صحابہ و اہلبیت رضی اللہ عنہم کی آپس میں محبت و رشتہ داریاں حصّہ اوّل
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/292959166273463/
محترم قارئینِ کرام : قرآنِ کریم میں اہلِ بیتِ اطہار رضی اللہ عنہم کی محبت کے بارے میں اللہ عزّوجلّ کا فرمان ہے : قُلْ لَّاۤ اَسْٸلُكُمْ عَلَیْهِ اَجْرًا اِلَّا الْمَوَدَّةَ فِی الْقُرْبٰىؕ ۔
تَرجَمہ : آپ فرماٸیں میں اس (یعنی تبلیغِ رسالت) پر تم سے کچھ اجرت نہیں مانگتا مگر قرابت کی محبّت ۔ (پارہ نمبر 25 سورہ الشوریٰ آیت نمبر 23)
بعض شر پسند و فتنہ پرور لوگ اہلبیت اطہار رضی اللہ عنہم کی شان اس طرح بیان کرتے ہیں کہ جیسے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے ان کی مخاصمت اور لڑائی تھی یونہی اس کے بالعکس بعض شر پسند و فتنہ پرور لوگ شان صحابہ رضی اللہ عنہم اسی انداز میں بیان کرتے ہیں ۔ ہمارا دعویٰ یہ ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور اہلبیت اطہار رضی اللہ عنہم کے درمیان بیحد محبت و آپس میں قریبی رشتہ داریاں و تعلقات تھے ۔ اس کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ وہ ایک دوسرے کی فضلیت پر احادیثِ مبارکہ بیان فرماتے تھے ۔
جب ام المومنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی ﷲ عنہا سے پوچھا جاتا ہے کہ لوگوں میں سے رسول ﷲ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو سب سے زیادہ پیارا کون تھا ؟ تو آپ فرماتی ہیں فاطمہ رضی ﷲ عنہا ۔ پھر پوچھا جاتا ہے کہ مردوں میں سے کون زیادہ محبوب تھا ؟ فرماتی ہیں ‘ اْن کے شوہر یعنی حضرت علی رضی ﷲ عنہ ۔ (جامع ترمذی)
اسی طرح جب حضرت سیدہ فاطمہ رضی ﷲ عنہا سے پوچھا جاتا ہے کہ لوگوں میں سے رسول ﷲ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو سب سے زیادہ پیارا کون تھا ؟ تو آپ فرماتی ہیں ‘ عائشہ رضی ﷲ عنہا ۔ پھر پوچھا جاتا ہے کہ مردوں میں سے کون زیادہ محبوب تھا ؟ تو آپ فرماتی ہیں ‘ ان کے والد حضرت ابوبکر رضی ﷲ عنہ ۔ (صحیح بخاری)
اگر خدانخواستہ ان کے درمیان کوئی مخاصمت یا رنجش ہوتی تو وہ ایسی احادیث بیان نہ کرتے ۔
حضرے سیدنا ابوبکر صدی و سیدنا علی رضی ﷲ عنہما کی باہم محبت
حضرت ابوبکر اور حضرت علی رضی ﷲ عنہما کے درمیان کس قدر محبت تھی ‘ اس کا اندازہ اس حدیث پاک سے کیجیے ۔ قیس بن ابی حازم رضی ﷲ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دن حضرت ابوبکر رضی ﷲ عنہ حضرت علی رضی ﷲ عنہ چہرے کی طرف دیکھ کر مسکرانے لگے ۔ حضرت علی رضی ﷲ عنہ نے پوچھا ‘ آپ کیوں مسکرا رہے ہیں ؟ سیدنا ابوبکر رضی ﷲ عنہ نے فرمایا ‘ ’’ میں نے آقا و مولیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ پل صراط پر سے صرف وہی گزر کر جنت میں جائے گا جس کو علی وہاں سے گزرنے کا پروانہ دیں گے ۔ اس پر سیدنا علی رضی ﷲ عنہ ہنسنے لگے اور فرمایا ‘ اے ابوبکر ! آپ کو بشارت ہو ۔ میرے آقا ومولیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے یہ بھی فرمایا ہے کہ (اے علی!) پل صراط پر سے گزرنے کا پروانہ صرف اسی کو دینا جس کے دل میں ابوبکر کی محبت ہو ۔ (الریاض النضرۃ فی مناقب العشرۃ ج۲:۵۵ امطبوعہ مصر،چشتی)
حضرت سیدنا مولا علی رضی ﷲ عنہ نے فرمایا ‘ ایک دن مشرکین نے رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو اپنے نرغہ میں لے لیا ۔ وہ آپ کو گھسیٹ رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ تم وہی ہو جو کہتا ہے کہ ایک خدا ہے ۔ خدا کی قسم ! کسی کو ان مشرکین سے مقابلہ کی جرأت نہیں ہوئی سوائے ابوبکر رضی ﷲ عنہ کے ۔ وہ آگے بڑھے اور مشرکین کو مارمار کر اور دھکے دے دے کر ہٹاتے جاتے اور فرماتے جاتے ‘ تم پر افسوس ہے کہ تم ایسے شخض کو ایذا پہنچا رہے ہو جو کہتا ہے کہ ’’ میرا رب صرف ﷲ ہے ۔‘‘ یہ فرما کر حضرت مولا علی رضی ﷲ عنہ اتنا روئے کہ آپ کی داڑھی ترہو گئی ۔ پھر فرمایا ‘ اے لوگو ! یہ بتاؤ کہ آل فرعون کا مومن اچھا تھا یا ابوبکر رضی ﷲ عنہ اچھے تھے ؟ لوگ یہ سن کر خاموش رہے تو حضرت علی رضی ﷲ عنہ نے پھر فرمایا ‘ لوگو ! جواب کیوں نہیں دیتے ۔ خدا کی قسم ! ابوبکر صدیق رضی ﷲ عنہ کی زندگی کا ایک لمحہ آلِ فرعون کے مومن کی ہزار ساعتوں سے بہتر اور برتر ہے کیونکہ وہ لوگ اپنا ایمان ڈر کی وجہ سے چھپاتے تھے اور ابوبکر صدیق رضی ﷲ عنہ نے اپنے ایمان کا اظہار علی الاعلان کیا ۔ (تاریخ الخلفاء عربی صفحہ ۱۰۰)
حضرت مولا علی رضی ﷲ عنہ سے روایت ہے کہ کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابوبکر رضی ﷲ عنہ کے پاس سے گزرا اور وہ صرف ایک کپڑا اوڑھے بیٹھے تھے ۔ ان کی یہ حالت دیکھ کر بے ساختہ میری زبان سے نکلا ‘ کوئی صحیفہ والا ﷲ تعالٰی کو اتنا محبوب نہیں جتنا یہ کپڑا اوڑھنے والا ﷲ تعالٰی کو محبوب ہے ۔ (تاریخ الخلفاء: ابن عساکر)
حضرت انس رضی ﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم اپنے صحابہ کے درمیان مسجد میں تشریف فرما تھے کہ حضرت علی رضی ﷲ عنہ آئے اور سلام کر کے کھڑے ہوگئے ۔ حضور منتظر رہے کہ دیکھیں کون ان کےلیے جگہ بناتا ہے ۔ حضرت ابوبکر رضی ﷲ عنہ آپ کی دائیں جانب بیٹھے ہوئے تھے ۔ آپ اپنی جگہ سے اْٹھ گئے اور فرمایا ‘ اے ابوالحسن ! یہاں تشریف لے آئیے ۔ حضرت علی رضی ﷲ عنہ ‘ حضور
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/292959166273463/
محترم قارئینِ کرام : قرآنِ کریم میں اہلِ بیتِ اطہار رضی اللہ عنہم کی محبت کے بارے میں اللہ عزّوجلّ کا فرمان ہے : قُلْ لَّاۤ اَسْٸلُكُمْ عَلَیْهِ اَجْرًا اِلَّا الْمَوَدَّةَ فِی الْقُرْبٰىؕ ۔
تَرجَمہ : آپ فرماٸیں میں اس (یعنی تبلیغِ رسالت) پر تم سے کچھ اجرت نہیں مانگتا مگر قرابت کی محبّت ۔ (پارہ نمبر 25 سورہ الشوریٰ آیت نمبر 23)
بعض شر پسند و فتنہ پرور لوگ اہلبیت اطہار رضی اللہ عنہم کی شان اس طرح بیان کرتے ہیں کہ جیسے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے ان کی مخاصمت اور لڑائی تھی یونہی اس کے بالعکس بعض شر پسند و فتنہ پرور لوگ شان صحابہ رضی اللہ عنہم اسی انداز میں بیان کرتے ہیں ۔ ہمارا دعویٰ یہ ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور اہلبیت اطہار رضی اللہ عنہم کے درمیان بیحد محبت و آپس میں قریبی رشتہ داریاں و تعلقات تھے ۔ اس کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ وہ ایک دوسرے کی فضلیت پر احادیثِ مبارکہ بیان فرماتے تھے ۔
جب ام المومنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی ﷲ عنہا سے پوچھا جاتا ہے کہ لوگوں میں سے رسول ﷲ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو سب سے زیادہ پیارا کون تھا ؟ تو آپ فرماتی ہیں فاطمہ رضی ﷲ عنہا ۔ پھر پوچھا جاتا ہے کہ مردوں میں سے کون زیادہ محبوب تھا ؟ فرماتی ہیں ‘ اْن کے شوہر یعنی حضرت علی رضی ﷲ عنہ ۔ (جامع ترمذی)
اسی طرح جب حضرت سیدہ فاطمہ رضی ﷲ عنہا سے پوچھا جاتا ہے کہ لوگوں میں سے رسول ﷲ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو سب سے زیادہ پیارا کون تھا ؟ تو آپ فرماتی ہیں ‘ عائشہ رضی ﷲ عنہا ۔ پھر پوچھا جاتا ہے کہ مردوں میں سے کون زیادہ محبوب تھا ؟ تو آپ فرماتی ہیں ‘ ان کے والد حضرت ابوبکر رضی ﷲ عنہ ۔ (صحیح بخاری)
اگر خدانخواستہ ان کے درمیان کوئی مخاصمت یا رنجش ہوتی تو وہ ایسی احادیث بیان نہ کرتے ۔
حضرے سیدنا ابوبکر صدی و سیدنا علی رضی ﷲ عنہما کی باہم محبت
حضرت ابوبکر اور حضرت علی رضی ﷲ عنہما کے درمیان کس قدر محبت تھی ‘ اس کا اندازہ اس حدیث پاک سے کیجیے ۔ قیس بن ابی حازم رضی ﷲ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دن حضرت ابوبکر رضی ﷲ عنہ حضرت علی رضی ﷲ عنہ چہرے کی طرف دیکھ کر مسکرانے لگے ۔ حضرت علی رضی ﷲ عنہ نے پوچھا ‘ آپ کیوں مسکرا رہے ہیں ؟ سیدنا ابوبکر رضی ﷲ عنہ نے فرمایا ‘ ’’ میں نے آقا و مولیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ پل صراط پر سے صرف وہی گزر کر جنت میں جائے گا جس کو علی وہاں سے گزرنے کا پروانہ دیں گے ۔ اس پر سیدنا علی رضی ﷲ عنہ ہنسنے لگے اور فرمایا ‘ اے ابوبکر ! آپ کو بشارت ہو ۔ میرے آقا ومولیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے یہ بھی فرمایا ہے کہ (اے علی!) پل صراط پر سے گزرنے کا پروانہ صرف اسی کو دینا جس کے دل میں ابوبکر کی محبت ہو ۔ (الریاض النضرۃ فی مناقب العشرۃ ج۲:۵۵ امطبوعہ مصر،چشتی)
حضرت سیدنا مولا علی رضی ﷲ عنہ نے فرمایا ‘ ایک دن مشرکین نے رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو اپنے نرغہ میں لے لیا ۔ وہ آپ کو گھسیٹ رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ تم وہی ہو جو کہتا ہے کہ ایک خدا ہے ۔ خدا کی قسم ! کسی کو ان مشرکین سے مقابلہ کی جرأت نہیں ہوئی سوائے ابوبکر رضی ﷲ عنہ کے ۔ وہ آگے بڑھے اور مشرکین کو مارمار کر اور دھکے دے دے کر ہٹاتے جاتے اور فرماتے جاتے ‘ تم پر افسوس ہے کہ تم ایسے شخض کو ایذا پہنچا رہے ہو جو کہتا ہے کہ ’’ میرا رب صرف ﷲ ہے ۔‘‘ یہ فرما کر حضرت مولا علی رضی ﷲ عنہ اتنا روئے کہ آپ کی داڑھی ترہو گئی ۔ پھر فرمایا ‘ اے لوگو ! یہ بتاؤ کہ آل فرعون کا مومن اچھا تھا یا ابوبکر رضی ﷲ عنہ اچھے تھے ؟ لوگ یہ سن کر خاموش رہے تو حضرت علی رضی ﷲ عنہ نے پھر فرمایا ‘ لوگو ! جواب کیوں نہیں دیتے ۔ خدا کی قسم ! ابوبکر صدیق رضی ﷲ عنہ کی زندگی کا ایک لمحہ آلِ فرعون کے مومن کی ہزار ساعتوں سے بہتر اور برتر ہے کیونکہ وہ لوگ اپنا ایمان ڈر کی وجہ سے چھپاتے تھے اور ابوبکر صدیق رضی ﷲ عنہ نے اپنے ایمان کا اظہار علی الاعلان کیا ۔ (تاریخ الخلفاء عربی صفحہ ۱۰۰)
حضرت مولا علی رضی ﷲ عنہ سے روایت ہے کہ کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابوبکر رضی ﷲ عنہ کے پاس سے گزرا اور وہ صرف ایک کپڑا اوڑھے بیٹھے تھے ۔ ان کی یہ حالت دیکھ کر بے ساختہ میری زبان سے نکلا ‘ کوئی صحیفہ والا ﷲ تعالٰی کو اتنا محبوب نہیں جتنا یہ کپڑا اوڑھنے والا ﷲ تعالٰی کو محبوب ہے ۔ (تاریخ الخلفاء: ابن عساکر)
حضرت انس رضی ﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم اپنے صحابہ کے درمیان مسجد میں تشریف فرما تھے کہ حضرت علی رضی ﷲ عنہ آئے اور سلام کر کے کھڑے ہوگئے ۔ حضور منتظر رہے کہ دیکھیں کون ان کےلیے جگہ بناتا ہے ۔ حضرت ابوبکر رضی ﷲ عنہ آپ کی دائیں جانب بیٹھے ہوئے تھے ۔ آپ اپنی جگہ سے اْٹھ گئے اور فرمایا ‘ اے ابوالحسن ! یہاں تشریف لے آئیے ۔ حضرت علی رضی ﷲ عنہ ‘ حضور
❤1
صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم اور سیدنا ابوبکر رضی ﷲ عنہ کے درمیان بیٹھ گئے ۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے چہرہ مبارک پر خوشی کے آثار ظاہر ہوئے اور آپ نے فرمایا ‘ ’’اہل فضل کی فضلیت کو صاحب فضل ہی جانتا ہے ۔‘‘ اسی طرح سیدنا ابوبکر رضی ﷲ عنہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے چچا حضرت عباس رضی ﷲ عنہ کی بھی تعظیم کیا کرتے ۔ (الصواعق المحرقہ صفحہ ۲۶۹)
ایک روز حضرت ابوبکر رضی ﷲ عنہ مسجد نبوی میں منبر پر تشریف فرما تھے کہ اس دوران امام حسن رضی ﷲ عنہ آگئے جو کہ اس وقت بہت کم عمر تھے ۔ امام حسن رضی ﷲ عنہ کہنے لگے ‘ میرے بابا جان کے منبر سے نیچے اتر آئیے ۔ سیدنا ابوبکر رضی ﷲ عنہ نے فرمایا ‘ ’’ تم سچ کہتے ہو ۔ یہ تمہارے باباجان ہی کا منبر ہے ۔‘‘ یہ فرما کر آپ نے امام حسن رضی ﷲ عنہ کوگود میں اٹھا لیا اور اشکبار ہوگئے ۔ حضرت علی رضی ﷲ عنہ بھی وہاں موجود تھے ۔ انہوں نے کہا ‘ خدا کی قسم ! میں نے اس سے کچھ نہیں کہا تھا ۔ سیدنا ابوبکر رضی ﷲ عنہ نے فرمایا : آپ سچ کہتے ہیں ‘ میں آپ کے متعلق غلط گمان نہیں کرتا ۔(تاریخ الخلفاء صفحہ ۱۴۷)(الصواعق المحرقہ صفحہ نمبر ۲۶۹،چشتی)
امام ابن عبدالبر رحمة ﷲ علیہ نے بیان کیا ہے کہ حضرت ابوبکر رضی ﷲ عنہ اکثر حضرت علی رضی ﷲ عنہ کے چہرے کی طرف دیکھا کرتے ۔ حضرت عائشہ رضی ﷲ عنہا نے ان سے اس کا سبب دریافت کیا تو فرمایا ‘ میں نے آقا و مولٰی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ علی رضی ﷲ عنہ کے چہرے کی طرف دیکھنا عبادت ہے ۔ (الصواعق المحرقتہ: ۲۶۹،چشتی)
ایک روز سیدنا ابوبکر رضی ﷲ عنہ تشریف فرما تھے کہ سیدنا علی رضی ﷲ عنہ آگئے ۔ آپ نے انہیں دیکھ کر لوگوں سے فرمایا ‘ جو کوئی رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے قریبی لوگوں میں سے عظیم مرتبت‘ قرابت کے لحاظ سے قریب تر ‘ افضل اور عظیم تر حق کے حامل شخص کو دیکھ کر خوش ہونا چاہے وہ اس آنے والے کو دیکھ لے ۔ (الصواعق المحرقہ صفحہ ۲۷۰‘ دار قطنی)
سیدنا ابوبکر رضی ﷲ عنہ کے سب سے زیادہ بہادر ہونے سے متعلق سیدنا علی رضی ﷲ عنہ کا ارشاد پہلے تحریر ہو چکا ‘ اگر ان کے مابین کسی قسم کی رنجش ہوتی تو کیا یہ دونوں حضرات ایک دوسرے کی فضیلت بیان فرماتے ؟ یہ احادیث مبارکہ ان کی باہم محبت کی واضح مثالیں ہیں۔
سیدنا عمر و سیدنا علی رضی ﷲ عنہما کی باہم محبت
حضرت ابن عباس رضی ﷲ عنہما فرماتے ہیں کہ دورِفاروقی میں مدائن کی فتح کے بعد حضرت عمر رضی ﷲ عنہ نے مسجد نبوی میں مال غنیمت جمع کر کے تقسیم کرنا شروع کیا ۔ امام حسن رضی ﷲ عنہ تشریف لائے تو انہیں ایک ہزار درہم نذر کیے ۔ پھر امام حسین رضی اﷲ عنہ تشریف لائے تو انہیں بھی ایک ہزار درہم پیش کیے ۔ پھر آپ کے صاحبزادے عبد ﷲ رضی ﷲ عنہ آئے تو انہیں پانچ سو درہم دیے۔ انہوں نے عرض کی ‘ اے امیرالمٔومنین ! جب میں عہدِ رسالت میں جہاد کیا کرتا تھا اس وقت حسن و حسین بچے تھے ۔ جبکہ آپ نے انہیں ہزار ہزار اور مجھے سو درہم دیے ہیں ۔ حضرت عمر رضی ﷲ عنہ نے فرمایا ‘ تم عمر کے بیٹے ہو جبکہ ان والد علی المرتضٰی ‘ والدہ فاطمۃ الزہرا ‘ نانا رسول ﷲ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم ‘ نانی خدیجہ الکبریٰ ‘ چچا جعفر طیار ‘ پھوپھی اْم ہانی‘ ماموں ابراہیم بن رسول ﷲ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم ‘ خالہ رقیہ و ام کلثوم و زینب رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی بیٹیاں ہیں رضی ﷲ عنہن ۔ اگر تمہیں ایسی فضیلت ملتی تو تم ہزار درہم کا مطالبہ کرتے ۔ یہ سن کر حضرت عبد ﷲ بن عمر رضی ﷲ عنہما خاموش ہو گئے ۔ جب اس واقعہ کی خبر حضرت علی رضی ﷲ عنہ کوہوئی تو انہوں نے فرمایا ‘ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو یہ فرماتے سنا ہے کہ ’’ عمر اہل جنت کے چراغ ہیں ۔‘‘ حضرت علی رضی ﷲ عنہ کا یہ ارشاد حضرت عمر رضی ﷲ عنہ تک پہنچا تو آپ بعض صحابہ کے ہمراہ حضرت علی رضی ﷲ عنہ کے گھر تشریف لائے اور دریافت کیا ‘ اے علی ! کیا آپ نے سنا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے مجھے اہل جنت کا چراغ فرمایا ہے ۔ حضرت علی رضی ﷲ عنہ نے فرمایا ‘ ہاں ! میں نے خود سنا ہے ۔ حضرت عمر رضی ﷲ عنہ نے فرمایا ‘ اے علی! میری خواہش ہے کہ آپ یہ حدیث میرے لیے تحریر کربدیں ۔ سیدنا علی رضی ﷲ عنہ نے یہ حدیث لکھی : یہ وہ بات ہے جس کے ضامن علی بن ابی طالب ہیں عمر بن خطاب رضی ﷲ عنہ کےلیے کہ رسول ﷲ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا ‘ اْن سے جبرائیل علیہ السلام نے ‘ اْن سے ﷲ تعالٰی نے کہ : ان عمر بن الخطاب سراج اھل الجنۃ ۔ ترجمہ : عمر بن خطاب اہل جنت کے چراغ ہیں ۔ سیدنا علی رضی ﷲ عنہ کی یہ تحریر حضرت عمررضی ﷲ عنہ نے لے لی اور وصیت فرمائی کہ جب میرا وصال ہو تو یہ تحریر میرے کفن میں رکھ دینا ۔ چنانچہ آپ کی شہادت کے بعد وہ تحریر آپ کے کفن میں رکھ دی گئی ۔ (ازالتہ الخفاء، الریاض النضرۃ ج ا:۲۸۲،چشتی)
ایک روز حضرت ابوبکر رضی ﷲ عنہ مسجد نبوی میں منبر پر تشریف فرما تھے کہ اس دوران امام حسن رضی ﷲ عنہ آگئے جو کہ اس وقت بہت کم عمر تھے ۔ امام حسن رضی ﷲ عنہ کہنے لگے ‘ میرے بابا جان کے منبر سے نیچے اتر آئیے ۔ سیدنا ابوبکر رضی ﷲ عنہ نے فرمایا ‘ ’’ تم سچ کہتے ہو ۔ یہ تمہارے باباجان ہی کا منبر ہے ۔‘‘ یہ فرما کر آپ نے امام حسن رضی ﷲ عنہ کوگود میں اٹھا لیا اور اشکبار ہوگئے ۔ حضرت علی رضی ﷲ عنہ بھی وہاں موجود تھے ۔ انہوں نے کہا ‘ خدا کی قسم ! میں نے اس سے کچھ نہیں کہا تھا ۔ سیدنا ابوبکر رضی ﷲ عنہ نے فرمایا : آپ سچ کہتے ہیں ‘ میں آپ کے متعلق غلط گمان نہیں کرتا ۔(تاریخ الخلفاء صفحہ ۱۴۷)(الصواعق المحرقہ صفحہ نمبر ۲۶۹،چشتی)
امام ابن عبدالبر رحمة ﷲ علیہ نے بیان کیا ہے کہ حضرت ابوبکر رضی ﷲ عنہ اکثر حضرت علی رضی ﷲ عنہ کے چہرے کی طرف دیکھا کرتے ۔ حضرت عائشہ رضی ﷲ عنہا نے ان سے اس کا سبب دریافت کیا تو فرمایا ‘ میں نے آقا و مولٰی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ علی رضی ﷲ عنہ کے چہرے کی طرف دیکھنا عبادت ہے ۔ (الصواعق المحرقتہ: ۲۶۹،چشتی)
ایک روز سیدنا ابوبکر رضی ﷲ عنہ تشریف فرما تھے کہ سیدنا علی رضی ﷲ عنہ آگئے ۔ آپ نے انہیں دیکھ کر لوگوں سے فرمایا ‘ جو کوئی رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے قریبی لوگوں میں سے عظیم مرتبت‘ قرابت کے لحاظ سے قریب تر ‘ افضل اور عظیم تر حق کے حامل شخص کو دیکھ کر خوش ہونا چاہے وہ اس آنے والے کو دیکھ لے ۔ (الصواعق المحرقہ صفحہ ۲۷۰‘ دار قطنی)
سیدنا ابوبکر رضی ﷲ عنہ کے سب سے زیادہ بہادر ہونے سے متعلق سیدنا علی رضی ﷲ عنہ کا ارشاد پہلے تحریر ہو چکا ‘ اگر ان کے مابین کسی قسم کی رنجش ہوتی تو کیا یہ دونوں حضرات ایک دوسرے کی فضیلت بیان فرماتے ؟ یہ احادیث مبارکہ ان کی باہم محبت کی واضح مثالیں ہیں۔
سیدنا عمر و سیدنا علی رضی ﷲ عنہما کی باہم محبت
حضرت ابن عباس رضی ﷲ عنہما فرماتے ہیں کہ دورِفاروقی میں مدائن کی فتح کے بعد حضرت عمر رضی ﷲ عنہ نے مسجد نبوی میں مال غنیمت جمع کر کے تقسیم کرنا شروع کیا ۔ امام حسن رضی ﷲ عنہ تشریف لائے تو انہیں ایک ہزار درہم نذر کیے ۔ پھر امام حسین رضی اﷲ عنہ تشریف لائے تو انہیں بھی ایک ہزار درہم پیش کیے ۔ پھر آپ کے صاحبزادے عبد ﷲ رضی ﷲ عنہ آئے تو انہیں پانچ سو درہم دیے۔ انہوں نے عرض کی ‘ اے امیرالمٔومنین ! جب میں عہدِ رسالت میں جہاد کیا کرتا تھا اس وقت حسن و حسین بچے تھے ۔ جبکہ آپ نے انہیں ہزار ہزار اور مجھے سو درہم دیے ہیں ۔ حضرت عمر رضی ﷲ عنہ نے فرمایا ‘ تم عمر کے بیٹے ہو جبکہ ان والد علی المرتضٰی ‘ والدہ فاطمۃ الزہرا ‘ نانا رسول ﷲ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم ‘ نانی خدیجہ الکبریٰ ‘ چچا جعفر طیار ‘ پھوپھی اْم ہانی‘ ماموں ابراہیم بن رسول ﷲ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم ‘ خالہ رقیہ و ام کلثوم و زینب رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی بیٹیاں ہیں رضی ﷲ عنہن ۔ اگر تمہیں ایسی فضیلت ملتی تو تم ہزار درہم کا مطالبہ کرتے ۔ یہ سن کر حضرت عبد ﷲ بن عمر رضی ﷲ عنہما خاموش ہو گئے ۔ جب اس واقعہ کی خبر حضرت علی رضی ﷲ عنہ کوہوئی تو انہوں نے فرمایا ‘ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو یہ فرماتے سنا ہے کہ ’’ عمر اہل جنت کے چراغ ہیں ۔‘‘ حضرت علی رضی ﷲ عنہ کا یہ ارشاد حضرت عمر رضی ﷲ عنہ تک پہنچا تو آپ بعض صحابہ کے ہمراہ حضرت علی رضی ﷲ عنہ کے گھر تشریف لائے اور دریافت کیا ‘ اے علی ! کیا آپ نے سنا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے مجھے اہل جنت کا چراغ فرمایا ہے ۔ حضرت علی رضی ﷲ عنہ نے فرمایا ‘ ہاں ! میں نے خود سنا ہے ۔ حضرت عمر رضی ﷲ عنہ نے فرمایا ‘ اے علی! میری خواہش ہے کہ آپ یہ حدیث میرے لیے تحریر کربدیں ۔ سیدنا علی رضی ﷲ عنہ نے یہ حدیث لکھی : یہ وہ بات ہے جس کے ضامن علی بن ابی طالب ہیں عمر بن خطاب رضی ﷲ عنہ کےلیے کہ رسول ﷲ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا ‘ اْن سے جبرائیل علیہ السلام نے ‘ اْن سے ﷲ تعالٰی نے کہ : ان عمر بن الخطاب سراج اھل الجنۃ ۔ ترجمہ : عمر بن خطاب اہل جنت کے چراغ ہیں ۔ سیدنا علی رضی ﷲ عنہ کی یہ تحریر حضرت عمررضی ﷲ عنہ نے لے لی اور وصیت فرمائی کہ جب میرا وصال ہو تو یہ تحریر میرے کفن میں رکھ دینا ۔ چنانچہ آپ کی شہادت کے بعد وہ تحریر آپ کے کفن میں رکھ دی گئی ۔ (ازالتہ الخفاء، الریاض النضرۃ ج ا:۲۸۲،چشتی)
❤1
اگر ان کے مابین کسی قسم کی مخاصمت ہوتی تو کیا دونوں حضرات رضی اللہ عنہما ایک دوسرے کی فضیلت بیان فرماتے ؟ یہ واقعہ ان کی باہم محبت کی بہت عمدہ دلیل ہے ۔
امام دارقطنی رحمة ﷲ علیہ نے روایت کیا ہے کہ حضرت عمر رضی ﷲ عنہ نے حضرت علی رضی ﷲ عنہ سے کوئی بات پوچھی جس کا انہوں نے جواب دیا ۔ اس پر حضرت عمر رضی ﷲ عنہ نے فرمایا ‘ اے ابوالحسن ! میں اس بات سے ﷲ تعالٰی کی پناہ چاہتا ہوں کہ میں ایسے لوگوں میں رہوں جن میں آپ نہ ہوں ۔ (الصواعق المحرقہ صفحہ نمبر ۲۷۲)
اس واقعہ سے بھی اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ حضرت عمر رضی ﷲ عنہ کو حضرت علی رضی ﷲ عنہ سے کس قدر محبت تھی ۔
حضرت عمر رضی ﷲ عنہ امورِ سلطنت کے وقت کسی سے نہیں ملے تھے ۔ آپ کے صاحبزادے عبد ﷲ رضی ﷲ عنہ نے ملاقات کی اجازت طلب کی تو نہیں ملی ۔ اس دوران امام حسن رضی ﷲ عنہ بھی ملاقات کے لیے آگئے ۔ انہوں نے دیکھا کہ ابن عمر رضی ﷲ عنہما کو اجازت نہیں ملی تو مجھے بھی اجازت نہیں ملے گی ۔ یہ سوچ کر واپس جانے لگے ۔ کسی نے حضرت عمر رضی ﷲ عنہ کو اطلاع کر دی تو آپ نے فرمایا‘ انہیں میرے پاس لاؤ۔ جب وہ آئے تو فرمایا‘ آپ نے آنے کی خبر کیوں نہ کی ؟ امام حسن رضی ﷲ عنہ نے کہا‘ میں نے سوچا‘ بہت بیٹے کو اجازت نہیں ملی تو مجھے بھی نہیں ملے گی ۔ آپ نے فرمایا‘ وہ عمر کا بیٹا ہے اور آپ رسول ﷲ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے بیٹے ہیں اس لیے آپ اجازت کے زیادہ حقدار ہیں ۔ عمر رضی ﷲ عنہ کو جو عزت ملی ہے وہ ﷲ کے بعد اس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم اور اہلبیت رضی اللہ عنہم کے ذریعے ملی ہے ۔ ایک اور روایت میں ہے کہ آئندہ جب آپ آئیں تو اجازت لینے کی بھی ضرورت نہیں ۔ (الصواعق المحرقہ: ۲۷۲،چشتی)
ایک اور روایت ملاحظہ فرمائیں جس سے سیدنا عمر و علی رضی ﷲ عنہما میں محبت کا اندازہ کیا جا سکتا ہے ۔ حضرت ابوبکر رضی ﷲ عنہ جب شدید علیل ہو گئے تو آپ نے کھڑکی سے سر مبارک باہر نکال کر صحابہ سے فرمایا‘ اے لوگو! میں نے ایک شخص کو تم پر خلیفہ مقرر کیا ہے کیا تم اس کام سے راضی ہو ؟ ۔ سب لوگوں نے متفق ہو کر کہا‘ اے خلیفہ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم! ہم بالکل راضی ہیں ۔ اس پر سیدنا علی رضی ﷲ عنہ کھڑے ہو گئے اور کہا‘وہ شخص اگر عمر رضی ﷲ عنہ نہیں ہیں تو ہم راضی نہیں ہیں ۔ سیدنا ابوبکر رضی ﷲ عنہ نے فرمایا‘ بیشک وہ عمر ہی ہیں ۔ (تاریخ الخلفاء:۱۵۰‘ عساکر)
اسی طرح امام محمد باقر رضی ﷲ عنہ حضرت جابر انصاری رضی ﷲ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ جب وصال کے بعد حضرت عمر رضی ﷲ عنہ کو غسل دے کر کفن پہنایا گیا تو حضرت علی رضی ﷲ عنہ تشریف لائے اور فرمانے لگے‘ ان پر ﷲ تعالٰی کی رحمت ہو‘ میرے نزدیک تم میں سے کوئی شخص مجھے اس (حضرت عمررضی ﷲ عنہ) سے زیادہ محبوب نہیں کہ میں اس جیسا اعمال نامہ لےکر بارگاہِ الٰہی میں حاضر ہوں ۔ (شیعہ کتاب تلخیص الشافی:۲۱۹‘ مطبوعہ ایران)
اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ان حضرات میں کس قدر پیار و محبت تھی ۔ اور فاروقی تربیت ہی کا نتیجہ تھا کہ جب ایک حاسد شخص نے حضرت عبد ﷲ بن عمر رضی ﷲ عنہما سے حضرت علی رضی ﷲ عنہ کے متعلق سوال کیا تو آپ نے ان کی خوبیاں بیان کیں پھر پوچھا‘ یہ باتیں تجھے بری لگیں؟ اس نے کہا‘ ہاں ۔ آپ نے فرمایا‘ ﷲ تعالٰی تجھے ذلیل و خوار کرے۔ جا دفع ہو اور مجھے نقصان پہنچانے کی جو کوشش کر سکتا ہو کر لے ۔ (صحیح بخاری باب مناقب علی رضی اللہ عنہ)
حضرت عمر رضی ﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا‘ ’’قیامت کے دن میرے حسب و نسب کے سوا ہر سلسلۂ نسب منقطع ہو جائے گا’’۔ اسی بنا پر سیدنا عمر رضی ﷲ عنہ نے سیدنا علی رضی ﷲ عنہ سے ان کی صاحبزادی سیدہ اْم کلثوم رضی ﷲ عنہا کا رشتہ مانگ لیا۔ اور ان سے آپ کے ایک فرزند زید رضی ﷲ عنہ پیدا ہوئے ۔
حضرت علی رضی ﷲ عنہ کا یہ ارشاد بھی قابلِ غور ہے‘ آپ فرماتے ہیں کہ ’’ جب تم صالحین کا ذکر کرو تو حضرت عمر رضی ﷲ عنہ کو کبھی فراموش نہ کرو ۔‘‘ (تاریخ الخلفاء: ۱۹۵)
سیدنا علی اور عظمت شیخین رضی اللہ عنہم
سیدنا علی رضی ﷲ عنہ اور حضرات شیخین رضی ﷲ عنہا ایک دوسرے کی خوشی کو اپنی خوشی اور دوسرے کے غم کو اپنا غم سمجھتے تھے ۔ شعیہ عالم ملا باقر مجلسی نے جلا ء العیون صفحہ نمبر ۱۶۸ پر لکھا ہے کہ حضرت علی رضی ﷲ عنہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم سے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا رشتہ مانگنے کے لیے حضرت ابوبکر و عمر رضی ﷲ عنہ نے قائل کیا ۔ اسی کتاب میں مرقوم ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے سیدہ فاطمہ رضی ﷲ عنہا کی شادی کےلیے ضروری سامان خریدنے کے لیے سیدنا ابوبکر رضی ﷲ عنہ کو ذمہ داری سونپی تھی ۔ اس سے معلوم ہوا کہ سیدنا ابوبکر رضی ﷲ عنہ کو رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے گھریلو معاملات میں بھی خاص قرب حاصل تھا ۔
امام دارقطنی رحمة ﷲ علیہ نے روایت کیا ہے کہ حضرت عمر رضی ﷲ عنہ نے حضرت علی رضی ﷲ عنہ سے کوئی بات پوچھی جس کا انہوں نے جواب دیا ۔ اس پر حضرت عمر رضی ﷲ عنہ نے فرمایا ‘ اے ابوالحسن ! میں اس بات سے ﷲ تعالٰی کی پناہ چاہتا ہوں کہ میں ایسے لوگوں میں رہوں جن میں آپ نہ ہوں ۔ (الصواعق المحرقہ صفحہ نمبر ۲۷۲)
اس واقعہ سے بھی اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ حضرت عمر رضی ﷲ عنہ کو حضرت علی رضی ﷲ عنہ سے کس قدر محبت تھی ۔
حضرت عمر رضی ﷲ عنہ امورِ سلطنت کے وقت کسی سے نہیں ملے تھے ۔ آپ کے صاحبزادے عبد ﷲ رضی ﷲ عنہ نے ملاقات کی اجازت طلب کی تو نہیں ملی ۔ اس دوران امام حسن رضی ﷲ عنہ بھی ملاقات کے لیے آگئے ۔ انہوں نے دیکھا کہ ابن عمر رضی ﷲ عنہما کو اجازت نہیں ملی تو مجھے بھی اجازت نہیں ملے گی ۔ یہ سوچ کر واپس جانے لگے ۔ کسی نے حضرت عمر رضی ﷲ عنہ کو اطلاع کر دی تو آپ نے فرمایا‘ انہیں میرے پاس لاؤ۔ جب وہ آئے تو فرمایا‘ آپ نے آنے کی خبر کیوں نہ کی ؟ امام حسن رضی ﷲ عنہ نے کہا‘ میں نے سوچا‘ بہت بیٹے کو اجازت نہیں ملی تو مجھے بھی نہیں ملے گی ۔ آپ نے فرمایا‘ وہ عمر کا بیٹا ہے اور آپ رسول ﷲ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے بیٹے ہیں اس لیے آپ اجازت کے زیادہ حقدار ہیں ۔ عمر رضی ﷲ عنہ کو جو عزت ملی ہے وہ ﷲ کے بعد اس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم اور اہلبیت رضی اللہ عنہم کے ذریعے ملی ہے ۔ ایک اور روایت میں ہے کہ آئندہ جب آپ آئیں تو اجازت لینے کی بھی ضرورت نہیں ۔ (الصواعق المحرقہ: ۲۷۲،چشتی)
ایک اور روایت ملاحظہ فرمائیں جس سے سیدنا عمر و علی رضی ﷲ عنہما میں محبت کا اندازہ کیا جا سکتا ہے ۔ حضرت ابوبکر رضی ﷲ عنہ جب شدید علیل ہو گئے تو آپ نے کھڑکی سے سر مبارک باہر نکال کر صحابہ سے فرمایا‘ اے لوگو! میں نے ایک شخص کو تم پر خلیفہ مقرر کیا ہے کیا تم اس کام سے راضی ہو ؟ ۔ سب لوگوں نے متفق ہو کر کہا‘ اے خلیفہ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم! ہم بالکل راضی ہیں ۔ اس پر سیدنا علی رضی ﷲ عنہ کھڑے ہو گئے اور کہا‘وہ شخص اگر عمر رضی ﷲ عنہ نہیں ہیں تو ہم راضی نہیں ہیں ۔ سیدنا ابوبکر رضی ﷲ عنہ نے فرمایا‘ بیشک وہ عمر ہی ہیں ۔ (تاریخ الخلفاء:۱۵۰‘ عساکر)
اسی طرح امام محمد باقر رضی ﷲ عنہ حضرت جابر انصاری رضی ﷲ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ جب وصال کے بعد حضرت عمر رضی ﷲ عنہ کو غسل دے کر کفن پہنایا گیا تو حضرت علی رضی ﷲ عنہ تشریف لائے اور فرمانے لگے‘ ان پر ﷲ تعالٰی کی رحمت ہو‘ میرے نزدیک تم میں سے کوئی شخص مجھے اس (حضرت عمررضی ﷲ عنہ) سے زیادہ محبوب نہیں کہ میں اس جیسا اعمال نامہ لےکر بارگاہِ الٰہی میں حاضر ہوں ۔ (شیعہ کتاب تلخیص الشافی:۲۱۹‘ مطبوعہ ایران)
اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ان حضرات میں کس قدر پیار و محبت تھی ۔ اور فاروقی تربیت ہی کا نتیجہ تھا کہ جب ایک حاسد شخص نے حضرت عبد ﷲ بن عمر رضی ﷲ عنہما سے حضرت علی رضی ﷲ عنہ کے متعلق سوال کیا تو آپ نے ان کی خوبیاں بیان کیں پھر پوچھا‘ یہ باتیں تجھے بری لگیں؟ اس نے کہا‘ ہاں ۔ آپ نے فرمایا‘ ﷲ تعالٰی تجھے ذلیل و خوار کرے۔ جا دفع ہو اور مجھے نقصان پہنچانے کی جو کوشش کر سکتا ہو کر لے ۔ (صحیح بخاری باب مناقب علی رضی اللہ عنہ)
حضرت عمر رضی ﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا‘ ’’قیامت کے دن میرے حسب و نسب کے سوا ہر سلسلۂ نسب منقطع ہو جائے گا’’۔ اسی بنا پر سیدنا عمر رضی ﷲ عنہ نے سیدنا علی رضی ﷲ عنہ سے ان کی صاحبزادی سیدہ اْم کلثوم رضی ﷲ عنہا کا رشتہ مانگ لیا۔ اور ان سے آپ کے ایک فرزند زید رضی ﷲ عنہ پیدا ہوئے ۔
حضرت علی رضی ﷲ عنہ کا یہ ارشاد بھی قابلِ غور ہے‘ آپ فرماتے ہیں کہ ’’ جب تم صالحین کا ذکر کرو تو حضرت عمر رضی ﷲ عنہ کو کبھی فراموش نہ کرو ۔‘‘ (تاریخ الخلفاء: ۱۹۵)
سیدنا علی اور عظمت شیخین رضی اللہ عنہم
سیدنا علی رضی ﷲ عنہ اور حضرات شیخین رضی ﷲ عنہا ایک دوسرے کی خوشی کو اپنی خوشی اور دوسرے کے غم کو اپنا غم سمجھتے تھے ۔ شعیہ عالم ملا باقر مجلسی نے جلا ء العیون صفحہ نمبر ۱۶۸ پر لکھا ہے کہ حضرت علی رضی ﷲ عنہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم سے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا رشتہ مانگنے کے لیے حضرت ابوبکر و عمر رضی ﷲ عنہ نے قائل کیا ۔ اسی کتاب میں مرقوم ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے سیدہ فاطمہ رضی ﷲ عنہا کی شادی کےلیے ضروری سامان خریدنے کے لیے سیدنا ابوبکر رضی ﷲ عنہ کو ذمہ داری سونپی تھی ۔ اس سے معلوم ہوا کہ سیدنا ابوبکر رضی ﷲ عنہ کو رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے گھریلو معاملات میں بھی خاص قرب حاصل تھا ۔
❤1
حضرت ابن عباس رضی ﷲ عنہما سے روایت ہے کہ میں حضرت عمر رضی ﷲ عنہ کی شہادت کے بعد ان کے جسمِ اقدس کے پاس کھڑا تھا کہ ایک صاحب نے میرے پیچھے سے آکر میرے کندھے پر اپنی کہنی رکھی اور فرمایا‘ ﷲتعالٰی آپ پر رحم فرمائے! بے شک مجھے امید ہے کہ ﷲ تعالیٰ آپ کو آپ کے دونوں دوستوں (یعنی حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم اور ابوبکر صدیق رضی ﷲ عنہ) کا ساتھ عطا کرے گا کیونکہ میں نے بار ہا رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ’میں تھا اور ابوبکر و عمر‘’میں نے یہ کہا اور ابوبکر و عمر نے‘’میں چلا اور ابوبکر و عمر‘’میں داخل ہوا اور ابوبکر و عمر‘’میں نکلا اور ابوبکر و عمر‘۔ (رضی ﷲ عنہما) میں نے پیچھے مڑ کے دیکھا تو وہ حضرت علی کرم ﷲ وجہہ تھے ۔ (صحیح بخاری المناقب)(مسلم کتاب الفضائل الصحابہ،چشتی)
اس حدیث پاک سے معلوم ہوا کہ سیدنا علی کرم ﷲ وجہہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم سے خصوصی قرب ومحبت کے باعث سیدنا ابوبکر و عمر رضی ﷲ عنہما سے دلی محبت رکھتے تھے ۔
ایک شخص نے حضرت علی رضی ﷲ عنہ سے دریافت کیا‘ میں نے خطبہ میں آپ کو یہ فرماتے سنا ہے کہ’’ اے ﷲ! ہم کو ویسی ہی صلاحیت عطا فرما جیسی تو نے ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کو عطا فرمائی تھی‘‘۔ ازراہِ کرم آپ مجھے ان ہدایت یاب خلفائے راشدین کے نام بتا دیں ۔ یہ سن کر حضرت علی رضی ﷲ عنہ آبدیدہ ہو گئے اور فرمایا : وہ میرے دوست ابوبکر اور عمر رضی ﷲ عنہما تھے ۔ ان میں سے ہر ایک ہدایت کا امام اور شیخ الاسلام تھا ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے بعد وہ دونوں قریش کے مقتدیٰ تھے‘ جس شخص نے ان کی پیروی کی وہ ﷲ تعالٰی کی جماعت میں داخل ہو گیا ۔ (تاریخ الخلفاء صفحہ نمبر ۲۶۷،چشتی) ۔ یہی واقعہ شیعہ حضرات کی کتاب تلخیص الشافی جلد ۳ صفحہ ۳۱۸ پر امام جعفر صادق رضی ﷲ عنہ نے امام باقر رضی ﷲ عنہ سے روایت کیا ہے ۔
شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمہ ﷲ فرماتے ہیں‘ یہ بات صحیح روایات سے ثابت اور تواتر سے نقل ہوتی چلی آئی ہے کہ حضرت علی رضی ﷲ عنہ اپنی خلافت کے زمانے میں اپنے رفقاء کے سامنے حضرت ابوبکر و عمر رضی ﷲ عنہما کی تعریف و توصیف کے ساتھ ساتھ ان کی افضلیت کو برملا اور علانیہ بیان کرتے رہے ہیں ۔ امام ذہبی رحمة ﷲ علیہ نے اسی (80) سے زیادہ حضرات سے صحیح سندوں کے ساتھ ثابت کیا ہے اور صحیح بخاری کے حوالے سے بھی بیان کیا ہے کہ حضرت علی رضی ﷲ عنہ نے فرمایا‘ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے بعد سب لوگوں سے افضل ترین ابوبکر رضی ﷲ عنہ ہیں پھر عمر رضی ﷲ عنہ ۔ آپ کے صاحبزادے محمد بن حنفیہ رضی ﷲ عنہما نے کہا‘ پھر آپ ؟ تو آپ تو فرمایا‘ میں ایک عام مسلمان ہوں۔(تکمیل الایمان صفحہ نمبر ۱۶۶،چشتی)
سیدنا علی رضی ﷲ عنہ نے انہیں سیدنا ابوبکر و عمر رضی ﷲ عنہ سے افضل کہنے والوں کے لیے درّوں کی سزا تجویز فرمائی ہے‘ شعیہ حضرات کی اسماء الرجال کی معتبر کتاب رجال کشی کا حوالہ ملاحظہ فرمائیں ۔ سفیان ثوری‘ محمد بن سکندر رحہما اللہ علیہما سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت علی رضی ﷲ عنہ کو کوفہ کے منبر پربیٹھے ہوئے دیکھا کہ وہ فرمارہے تھے‘ اگر میرے پاس کوئی ایسا شخص آئے جو مجھے ابوبکر و عمر رضی ﷲ عنہما پر فضیلت دیتا ہوتو میں اس کو ضرور دْرّے لگائوں گا جو کہ بہتان لگانے والے کی سزا ہے ۔ (تکمیل الایمان: ۱۶۶)(سنن دارقطنی)(رجال کشی۳۳۸ مطبوعہ کربلا)
شیعوں کی اسی کتاب میں سیدنا علی رضی ﷲ عنہ کا فتویٰ موجود ہے کہ ’’حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی ﷲ عنہما کی محبت ایمان ہے اور ان کا بغض کفر ہے ۔‘‘ (رجال کشی صفحہ ۳۳۸)
امام احمد رضا خان قادری رحمة ﷲ علیہ فرماتے ہیں‘ محبت علی مرتضٰی رضی ﷲ عنہ کا یہی تقاضا ہے کہ محبوب کہ اطاعت کیجیے (یعنی سیدنا ابوبکر و عمر رضی ﷲ عنہما کو ساری امت سے افضل مانیے) اور خود کو غضب اور اسی کوڑوں کے استحقاق سے بچئے ۔ (اعتقادالاحباب صفحہ نمبر ۵۶،چشتی)
شیعہ حضرات یہ کہہ کر انکار کردیتے ہیں کہ ’’یہ ساری باتیں تقیہ کے طور پر کہی گئی تھیں (أَسْتَغْفِرُ اللّٰه) ۔ یعنی حضرت علی رضی ﷲ عنہ حضرات شیخین کی تعریف محض جان کے خوف اور دشمنوں کے ڈر سے کیا کرتے تھے ۔ اگر ایسا نہ کرتے تو ان کی جان کو خطرہ تھا مگر دلی طور پر حضرت علی رضی ﷲ عنہ حضرات شیخین کے خلاف تھے ۔ شعیوں کے اس بیان میں قطعاً کوئی صداقت نہیں ۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ حضرت علی رضی ﷲ عنہ جو شیرخدا تھے اور مرکز دائرہ حق تھے‘ اتنے بزدل‘ مغلوب اور عاجز ہو گئے تھے کہ وہ حق بیان کرنے سے قاصر رہے اور ساری زندگی خوف وعجز میں گزار دی‘ پھر اسدُﷲِ الغالب کا لقب کیا معنی رکھتا ہے ؟ ۔ (تکمیل الایمان صفحہ ۱۶۷)
اس حدیث پاک سے معلوم ہوا کہ سیدنا علی کرم ﷲ وجہہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم سے خصوصی قرب ومحبت کے باعث سیدنا ابوبکر و عمر رضی ﷲ عنہما سے دلی محبت رکھتے تھے ۔
ایک شخص نے حضرت علی رضی ﷲ عنہ سے دریافت کیا‘ میں نے خطبہ میں آپ کو یہ فرماتے سنا ہے کہ’’ اے ﷲ! ہم کو ویسی ہی صلاحیت عطا فرما جیسی تو نے ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کو عطا فرمائی تھی‘‘۔ ازراہِ کرم آپ مجھے ان ہدایت یاب خلفائے راشدین کے نام بتا دیں ۔ یہ سن کر حضرت علی رضی ﷲ عنہ آبدیدہ ہو گئے اور فرمایا : وہ میرے دوست ابوبکر اور عمر رضی ﷲ عنہما تھے ۔ ان میں سے ہر ایک ہدایت کا امام اور شیخ الاسلام تھا ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے بعد وہ دونوں قریش کے مقتدیٰ تھے‘ جس شخص نے ان کی پیروی کی وہ ﷲ تعالٰی کی جماعت میں داخل ہو گیا ۔ (تاریخ الخلفاء صفحہ نمبر ۲۶۷،چشتی) ۔ یہی واقعہ شیعہ حضرات کی کتاب تلخیص الشافی جلد ۳ صفحہ ۳۱۸ پر امام جعفر صادق رضی ﷲ عنہ نے امام باقر رضی ﷲ عنہ سے روایت کیا ہے ۔
شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمہ ﷲ فرماتے ہیں‘ یہ بات صحیح روایات سے ثابت اور تواتر سے نقل ہوتی چلی آئی ہے کہ حضرت علی رضی ﷲ عنہ اپنی خلافت کے زمانے میں اپنے رفقاء کے سامنے حضرت ابوبکر و عمر رضی ﷲ عنہما کی تعریف و توصیف کے ساتھ ساتھ ان کی افضلیت کو برملا اور علانیہ بیان کرتے رہے ہیں ۔ امام ذہبی رحمة ﷲ علیہ نے اسی (80) سے زیادہ حضرات سے صحیح سندوں کے ساتھ ثابت کیا ہے اور صحیح بخاری کے حوالے سے بھی بیان کیا ہے کہ حضرت علی رضی ﷲ عنہ نے فرمایا‘ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے بعد سب لوگوں سے افضل ترین ابوبکر رضی ﷲ عنہ ہیں پھر عمر رضی ﷲ عنہ ۔ آپ کے صاحبزادے محمد بن حنفیہ رضی ﷲ عنہما نے کہا‘ پھر آپ ؟ تو آپ تو فرمایا‘ میں ایک عام مسلمان ہوں۔(تکمیل الایمان صفحہ نمبر ۱۶۶،چشتی)
سیدنا علی رضی ﷲ عنہ نے انہیں سیدنا ابوبکر و عمر رضی ﷲ عنہ سے افضل کہنے والوں کے لیے درّوں کی سزا تجویز فرمائی ہے‘ شعیہ حضرات کی اسماء الرجال کی معتبر کتاب رجال کشی کا حوالہ ملاحظہ فرمائیں ۔ سفیان ثوری‘ محمد بن سکندر رحہما اللہ علیہما سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت علی رضی ﷲ عنہ کو کوفہ کے منبر پربیٹھے ہوئے دیکھا کہ وہ فرمارہے تھے‘ اگر میرے پاس کوئی ایسا شخص آئے جو مجھے ابوبکر و عمر رضی ﷲ عنہما پر فضیلت دیتا ہوتو میں اس کو ضرور دْرّے لگائوں گا جو کہ بہتان لگانے والے کی سزا ہے ۔ (تکمیل الایمان: ۱۶۶)(سنن دارقطنی)(رجال کشی۳۳۸ مطبوعہ کربلا)
شیعوں کی اسی کتاب میں سیدنا علی رضی ﷲ عنہ کا فتویٰ موجود ہے کہ ’’حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی ﷲ عنہما کی محبت ایمان ہے اور ان کا بغض کفر ہے ۔‘‘ (رجال کشی صفحہ ۳۳۸)
امام احمد رضا خان قادری رحمة ﷲ علیہ فرماتے ہیں‘ محبت علی مرتضٰی رضی ﷲ عنہ کا یہی تقاضا ہے کہ محبوب کہ اطاعت کیجیے (یعنی سیدنا ابوبکر و عمر رضی ﷲ عنہما کو ساری امت سے افضل مانیے) اور خود کو غضب اور اسی کوڑوں کے استحقاق سے بچئے ۔ (اعتقادالاحباب صفحہ نمبر ۵۶،چشتی)
شیعہ حضرات یہ کہہ کر انکار کردیتے ہیں کہ ’’یہ ساری باتیں تقیہ کے طور پر کہی گئی تھیں (أَسْتَغْفِرُ اللّٰه) ۔ یعنی حضرت علی رضی ﷲ عنہ حضرات شیخین کی تعریف محض جان کے خوف اور دشمنوں کے ڈر سے کیا کرتے تھے ۔ اگر ایسا نہ کرتے تو ان کی جان کو خطرہ تھا مگر دلی طور پر حضرت علی رضی ﷲ عنہ حضرات شیخین کے خلاف تھے ۔ شعیوں کے اس بیان میں قطعاً کوئی صداقت نہیں ۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ حضرت علی رضی ﷲ عنہ جو شیرخدا تھے اور مرکز دائرہ حق تھے‘ اتنے بزدل‘ مغلوب اور عاجز ہو گئے تھے کہ وہ حق بیان کرنے سے قاصر رہے اور ساری زندگی خوف وعجز میں گزار دی‘ پھر اسدُﷲِ الغالب کا لقب کیا معنی رکھتا ہے ؟ ۔ (تکمیل الایمان صفحہ ۱۶۷)
❤1
سیدنا علی المرتضٰی حیدر کرار رضی ﷲ عنہ سے محبت کا دعویٰ کرنے والے آپ کے یہ ارشاد بھی دل کے کانوں سے سن لیں ۔ حضرت علی رضی ﷲ عنہ فرماتے ہیں‘ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے بعد تمام لوگوں میں ابوبکر و عمر رضی ﷲ عنہ سب سے بہتر ہیں۔ کسی مومن کے دل میں میری محبت اور ابوبکر و عمر رضی ﷲ عنہما کا بغض کبھی یکجا نہیں ہو سکتے ۔ (تاریخ الخلفاء: ۱۲۲‘ معجم الاوسط،چشتی)
صحابہ و اہلبیت رضی اللہ عنہم کی آپس میں محبت : بالخصوص چاروں خلفاء راشدین اور اہلبیت اس قدر مضبوط و مستحکم ، خاندانی و ایمانی رشتوں میں بندھے ہوئے تھے کہ اس تعلق کو کوئی بھی ایک دوسرے سے ختم نہیں کر سکا ۔ خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اور خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے سسر ہیں ۔ کیونکہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے نکاح میں آئی تھیں ۔ خلیفہ سوم سیدنا حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ اور خلیفہ چہارم حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے داماد ہیں ۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی دو صاحبزادیاں حضرت ام کلثوم اور حضرت رقیہ رضی اللہ عنہما یکے بعد دیگرے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے نکاح میں آئیں اور خاتون جنت سیدہ حضرت فاطمہ الزہرہ رضی اللہ عنہا حضرت علی رضی اللہ عنہ کے نکاح میں آئیں ۔ سبحان اللہ !! کیا عالی شان تقسیم ہے کہ دو خلفاء حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے سسر اور دو خلفاء داماد ہیں ۔ جب امُ المومنین حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے نکاح میں آئیں تو ان کے والد حضرت ابو سفیان رضی اللہ عنہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے سسر ہوئے ۔ اس طرح حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ (حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے بھائی اور حضرت ابو سفیان کے بیٹے) کے بہنوئی ہوئے ۔
حضرت ام کلثوم اور حضرت رقیہ رضی اللہ عنہما چونکہ حضرت فاطمہ الزہرہ رضی اللہ عنہا کی بہنیں تھیں لہٰذا حضرت امام حسن اور حضرت امام حسین رضی اللہ عنہما کی خالہ ہوئیں اور سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ خالو جان ہوئے ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ، حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا اور حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا چونکہ حضرت امام حسن اور حضرت امام حسین رضی اللہ عنہما کے نانا جان حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے نکاح میں آئیں تھیں تو یہ تینوں مقدس خواتین حضرت امام حسن اور حضرت امام حسین رضی اللہ عنہما کی نانیاں ہوئیں ۔ سبحان اللہ !! غور کیجئے صحابہ کرام اور اہلبیت رضی اللہ عنہم اجمعین کو اللہ تعالٰی نے کتنی گہری وابستگی عطا فرمائی ہے ۔ حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی ، حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی بیٹی اور پیغمبر اسلام کی حقیقی نواسی ہیں ۔
امیر المومنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی خواہش تھی کہ ان کی خاندانِ نبوت سے رشتہ داری قائم ہو جائے ، چنانچہ آپ نے اپنی اس خواہش کا اظہار حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کر دیا ۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم نے آپ کی اس درخواست کو قبول فرما لیا اور اپنی صاحبزادی حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا کا نکاح امیر المومنین حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے کر دیا۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے حضرت زید بن عمر رحمة اللہ علیہ ، حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا ہی کے شکم مبارک سے پیدا ہوئے ۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی عمر زیادہ تھی مگر اس کے باوجود حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنی کم عمر بیٹی کا ان سے نکاح کر دیا ۔ یہ واقعہ ان اسلام دشمن قوتوں کے لئے عبرت کا تعزیانہ ہے جو بظاہر اہلبیت رضی اللہ عنہم سے اپنی محبت کا ظاہری دم بھرتے ہیں اور جو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی شان اقدس میں گستاخی کرکے اپنی آخرت کو برباد کرتے ہیں ، اور نعوذ باللہ ان پر سب و شتم کر کے اپنے اعمال کو سیاہ اور داغدار کرتے ہیں ۔ کوئی ان ظالموں سے پوچھے اے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی گستاخی کرنے والو ! تمہارا حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں کیا خیال ہے۔ جنہوں نے بقول تمہارے ایک غاصب، ظالم اور مرتد سے اپنی کمسن صاحبزادی کا نکاح کر دیا ؟ ذرا سوچئے ! اگر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نعوذ باللہ ظالم ہوتے تو کیا حضرت علی رضی اللہ عنہ اپنی بیٹی انہیں دیتے ؟ ہرگز نہیں ۔
(مزید حصّہ دوم میں ان شاء اللہ) ۔
(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)
صحابہ و اہلبیت رضی اللہ عنہم کی آپس میں محبت : بالخصوص چاروں خلفاء راشدین اور اہلبیت اس قدر مضبوط و مستحکم ، خاندانی و ایمانی رشتوں میں بندھے ہوئے تھے کہ اس تعلق کو کوئی بھی ایک دوسرے سے ختم نہیں کر سکا ۔ خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اور خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے سسر ہیں ۔ کیونکہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے نکاح میں آئی تھیں ۔ خلیفہ سوم سیدنا حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ اور خلیفہ چہارم حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے داماد ہیں ۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی دو صاحبزادیاں حضرت ام کلثوم اور حضرت رقیہ رضی اللہ عنہما یکے بعد دیگرے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے نکاح میں آئیں اور خاتون جنت سیدہ حضرت فاطمہ الزہرہ رضی اللہ عنہا حضرت علی رضی اللہ عنہ کے نکاح میں آئیں ۔ سبحان اللہ !! کیا عالی شان تقسیم ہے کہ دو خلفاء حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے سسر اور دو خلفاء داماد ہیں ۔ جب امُ المومنین حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے نکاح میں آئیں تو ان کے والد حضرت ابو سفیان رضی اللہ عنہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے سسر ہوئے ۔ اس طرح حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ (حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے بھائی اور حضرت ابو سفیان کے بیٹے) کے بہنوئی ہوئے ۔
حضرت ام کلثوم اور حضرت رقیہ رضی اللہ عنہما چونکہ حضرت فاطمہ الزہرہ رضی اللہ عنہا کی بہنیں تھیں لہٰذا حضرت امام حسن اور حضرت امام حسین رضی اللہ عنہما کی خالہ ہوئیں اور سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ خالو جان ہوئے ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ، حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا اور حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا چونکہ حضرت امام حسن اور حضرت امام حسین رضی اللہ عنہما کے نانا جان حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے نکاح میں آئیں تھیں تو یہ تینوں مقدس خواتین حضرت امام حسن اور حضرت امام حسین رضی اللہ عنہما کی نانیاں ہوئیں ۔ سبحان اللہ !! غور کیجئے صحابہ کرام اور اہلبیت رضی اللہ عنہم اجمعین کو اللہ تعالٰی نے کتنی گہری وابستگی عطا فرمائی ہے ۔ حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی ، حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی بیٹی اور پیغمبر اسلام کی حقیقی نواسی ہیں ۔
امیر المومنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی خواہش تھی کہ ان کی خاندانِ نبوت سے رشتہ داری قائم ہو جائے ، چنانچہ آپ نے اپنی اس خواہش کا اظہار حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کر دیا ۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم نے آپ کی اس درخواست کو قبول فرما لیا اور اپنی صاحبزادی حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا کا نکاح امیر المومنین حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے کر دیا۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے حضرت زید بن عمر رحمة اللہ علیہ ، حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا ہی کے شکم مبارک سے پیدا ہوئے ۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی عمر زیادہ تھی مگر اس کے باوجود حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنی کم عمر بیٹی کا ان سے نکاح کر دیا ۔ یہ واقعہ ان اسلام دشمن قوتوں کے لئے عبرت کا تعزیانہ ہے جو بظاہر اہلبیت رضی اللہ عنہم سے اپنی محبت کا ظاہری دم بھرتے ہیں اور جو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی شان اقدس میں گستاخی کرکے اپنی آخرت کو برباد کرتے ہیں ، اور نعوذ باللہ ان پر سب و شتم کر کے اپنے اعمال کو سیاہ اور داغدار کرتے ہیں ۔ کوئی ان ظالموں سے پوچھے اے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی گستاخی کرنے والو ! تمہارا حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں کیا خیال ہے۔ جنہوں نے بقول تمہارے ایک غاصب، ظالم اور مرتد سے اپنی کمسن صاحبزادی کا نکاح کر دیا ؟ ذرا سوچئے ! اگر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نعوذ باللہ ظالم ہوتے تو کیا حضرت علی رضی اللہ عنہ اپنی بیٹی انہیں دیتے ؟ ہرگز نہیں ۔
(مزید حصّہ دوم میں ان شاء اللہ) ۔
(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)
❤1
https://t.me/islaamic_Knowledge/24778
صحابہ و اہلبیت رضی اللہ عنہم کی آپس میں محبت و رشتہ داریاں حصّہ اوّل
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/292959166273463/
✍ #ڈاکٹر_فیض_احمد_چشتی
صحابہ و اہلبیت رضی اللہ عنہم کی آپس میں محبت و رشتہ داریاں حصّہ اوّل
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/292959166273463/
✍ #ڈاکٹر_فیض_احمد_چشتی
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
صحابہ و اہلبیت رضی اللہ عنہم کی آپس میں محبت و رشتہ داریاں حصہ دوم
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/292976576271722/
محترم قارئینِ کرام : ابتدائے اسلام ہی سے اسلام دشمن قوتوں یہودی ابنِ سبا کی نسل سباٸیوں اور خارجیوں و ناصبیوں نے مسلمانوں کے ذہنوں کو خراب کرنے کےلیے صحابہ کرام اور اہلبیت رضی اللہ عنہم کے مابین اختلاف ابھارا تاکہ بعد میں آنے والے مسلمانوں کو انتشار کا شکار کر دیا جائے ۔ ان کی یہ کوشش ہوتی کہ جماعتِ صحابہ رضی اللہ عنہم کی کوئی ایسی بات پکڑی جائے جسے اہلبیت رضی اللہ عنہم کے خلاف ابھارا جا سکے اور اس طرح اہلبیت رضی اللہ عنہم کی محبت ظاہر کر کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی توہین کی جا سکے ۔ آج بھی یہود و نصارٰی کے آلہ کار ابنِ سبا یہودی کی نسلیں اس ناپاک سازش میں مصروف ہیں اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کی شان میں گستاخی کر کے اپنے بغض و حسد کی آگ کو ٹھنڈا کر رہے ہیں ۔ حالانکہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین اور اہلبیت رضوان اللہ علیھم اجمعین میں کسی نوعیت کا کوئی ذاتی اختلاف نہ تھا ۔ وہ تو ایک دوسرے سے رشتے داریاں کرتے ، گویا قدرت نے انہیں ایک لڑی میں پرو دیا تھا ۔ اللہ پاک ہمیں سب صحابہ کرام اور تمام اہلبیت رضی اللہ عنہم سے سچی اور حقیقی محبت نصیب فرمائے آمین ۔
امام عبدالرءوف مُناوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : کوئی بھی امام یا مجتہد ایسا نہیں گزرا جس نے اہلِ بیت کی محبت سے بڑا حصّہ اور نُمایاں فخر نہ پایا ہو ۔ (فیض القدیر،ج 1،ص256)
امام یوسف بن اسماعیل نبہانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : جب اُمّت کے ان پیشواؤں کا یہ طریقہ ہے تو کسی بھی مؤمن کو لائق نہیں کہ ان سے پیچھے رہے ۔ (الشرف المؤبد لآل محمد، صفحہ نمبر 94،چشتی)
حضرت صدر الافاضل سد محمد نعیم الدین مراد آبادی رحمة علیہ فرماتے ہیں : نبی کریم صلَّی اللہ علیہ و آلہ وسلَّم کی محبّت اور آپ کے اَقارِب کی مَحبّت دِین کے فرائض میں سے ہے ۔ (تفسیر خزائنُ العرفان، پ25،الشوریٰ، تحت الآیۃ:23، ص894)
صَحابَۂ کرام رضی اللہ عنہم جو خود بھی بڑی عظمت و شان کے مالِک تھے ، وہ عظیمُ الشّان اہلِ بیتِ اطہار رضی اللہ عنہم سے محبت رکھتے تھے اور اپنے قول و عمل سے اس کا کس طرح اِظْہار کیا فرمایا کرتے تھے :
صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم حضرت سیّدُنا عباس رضی اللہ عنہ کی تعظیم و توقیر بجا لاتے ، آپ کے لئے کھڑے ہوجاتے ، آپ کے ہاتھ پاؤں کا بوسہ لیتے، مُشاوَرت کرتے اور آپ کی رائے کو ترجیح دیتے تھے۔(تہذیب الاسماء،ج 1،ص244، تاریخ ابنِ عساکر،ج 26،ص372)
حضرت عباس رضی اللہ عنہ بارگاہِ رسالت میں تشریف لاتے تو حضرت ابوبکر صِدّیق رضی اللہ عنہ بطورِ اِحترام آپ کے لئے اپنی جگہ چھوڑ کر کھڑے ہوجاتے تھے ۔ (معجمِ کبیر،ج 10، صفحہ 285 ، حدیث:10675)
حضرت عباس رضی اللہ عنہ کہیں پیدل جا رہے ہوتے اور حضرت عمر فاروق اور حضرت عثمان ذُوالنُّورَین رضی اللہ عنہما حالتِ سواری میں حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرتے تو بطورِ تعظیم سواری سے نیچے اُتر جاتے یہاں تک کہ حضرت عباس رضی اللہ عنہ وہاں سے گزر جاتے ۔ (الاستیعاب،ج 2،ص360)
حضرت سیّدُنا ابوبکر صِدّیق رضی اللہ عنہ کے سامنے اہلِ بیت کا ذِکر ہوا تو آپ نے فرمایا : اُس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قُدْرت میں میری جان ہے ! رسولِ پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے قَرابَت داروں کے ساتھ حُسنِ سُلوک کرنا مجھے اپنے قَرابَت داروں سے صِلۂ رحمی کرنے سے زیادہ محبوب و پسندیدہ ہے ۔ (صحیح بخاری ، جلد نمبر 2 صفحہ نمبر 438 حدیث نمبر 3712)
ایک بار حضرت صِدّیقِ اکبر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : رسولِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے احترام کے پیشِ نظر اہلِ بیت کا احترام کرو ۔ (صحیح بخاری جلد 2 حدیث 3713،چشتی)
حضرت عُقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابوبکر صِدّیق رضی اللہ عنہ نے ہمیں عَصْر کی نَماز پڑھائی ، پھر آپ اور حضرت علیُّ الْمُرتضیٰ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوکر چل دئیے ، راستے میں حضرت حَسن کو بچّوں کے ساتھ کھیلتے ہوئے دیکھا تو حضرت سیّدُنا صِدّیقِ اکبر رضی اللہ عنہ نے انہیں اپنے کندھے پر اُٹھا لیا اور فرمایا : میرے ماں باپ قربان! حُضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے ہم شکل ہو، حضرت علی کے نہیں۔ اس وقت حضرت علیُّ الْمُرتضیٰ رضی اللہ عنہ مُسکرا رہے تھے ۔ (سنن الکبریٰ للنسائی،ج 5،ص48، حدیث نمبر 8161،چشتی)
ایک بار حضرت عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ حضرت سیّدَتُنا فاطمۃُ الزَّہراء رضی اللہ عنہا کے ہاں گئے تو فرمایا : اے فاطمہ ! اللہ کی قسم! آپ سے بڑھ کر میں نے کسی کو نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا محبوب نہیں دیکھا اور خدا کی قسم ! آپ کے والدِ گرامی کے بعد لوگوں میں سے کوئی بھی مجھے آپ سے بڑھ کر عزیز و پیارا نہیں ۔ (مستدرک،ج 4،ص139، حدیث:4789)
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/292976576271722/
محترم قارئینِ کرام : ابتدائے اسلام ہی سے اسلام دشمن قوتوں یہودی ابنِ سبا کی نسل سباٸیوں اور خارجیوں و ناصبیوں نے مسلمانوں کے ذہنوں کو خراب کرنے کےلیے صحابہ کرام اور اہلبیت رضی اللہ عنہم کے مابین اختلاف ابھارا تاکہ بعد میں آنے والے مسلمانوں کو انتشار کا شکار کر دیا جائے ۔ ان کی یہ کوشش ہوتی کہ جماعتِ صحابہ رضی اللہ عنہم کی کوئی ایسی بات پکڑی جائے جسے اہلبیت رضی اللہ عنہم کے خلاف ابھارا جا سکے اور اس طرح اہلبیت رضی اللہ عنہم کی محبت ظاہر کر کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی توہین کی جا سکے ۔ آج بھی یہود و نصارٰی کے آلہ کار ابنِ سبا یہودی کی نسلیں اس ناپاک سازش میں مصروف ہیں اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کی شان میں گستاخی کر کے اپنے بغض و حسد کی آگ کو ٹھنڈا کر رہے ہیں ۔ حالانکہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین اور اہلبیت رضوان اللہ علیھم اجمعین میں کسی نوعیت کا کوئی ذاتی اختلاف نہ تھا ۔ وہ تو ایک دوسرے سے رشتے داریاں کرتے ، گویا قدرت نے انہیں ایک لڑی میں پرو دیا تھا ۔ اللہ پاک ہمیں سب صحابہ کرام اور تمام اہلبیت رضی اللہ عنہم سے سچی اور حقیقی محبت نصیب فرمائے آمین ۔
امام عبدالرءوف مُناوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : کوئی بھی امام یا مجتہد ایسا نہیں گزرا جس نے اہلِ بیت کی محبت سے بڑا حصّہ اور نُمایاں فخر نہ پایا ہو ۔ (فیض القدیر،ج 1،ص256)
امام یوسف بن اسماعیل نبہانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : جب اُمّت کے ان پیشواؤں کا یہ طریقہ ہے تو کسی بھی مؤمن کو لائق نہیں کہ ان سے پیچھے رہے ۔ (الشرف المؤبد لآل محمد، صفحہ نمبر 94،چشتی)
حضرت صدر الافاضل سد محمد نعیم الدین مراد آبادی رحمة علیہ فرماتے ہیں : نبی کریم صلَّی اللہ علیہ و آلہ وسلَّم کی محبّت اور آپ کے اَقارِب کی مَحبّت دِین کے فرائض میں سے ہے ۔ (تفسیر خزائنُ العرفان، پ25،الشوریٰ، تحت الآیۃ:23، ص894)
صَحابَۂ کرام رضی اللہ عنہم جو خود بھی بڑی عظمت و شان کے مالِک تھے ، وہ عظیمُ الشّان اہلِ بیتِ اطہار رضی اللہ عنہم سے محبت رکھتے تھے اور اپنے قول و عمل سے اس کا کس طرح اِظْہار کیا فرمایا کرتے تھے :
صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم حضرت سیّدُنا عباس رضی اللہ عنہ کی تعظیم و توقیر بجا لاتے ، آپ کے لئے کھڑے ہوجاتے ، آپ کے ہاتھ پاؤں کا بوسہ لیتے، مُشاوَرت کرتے اور آپ کی رائے کو ترجیح دیتے تھے۔(تہذیب الاسماء،ج 1،ص244، تاریخ ابنِ عساکر،ج 26،ص372)
حضرت عباس رضی اللہ عنہ بارگاہِ رسالت میں تشریف لاتے تو حضرت ابوبکر صِدّیق رضی اللہ عنہ بطورِ اِحترام آپ کے لئے اپنی جگہ چھوڑ کر کھڑے ہوجاتے تھے ۔ (معجمِ کبیر،ج 10، صفحہ 285 ، حدیث:10675)
حضرت عباس رضی اللہ عنہ کہیں پیدل جا رہے ہوتے اور حضرت عمر فاروق اور حضرت عثمان ذُوالنُّورَین رضی اللہ عنہما حالتِ سواری میں حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرتے تو بطورِ تعظیم سواری سے نیچے اُتر جاتے یہاں تک کہ حضرت عباس رضی اللہ عنہ وہاں سے گزر جاتے ۔ (الاستیعاب،ج 2،ص360)
حضرت سیّدُنا ابوبکر صِدّیق رضی اللہ عنہ کے سامنے اہلِ بیت کا ذِکر ہوا تو آپ نے فرمایا : اُس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قُدْرت میں میری جان ہے ! رسولِ پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے قَرابَت داروں کے ساتھ حُسنِ سُلوک کرنا مجھے اپنے قَرابَت داروں سے صِلۂ رحمی کرنے سے زیادہ محبوب و پسندیدہ ہے ۔ (صحیح بخاری ، جلد نمبر 2 صفحہ نمبر 438 حدیث نمبر 3712)
ایک بار حضرت صِدّیقِ اکبر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : رسولِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے احترام کے پیشِ نظر اہلِ بیت کا احترام کرو ۔ (صحیح بخاری جلد 2 حدیث 3713،چشتی)
حضرت عُقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابوبکر صِدّیق رضی اللہ عنہ نے ہمیں عَصْر کی نَماز پڑھائی ، پھر آپ اور حضرت علیُّ الْمُرتضیٰ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوکر چل دئیے ، راستے میں حضرت حَسن کو بچّوں کے ساتھ کھیلتے ہوئے دیکھا تو حضرت سیّدُنا صِدّیقِ اکبر رضی اللہ عنہ نے انہیں اپنے کندھے پر اُٹھا لیا اور فرمایا : میرے ماں باپ قربان! حُضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے ہم شکل ہو، حضرت علی کے نہیں۔ اس وقت حضرت علیُّ الْمُرتضیٰ رضی اللہ عنہ مُسکرا رہے تھے ۔ (سنن الکبریٰ للنسائی،ج 5،ص48، حدیث نمبر 8161،چشتی)
ایک بار حضرت عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ حضرت سیّدَتُنا فاطمۃُ الزَّہراء رضی اللہ عنہا کے ہاں گئے تو فرمایا : اے فاطمہ ! اللہ کی قسم! آپ سے بڑھ کر میں نے کسی کو نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا محبوب نہیں دیکھا اور خدا کی قسم ! آپ کے والدِ گرامی کے بعد لوگوں میں سے کوئی بھی مجھے آپ سے بڑھ کر عزیز و پیارا نہیں ۔ (مستدرک،ج 4،ص139، حدیث:4789)
❤1
ایک موقع پر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے حضراتِ صَحابَۂ کرام رضی اللہ عنہم کے بیٹوں کو کپڑے عطا فرمائے مگر ان میں کوئی ایسا لباس نہیں تھا جو حضرت امام حسن اور امام حُسین رضی اللہ عنہما کی شان کے لائق ہو تو آپ نے ان کےلیے یمن سے خُصوصی لباس منگوا کر پہنائے ، پھر فرمایا : اب میرا دل خوش ہوا ہے ۔ (ریاض النضرۃ،ج1،ص341)
یوں ہی جب حضرت فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ نے لوگوں کے وظائف مقرر فرمائے تو حضراتِ حَسَنَینِ کَرِیْمَین رضی اللہ عنہما کےلیے نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی قَرابَت داری کی وجہ سے اُن کے والد حضرت علیُّ الْمُرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے برابر حصّہ مقرر کیا، دونوں کے لئے پانچ پانچ ہزار دِرہم وظیفہ رکھا ۔(سیر اعلام النبلاء ج3،ص259،چشتی)
حضرت امیر مُعاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : حضرت علیُّ الْمُرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے چند نُقُوش بھی آلِ ابوسفیان (یعنی ہم لوگوں) سے بہتر ہیں ۔ (الناھیۃ صفحہ نبر 59)
حضرت امیر مُعاویہ رضی اللہ عنہ نے حضرت علیُّ الْمُرتضیٰ اور اہلِ بیت رضی اللہ عنہم کے زبردست فضائل بیان فرمائے ۔ (تاریخ ابن عساکر،ج 42،ص415)
حضرت امیر مُعاویہ رضی اللہ عنہ نے حضرت علیُّ الْمُرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے فیصلے کو نافِذ بھی کیا اور علمی مسئلے میں آپ سے رُجوع بھی کیا ۔ (سنن الکبریٰ للبیہقی،ج10،ص205، مؤطا امام مالک،ج2،ص259)
ایک موقع پر حضرت امیر مُعاویہ رضی اللہ عنہ نے حضرت ضَرّار صَدائی رضی اللہ عنہ سے تقاضا کرکے حضرت علیُّ الْمُرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے فضائل سنے اور روتے ہوئے دُعا کی : اللہ پاک ابوالحسن پر رحم فرمائے ۔ (الاستیعاب جلد 3،صفحہ 209،چشتی)
یوں ہی ایک بار حضرت امیر مُعاویہ نے حضرت امام حسن بن علی رضی اللہ عنہم کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا : یہ آبا و اَجْداد ، چچا و پھوپھی اور ماموں و خالہ کے اعتبار سے لوگوں میں سب سے زیادہ معزز ہیں ۔ (العقد الفرید،ج 5،ص344)
حضرت امیر مُعاویہ رضی اللہ عنہ ہم شکلِ مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہ وسلَّم ہونے کی وجہ سے حضرت امام حَسَن کا احترام کرتے تھے۔ (مراٰۃ المناجیح،ج 8،ص461)
ایک بار حضرت امیر مُعاویہ رضی اللہ عنہ نے امام عالی مقام حضرت امام حُسین رضی اللہ عنہ کی علمی مجلس کی تعریف کی اور اُس میں شرکت کی ترغیب دلائی ۔ (تاریخ ابن عساکر،ج14،ص179)
حضرت امیر مُعاویہ رضی اللہ عنہ نے سالانہ وظائف کے علاوہ مختلف مواقع پر حضراتِ حَسَنَینِ کَرِیْمَین رضی اللہ عنہما کی خدمت میں بیش بہا نذرانے پیش کئے ، یہ بھی محبت کا ایک انداز ہے ، آپ نے کبھی پانچ ہزار دینار ، کبھی تین لاکھ دِرہم تو کبھی چار لاکھ درہم حتی کہ ایک بار 40 کروڑ روپے تک کا نذرانہ پیش کیا ۔ (سیراعلام النبلاء جلد 4 صفحہ 309)(طبقات ابن سعد جلد 6 صفحہ 409)(معجم الصحابہ،ج 4،ص370)(کشف المحجوب صفحہ 77)(مراٰۃ المناجیح،ج 8،ص460)
حضرت سیّدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : آلِ رسول رضی اللہ عنہم کی ایک دن کی محبت ایک سال کی عبادت سے بہتر ہے ۔ (الشرف المؤبد لآل محمد، ص92) ۔ نیز آپ فرمایا کرتے تھے : اہلِ مدینہ میں فیصلوں اور وِراثت کا سب سے زیادہ علم رکھنے والی شخصیت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی ہے ۔ (تاریخ الخلفاء،ص135)
حضرت سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:میں جب بھی حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کو دیکھتا ہوں تو فَرطِ مَحبّت میں میری آنکھوں سے آنسو جاری ہوجاتے ہیں ۔ (مسند امام احمد،ج 3،ص632)
ابومہزم رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں : ہم ایک جنازے میں تھے تو کیا دیکھا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اپنے کپڑوں سے حضرت امام حُسین رضی اللہ عنہ کے پاؤں سے مٹی صاف کررہے تھے ۔ (سیراعلام النبلاء جلد 4 صفحہ 407)
عیزار بن حریث رحمۃ اللہ علیہ کا بیان ہے کہ حضرت عَمْرو بن عاص رضی اللہ عنہ خانۂ کعبہ کے سائے میں تشریف فرما تھے ، اتنے میں آپ کی نظر حضرت امام حُسین رضی اللہ عنہ پر پڑی تو فرمایا : اس وقت آسمان والوں کے نزدیک زمین والوں میں سب سے زیادہ محبوب شخص یہی ہیں ۔ (تاریخ ابن عساکر جلد نمبر 14 صفحہ نمبر 179،چشتی)
محترم قارٸینِ کرام : آپ نے بیان کردہ روایات میں پڑھا کہ حضراتِ صَحابَۂ کرام رضی اللہ عنہم کس کس انداز سے اہلِ بیتِ اَطہار رضی اللہ عنہم سے اپنی محبت کا اظہار کرتے ، انہیں اپنی آل سے زیادہ محبوب رکھتے ، ان کی ضَروریات کا خیال رکھتے ، ان کی بارگاہوں میں عمدہ و اعلیٰ لباس پیش کرتے ، بیش بہا نذرانے اُن کی خدمت میں حاضر کرتے ، اُن کو دیکھ کر یا اُن کا ذِکر پاک سُن کر بے اختیار رو پڑتے ، ان کی تعریف و توصیف کرتے اور جاننے والوں سے اُن کی شان و عظمت کا بیان سنتے ۔ لہٰذا ہمیں بھی چاہئے کہ ساداتِ کرام اور آلِ رسول کا بے حَدادب و احترام کریں ، ان کی ضَروریات کا خیال رکھیں ، ان کا ذِکرِخیر کرتے رہا کریں اور اپنی اولاد کو اہلِ بیت و صَحابَۂ کرام رضی اللہ عنہم کی محبت و احترام سکھائیں ۔
(مزید حصّہ سوم میں ان شاء اللہ) ۔
یوں ہی جب حضرت فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ نے لوگوں کے وظائف مقرر فرمائے تو حضراتِ حَسَنَینِ کَرِیْمَین رضی اللہ عنہما کےلیے نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی قَرابَت داری کی وجہ سے اُن کے والد حضرت علیُّ الْمُرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے برابر حصّہ مقرر کیا، دونوں کے لئے پانچ پانچ ہزار دِرہم وظیفہ رکھا ۔(سیر اعلام النبلاء ج3،ص259،چشتی)
حضرت امیر مُعاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : حضرت علیُّ الْمُرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے چند نُقُوش بھی آلِ ابوسفیان (یعنی ہم لوگوں) سے بہتر ہیں ۔ (الناھیۃ صفحہ نبر 59)
حضرت امیر مُعاویہ رضی اللہ عنہ نے حضرت علیُّ الْمُرتضیٰ اور اہلِ بیت رضی اللہ عنہم کے زبردست فضائل بیان فرمائے ۔ (تاریخ ابن عساکر،ج 42،ص415)
حضرت امیر مُعاویہ رضی اللہ عنہ نے حضرت علیُّ الْمُرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے فیصلے کو نافِذ بھی کیا اور علمی مسئلے میں آپ سے رُجوع بھی کیا ۔ (سنن الکبریٰ للبیہقی،ج10،ص205، مؤطا امام مالک،ج2،ص259)
ایک موقع پر حضرت امیر مُعاویہ رضی اللہ عنہ نے حضرت ضَرّار صَدائی رضی اللہ عنہ سے تقاضا کرکے حضرت علیُّ الْمُرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے فضائل سنے اور روتے ہوئے دُعا کی : اللہ پاک ابوالحسن پر رحم فرمائے ۔ (الاستیعاب جلد 3،صفحہ 209،چشتی)
یوں ہی ایک بار حضرت امیر مُعاویہ نے حضرت امام حسن بن علی رضی اللہ عنہم کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا : یہ آبا و اَجْداد ، چچا و پھوپھی اور ماموں و خالہ کے اعتبار سے لوگوں میں سب سے زیادہ معزز ہیں ۔ (العقد الفرید،ج 5،ص344)
حضرت امیر مُعاویہ رضی اللہ عنہ ہم شکلِ مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہ وسلَّم ہونے کی وجہ سے حضرت امام حَسَن کا احترام کرتے تھے۔ (مراٰۃ المناجیح،ج 8،ص461)
ایک بار حضرت امیر مُعاویہ رضی اللہ عنہ نے امام عالی مقام حضرت امام حُسین رضی اللہ عنہ کی علمی مجلس کی تعریف کی اور اُس میں شرکت کی ترغیب دلائی ۔ (تاریخ ابن عساکر،ج14،ص179)
حضرت امیر مُعاویہ رضی اللہ عنہ نے سالانہ وظائف کے علاوہ مختلف مواقع پر حضراتِ حَسَنَینِ کَرِیْمَین رضی اللہ عنہما کی خدمت میں بیش بہا نذرانے پیش کئے ، یہ بھی محبت کا ایک انداز ہے ، آپ نے کبھی پانچ ہزار دینار ، کبھی تین لاکھ دِرہم تو کبھی چار لاکھ درہم حتی کہ ایک بار 40 کروڑ روپے تک کا نذرانہ پیش کیا ۔ (سیراعلام النبلاء جلد 4 صفحہ 309)(طبقات ابن سعد جلد 6 صفحہ 409)(معجم الصحابہ،ج 4،ص370)(کشف المحجوب صفحہ 77)(مراٰۃ المناجیح،ج 8،ص460)
حضرت سیّدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : آلِ رسول رضی اللہ عنہم کی ایک دن کی محبت ایک سال کی عبادت سے بہتر ہے ۔ (الشرف المؤبد لآل محمد، ص92) ۔ نیز آپ فرمایا کرتے تھے : اہلِ مدینہ میں فیصلوں اور وِراثت کا سب سے زیادہ علم رکھنے والی شخصیت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی ہے ۔ (تاریخ الخلفاء،ص135)
حضرت سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:میں جب بھی حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کو دیکھتا ہوں تو فَرطِ مَحبّت میں میری آنکھوں سے آنسو جاری ہوجاتے ہیں ۔ (مسند امام احمد،ج 3،ص632)
ابومہزم رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں : ہم ایک جنازے میں تھے تو کیا دیکھا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اپنے کپڑوں سے حضرت امام حُسین رضی اللہ عنہ کے پاؤں سے مٹی صاف کررہے تھے ۔ (سیراعلام النبلاء جلد 4 صفحہ 407)
عیزار بن حریث رحمۃ اللہ علیہ کا بیان ہے کہ حضرت عَمْرو بن عاص رضی اللہ عنہ خانۂ کعبہ کے سائے میں تشریف فرما تھے ، اتنے میں آپ کی نظر حضرت امام حُسین رضی اللہ عنہ پر پڑی تو فرمایا : اس وقت آسمان والوں کے نزدیک زمین والوں میں سب سے زیادہ محبوب شخص یہی ہیں ۔ (تاریخ ابن عساکر جلد نمبر 14 صفحہ نمبر 179،چشتی)
محترم قارٸینِ کرام : آپ نے بیان کردہ روایات میں پڑھا کہ حضراتِ صَحابَۂ کرام رضی اللہ عنہم کس کس انداز سے اہلِ بیتِ اَطہار رضی اللہ عنہم سے اپنی محبت کا اظہار کرتے ، انہیں اپنی آل سے زیادہ محبوب رکھتے ، ان کی ضَروریات کا خیال رکھتے ، ان کی بارگاہوں میں عمدہ و اعلیٰ لباس پیش کرتے ، بیش بہا نذرانے اُن کی خدمت میں حاضر کرتے ، اُن کو دیکھ کر یا اُن کا ذِکر پاک سُن کر بے اختیار رو پڑتے ، ان کی تعریف و توصیف کرتے اور جاننے والوں سے اُن کی شان و عظمت کا بیان سنتے ۔ لہٰذا ہمیں بھی چاہئے کہ ساداتِ کرام اور آلِ رسول کا بے حَدادب و احترام کریں ، ان کی ضَروریات کا خیال رکھیں ، ان کا ذِکرِخیر کرتے رہا کریں اور اپنی اولاد کو اہلِ بیت و صَحابَۂ کرام رضی اللہ عنہم کی محبت و احترام سکھائیں ۔
(مزید حصّہ سوم میں ان شاء اللہ) ۔
❤1
https://t.me/islaamic_Knowledge/24788
صحابہ و اہلبیت رضی اللہ عنہم کی آپس میں محبت و رشتہ داریاں حصہ دوم
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/292976576271722/
✍ #ڈاکٹر_فیض_احمد_چشتی
صحابہ و اہلبیت رضی اللہ عنہم کی آپس میں محبت و رشتہ داریاں حصہ دوم
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/292976576271722/
✍ #ڈاکٹر_فیض_احمد_چشتی
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
صحابہ و اہلبیت رضی اللہ عنہم کی آپس میں محبت و رشتہ داریاں حصہ سوم
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/292981852937861/
محترم قارئینِ کرام : حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ اور حضرت سیدنا علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ کے گھرانے کی آپس میں رشتہ داریاں کی تفصیل دیکھیں یہ سب اہل سنت اور شیعہ دونوں کی معتبر کتابوں میں موجود ہے ۔ پہلی رشتہ داری تو یہ ہے کہ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے سسر ہیں وفات سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم غم زدہ تھے ۔ تو سیدنا صدیق اکبر نے اپنی خود بارگاہ رسالت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم میں اس رشتہ کی پیش کش کی آپ کی اس بیٹی کا نام محبوبہ محبوبِ خدا سیدہ امی عائشہ صدیقہ بنت صدیق اکبر ہے ۔ جو ام المومنین ہیں ۔ رضی اللہ عنہم ۔ (تہذیب جلد نمبر 4 صحفہ نمبر 298ابن حجر عسقلانی،چشتی)(تاریخ ائمہ صحفہ نمبر 147 علی حیدر نقوی)
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو ہز اروں احادیث زبانی یاد تھیں ان کا مقام یہ ہے کہ جلیل القدر صحابہ کرام کو مسئلہ درپیش ہوتا تووہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے عورتوں کے مسائل ہوں یا فقیہی مسائل آپ ان کا حل اپنی دانش اور فہم و فراست سے حل کر دیتی ام المومنین سید ہ عائشہ صدیقہ اہلبیت کی شان میں درجنوں احادیث کی اکلوتی راوی ہیں ۔ رضی اللہ عنہم ۔
دوسرا رشتہ سیدنا صدیق اکبر امام جعفر صادق کے نانا اور دادا لگتے ہیں ، آپ کا شجرہ نسب والد اور والدہ کی طرف سے سیدنا جعفر بن ام فروابنت قاسم بن محمد بن ابی بکرالصدیق (والدہ کی طرف سے) ۔ سیدنا جعفر بن محمد الباقر بن علی بن زین العابدین بن حسین بن علی المرتضٰی (والد کی طرف سے) یوں امام جعفر الصادق والد کی جانب سے علوی و فاطمی اور والدہ کی طرف سے صدیقی ہیں ۔ رضی اللہ عنہم ۔ (احقاق الحق صحفہ7)(شرح العقائد صحفہ 195،چشتی)(عمدةالطالب آ ل ابی طالب صحفہ 195)(اصول کافی جلد نمبر 586 شیعہ کی معروف کتاب ہے)
تیسرارشتہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم اور سیدنا صدیق اکبر دونوں ہم زلف ہیں وہ اس طرح کے زوجہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم سیدہ میمونا بنت حارث اور زوجہ صدیق اکبر سیدہ اسماء بنت عمیس والدہ کی طرف سے دونوں بہنیں ہیں ۔ رضی اللہ عنہم ۔ (طبقات الکبری جلد 8 صحفہ نمبر 104)
چوتھا رشتہ امام حسین سیدنا صدیق اکبر کے بیٹے محمد بن ابی بکر کے ہم زلف تھے اور امام زین العابدین کے خالہ زاد بھائی تھے ۔ رضی اللہ عنہم ۔ (فتیی الاحال جلد نمبر2صحفہ نمبر 4)(مناقب آل ابی طالب جلد نمبر 4صحفہ نمبر 49)(اصول کافی جلد1صحفہ نمبر 586)(کشف الغمہ جلد نمبر 2 نمبر 84) ۔ یہ تمام حوالے سنی شیعہ مکاتب فکر کی معتبر کتب میں بھی موجو د ہیں ۔
پانچواں اور چھٹا رشتہ : سیدنا صدیق اکبر کے بیٹے عبدالرحمان ابی بکر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے ہم زلف تھے اور امام حسین عبدالرحمن بن ابی بکر کے داماد تھے ۔ عبدالرحمان کی زوجہ قرین الصغری زوجہِ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم ام سلمٰی کی ماں جائی بہن تھیں اس طرح حضرت ام سلمٰی کی ماں جائی بہن تھیں اس طرح حضرت ام سلمٰی عبدالرحمان بن ابی بکر کی سالی ہوئی ، حفصہ بن عبدالرحمان جن کا نکاح منذر بن زبیر سے ہوا اور اس کے بعد اپ کا نکاح امام حسین بن علی بن ابی طالب سے ہوا ۔ رضی اللہ عنہم ۔ (طبقات ابن سعد جلد نمبر 8 صحفہ نمبر 468، 469،چشتی)
ساتواں رشتہ : امام حسن کے عقد میں عبدالرحمان بن ابی بکر کی دو صاحبزادیاں حفصہ بن عبدالرحمان او ر ہندہ بنت عبدالرحمان یکے بعد دیگرے آئیں ۔ رضی اللہ عنہم ۔ (شیعہ کتب ۔ ابن حدید شرح نہج البلاغہ جلد نمبر 4 صحفہ نمبر 5)(بحار الانوار جلد نمبر 4 صفحہ نمبر 8،چشتی)
اس رشتہ میں درج ذیل رشتے ثابت ہوئے ۔ 1۔عبدالرحمان بن ابی بکر ہم زلف رسول بنے ۔ 2۔ سیدہ عائشہ حفصہ کی پھوپھی بنی ،۔
3۔ سیدنا ام سلمیٰ ان کی خالہ بنی ۔ رضی اللہ عنہم ۔
آٹھوا ں رشتہ : امام حسن کی بیٹی (ام الحسن) سے صد یق اکبر کے نواسے (عبداللہ بن زبیر) کا عقد ہو ا ۔ رضی اللہ عنہم ۔ (شیعہ کتاب ۔ ناسح التواریخ جلد نمبر 2 صحفہ نمبر 271) ۔ اس کے علاوہ خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق کی ایک صاحبزادی بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے عقد میں تھیں ۔ اس طرح وہ بھی ام المومنین کی حیثیت سے معتبر تھیں ، اس مکمل تفصیل سے معلوم ہوا کے سیدنا صدیق اکبر اور سیدنا علی المر تضٰی باہمی الفت و محبت کے پیکر تھے ان میں کسی قسم کا کوئی اختلاف نہیں تھا ۔ اور آل نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم بھی عظمت صدیق اکبر کو تسلیم کرتی تھی ۔ اور آل صدیق اکبر بھی اہل بیت پر نچھاور ہوتی تھی ، یہی وجہ ہے کہ شان و خصائل صدیق اکبر بزبان علی المرتضیٰ میں بکثرت روایت ہیں اور مزید یہ ان کی آپس میں رشتہ داریاں بھی قائم ہوتی رہی ہیں ، خلفائے راشدین کی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے گھرانے میں رشتہ داریوں سے یہ بھی
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/292981852937861/
محترم قارئینِ کرام : حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ اور حضرت سیدنا علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ کے گھرانے کی آپس میں رشتہ داریاں کی تفصیل دیکھیں یہ سب اہل سنت اور شیعہ دونوں کی معتبر کتابوں میں موجود ہے ۔ پہلی رشتہ داری تو یہ ہے کہ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے سسر ہیں وفات سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم غم زدہ تھے ۔ تو سیدنا صدیق اکبر نے اپنی خود بارگاہ رسالت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم میں اس رشتہ کی پیش کش کی آپ کی اس بیٹی کا نام محبوبہ محبوبِ خدا سیدہ امی عائشہ صدیقہ بنت صدیق اکبر ہے ۔ جو ام المومنین ہیں ۔ رضی اللہ عنہم ۔ (تہذیب جلد نمبر 4 صحفہ نمبر 298ابن حجر عسقلانی،چشتی)(تاریخ ائمہ صحفہ نمبر 147 علی حیدر نقوی)
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو ہز اروں احادیث زبانی یاد تھیں ان کا مقام یہ ہے کہ جلیل القدر صحابہ کرام کو مسئلہ درپیش ہوتا تووہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے عورتوں کے مسائل ہوں یا فقیہی مسائل آپ ان کا حل اپنی دانش اور فہم و فراست سے حل کر دیتی ام المومنین سید ہ عائشہ صدیقہ اہلبیت کی شان میں درجنوں احادیث کی اکلوتی راوی ہیں ۔ رضی اللہ عنہم ۔
دوسرا رشتہ سیدنا صدیق اکبر امام جعفر صادق کے نانا اور دادا لگتے ہیں ، آپ کا شجرہ نسب والد اور والدہ کی طرف سے سیدنا جعفر بن ام فروابنت قاسم بن محمد بن ابی بکرالصدیق (والدہ کی طرف سے) ۔ سیدنا جعفر بن محمد الباقر بن علی بن زین العابدین بن حسین بن علی المرتضٰی (والد کی طرف سے) یوں امام جعفر الصادق والد کی جانب سے علوی و فاطمی اور والدہ کی طرف سے صدیقی ہیں ۔ رضی اللہ عنہم ۔ (احقاق الحق صحفہ7)(شرح العقائد صحفہ 195،چشتی)(عمدةالطالب آ ل ابی طالب صحفہ 195)(اصول کافی جلد نمبر 586 شیعہ کی معروف کتاب ہے)
تیسرارشتہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم اور سیدنا صدیق اکبر دونوں ہم زلف ہیں وہ اس طرح کے زوجہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم سیدہ میمونا بنت حارث اور زوجہ صدیق اکبر سیدہ اسماء بنت عمیس والدہ کی طرف سے دونوں بہنیں ہیں ۔ رضی اللہ عنہم ۔ (طبقات الکبری جلد 8 صحفہ نمبر 104)
چوتھا رشتہ امام حسین سیدنا صدیق اکبر کے بیٹے محمد بن ابی بکر کے ہم زلف تھے اور امام زین العابدین کے خالہ زاد بھائی تھے ۔ رضی اللہ عنہم ۔ (فتیی الاحال جلد نمبر2صحفہ نمبر 4)(مناقب آل ابی طالب جلد نمبر 4صحفہ نمبر 49)(اصول کافی جلد1صحفہ نمبر 586)(کشف الغمہ جلد نمبر 2 نمبر 84) ۔ یہ تمام حوالے سنی شیعہ مکاتب فکر کی معتبر کتب میں بھی موجو د ہیں ۔
پانچواں اور چھٹا رشتہ : سیدنا صدیق اکبر کے بیٹے عبدالرحمان ابی بکر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے ہم زلف تھے اور امام حسین عبدالرحمن بن ابی بکر کے داماد تھے ۔ عبدالرحمان کی زوجہ قرین الصغری زوجہِ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم ام سلمٰی کی ماں جائی بہن تھیں اس طرح حضرت ام سلمٰی کی ماں جائی بہن تھیں اس طرح حضرت ام سلمٰی عبدالرحمان بن ابی بکر کی سالی ہوئی ، حفصہ بن عبدالرحمان جن کا نکاح منذر بن زبیر سے ہوا اور اس کے بعد اپ کا نکاح امام حسین بن علی بن ابی طالب سے ہوا ۔ رضی اللہ عنہم ۔ (طبقات ابن سعد جلد نمبر 8 صحفہ نمبر 468، 469،چشتی)
ساتواں رشتہ : امام حسن کے عقد میں عبدالرحمان بن ابی بکر کی دو صاحبزادیاں حفصہ بن عبدالرحمان او ر ہندہ بنت عبدالرحمان یکے بعد دیگرے آئیں ۔ رضی اللہ عنہم ۔ (شیعہ کتب ۔ ابن حدید شرح نہج البلاغہ جلد نمبر 4 صحفہ نمبر 5)(بحار الانوار جلد نمبر 4 صفحہ نمبر 8،چشتی)
اس رشتہ میں درج ذیل رشتے ثابت ہوئے ۔ 1۔عبدالرحمان بن ابی بکر ہم زلف رسول بنے ۔ 2۔ سیدہ عائشہ حفصہ کی پھوپھی بنی ،۔
3۔ سیدنا ام سلمیٰ ان کی خالہ بنی ۔ رضی اللہ عنہم ۔
آٹھوا ں رشتہ : امام حسن کی بیٹی (ام الحسن) سے صد یق اکبر کے نواسے (عبداللہ بن زبیر) کا عقد ہو ا ۔ رضی اللہ عنہم ۔ (شیعہ کتاب ۔ ناسح التواریخ جلد نمبر 2 صحفہ نمبر 271) ۔ اس کے علاوہ خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق کی ایک صاحبزادی بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے عقد میں تھیں ۔ اس طرح وہ بھی ام المومنین کی حیثیت سے معتبر تھیں ، اس مکمل تفصیل سے معلوم ہوا کے سیدنا صدیق اکبر اور سیدنا علی المر تضٰی باہمی الفت و محبت کے پیکر تھے ان میں کسی قسم کا کوئی اختلاف نہیں تھا ۔ اور آل نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم بھی عظمت صدیق اکبر کو تسلیم کرتی تھی ۔ اور آل صدیق اکبر بھی اہل بیت پر نچھاور ہوتی تھی ، یہی وجہ ہے کہ شان و خصائل صدیق اکبر بزبان علی المرتضیٰ میں بکثرت روایت ہیں اور مزید یہ ان کی آپس میں رشتہ داریاں بھی قائم ہوتی رہی ہیں ، خلفائے راشدین کی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے گھرانے میں رشتہ داریوں سے یہ بھی
❤1
معلوم ہوتا ہے کہ ان سب (رضی اللہ عنہم) کے درمیان محبت ، پیار اور اخوت قائم تھا ۔ لیکن آج یہ سب مصلحتوں اور فرقہ واریت کا شکار ہوکر رہ گے ہیں ، یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں کے درمیان اختلافات میں برابر اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے مذہبی سکالرز علماء کرام اور ذاکرین یہ اختلافات اور فاصلے کم کرنے کی کوشش کریں تو مسلم امہ کی بہت بڑی خدمت ہوگی ۔
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی پوتی قرینۃالصغری (سیدہ حفصہ) بنت عبدالرحمن بن ابی بکر امام حسن کی اہلیہ تھیں ، امام حسن کی وفات کے بعد امام حسین سے نکاح ہوا ۔ (رضی اللہ عنہم)
اسماءبنت عمیس جو پہلے حضرت صدیقِ اکبر کی بیوی تھیں حضرت فاطمۃ الزھراء کی وفات کے بعد حضرت علی المرتضی سےشادی ھوئی ، اسماء سے امام حسین کے دو بھائی یحی بن علی اور عون بن علی پیدا ہوۓ ـ (رضی اللہ عنہم)
حضرت امام حسین اور حضرت محمد بن ابی بکر ہم زلف تھے ، شاہِ ایران یزدگر کی 2 بیٹیاں مالِ غنیمت میں آئیں ایک کا نکاح امام حسین سے اور دوسری کا نکاح محمد بن ابوبکر رضی اللہ عنہم سے کیا گیا ـ
حضرت بی بی شہربانو زوجہ امام حسین کے صاحبزادے امام زین العابدین کے خالہ زاد بھائی قاسم بن محمد بن ابوبکر کی بیٹی ام فروہ فاطمہ کا نکاح امام باقر بن زین العابدین سے ہوا جن سے امام جعفرصادق پیدا ہوئے رضی اللہ عنہم ۔
قرینۃالکبری بنت ھند بنت عبدالرحمان بن ابوبکر کا نکاح امام حسن سے ہوا یوں امام حسن خاندانِ صدیقی کے ذوالنورین بن گئے ۔ (رضی اللہ عنہم)
امام حسین امیرالمؤمنین عمر کےنسبتی بھائی ہیں ، امام حسین کی بہن امِ کلثوم بنت علی (حضرت سیدہ فاطمہ کی بیٹی) کا نکاح 17 ھ ذوالقعدہ میں ہوا 40،000 درھم حق مہر طے ہوا ان سے بیٹا زید بن عمر ، بیٹی رقیہ بنت عمر رضی اللہ عنہم پیدا ہوئیں ۔ (شیعہ کتب ۔ الشافی صفحہ نمبر 116)(مناقب ابن ابی طالب جلد 3 صفحہ 162)(المبسوط ج 4 ص 272،چشتی)
حضرت عبداللہ بن عمرو بن عثمان کا نکاح حضرت فاطمہ بنت امام حسین بن علی رضی اللہ عنہم سے ہوا ، یعنی دادا حضرت عثمان داماد ہیں نانا رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے ، اور پوتا عبداللہ داماد ہیں نواسہ حسین کے ، <اولاد> بقاسم و محمد ، بیٹی رقیہ تھی رضی اللہ عنہم ۔ (طبقات ابن سعد جلد 8)
حضرت بی بی سکینہ’بنت’ امام حسین
کا پہلا نکاح حضت ابوبکر صدیق کے نواسے مصعب ابن زبیر سے ہوا شہادتِ مصعب کے بعد زید بن عمرو بن عثمان سے ہوا یعنی دادا حضرت عثمان داماد ہیں نانا رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے ، اور پوتا زید داماد ہیں نواسے حسین کے ، حضرت امام حسین اپنی 2 بیٹیاں حضرت عثمان کے دو پوتوں کے نکاح میں دیں رضی اللہ عنہم ۔ (طبقات ابن سعد جلد 8)
حضرت جعفر طیار کی پوتی ، ام کلثوم بنت عبداللہ بن جعفر طیار کا نکاح عثمان غنی کے صاحبزادے ابان سے ہوا ۔ رضی اللہ عنہم ۔
حضرت امام حسن کی پوتی ام القاسم کا نکاح حضرت سیدنا عثمان غنی کے پوتےمروان بن
ابان بن عثمان سے ہوا رضی اللہ عنہم ۔ (طبقات ابن سعد جلد 8)
محترم قارٸینِ کرام تینوں مضامین میں دیے گۓ مکمل حوالجات سے ثابت ہوا کہ صحابہ کرام اور اہلبیتِ اطہار رضی اللہ عنہم کی آپس محبت و قریبی رشتہ داریاں ۔ شمنانانِ اسلام ، یہودیوں ، سباٸیوں ، رافضیوں ، ناصبیوں اور خارجیوں نے من گھڑت تاریخی روایات گھڑیں اور مسلمانوں میں نفرت ، تفرقہ اور انتشار پھیلایا جس میں بڑی حد تک وہ کامیاب بھی ہوۓ ان کی اس کامیابی میں جاہل پیروں ، جاہل خطیبوں ، جاہل نوٹ خوانوں نقیبوں اور اجہل ذاکروں کا بہت بڑا ہاتھ ہے ۔ فقیر اِس گمراہی و نفرت و تفرقہ کے پیروکاروں کو اپنی حد تک دلاٸل کے ذریعے عرصہ دراز سے جواب بھی دے رہا ہے اور بے نقاب بھی کر رہا ہے۔ جواب میں گالیاں بھی سنیں ، ستم بھی برداشت کیے اور کر رہا ہے مگر الحَمْدُ ِلله فقیر نے حالات سے دلبرداشتہ ہو کر اپنا مشن نہیں چھوڑا اگرچہ فقیر کو غیروں سے زیادہ اپنوں سے شکوہ عدمِ تعاون ضرور ہے ہمارے سنی صاحبِ حیثیت لوگ جاہل پیروں ، جاہل خطیبوں ، جاہل نوٹ خوانوں اور نقیبوں پر تو سب کچھ نچھاور کر دیتے ہیں مگر وہ اہلِ علم جو ہر طرح کے کسمپرسی کے حالات میں دفاعِ عقاٸدِ مسلکِ حق اہلسنت و جماعت کر رہے ہیں ان کے ساتھ تعاون کرنے کو تیار نہیں ۔ اللہ عزوجل اہلسنت صاحبِ ثروت حضرات کو سمجھ عطا فرماۓ اور اہلِ حق اہلِ علم کی مدد و حفاظت فرماۓ آمین ۔
(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی لاہور پاکستان)
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی پوتی قرینۃالصغری (سیدہ حفصہ) بنت عبدالرحمن بن ابی بکر امام حسن کی اہلیہ تھیں ، امام حسن کی وفات کے بعد امام حسین سے نکاح ہوا ۔ (رضی اللہ عنہم)
اسماءبنت عمیس جو پہلے حضرت صدیقِ اکبر کی بیوی تھیں حضرت فاطمۃ الزھراء کی وفات کے بعد حضرت علی المرتضی سےشادی ھوئی ، اسماء سے امام حسین کے دو بھائی یحی بن علی اور عون بن علی پیدا ہوۓ ـ (رضی اللہ عنہم)
حضرت امام حسین اور حضرت محمد بن ابی بکر ہم زلف تھے ، شاہِ ایران یزدگر کی 2 بیٹیاں مالِ غنیمت میں آئیں ایک کا نکاح امام حسین سے اور دوسری کا نکاح محمد بن ابوبکر رضی اللہ عنہم سے کیا گیا ـ
حضرت بی بی شہربانو زوجہ امام حسین کے صاحبزادے امام زین العابدین کے خالہ زاد بھائی قاسم بن محمد بن ابوبکر کی بیٹی ام فروہ فاطمہ کا نکاح امام باقر بن زین العابدین سے ہوا جن سے امام جعفرصادق پیدا ہوئے رضی اللہ عنہم ۔
قرینۃالکبری بنت ھند بنت عبدالرحمان بن ابوبکر کا نکاح امام حسن سے ہوا یوں امام حسن خاندانِ صدیقی کے ذوالنورین بن گئے ۔ (رضی اللہ عنہم)
امام حسین امیرالمؤمنین عمر کےنسبتی بھائی ہیں ، امام حسین کی بہن امِ کلثوم بنت علی (حضرت سیدہ فاطمہ کی بیٹی) کا نکاح 17 ھ ذوالقعدہ میں ہوا 40،000 درھم حق مہر طے ہوا ان سے بیٹا زید بن عمر ، بیٹی رقیہ بنت عمر رضی اللہ عنہم پیدا ہوئیں ۔ (شیعہ کتب ۔ الشافی صفحہ نمبر 116)(مناقب ابن ابی طالب جلد 3 صفحہ 162)(المبسوط ج 4 ص 272،چشتی)
حضرت عبداللہ بن عمرو بن عثمان کا نکاح حضرت فاطمہ بنت امام حسین بن علی رضی اللہ عنہم سے ہوا ، یعنی دادا حضرت عثمان داماد ہیں نانا رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے ، اور پوتا عبداللہ داماد ہیں نواسہ حسین کے ، <اولاد> بقاسم و محمد ، بیٹی رقیہ تھی رضی اللہ عنہم ۔ (طبقات ابن سعد جلد 8)
حضرت بی بی سکینہ’بنت’ امام حسین
کا پہلا نکاح حضت ابوبکر صدیق کے نواسے مصعب ابن زبیر سے ہوا شہادتِ مصعب کے بعد زید بن عمرو بن عثمان سے ہوا یعنی دادا حضرت عثمان داماد ہیں نانا رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے ، اور پوتا زید داماد ہیں نواسے حسین کے ، حضرت امام حسین اپنی 2 بیٹیاں حضرت عثمان کے دو پوتوں کے نکاح میں دیں رضی اللہ عنہم ۔ (طبقات ابن سعد جلد 8)
حضرت جعفر طیار کی پوتی ، ام کلثوم بنت عبداللہ بن جعفر طیار کا نکاح عثمان غنی کے صاحبزادے ابان سے ہوا ۔ رضی اللہ عنہم ۔
حضرت امام حسن کی پوتی ام القاسم کا نکاح حضرت سیدنا عثمان غنی کے پوتےمروان بن
ابان بن عثمان سے ہوا رضی اللہ عنہم ۔ (طبقات ابن سعد جلد 8)
محترم قارٸینِ کرام تینوں مضامین میں دیے گۓ مکمل حوالجات سے ثابت ہوا کہ صحابہ کرام اور اہلبیتِ اطہار رضی اللہ عنہم کی آپس محبت و قریبی رشتہ داریاں ۔ شمنانانِ اسلام ، یہودیوں ، سباٸیوں ، رافضیوں ، ناصبیوں اور خارجیوں نے من گھڑت تاریخی روایات گھڑیں اور مسلمانوں میں نفرت ، تفرقہ اور انتشار پھیلایا جس میں بڑی حد تک وہ کامیاب بھی ہوۓ ان کی اس کامیابی میں جاہل پیروں ، جاہل خطیبوں ، جاہل نوٹ خوانوں نقیبوں اور اجہل ذاکروں کا بہت بڑا ہاتھ ہے ۔ فقیر اِس گمراہی و نفرت و تفرقہ کے پیروکاروں کو اپنی حد تک دلاٸل کے ذریعے عرصہ دراز سے جواب بھی دے رہا ہے اور بے نقاب بھی کر رہا ہے۔ جواب میں گالیاں بھی سنیں ، ستم بھی برداشت کیے اور کر رہا ہے مگر الحَمْدُ ِلله فقیر نے حالات سے دلبرداشتہ ہو کر اپنا مشن نہیں چھوڑا اگرچہ فقیر کو غیروں سے زیادہ اپنوں سے شکوہ عدمِ تعاون ضرور ہے ہمارے سنی صاحبِ حیثیت لوگ جاہل پیروں ، جاہل خطیبوں ، جاہل نوٹ خوانوں اور نقیبوں پر تو سب کچھ نچھاور کر دیتے ہیں مگر وہ اہلِ علم جو ہر طرح کے کسمپرسی کے حالات میں دفاعِ عقاٸدِ مسلکِ حق اہلسنت و جماعت کر رہے ہیں ان کے ساتھ تعاون کرنے کو تیار نہیں ۔ اللہ عزوجل اہلسنت صاحبِ ثروت حضرات کو سمجھ عطا فرماۓ اور اہلِ حق اہلِ علم کی مدد و حفاظت فرماۓ آمین ۔
(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی لاہور پاکستان)
❤1
https://t.me/islaamic_Knowledge/24792
صحابہ و اہلبیت رضی اللہ عنہم کی آپس میں محبت و رشتہ داریاں حصہ سوم
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/292981852937861/
✍ #ڈاکٹر_فیض_احمد_چشتی
صحابہ و اہلبیت رضی اللہ عنہم کی آپس میں محبت و رشتہ داریاں حصہ سوم
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/292981852937861/
✍ #ڈاکٹر_فیض_احمد_چشتی
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
حضرت مولا علی رضی اللہ کی تاریخ ولادت و مولودِ کعبہ کون ؟ حصّہ اوّل
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/287204603515586/
محترم قارئینِ کرام : ہم نے کچھ عرص قبل حضرت مولا رضی اللہ عنہ کے متعلق بعض اہلِ سنت کی کتابوں کے حوالے سے حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے خانہ کعبہ میں پیدا ہونے پر ایک مضمون لکھا تھا جس میں مکمل دیانتداری کے ساتھ تمام حوالہ جات بمعہ اسکینز پیش کیے تھے (اِس مضمون میں اُن حوالہ جات پر بھی تحقیق پیش کی جاۓ گی ان شاء اللہ) ساتھ ہی وعدہ کیا تھا کہ وقت ملتے ہی دوسرا موقف جو اہلسنت کا ہے وہ پیش کرینگے مصروفیات و مشکلات نے یوں گھیرا کہ جمع شدہ مواد مختلف اوراق میں بھکرا رہا یوں دو سے تین سال کا عرصہ گذر گیا ۔ اب احباب کے بار بار اسرار پر اِن مشکلات و پریشانیوں میں گھرے ہونے کے باوجود ان حوالہ جات و موقف کو پیش کیا جا رہا ہے اہلِ علم سے گذارش ہے اختلاف آپ کا حق ہے کیجیے مگر دلاٸل کے ساتھ اور جہاں کہیں غلطی پاٸیں تو فقیر کو آگاہ فرماٸیں جزکم اللہ خیرا آمین ۔
پہلی بات یہ ہے کہ جن کتابوں میں اس کو ذکر کیا گیا تو وہاں صیغہ تمریض جیسے قِیْل ، رُوِیَ وغیرہ کے ساتھ ذکر کیا گیا لہٰذا یہ بات معتبر نہیں ۔
دوسری بات یہ ہے کہ صرف شہرت کی وجہ سے سند اور معتبر مآخذ کے ذکر کے بغیر لکھ دیا گیا لہٰذا جب تک معتبر ماخذ نہیں مل جاتا تب تک یہ بات قابلِ قبول نہیں ہے ۔
تیسری بات یہ ہے کہ جنہوں نے ماخذ بیان کیا ہے,وہ یا تو شیعوں کی کتب ہیں یا ایسے شیعوں کی طرف مائل حضرات کی کتب ہیں جنہوں نے بہت ساری شیعی روایات کو بغیر تحقیق و تنقیح کے نقل کر دیا جیسے امام ذہبی , ملا علی قاری اور شاہ ولی اللہ محدث دہلوی علیہم الرّحمہ نے مستدرک للحاکم کے حوالے سے اور بعض نے مروج الذہب اور فضول المھمہ کے حوالے سے نقل کیا ہے ۔
حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کو مولودِ کعبہ سمجھنا ایسا کمزور گمان ہے جس کے ثبوت پر کوئی صحیح دلیل نہیں کیونکہ آپ کرم اللہ وجہہ الکریم اپنے والد حضرت ابوطالب کے مکان شعبِ بنی ہاشم کے اندر پیدا ہوئے جس مکان کو لوگ مولدِ علی رضی اللہ عنہ کے نام سے یاد کیا کرتے تھے اور اس مکان کے دروازے پر یہ عبارت لکھی ہوئی تھی : ھذا مولد امیر المؤمنین علی ابن ابی طالب ، یعنی یہ حضرت امیر المومنین علی بن ابوطالب کرم اللہ وجہہ الکریم کی ولادت گاہ ہے ۔ اور اہلِ مکہ بھی اس پر بغیر اختلاف کے متفق تھے ۔ نیز آپ کرم اللہ وجہہ الکریم کی ولادت گاہ پر ایک قبہ بنا ہوا تھا جس کو نجدیوں نے دیگر مقامات مقدسہ کے ساتھ گرادیا ۔
امام مسلم بن حجاج قشیری رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں : ولد حکیم ابن حزام فی جوف الکعبہ ۔
ترجمہ : حضرت حکیم بن حزام رضی اللہُ عنہ خانہ کعبہ کے اندر پیدا ہوئے ۔ (صحیح مسلم کتاب البیوع باب الصدق فی البیع والبیان)
امام بدر الدین عینی حنفی رحمۃ اللہ تعالی علیہ تحریر فرماتے ہیں : حکیم بن حزام ولد فی بطن الکعبۃ ۔
ترجمہ : حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ تعالی عنہ خانہ کعبہ کے اندر پیدا ہوئے ۔ (عمدۃالقاری شرح صحیح بخاری جلد 13 صفحہ 142 دارالکتب العلمیہ بیروت،چشتی)
امام ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ تعالی تحریر فرماتے ہیں : وحکی الزبیر بن بکار ان حکیما ولد فی جوف الکعبہ ۔
ترجمہ : حضرت زبیر بن بکار رضی اللہ عنہ نے حکایۃً بیان کیا کہ حضرت حکیم بن حزام رضی اللہُ عنہ کی ولادت خانہ کعبہ کے اندر ہوئی ۔ (الاصابہ فی تمییز الصحابہ جلد 2 صفحہ 98 دار الکتب العلمیہ بیروت)
امام جلال الدین سیوطی شافعی رحمۃاللہ تعالی علیہ تحریر فرماتے ہیں : حکیم بن حزام بن خویلد بن اسد وکان مولدہ فی جوف الکعبہ۔
ترجمہ : حضرت حکیم بن حزام رضی اللہُ عنہ بن خویلد بن اسد. اور آپ کی ولادت گاہ خانہ کعبہ کے اندر تھی ۔ (تدریب الراوی فی شرح تقریب النواوی صفحہ 355 دارالکتاب العربی بیروت)
امام جلال الدین سیوطی شافعی رحمۃاللہ تعالی علیہ مزید اسی کتاب کے اگلے صفحہ پر تحریر فرماتے ہیں : قال الزبیر بن بکار کان مولد حکیم بن حزام فی جوف الکعبہ قال شیخ الاسلام ولایعرف ذلک لغیرہ ۔
ترجمہ : حضرت زبیر بن بکار رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ حضرت حکیم بن حزام رضی اللہُ عنہ کی ولادت خانہ کعبہ کے اندر ہوئی , شیخ الاسلام فرماتے ہیں کہ وہ اس بات کو (خانہ کعبہ کے اندر پیدا ہونے کو) حضرت حکیم بن حزام رضی اللہُ عنہ کے علاوہ کیلیے نہیں جانتے ۔ (تدریب الراوی فی شرح تقریب النواوی صفحہ 356 دارالکتاب العربی بیروت)
امام ابو ذکریا محی الدین یحی بن شرف نووی رحمۃ اللہ تعالی علیہ تحریر فرماتے ہیں : ولد حکیم بن حزام فی جوف الکعبۃ ولایعرف احد ولد فیھا غیرہ ۔
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/287204603515586/
محترم قارئینِ کرام : ہم نے کچھ عرص قبل حضرت مولا رضی اللہ عنہ کے متعلق بعض اہلِ سنت کی کتابوں کے حوالے سے حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے خانہ کعبہ میں پیدا ہونے پر ایک مضمون لکھا تھا جس میں مکمل دیانتداری کے ساتھ تمام حوالہ جات بمعہ اسکینز پیش کیے تھے (اِس مضمون میں اُن حوالہ جات پر بھی تحقیق پیش کی جاۓ گی ان شاء اللہ) ساتھ ہی وعدہ کیا تھا کہ وقت ملتے ہی دوسرا موقف جو اہلسنت کا ہے وہ پیش کرینگے مصروفیات و مشکلات نے یوں گھیرا کہ جمع شدہ مواد مختلف اوراق میں بھکرا رہا یوں دو سے تین سال کا عرصہ گذر گیا ۔ اب احباب کے بار بار اسرار پر اِن مشکلات و پریشانیوں میں گھرے ہونے کے باوجود ان حوالہ جات و موقف کو پیش کیا جا رہا ہے اہلِ علم سے گذارش ہے اختلاف آپ کا حق ہے کیجیے مگر دلاٸل کے ساتھ اور جہاں کہیں غلطی پاٸیں تو فقیر کو آگاہ فرماٸیں جزکم اللہ خیرا آمین ۔
پہلی بات یہ ہے کہ جن کتابوں میں اس کو ذکر کیا گیا تو وہاں صیغہ تمریض جیسے قِیْل ، رُوِیَ وغیرہ کے ساتھ ذکر کیا گیا لہٰذا یہ بات معتبر نہیں ۔
دوسری بات یہ ہے کہ صرف شہرت کی وجہ سے سند اور معتبر مآخذ کے ذکر کے بغیر لکھ دیا گیا لہٰذا جب تک معتبر ماخذ نہیں مل جاتا تب تک یہ بات قابلِ قبول نہیں ہے ۔
تیسری بات یہ ہے کہ جنہوں نے ماخذ بیان کیا ہے,وہ یا تو شیعوں کی کتب ہیں یا ایسے شیعوں کی طرف مائل حضرات کی کتب ہیں جنہوں نے بہت ساری شیعی روایات کو بغیر تحقیق و تنقیح کے نقل کر دیا جیسے امام ذہبی , ملا علی قاری اور شاہ ولی اللہ محدث دہلوی علیہم الرّحمہ نے مستدرک للحاکم کے حوالے سے اور بعض نے مروج الذہب اور فضول المھمہ کے حوالے سے نقل کیا ہے ۔
حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کو مولودِ کعبہ سمجھنا ایسا کمزور گمان ہے جس کے ثبوت پر کوئی صحیح دلیل نہیں کیونکہ آپ کرم اللہ وجہہ الکریم اپنے والد حضرت ابوطالب کے مکان شعبِ بنی ہاشم کے اندر پیدا ہوئے جس مکان کو لوگ مولدِ علی رضی اللہ عنہ کے نام سے یاد کیا کرتے تھے اور اس مکان کے دروازے پر یہ عبارت لکھی ہوئی تھی : ھذا مولد امیر المؤمنین علی ابن ابی طالب ، یعنی یہ حضرت امیر المومنین علی بن ابوطالب کرم اللہ وجہہ الکریم کی ولادت گاہ ہے ۔ اور اہلِ مکہ بھی اس پر بغیر اختلاف کے متفق تھے ۔ نیز آپ کرم اللہ وجہہ الکریم کی ولادت گاہ پر ایک قبہ بنا ہوا تھا جس کو نجدیوں نے دیگر مقامات مقدسہ کے ساتھ گرادیا ۔
امام مسلم بن حجاج قشیری رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں : ولد حکیم ابن حزام فی جوف الکعبہ ۔
ترجمہ : حضرت حکیم بن حزام رضی اللہُ عنہ خانہ کعبہ کے اندر پیدا ہوئے ۔ (صحیح مسلم کتاب البیوع باب الصدق فی البیع والبیان)
امام بدر الدین عینی حنفی رحمۃ اللہ تعالی علیہ تحریر فرماتے ہیں : حکیم بن حزام ولد فی بطن الکعبۃ ۔
ترجمہ : حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ تعالی عنہ خانہ کعبہ کے اندر پیدا ہوئے ۔ (عمدۃالقاری شرح صحیح بخاری جلد 13 صفحہ 142 دارالکتب العلمیہ بیروت،چشتی)
امام ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ تعالی تحریر فرماتے ہیں : وحکی الزبیر بن بکار ان حکیما ولد فی جوف الکعبہ ۔
ترجمہ : حضرت زبیر بن بکار رضی اللہ عنہ نے حکایۃً بیان کیا کہ حضرت حکیم بن حزام رضی اللہُ عنہ کی ولادت خانہ کعبہ کے اندر ہوئی ۔ (الاصابہ فی تمییز الصحابہ جلد 2 صفحہ 98 دار الکتب العلمیہ بیروت)
امام جلال الدین سیوطی شافعی رحمۃاللہ تعالی علیہ تحریر فرماتے ہیں : حکیم بن حزام بن خویلد بن اسد وکان مولدہ فی جوف الکعبہ۔
ترجمہ : حضرت حکیم بن حزام رضی اللہُ عنہ بن خویلد بن اسد. اور آپ کی ولادت گاہ خانہ کعبہ کے اندر تھی ۔ (تدریب الراوی فی شرح تقریب النواوی صفحہ 355 دارالکتاب العربی بیروت)
امام جلال الدین سیوطی شافعی رحمۃاللہ تعالی علیہ مزید اسی کتاب کے اگلے صفحہ پر تحریر فرماتے ہیں : قال الزبیر بن بکار کان مولد حکیم بن حزام فی جوف الکعبہ قال شیخ الاسلام ولایعرف ذلک لغیرہ ۔
ترجمہ : حضرت زبیر بن بکار رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ حضرت حکیم بن حزام رضی اللہُ عنہ کی ولادت خانہ کعبہ کے اندر ہوئی , شیخ الاسلام فرماتے ہیں کہ وہ اس بات کو (خانہ کعبہ کے اندر پیدا ہونے کو) حضرت حکیم بن حزام رضی اللہُ عنہ کے علاوہ کیلیے نہیں جانتے ۔ (تدریب الراوی فی شرح تقریب النواوی صفحہ 356 دارالکتاب العربی بیروت)
امام ابو ذکریا محی الدین یحی بن شرف نووی رحمۃ اللہ تعالی علیہ تحریر فرماتے ہیں : ولد حکیم بن حزام فی جوف الکعبۃ ولایعرف احد ولد فیھا غیرہ ۔
❤1
ترجمہ : حضرت حکیم بن حزام رضی اللہُ عنہ کی ولادت خانہ کعبہ کے اندر ہوئی اور ان کے علاوہ کوئی ایسا شخص معلوم نہیں ہے جس کی ولادت خانہ کعبہ کے اندر ہوئی ہو ۔ (تہذیب الاسماءواللغات حرف الحاء جلد اول صفحہ 409 دار فیحاءالبیروت)
ایک شیعہ عالم نے بھی لکھا ہے کہ : محدثین صرف حکیم بن حزام (رضی اللہ عنہ) کو ہی مولودِ کعبہ سمجھتے ہیں ۔ (شرح نہج البلاغہ جلد اول صفحہ 14 دارالجبل بیروت)
البتہ خانہ کعبہ کے اندر صرف حضرت حکیم بن حزام رضی اللہُ عنہ کی ولادت ہوئی ہے , آپ رضی اللہ عنہ کے علاوہ کسی کی بھی ولادت خانہ کعبہ کے اندر نہیں ہوئی ۔
امام حافظ ابو عمر خلیفہ بن خیاط رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں : ولد علی بمکۃ فی شعب بنی ھاشم ۔
ترجمہ : حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی ولادت مکہ میں شعب بنی ہاشم میں ہوئی ۔ (تاریخ خلیفہ بن خیاط صفحہ 199 دار حلبیۃ الریاض،چشتی)
امام حافظ ابوالقاسم علی بن حسن رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں : ولد علی بمکۃ فی شعب بنی ھاشم ۔
ترجمہ : حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی ولادت مکہ میں شعب بنی ہاشم میں ہوئی ۔ (تاریخ دمشق الکبیر جلد 45 صفحہ 448 دار احیاء التراث العربی بیروت)
حضرت سیدنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں جو یہ بات بیان کی جاتی ہے کہ آپ کی ولادت کعبہ شریف میں ہوئی یہ قول اہل علم کے نزدیک ضعیف ہے البتہ ام المؤمنین، حضرت سیدہ خدیجتہ الکبریٰ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے بھتیجے سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کی ولادت کعبہ میں ہوئی ۔ آپ کے علاوہ کوئی بھی کعبہ میں پیدا نہیں ہوا ۔
مام ابو زکریا محی الدین یحیٰ بن شرف النووی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں : ولد حکیم بن حزام فی جوف الکعبتہ ولا یعرف احد ولد فیھا غیرہ واما ما روی ان علی بن ابی طالب ولد فیھا فضعیف عند العلماء ۔
ترجمہ : صرف حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کی ولادت جوف کعبہ میں ہوئی آپ کے علاوہ کوئی بھی کعبہ میں پیدا نہیں ہوا اور جو یہ کہا جاتا ہے کہ حضرت سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ بھی کعبہ میں پیدا ہوئے یہ بات علماء کے نزدیک ضعیف ہے ۔ (تهذیب الاسماء واللغات، حرف الحاء،ج 1.ص 409.رقم 127۔دارالفیحاء بیروت)
امام سیوطی رحمة الله عليه کا بھی قول ہے : قال الزبیر بن بکار کان مولد حکیم فی جوف الکعبتہ ‛‛ قال الشیخ الاسلام ولا یعرف ذٰلک لغیرہ طما وقع فی مستدرک الحاکم من ان علیًا ولد فیھ ضعیف ۔
ترجمہ : زبیر بن بکار کہتے ہیں حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کعبہ میں پیدا ہوئے اور شیخ الاسلام امام نووی رحمة الله عليه فرماتے ہیں آپ کے علاوہ کوئی بھی کعبہ میں پیدا نہیں ہوا جو مستدرک حاکم میں حضرت علی رضی الله عنه کو مولود کعبہ لکھا ہے یہ ضعیف ہے ۔ (تدریب الراوی فی شرح تقریب النوٰوی ، النوع الستون ، التواریخ والوفیات، ص 356 ،دارالکتاب العربی بیروت،چشتی)
امام ابن عبدالبر نے لکھا ہے کہ حکیم رضی اللہ عنہ کی ولادت کعبہ کے اندر ہوئی تھی۔ ان کے علاوہ کوئی دوسرا شخص کعبہ کے اندر پیدا نہیں ہوا۔ سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کے متعلق جو ایسا دعویٰ کیا جاتا ہے وہ اہل علم کے نزدیک ضعیف ہے۔ (الاستیعاب بمعرفة الاصحاب 363/1)
مصطفیٰ بن محمد بن عبدالعلوی رقم طراز ہیں کہ حکیم رضی اللہ عنہ کی ولادت کعبہ کے اندر ہوئی، کوئی دوسرا شخص اس خصوصیت میں ان کا شریک نہیں ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے متعلق ایسا دعویٰ اہل علم کے نزدیک ضعیف ہے ۔ (عنوان النجابة فی معرفة الصحابة من مات بالمدینة من الصحابة، ص: 63)
صدرالشریعہ حضرت علاّمہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالی علیہ تحریر فرماتے ہیں : مکانِ ولادت اقدس حضور انور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم و مکان حضرت خدیجہ الکبریٰ رضی اللہُ عنہا و مکان ولادتِ علی رضی اللہ عنہ و جبلِ ثور و غارِ حرا و مسجد الجن و مسجد جبل ابی قبیس وغیرہا مکانِ متبرکہ کی زیارت سے بھی مشرف ہو ۔ (بہار شریعت جلد اول حصہ 6 صفحہ 1150مکتبۃ المدینہ کراچی،چشتی)
سیدنا ابوبکر صدیق و سیدنا علی اور لاکھوں صحابہ کرام اہل بیت سادات کرام رضی اللہ عنہم میں سے اکثر کی متعین تاریخ ولادت مستند باسند کتابوں میں نہیں آئی اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی ولادت کعبہ کے اندر ہونے کا واقعے کی اگرچہ صحیح متصل سند نہ ملی ۔ مگر مجموعی طور یہ کہہ سکتے ہیں کہ شیعہ کے مرچ مسالے جھوٹ بے بنیاد نظریات نکال کر فقط اتنا کہہ سکتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی ولادت اندازاً تیرہ رجب کعبہ میں ہوئی اور یہ خصوصیت صرف سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی نہیں بلکہ صحابی سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ بھی کعبہ کے اندر پیدا ہوےتھے ۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی تاریخ پر لکھی ہر کتاب بلکہ اس کے علاوہ بہت کتابوں میں سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کے متعلق یہی لکھا ہے ۔ مثلا صحیح مسلم کتاب البیوع باب الصدق فی البیع والبیان میں امام مسلم فرماتے ہیں : ولد حکیم بن حزام فی جوف الکعبۃ ۔ سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ
ایک شیعہ عالم نے بھی لکھا ہے کہ : محدثین صرف حکیم بن حزام (رضی اللہ عنہ) کو ہی مولودِ کعبہ سمجھتے ہیں ۔ (شرح نہج البلاغہ جلد اول صفحہ 14 دارالجبل بیروت)
البتہ خانہ کعبہ کے اندر صرف حضرت حکیم بن حزام رضی اللہُ عنہ کی ولادت ہوئی ہے , آپ رضی اللہ عنہ کے علاوہ کسی کی بھی ولادت خانہ کعبہ کے اندر نہیں ہوئی ۔
امام حافظ ابو عمر خلیفہ بن خیاط رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں : ولد علی بمکۃ فی شعب بنی ھاشم ۔
ترجمہ : حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی ولادت مکہ میں شعب بنی ہاشم میں ہوئی ۔ (تاریخ خلیفہ بن خیاط صفحہ 199 دار حلبیۃ الریاض،چشتی)
امام حافظ ابوالقاسم علی بن حسن رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں : ولد علی بمکۃ فی شعب بنی ھاشم ۔
ترجمہ : حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی ولادت مکہ میں شعب بنی ہاشم میں ہوئی ۔ (تاریخ دمشق الکبیر جلد 45 صفحہ 448 دار احیاء التراث العربی بیروت)
حضرت سیدنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں جو یہ بات بیان کی جاتی ہے کہ آپ کی ولادت کعبہ شریف میں ہوئی یہ قول اہل علم کے نزدیک ضعیف ہے البتہ ام المؤمنین، حضرت سیدہ خدیجتہ الکبریٰ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے بھتیجے سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کی ولادت کعبہ میں ہوئی ۔ آپ کے علاوہ کوئی بھی کعبہ میں پیدا نہیں ہوا ۔
مام ابو زکریا محی الدین یحیٰ بن شرف النووی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں : ولد حکیم بن حزام فی جوف الکعبتہ ولا یعرف احد ولد فیھا غیرہ واما ما روی ان علی بن ابی طالب ولد فیھا فضعیف عند العلماء ۔
ترجمہ : صرف حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کی ولادت جوف کعبہ میں ہوئی آپ کے علاوہ کوئی بھی کعبہ میں پیدا نہیں ہوا اور جو یہ کہا جاتا ہے کہ حضرت سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ بھی کعبہ میں پیدا ہوئے یہ بات علماء کے نزدیک ضعیف ہے ۔ (تهذیب الاسماء واللغات، حرف الحاء،ج 1.ص 409.رقم 127۔دارالفیحاء بیروت)
امام سیوطی رحمة الله عليه کا بھی قول ہے : قال الزبیر بن بکار کان مولد حکیم فی جوف الکعبتہ ‛‛ قال الشیخ الاسلام ولا یعرف ذٰلک لغیرہ طما وقع فی مستدرک الحاکم من ان علیًا ولد فیھ ضعیف ۔
ترجمہ : زبیر بن بکار کہتے ہیں حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کعبہ میں پیدا ہوئے اور شیخ الاسلام امام نووی رحمة الله عليه فرماتے ہیں آپ کے علاوہ کوئی بھی کعبہ میں پیدا نہیں ہوا جو مستدرک حاکم میں حضرت علی رضی الله عنه کو مولود کعبہ لکھا ہے یہ ضعیف ہے ۔ (تدریب الراوی فی شرح تقریب النوٰوی ، النوع الستون ، التواریخ والوفیات، ص 356 ،دارالکتاب العربی بیروت،چشتی)
امام ابن عبدالبر نے لکھا ہے کہ حکیم رضی اللہ عنہ کی ولادت کعبہ کے اندر ہوئی تھی۔ ان کے علاوہ کوئی دوسرا شخص کعبہ کے اندر پیدا نہیں ہوا۔ سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کے متعلق جو ایسا دعویٰ کیا جاتا ہے وہ اہل علم کے نزدیک ضعیف ہے۔ (الاستیعاب بمعرفة الاصحاب 363/1)
مصطفیٰ بن محمد بن عبدالعلوی رقم طراز ہیں کہ حکیم رضی اللہ عنہ کی ولادت کعبہ کے اندر ہوئی، کوئی دوسرا شخص اس خصوصیت میں ان کا شریک نہیں ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے متعلق ایسا دعویٰ اہل علم کے نزدیک ضعیف ہے ۔ (عنوان النجابة فی معرفة الصحابة من مات بالمدینة من الصحابة، ص: 63)
صدرالشریعہ حضرت علاّمہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالی علیہ تحریر فرماتے ہیں : مکانِ ولادت اقدس حضور انور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم و مکان حضرت خدیجہ الکبریٰ رضی اللہُ عنہا و مکان ولادتِ علی رضی اللہ عنہ و جبلِ ثور و غارِ حرا و مسجد الجن و مسجد جبل ابی قبیس وغیرہا مکانِ متبرکہ کی زیارت سے بھی مشرف ہو ۔ (بہار شریعت جلد اول حصہ 6 صفحہ 1150مکتبۃ المدینہ کراچی،چشتی)
سیدنا ابوبکر صدیق و سیدنا علی اور لاکھوں صحابہ کرام اہل بیت سادات کرام رضی اللہ عنہم میں سے اکثر کی متعین تاریخ ولادت مستند باسند کتابوں میں نہیں آئی اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی ولادت کعبہ کے اندر ہونے کا واقعے کی اگرچہ صحیح متصل سند نہ ملی ۔ مگر مجموعی طور یہ کہہ سکتے ہیں کہ شیعہ کے مرچ مسالے جھوٹ بے بنیاد نظریات نکال کر فقط اتنا کہہ سکتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی ولادت اندازاً تیرہ رجب کعبہ میں ہوئی اور یہ خصوصیت صرف سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی نہیں بلکہ صحابی سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ بھی کعبہ کے اندر پیدا ہوےتھے ۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی تاریخ پر لکھی ہر کتاب بلکہ اس کے علاوہ بہت کتابوں میں سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کے متعلق یہی لکھا ہے ۔ مثلا صحیح مسلم کتاب البیوع باب الصدق فی البیع والبیان میں امام مسلم فرماتے ہیں : ولد حکیم بن حزام فی جوف الکعبۃ ۔ سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ
❤1
عین کعبہ کے اندر پیدا ہوئے ۔ (صحیح مسلم تحت الحدیث،1532,3850)
ایسے الفاظ کی وضاحت بھی ضروربیان کی جائے کہ جس سے غلط بے بنیاد نظریات کی تردید ہو ۔مثلا وحی یا تقابل ولادت سیدنا عیسیٰ علیہ السلام وغیرہ کا رد کیا جائے ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی ولادت کعبہ میں ہونے کو بیان کیا جائے تو ساتھ میں یہ بھی بیان کیا جائے کہ صحابی سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کی ولادت بھی کعبہ کے اندر ہوئی ۔ اس طرح غلط بے بنیاد نظریات خودبخود ختم ہوجائیں گے ۔
حضرت سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی ولادت کب ہوئی اور کہاں ہوئی ؟ اس بارے میں اہل سنت اہلِ تشیع اور دیگر مسالک کی کافی کتب کا بغور مطالعہ کیا اور راقم اس نتیجے پر پہنچا کہ : پہلے کے زمانے میں متعین تاریخ ولادت کا اہتمام نہ تھا ، سیدنا ابو بکر صدیق اور سیدنا علی اور بہت سارے صحابہ اہلِ بیت رضی اللہ عنہم کی تاریخِ ولادت مستند کتابوں میں نہیں آئی ۔ حتیٰ کہ جو 13 رجب مشہور ہے اس کی تحقیق و تفصیل دیکھی جائے تو 13 رجب اندازہ کرکے بتائی گئ ہے ۔ تیرہ رجب کی ولادت کی تاریخ کا جس واقعہ سے اندازہ کیا گیا وہ آگے عرض کیا جائے گا ۔ پھر اس اندازے کو بعد کی دو چار کتابوں مین اندازے کا تذکرہ کیے بغیر اتنا لکھ دیا گیا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ تیرہ رجب میں پیدا ہوئے ۔
جس واقعے سے 13رجب ولادت کا دن ہونے کا اندازہ لگایا گیا اسی واقعے سے یہ ثابت کیا گیا کہ آپ کی ولادت کعبے کے اندر ہوئی ۔
ولادت والا واقعہ : شیعہ کتب میں واقعہ درج ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی والدہ کو وحی ہوئی ، کچھ کتابوں میں ہے کہ الھام ہوا کہ کعبے میں جائے ، کیونکہ ولادتِ علی رضی اللہ عنہ کا وقت قریب ہے ۔ وہ کعبے میں گئیں دردِ زہ ہوا اور کعبے کے اندر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی ولادت ہوئی ۔
کچھ کتب میں اس کی مزید تفصیل یوں ہے کہ کعبہ کے اندر کا دروازہ کبھی کبھار ہی کھلتا تھا ۔15 رجب حضرت موسی علیہ السلام کی ولادت کے دن کے موقعے پر چار پانچ دن کےلیے کعبے کا اندر کا دروازہ بھی کھلتا تھا ۔ باپردہ خواتین 15 رجب سے دو تین دن پہلے ہی زیارت کر آتی تھیں ۔ اس طرح اندازہ لگایا گیا کہ 13 رجب کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی والدہ کعبہ گئی ہوں گی ۔ پھر اہل تشیع نے سیدنا عیسیٰ علیہ السلام سے بھی حضرت علی رضی اللہ عنہ کو افضل کہہ دیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت کے وقت بی بی مریم رضی اللہ عنہا کو بیت المقدس سے باہر بھیجا گیا اور یہاں کعبہ کے اندر ولادتِ علی رضی اللہ عنہ کا حکم دیا گیا ۔
شاہ عبد العزیز دہلوی علیہ الرحمہ کا تبصرہ : تحفہ اثنا عشریہ صفحہ 164,165،166 میں شاہ صاحب علیہ الحمہ نے مذکورہ روایت اور مذکورہ واقعہ کو جھوٹ دھوکہ قرار دیا ۔ فرمایا کہ کسی معتبر کتاب میں ، حدیث میں کہیں یہ نہیں آیا کہ بی بی مریم کو بیت المقدس سے نکل جانے کا حکم ہوا ہو ۔ ہرگز نہیں ۔ اور فرمایا کہ کسی معتبر کتاب میں یہ نہیں کہ ولادتِ علی رضی اللہ عنہ کےلیے کعبہ جانے کا حکم ہوا ہو ۔ ہرگز نہیں۔ وہ ایک اتفاق تھا ۔ وحی کا کہنا تو کفر ہے ۔ شاہ صاحب علیہ الرحمہ نے 13 رجب پر گفتگو نہ فرمائی ۔ البتہ ان کے کلام سے واضح ہوتا ہے کہ شیعہ کے مرچ مسالے جھوٹ بے بنیاد غلط نظریات نکال کر یہ کہہ سکتے ہیں کہ اتفاقاً عورتوں کے ساتھ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی والدہ رضی اللہ عنہ بھی کعبہ کی زیارت کوگئی ہوں اور وہاں اتفاقاً دردِ زہ زیادہ ہوگیا ہو اور اس طرح سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی ولادت کعبہ میں ہوئی ہو مگر شاہ صاحب علیہ الرحمہ نے ساتھ میں دو ٹوک ارشاد فرمایا کہ اس سے افضلیت وغیرہ شیعہ کے دعوے ثابت نہیں ہوتے کیونکہ صحابی سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ بھی کعبہ کے اندر پیدا ہوئے ۔
کئی کتب میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے کعبہ میں پیدا نہ ہونے کا لکھا ہوا ہے ۔ چند اہلسنت کتابوں میں بغیر سند و ثبوت کے آپ کی ولادت کعبہ میں ہونے کا لکھا ہے ۔ عقائد افضلیت ، حلال و حرام وغیرہ بنیادی معاملات میں صحیح مستند روایات ضروری ہیں جیسا کہ نیچے دو اصول بیان کیے جائیں گے جبکہ تاریخ ، فضائل ، پیدائش وغیرہ چھوٹے چھوٹے معاملات میں اتنی سختی نہیں ۔ مسلک المقتسط اورفتاوی شامی اور فتاوی رضویہ سے دو قیمتی اصول پیشِ خدمت ہیں : ⬇
پہلا اصول : مسلک المتقسط وغیرہ کتب میں ہے کہ : الاصل ھوالنفی حتی یتحقق الثبوت ۔
ترجمہ : اصل کسی چیز کی نفی ہے جب تک کہ ثبوت متحقق نہ ہو جائے ۔ (المسلک المتقسط صفحہ 110)(فتاوی رضویہ جلد نمبر 6 صفحہ نمبر 198،چشتی)
دوسرا اصول : امام احمد رضا خان قادری علیہ الرحمہ فتاوی شامی کی عبارت کو دلیل بناتے ہوے فرماتے ہیں : اگر تسلیم بھی کیا جائے کہ بہت سی جگہوں میں مذکور ہے تو بھی کثرت نقول مستلزم صحت کو نہیں پہلے ایک شخص کو غلطی ہو جاتی ہے اور بعد کے لوگ اس کی غلطی بظنِ صحت نقل کرتے چلے جاتے ہیں ۔
ایسے الفاظ کی وضاحت بھی ضروربیان کی جائے کہ جس سے غلط بے بنیاد نظریات کی تردید ہو ۔مثلا وحی یا تقابل ولادت سیدنا عیسیٰ علیہ السلام وغیرہ کا رد کیا جائے ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی ولادت کعبہ میں ہونے کو بیان کیا جائے تو ساتھ میں یہ بھی بیان کیا جائے کہ صحابی سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کی ولادت بھی کعبہ کے اندر ہوئی ۔ اس طرح غلط بے بنیاد نظریات خودبخود ختم ہوجائیں گے ۔
حضرت سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی ولادت کب ہوئی اور کہاں ہوئی ؟ اس بارے میں اہل سنت اہلِ تشیع اور دیگر مسالک کی کافی کتب کا بغور مطالعہ کیا اور راقم اس نتیجے پر پہنچا کہ : پہلے کے زمانے میں متعین تاریخ ولادت کا اہتمام نہ تھا ، سیدنا ابو بکر صدیق اور سیدنا علی اور بہت سارے صحابہ اہلِ بیت رضی اللہ عنہم کی تاریخِ ولادت مستند کتابوں میں نہیں آئی ۔ حتیٰ کہ جو 13 رجب مشہور ہے اس کی تحقیق و تفصیل دیکھی جائے تو 13 رجب اندازہ کرکے بتائی گئ ہے ۔ تیرہ رجب کی ولادت کی تاریخ کا جس واقعہ سے اندازہ کیا گیا وہ آگے عرض کیا جائے گا ۔ پھر اس اندازے کو بعد کی دو چار کتابوں مین اندازے کا تذکرہ کیے بغیر اتنا لکھ دیا گیا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ تیرہ رجب میں پیدا ہوئے ۔
جس واقعے سے 13رجب ولادت کا دن ہونے کا اندازہ لگایا گیا اسی واقعے سے یہ ثابت کیا گیا کہ آپ کی ولادت کعبے کے اندر ہوئی ۔
ولادت والا واقعہ : شیعہ کتب میں واقعہ درج ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی والدہ کو وحی ہوئی ، کچھ کتابوں میں ہے کہ الھام ہوا کہ کعبے میں جائے ، کیونکہ ولادتِ علی رضی اللہ عنہ کا وقت قریب ہے ۔ وہ کعبے میں گئیں دردِ زہ ہوا اور کعبے کے اندر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی ولادت ہوئی ۔
کچھ کتب میں اس کی مزید تفصیل یوں ہے کہ کعبہ کے اندر کا دروازہ کبھی کبھار ہی کھلتا تھا ۔15 رجب حضرت موسی علیہ السلام کی ولادت کے دن کے موقعے پر چار پانچ دن کےلیے کعبے کا اندر کا دروازہ بھی کھلتا تھا ۔ باپردہ خواتین 15 رجب سے دو تین دن پہلے ہی زیارت کر آتی تھیں ۔ اس طرح اندازہ لگایا گیا کہ 13 رجب کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی والدہ کعبہ گئی ہوں گی ۔ پھر اہل تشیع نے سیدنا عیسیٰ علیہ السلام سے بھی حضرت علی رضی اللہ عنہ کو افضل کہہ دیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت کے وقت بی بی مریم رضی اللہ عنہا کو بیت المقدس سے باہر بھیجا گیا اور یہاں کعبہ کے اندر ولادتِ علی رضی اللہ عنہ کا حکم دیا گیا ۔
شاہ عبد العزیز دہلوی علیہ الرحمہ کا تبصرہ : تحفہ اثنا عشریہ صفحہ 164,165،166 میں شاہ صاحب علیہ الحمہ نے مذکورہ روایت اور مذکورہ واقعہ کو جھوٹ دھوکہ قرار دیا ۔ فرمایا کہ کسی معتبر کتاب میں ، حدیث میں کہیں یہ نہیں آیا کہ بی بی مریم کو بیت المقدس سے نکل جانے کا حکم ہوا ہو ۔ ہرگز نہیں ۔ اور فرمایا کہ کسی معتبر کتاب میں یہ نہیں کہ ولادتِ علی رضی اللہ عنہ کےلیے کعبہ جانے کا حکم ہوا ہو ۔ ہرگز نہیں۔ وہ ایک اتفاق تھا ۔ وحی کا کہنا تو کفر ہے ۔ شاہ صاحب علیہ الرحمہ نے 13 رجب پر گفتگو نہ فرمائی ۔ البتہ ان کے کلام سے واضح ہوتا ہے کہ شیعہ کے مرچ مسالے جھوٹ بے بنیاد غلط نظریات نکال کر یہ کہہ سکتے ہیں کہ اتفاقاً عورتوں کے ساتھ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی والدہ رضی اللہ عنہ بھی کعبہ کی زیارت کوگئی ہوں اور وہاں اتفاقاً دردِ زہ زیادہ ہوگیا ہو اور اس طرح سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی ولادت کعبہ میں ہوئی ہو مگر شاہ صاحب علیہ الرحمہ نے ساتھ میں دو ٹوک ارشاد فرمایا کہ اس سے افضلیت وغیرہ شیعہ کے دعوے ثابت نہیں ہوتے کیونکہ صحابی سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ بھی کعبہ کے اندر پیدا ہوئے ۔
کئی کتب میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے کعبہ میں پیدا نہ ہونے کا لکھا ہوا ہے ۔ چند اہلسنت کتابوں میں بغیر سند و ثبوت کے آپ کی ولادت کعبہ میں ہونے کا لکھا ہے ۔ عقائد افضلیت ، حلال و حرام وغیرہ بنیادی معاملات میں صحیح مستند روایات ضروری ہیں جیسا کہ نیچے دو اصول بیان کیے جائیں گے جبکہ تاریخ ، فضائل ، پیدائش وغیرہ چھوٹے چھوٹے معاملات میں اتنی سختی نہیں ۔ مسلک المقتسط اورفتاوی شامی اور فتاوی رضویہ سے دو قیمتی اصول پیشِ خدمت ہیں : ⬇
پہلا اصول : مسلک المتقسط وغیرہ کتب میں ہے کہ : الاصل ھوالنفی حتی یتحقق الثبوت ۔
ترجمہ : اصل کسی چیز کی نفی ہے جب تک کہ ثبوت متحقق نہ ہو جائے ۔ (المسلک المتقسط صفحہ 110)(فتاوی رضویہ جلد نمبر 6 صفحہ نمبر 198،چشتی)
دوسرا اصول : امام احمد رضا خان قادری علیہ الرحمہ فتاوی شامی کی عبارت کو دلیل بناتے ہوے فرماتے ہیں : اگر تسلیم بھی کیا جائے کہ بہت سی جگہوں میں مذکور ہے تو بھی کثرت نقول مستلزم صحت کو نہیں پہلے ایک شخص کو غلطی ہو جاتی ہے اور بعد کے لوگ اس کی غلطی بظنِ صحت نقل کرتے چلے جاتے ہیں ۔
❤1👍1
شامی جلد نمبر 4 صفحہ نمبر 351 میں ہے : قد یقع کثیراان مؤلفایذکر شیئاخطاً فینقلونہ بلا تنبیہ فلیکثرالناقلون واصلہ لواحد مخطئ ۔ اکثر ایسا واقع ہوا ہے کہ مؤلف سے کوئی غلطی ہوگئی تو لوگ اسے بلا تنبیہ نقل کرتے رہتے ہیں حتی کہ اس کے ناقلین کثیر ہو جاتے ہیں حالانکہ اصل کے اعتبار سے ایک مخطی ہوتا ہے ۔(فتاوی رضویہ جلد نمبر 6 صفحہ نمبر 199,198) ۔
(مزید حصّہ دوم میں ان شاء اللہ)۔
(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)
(مزید حصّہ دوم میں ان شاء اللہ)۔
(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)
❤1
https://t.me/islaamic_Knowledge/24796
حضرت مولا علی رضی اللہ کی تاریخ ولادت و مولودِ کعبہ کون ؟ حصّہ اوّل
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/287204603515586/
✍ #ڈاکٹر_فیض_احمد_چشتی
حضرت مولا علی رضی اللہ کی تاریخ ولادت و مولودِ کعبہ کون ؟ حصّہ اوّل
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/287204603515586/
✍ #ڈاکٹر_فیض_احمد_چشتی
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1