں ، ستم بھی برداشت کیے اور کر رہا ہے مگر الحَمْدُ ِلله فقیر نے حالات سے دلبرداشتہ ہو کر اپنا مشن نہیں چھوڑا اگرچہ فقیر کو غیروں سے زیادہ اپنوں سے شکوہ عدمِ تعاون ضرور ہے ہمارے سنی صاحبِ حیثیت لوگ جاہل پیروں ، جاہل خطیبوں ، جاہل نوٹ خوانوں اور نقیبوں پر تو سب کچھ نچھاور کر دیتے ہیں مگر وہ اہلِ علم جو ہر طرح کے کسمپرسی کے حالات میں دفاعِ عقاٸدِ مسلکِ حق اہلسنت و جماعت کر رہے ہیں ان کے ساتھ تعاون کرنے کو تیار نہیں ۔ اللہ عزوجل اہلسنت صاحبِ ثروت حضرات کو سمجھ عطا فرماۓ اور اہلِ حق اہلِ علم کی مدد و حفاظت فرماۓ آمین ۔
(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی لاہور پاکستان)
❤1
https://t.me/islaamic_Knowledge/24792
صحابہ و اہلبیت رضی اللہ عنہم کی آپس میں محبت و رشتہ داریاں حصہ سوم
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/292981852937861/
✍ #ڈاکٹر_فیض_احمد_چشتی
صحابہ و اہلبیت رضی اللہ عنہم کی آپس میں محبت و رشتہ داریاں حصہ سوم
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/292981852937861/
✍ #ڈاکٹر_فیض_احمد_چشتی
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
حضرت مولا علی رضی اللہ کی تاریخ ولادت و مولودِ کعبہ کون ؟ حصّہ اوّل
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/287204603515586/
محترم قارئینِ کرام : ہم نے کچھ عرص قبل حضرت مولا رضی اللہ عنہ کے متعلق بعض اہلِ سنت کی کتابوں کے حوالے سے حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے خانہ کعبہ میں پیدا ہونے پر ایک مضمون لکھا تھا جس میں مکمل دیانتداری کے ساتھ تمام حوالہ جات بمعہ اسکینز پیش کیے تھے (اِس مضمون میں اُن حوالہ جات پر بھی تحقیق پیش کی جاۓ گی ان شاء اللہ) ساتھ ہی وعدہ کیا تھا کہ وقت ملتے ہی دوسرا موقف جو اہلسنت کا ہے وہ پیش کرینگے مصروفیات و مشکلات نے یوں گھیرا کہ جمع شدہ مواد مختلف اوراق میں بھکرا رہا یوں دو سے تین سال کا عرصہ گذر گیا ۔ اب احباب کے بار بار اسرار پر اِن مشکلات و پریشانیوں میں گھرے ہونے کے باوجود ان حوالہ جات و موقف کو پیش کیا جا رہا ہے اہلِ علم سے گذارش ہے اختلاف آپ کا حق ہے کیجیے مگر دلاٸل کے ساتھ اور جہاں کہیں غلطی پاٸیں تو فقیر کو آگاہ فرماٸیں جزکم اللہ خیرا آمین ۔
پہلی بات یہ ہے کہ جن کتابوں میں اس کو ذکر کیا گیا تو وہاں صیغہ تمریض جیسے قِیْل ، رُوِیَ وغیرہ کے ساتھ ذکر کیا گیا لہٰذا یہ بات معتبر نہیں ۔
دوسری بات یہ ہے کہ صرف شہرت کی وجہ سے سند اور معتبر مآخذ کے ذکر کے بغیر لکھ دیا گیا لہٰذا جب تک معتبر ماخذ نہیں مل جاتا تب تک یہ بات قابلِ قبول نہیں ہے ۔
تیسری بات یہ ہے کہ جنہوں نے ماخذ بیان کیا ہے,وہ یا تو شیعوں کی کتب ہیں یا ایسے شیعوں کی طرف مائل حضرات کی کتب ہیں جنہوں نے بہت ساری شیعی روایات کو بغیر تحقیق و تنقیح کے نقل کر دیا جیسے امام ذہبی , ملا علی قاری اور شاہ ولی اللہ محدث دہلوی علیہم الرّحمہ نے مستدرک للحاکم کے حوالے سے اور بعض نے مروج الذہب اور فضول المھمہ کے حوالے سے نقل کیا ہے ۔
حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کو مولودِ کعبہ سمجھنا ایسا کمزور گمان ہے جس کے ثبوت پر کوئی صحیح دلیل نہیں کیونکہ آپ کرم اللہ وجہہ الکریم اپنے والد حضرت ابوطالب کے مکان شعبِ بنی ہاشم کے اندر پیدا ہوئے جس مکان کو لوگ مولدِ علی رضی اللہ عنہ کے نام سے یاد کیا کرتے تھے اور اس مکان کے دروازے پر یہ عبارت لکھی ہوئی تھی : ھذا مولد امیر المؤمنین علی ابن ابی طالب ، یعنی یہ حضرت امیر المومنین علی بن ابوطالب کرم اللہ وجہہ الکریم کی ولادت گاہ ہے ۔ اور اہلِ مکہ بھی اس پر بغیر اختلاف کے متفق تھے ۔ نیز آپ کرم اللہ وجہہ الکریم کی ولادت گاہ پر ایک قبہ بنا ہوا تھا جس کو نجدیوں نے دیگر مقامات مقدسہ کے ساتھ گرادیا ۔
امام مسلم بن حجاج قشیری رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں : ولد حکیم ابن حزام فی جوف الکعبہ ۔
ترجمہ : حضرت حکیم بن حزام رضی اللہُ عنہ خانہ کعبہ کے اندر پیدا ہوئے ۔ (صحیح مسلم کتاب البیوع باب الصدق فی البیع والبیان)
امام بدر الدین عینی حنفی رحمۃ اللہ تعالی علیہ تحریر فرماتے ہیں : حکیم بن حزام ولد فی بطن الکعبۃ ۔
ترجمہ : حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ تعالی عنہ خانہ کعبہ کے اندر پیدا ہوئے ۔ (عمدۃالقاری شرح صحیح بخاری جلد 13 صفحہ 142 دارالکتب العلمیہ بیروت،چشتی)
امام ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ تعالی تحریر فرماتے ہیں : وحکی الزبیر بن بکار ان حکیما ولد فی جوف الکعبہ ۔
ترجمہ : حضرت زبیر بن بکار رضی اللہ عنہ نے حکایۃً بیان کیا کہ حضرت حکیم بن حزام رضی اللہُ عنہ کی ولادت خانہ کعبہ کے اندر ہوئی ۔ (الاصابہ فی تمییز الصحابہ جلد 2 صفحہ 98 دار الکتب العلمیہ بیروت)
امام جلال الدین سیوطی شافعی رحمۃاللہ تعالی علیہ تحریر فرماتے ہیں : حکیم بن حزام بن خویلد بن اسد وکان مولدہ فی جوف الکعبہ۔
ترجمہ : حضرت حکیم بن حزام رضی اللہُ عنہ بن خویلد بن اسد. اور آپ کی ولادت گاہ خانہ کعبہ کے اندر تھی ۔ (تدریب الراوی فی شرح تقریب النواوی صفحہ 355 دارالکتاب العربی بیروت)
امام جلال الدین سیوطی شافعی رحمۃاللہ تعالی علیہ مزید اسی کتاب کے اگلے صفحہ پر تحریر فرماتے ہیں : قال الزبیر بن بکار کان مولد حکیم بن حزام فی جوف الکعبہ قال شیخ الاسلام ولایعرف ذلک لغیرہ ۔
ترجمہ : حضرت زبیر بن بکار رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ حضرت حکیم بن حزام رضی اللہُ عنہ کی ولادت خانہ کعبہ کے اندر ہوئی , شیخ الاسلام فرماتے ہیں کہ وہ اس بات کو (خانہ کعبہ کے اندر پیدا ہونے کو) حضرت حکیم بن حزام رضی اللہُ عنہ کے علاوہ کیلیے نہیں جانتے ۔ (تدریب الراوی فی شرح تقریب النواوی صفحہ 356 دارالکتاب العربی بیروت)
امام ابو ذکریا محی الدین یحی بن شرف نووی رحمۃ اللہ تعالی علیہ تحریر فرماتے ہیں : ولد حکیم بن حزام فی جوف الکعبۃ ولایعرف احد ولد فیھا غیرہ ۔
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/287204603515586/
محترم قارئینِ کرام : ہم نے کچھ عرص قبل حضرت مولا رضی اللہ عنہ کے متعلق بعض اہلِ سنت کی کتابوں کے حوالے سے حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے خانہ کعبہ میں پیدا ہونے پر ایک مضمون لکھا تھا جس میں مکمل دیانتداری کے ساتھ تمام حوالہ جات بمعہ اسکینز پیش کیے تھے (اِس مضمون میں اُن حوالہ جات پر بھی تحقیق پیش کی جاۓ گی ان شاء اللہ) ساتھ ہی وعدہ کیا تھا کہ وقت ملتے ہی دوسرا موقف جو اہلسنت کا ہے وہ پیش کرینگے مصروفیات و مشکلات نے یوں گھیرا کہ جمع شدہ مواد مختلف اوراق میں بھکرا رہا یوں دو سے تین سال کا عرصہ گذر گیا ۔ اب احباب کے بار بار اسرار پر اِن مشکلات و پریشانیوں میں گھرے ہونے کے باوجود ان حوالہ جات و موقف کو پیش کیا جا رہا ہے اہلِ علم سے گذارش ہے اختلاف آپ کا حق ہے کیجیے مگر دلاٸل کے ساتھ اور جہاں کہیں غلطی پاٸیں تو فقیر کو آگاہ فرماٸیں جزکم اللہ خیرا آمین ۔
پہلی بات یہ ہے کہ جن کتابوں میں اس کو ذکر کیا گیا تو وہاں صیغہ تمریض جیسے قِیْل ، رُوِیَ وغیرہ کے ساتھ ذکر کیا گیا لہٰذا یہ بات معتبر نہیں ۔
دوسری بات یہ ہے کہ صرف شہرت کی وجہ سے سند اور معتبر مآخذ کے ذکر کے بغیر لکھ دیا گیا لہٰذا جب تک معتبر ماخذ نہیں مل جاتا تب تک یہ بات قابلِ قبول نہیں ہے ۔
تیسری بات یہ ہے کہ جنہوں نے ماخذ بیان کیا ہے,وہ یا تو شیعوں کی کتب ہیں یا ایسے شیعوں کی طرف مائل حضرات کی کتب ہیں جنہوں نے بہت ساری شیعی روایات کو بغیر تحقیق و تنقیح کے نقل کر دیا جیسے امام ذہبی , ملا علی قاری اور شاہ ولی اللہ محدث دہلوی علیہم الرّحمہ نے مستدرک للحاکم کے حوالے سے اور بعض نے مروج الذہب اور فضول المھمہ کے حوالے سے نقل کیا ہے ۔
حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کو مولودِ کعبہ سمجھنا ایسا کمزور گمان ہے جس کے ثبوت پر کوئی صحیح دلیل نہیں کیونکہ آپ کرم اللہ وجہہ الکریم اپنے والد حضرت ابوطالب کے مکان شعبِ بنی ہاشم کے اندر پیدا ہوئے جس مکان کو لوگ مولدِ علی رضی اللہ عنہ کے نام سے یاد کیا کرتے تھے اور اس مکان کے دروازے پر یہ عبارت لکھی ہوئی تھی : ھذا مولد امیر المؤمنین علی ابن ابی طالب ، یعنی یہ حضرت امیر المومنین علی بن ابوطالب کرم اللہ وجہہ الکریم کی ولادت گاہ ہے ۔ اور اہلِ مکہ بھی اس پر بغیر اختلاف کے متفق تھے ۔ نیز آپ کرم اللہ وجہہ الکریم کی ولادت گاہ پر ایک قبہ بنا ہوا تھا جس کو نجدیوں نے دیگر مقامات مقدسہ کے ساتھ گرادیا ۔
امام مسلم بن حجاج قشیری رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں : ولد حکیم ابن حزام فی جوف الکعبہ ۔
ترجمہ : حضرت حکیم بن حزام رضی اللہُ عنہ خانہ کعبہ کے اندر پیدا ہوئے ۔ (صحیح مسلم کتاب البیوع باب الصدق فی البیع والبیان)
امام بدر الدین عینی حنفی رحمۃ اللہ تعالی علیہ تحریر فرماتے ہیں : حکیم بن حزام ولد فی بطن الکعبۃ ۔
ترجمہ : حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ تعالی عنہ خانہ کعبہ کے اندر پیدا ہوئے ۔ (عمدۃالقاری شرح صحیح بخاری جلد 13 صفحہ 142 دارالکتب العلمیہ بیروت،چشتی)
امام ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ تعالی تحریر فرماتے ہیں : وحکی الزبیر بن بکار ان حکیما ولد فی جوف الکعبہ ۔
ترجمہ : حضرت زبیر بن بکار رضی اللہ عنہ نے حکایۃً بیان کیا کہ حضرت حکیم بن حزام رضی اللہُ عنہ کی ولادت خانہ کعبہ کے اندر ہوئی ۔ (الاصابہ فی تمییز الصحابہ جلد 2 صفحہ 98 دار الکتب العلمیہ بیروت)
امام جلال الدین سیوطی شافعی رحمۃاللہ تعالی علیہ تحریر فرماتے ہیں : حکیم بن حزام بن خویلد بن اسد وکان مولدہ فی جوف الکعبہ۔
ترجمہ : حضرت حکیم بن حزام رضی اللہُ عنہ بن خویلد بن اسد. اور آپ کی ولادت گاہ خانہ کعبہ کے اندر تھی ۔ (تدریب الراوی فی شرح تقریب النواوی صفحہ 355 دارالکتاب العربی بیروت)
امام جلال الدین سیوطی شافعی رحمۃاللہ تعالی علیہ مزید اسی کتاب کے اگلے صفحہ پر تحریر فرماتے ہیں : قال الزبیر بن بکار کان مولد حکیم بن حزام فی جوف الکعبہ قال شیخ الاسلام ولایعرف ذلک لغیرہ ۔
ترجمہ : حضرت زبیر بن بکار رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ حضرت حکیم بن حزام رضی اللہُ عنہ کی ولادت خانہ کعبہ کے اندر ہوئی , شیخ الاسلام فرماتے ہیں کہ وہ اس بات کو (خانہ کعبہ کے اندر پیدا ہونے کو) حضرت حکیم بن حزام رضی اللہُ عنہ کے علاوہ کیلیے نہیں جانتے ۔ (تدریب الراوی فی شرح تقریب النواوی صفحہ 356 دارالکتاب العربی بیروت)
امام ابو ذکریا محی الدین یحی بن شرف نووی رحمۃ اللہ تعالی علیہ تحریر فرماتے ہیں : ولد حکیم بن حزام فی جوف الکعبۃ ولایعرف احد ولد فیھا غیرہ ۔
❤1
ترجمہ : حضرت حکیم بن حزام رضی اللہُ عنہ کی ولادت خانہ کعبہ کے اندر ہوئی اور ان کے علاوہ کوئی ایسا شخص معلوم نہیں ہے جس کی ولادت خانہ کعبہ کے اندر ہوئی ہو ۔ (تہذیب الاسماءواللغات حرف الحاء جلد اول صفحہ 409 دار فیحاءالبیروت)
ایک شیعہ عالم نے بھی لکھا ہے کہ : محدثین صرف حکیم بن حزام (رضی اللہ عنہ) کو ہی مولودِ کعبہ سمجھتے ہیں ۔ (شرح نہج البلاغہ جلد اول صفحہ 14 دارالجبل بیروت)
البتہ خانہ کعبہ کے اندر صرف حضرت حکیم بن حزام رضی اللہُ عنہ کی ولادت ہوئی ہے , آپ رضی اللہ عنہ کے علاوہ کسی کی بھی ولادت خانہ کعبہ کے اندر نہیں ہوئی ۔
امام حافظ ابو عمر خلیفہ بن خیاط رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں : ولد علی بمکۃ فی شعب بنی ھاشم ۔
ترجمہ : حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی ولادت مکہ میں شعب بنی ہاشم میں ہوئی ۔ (تاریخ خلیفہ بن خیاط صفحہ 199 دار حلبیۃ الریاض،چشتی)
امام حافظ ابوالقاسم علی بن حسن رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں : ولد علی بمکۃ فی شعب بنی ھاشم ۔
ترجمہ : حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی ولادت مکہ میں شعب بنی ہاشم میں ہوئی ۔ (تاریخ دمشق الکبیر جلد 45 صفحہ 448 دار احیاء التراث العربی بیروت)
حضرت سیدنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں جو یہ بات بیان کی جاتی ہے کہ آپ کی ولادت کعبہ شریف میں ہوئی یہ قول اہل علم کے نزدیک ضعیف ہے البتہ ام المؤمنین، حضرت سیدہ خدیجتہ الکبریٰ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے بھتیجے سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کی ولادت کعبہ میں ہوئی ۔ آپ کے علاوہ کوئی بھی کعبہ میں پیدا نہیں ہوا ۔
مام ابو زکریا محی الدین یحیٰ بن شرف النووی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں : ولد حکیم بن حزام فی جوف الکعبتہ ولا یعرف احد ولد فیھا غیرہ واما ما روی ان علی بن ابی طالب ولد فیھا فضعیف عند العلماء ۔
ترجمہ : صرف حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کی ولادت جوف کعبہ میں ہوئی آپ کے علاوہ کوئی بھی کعبہ میں پیدا نہیں ہوا اور جو یہ کہا جاتا ہے کہ حضرت سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ بھی کعبہ میں پیدا ہوئے یہ بات علماء کے نزدیک ضعیف ہے ۔ (تهذیب الاسماء واللغات، حرف الحاء،ج 1.ص 409.رقم 127۔دارالفیحاء بیروت)
امام سیوطی رحمة الله عليه کا بھی قول ہے : قال الزبیر بن بکار کان مولد حکیم فی جوف الکعبتہ ‛‛ قال الشیخ الاسلام ولا یعرف ذٰلک لغیرہ طما وقع فی مستدرک الحاکم من ان علیًا ولد فیھ ضعیف ۔
ترجمہ : زبیر بن بکار کہتے ہیں حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کعبہ میں پیدا ہوئے اور شیخ الاسلام امام نووی رحمة الله عليه فرماتے ہیں آپ کے علاوہ کوئی بھی کعبہ میں پیدا نہیں ہوا جو مستدرک حاکم میں حضرت علی رضی الله عنه کو مولود کعبہ لکھا ہے یہ ضعیف ہے ۔ (تدریب الراوی فی شرح تقریب النوٰوی ، النوع الستون ، التواریخ والوفیات، ص 356 ،دارالکتاب العربی بیروت،چشتی)
امام ابن عبدالبر نے لکھا ہے کہ حکیم رضی اللہ عنہ کی ولادت کعبہ کے اندر ہوئی تھی۔ ان کے علاوہ کوئی دوسرا شخص کعبہ کے اندر پیدا نہیں ہوا۔ سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کے متعلق جو ایسا دعویٰ کیا جاتا ہے وہ اہل علم کے نزدیک ضعیف ہے۔ (الاستیعاب بمعرفة الاصحاب 363/1)
مصطفیٰ بن محمد بن عبدالعلوی رقم طراز ہیں کہ حکیم رضی اللہ عنہ کی ولادت کعبہ کے اندر ہوئی، کوئی دوسرا شخص اس خصوصیت میں ان کا شریک نہیں ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے متعلق ایسا دعویٰ اہل علم کے نزدیک ضعیف ہے ۔ (عنوان النجابة فی معرفة الصحابة من مات بالمدینة من الصحابة، ص: 63)
صدرالشریعہ حضرت علاّمہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالی علیہ تحریر فرماتے ہیں : مکانِ ولادت اقدس حضور انور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم و مکان حضرت خدیجہ الکبریٰ رضی اللہُ عنہا و مکان ولادتِ علی رضی اللہ عنہ و جبلِ ثور و غارِ حرا و مسجد الجن و مسجد جبل ابی قبیس وغیرہا مکانِ متبرکہ کی زیارت سے بھی مشرف ہو ۔ (بہار شریعت جلد اول حصہ 6 صفحہ 1150مکتبۃ المدینہ کراچی،چشتی)
سیدنا ابوبکر صدیق و سیدنا علی اور لاکھوں صحابہ کرام اہل بیت سادات کرام رضی اللہ عنہم میں سے اکثر کی متعین تاریخ ولادت مستند باسند کتابوں میں نہیں آئی اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی ولادت کعبہ کے اندر ہونے کا واقعے کی اگرچہ صحیح متصل سند نہ ملی ۔ مگر مجموعی طور یہ کہہ سکتے ہیں کہ شیعہ کے مرچ مسالے جھوٹ بے بنیاد نظریات نکال کر فقط اتنا کہہ سکتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی ولادت اندازاً تیرہ رجب کعبہ میں ہوئی اور یہ خصوصیت صرف سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی نہیں بلکہ صحابی سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ بھی کعبہ کے اندر پیدا ہوےتھے ۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی تاریخ پر لکھی ہر کتاب بلکہ اس کے علاوہ بہت کتابوں میں سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کے متعلق یہی لکھا ہے ۔ مثلا صحیح مسلم کتاب البیوع باب الصدق فی البیع والبیان میں امام مسلم فرماتے ہیں : ولد حکیم بن حزام فی جوف الکعبۃ ۔ سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ
ایک شیعہ عالم نے بھی لکھا ہے کہ : محدثین صرف حکیم بن حزام (رضی اللہ عنہ) کو ہی مولودِ کعبہ سمجھتے ہیں ۔ (شرح نہج البلاغہ جلد اول صفحہ 14 دارالجبل بیروت)
البتہ خانہ کعبہ کے اندر صرف حضرت حکیم بن حزام رضی اللہُ عنہ کی ولادت ہوئی ہے , آپ رضی اللہ عنہ کے علاوہ کسی کی بھی ولادت خانہ کعبہ کے اندر نہیں ہوئی ۔
امام حافظ ابو عمر خلیفہ بن خیاط رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں : ولد علی بمکۃ فی شعب بنی ھاشم ۔
ترجمہ : حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی ولادت مکہ میں شعب بنی ہاشم میں ہوئی ۔ (تاریخ خلیفہ بن خیاط صفحہ 199 دار حلبیۃ الریاض،چشتی)
امام حافظ ابوالقاسم علی بن حسن رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں : ولد علی بمکۃ فی شعب بنی ھاشم ۔
ترجمہ : حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی ولادت مکہ میں شعب بنی ہاشم میں ہوئی ۔ (تاریخ دمشق الکبیر جلد 45 صفحہ 448 دار احیاء التراث العربی بیروت)
حضرت سیدنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں جو یہ بات بیان کی جاتی ہے کہ آپ کی ولادت کعبہ شریف میں ہوئی یہ قول اہل علم کے نزدیک ضعیف ہے البتہ ام المؤمنین، حضرت سیدہ خدیجتہ الکبریٰ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے بھتیجے سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کی ولادت کعبہ میں ہوئی ۔ آپ کے علاوہ کوئی بھی کعبہ میں پیدا نہیں ہوا ۔
مام ابو زکریا محی الدین یحیٰ بن شرف النووی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں : ولد حکیم بن حزام فی جوف الکعبتہ ولا یعرف احد ولد فیھا غیرہ واما ما روی ان علی بن ابی طالب ولد فیھا فضعیف عند العلماء ۔
ترجمہ : صرف حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کی ولادت جوف کعبہ میں ہوئی آپ کے علاوہ کوئی بھی کعبہ میں پیدا نہیں ہوا اور جو یہ کہا جاتا ہے کہ حضرت سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ بھی کعبہ میں پیدا ہوئے یہ بات علماء کے نزدیک ضعیف ہے ۔ (تهذیب الاسماء واللغات، حرف الحاء،ج 1.ص 409.رقم 127۔دارالفیحاء بیروت)
امام سیوطی رحمة الله عليه کا بھی قول ہے : قال الزبیر بن بکار کان مولد حکیم فی جوف الکعبتہ ‛‛ قال الشیخ الاسلام ولا یعرف ذٰلک لغیرہ طما وقع فی مستدرک الحاکم من ان علیًا ولد فیھ ضعیف ۔
ترجمہ : زبیر بن بکار کہتے ہیں حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کعبہ میں پیدا ہوئے اور شیخ الاسلام امام نووی رحمة الله عليه فرماتے ہیں آپ کے علاوہ کوئی بھی کعبہ میں پیدا نہیں ہوا جو مستدرک حاکم میں حضرت علی رضی الله عنه کو مولود کعبہ لکھا ہے یہ ضعیف ہے ۔ (تدریب الراوی فی شرح تقریب النوٰوی ، النوع الستون ، التواریخ والوفیات، ص 356 ،دارالکتاب العربی بیروت،چشتی)
امام ابن عبدالبر نے لکھا ہے کہ حکیم رضی اللہ عنہ کی ولادت کعبہ کے اندر ہوئی تھی۔ ان کے علاوہ کوئی دوسرا شخص کعبہ کے اندر پیدا نہیں ہوا۔ سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کے متعلق جو ایسا دعویٰ کیا جاتا ہے وہ اہل علم کے نزدیک ضعیف ہے۔ (الاستیعاب بمعرفة الاصحاب 363/1)
مصطفیٰ بن محمد بن عبدالعلوی رقم طراز ہیں کہ حکیم رضی اللہ عنہ کی ولادت کعبہ کے اندر ہوئی، کوئی دوسرا شخص اس خصوصیت میں ان کا شریک نہیں ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے متعلق ایسا دعویٰ اہل علم کے نزدیک ضعیف ہے ۔ (عنوان النجابة فی معرفة الصحابة من مات بالمدینة من الصحابة، ص: 63)
صدرالشریعہ حضرت علاّمہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالی علیہ تحریر فرماتے ہیں : مکانِ ولادت اقدس حضور انور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم و مکان حضرت خدیجہ الکبریٰ رضی اللہُ عنہا و مکان ولادتِ علی رضی اللہ عنہ و جبلِ ثور و غارِ حرا و مسجد الجن و مسجد جبل ابی قبیس وغیرہا مکانِ متبرکہ کی زیارت سے بھی مشرف ہو ۔ (بہار شریعت جلد اول حصہ 6 صفحہ 1150مکتبۃ المدینہ کراچی،چشتی)
سیدنا ابوبکر صدیق و سیدنا علی اور لاکھوں صحابہ کرام اہل بیت سادات کرام رضی اللہ عنہم میں سے اکثر کی متعین تاریخ ولادت مستند باسند کتابوں میں نہیں آئی اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی ولادت کعبہ کے اندر ہونے کا واقعے کی اگرچہ صحیح متصل سند نہ ملی ۔ مگر مجموعی طور یہ کہہ سکتے ہیں کہ شیعہ کے مرچ مسالے جھوٹ بے بنیاد نظریات نکال کر فقط اتنا کہہ سکتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی ولادت اندازاً تیرہ رجب کعبہ میں ہوئی اور یہ خصوصیت صرف سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی نہیں بلکہ صحابی سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ بھی کعبہ کے اندر پیدا ہوےتھے ۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی تاریخ پر لکھی ہر کتاب بلکہ اس کے علاوہ بہت کتابوں میں سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کے متعلق یہی لکھا ہے ۔ مثلا صحیح مسلم کتاب البیوع باب الصدق فی البیع والبیان میں امام مسلم فرماتے ہیں : ولد حکیم بن حزام فی جوف الکعبۃ ۔ سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ
❤1
عین کعبہ کے اندر پیدا ہوئے ۔ (صحیح مسلم تحت الحدیث،1532,3850)
ایسے الفاظ کی وضاحت بھی ضروربیان کی جائے کہ جس سے غلط بے بنیاد نظریات کی تردید ہو ۔مثلا وحی یا تقابل ولادت سیدنا عیسیٰ علیہ السلام وغیرہ کا رد کیا جائے ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی ولادت کعبہ میں ہونے کو بیان کیا جائے تو ساتھ میں یہ بھی بیان کیا جائے کہ صحابی سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کی ولادت بھی کعبہ کے اندر ہوئی ۔ اس طرح غلط بے بنیاد نظریات خودبخود ختم ہوجائیں گے ۔
حضرت سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی ولادت کب ہوئی اور کہاں ہوئی ؟ اس بارے میں اہل سنت اہلِ تشیع اور دیگر مسالک کی کافی کتب کا بغور مطالعہ کیا اور راقم اس نتیجے پر پہنچا کہ : پہلے کے زمانے میں متعین تاریخ ولادت کا اہتمام نہ تھا ، سیدنا ابو بکر صدیق اور سیدنا علی اور بہت سارے صحابہ اہلِ بیت رضی اللہ عنہم کی تاریخِ ولادت مستند کتابوں میں نہیں آئی ۔ حتیٰ کہ جو 13 رجب مشہور ہے اس کی تحقیق و تفصیل دیکھی جائے تو 13 رجب اندازہ کرکے بتائی گئ ہے ۔ تیرہ رجب کی ولادت کی تاریخ کا جس واقعہ سے اندازہ کیا گیا وہ آگے عرض کیا جائے گا ۔ پھر اس اندازے کو بعد کی دو چار کتابوں مین اندازے کا تذکرہ کیے بغیر اتنا لکھ دیا گیا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ تیرہ رجب میں پیدا ہوئے ۔
جس واقعے سے 13رجب ولادت کا دن ہونے کا اندازہ لگایا گیا اسی واقعے سے یہ ثابت کیا گیا کہ آپ کی ولادت کعبے کے اندر ہوئی ۔
ولادت والا واقعہ : شیعہ کتب میں واقعہ درج ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی والدہ کو وحی ہوئی ، کچھ کتابوں میں ہے کہ الھام ہوا کہ کعبے میں جائے ، کیونکہ ولادتِ علی رضی اللہ عنہ کا وقت قریب ہے ۔ وہ کعبے میں گئیں دردِ زہ ہوا اور کعبے کے اندر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی ولادت ہوئی ۔
کچھ کتب میں اس کی مزید تفصیل یوں ہے کہ کعبہ کے اندر کا دروازہ کبھی کبھار ہی کھلتا تھا ۔15 رجب حضرت موسی علیہ السلام کی ولادت کے دن کے موقعے پر چار پانچ دن کےلیے کعبے کا اندر کا دروازہ بھی کھلتا تھا ۔ باپردہ خواتین 15 رجب سے دو تین دن پہلے ہی زیارت کر آتی تھیں ۔ اس طرح اندازہ لگایا گیا کہ 13 رجب کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی والدہ کعبہ گئی ہوں گی ۔ پھر اہل تشیع نے سیدنا عیسیٰ علیہ السلام سے بھی حضرت علی رضی اللہ عنہ کو افضل کہہ دیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت کے وقت بی بی مریم رضی اللہ عنہا کو بیت المقدس سے باہر بھیجا گیا اور یہاں کعبہ کے اندر ولادتِ علی رضی اللہ عنہ کا حکم دیا گیا ۔
شاہ عبد العزیز دہلوی علیہ الرحمہ کا تبصرہ : تحفہ اثنا عشریہ صفحہ 164,165،166 میں شاہ صاحب علیہ الحمہ نے مذکورہ روایت اور مذکورہ واقعہ کو جھوٹ دھوکہ قرار دیا ۔ فرمایا کہ کسی معتبر کتاب میں ، حدیث میں کہیں یہ نہیں آیا کہ بی بی مریم کو بیت المقدس سے نکل جانے کا حکم ہوا ہو ۔ ہرگز نہیں ۔ اور فرمایا کہ کسی معتبر کتاب میں یہ نہیں کہ ولادتِ علی رضی اللہ عنہ کےلیے کعبہ جانے کا حکم ہوا ہو ۔ ہرگز نہیں۔ وہ ایک اتفاق تھا ۔ وحی کا کہنا تو کفر ہے ۔ شاہ صاحب علیہ الرحمہ نے 13 رجب پر گفتگو نہ فرمائی ۔ البتہ ان کے کلام سے واضح ہوتا ہے کہ شیعہ کے مرچ مسالے جھوٹ بے بنیاد غلط نظریات نکال کر یہ کہہ سکتے ہیں کہ اتفاقاً عورتوں کے ساتھ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی والدہ رضی اللہ عنہ بھی کعبہ کی زیارت کوگئی ہوں اور وہاں اتفاقاً دردِ زہ زیادہ ہوگیا ہو اور اس طرح سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی ولادت کعبہ میں ہوئی ہو مگر شاہ صاحب علیہ الرحمہ نے ساتھ میں دو ٹوک ارشاد فرمایا کہ اس سے افضلیت وغیرہ شیعہ کے دعوے ثابت نہیں ہوتے کیونکہ صحابی سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ بھی کعبہ کے اندر پیدا ہوئے ۔
کئی کتب میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے کعبہ میں پیدا نہ ہونے کا لکھا ہوا ہے ۔ چند اہلسنت کتابوں میں بغیر سند و ثبوت کے آپ کی ولادت کعبہ میں ہونے کا لکھا ہے ۔ عقائد افضلیت ، حلال و حرام وغیرہ بنیادی معاملات میں صحیح مستند روایات ضروری ہیں جیسا کہ نیچے دو اصول بیان کیے جائیں گے جبکہ تاریخ ، فضائل ، پیدائش وغیرہ چھوٹے چھوٹے معاملات میں اتنی سختی نہیں ۔ مسلک المقتسط اورفتاوی شامی اور فتاوی رضویہ سے دو قیمتی اصول پیشِ خدمت ہیں : ⬇
پہلا اصول : مسلک المتقسط وغیرہ کتب میں ہے کہ : الاصل ھوالنفی حتی یتحقق الثبوت ۔
ترجمہ : اصل کسی چیز کی نفی ہے جب تک کہ ثبوت متحقق نہ ہو جائے ۔ (المسلک المتقسط صفحہ 110)(فتاوی رضویہ جلد نمبر 6 صفحہ نمبر 198،چشتی)
دوسرا اصول : امام احمد رضا خان قادری علیہ الرحمہ فتاوی شامی کی عبارت کو دلیل بناتے ہوے فرماتے ہیں : اگر تسلیم بھی کیا جائے کہ بہت سی جگہوں میں مذکور ہے تو بھی کثرت نقول مستلزم صحت کو نہیں پہلے ایک شخص کو غلطی ہو جاتی ہے اور بعد کے لوگ اس کی غلطی بظنِ صحت نقل کرتے چلے جاتے ہیں ۔
ایسے الفاظ کی وضاحت بھی ضروربیان کی جائے کہ جس سے غلط بے بنیاد نظریات کی تردید ہو ۔مثلا وحی یا تقابل ولادت سیدنا عیسیٰ علیہ السلام وغیرہ کا رد کیا جائے ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی ولادت کعبہ میں ہونے کو بیان کیا جائے تو ساتھ میں یہ بھی بیان کیا جائے کہ صحابی سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کی ولادت بھی کعبہ کے اندر ہوئی ۔ اس طرح غلط بے بنیاد نظریات خودبخود ختم ہوجائیں گے ۔
حضرت سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی ولادت کب ہوئی اور کہاں ہوئی ؟ اس بارے میں اہل سنت اہلِ تشیع اور دیگر مسالک کی کافی کتب کا بغور مطالعہ کیا اور راقم اس نتیجے پر پہنچا کہ : پہلے کے زمانے میں متعین تاریخ ولادت کا اہتمام نہ تھا ، سیدنا ابو بکر صدیق اور سیدنا علی اور بہت سارے صحابہ اہلِ بیت رضی اللہ عنہم کی تاریخِ ولادت مستند کتابوں میں نہیں آئی ۔ حتیٰ کہ جو 13 رجب مشہور ہے اس کی تحقیق و تفصیل دیکھی جائے تو 13 رجب اندازہ کرکے بتائی گئ ہے ۔ تیرہ رجب کی ولادت کی تاریخ کا جس واقعہ سے اندازہ کیا گیا وہ آگے عرض کیا جائے گا ۔ پھر اس اندازے کو بعد کی دو چار کتابوں مین اندازے کا تذکرہ کیے بغیر اتنا لکھ دیا گیا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ تیرہ رجب میں پیدا ہوئے ۔
جس واقعے سے 13رجب ولادت کا دن ہونے کا اندازہ لگایا گیا اسی واقعے سے یہ ثابت کیا گیا کہ آپ کی ولادت کعبے کے اندر ہوئی ۔
ولادت والا واقعہ : شیعہ کتب میں واقعہ درج ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی والدہ کو وحی ہوئی ، کچھ کتابوں میں ہے کہ الھام ہوا کہ کعبے میں جائے ، کیونکہ ولادتِ علی رضی اللہ عنہ کا وقت قریب ہے ۔ وہ کعبے میں گئیں دردِ زہ ہوا اور کعبے کے اندر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی ولادت ہوئی ۔
کچھ کتب میں اس کی مزید تفصیل یوں ہے کہ کعبہ کے اندر کا دروازہ کبھی کبھار ہی کھلتا تھا ۔15 رجب حضرت موسی علیہ السلام کی ولادت کے دن کے موقعے پر چار پانچ دن کےلیے کعبے کا اندر کا دروازہ بھی کھلتا تھا ۔ باپردہ خواتین 15 رجب سے دو تین دن پہلے ہی زیارت کر آتی تھیں ۔ اس طرح اندازہ لگایا گیا کہ 13 رجب کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی والدہ کعبہ گئی ہوں گی ۔ پھر اہل تشیع نے سیدنا عیسیٰ علیہ السلام سے بھی حضرت علی رضی اللہ عنہ کو افضل کہہ دیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت کے وقت بی بی مریم رضی اللہ عنہا کو بیت المقدس سے باہر بھیجا گیا اور یہاں کعبہ کے اندر ولادتِ علی رضی اللہ عنہ کا حکم دیا گیا ۔
شاہ عبد العزیز دہلوی علیہ الرحمہ کا تبصرہ : تحفہ اثنا عشریہ صفحہ 164,165،166 میں شاہ صاحب علیہ الحمہ نے مذکورہ روایت اور مذکورہ واقعہ کو جھوٹ دھوکہ قرار دیا ۔ فرمایا کہ کسی معتبر کتاب میں ، حدیث میں کہیں یہ نہیں آیا کہ بی بی مریم کو بیت المقدس سے نکل جانے کا حکم ہوا ہو ۔ ہرگز نہیں ۔ اور فرمایا کہ کسی معتبر کتاب میں یہ نہیں کہ ولادتِ علی رضی اللہ عنہ کےلیے کعبہ جانے کا حکم ہوا ہو ۔ ہرگز نہیں۔ وہ ایک اتفاق تھا ۔ وحی کا کہنا تو کفر ہے ۔ شاہ صاحب علیہ الرحمہ نے 13 رجب پر گفتگو نہ فرمائی ۔ البتہ ان کے کلام سے واضح ہوتا ہے کہ شیعہ کے مرچ مسالے جھوٹ بے بنیاد غلط نظریات نکال کر یہ کہہ سکتے ہیں کہ اتفاقاً عورتوں کے ساتھ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی والدہ رضی اللہ عنہ بھی کعبہ کی زیارت کوگئی ہوں اور وہاں اتفاقاً دردِ زہ زیادہ ہوگیا ہو اور اس طرح سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی ولادت کعبہ میں ہوئی ہو مگر شاہ صاحب علیہ الرحمہ نے ساتھ میں دو ٹوک ارشاد فرمایا کہ اس سے افضلیت وغیرہ شیعہ کے دعوے ثابت نہیں ہوتے کیونکہ صحابی سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ بھی کعبہ کے اندر پیدا ہوئے ۔
کئی کتب میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے کعبہ میں پیدا نہ ہونے کا لکھا ہوا ہے ۔ چند اہلسنت کتابوں میں بغیر سند و ثبوت کے آپ کی ولادت کعبہ میں ہونے کا لکھا ہے ۔ عقائد افضلیت ، حلال و حرام وغیرہ بنیادی معاملات میں صحیح مستند روایات ضروری ہیں جیسا کہ نیچے دو اصول بیان کیے جائیں گے جبکہ تاریخ ، فضائل ، پیدائش وغیرہ چھوٹے چھوٹے معاملات میں اتنی سختی نہیں ۔ مسلک المقتسط اورفتاوی شامی اور فتاوی رضویہ سے دو قیمتی اصول پیشِ خدمت ہیں : ⬇
پہلا اصول : مسلک المتقسط وغیرہ کتب میں ہے کہ : الاصل ھوالنفی حتی یتحقق الثبوت ۔
ترجمہ : اصل کسی چیز کی نفی ہے جب تک کہ ثبوت متحقق نہ ہو جائے ۔ (المسلک المتقسط صفحہ 110)(فتاوی رضویہ جلد نمبر 6 صفحہ نمبر 198،چشتی)
دوسرا اصول : امام احمد رضا خان قادری علیہ الرحمہ فتاوی شامی کی عبارت کو دلیل بناتے ہوے فرماتے ہیں : اگر تسلیم بھی کیا جائے کہ بہت سی جگہوں میں مذکور ہے تو بھی کثرت نقول مستلزم صحت کو نہیں پہلے ایک شخص کو غلطی ہو جاتی ہے اور بعد کے لوگ اس کی غلطی بظنِ صحت نقل کرتے چلے جاتے ہیں ۔
❤1👍1
شامی جلد نمبر 4 صفحہ نمبر 351 میں ہے : قد یقع کثیراان مؤلفایذکر شیئاخطاً فینقلونہ بلا تنبیہ فلیکثرالناقلون واصلہ لواحد مخطئ ۔ اکثر ایسا واقع ہوا ہے کہ مؤلف سے کوئی غلطی ہوگئی تو لوگ اسے بلا تنبیہ نقل کرتے رہتے ہیں حتی کہ اس کے ناقلین کثیر ہو جاتے ہیں حالانکہ اصل کے اعتبار سے ایک مخطی ہوتا ہے ۔(فتاوی رضویہ جلد نمبر 6 صفحہ نمبر 199,198) ۔
(مزید حصّہ دوم میں ان شاء اللہ)۔
(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)
(مزید حصّہ دوم میں ان شاء اللہ)۔
(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)
❤1
https://t.me/islaamic_Knowledge/24796
حضرت مولا علی رضی اللہ کی تاریخ ولادت و مولودِ کعبہ کون ؟ حصّہ اوّل
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/287204603515586/
✍ #ڈاکٹر_فیض_احمد_چشتی
حضرت مولا علی رضی اللہ کی تاریخ ولادت و مولودِ کعبہ کون ؟ حصّہ اوّل
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/287204603515586/
✍ #ڈاکٹر_فیض_احمد_چشتی
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
حضرت مولا علی رضی اللہ کی تاریخ ولادت و مولودِ کعبہ کون ؟ حصّہ دوم
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/287216876847692/
محترم قارئینِ کرام : الحَمْدُ ِلله اہلسنت و جماعت ازواجِ مطہرات ، صحابہ کرام ، اہلبیت اطہار رضی اللہ عنہم اور صالحین علیہم الرّحمہ کی ہر خوبی و شان کو دل و جان سے تسلیم کرتے ہیں پھر چاہے اس خوبی و شان کا تعلق فضائل سے ہو یا خصائص سے لیکن تسلیم کرنے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ کسی ہستی کے متعلق شہرت پا جانے والی غلط فہمی کو اس کی فضیلت یا خصوصیت مان لیا جائے اور اس کے انکار پر لعن طعن کیا جائے اللہ تعالیٰ ہمیں جہالت اور جہالت کی اندھی و متعصبانہ عقیدت پر مبنی پیروی سے بچاۓ آمین ۔
مولا علی رضی ﷲ عنہ کعبة اللہ میں پیدا ہوۓ امام حاکم نیشاپوری کا قول ہے : فقد تواتر الاخبار ان فاطمتہ بنت اسد ولدت امیر المؤمنین علی بن ابی طالب کرم اللہ وجھہہ فی جوف الکعبہ ۔ (المستدرک علی الصحیحین - الجزء الثالث کتاب معرفتہ الصحابہ - الرقم٦٠٤٤ صفحہ٥٥٠ مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت لبنان)
ترجمہ : پس تحقیق اخبار متواترہ سے ثابت ہے کہ فاطمہ بنت اسد (رضیﷲعنہا) نے امیر المومنین علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو کعبہ میں جنم دیا ۔
اس قول کو بطور دلیل پیش کرنا کم فہمی ہے کیونکہ امام حاکم یہاں تو تواتر کا دعویٰ کر رہے ہیں اور فضائل علی رضی اللہ عنہ کے باب میں ایک بھی صحیح بلکہ صحیح تو دور ایک ضعیف روایت بھی پیش کرنے کی جرأت نہ کرسکے جس میں حاکم کے دعوے کی دلیل ہو تو فقط حاکم کے کہنے پر متواتر کون مانے ؟ ۔ جب کہ حاکم کی تاریخ وفات 405 ھجری ہے اب ایک واقعہ جو کہ حاکم کی پیدائش سے بھی کئی سو سال پہلے کا ہے اس واقعہ کو حاکم کے کہنے پر تسلیم کرنا اور نہ صرف تسلیم بلکہ متواتر کہنا نا انصافی ہوگا ۔ دوسری بات یہ کہ اس کے تواتر کے دعوے میں حاکم منفرد ہیں ان کے سوا محدثین میں سے کسی نے اس واقعہ کے تواتر کا دعویٰ نہیں کیا تیسری اور اہم بات یہ کہ اہل علم جانتے ہیں کہ امام حاکم کا جھکاٶ رافضیت کی طرف تھا اور ان کا تواتر کا دعویٰ اسی سلسلے کی ایک کڑی بھی ہوسکتا ہے ۔
حضرتِ حکیم بن حزام رضی اللہ تعالی عنہ کی خانۂ کعبہ میں ولادت تمام اہل سنت کے نزدیک متفق علیہ ہے ۔ امام مسلم رحمة اللہ علیہ (وفات 261ھ) نے صحیح مسلم شریف میں لکھا ہے : ولد حكيم بن حزام في جوف الكعبة وعاش مئة وعشرين سنة ۔ (صحیح مسلم، كتاب البيوع، باب الصدق في البيع،چشتی)
احوال قریش کے ماہر اور امام, مصعب بن عبد اللہ الزبیری (متوفی 236ھ) نے صاف کہا ہے کہ صرف حکیم بن حزام خانۂ کعبہ میں پیدا ہوئے ۔ نہ ان سے پہلے کوئی پیدا ہوا اور نہ بعد میں ۔ مصعب بن عبد اللہ الزبیری, یہ حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کی نسل سے ہیں ۔ انساب و احوالِ قریش کے امام ہیں. 236ھ میں وفات ہوئی ۔ ان کا ہی قول سند کے ساتھ امام حاکم نے نقل کیا ہے کہ "حضرت حکیم بن حزام خانۂ کعبہ میں پیدا ہوئے ۔ نہ ان سے پہلے کوئی پیدا ہوا نہ ان کے بعد" ۔ پھر اسی پر امام حاکم نے نقد کرتے ہوئے یہ بات کہی ہے کہ حضرتِ علی کرم اللہ تعالی وجہہ کی ولادت متواتر ہے ۔ مگر اصولی طور پر امام حاکم کا یہ نقد درست نہیں ۔ اگر امام حاکم کے کلام میں تواتر کو اصطلاحی معنوں پر محمول کیا جائے تو تواتر کےلیے ہر زمانے میں اتنے افراد کا بیان ضروری ہے جن کا جھوٹ پر متفق ہونا عادۃً محال ہو ۔
اگر مولاے کائنات رضی اللہ عنہ کی ولادت متواتر ہوتی تو دو چیزیں ضرور ہوتیں :
(1) مصعب زبیری کے زمانے میں بھی کعبے میں ولادت تواتراً منقول ہوئی ہوتی ۔ کیوں کہ ان کا زمانہ پہلے ہے ۔
(2) کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی حدیث کی کتاب میں یہ قول ضرور مذکور ہوتا ۔
مگر ایک طرف مصعب زبیری صاف نفی کر رہے ہیں کہ حکیم بن حزام کے سوا کسی کی ولادت خانۂ کعبہ میں نہیں ہوئی ۔ اور دوسری طرف حاکم کے زمانے (چوتھی صدی کے اختتام) سے پہلے کسی محدث کے یہاں یا کسی حدیث کی کتاب میں کہیں یہ قول نہیں ملتا ۔ نہ سند کے ساتھ اور نہ بلا سند ۔ اس کا واضح مطلب ہے کہ کوئی تواتر نہیں تھا ۔ کیوں کہ متواتر کے انکار کی گنجائش ہی نہیں ہوتی ۔ اور متواتر چیز ایک جم غفیر کے ذریعے منقول و مروی بھی ہوتی ہے ۔ اسی لیے امامِ حاکم نے حضرتِ ام ہانی کے تذکرے میں جو یہ لکھ دیا تھا : قد تواترت الأخبار بأن اسمہا فاختۃ ۔ اس پر امام ذہبی نے سوال قائم کر دیا : قلت : وأین التواتر ؟ ، یعنی اگر یہ متواتر ہے تو وہ تواتر کہاں ہے ؟ کہیں تو اسے منقول ہونا چاہیے ؟
اسی طرح یہ سوال اِس دعواۓ تواتر پر بھی قائم ہوگا کہ اگر مولا علی رضی اللہ تعالی عنہ کی خانۂ کعبہ میں ولادت متواتر ہے , تو وہ تواتر کہاں ہے؟ کہیں کسی روایت میں کوئی نام و نشان تو ہونا چاہیے تھا ؟ (چشتی)
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/287216876847692/
محترم قارئینِ کرام : الحَمْدُ ِلله اہلسنت و جماعت ازواجِ مطہرات ، صحابہ کرام ، اہلبیت اطہار رضی اللہ عنہم اور صالحین علیہم الرّحمہ کی ہر خوبی و شان کو دل و جان سے تسلیم کرتے ہیں پھر چاہے اس خوبی و شان کا تعلق فضائل سے ہو یا خصائص سے لیکن تسلیم کرنے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ کسی ہستی کے متعلق شہرت پا جانے والی غلط فہمی کو اس کی فضیلت یا خصوصیت مان لیا جائے اور اس کے انکار پر لعن طعن کیا جائے اللہ تعالیٰ ہمیں جہالت اور جہالت کی اندھی و متعصبانہ عقیدت پر مبنی پیروی سے بچاۓ آمین ۔
مولا علی رضی ﷲ عنہ کعبة اللہ میں پیدا ہوۓ امام حاکم نیشاپوری کا قول ہے : فقد تواتر الاخبار ان فاطمتہ بنت اسد ولدت امیر المؤمنین علی بن ابی طالب کرم اللہ وجھہہ فی جوف الکعبہ ۔ (المستدرک علی الصحیحین - الجزء الثالث کتاب معرفتہ الصحابہ - الرقم٦٠٤٤ صفحہ٥٥٠ مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت لبنان)
ترجمہ : پس تحقیق اخبار متواترہ سے ثابت ہے کہ فاطمہ بنت اسد (رضیﷲعنہا) نے امیر المومنین علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو کعبہ میں جنم دیا ۔
اس قول کو بطور دلیل پیش کرنا کم فہمی ہے کیونکہ امام حاکم یہاں تو تواتر کا دعویٰ کر رہے ہیں اور فضائل علی رضی اللہ عنہ کے باب میں ایک بھی صحیح بلکہ صحیح تو دور ایک ضعیف روایت بھی پیش کرنے کی جرأت نہ کرسکے جس میں حاکم کے دعوے کی دلیل ہو تو فقط حاکم کے کہنے پر متواتر کون مانے ؟ ۔ جب کہ حاکم کی تاریخ وفات 405 ھجری ہے اب ایک واقعہ جو کہ حاکم کی پیدائش سے بھی کئی سو سال پہلے کا ہے اس واقعہ کو حاکم کے کہنے پر تسلیم کرنا اور نہ صرف تسلیم بلکہ متواتر کہنا نا انصافی ہوگا ۔ دوسری بات یہ کہ اس کے تواتر کے دعوے میں حاکم منفرد ہیں ان کے سوا محدثین میں سے کسی نے اس واقعہ کے تواتر کا دعویٰ نہیں کیا تیسری اور اہم بات یہ کہ اہل علم جانتے ہیں کہ امام حاکم کا جھکاٶ رافضیت کی طرف تھا اور ان کا تواتر کا دعویٰ اسی سلسلے کی ایک کڑی بھی ہوسکتا ہے ۔
حضرتِ حکیم بن حزام رضی اللہ تعالی عنہ کی خانۂ کعبہ میں ولادت تمام اہل سنت کے نزدیک متفق علیہ ہے ۔ امام مسلم رحمة اللہ علیہ (وفات 261ھ) نے صحیح مسلم شریف میں لکھا ہے : ولد حكيم بن حزام في جوف الكعبة وعاش مئة وعشرين سنة ۔ (صحیح مسلم، كتاب البيوع، باب الصدق في البيع،چشتی)
احوال قریش کے ماہر اور امام, مصعب بن عبد اللہ الزبیری (متوفی 236ھ) نے صاف کہا ہے کہ صرف حکیم بن حزام خانۂ کعبہ میں پیدا ہوئے ۔ نہ ان سے پہلے کوئی پیدا ہوا اور نہ بعد میں ۔ مصعب بن عبد اللہ الزبیری, یہ حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کی نسل سے ہیں ۔ انساب و احوالِ قریش کے امام ہیں. 236ھ میں وفات ہوئی ۔ ان کا ہی قول سند کے ساتھ امام حاکم نے نقل کیا ہے کہ "حضرت حکیم بن حزام خانۂ کعبہ میں پیدا ہوئے ۔ نہ ان سے پہلے کوئی پیدا ہوا نہ ان کے بعد" ۔ پھر اسی پر امام حاکم نے نقد کرتے ہوئے یہ بات کہی ہے کہ حضرتِ علی کرم اللہ تعالی وجہہ کی ولادت متواتر ہے ۔ مگر اصولی طور پر امام حاکم کا یہ نقد درست نہیں ۔ اگر امام حاکم کے کلام میں تواتر کو اصطلاحی معنوں پر محمول کیا جائے تو تواتر کےلیے ہر زمانے میں اتنے افراد کا بیان ضروری ہے جن کا جھوٹ پر متفق ہونا عادۃً محال ہو ۔
اگر مولاے کائنات رضی اللہ عنہ کی ولادت متواتر ہوتی تو دو چیزیں ضرور ہوتیں :
(1) مصعب زبیری کے زمانے میں بھی کعبے میں ولادت تواتراً منقول ہوئی ہوتی ۔ کیوں کہ ان کا زمانہ پہلے ہے ۔
(2) کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی حدیث کی کتاب میں یہ قول ضرور مذکور ہوتا ۔
مگر ایک طرف مصعب زبیری صاف نفی کر رہے ہیں کہ حکیم بن حزام کے سوا کسی کی ولادت خانۂ کعبہ میں نہیں ہوئی ۔ اور دوسری طرف حاکم کے زمانے (چوتھی صدی کے اختتام) سے پہلے کسی محدث کے یہاں یا کسی حدیث کی کتاب میں کہیں یہ قول نہیں ملتا ۔ نہ سند کے ساتھ اور نہ بلا سند ۔ اس کا واضح مطلب ہے کہ کوئی تواتر نہیں تھا ۔ کیوں کہ متواتر کے انکار کی گنجائش ہی نہیں ہوتی ۔ اور متواتر چیز ایک جم غفیر کے ذریعے منقول و مروی بھی ہوتی ہے ۔ اسی لیے امامِ حاکم نے حضرتِ ام ہانی کے تذکرے میں جو یہ لکھ دیا تھا : قد تواترت الأخبار بأن اسمہا فاختۃ ۔ اس پر امام ذہبی نے سوال قائم کر دیا : قلت : وأین التواتر ؟ ، یعنی اگر یہ متواتر ہے تو وہ تواتر کہاں ہے ؟ کہیں تو اسے منقول ہونا چاہیے ؟
اسی طرح یہ سوال اِس دعواۓ تواتر پر بھی قائم ہوگا کہ اگر مولا علی رضی اللہ تعالی عنہ کی خانۂ کعبہ میں ولادت متواتر ہے , تو وہ تواتر کہاں ہے؟ کہیں کسی روایت میں کوئی نام و نشان تو ہونا چاہیے تھا ؟ (چشتی)
❤1👍1
جو حضرات امام حاکم کے اس دعوے میں لفظ تواتر کو معروف اصطلاحی معنوں میں لیتے ہیں ان کے ذمہ لازم ہے کہ وہ اس دعوے کا ثبوت بھی فراہم فرمائیں , ورنہ دعوی بلا دلیل کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی ۔
اور اگر امام حاکم کے اس لفظِ تواتر کو تواتر کے اصطلاحی اور معروف معنوں میں نہیں بلکہ صرف ،،ما اشتہر علی الألسنۃ،، یعنی ،،زبان زد،، کے معنے میں لیا جائے تو اس کا مطلب ہوگا کہ حضرتِ علی کرم اللہ وجہہ کی خانۂ کعبہ میں ولادت کی بات امام حاکم کے دور میں بس لوگوں کے درمیان مشہور ہو گئی تھی ۔ ظاہر ہے چار سو سال بعد بلا دلیل بلکہ خلافِ دلیل زبان زد ہوجانے والی چیز حجت نہیں بن سکتی ۔
دوسری اصولی بات یہ کہ امام حاکم نے (حکیم بن حزام کی ولادت کی نفی نہیں کی ہے , بلکہ ان کے ماسوا کی نفی کو وہم قرار دیتے ہوئے) مولا علی رضی اللہ تعالی عنہ کے بارے میں بھی دعوی کیا ہے ۔ مگر دلیل کچھ بھی نہیں دی ۔ اب یہاں یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ امام حاکم انساب و احوالِ قریش کے فن میں مصعب زبیری کے ہم پلہ نہیں ہیں ۔ اور ان کا زمانہ بھی بعد کا ہے ۔ حاکم کی وفات 405ھ میں ہوئی ہے ۔ مصعب زبیری جو زمانے کے اعتبار سے متقدم اور اس میدان کے ماہر بلکہ امام ہیں اور امام حاکم پر فائق ہیں وہ صرف حکیم بن حزام کی ولادت مانتے ہیں ۔
اب اگر بالفرض دونوں کی بات بےدلیل مان لی جائے تو بھی مصعب کی بات دو وجہوں سے صحیح اور راجح قرار پائے گی ۔
پہلی یہ کہ دیگر اقوال و روایات سے ان کے قول کی تائید ہوتی ہے ۔ اور دوسری یہ کہ جس فن کا یہ مسئلہ ہے اس میں ان کا پایہ امام حاکم سے بہت بلند ہے , بلکہ وہ خود اتھارٹی ہیں ۔ اس لیے حاکم کا دعوی بلادلیل مصعب کے قول کی تردید و تغلیط نہیں کر سکتا ۔
واضح رہے کہ حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ کی خانۂ کعبہ میں ولادت پر اہل سنت کے یہاں کوئی روایت نہیں ہے ۔ امام حاکم نے تواتر کا دعوی کر دیا ہے ۔ مگر کوئی دلیل نہیں دی ۔ اور شاہ ولی اللہ محدث دہلوی علیہ الرحمہ نے ان کی عبارت لفظ بلفظ نقل کر دی ہے ۔ خود تحقیق نہیں فرمائی ہے ۔ امام ذہبی علیہ الرحمہ نے خود کہیں یہ نہیں کہا کہ حضرتِ مولا علی رضی اللہ عنہ کی ولادت کعبے میں ہوئی ہے ۔ تلخیص المستدرک میں مستدرک کے اسی مقام پر موجود حدیث پر سکوت کو کچھ لوگ حافظ ذہبی کی طرف سے تائید مانتے ہیں , جب کہ سکوتِ محض کو حجت اور تائید مانا ہی نہیں جا سکتا جب تک کہ امام ذہبی خود اس کی صراحت نہ کر دیں ۔ امام ذہبی نے ایسی کوئی صراحت کہیں نہیں کی ہے کہ جہاں مَیں خاموش رہوں وہاں میری تائید اور حمایت سمجھی جائے ۔ سنن ابو داؤد میں جن حدیثوں پر امام ابوداؤد سکوت فرماتے ہیں ان حدیثوں کو امام ابوداؤد کے نزدیک صالح اور قوی مانا جاتا ہے , اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے "رسالۃ ابی داؤد الی أھل مکۃ" میں اس کی صراحت کر دی ہے کہ جس حدیث پر مَیں سکوت کروں وہ حدیث میری نظر میں صالح /قوی ہوتی ہے ۔ جبکہ امام ذہبی نے تلخیص المستدرک میں ایسی کوئی تصریح نہیں کی ہے تو تلخیص المستدرک میں ان کے سکوت کو تائید اور موافقت سمجھنا کیسے درست ہو سکتا ہے ؟ ۔ یہ ایک عام اصول ہے جو تلخیص المستدرک میں حافظ ذہبی کے سکوت کے بارے میں یاد رکھنے کے لائق ہے ۔ (چشتی)
یہاں ایک چیز یہ بھی قابلِ توجہ ہے کہ بعض علما کے نزدیک ان کے سکوت کو جو موافقت سمجھا جاتا ہے وہ فقط احادیث پر محدثانہ حکم اور ان کی اسنادی حیثیت کے بارے میں سمجھا جاتا ہے ۔ ان کے سکوت کو امام حاکم کے غیر متعلق دعؤوں یا ان کے ہر ہر لفظ کے بارے میں موافقت کوئی نہیں مانتا ۔ اور یہ مولا علی رضی اللہ تعالی عنہ کی ولادت والی بات امام حاکم نیشاپوری کا صرف ایک دعوی ہے , اس پر کوئی حدیث انھوں نے مستدرک میں پیش نہیں کی ہے ۔ اس لیے یہاں سکوت کو موافقت ماننے کا کوئی جواز کسی کے نردیک نہیں ۔ لہٰذا امام ذہبی کا سکوت اس ولادت والے امام حاکم کے اپنے دعوے پر منطبق کرنا لاعلمی یا فریب کے سوا اور کچھ نہیں ہے ۔ ہاں , اگر اس دعوے پر امام حاکم نے کوئی ایک حدیث بھی پیش فرمائی ہوتی اور امام ذہبی اُس حدیث پر سکوت فرماتے تو بعض اہل علم کی اس راے کے مطابق اسے موافقت پر محمول کیا جا سکتا تھا , لیکن یہاں ایسا کچھ نہیں ہے ۔ یہی امام ذہبی سیر أعلام النبلاء میں حضرت حکیم بن حزام کے تعارف میں لکھتے ہیں : قال ابن منده : ولد حكيم في جوف الكعبة ، وعاش مائة وعشرين سنة . مات سنة أربع وخمسين ۔ روى الزبير ، عن مصعب بن عثمان قال : دخلت أم حكيم في نسوة الكعبة ، فضربها المخاض ، فأتيت بنطع حين أعجلتها الولادة، فولدت في الكعبة ۔ امام ابن مندہ نے کہا : حکیم بن حزام کعبے کے اندر پیدا ہوئے. 120 سال عمر ہوئی ۔ 54ھ میں وفات ہوئی ۔ (چشتی)
اور اگر امام حاکم کے اس لفظِ تواتر کو تواتر کے اصطلاحی اور معروف معنوں میں نہیں بلکہ صرف ،،ما اشتہر علی الألسنۃ،، یعنی ،،زبان زد،، کے معنے میں لیا جائے تو اس کا مطلب ہوگا کہ حضرتِ علی کرم اللہ وجہہ کی خانۂ کعبہ میں ولادت کی بات امام حاکم کے دور میں بس لوگوں کے درمیان مشہور ہو گئی تھی ۔ ظاہر ہے چار سو سال بعد بلا دلیل بلکہ خلافِ دلیل زبان زد ہوجانے والی چیز حجت نہیں بن سکتی ۔
دوسری اصولی بات یہ کہ امام حاکم نے (حکیم بن حزام کی ولادت کی نفی نہیں کی ہے , بلکہ ان کے ماسوا کی نفی کو وہم قرار دیتے ہوئے) مولا علی رضی اللہ تعالی عنہ کے بارے میں بھی دعوی کیا ہے ۔ مگر دلیل کچھ بھی نہیں دی ۔ اب یہاں یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ امام حاکم انساب و احوالِ قریش کے فن میں مصعب زبیری کے ہم پلہ نہیں ہیں ۔ اور ان کا زمانہ بھی بعد کا ہے ۔ حاکم کی وفات 405ھ میں ہوئی ہے ۔ مصعب زبیری جو زمانے کے اعتبار سے متقدم اور اس میدان کے ماہر بلکہ امام ہیں اور امام حاکم پر فائق ہیں وہ صرف حکیم بن حزام کی ولادت مانتے ہیں ۔
اب اگر بالفرض دونوں کی بات بےدلیل مان لی جائے تو بھی مصعب کی بات دو وجہوں سے صحیح اور راجح قرار پائے گی ۔
پہلی یہ کہ دیگر اقوال و روایات سے ان کے قول کی تائید ہوتی ہے ۔ اور دوسری یہ کہ جس فن کا یہ مسئلہ ہے اس میں ان کا پایہ امام حاکم سے بہت بلند ہے , بلکہ وہ خود اتھارٹی ہیں ۔ اس لیے حاکم کا دعوی بلادلیل مصعب کے قول کی تردید و تغلیط نہیں کر سکتا ۔
واضح رہے کہ حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ کی خانۂ کعبہ میں ولادت پر اہل سنت کے یہاں کوئی روایت نہیں ہے ۔ امام حاکم نے تواتر کا دعوی کر دیا ہے ۔ مگر کوئی دلیل نہیں دی ۔ اور شاہ ولی اللہ محدث دہلوی علیہ الرحمہ نے ان کی عبارت لفظ بلفظ نقل کر دی ہے ۔ خود تحقیق نہیں فرمائی ہے ۔ امام ذہبی علیہ الرحمہ نے خود کہیں یہ نہیں کہا کہ حضرتِ مولا علی رضی اللہ عنہ کی ولادت کعبے میں ہوئی ہے ۔ تلخیص المستدرک میں مستدرک کے اسی مقام پر موجود حدیث پر سکوت کو کچھ لوگ حافظ ذہبی کی طرف سے تائید مانتے ہیں , جب کہ سکوتِ محض کو حجت اور تائید مانا ہی نہیں جا سکتا جب تک کہ امام ذہبی خود اس کی صراحت نہ کر دیں ۔ امام ذہبی نے ایسی کوئی صراحت کہیں نہیں کی ہے کہ جہاں مَیں خاموش رہوں وہاں میری تائید اور حمایت سمجھی جائے ۔ سنن ابو داؤد میں جن حدیثوں پر امام ابوداؤد سکوت فرماتے ہیں ان حدیثوں کو امام ابوداؤد کے نزدیک صالح اور قوی مانا جاتا ہے , اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے "رسالۃ ابی داؤد الی أھل مکۃ" میں اس کی صراحت کر دی ہے کہ جس حدیث پر مَیں سکوت کروں وہ حدیث میری نظر میں صالح /قوی ہوتی ہے ۔ جبکہ امام ذہبی نے تلخیص المستدرک میں ایسی کوئی تصریح نہیں کی ہے تو تلخیص المستدرک میں ان کے سکوت کو تائید اور موافقت سمجھنا کیسے درست ہو سکتا ہے ؟ ۔ یہ ایک عام اصول ہے جو تلخیص المستدرک میں حافظ ذہبی کے سکوت کے بارے میں یاد رکھنے کے لائق ہے ۔ (چشتی)
یہاں ایک چیز یہ بھی قابلِ توجہ ہے کہ بعض علما کے نزدیک ان کے سکوت کو جو موافقت سمجھا جاتا ہے وہ فقط احادیث پر محدثانہ حکم اور ان کی اسنادی حیثیت کے بارے میں سمجھا جاتا ہے ۔ ان کے سکوت کو امام حاکم کے غیر متعلق دعؤوں یا ان کے ہر ہر لفظ کے بارے میں موافقت کوئی نہیں مانتا ۔ اور یہ مولا علی رضی اللہ تعالی عنہ کی ولادت والی بات امام حاکم نیشاپوری کا صرف ایک دعوی ہے , اس پر کوئی حدیث انھوں نے مستدرک میں پیش نہیں کی ہے ۔ اس لیے یہاں سکوت کو موافقت ماننے کا کوئی جواز کسی کے نردیک نہیں ۔ لہٰذا امام ذہبی کا سکوت اس ولادت والے امام حاکم کے اپنے دعوے پر منطبق کرنا لاعلمی یا فریب کے سوا اور کچھ نہیں ہے ۔ ہاں , اگر اس دعوے پر امام حاکم نے کوئی ایک حدیث بھی پیش فرمائی ہوتی اور امام ذہبی اُس حدیث پر سکوت فرماتے تو بعض اہل علم کی اس راے کے مطابق اسے موافقت پر محمول کیا جا سکتا تھا , لیکن یہاں ایسا کچھ نہیں ہے ۔ یہی امام ذہبی سیر أعلام النبلاء میں حضرت حکیم بن حزام کے تعارف میں لکھتے ہیں : قال ابن منده : ولد حكيم في جوف الكعبة ، وعاش مائة وعشرين سنة . مات سنة أربع وخمسين ۔ روى الزبير ، عن مصعب بن عثمان قال : دخلت أم حكيم في نسوة الكعبة ، فضربها المخاض ، فأتيت بنطع حين أعجلتها الولادة، فولدت في الكعبة ۔ امام ابن مندہ نے کہا : حکیم بن حزام کعبے کے اندر پیدا ہوئے. 120 سال عمر ہوئی ۔ 54ھ میں وفات ہوئی ۔ (چشتی)
❤1
نہج البلاغہ کے شارح علامہ بن ابی الحدید اس روایت کو نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی جائے پیدائش کے بارے میں اختلاف ہے ، تاہم محدثین کرام نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے مولود کعبہ کو تسلیم نہیں کیا ہے اور اس روایت کو محض جھوٹ و اختراع قرار دیا ہے ، ان کا خیال ہے کہ کعبہ میں جن کی ولادت ہوئی وہ حکیم بن حزام بن خولد ہیں ۔ (شرح نہج البلاغہ لابن الحدید 14/1 لابی الحسن الندوی ص 49،چشتی)
نزہتہ المجالس کے مصنف امام عبد الرحمان بن عبدالسلام صفوری شافعی علیہ الرحمہ ہیں جو کہ اپنے وقت کے مشہور خطباء میں سے ہیں اور آپ کی تاریخ وفات 900 ھجری ہے آپ نے مولائے کائنات کے مولود کعبہ والا واقعہ "الفصول المہمہ" نامی کتاب سے بغیر سند کے نقل کیا لہٰذا امام صفوری کا اس واقعہ کو بغیر سند کے نقل کرنا دلیل نہیں بن سکتا ۔ دوسری بات یہ کہ اس بے سند واقعہ میں کعبہ میں پیدا ہونے کو مولا علی رضی اللہ عنہ کی خصوصیت بتایا جا رہا ہے اور صاف الفاظ ہیں کہ یہ فضیلت کسی اور کو نہیں ملی حالانکہ صحیح روایات سے ثابت ہے کہ صحابی حکیم بن حزام رضیﷲعنہ کعبہ میں پیدا ہوئے ۔ تو صحیح روایات کی موجودگی میں ایسے بے سند واقعات سے کعبہ میں ولادت کو مولا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ خاص کرنا ایسے ہی ہے جیسے دن کے وقت آنکھیں بند کرکے سورج کی نفی کرنا اور رات ہونے پر ضد کرنا ۔ (فافھم)
مولائے کائنات حضرت علی رضی اللہ عنہ کو مولود کعبہ ثابت کرنے کیلئے شیعہ اور نیم شیعہ سنی ایک "الفصول المہمہ" نامی غیر معروف کتاب کا سہارا بھی لیتے ہیں باوجود اس کے کہ قائلین امام حاکم کے کہنے پر مولائے کائنات کی کعبہ میں ولادت کو اخبار متواترہ سے ثابت مانتے ہیں , مگر افسوس اس بات پر کہ جب دلائل کی باری آتی ہے تو "الفصول المہمہ" جیسی غیر معروف کتاب اٹھا کر سامنے کردی جاتی ہے ۔ اس کتاب کے مصنف "علی بن محمد بن احمد المالکی المکی" ہیں جو "ابن الصباغ" کے نام سے مشہور ہیں اور موصوف کی تاریخ وفات "855 ھ" ہے ۔
دعوٰی تواتر کا اور دلائل ؟ امام حاکم کا قول ، نزہتہ المجالس کا قصہ اور الفصول المہمہ جیسی کتاب جس کو اکثر و بیشتر علماء شاید جانتے ہی نہ ہوں بہر کیف ۔ الفصول المہمہ میں بھی نرا دعوٰی ہی دعوٰی ہے دلیل کا نام و نشان نہیں اور اگر کوئی روایت پیش کی گئی ہے تو اس کی سند مفقود ہے اور بغیر سند کے کوئی روایت حجت نہیں اور نہ ہی اس کی کوئی قدر و اہمیت ہے , الفصول المہمہ کے مصنف 855 ھ میں فوت ہوئے جبکہ مولا علی رضی اللہ عنہ کی ولادت کا واقعہ ہجرت سے کئی برس پہلے کا ہے لہٰذا ایسا واقعہ جو صاحب فصول المہمہ کی پیدائش سے بھی کئی سو سال پہلے کا ہے فقط ان کے کہنے پر کیسے مان لیا حائے ؟
مولائے کائنات حضرت علی رضی اللہ عنہ کو مولود کعبہ ثابت کرنے کیلئے شیعہ اور نیم شیعہ سنی حضرات " ڈوبتے کو تنکے کا سہارا" پر عمل کرتے ہوئے "سبط ابن جوزی" کی کتاب "تذکرہ الخواص" پیش کرکے بگلیں بجاتے ہیں , حالانکہ یہاں بھی سند کے اعتبار سے وہی معاملہ ہے جو "المستدرک" "الفصول" اور "نزھتہ المجالس" میں رہا ہے کہ ایک تو دعویٰ بلا دلیل اور اگر کوئی روایت نقل کر ہی دی تو شاید اس کی سند شیعوں کے بارہویں امام غار وغیرہ میں چھپا کر بیٹھے ہیں , "تذکرہ الخواص" میں بھی فقط دعویٰ ہی دعویٰ ہے نہ کوئی دلیل اور نہ ہی کوئی سند ۔ تو بغیر سند کے کسی واقعہ کا اعتبار کیونکر کیا جا سکتا ہے ؟ ۔ اور واقعہ بھی ایسا جس سے مذہب شیعہ کو تقویت ملتی ہو (فافھم) دوسری اور اہم بات کہ سبط ابن جوزی اور "امام ابن جوزی" دو الگ شخصیات ہیں لہٰذا دھوکہ کھانے کی ضرورت نہیں اور یہ بھی واضح رہے کہ "سبط ابن جوزی" تقیہ باز رافضی تھا تقریباً 654 ھجری میں وفات پائی ۔ اب ایک واقعہ جو سبط ابن جوزی سے کئی سو سال پہلے کا ہے صرف اس کے بیان کرنے سے کیوں تسلیم کیا جائے ؟ اور بالخصوص اس وقت کہ جب سبط ابن جوزی کی اپنی پوزیشن یہ ہو کہ اس کے اپنے قلم سے رافضیت ٹپک رہی ہو تو اس وقت سبط ابن جوزی کی اطاعت میں مولائے کائنات حضرت علی رضی اللہ عنہ کو مولود کعبہ ماننا نری حماقت نہیں تو کیا ہے ؟
حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ کو مولود کعبہ ماننے والے شیعہ اور نیم شیعہ سنی اپنے اس مفروضہ کی گرتی ہوئی دیوار کو بچانے کی خاطر "نور الابصار" نامی کتاب کو دین و ایمان سمجھتے ہوئے پیش کرتے ہیں ! اور حسب معمول یہاں بھی نرا دعویٰ ہی دعویٰ ۔ لطیفہ یہ ہے کہ نور الابصار کے مصنف الشیخ شبلنجی حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ کی ولادت کعبہ میں لکھ کر حوالہ "ابن الصباغ" کا دیتے ہیں اور یہ ابن الصباغ وہی ہے جو "الفصول المھمہ" نامی غیر معروف کتاب کا مصنف ہے جس کا رد ہم اوپر پیش کر آئے ہیں ۔ اور ظاہری بات ہے جب اصل کا رد ہو گیا تو فرع خود بخود ختم یعنی جب ابن الصباغ کا رد ہو گیا تو اب جو کوئی بھی ابن الصباغ کا حوالہ دے گا اس کا رد خودبخود ہو جائے گا ۔ لہٰذا "نور الابصار" کا حوالہ پیش کرنا قائلین کو کسی طرح
نزہتہ المجالس کے مصنف امام عبد الرحمان بن عبدالسلام صفوری شافعی علیہ الرحمہ ہیں جو کہ اپنے وقت کے مشہور خطباء میں سے ہیں اور آپ کی تاریخ وفات 900 ھجری ہے آپ نے مولائے کائنات کے مولود کعبہ والا واقعہ "الفصول المہمہ" نامی کتاب سے بغیر سند کے نقل کیا لہٰذا امام صفوری کا اس واقعہ کو بغیر سند کے نقل کرنا دلیل نہیں بن سکتا ۔ دوسری بات یہ کہ اس بے سند واقعہ میں کعبہ میں پیدا ہونے کو مولا علی رضی اللہ عنہ کی خصوصیت بتایا جا رہا ہے اور صاف الفاظ ہیں کہ یہ فضیلت کسی اور کو نہیں ملی حالانکہ صحیح روایات سے ثابت ہے کہ صحابی حکیم بن حزام رضیﷲعنہ کعبہ میں پیدا ہوئے ۔ تو صحیح روایات کی موجودگی میں ایسے بے سند واقعات سے کعبہ میں ولادت کو مولا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ خاص کرنا ایسے ہی ہے جیسے دن کے وقت آنکھیں بند کرکے سورج کی نفی کرنا اور رات ہونے پر ضد کرنا ۔ (فافھم)
مولائے کائنات حضرت علی رضی اللہ عنہ کو مولود کعبہ ثابت کرنے کیلئے شیعہ اور نیم شیعہ سنی ایک "الفصول المہمہ" نامی غیر معروف کتاب کا سہارا بھی لیتے ہیں باوجود اس کے کہ قائلین امام حاکم کے کہنے پر مولائے کائنات کی کعبہ میں ولادت کو اخبار متواترہ سے ثابت مانتے ہیں , مگر افسوس اس بات پر کہ جب دلائل کی باری آتی ہے تو "الفصول المہمہ" جیسی غیر معروف کتاب اٹھا کر سامنے کردی جاتی ہے ۔ اس کتاب کے مصنف "علی بن محمد بن احمد المالکی المکی" ہیں جو "ابن الصباغ" کے نام سے مشہور ہیں اور موصوف کی تاریخ وفات "855 ھ" ہے ۔
دعوٰی تواتر کا اور دلائل ؟ امام حاکم کا قول ، نزہتہ المجالس کا قصہ اور الفصول المہمہ جیسی کتاب جس کو اکثر و بیشتر علماء شاید جانتے ہی نہ ہوں بہر کیف ۔ الفصول المہمہ میں بھی نرا دعوٰی ہی دعوٰی ہے دلیل کا نام و نشان نہیں اور اگر کوئی روایت پیش کی گئی ہے تو اس کی سند مفقود ہے اور بغیر سند کے کوئی روایت حجت نہیں اور نہ ہی اس کی کوئی قدر و اہمیت ہے , الفصول المہمہ کے مصنف 855 ھ میں فوت ہوئے جبکہ مولا علی رضی اللہ عنہ کی ولادت کا واقعہ ہجرت سے کئی برس پہلے کا ہے لہٰذا ایسا واقعہ جو صاحب فصول المہمہ کی پیدائش سے بھی کئی سو سال پہلے کا ہے فقط ان کے کہنے پر کیسے مان لیا حائے ؟
مولائے کائنات حضرت علی رضی اللہ عنہ کو مولود کعبہ ثابت کرنے کیلئے شیعہ اور نیم شیعہ سنی حضرات " ڈوبتے کو تنکے کا سہارا" پر عمل کرتے ہوئے "سبط ابن جوزی" کی کتاب "تذکرہ الخواص" پیش کرکے بگلیں بجاتے ہیں , حالانکہ یہاں بھی سند کے اعتبار سے وہی معاملہ ہے جو "المستدرک" "الفصول" اور "نزھتہ المجالس" میں رہا ہے کہ ایک تو دعویٰ بلا دلیل اور اگر کوئی روایت نقل کر ہی دی تو شاید اس کی سند شیعوں کے بارہویں امام غار وغیرہ میں چھپا کر بیٹھے ہیں , "تذکرہ الخواص" میں بھی فقط دعویٰ ہی دعویٰ ہے نہ کوئی دلیل اور نہ ہی کوئی سند ۔ تو بغیر سند کے کسی واقعہ کا اعتبار کیونکر کیا جا سکتا ہے ؟ ۔ اور واقعہ بھی ایسا جس سے مذہب شیعہ کو تقویت ملتی ہو (فافھم) دوسری اور اہم بات کہ سبط ابن جوزی اور "امام ابن جوزی" دو الگ شخصیات ہیں لہٰذا دھوکہ کھانے کی ضرورت نہیں اور یہ بھی واضح رہے کہ "سبط ابن جوزی" تقیہ باز رافضی تھا تقریباً 654 ھجری میں وفات پائی ۔ اب ایک واقعہ جو سبط ابن جوزی سے کئی سو سال پہلے کا ہے صرف اس کے بیان کرنے سے کیوں تسلیم کیا جائے ؟ اور بالخصوص اس وقت کہ جب سبط ابن جوزی کی اپنی پوزیشن یہ ہو کہ اس کے اپنے قلم سے رافضیت ٹپک رہی ہو تو اس وقت سبط ابن جوزی کی اطاعت میں مولائے کائنات حضرت علی رضی اللہ عنہ کو مولود کعبہ ماننا نری حماقت نہیں تو کیا ہے ؟
حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ کو مولود کعبہ ماننے والے شیعہ اور نیم شیعہ سنی اپنے اس مفروضہ کی گرتی ہوئی دیوار کو بچانے کی خاطر "نور الابصار" نامی کتاب کو دین و ایمان سمجھتے ہوئے پیش کرتے ہیں ! اور حسب معمول یہاں بھی نرا دعویٰ ہی دعویٰ ۔ لطیفہ یہ ہے کہ نور الابصار کے مصنف الشیخ شبلنجی حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ کی ولادت کعبہ میں لکھ کر حوالہ "ابن الصباغ" کا دیتے ہیں اور یہ ابن الصباغ وہی ہے جو "الفصول المھمہ" نامی غیر معروف کتاب کا مصنف ہے جس کا رد ہم اوپر پیش کر آئے ہیں ۔ اور ظاہری بات ہے جب اصل کا رد ہو گیا تو فرع خود بخود ختم یعنی جب ابن الصباغ کا رد ہو گیا تو اب جو کوئی بھی ابن الصباغ کا حوالہ دے گا اس کا رد خودبخود ہو جائے گا ۔ لہٰذا "نور الابصار" کا حوالہ پیش کرنا قائلین کو کسی طرح
❤1
مفید نہیں کیونکہ یہاں بھی نہ تو کوئی دلیل ہے اور نہ ہی کوئی سند بلکہ جو واقعہ ولادت لکھا ہے وہ بھی ابن الصباغ کی الفصول سے لیا گیا ہے جب کہ الفصول میں بھی اس کی کوئی سند نہیں ۔ لہٰذا ایسی موضوع (من گھڑت) روایات سے مولائے کائنات حضرت علی رضی اللہ عنہ کو مولود کعبہ ثابت کرنا ایسا ہی ہے جیسے کوا سفید ہے کی رٹ لگائے ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرنا جس سے کچھ حاصل نہیں ۔ اور صاحب نور الابصار الشیخ الشبلنجی 13 تیرھویں صدی ہجری کے علماء میں سے ہیں اور ایسا واقعہ جو ان کی پیدائش سے سینکڑوں سال پہلے کا ہے اس کے بارے ان کی ذاتی رائے یا دعویٰ کچھ حیثیت نہیں رکھتا ۔
مولائے کائنات حضرت علی رضی اللہ عنہ کو مولود کعبہ ماننے والے لوگ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی علیہ الرّحمہ کی مایۂ ناز تصنیف "ازالتہ الخفاء" کا حوالہ بھی پیش کرتے ہیں حالانکہ حاکم نیشاپوری کے رد کے بعد شاہ صاحب کا حوالہ پیش کرنا سراسر کج فہمی کی دلیل ہے کیونکہ شاہ صاحب علیہ الرّحمہ اپنی تحقیق کی بناء پر ایسا نہیں فرما رہے بلکہ حاکم ہی کے قول کو نقل کر رہے ہیں حالانکہ ہم پہلی دلیل کے رد میں یہ واضح کر آئے ہیں کہ حاکم کا قول دراصل حاکم کا وہم ہے یا پھر نیم شیعہ ہونے کی ایک کڑی ۔ (فافھم) ۔ اور ایسا دعویٰ جس کی دلیل ہے ہی نہیں اور دعویٰ بلا دلیل مردود ہوتا ہے لہٰذا ایسے مردود قول یا دعوے کو چاہے ایک ہزار بندہ نقل کرتا چلا آئے دلیل نہیں بن سکتا ۔ اسی لئے قائلین کو شاہ صاحب علیہ الرّحمہ کا حوالہ کچھ فائدہ نہیں دے گا کیونکہ شاہ صاحب علیہ الرّحمہ بھی حاکم ہی کا قول نقل کر رہے ہیں ۔
(مزید حصہ سوم میں ان شاء اللہ) ۔
(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)
مولائے کائنات حضرت علی رضی اللہ عنہ کو مولود کعبہ ماننے والے لوگ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی علیہ الرّحمہ کی مایۂ ناز تصنیف "ازالتہ الخفاء" کا حوالہ بھی پیش کرتے ہیں حالانکہ حاکم نیشاپوری کے رد کے بعد شاہ صاحب کا حوالہ پیش کرنا سراسر کج فہمی کی دلیل ہے کیونکہ شاہ صاحب علیہ الرّحمہ اپنی تحقیق کی بناء پر ایسا نہیں فرما رہے بلکہ حاکم ہی کے قول کو نقل کر رہے ہیں حالانکہ ہم پہلی دلیل کے رد میں یہ واضح کر آئے ہیں کہ حاکم کا قول دراصل حاکم کا وہم ہے یا پھر نیم شیعہ ہونے کی ایک کڑی ۔ (فافھم) ۔ اور ایسا دعویٰ جس کی دلیل ہے ہی نہیں اور دعویٰ بلا دلیل مردود ہوتا ہے لہٰذا ایسے مردود قول یا دعوے کو چاہے ایک ہزار بندہ نقل کرتا چلا آئے دلیل نہیں بن سکتا ۔ اسی لئے قائلین کو شاہ صاحب علیہ الرّحمہ کا حوالہ کچھ فائدہ نہیں دے گا کیونکہ شاہ صاحب علیہ الرّحمہ بھی حاکم ہی کا قول نقل کر رہے ہیں ۔
(مزید حصہ سوم میں ان شاء اللہ) ۔
(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)
❤1
https://t.me/islaamic_Knowledge/24802
حضرت مولا علی رضی اللہ کی تاریخ ولادت و مولودِ کعبہ کون ؟ حصّہ دوم
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/287216876847692/
✍ #ڈاکٹر_فیض_احمد_چشتی
حضرت مولا علی رضی اللہ کی تاریخ ولادت و مولودِ کعبہ کون ؟ حصّہ دوم
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/287216876847692/
✍ #ڈاکٹر_فیض_احمد_چشتی
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
حضرت مولا علی رضی اللہ کی تاریخ ولادت و مولودِ کعبہ کون ؟ حصّہ سوم
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/287228913513155/
محترم قارئینِ کرام : حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ کی کعبہ میں ولادت کے سلسلے میں سب سے مشہور روایت جو نقل کی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ : حلمیہ بنت ابی ذوہیب عبداللہ بن الحارث سعدیہ ایک مرتبہ حجاج بن یوسف کے دور خلافت میں ان سے ملنے کےلیے گئیں ـ حجاج نے کہا : اے حلمیہ ! اللہ تجھے میرے پاس لایا ، میں چاہتا ہوں کہ تجھے بلاؤں اور تم سے انتقام لوں ، حلمیہ نے کہا : اس سورش و غصہ کا کیا سبب ہے ؟ حجاج نے جواب دیا : میں نے سنا ہے کہ تم علی کو ابوبکر اور عمر رضی عنہم پر فضیلت دیتی ہو ، حلمیہ نے کہا : حجاج ! خدا کی قسم میں اپنے امام کو اکیلی حضرت عمر و ابوبکر پر فضلیت نہیں دیتی ہوں ، ابوبکر و عمر میں کیا لیاقت ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہم سے ان کا موازنہ کیا جائے ، میں تو اپنے امام کو آدم ، نوح ، ابراہیم ، سلمیان ، موسی اور عیسی پر بھی فضیلت دیتی ہو ، حجاج نے برآشفتہ ہو کر کہا میں تجھ سے دل برداشتہ ہوں ، میرے بدن میں آگ لگ گئی ہے ، اگر تو نے اس دعوٰی کو ثابت کردیا تو ٹھیک ورنہ میں تجھے ٹکڑے ٹکڑے کردوں گا ، تاکہ تم دوسروں کے لئے عبرت حاصل کرنے کا ذریعہ بن جائے ، پھر حلمیہ نے ایک ایک کر کے دلائل کے ساتھ علی رضی اللہ عنہ کی برتری ثابت کردی ـ یہاں تک کہ جب حجاج نے کہا تو کس دلیل سے علیؓ کو عیسی علیہ السلام پر ترجیح دیتی ہے ؟ حلمیہ نے کہا : اے حجاج سنو ! جب مریم بن عمران بچہ جننے کے قریب ہوئی جب کہ وہ بیت المقدس میں ٹھہری تھی ، حکم الہی آیا کہ بیت المقدس سے باہر نکل جاؤ اور جنگل کی طرف رخ کرو تاکہ بت المقدس تیرے نفاس سے ناپاک نہ ہوجائے ، اور جب حضرت علی کی ماں فاطمہ بن اسد رضی اللہ عنہما وضع حمل کے قریب ہوئیں تو وحی آئی کہ کعبہ میں داخل ہو جاؤ اور میرے گھر کو اس مولود کی پیدائش سے مشرف کر، پھر حلمیہ کہنے لگی اے حجاج اب تم ہی انصاف کروکہ دونوں بچوں میں کون شریف ہو گا ؟ حجاج یہ سن کر راضی ہو گیا اور حلمیہ کا وظیفہ مقرر کر دیا ۔ (آئینہ مذاہب امامیہ ترجمہ اردو تحفہ اثنا عشریہ از شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی علیہ الرحمہ صفحہ 111-113)
اس روایت میں جو واقعہ بیان کیا گیا ہے وہ سر تا پا جھوٹ و کذب او بہتان سے لبریز ہے ، اس میں بہت ساری باتیں جھوٹی اور من گھڑت ہیں ، جنکی تفصیل درج ذیل ہے ، کیونکہ : تراجم کی کتب میں کہیں یہ مذکور نہیں کہ حلمیہ بنت ابی ذویب السعدیہ حجاج بن یوسف کے عہد تک زندہ تھیں اور نہ ہی کہیں کسی نے اس واقعہ کی طرف اشارہ کیا ہے ـ (سیرت ابن ہشام 1/160)۔(اسد العابہ 76/8،چشتی)
آئینہ مذاہب امامیہ کے مصنف حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ : حلیمہ بن ابی ذویب مورخین کے اتفاق رائے سے حجاج بن یوسف کے زمانے تک زندہ نہیں رہی ـ (آئینہ مذاہب امامیہ ترجمہ اردو تحفہ اثنا عشریہ از شاہ عبدالعزیز صاحب محد دہلوی ص 111-113)
اس روایت کو صحیح ماننے سے اہل سنت و جماعت کے اصولوں کی مخالفت لازم آئے گی کیونکہ اس روایت میں حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ کو عمرین یعنی ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما پر فوقیت دینے کی کوشش کی گئی ، جبکہ اہل سنت و جماعت کا متفقہ فیصلہ ہے کہ تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سب سے زیادہ افضل ابوبکر پھر عمر پھر عثمان پھر علی اور ان کے بعد عشرہ مبشرہ رضی اللہ عنہم اجمعین ہیں ۔
حضرت عیسی علیہ السلام کی ولادت سے متعلق جو بات اس روایت میں کہی گئی ہے وہ محض بکواس ہے اور تاریخ کے خلاف ہے کسی مؤرخ نے اس کا تذکرہ نہیں کیا ہے ، اس کے برخلاف نص قرآن اس بات پر واضح دلالت کرتی کہ حضرت مریم علیہا السلام درد زہ سے پریشان ہو کر اس بات پر آمادہ ہوئیں کہ وہ کسی چیز پر تکیہ کریں اور جب اس حالت میں جنگل میں جانا اور کسی کی مدد کے بغیر وضع حمل ہونا دشوار محسوس کیا تو انہوں نےاختیارِ موت کی خواہش کی، جس کی وضاحت قرآن میں اس طرح سے آئی ہے : فَاَجَآءَهَا الۡمَخَاضُ اِلٰى جِذۡعِ النَّخۡلَةِۚ قَالَتۡ يٰلَيۡتَنِىۡ مِتُّ قَبۡلَ هٰذَا وَكُنۡتُ نَسۡيًا مَّنۡسِيًّا ۔ (سورۃ نمبر 19 مريم_آیت نمبر 23)
ترجمہ : پھر درد زہ اسے کھجور کے تنے کی طرف لے آیا، کہنے لگی اے کاش ! میں اس سے پہلے مرجاتی اور بھولی بھلائی ہوتی ۔
جَاءَ یَجِيْءُ مَجِیْا “ کا معنی ہے آنا اور ” أَجَاءَ یُجِيُ “ (افعال) کا معنی ہے لانا ، مگر اس کے مفہوم میں مجبور کرکے لانا پایا جاتا ہے ۔ (تفسیر زمحشری) ” الْمَخَاضُ “ عورت کو بچے کی پیدائش کے وقت ہونے والا درد ، یعنی درد زِہ۔ ” مَخِضَتِ الْمَرْأَۃُ “ (ع) جب عورت کے ہاں پیدائش کا وقت قریب ہو ۔ یہ ” مَخْضٌ“ سے ماخوذ ہے ، جس کا معنی شدید حرکت ہے اور یہ نام رکھنے کی وجہ ولادت کے قریب ماں کے پیٹ میں بچے کا شدت سے حرکت کرنا ہے ۔ یعنی درد زِہ کی شدت سے مجبور ہو کر وہ کھجور کے ایک تنے سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئیں اور
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/287228913513155/
محترم قارئینِ کرام : حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ کی کعبہ میں ولادت کے سلسلے میں سب سے مشہور روایت جو نقل کی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ : حلمیہ بنت ابی ذوہیب عبداللہ بن الحارث سعدیہ ایک مرتبہ حجاج بن یوسف کے دور خلافت میں ان سے ملنے کےلیے گئیں ـ حجاج نے کہا : اے حلمیہ ! اللہ تجھے میرے پاس لایا ، میں چاہتا ہوں کہ تجھے بلاؤں اور تم سے انتقام لوں ، حلمیہ نے کہا : اس سورش و غصہ کا کیا سبب ہے ؟ حجاج نے جواب دیا : میں نے سنا ہے کہ تم علی کو ابوبکر اور عمر رضی عنہم پر فضیلت دیتی ہو ، حلمیہ نے کہا : حجاج ! خدا کی قسم میں اپنے امام کو اکیلی حضرت عمر و ابوبکر پر فضلیت نہیں دیتی ہوں ، ابوبکر و عمر میں کیا لیاقت ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہم سے ان کا موازنہ کیا جائے ، میں تو اپنے امام کو آدم ، نوح ، ابراہیم ، سلمیان ، موسی اور عیسی پر بھی فضیلت دیتی ہو ، حجاج نے برآشفتہ ہو کر کہا میں تجھ سے دل برداشتہ ہوں ، میرے بدن میں آگ لگ گئی ہے ، اگر تو نے اس دعوٰی کو ثابت کردیا تو ٹھیک ورنہ میں تجھے ٹکڑے ٹکڑے کردوں گا ، تاکہ تم دوسروں کے لئے عبرت حاصل کرنے کا ذریعہ بن جائے ، پھر حلمیہ نے ایک ایک کر کے دلائل کے ساتھ علی رضی اللہ عنہ کی برتری ثابت کردی ـ یہاں تک کہ جب حجاج نے کہا تو کس دلیل سے علیؓ کو عیسی علیہ السلام پر ترجیح دیتی ہے ؟ حلمیہ نے کہا : اے حجاج سنو ! جب مریم بن عمران بچہ جننے کے قریب ہوئی جب کہ وہ بیت المقدس میں ٹھہری تھی ، حکم الہی آیا کہ بیت المقدس سے باہر نکل جاؤ اور جنگل کی طرف رخ کرو تاکہ بت المقدس تیرے نفاس سے ناپاک نہ ہوجائے ، اور جب حضرت علی کی ماں فاطمہ بن اسد رضی اللہ عنہما وضع حمل کے قریب ہوئیں تو وحی آئی کہ کعبہ میں داخل ہو جاؤ اور میرے گھر کو اس مولود کی پیدائش سے مشرف کر، پھر حلمیہ کہنے لگی اے حجاج اب تم ہی انصاف کروکہ دونوں بچوں میں کون شریف ہو گا ؟ حجاج یہ سن کر راضی ہو گیا اور حلمیہ کا وظیفہ مقرر کر دیا ۔ (آئینہ مذاہب امامیہ ترجمہ اردو تحفہ اثنا عشریہ از شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی علیہ الرحمہ صفحہ 111-113)
اس روایت میں جو واقعہ بیان کیا گیا ہے وہ سر تا پا جھوٹ و کذب او بہتان سے لبریز ہے ، اس میں بہت ساری باتیں جھوٹی اور من گھڑت ہیں ، جنکی تفصیل درج ذیل ہے ، کیونکہ : تراجم کی کتب میں کہیں یہ مذکور نہیں کہ حلمیہ بنت ابی ذویب السعدیہ حجاج بن یوسف کے عہد تک زندہ تھیں اور نہ ہی کہیں کسی نے اس واقعہ کی طرف اشارہ کیا ہے ـ (سیرت ابن ہشام 1/160)۔(اسد العابہ 76/8،چشتی)
آئینہ مذاہب امامیہ کے مصنف حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ : حلیمہ بن ابی ذویب مورخین کے اتفاق رائے سے حجاج بن یوسف کے زمانے تک زندہ نہیں رہی ـ (آئینہ مذاہب امامیہ ترجمہ اردو تحفہ اثنا عشریہ از شاہ عبدالعزیز صاحب محد دہلوی ص 111-113)
اس روایت کو صحیح ماننے سے اہل سنت و جماعت کے اصولوں کی مخالفت لازم آئے گی کیونکہ اس روایت میں حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ کو عمرین یعنی ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما پر فوقیت دینے کی کوشش کی گئی ، جبکہ اہل سنت و جماعت کا متفقہ فیصلہ ہے کہ تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سب سے زیادہ افضل ابوبکر پھر عمر پھر عثمان پھر علی اور ان کے بعد عشرہ مبشرہ رضی اللہ عنہم اجمعین ہیں ۔
حضرت عیسی علیہ السلام کی ولادت سے متعلق جو بات اس روایت میں کہی گئی ہے وہ محض بکواس ہے اور تاریخ کے خلاف ہے کسی مؤرخ نے اس کا تذکرہ نہیں کیا ہے ، اس کے برخلاف نص قرآن اس بات پر واضح دلالت کرتی کہ حضرت مریم علیہا السلام درد زہ سے پریشان ہو کر اس بات پر آمادہ ہوئیں کہ وہ کسی چیز پر تکیہ کریں اور جب اس حالت میں جنگل میں جانا اور کسی کی مدد کے بغیر وضع حمل ہونا دشوار محسوس کیا تو انہوں نےاختیارِ موت کی خواہش کی، جس کی وضاحت قرآن میں اس طرح سے آئی ہے : فَاَجَآءَهَا الۡمَخَاضُ اِلٰى جِذۡعِ النَّخۡلَةِۚ قَالَتۡ يٰلَيۡتَنِىۡ مِتُّ قَبۡلَ هٰذَا وَكُنۡتُ نَسۡيًا مَّنۡسِيًّا ۔ (سورۃ نمبر 19 مريم_آیت نمبر 23)
ترجمہ : پھر درد زہ اسے کھجور کے تنے کی طرف لے آیا، کہنے لگی اے کاش ! میں اس سے پہلے مرجاتی اور بھولی بھلائی ہوتی ۔
جَاءَ یَجِيْءُ مَجِیْا “ کا معنی ہے آنا اور ” أَجَاءَ یُجِيُ “ (افعال) کا معنی ہے لانا ، مگر اس کے مفہوم میں مجبور کرکے لانا پایا جاتا ہے ۔ (تفسیر زمحشری) ” الْمَخَاضُ “ عورت کو بچے کی پیدائش کے وقت ہونے والا درد ، یعنی درد زِہ۔ ” مَخِضَتِ الْمَرْأَۃُ “ (ع) جب عورت کے ہاں پیدائش کا وقت قریب ہو ۔ یہ ” مَخْضٌ“ سے ماخوذ ہے ، جس کا معنی شدید حرکت ہے اور یہ نام رکھنے کی وجہ ولادت کے قریب ماں کے پیٹ میں بچے کا شدت سے حرکت کرنا ہے ۔ یعنی درد زِہ کی شدت سے مجبور ہو کر وہ کھجور کے ایک تنے سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئیں اور
❤1