حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ کو مشکل کشاء کہنا حصّہ دوم
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/293218199580893/
محترم قارئینِ کرام : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت کے ان مولا صفات بندوں میں سے جس ہستی کو تاج سروری عطا کیا گیا وہ خاتون جنت کے شوہر نامدار، حسنین کریمین رضی اللہ عنہما کے والد گرامی حضرت سیدنا مولا علی رضی اللہ عنہ کی ذات گرامی ہے ۔ صحابہ رضی اللہ عنہم کے بھرے مجمعے میں جن کا ہاتھ باعثِ تکوین کائنات فخر موجودات سیدالمرسلین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ہاتھ میں لے کر بلند کیا اور فرمایا : مَنْ کُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِیُّ مَوْلَاهُ ۔
ترجمہ : جس کا میں مولا ہوں علی بھی اسکا مولا ہیں ۔
ہم دیکھتے ہیں کہ جس طرح لوگ مشکلات اور پریشانیوں میں سید دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں رجوع کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی توجہ اور دعا سے انہیں مشکلات سے نجات مل جاتی تھی ، اسی طرح وہ بارگاہ مرتضوی رضی اللہ عنہ سے بھی رجوع کرتے چنانچہ آپ رضی اللہ عنہ کی روحانی توجہ اور دعا سے مشکل کشائی ہو جاتی ۔
اللہ رب العزت نے اپنے خاص دوستوں کو ایسی شان و مرتبہ سے نواز رکھا ہے کہ وہ اپنی خداداد طاقت کے ذریعے لوگوں کے احوال سے نہ صرف آگاہی رکھتے ہیں بلکہ ان کی رہنمائی اور حاجت روائی بھی فرماتے ہیں ۔
کیا کسی انسان کو اللہ کے سوا حاجت روا کہا جا سکتا ہے ۔ کیا اللہ کے علاوہ کسی دوسرے کو حاجت روا کہنے سے شرک تو لازم نہیں آتا ؟
یہ وہ سوال ہے جو ایک طبقہ ہر اس موقع پر داغ دیتا ہے جب ان کے سامنے کسی مقبول خدا کی کوئی کرامت پیش کی جاتی ہے اور اس پر وہ قرآن مجید سے استدلال کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی ولی اور مددگار نہیں ۔ مثلاً : وَمَا لَکُمْ مِّنْ دُوْنِ ﷲِ مِّنْ وَّلِیٍّ وَّلَا نَصِيْرٍ ۔
ترجمہ : اللہ کے سوا نہ تمہارا کوئی ولی ہے نہ مددگار ۔ (سورہ البقرہ آیت نمبر 107)
وَمَا النَّصُر اِلاَّ مِنْ عِنْدِ اللّٰه ۔
ترجمہ : اللہ کی بارگاہ کے علاوہ کوئی اور مدد نہیں ۔ (سورہ اٰل عمران آیت نمبر ۱۲۶)
اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر اللہ کی مرضی اور حکم نہ ہو تو کوئی فرشتہ یا انسان کسی دوسرے کی مدد نہیں کر سکتا ۔ مدد کرنے کی قوت اور طاقت بارگاہ ربوبیت سے ملتی ہے اور اسی کے اذن اور حکم سے مشکل کشائی ہوتی ہے ۔ یہ ہستیاں خواہ فرشتے ہوں ، جن ہوں یا انسان ، حزب اللہ ’’یعنی اللہ کی ٹیم اور جماعت‘‘ کے کارکن ہیں اور ان کے کام، حقیقت میں اللہ کے کام ہیں۔ اس لئے نیابت کے طور پر وہ بھی ولی اور مددگار ہیں۔ جیسا کہ قرآن مجید میں فرمایا گیا : اِنَّمَا وَلِيُّکُمُ اﷲُ وَ رَسُوْلُه وَالَّذِيْنَ اٰٰمَنُوا ۔ (سورہ المائدة آیت نمبر 55)
ترجمہ : بے شک تمہارا ولی (مددگار) تو اللہ ہے اور اس کا رسول ہے اور اہل ایمان تمہارے ولی (مددگار دوست) ہیں ۔
دوسری جگہ ارشاد فرمایا : فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ مَوْلَاهُ وَجِبْرِيلُ وَصَالِحُ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمَلَائِكَةُ بَعْدَ ذَلِكَ ظَهِيرٌ ۔ (سورہ التحريم آیت نمبر 4)
ترجمہ : بے شک اللہ اس (رسول کریم) کا مولا (مددگار) ہے۔ جبریل اور نیک صاحب ایمان لوگ بھی ان کے مددگار ہیں اور اس کے بعد فرشتے بھی کھلم کھلا مددگار ہیں ۔
یاد رہے کہ ’’مولا‘‘ کا لفظ کئی جگہ قرآن مجید میں اللہ رب العزت کے لئے استعمال ہوا ہے ۔
اَنْتَ مَوْلَانَا فَانْصُرْنَا عَلَی الْقَوْمِ الْکَافِرِيْن ۔ (سورہ البقرة)
ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا : نِعْمَ الْمَوْلٰی وَ نِعْمَ النَّصِيْر ۔
بے شک حقیقی معنوں میں اللہ تعالیٰ ہی ’’مولا‘‘ ہے لیکن قرآن مجید میں جبریل علیہ السلام اور صالح مومنین کو بھی مولا قرار دیا گیا ۔ جس سے معلوم ہوا کہ اللہ کے سوا دوسرے کو مولا کہنے سے شرک نہیں ہوتا ورنہ قرآن مجید میں انہیں مولا نہ کہا جاتا ۔ لیکن یہ مولا خود بخود نہیں بنے اللہ کے بنائے سے بنے ہیں ۔
اب رہی یہ بات کہ اللہ کے سوا کیا کسی اور کو حاجت روا اور مشکل کشا کہا جا سکتا ہے یا ایسا کہنا شرک کے دائرے میں آتا ہے ؟
اس کا ایک جواب تو اوپر آگیا کہ فرشتوں اور صالح مومنین کا ’’مولا‘‘ ، مددگار ہونا خود قرآن سے ثابت ہے اور وہ خود مولا نہیں بنے بلکہ یہ منصب انہیں خود اللہ تعالیٰ نے عطا فرمایا ہے ۔ اب سید دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک حدیث پڑھیے اور اس بارے میں خود ہی فیصلہ فرما لیجیے ۔
بخاری و مسلم کی روایت ہے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : مَنْ کَانَ فِیْ حَاجَةِ اَخِيْهِ کَانَ اللّٰهُ فِی حَاجته وَمَن فَرَّجَ عَنْ مُسْلمٍ کُرْبَةً فَرَّجَ اللّٰهُ عَنْهُ بِهَا کُرْبَةَ مِنْ کُرْب يوم الْقيامة ۔
ترجمہ : جو شخص اپنے کسی بھائی کی حاجت روائی کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی حاجت پوری فرماتا ہے ۔ اور جس نے کسی مسلمان کی ایک تکلیف دور کی (مشکل حل کر دی) اللہ تعالیٰ اس کی برکت سے قیامت کی تکلیفوں میں سے اس کی ایک تکلیف دور فرما دے گا ۔
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/293218199580893/
محترم قارئینِ کرام : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت کے ان مولا صفات بندوں میں سے جس ہستی کو تاج سروری عطا کیا گیا وہ خاتون جنت کے شوہر نامدار، حسنین کریمین رضی اللہ عنہما کے والد گرامی حضرت سیدنا مولا علی رضی اللہ عنہ کی ذات گرامی ہے ۔ صحابہ رضی اللہ عنہم کے بھرے مجمعے میں جن کا ہاتھ باعثِ تکوین کائنات فخر موجودات سیدالمرسلین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ہاتھ میں لے کر بلند کیا اور فرمایا : مَنْ کُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِیُّ مَوْلَاهُ ۔
ترجمہ : جس کا میں مولا ہوں علی بھی اسکا مولا ہیں ۔
ہم دیکھتے ہیں کہ جس طرح لوگ مشکلات اور پریشانیوں میں سید دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں رجوع کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی توجہ اور دعا سے انہیں مشکلات سے نجات مل جاتی تھی ، اسی طرح وہ بارگاہ مرتضوی رضی اللہ عنہ سے بھی رجوع کرتے چنانچہ آپ رضی اللہ عنہ کی روحانی توجہ اور دعا سے مشکل کشائی ہو جاتی ۔
اللہ رب العزت نے اپنے خاص دوستوں کو ایسی شان و مرتبہ سے نواز رکھا ہے کہ وہ اپنی خداداد طاقت کے ذریعے لوگوں کے احوال سے نہ صرف آگاہی رکھتے ہیں بلکہ ان کی رہنمائی اور حاجت روائی بھی فرماتے ہیں ۔
کیا کسی انسان کو اللہ کے سوا حاجت روا کہا جا سکتا ہے ۔ کیا اللہ کے علاوہ کسی دوسرے کو حاجت روا کہنے سے شرک تو لازم نہیں آتا ؟
یہ وہ سوال ہے جو ایک طبقہ ہر اس موقع پر داغ دیتا ہے جب ان کے سامنے کسی مقبول خدا کی کوئی کرامت پیش کی جاتی ہے اور اس پر وہ قرآن مجید سے استدلال کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی ولی اور مددگار نہیں ۔ مثلاً : وَمَا لَکُمْ مِّنْ دُوْنِ ﷲِ مِّنْ وَّلِیٍّ وَّلَا نَصِيْرٍ ۔
ترجمہ : اللہ کے سوا نہ تمہارا کوئی ولی ہے نہ مددگار ۔ (سورہ البقرہ آیت نمبر 107)
وَمَا النَّصُر اِلاَّ مِنْ عِنْدِ اللّٰه ۔
ترجمہ : اللہ کی بارگاہ کے علاوہ کوئی اور مدد نہیں ۔ (سورہ اٰل عمران آیت نمبر ۱۲۶)
اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر اللہ کی مرضی اور حکم نہ ہو تو کوئی فرشتہ یا انسان کسی دوسرے کی مدد نہیں کر سکتا ۔ مدد کرنے کی قوت اور طاقت بارگاہ ربوبیت سے ملتی ہے اور اسی کے اذن اور حکم سے مشکل کشائی ہوتی ہے ۔ یہ ہستیاں خواہ فرشتے ہوں ، جن ہوں یا انسان ، حزب اللہ ’’یعنی اللہ کی ٹیم اور جماعت‘‘ کے کارکن ہیں اور ان کے کام، حقیقت میں اللہ کے کام ہیں۔ اس لئے نیابت کے طور پر وہ بھی ولی اور مددگار ہیں۔ جیسا کہ قرآن مجید میں فرمایا گیا : اِنَّمَا وَلِيُّکُمُ اﷲُ وَ رَسُوْلُه وَالَّذِيْنَ اٰٰمَنُوا ۔ (سورہ المائدة آیت نمبر 55)
ترجمہ : بے شک تمہارا ولی (مددگار) تو اللہ ہے اور اس کا رسول ہے اور اہل ایمان تمہارے ولی (مددگار دوست) ہیں ۔
دوسری جگہ ارشاد فرمایا : فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ مَوْلَاهُ وَجِبْرِيلُ وَصَالِحُ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمَلَائِكَةُ بَعْدَ ذَلِكَ ظَهِيرٌ ۔ (سورہ التحريم آیت نمبر 4)
ترجمہ : بے شک اللہ اس (رسول کریم) کا مولا (مددگار) ہے۔ جبریل اور نیک صاحب ایمان لوگ بھی ان کے مددگار ہیں اور اس کے بعد فرشتے بھی کھلم کھلا مددگار ہیں ۔
یاد رہے کہ ’’مولا‘‘ کا لفظ کئی جگہ قرآن مجید میں اللہ رب العزت کے لئے استعمال ہوا ہے ۔
اَنْتَ مَوْلَانَا فَانْصُرْنَا عَلَی الْقَوْمِ الْکَافِرِيْن ۔ (سورہ البقرة)
ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا : نِعْمَ الْمَوْلٰی وَ نِعْمَ النَّصِيْر ۔
بے شک حقیقی معنوں میں اللہ تعالیٰ ہی ’’مولا‘‘ ہے لیکن قرآن مجید میں جبریل علیہ السلام اور صالح مومنین کو بھی مولا قرار دیا گیا ۔ جس سے معلوم ہوا کہ اللہ کے سوا دوسرے کو مولا کہنے سے شرک نہیں ہوتا ورنہ قرآن مجید میں انہیں مولا نہ کہا جاتا ۔ لیکن یہ مولا خود بخود نہیں بنے اللہ کے بنائے سے بنے ہیں ۔
اب رہی یہ بات کہ اللہ کے سوا کیا کسی اور کو حاجت روا اور مشکل کشا کہا جا سکتا ہے یا ایسا کہنا شرک کے دائرے میں آتا ہے ؟
اس کا ایک جواب تو اوپر آگیا کہ فرشتوں اور صالح مومنین کا ’’مولا‘‘ ، مددگار ہونا خود قرآن سے ثابت ہے اور وہ خود مولا نہیں بنے بلکہ یہ منصب انہیں خود اللہ تعالیٰ نے عطا فرمایا ہے ۔ اب سید دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک حدیث پڑھیے اور اس بارے میں خود ہی فیصلہ فرما لیجیے ۔
بخاری و مسلم کی روایت ہے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : مَنْ کَانَ فِیْ حَاجَةِ اَخِيْهِ کَانَ اللّٰهُ فِی حَاجته وَمَن فَرَّجَ عَنْ مُسْلمٍ کُرْبَةً فَرَّجَ اللّٰهُ عَنْهُ بِهَا کُرْبَةَ مِنْ کُرْب يوم الْقيامة ۔
ترجمہ : جو شخص اپنے کسی بھائی کی حاجت روائی کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی حاجت پوری فرماتا ہے ۔ اور جس نے کسی مسلمان کی ایک تکلیف دور کی (مشکل حل کر دی) اللہ تعالیٰ اس کی برکت سے قیامت کی تکلیفوں میں سے اس کی ایک تکلیف دور فرما دے گا ۔
❤1
کیا یہ عجیب بات نہیں کہ اس حدیث میں رحمۃ اللعالمین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی بھائی کی حاجت روائی اور مشکل کشائی کو قابل تحسین قرار دیں ۔ لیکن ہمارے یہ نادان دوست اس کو شرک ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں ۔
اس موضوع پر بے شمار روایات اور دلائل موجود ہیں جن میں حاجت روائی ، مشکل کشائی اور مدد و نصرت کو بندوں کی طرف منسوب کیا گیا ہے ۔ لیکن کوئی ایسا مسلمان نہیں جو ان بندوں کو حقیقی مشکل کشا یا حاجت روا سمجھتا ہو ۔ سب مسلمان یقین رکھتے ہیں کہ یہ رب العزت کی ذات اقدس ہی ہے جو ان بندوں سے اس نوعیت کے کام کرواتی ہے ۔
ایک روایت سے پتہ چلتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ایسے حاجت روا خاص بندے ہمیشہ اور ہر دور میں رہتے ہیں اور ان کی تخلیق ہی اس مقصد کےلیے ہوتی ہے ۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اِنَّ لِلّٰهِ خَلْقًا خَلَقَهُمْ لِحَوَائج النَّاسِ تَفْزع النَّاسُ اِلَيْهمِ فی حوائجهم اولٰئِکَ الاٰمِنُوْنَ مِنْ عَذاب اللّٰهِ ۔ (الترغيب والترهيب 3 : 390، چشتی)
ترجمہ : اللہ تعالیٰ نے لوگوں کی حاجت روائی کےلیے ایک مخلوق پیدا کر رکھی ہے تاکہ لوگ اپنی حاجات کی تکمیل کےلیے ان سے رجوع کریں ۔ یہ لوگ عذاب الہٰی سے محفوظ و مامون ہیں ۔
علامہ محمد اقبال نے انہیں نفوس قدسیہ کے متعلق فرمایا تھا :
خاکی و نوری نہاد ، بندۂ مولا صفات
ہر دو جہاں سے غنی ، اس کا دلِ بے نیاز
اس کی امیدیں قلیل، اس کے مقاصد جلیل
اس کی ادا دلفریب اس کی نگاہ دل نواز
ہاتھ ہے اللہ کا بندۂ مومن کا ہاتھ
غالب و کار آفریں ، کارکشا ، کارساز
حضرت امام یوسف النبھانی رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت امام فخرالدین رازی رحمۃ اللہ علیہ کے حوالے سے سیدنا حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ کی روحانی قوت کا یہ ایک دلچسپ واقعہ جامع کرامات اولیاء میں درج کیا ہے وہ لکھتے ہیں : ایک حبشی غلام حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ سے محبت رکھتا تھا ۔ ایک مرتبہ چوری کے جرم میں اسے حضرت امیرالمومنین رضی اللہ عنہ کی خدمت میں پیش کیا گیا ۔ اس نے اپنے جرم کا اقرار کر لیا تو آپ کے حکم سے حسب قانون اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا ۔ ہاتھ کٹوا کر حبشی غلام دربار مرتضوی سے واپس آرہا تھا کہ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ اور حضرت ابن الکواء سے ملاقات ہوگئی جنہوں نے پوچھا کہ تیرا ہاتھ کس نے کاٹا ہے ؟ غلام کہنے لگا ’’یعسوب المسلمین‘‘ ختنِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور زوج بتول مولا علی رضی اللہ عنہ نے کاٹا ہے ۔ ابن الکواء رضی اللہ عنہ نے پوچھا : انہوں نے تیرا ہاتھ کاٹ دیا ہے اور تو ان کی مدح کرتا ہے ؟ حبشی کہنے لگا میں ان کی مدح کیوں نہ کروں ، انہوں نے مجھے آخرت کی سزا سے بچا لیا ہے ۔ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ اس کی یہ بات سن کر بڑے حیران ہوئے اور جا کر حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں سارا واقعہ بیان کر دیا ۔ حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ نے فوراً غلام کو طلب فرمایا اور اس کا ہاتھ اس کی کلائی کے ساتھ رکھ کر رومال سے ڈھانپ دیا ، کچھ دعائیہ کلمات پڑھے ۔ اچانک ایک آواز آئی کہ کپڑا ہٹادو ، کپڑا ہٹایا گیا تو ہاتھ بالکل صحیح سالم تھا ۔ (جامع کرامات اولیا و جلد اول صفحہ 423،چشتی)
حضرت علامہ امام تاج الدین سبکی رحمۃ اللہ علیہ ’’طبقات‘‘ میں لکھتے ہیں کہ : ایک مرتبہ حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ اور آپ کے دونوں شہزادوں نے رات کی تاریکی میں کسی کو درد بھری آواز میں شعر پڑھتے سنا :
يا من يجيب دعاء المضطر فی الظلم
يا کاشف الضر والبلوی مع السقم
ان کان عفوک لا يرجوه ذو خطاء
فمن يجود علی العاصين بالنعم
ترجمہ : اے وہ ذات اقدس جو تاریکیوں میں مضطرب و بے قرار انسان کی پکار سنتی ہے ۔ اگر خطا کار تیری بخشش کے امیدوار نہ ہوں تو پھر گناہ گاروں پر تیرے سوا نعمتوں کی بارش کون برسائے گا ۔
حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ نے اشعار سنے تو حکم دیا اس شخص کو تلاش کیا جائے ۔ لوگ اسے ڈھونڈ کر لے آئے ، وہ پہلو گھسیٹتا ہوا آپ کے سامنے حاضر ہو گیا ، آپ نے فرمایا : تجھے کیا مصیبت پیش آئی ذرا بیان تو کرو ۔ وہ شخص کہنے لگا : میں عیش و نشاط اور گناہوں میں مبتلا تھا ، میرے والد مجھے نصیحت فرماتے ہوئے کہتے : بیٹا خدا سے ڈرو ، اس کی گرفت بڑی سخت ہے۔ ایک دفعہ جب انہوں نے بار بار نصیحتیں کیں تو مجھے غصہ آگیا اور میں آپے سے باہر ہو گیا اور طیش میں آکر انہیں پیٹ ڈالا ۔ میرے والد نے کہا میں تیری شکایت کعبۃ اللہ جا کر دربار خداوندی میں کروں گا ، چنانچہ وہ کعبہ گئے اور جب واپس آئے تو میرا دایاں پہلو مفلوج ہو چکا تھا ۔ اب مجھے اپنے کیے پر سخت ندامت ہوئی ۔ میں نے اپنے والد سے معافی مانگی اور انہیں راضی کرنے کی کوشش کرتا رہا ۔ آخر کار انہوں نے وعدہ فرما لیا کہ وہ اللہ کے گھر جا کر میرے حق میں دعا کریں گے ۔ میں نے انہیں سفر کےلیے اونٹنی پیش کی جس پر سوار ہوکر وہ مکہ کی طرف روانہ ہوگئے لیکن اونٹنی بھاگ کھڑی ہوئی اور وہ چٹان سے گر کر فوت ہوگئے ۔ حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا :
اس موضوع پر بے شمار روایات اور دلائل موجود ہیں جن میں حاجت روائی ، مشکل کشائی اور مدد و نصرت کو بندوں کی طرف منسوب کیا گیا ہے ۔ لیکن کوئی ایسا مسلمان نہیں جو ان بندوں کو حقیقی مشکل کشا یا حاجت روا سمجھتا ہو ۔ سب مسلمان یقین رکھتے ہیں کہ یہ رب العزت کی ذات اقدس ہی ہے جو ان بندوں سے اس نوعیت کے کام کرواتی ہے ۔
ایک روایت سے پتہ چلتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ایسے حاجت روا خاص بندے ہمیشہ اور ہر دور میں رہتے ہیں اور ان کی تخلیق ہی اس مقصد کےلیے ہوتی ہے ۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اِنَّ لِلّٰهِ خَلْقًا خَلَقَهُمْ لِحَوَائج النَّاسِ تَفْزع النَّاسُ اِلَيْهمِ فی حوائجهم اولٰئِکَ الاٰمِنُوْنَ مِنْ عَذاب اللّٰهِ ۔ (الترغيب والترهيب 3 : 390، چشتی)
ترجمہ : اللہ تعالیٰ نے لوگوں کی حاجت روائی کےلیے ایک مخلوق پیدا کر رکھی ہے تاکہ لوگ اپنی حاجات کی تکمیل کےلیے ان سے رجوع کریں ۔ یہ لوگ عذاب الہٰی سے محفوظ و مامون ہیں ۔
علامہ محمد اقبال نے انہیں نفوس قدسیہ کے متعلق فرمایا تھا :
خاکی و نوری نہاد ، بندۂ مولا صفات
ہر دو جہاں سے غنی ، اس کا دلِ بے نیاز
اس کی امیدیں قلیل، اس کے مقاصد جلیل
اس کی ادا دلفریب اس کی نگاہ دل نواز
ہاتھ ہے اللہ کا بندۂ مومن کا ہاتھ
غالب و کار آفریں ، کارکشا ، کارساز
حضرت امام یوسف النبھانی رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت امام فخرالدین رازی رحمۃ اللہ علیہ کے حوالے سے سیدنا حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ کی روحانی قوت کا یہ ایک دلچسپ واقعہ جامع کرامات اولیاء میں درج کیا ہے وہ لکھتے ہیں : ایک حبشی غلام حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ سے محبت رکھتا تھا ۔ ایک مرتبہ چوری کے جرم میں اسے حضرت امیرالمومنین رضی اللہ عنہ کی خدمت میں پیش کیا گیا ۔ اس نے اپنے جرم کا اقرار کر لیا تو آپ کے حکم سے حسب قانون اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا ۔ ہاتھ کٹوا کر حبشی غلام دربار مرتضوی سے واپس آرہا تھا کہ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ اور حضرت ابن الکواء سے ملاقات ہوگئی جنہوں نے پوچھا کہ تیرا ہاتھ کس نے کاٹا ہے ؟ غلام کہنے لگا ’’یعسوب المسلمین‘‘ ختنِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور زوج بتول مولا علی رضی اللہ عنہ نے کاٹا ہے ۔ ابن الکواء رضی اللہ عنہ نے پوچھا : انہوں نے تیرا ہاتھ کاٹ دیا ہے اور تو ان کی مدح کرتا ہے ؟ حبشی کہنے لگا میں ان کی مدح کیوں نہ کروں ، انہوں نے مجھے آخرت کی سزا سے بچا لیا ہے ۔ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ اس کی یہ بات سن کر بڑے حیران ہوئے اور جا کر حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں سارا واقعہ بیان کر دیا ۔ حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ نے فوراً غلام کو طلب فرمایا اور اس کا ہاتھ اس کی کلائی کے ساتھ رکھ کر رومال سے ڈھانپ دیا ، کچھ دعائیہ کلمات پڑھے ۔ اچانک ایک آواز آئی کہ کپڑا ہٹادو ، کپڑا ہٹایا گیا تو ہاتھ بالکل صحیح سالم تھا ۔ (جامع کرامات اولیا و جلد اول صفحہ 423،چشتی)
حضرت علامہ امام تاج الدین سبکی رحمۃ اللہ علیہ ’’طبقات‘‘ میں لکھتے ہیں کہ : ایک مرتبہ حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ اور آپ کے دونوں شہزادوں نے رات کی تاریکی میں کسی کو درد بھری آواز میں شعر پڑھتے سنا :
يا من يجيب دعاء المضطر فی الظلم
يا کاشف الضر والبلوی مع السقم
ان کان عفوک لا يرجوه ذو خطاء
فمن يجود علی العاصين بالنعم
ترجمہ : اے وہ ذات اقدس جو تاریکیوں میں مضطرب و بے قرار انسان کی پکار سنتی ہے ۔ اگر خطا کار تیری بخشش کے امیدوار نہ ہوں تو پھر گناہ گاروں پر تیرے سوا نعمتوں کی بارش کون برسائے گا ۔
حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ نے اشعار سنے تو حکم دیا اس شخص کو تلاش کیا جائے ۔ لوگ اسے ڈھونڈ کر لے آئے ، وہ پہلو گھسیٹتا ہوا آپ کے سامنے حاضر ہو گیا ، آپ نے فرمایا : تجھے کیا مصیبت پیش آئی ذرا بیان تو کرو ۔ وہ شخص کہنے لگا : میں عیش و نشاط اور گناہوں میں مبتلا تھا ، میرے والد مجھے نصیحت فرماتے ہوئے کہتے : بیٹا خدا سے ڈرو ، اس کی گرفت بڑی سخت ہے۔ ایک دفعہ جب انہوں نے بار بار نصیحتیں کیں تو مجھے غصہ آگیا اور میں آپے سے باہر ہو گیا اور طیش میں آکر انہیں پیٹ ڈالا ۔ میرے والد نے کہا میں تیری شکایت کعبۃ اللہ جا کر دربار خداوندی میں کروں گا ، چنانچہ وہ کعبہ گئے اور جب واپس آئے تو میرا دایاں پہلو مفلوج ہو چکا تھا ۔ اب مجھے اپنے کیے پر سخت ندامت ہوئی ۔ میں نے اپنے والد سے معافی مانگی اور انہیں راضی کرنے کی کوشش کرتا رہا ۔ آخر کار انہوں نے وعدہ فرما لیا کہ وہ اللہ کے گھر جا کر میرے حق میں دعا کریں گے ۔ میں نے انہیں سفر کےلیے اونٹنی پیش کی جس پر سوار ہوکر وہ مکہ کی طرف روانہ ہوگئے لیکن اونٹنی بھاگ کھڑی ہوئی اور وہ چٹان سے گر کر فوت ہوگئے ۔ حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا :
❤1
اگر تمہارا باپ راضی ہوگیا تھا تو اللہ کریم بھی راضی ہے ۔ اس نے کہا قسم بخدا میرے والد راضی ہوگئے تھے ۔ یہ سن کر حضرت حیدر کرار اٹھے ، کئی رکعت نوافل ادا کیے اور دعا فرمائی ۔ پھر فرمایا : تجھے مبارک ہو کھڑا ہو جا ، وہ اٹھا اور بالکل صحیح سلامت چلنے لگا ۔ وہ شخص صحت یاب ہو چکا تھا ۔
تاجدار اقلیم ولایت حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ کی ظاہری حیات مبارکہ میں پیش آنے والے ایسے کئی واقعات تو کتابوں میں منقول ہیں مگر کتب صوفیاء میں بے شمار ایسے واقعات اور مکاشفات بھی موجود ہیں جن سے یہ پتہ چلتا ہے کہ آپ کے روحانی فیوضات کا سلسلہ آج بھی جاری ہے اور حقیقت یہ ہے کہ آپ کے کمالات دراصل کمالاتِ نبوت کا ہی تسلسل ہیں کیونکہ ہر ولی کی کرامت دراصل نبی علیہ السلام کے معجزات کا تسلسل شمار ہوتی ہے ۔ ان کرامات کا منبع اور سرچشمہ بھی نبی علیہ الصلوۃ والسلام کی ذاتِ اقدس ہوتی ہے ۔
حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ ہادی عالم اور مشکل کشاء ہیں اکابرین دیوبند
اکابرین کے پیر و مرشد حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکّی رحمۃ اللہ علیہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے علاوہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بھی مشکل کشاء کہا ہے ۔
دور کر دل سے حجاب جہل و غفلت میرے رب
کھول دے دل میں در علم حقیقت میرے رب
ہادی عالم علی مشکل کشاء کے واسطے
(کلیاتِ امدادیہ صفحہ نمبر 103ط مطبوعہ دار الاشاعت کراچی،چشتی)
ظاہر ہے کہ جب خود "مشکل کشاء" کی اصطلاح نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لئے استعمال کرتے رہے ہیں تو ان کے خلفاء و مریدین کو اس میں کیا عذر لاحق ہوسکتا ہے ۔
مشکل کشاء اور پیر دستگیر
دیوبندیوں کے امام جناب محمد سرفراز خان صفدر کے چھوٹے بھائی جناب صوفی عبدالحمید خان سواتی صاحب نے تو ’’فوائد عثمانی‘‘ کا حوالہ صحیح سمجھ کر نقل کیا ہے جس سے ایک صوفی بزرگ مولانا عثمان کو "مشکل کشاء" اور "پیر دستگیر" کہا گیا ہے ۔ اس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم ، حضرت علی رضی اللہ عنہ کے علاوہ اس صوفی بزرگ کے لئے حسب ذیل القابات میں نہ صرف "مشکل کشاء" بلکہ "دستگیر" کی اصطلاح بھی استعمال کی گئی ہے ۔
ملاحظہ فرمائیں : الہی بحرمت حضرت خواجہ مشکل کشاء ، سید الاولیاء، سندالاتقیاء ، زبدۃالفقہاء، راس العلماء ، رئیس الفضلاء ، شیخ المحدثین ، قبلۃ السالکین ، امام العارفین ، برہان المعرفہ ، شمس الحقیۃ ، فرید العصر ، وحیدالزمان ، حاجی الحرمین الشریفین ، مظہر فیض الرحمن پیر دستگیر حضرت مولانا محمد عثمان رضی اللہ عنہ ۔ (فیوضات حسینی ص 68۔ مطبوعہ مدرسہ نصرۃ العلوم گجرانوالہ1387ھ)
شیخ الاسلام دیوبند جناب حسین احمد مدنی فرماتے ہیں کہ : کیونکہ دعوات میں توسل کرنا خواہ اعمال صالحہ سے ہو یا عابدین صالحین سے ، اولیاء اللہ سے ہو یا انبیاء اللہ سے ، ملائکہ مقربین سے ہو یا اسماء و صفات و افعال الٰہیہ سے ایجابت دعاء میں بہت زیادہ مفید اور موثر اور سلف صالحین کا محمول بہ امر ہے ۔ اس لئے ان شجروں کو اسی طریق توسل پر ترتیب دیا گیا ہے ، مناسب یہ ہے کہ احباب روزانہ کم از کم ایک مرتبہ جونسا بھی شجرہ پسند خاطر ہو پڑھ لیا کریں اپنے لئے اور اس ناکارہ ننگ خاندان کے لئے بھی دعاء کریں ۔ امید قوی ہے کہ اس طریقہ پر دعاء قبول ہوگی ۔ (سلاسل طیبہ صفحہ نمبر 6 مطبوعہ ادارہ اسلامیات انار کلی لاہور،چشتی)
آگے تمام شجروں میں مختلف الفاظ سے اور ایک شجرہ میں واضح طور پر یہ لکھا گیا ہے کہ : ’’ہادی عالم علی مشکل کشاء کے واسطے ۔ یا اللہ ہادی عالم علی مشکل کشاء کے واسطے ، اور صالحین علیہم الرّحمہ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے وسیلہ و واسطے سے کرم فرما ۔ (سلاسلِ طیّبہ صفحہ 14 شیخ الاسلام دیوبند)
ایصال ثواب جائز،دیوبندی پیروں کے وسیلہ سے دعا بحرمت کہہ کر کرنا جائز، دیوبندی پیر دستگیر بھی ہیں اور مشکل کشاء بھی ۔ ( فیوضات حسینی صفحہ نمبر 68 دیوبندی علماء)
قطب العالم دیوبند غوث اعظم ہے (سب سے بڑا فریاد رس) قطب العام دیوبند نبی کریم صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم ثانی ہے ہے ۔ (مرثیہ گنگوہی صفحہ 4 از قلم شیخ الہند دیوبند محمود حسن)
دیوبندیوں کا حاجت روا مشکل کشاء:اب ہم اپنی دین و دنیا کی حاجتیں کہاں لے جائیں وہ ہمارا قبلہ حاجات روحانی و جسمانی گیا۔(مرثیہ گنگوہی صفحہ 7 شیخ الہند دیوبند محمود حسن)
دیوبندیوں کا قطب العالم ، غوث زماں گنج عرفاں دستگیر بیکساں مولوی رشید احمد گنگوہی ہے ۔ (تذکرۃُ الرشید جلد دوم صفحہ 136) کیوں جی یہ شرک نہیں ہے ؟؟
ہم حضرت شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کو غوث اعظم کہیں تو شرک کے فتوے اور دیوبندی اپنے گنگوہی کو غوث الاعظم لکھیں تو جائز۔ تذکرۃ الرشید جلد نمبر 1 صفحہ نمبر 2) کیوں جی دیوبندیو یہاں شرک ہوا کہ نہیں ؟
تاجدار اقلیم ولایت حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ کی ظاہری حیات مبارکہ میں پیش آنے والے ایسے کئی واقعات تو کتابوں میں منقول ہیں مگر کتب صوفیاء میں بے شمار ایسے واقعات اور مکاشفات بھی موجود ہیں جن سے یہ پتہ چلتا ہے کہ آپ کے روحانی فیوضات کا سلسلہ آج بھی جاری ہے اور حقیقت یہ ہے کہ آپ کے کمالات دراصل کمالاتِ نبوت کا ہی تسلسل ہیں کیونکہ ہر ولی کی کرامت دراصل نبی علیہ السلام کے معجزات کا تسلسل شمار ہوتی ہے ۔ ان کرامات کا منبع اور سرچشمہ بھی نبی علیہ الصلوۃ والسلام کی ذاتِ اقدس ہوتی ہے ۔
حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ ہادی عالم اور مشکل کشاء ہیں اکابرین دیوبند
اکابرین کے پیر و مرشد حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکّی رحمۃ اللہ علیہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے علاوہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بھی مشکل کشاء کہا ہے ۔
دور کر دل سے حجاب جہل و غفلت میرے رب
کھول دے دل میں در علم حقیقت میرے رب
ہادی عالم علی مشکل کشاء کے واسطے
(کلیاتِ امدادیہ صفحہ نمبر 103ط مطبوعہ دار الاشاعت کراچی،چشتی)
ظاہر ہے کہ جب خود "مشکل کشاء" کی اصطلاح نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لئے استعمال کرتے رہے ہیں تو ان کے خلفاء و مریدین کو اس میں کیا عذر لاحق ہوسکتا ہے ۔
مشکل کشاء اور پیر دستگیر
دیوبندیوں کے امام جناب محمد سرفراز خان صفدر کے چھوٹے بھائی جناب صوفی عبدالحمید خان سواتی صاحب نے تو ’’فوائد عثمانی‘‘ کا حوالہ صحیح سمجھ کر نقل کیا ہے جس سے ایک صوفی بزرگ مولانا عثمان کو "مشکل کشاء" اور "پیر دستگیر" کہا گیا ہے ۔ اس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم ، حضرت علی رضی اللہ عنہ کے علاوہ اس صوفی بزرگ کے لئے حسب ذیل القابات میں نہ صرف "مشکل کشاء" بلکہ "دستگیر" کی اصطلاح بھی استعمال کی گئی ہے ۔
ملاحظہ فرمائیں : الہی بحرمت حضرت خواجہ مشکل کشاء ، سید الاولیاء، سندالاتقیاء ، زبدۃالفقہاء، راس العلماء ، رئیس الفضلاء ، شیخ المحدثین ، قبلۃ السالکین ، امام العارفین ، برہان المعرفہ ، شمس الحقیۃ ، فرید العصر ، وحیدالزمان ، حاجی الحرمین الشریفین ، مظہر فیض الرحمن پیر دستگیر حضرت مولانا محمد عثمان رضی اللہ عنہ ۔ (فیوضات حسینی ص 68۔ مطبوعہ مدرسہ نصرۃ العلوم گجرانوالہ1387ھ)
شیخ الاسلام دیوبند جناب حسین احمد مدنی فرماتے ہیں کہ : کیونکہ دعوات میں توسل کرنا خواہ اعمال صالحہ سے ہو یا عابدین صالحین سے ، اولیاء اللہ سے ہو یا انبیاء اللہ سے ، ملائکہ مقربین سے ہو یا اسماء و صفات و افعال الٰہیہ سے ایجابت دعاء میں بہت زیادہ مفید اور موثر اور سلف صالحین کا محمول بہ امر ہے ۔ اس لئے ان شجروں کو اسی طریق توسل پر ترتیب دیا گیا ہے ، مناسب یہ ہے کہ احباب روزانہ کم از کم ایک مرتبہ جونسا بھی شجرہ پسند خاطر ہو پڑھ لیا کریں اپنے لئے اور اس ناکارہ ننگ خاندان کے لئے بھی دعاء کریں ۔ امید قوی ہے کہ اس طریقہ پر دعاء قبول ہوگی ۔ (سلاسل طیبہ صفحہ نمبر 6 مطبوعہ ادارہ اسلامیات انار کلی لاہور،چشتی)
آگے تمام شجروں میں مختلف الفاظ سے اور ایک شجرہ میں واضح طور پر یہ لکھا گیا ہے کہ : ’’ہادی عالم علی مشکل کشاء کے واسطے ۔ یا اللہ ہادی عالم علی مشکل کشاء کے واسطے ، اور صالحین علیہم الرّحمہ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے وسیلہ و واسطے سے کرم فرما ۔ (سلاسلِ طیّبہ صفحہ 14 شیخ الاسلام دیوبند)
ایصال ثواب جائز،دیوبندی پیروں کے وسیلہ سے دعا بحرمت کہہ کر کرنا جائز، دیوبندی پیر دستگیر بھی ہیں اور مشکل کشاء بھی ۔ ( فیوضات حسینی صفحہ نمبر 68 دیوبندی علماء)
قطب العالم دیوبند غوث اعظم ہے (سب سے بڑا فریاد رس) قطب العام دیوبند نبی کریم صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم ثانی ہے ہے ۔ (مرثیہ گنگوہی صفحہ 4 از قلم شیخ الہند دیوبند محمود حسن)
دیوبندیوں کا حاجت روا مشکل کشاء:اب ہم اپنی دین و دنیا کی حاجتیں کہاں لے جائیں وہ ہمارا قبلہ حاجات روحانی و جسمانی گیا۔(مرثیہ گنگوہی صفحہ 7 شیخ الہند دیوبند محمود حسن)
دیوبندیوں کا قطب العالم ، غوث زماں گنج عرفاں دستگیر بیکساں مولوی رشید احمد گنگوہی ہے ۔ (تذکرۃُ الرشید جلد دوم صفحہ 136) کیوں جی یہ شرک نہیں ہے ؟؟
ہم حضرت شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کو غوث اعظم کہیں تو شرک کے فتوے اور دیوبندی اپنے گنگوہی کو غوث الاعظم لکھیں تو جائز۔ تذکرۃ الرشید جلد نمبر 1 صفحہ نمبر 2) کیوں جی دیوبندیو یہاں شرک ہوا کہ نہیں ؟
❤2
اگر یہی الفاظ مسلمانان اہلسنت نبی کریم صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم اور اولیاء کرام علیہم الرّحمہ کےلیئے استعمال کرتے ہیں تو شرک کے فتوے مگر اہنے مردہ مٹی میں مل جانے اور گل سڑ جانے والے مولوی کےلیئے یہ سب کچھ جائز ہے آواز دو انصاف کو انصاف کہاں ہے ؟ اور اب تک کسی دیوبندی عالم اور پر جوش موحد نے اس کتاب پر اور لکھنے والے پر نہ کوئی فتویٰ لگایا اور نہ ہی رد لکھا آخر یہ دہرا معیار کیوں جناب اور امت مسلمہ پر فتوے لگا کر وہی افعال خود اپنا کر منافقت دیکھا کر تفرقہ و انتشار کیوں پھیلایا جاتا ہے آخر کیوں ؟ فیصلہ اہل ایمان خود کریں مسلمانان اہلسنت یہ نظریات رکھیں اور کہیں تو شرک کے فتوے اور دیوبندی خود سب کچھ کریں تو جائز آخر یہ دہرا معیار و منافقت اپنا کر امت مسلمہ میں تفرقہ و انتشار کیوں پھیلایا جاتا ہے ؟ ۔
(مزید حصّہ سوم میں ان شاء اللہ) ۔
(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)
(مزید حصّہ سوم میں ان شاء اللہ) ۔
(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)
❤1
https://t.me/islaamic_Knowledge/24764
حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ
کو مشکل کشاء کہنا حصّہ دوم
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/293218199580893/
✍ #ڈاکٹر_فیض_احمد_چشتی
حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ
کو مشکل کشاء کہنا حصّہ دوم
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/293218199580893/
✍ #ڈاکٹر_فیض_احمد_چشتی
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ کو مشکل کشاء کہنا حصّہ سوم
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/293234109579302/
محترم قارئینِ کرام : دیوبندیوں اور وہابیوں کی ڈیوٹی یہ ہے کہ جھوٹ بول بول کر مسلمانانِ اہلسنّت پر شرک کے فتوے لگاتے ہیں ۔ قرآن و حدیث پر مکمل ایمان نہیں رکھتے اور خود غیر اللہ سے مدد مانگتے ہیں مگر فتوے دوسروں پر لگاتے اس مضمون میں ان کی اسی منافقت کو بے نقاب کیا گیا ہے ایک بار مکمل ضرور پڑھیں فضول کمنٹس سے پرھیز کریں :
قرآنی آیاتِ مبارکہ
إِنَّمَا وَلِيُّكُمُ اللّهُ وَرَسُولُهُ وَالَّذِينَ آمَنُواْ الَّذِينَ يُقِيمُونَ الصَّلاَةَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَهُمْ رَاكِعُونَ
(القران 5:55) تمہارا ولی تو بس اللہ ہے، اور اس کا رسول اور وہ جو ایمان رکہتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں اور حالتِ رکوع میں زکوۃ ادا کرتے ہیں۔
وَمَن يَتَوَلَّ اللّهَ وَرَسُولَهُ وَالَّذِينَ آمَنُواْ فَإِنَّ حِزْبَ اللّهِ هُمُ الْغَالِبُونَ ۔ (القران 5:56)
ترجمہ : اور جو اللہ کو اور اس کے رسول کو اور مومنین کو اپنا ولی بناتے ہیں تو بیشک اللہ کی جماعت ہی غالب آنے والی ہے ۔
وَلَوْ أَنَّهُمْ رَضُوْاْ مَا آتَاهُمُ اللّهُ وَرَسُولُهُ وَقَالُواْ حَسْبُنَا اللّهُ سَيُؤْتِينَا اللّهُ مِن فَضْلِهِ وَرَسُولُهُ إِنَّا إِلَى اللّهِ رَاغِبُونَ ۔ (القران 9:59)
ترجمہ : اور اگر وہ اس پر راضی ہو جاتے کی جو کچہ اللہ نے اور اس کے رسول نے انہیں دیا ہے، اور یہ کہتے کہ اللہ ہمارے لیے کافی ہے۔ اور اللہ جلد ہمیں مزید عطا کرے گا اپنے فضل سے اور اس کا رسول بھی ۔
يَحْلِفُونَ بِاللّهِ مَا قَالُواْ وَلَقَدْ قَالُواْ كَلِمَةَ الْكُفْرِ وَكَفَرُواْ بَعْدَ إِسْلاَمِهِمْ وَهَمُّواْ بِمَا لَمْ يَنَالُواْ وَمَا نَقَمُواْ إِلاَّ أَنْ أَغْنَاهُمُ اللّهُ وَرَسُولُهُ مِن فَضْلِهِ فَإِن يَتُوبُواْ يَكُ خَيْرًا ۔ (القران 9:74)
ترجمہ : یہ قسم کہاتے ہیں کہ انہوں نے ایسا نہیں کہا ہے حالانکہ انہوں نے کلمہِ کفر کہا ہے اور ایمان لانے کے بعد کافر ہو گثے ہیں اور وہ ارادہ کیا تھا جو حاصل نہیں کر سکے اور انہیں صرف اس بات کا غصہ ہے کہ اللہ اور اس کے رسول نے اپنے فضل سے انہیں (مسلمانوں) کو غنی کر دیا ہے۔ بہرحال یہ اب بھی توبہ کر لیں تو یہ ان کے حق میں بہتر ہے ۔
فضل سے غنی کرنا تو صرف اللہ کا کام ہے ، مگر اللہ اسی قران میں گواہی دے رہا ہے کہ اللہ کا رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم بھی اپنے فضل سے مسلمانوں کو غنی کرتا ہے۔ تو اب مسئلہ یہ ہے کہ قران کے صرف ظاہر کو لینے اور مجاز کو نظر انداز کرنے کی وجہ سے سب سے پہلے اللہ پر مشرک ہونے کا فتویٰ لگے گا ۔
إِن تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُكُمَا وَإِن تَظَاهَرَا عَلَيْهِ فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ مَوْلَاهُ وَجِبْرِيلُ وَصَالِحُ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمَلَائِكَةُ بَعْدَ ذَلِكَ ظَهِيرٌ ۔ (القران 66:4)
ترجمہ : (اے نبی کی بیویو) اب تم توبہ کرو کہ تمہارے دل ٹیرھے ہو گئے ہیں ورنہ اگر تم اس (رسول) کے خلاف ایک دوسرے کی مدد کرو گی تو یاد رکہو کہ اس (رسول) کا ولی اللہ ہے اور جبرئیل ہیں اور صالح مومنین اور فرشتے سب اس کے مددگار ہیں ۔
غیر مقلد وہابی غیر اللہ سے مدد مانگتے ہیں
وہابی مولوی نواب وحید الزمان لکھتا ہے : غیرُ اللہ سے مدد مانگنا کہ اللہ کے اذن (یعنی عطاء) سے مدد کرتے ہیں یہ شرک نہیں ہے ۔(ہدیۃ المہدی صفحہ نمبر 20۔چشتی)
وہابی مولوی نواب صدیق حسن خان لکھتا ہے : قاضی شوکاں مدد ، قبلہ دیں مدد غیر اللہ سے مدد مانگی جا رہی ہے ۔ ( نفخ الطیب صفحہ نمبر 63 غیر مقلدین کے امام نواب صدیق حسن خان)
قاضی شوکاں مدد ، قبلہ دیں مدد غیر اللہ سے مدد مانگی جا رہی ہے ۔ ( ہدیۃ المہدی صفحہ نمبر 23 نواب وحید الزّمان غیر مقلد اہلحدیث)
نواب صدیق حسن خان کا امام شوکانی سے مدد مانگنا اور غیر مقلد عالم رئیس ندوی کی تاویل
غیر مقلدین کی یہ عادت ہےکہ وہ بات بات پہ دوسروں کے اوپر شرک کا فتوی لگائیں گے اور اگر ویسا ہی حوالہ ان کے علماء کا نکل آئے تو یا تو اپنے عالم کو جوتے کی نوک پہ رکھتے ہوئے اس کا انکار کر دیں گے یا پھر اس کی تاویل شروع کر دیں گے ۔
غیرمقلد ویابیوں کے مشہور عالم نواب صدیق حسن خان صاحب نے اپنی کتاب ''نفخ الطیب'' میں قاضی شوکانی سے مدد مانگی تو اس کی تاویل میں وہابی مولوی رئیس ندوی تاویل کرتے ہوۓ لکھتا ہے کہ '' اشعار میں بڑی نازک خیالی پیش کرنے کی شعراء کی عادت ہے ، یہاں نواب صاحب کی بات کا مطلب ہے کہ اہلحدیث فرقہ کے ساتھ اہل رائے فتنہ پردازی میں مصروف ہے ان کے مقابلہ کےلیے ہمیں امام شوکانی جیسے حامی سنت کی کتابوں سے مدد لینے کی ضرورت پیش ہے ۔ (مجموعہ مقالات پر سلفی تحقیقی جائزہ صفحہ نمبر 868/869،چشتی)
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/293234109579302/
محترم قارئینِ کرام : دیوبندیوں اور وہابیوں کی ڈیوٹی یہ ہے کہ جھوٹ بول بول کر مسلمانانِ اہلسنّت پر شرک کے فتوے لگاتے ہیں ۔ قرآن و حدیث پر مکمل ایمان نہیں رکھتے اور خود غیر اللہ سے مدد مانگتے ہیں مگر فتوے دوسروں پر لگاتے اس مضمون میں ان کی اسی منافقت کو بے نقاب کیا گیا ہے ایک بار مکمل ضرور پڑھیں فضول کمنٹس سے پرھیز کریں :
قرآنی آیاتِ مبارکہ
إِنَّمَا وَلِيُّكُمُ اللّهُ وَرَسُولُهُ وَالَّذِينَ آمَنُواْ الَّذِينَ يُقِيمُونَ الصَّلاَةَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَهُمْ رَاكِعُونَ
(القران 5:55) تمہارا ولی تو بس اللہ ہے، اور اس کا رسول اور وہ جو ایمان رکہتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں اور حالتِ رکوع میں زکوۃ ادا کرتے ہیں۔
وَمَن يَتَوَلَّ اللّهَ وَرَسُولَهُ وَالَّذِينَ آمَنُواْ فَإِنَّ حِزْبَ اللّهِ هُمُ الْغَالِبُونَ ۔ (القران 5:56)
ترجمہ : اور جو اللہ کو اور اس کے رسول کو اور مومنین کو اپنا ولی بناتے ہیں تو بیشک اللہ کی جماعت ہی غالب آنے والی ہے ۔
وَلَوْ أَنَّهُمْ رَضُوْاْ مَا آتَاهُمُ اللّهُ وَرَسُولُهُ وَقَالُواْ حَسْبُنَا اللّهُ سَيُؤْتِينَا اللّهُ مِن فَضْلِهِ وَرَسُولُهُ إِنَّا إِلَى اللّهِ رَاغِبُونَ ۔ (القران 9:59)
ترجمہ : اور اگر وہ اس پر راضی ہو جاتے کی جو کچہ اللہ نے اور اس کے رسول نے انہیں دیا ہے، اور یہ کہتے کہ اللہ ہمارے لیے کافی ہے۔ اور اللہ جلد ہمیں مزید عطا کرے گا اپنے فضل سے اور اس کا رسول بھی ۔
يَحْلِفُونَ بِاللّهِ مَا قَالُواْ وَلَقَدْ قَالُواْ كَلِمَةَ الْكُفْرِ وَكَفَرُواْ بَعْدَ إِسْلاَمِهِمْ وَهَمُّواْ بِمَا لَمْ يَنَالُواْ وَمَا نَقَمُواْ إِلاَّ أَنْ أَغْنَاهُمُ اللّهُ وَرَسُولُهُ مِن فَضْلِهِ فَإِن يَتُوبُواْ يَكُ خَيْرًا ۔ (القران 9:74)
ترجمہ : یہ قسم کہاتے ہیں کہ انہوں نے ایسا نہیں کہا ہے حالانکہ انہوں نے کلمہِ کفر کہا ہے اور ایمان لانے کے بعد کافر ہو گثے ہیں اور وہ ارادہ کیا تھا جو حاصل نہیں کر سکے اور انہیں صرف اس بات کا غصہ ہے کہ اللہ اور اس کے رسول نے اپنے فضل سے انہیں (مسلمانوں) کو غنی کر دیا ہے۔ بہرحال یہ اب بھی توبہ کر لیں تو یہ ان کے حق میں بہتر ہے ۔
فضل سے غنی کرنا تو صرف اللہ کا کام ہے ، مگر اللہ اسی قران میں گواہی دے رہا ہے کہ اللہ کا رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم بھی اپنے فضل سے مسلمانوں کو غنی کرتا ہے۔ تو اب مسئلہ یہ ہے کہ قران کے صرف ظاہر کو لینے اور مجاز کو نظر انداز کرنے کی وجہ سے سب سے پہلے اللہ پر مشرک ہونے کا فتویٰ لگے گا ۔
إِن تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُكُمَا وَإِن تَظَاهَرَا عَلَيْهِ فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ مَوْلَاهُ وَجِبْرِيلُ وَصَالِحُ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمَلَائِكَةُ بَعْدَ ذَلِكَ ظَهِيرٌ ۔ (القران 66:4)
ترجمہ : (اے نبی کی بیویو) اب تم توبہ کرو کہ تمہارے دل ٹیرھے ہو گئے ہیں ورنہ اگر تم اس (رسول) کے خلاف ایک دوسرے کی مدد کرو گی تو یاد رکہو کہ اس (رسول) کا ولی اللہ ہے اور جبرئیل ہیں اور صالح مومنین اور فرشتے سب اس کے مددگار ہیں ۔
غیر مقلد وہابی غیر اللہ سے مدد مانگتے ہیں
وہابی مولوی نواب وحید الزمان لکھتا ہے : غیرُ اللہ سے مدد مانگنا کہ اللہ کے اذن (یعنی عطاء) سے مدد کرتے ہیں یہ شرک نہیں ہے ۔(ہدیۃ المہدی صفحہ نمبر 20۔چشتی)
وہابی مولوی نواب صدیق حسن خان لکھتا ہے : قاضی شوکاں مدد ، قبلہ دیں مدد غیر اللہ سے مدد مانگی جا رہی ہے ۔ ( نفخ الطیب صفحہ نمبر 63 غیر مقلدین کے امام نواب صدیق حسن خان)
قاضی شوکاں مدد ، قبلہ دیں مدد غیر اللہ سے مدد مانگی جا رہی ہے ۔ ( ہدیۃ المہدی صفحہ نمبر 23 نواب وحید الزّمان غیر مقلد اہلحدیث)
نواب صدیق حسن خان کا امام شوکانی سے مدد مانگنا اور غیر مقلد عالم رئیس ندوی کی تاویل
غیر مقلدین کی یہ عادت ہےکہ وہ بات بات پہ دوسروں کے اوپر شرک کا فتوی لگائیں گے اور اگر ویسا ہی حوالہ ان کے علماء کا نکل آئے تو یا تو اپنے عالم کو جوتے کی نوک پہ رکھتے ہوئے اس کا انکار کر دیں گے یا پھر اس کی تاویل شروع کر دیں گے ۔
غیرمقلد ویابیوں کے مشہور عالم نواب صدیق حسن خان صاحب نے اپنی کتاب ''نفخ الطیب'' میں قاضی شوکانی سے مدد مانگی تو اس کی تاویل میں وہابی مولوی رئیس ندوی تاویل کرتے ہوۓ لکھتا ہے کہ '' اشعار میں بڑی نازک خیالی پیش کرنے کی شعراء کی عادت ہے ، یہاں نواب صاحب کی بات کا مطلب ہے کہ اہلحدیث فرقہ کے ساتھ اہل رائے فتنہ پردازی میں مصروف ہے ان کے مقابلہ کےلیے ہمیں امام شوکانی جیسے حامی سنت کی کتابوں سے مدد لینے کی ضرورت پیش ہے ۔ (مجموعہ مقالات پر سلفی تحقیقی جائزہ صفحہ نمبر 868/869،چشتی)
❤1
نواب صدیق حسن خان کے اس شعر کی ایک تاویل مولوی ثناء اللہ امرتسری نے بھی کی ہے ۔غیر مقلد شیخ الاسلام مولوی ثناء اللہ امرتسری کے رسالہ اہلحدیث امرتسر میں ایک قادیانی نے اعتراض کیا کہ نواب صدیق حسن خان فوت شدہ بزرگوں سے استمداد کے قائل تھے ان کا شعر ہے کہ ''ابن قیم مددے قاضی شوکانی مددے'' اس کے جواب میں لکھا ہے کہ ''نواب صاحب کا اس سے مقصود حقیقی استمداد نہیں بلکہ اظہارِ محبت ہے ۔ (رسالہ اہلحدیث امرتسر،3 جون 1938،صفحہ 7)
اس کے علاوہ نواب صدیق حسن خان صاحب نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم سے بھی مدد مانگتے تھے ۔ (مآثر صدیق،حصہ دوم صفحہ 30/31)
بات بات پر اہلسنت و جماعت پر شرک کے فتوے لاگانے والے غیر مقلد وہابی حضرات کیا ؟ اپنے غیر مقلد اہلحدیث عالم نواب صدیق حسن خان کےامام شوکانی ، ابن قیم اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم سے سے مدد مانگنے کے ان حوالوں کو مانیں گے یا اپنے نواب صاحب کو جوتے کی نوک پہ رکھتے ہوئے ان پر بھی شرک کا فتوئ لگائیں گے ؟
دیوبندیوں کے شرکیہ عقاٸد
دیوبندیوں کے نزدیک ایصال ثواب جائز ، دیوبندی پیروں کے وسیلہ سے دعا بحرمت کہہ کر کرنا جائز ، دیوبندی پیر دستگیر بھی ہیں اور مشکل کشاء بھی ۔ (فیوضات حسینی صفحہ نمبر 68 دیوبندی علماء)
دیوبندیوں کا اقرار ہم بزرگوں کی ارواح سے امداد کے منکر نہیں ہیں
سوانح قاسمی میں ایک واقعہ بیان ہوا کہ بانی دیوبند قبر سے آ کر ایک مولوی صاحب کی مدد کرتے ہیں اس طرح دیوبندی علماء اپنے خود ساختہ شرک کے فتوؤں میں جب پھنس گئے تو اپنے بڑوں کو شرک سے بچانے کےلیئے خود ہی اقرار کر لیا کہ ہم بزرگوں کی قبروں اور ان کی ارواح سے مدد کے منکر نہیں ہیں بلکہ یہ قرآن و حدیث سے ثابت ہے اور ہم اسے مانتے ہیں ہم پر انکار کا الزام لگانے والے جاہل ہیں پہلے یہ پڑھیئے :
دیوبندی عالم جناب مناظر احسن گیلانی اپنے بڑوں کو شرک سے بچانے کےلیئے لکھتے ہیں : پس بزرگوں کی ارواح سے مدد لینے کے ہم منکر نہیں ہمارا بھی ارواح صالحین سے مدد کے متعلق وہی عقیدہ ہے جو اہلسنت و جماعت کا ہے اور یہ سب قرآن و حدیث سے ثابت ہے ۔ (حاشیہ سوانح قاسمی جلد نمبر 1 صفحہ نمبر 332 قدیم ایڈیشن و صفحہ نمبر 211 جدید ایڈیشن مطبوعہ مکتبہ رحمانیہ اردو بازار لاہور)
وہابیت کی راہ پر چل کر مسلمانانِ اہلسنت پر یہی عقیدہ و نظریہ رکھنے کی وجہ سے شرک کے فتوے لگانے والے دیوبندی جواب دیں بانی دیوبند ، شیخ الہند دیوبند اور مناظر احسن گیلانی صاحبان مشرک ہوئے کہ نہیں ؟
اور وہ لکھ رہے ہیں ارواح صالحین سے مدد کے انکار کا ہم پر الزام لگانے والے جاہل ہیں اور بہتان لگانے والے ہیں اب بتایئے آپ لوگ بہتان تراش اور جاہل ہیں کہ نہیں جو ارواح صالحین علیہم الرّحمہ سے امداد کے منکر بن کر اسے دیوبند کی طرف منسوب کرتے ہیں ؟
قطب العالمِ دیوبند غوث اعظم ہے (سب سے بڑا فریاد رس) قطب العام دیوبند نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم ثانی ہے ہے ۔ (مرثیہ گنگوہی صفحہ 4 از قلم شیخ الہند دیوبند محمود حسن)
دیوبندیوں کا سب سے بڑا مددگار غوث اعظم گنگوہی ہے ، بانی اسلام کا ثانی گنگوہی ہے، اللہ کا فیض تقسیم کرنے والا ، ابر رحمت ، اللہ کا سایہ ، قطب ہے گنگوہی ۔ (مرثیہ گنگوہی صفحہ نمبر 4،چشتی)
اے مسلمانو دیوبندیوں نے اپنے گنگوہی کو پیغمبرَ اسلام رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا ثانی قرار دیا ھے سوال ھے آپ کی غیرتِ ایمانی سے کیا یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی شانِ اقدس میں گستاخی نہیں ہے فرقہ واریت سے ھٹ کر ایک مسلمان کی حیثیت سے جواب دیجیئے ؟ اور یہ گنگوہی کو اللہ کا فیض تقسیم کرنے والا ، غوث اعظم ، اللہ کا سایہ اور اللہ کی رحمت کہیں تو کوئی شرک نہیں اور مسلمانانزِ اہلسنت پر شرک کے فتوے کیوں جناب عالی ؟
دیوبندیوں کا حاجت روا مشکل کشاء : اب ہم اپنی دین و دنیا کی حاجتیں کہاں لے جائیں وہ ہمارا قبلہ حاجات روحانی و جسمانی گیا ۔ (مرثیہ گنگوہی صفحہ 7 شیخ الہند دیوبند محمود حسن)
دیوبندیوں کا قطب العالم ، غوث زماں گنج عرفاں دستگیر بیکساں مولوی رشید احمد گنگوہی ہے ۔ (تذکرۃُ الرشید جلد دوم صفحہ 136۔چشتی)
ہم حضرت شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کو غوث اعظم کہیں تو شرک کے فتوے اور دیوبندی اپنے گنگوہی کو غوث الاعظم لکھیں تو جائز ۔ (تذکرۃ الرشید جلد نمبر 1 صفحہ نمبر 2)
دیوبندیوں کا مشکل کشاء حاجت روا رشید احمد گنگوہی دیوبندی لکھتے ہیں گنگوہی صاحب کا ایسا مرتبہ تھا کہ گنگوہی کے نام کے وسیلے سے حاجتیں پوری ہوتی تھیں ۔ (تذکرۃُ الرشید جلد دوم صفحہ297۔چشتی)
دیوبندیوں کا غوث (یعنی فریاد سننے والا) رشید احمد گنگوہی ہے جس کے وسیلے سے ہزاروں لوگوں کی حاجتیں پوری ہوتی ہیں ۔ (تذکرۃُ الرّشید جلد دوم صفحہ نمبر 305)
دیوبندیوں کا سب سے بڑا فریاد رس غوثُ الاعظم رشید احمد گنگوہی ہے
اس کے علاوہ نواب صدیق حسن خان صاحب نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم سے بھی مدد مانگتے تھے ۔ (مآثر صدیق،حصہ دوم صفحہ 30/31)
بات بات پر اہلسنت و جماعت پر شرک کے فتوے لاگانے والے غیر مقلد وہابی حضرات کیا ؟ اپنے غیر مقلد اہلحدیث عالم نواب صدیق حسن خان کےامام شوکانی ، ابن قیم اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم سے سے مدد مانگنے کے ان حوالوں کو مانیں گے یا اپنے نواب صاحب کو جوتے کی نوک پہ رکھتے ہوئے ان پر بھی شرک کا فتوئ لگائیں گے ؟
دیوبندیوں کے شرکیہ عقاٸد
دیوبندیوں کے نزدیک ایصال ثواب جائز ، دیوبندی پیروں کے وسیلہ سے دعا بحرمت کہہ کر کرنا جائز ، دیوبندی پیر دستگیر بھی ہیں اور مشکل کشاء بھی ۔ (فیوضات حسینی صفحہ نمبر 68 دیوبندی علماء)
دیوبندیوں کا اقرار ہم بزرگوں کی ارواح سے امداد کے منکر نہیں ہیں
سوانح قاسمی میں ایک واقعہ بیان ہوا کہ بانی دیوبند قبر سے آ کر ایک مولوی صاحب کی مدد کرتے ہیں اس طرح دیوبندی علماء اپنے خود ساختہ شرک کے فتوؤں میں جب پھنس گئے تو اپنے بڑوں کو شرک سے بچانے کےلیئے خود ہی اقرار کر لیا کہ ہم بزرگوں کی قبروں اور ان کی ارواح سے مدد کے منکر نہیں ہیں بلکہ یہ قرآن و حدیث سے ثابت ہے اور ہم اسے مانتے ہیں ہم پر انکار کا الزام لگانے والے جاہل ہیں پہلے یہ پڑھیئے :
دیوبندی عالم جناب مناظر احسن گیلانی اپنے بڑوں کو شرک سے بچانے کےلیئے لکھتے ہیں : پس بزرگوں کی ارواح سے مدد لینے کے ہم منکر نہیں ہمارا بھی ارواح صالحین سے مدد کے متعلق وہی عقیدہ ہے جو اہلسنت و جماعت کا ہے اور یہ سب قرآن و حدیث سے ثابت ہے ۔ (حاشیہ سوانح قاسمی جلد نمبر 1 صفحہ نمبر 332 قدیم ایڈیشن و صفحہ نمبر 211 جدید ایڈیشن مطبوعہ مکتبہ رحمانیہ اردو بازار لاہور)
وہابیت کی راہ پر چل کر مسلمانانِ اہلسنت پر یہی عقیدہ و نظریہ رکھنے کی وجہ سے شرک کے فتوے لگانے والے دیوبندی جواب دیں بانی دیوبند ، شیخ الہند دیوبند اور مناظر احسن گیلانی صاحبان مشرک ہوئے کہ نہیں ؟
اور وہ لکھ رہے ہیں ارواح صالحین سے مدد کے انکار کا ہم پر الزام لگانے والے جاہل ہیں اور بہتان لگانے والے ہیں اب بتایئے آپ لوگ بہتان تراش اور جاہل ہیں کہ نہیں جو ارواح صالحین علیہم الرّحمہ سے امداد کے منکر بن کر اسے دیوبند کی طرف منسوب کرتے ہیں ؟
قطب العالمِ دیوبند غوث اعظم ہے (سب سے بڑا فریاد رس) قطب العام دیوبند نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم ثانی ہے ہے ۔ (مرثیہ گنگوہی صفحہ 4 از قلم شیخ الہند دیوبند محمود حسن)
دیوبندیوں کا سب سے بڑا مددگار غوث اعظم گنگوہی ہے ، بانی اسلام کا ثانی گنگوہی ہے، اللہ کا فیض تقسیم کرنے والا ، ابر رحمت ، اللہ کا سایہ ، قطب ہے گنگوہی ۔ (مرثیہ گنگوہی صفحہ نمبر 4،چشتی)
اے مسلمانو دیوبندیوں نے اپنے گنگوہی کو پیغمبرَ اسلام رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا ثانی قرار دیا ھے سوال ھے آپ کی غیرتِ ایمانی سے کیا یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی شانِ اقدس میں گستاخی نہیں ہے فرقہ واریت سے ھٹ کر ایک مسلمان کی حیثیت سے جواب دیجیئے ؟ اور یہ گنگوہی کو اللہ کا فیض تقسیم کرنے والا ، غوث اعظم ، اللہ کا سایہ اور اللہ کی رحمت کہیں تو کوئی شرک نہیں اور مسلمانانزِ اہلسنت پر شرک کے فتوے کیوں جناب عالی ؟
دیوبندیوں کا حاجت روا مشکل کشاء : اب ہم اپنی دین و دنیا کی حاجتیں کہاں لے جائیں وہ ہمارا قبلہ حاجات روحانی و جسمانی گیا ۔ (مرثیہ گنگوہی صفحہ 7 شیخ الہند دیوبند محمود حسن)
دیوبندیوں کا قطب العالم ، غوث زماں گنج عرفاں دستگیر بیکساں مولوی رشید احمد گنگوہی ہے ۔ (تذکرۃُ الرشید جلد دوم صفحہ 136۔چشتی)
ہم حضرت شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کو غوث اعظم کہیں تو شرک کے فتوے اور دیوبندی اپنے گنگوہی کو غوث الاعظم لکھیں تو جائز ۔ (تذکرۃ الرشید جلد نمبر 1 صفحہ نمبر 2)
دیوبندیوں کا مشکل کشاء حاجت روا رشید احمد گنگوہی دیوبندی لکھتے ہیں گنگوہی صاحب کا ایسا مرتبہ تھا کہ گنگوہی کے نام کے وسیلے سے حاجتیں پوری ہوتی تھیں ۔ (تذکرۃُ الرشید جلد دوم صفحہ297۔چشتی)
دیوبندیوں کا غوث (یعنی فریاد سننے والا) رشید احمد گنگوہی ہے جس کے وسیلے سے ہزاروں لوگوں کی حاجتیں پوری ہوتی ہیں ۔ (تذکرۃُ الرّشید جلد دوم صفحہ نمبر 305)
دیوبندیوں کا سب سے بڑا فریاد رس غوثُ الاعظم رشید احمد گنگوہی ہے
❤1
عاشق الٰہی بلند شہری دیوبندی لکھتا ہے : رشید احمد گنگوہی قُطبُ العالم اور غوثُ الاعظم ہیں ۔ (تذ کرۃُ الرّشید جلد اوّل قدیم ایڈیشن صفحہ نمبر 2)
کوئی دیوبندی قطب العالم اور غوثُ الاعظم کے معنیٰ بتائے گا ؟
مسلمانانِ اہلسنّت حضرت شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کو غوثُ الاعظم کہیں تو شرک کے فتوے اور تم اپنے مولوی کو غوثُ الاعظم کہو لکھو تو عین توحید اور ایمان ہو جائے کیوں جناب من یہاں شرک کے فتویٰ کہاں گیا ؟
یا مان لو کہ مسلمانانِ اہلسنت کے عقائد و نظریات حق ہیں یا اپنے مولویوں پر فتویٰ لگاؤ شرک کا ؟
اپنے لیئے شریعت اور دوسروں کےلیئے اور یہ دہرا معیار چھوڑ کر فتنہ فساد اور تفرقہ پھیلانا چھوڑ دو ۔
دیوبندیوں کا مولوی مظہرِ نورِ ذاتِ خدا ، رنج و غم ٹالنے والا اور چارہ ساز بھی ہے جو اٹھ گیا اب کون رنج و غم مٹائے گا اور چارہ سازی کرے گا چارہ ساز جو اٹھ گیا ۔ (مرثیہ شیخ مدنی صفحہ 24 مطبوعہ راشد کمپنی دیوبند یوپی)
یہی الفاظ مسلمانانِ اہلسنّت کہیں تو شرک مگر یہاں جائز ؟
گنج بخش فیض عالم مظہرِ نورِ خدا پر شرک کے فتوے لگانے والے دیوبندی مفتیو اب لگاؤ نا یہاں شرک کے فتوے ؟
جس نے اللہ کا دیدار کرنا ہو وہ دیوبندیوں کے مولوی کی قبر کی زیارت کرے
دیوبندیوں کے مولوی کی قبر کو دیکھنا اللہ کو دیکھنا ہے ، انوار و برکات ہیں ، دیوبندی مولوی دیوبندیوں کا مولا ہے ، دیوبندی مردہ مولوی کی قبر کی زیارت سے اسرار عیاں ہوتے ہیں ۔ دیوبندی مولوی کی قبر کی زیارت سے دیدار رب العالمین ہوگا ، قبر کو اونچا کرنا چاہا تو قبر والے دیوبندی مولوی کو علم ہو گیا کہا نہ کرو خلافِ سنت ہے اور دیوبندی مولوی کا لوہاری عورت سے عشق ۔ (تاریخ مشائخ چشت صفحہ 235 ، 236 علامہ محمد زکریا کاندھلوی دیوبندی سابق شیخ الحدیث دارالعلوم دیوبند)
دیوبندیوں کا مولوی جانتا ہے کون حلال خرید کر لایا ہے اور کون حرام حلال کے پیسوں کے سیب الگ کردیئے اور حرام کے پیسوں کے الگ کر دیئے ۔ (خوشبو والا عقیدہ حیات النبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم صفحہ نمبر 87 ، 88۔چشتی) ۔ یہاں شرک نہیں ہوا جناب ؟
حکیم الامت دیوبند نے پکارا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلّم میری مدد کیجیے
حکیم الامتِ دیوبند لکھتے ہیں : یارسول اللہ میری مدد کیجیے آپ کے سوا کہاں میری پناہ ، مشکل میں آپ ہی تو ہیں ، یارسول للہ مد کیجیے ۔ (نشر الطیب صفحہ نمبر 194 علامہ اشرف علی تھانوی مطبوعہ تاج کمپنی پاکستان)
حکیم الامت دیوبند نے پکارا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلّم آپ ہم سے دور نہیں
حکیم الامت دیوبند علامہ اشرف علی تھانوی دیوبندی لکھتے ہیں : یا مصطفیٰ یا مجتبیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم آپ ہمارے مددگار ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے صدقے مشکلیں حل ہوتی ہیں اگر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم دور ہوں تو ہم مر جائیں ۔ (حیٰوۃُ المسلمین صفحہ نمبر 51 علاّمہ اشرف علی تھانوی دیوبندی مطبوعہ المیزان اردو بازار لاہور۔چشتی)
پکارو یارسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم مدد حکیمُ الاُمتِ دیوبند کی زبانی
ضروری نوٹ : دیئے گئے اشعار مؤلف یعنی حکیمُ الاُمتِ دیوبند جناب اشرف علی تھانوی صاحب کے ہیں ۔
حکیمُ الاُمتِ دیوبند جناب اشرف علی تھانوی صاحب لکھتے ہیں :
یا شفیع العباد خذبیدی
دستگیری کیجئے میری نبی
انت فی الضطرار معتمدی
کشمکش میں تم ہی ہو میرے ولی
لیس لی ملجاء سواک اغث
جز تمہارے ہے کہاں میری پناہ
مسنی الضر سیدی سندی
فوج کلفت مجھ پہ آ غالب ہوئی
غشنی الدھر ابن عبداللہ
ابن عبداللہ زمانہ ہے خلاف
کن مغیثا فانت لی مدری
اے مرے مولٰی خبر لیجئے مری
نام احمد چوں حصینے شد حصین
پس چہ باشد ذات آں روح الامین
کچھ عمل ہی اور نہ اطاعت میرے پاس
ہے مگر دل میں محبت آپ کی
میں ہوں بس اور آپ کا دریا یارسول
ابر غم گھیرے نہ پھر مجھ کو کبھی
خواب میں چہرہ دکھا دیجئے مجھے
اور میرے عیبوں کو کر دیجئے خفی
درگزر کرنا خطاو عیب سے
سب سے بڑھ کر ہے یہ خصلت آپ کی
سب خلائق کیلئے رحمت ہیں آپ
خاص کر جو ہیں گناہگار و غوی
کاش ہو جاتا مدینہ کی میں خاک
نعل بوسی ہوتی کافی آپ کی
آپ پر ہوں رحمتیں بے انتہا
حضرت حق کی طرف سے دائمی
جس قدر دنیا میں ہے ریت اور سانس
اور بھی ہے جس قدر روئیگی
اور تمہاری آل پر اصحاب پر
تابقائے عمر دار اخروی
(نشر الطیب صفحہ نمبر 194 ، 195 ۔ حکیمُ الاُمتِ دیوبند جناب اشرف علی تھانوی مطبوعہ تاج کمپنی پاکستان،چشتی)
فیس بک کے مفتیانِ دیوبند سے سادہ سا سوال اس طرح پکار کر حکیم الامتِ دیوبند مشرک ہوئے کہ نہیں ؟
اگر نہیں تو کیوں ؟
اگر مشرک ہوئے تو آج تک کتنے دیوبندی علماء نے تھانوی صاحب اور ان کی اس کتاب پر شرک کے فتوے لگائے ہیں ؟
کوئی ایک فتویٰ بطور ثبوت دیجیے ؟
اِدھر اُدھر کی باتیں جواب تصور نہیں کی جائیں گی صرف اتنا جواب دیا جائے اس طرح پکارنا جائز ہے یا شرک ؟
کوئی دیوبندی قطب العالم اور غوثُ الاعظم کے معنیٰ بتائے گا ؟
مسلمانانِ اہلسنّت حضرت شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کو غوثُ الاعظم کہیں تو شرک کے فتوے اور تم اپنے مولوی کو غوثُ الاعظم کہو لکھو تو عین توحید اور ایمان ہو جائے کیوں جناب من یہاں شرک کے فتویٰ کہاں گیا ؟
یا مان لو کہ مسلمانانِ اہلسنت کے عقائد و نظریات حق ہیں یا اپنے مولویوں پر فتویٰ لگاؤ شرک کا ؟
اپنے لیئے شریعت اور دوسروں کےلیئے اور یہ دہرا معیار چھوڑ کر فتنہ فساد اور تفرقہ پھیلانا چھوڑ دو ۔
دیوبندیوں کا مولوی مظہرِ نورِ ذاتِ خدا ، رنج و غم ٹالنے والا اور چارہ ساز بھی ہے جو اٹھ گیا اب کون رنج و غم مٹائے گا اور چارہ سازی کرے گا چارہ ساز جو اٹھ گیا ۔ (مرثیہ شیخ مدنی صفحہ 24 مطبوعہ راشد کمپنی دیوبند یوپی)
یہی الفاظ مسلمانانِ اہلسنّت کہیں تو شرک مگر یہاں جائز ؟
گنج بخش فیض عالم مظہرِ نورِ خدا پر شرک کے فتوے لگانے والے دیوبندی مفتیو اب لگاؤ نا یہاں شرک کے فتوے ؟
جس نے اللہ کا دیدار کرنا ہو وہ دیوبندیوں کے مولوی کی قبر کی زیارت کرے
دیوبندیوں کے مولوی کی قبر کو دیکھنا اللہ کو دیکھنا ہے ، انوار و برکات ہیں ، دیوبندی مولوی دیوبندیوں کا مولا ہے ، دیوبندی مردہ مولوی کی قبر کی زیارت سے اسرار عیاں ہوتے ہیں ۔ دیوبندی مولوی کی قبر کی زیارت سے دیدار رب العالمین ہوگا ، قبر کو اونچا کرنا چاہا تو قبر والے دیوبندی مولوی کو علم ہو گیا کہا نہ کرو خلافِ سنت ہے اور دیوبندی مولوی کا لوہاری عورت سے عشق ۔ (تاریخ مشائخ چشت صفحہ 235 ، 236 علامہ محمد زکریا کاندھلوی دیوبندی سابق شیخ الحدیث دارالعلوم دیوبند)
دیوبندیوں کا مولوی جانتا ہے کون حلال خرید کر لایا ہے اور کون حرام حلال کے پیسوں کے سیب الگ کردیئے اور حرام کے پیسوں کے الگ کر دیئے ۔ (خوشبو والا عقیدہ حیات النبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم صفحہ نمبر 87 ، 88۔چشتی) ۔ یہاں شرک نہیں ہوا جناب ؟
حکیم الامت دیوبند نے پکارا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلّم میری مدد کیجیے
حکیم الامتِ دیوبند لکھتے ہیں : یارسول اللہ میری مدد کیجیے آپ کے سوا کہاں میری پناہ ، مشکل میں آپ ہی تو ہیں ، یارسول للہ مد کیجیے ۔ (نشر الطیب صفحہ نمبر 194 علامہ اشرف علی تھانوی مطبوعہ تاج کمپنی پاکستان)
حکیم الامت دیوبند نے پکارا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلّم آپ ہم سے دور نہیں
حکیم الامت دیوبند علامہ اشرف علی تھانوی دیوبندی لکھتے ہیں : یا مصطفیٰ یا مجتبیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم آپ ہمارے مددگار ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے صدقے مشکلیں حل ہوتی ہیں اگر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم دور ہوں تو ہم مر جائیں ۔ (حیٰوۃُ المسلمین صفحہ نمبر 51 علاّمہ اشرف علی تھانوی دیوبندی مطبوعہ المیزان اردو بازار لاہور۔چشتی)
پکارو یارسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم مدد حکیمُ الاُمتِ دیوبند کی زبانی
ضروری نوٹ : دیئے گئے اشعار مؤلف یعنی حکیمُ الاُمتِ دیوبند جناب اشرف علی تھانوی صاحب کے ہیں ۔
حکیمُ الاُمتِ دیوبند جناب اشرف علی تھانوی صاحب لکھتے ہیں :
یا شفیع العباد خذبیدی
دستگیری کیجئے میری نبی
انت فی الضطرار معتمدی
کشمکش میں تم ہی ہو میرے ولی
لیس لی ملجاء سواک اغث
جز تمہارے ہے کہاں میری پناہ
مسنی الضر سیدی سندی
فوج کلفت مجھ پہ آ غالب ہوئی
غشنی الدھر ابن عبداللہ
ابن عبداللہ زمانہ ہے خلاف
کن مغیثا فانت لی مدری
اے مرے مولٰی خبر لیجئے مری
نام احمد چوں حصینے شد حصین
پس چہ باشد ذات آں روح الامین
کچھ عمل ہی اور نہ اطاعت میرے پاس
ہے مگر دل میں محبت آپ کی
میں ہوں بس اور آپ کا دریا یارسول
ابر غم گھیرے نہ پھر مجھ کو کبھی
خواب میں چہرہ دکھا دیجئے مجھے
اور میرے عیبوں کو کر دیجئے خفی
درگزر کرنا خطاو عیب سے
سب سے بڑھ کر ہے یہ خصلت آپ کی
سب خلائق کیلئے رحمت ہیں آپ
خاص کر جو ہیں گناہگار و غوی
کاش ہو جاتا مدینہ کی میں خاک
نعل بوسی ہوتی کافی آپ کی
آپ پر ہوں رحمتیں بے انتہا
حضرت حق کی طرف سے دائمی
جس قدر دنیا میں ہے ریت اور سانس
اور بھی ہے جس قدر روئیگی
اور تمہاری آل پر اصحاب پر
تابقائے عمر دار اخروی
(نشر الطیب صفحہ نمبر 194 ، 195 ۔ حکیمُ الاُمتِ دیوبند جناب اشرف علی تھانوی مطبوعہ تاج کمپنی پاکستان،چشتی)
فیس بک کے مفتیانِ دیوبند سے سادہ سا سوال اس طرح پکار کر حکیم الامتِ دیوبند مشرک ہوئے کہ نہیں ؟
اگر نہیں تو کیوں ؟
اگر مشرک ہوئے تو آج تک کتنے دیوبندی علماء نے تھانوی صاحب اور ان کی اس کتاب پر شرک کے فتوے لگائے ہیں ؟
کوئی ایک فتویٰ بطور ثبوت دیجیے ؟
اِدھر اُدھر کی باتیں جواب تصور نہیں کی جائیں گی صرف اتنا جواب دیا جائے اس طرح پکارنا جائز ہے یا شرک ؟
❤1
الصّلوٰۃ والسّلام علیک یارسول اللہ پڑھنے کے جواز میں کوئی شک نہیں ہے کیونکہ عالم امر مقید نہیں ہے دور و نزدیک کوئی حیثیت نہیں رکھتا فرمان مرشد اکابرین دیوبند جناب حاجی امداد اللہ مہاجر مکی رحمۃ اللہ علیہ امداد المشتاق صفحہ نمبر 60 ۔
اور مسلک حق کا فیصلہ کیجیئے ساتھ ہی کھسیانی بلی کھمبا نوچے کی زندہ عملی مثال تھانوی صاحب کا حاشیہ پڑھیئے کہتے ہیں پڑھنے والے کو اگر کشفی کیفیت حاصل ہو تو پڑھ سکتا ہے ورنہ اجازت نہیں دی جائے گی مگر تھانوی صاحب اسے ناجائز نہیں لکھ سکے اگر وہ یا کوئی دیوبندی اسے ناجائز ، یا شرک کہتا ہے تو مرشد اکابرین دیوبند کو ناجائز کام کا مرتکب اور مشرک قرار دینا پڑے گا اس لیئے کہ ناجائز شرک ہر ایک کےلیئے ناجائز و شرک ہوگا ۔
کیا حاجی صاحب کے اس فرمان پر تھانوی صاحب سمیت کسی بھی دیوبندی عالم نے شرک و گمراہی کا فتویٰ لگایا اگر لگایا ہے تو ہمارے علم میں اضافہ کےلیئے بتایا جائے ؟
اگر نہیں لگا تو مسلمانان اہلسنت کیا کیا قصور ہے کہ وہ یہ درود پڑھیں تو دیوبند کی شرک و گمراہی کی توپیں کھل جاتی ہیں اور امت مسلمہ پر فتوے لگا کر انتشار و فساد پھیلایا جاتا ہے آخر یہ دوغلہ پن و دہرا معیار فتویٰ کیوں ؟
یاد رہے اس جملہ پر بھی غور کیا جائے کہ : عالمِ امر مقید نہیں ہے دور و نزدیک کوئی حیثیت نہیں ۔ جب دور و نزدیک کوئی حیثیت نہیں رکھتا تو دور و نزدیک بحث عبث یعنی بے کار ہے ۔
حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ ہادی عالم اور مشکل کشاء ہیں اکابرین دیوبند
اکابرین کے پیر و مرشد حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکّی رحمۃ اللہ علیہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے علاوہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بھی مشکل کشاء کہا ہے ۔
دور کر دل سے حجاب جہل و غفلت میرے رب
کھول دے دل میں در علم حقیقت میرے رب
ہادی عالم علی مشکل کشاء کے واسطے
(کلیاتِ امدادیہ صفحہ نمبر 103ط مطبوعہ دار الاشاعت کراچی)
ظاہر ہے کہ جب خود "مشکل کشاء" کی اصطلاح نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لئے استعمال کرتے رہے ہیں تو ان کے خلفاء و مریدین کو اس میں کیا عذر لاحق ہوسکتا ہے ۔
مشکل کشاء اور پیر دستگیر
دیوبندیوں کے امام جناب محمد سرفراز خان صفدر کے چھوٹے بھائی جناب صوفی عبدالحمید خان سواتی صاحب نے تو ’’فوائد عثمانی‘‘ کا حوالہ صحیح سمجھ کر نقل کیا ہے جس سے ایک صوفی بزرگ مولانا عثمان کو "مشکل کشاء" اور "پیر دستگیر" کہا گیا ہے ۔ اس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم ، حضرت علی رضی اللہ عنہ کے علاوہ اس صوفی بزرگ کے لئے حسب ذیل القابات میں نہ صرف "مشکل کشاء" بلکہ "دستگیر" کی اصطلاح بھی استعمال کی گئی ہے ۔
ملاحظہ فرمائیں : الہی بحرمت حضرت خواجہ مشکل کشاء ، سید الاولیاء، سندالاتقیاء ، زبدۃالفقہاء، راس العلماء ، رئیس الفضلاء ، شیخ المحدثین ، قبلۃ السالکین ، امام العارفین ، برہان المعرفہ ، شمس الحقیۃ ، فرید العصر ، وحیدالزمان ، حاجی الحرمین الشریفین ، مظہر فیض الرحمن پیر دستگیر حضرت مولانا محمد عثمان رضی اللہ عنہ ۔ (فیوضات حسینی ص 68۔ مطبوعہ مدرسہ نصرۃ العلوم گجرانوالہ1387ھ)
شیخ الاسلام دیوبند جناب حسین احمد مدنی فرماتے ہیں کہ : کیونکہ دعوات میں توسل کرنا خواہ اعمال صالحہ سے ہو یا عابدین صالحین سے ، اولیاء اللہ سے ہو یا انبیاء اللہ سے ، ملائکہ مقربین سے ہو یا اسماء و صفات و افعال الٰہیہ سے ایجابت دعاء میں بہت زیادہ مفید اور موثر اور سلف صالحین کا محمول بہ امر ہے ۔ اس لئے ان شجروں کو اسی طریق توسل پر ترتیب دیا گیا ہے ، مناسب یہ ہے کہ احباب روزانہ کم از کم ایک مرتبہ جونسا بھی شجرہ پسند خاطر ہو پڑھ لیا کریں اپنے لئے اور اس ناکارہ ننگ خاندان کے لئے بھی دعاء کریں ۔ امید قوی ہے کہ اس طریقہ پر دعاء قبول ہوگی ۔ (سلاسل طیبہ صفحہ نمبر 6 مطبوعہ ادارہ اسلامیات انار کلی لاہور،چشتی)
آگے تمام شجروں میں مختلف الفاظ سے اور ایک شجرہ میں واضح طور پر یہ لکھا گیا ہے کہ : ’’ہادی عالم علی مشکل کشاء کے واسطے ۔ یا اللہ ہادی عالم علی مشکل کشاء کے واسطے ، اور صالحین علیہم الرّحمہ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے وسیلہ و واسطے سے کرم فرما ۔ (سلاسلِ طیّبہ صفحہ 14 شیخ الاسلام دیوبند)
اگر یہی الفاظ مسلمانانِ اہلسنت نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم اور اولیاء کرام علیہم الرّحمہ کےلیئے استعمال کرتے ہیں تو شرک کے فتوے مگر اہنے مردہ مٹی میں مل جانے اور گل سڑ جانے والے مولوی کےلیئے یہ سب کچھ جائز ہے آواز دو انصاف کو انصاف کہاں ہے ؟ اور اب تک کسی دیوبندی عالم اور پر جوش موحد نے اس کتاب پر اور لکھنے والے پر نہ کوئی فتویٰ لگایا اور نہ ہی رد لکھا آخر یہ دہرا معیار کیوں جناب اور امت مسلمہ پر فتوے لگا کر وہی افعال خود اپنا کر منافقت دیکھا کر تفرقہ و انتشار کیوں پھیلایا جاتا ہے آخر کیوں ؟ اصل اسکن پیش خدمت ہیں فیصلہ اہل ایمان خود کریں مسلمانان اہلسنت یہ نظریات رکھیں اور کہیں
اور مسلک حق کا فیصلہ کیجیئے ساتھ ہی کھسیانی بلی کھمبا نوچے کی زندہ عملی مثال تھانوی صاحب کا حاشیہ پڑھیئے کہتے ہیں پڑھنے والے کو اگر کشفی کیفیت حاصل ہو تو پڑھ سکتا ہے ورنہ اجازت نہیں دی جائے گی مگر تھانوی صاحب اسے ناجائز نہیں لکھ سکے اگر وہ یا کوئی دیوبندی اسے ناجائز ، یا شرک کہتا ہے تو مرشد اکابرین دیوبند کو ناجائز کام کا مرتکب اور مشرک قرار دینا پڑے گا اس لیئے کہ ناجائز شرک ہر ایک کےلیئے ناجائز و شرک ہوگا ۔
کیا حاجی صاحب کے اس فرمان پر تھانوی صاحب سمیت کسی بھی دیوبندی عالم نے شرک و گمراہی کا فتویٰ لگایا اگر لگایا ہے تو ہمارے علم میں اضافہ کےلیئے بتایا جائے ؟
اگر نہیں لگا تو مسلمانان اہلسنت کیا کیا قصور ہے کہ وہ یہ درود پڑھیں تو دیوبند کی شرک و گمراہی کی توپیں کھل جاتی ہیں اور امت مسلمہ پر فتوے لگا کر انتشار و فساد پھیلایا جاتا ہے آخر یہ دوغلہ پن و دہرا معیار فتویٰ کیوں ؟
یاد رہے اس جملہ پر بھی غور کیا جائے کہ : عالمِ امر مقید نہیں ہے دور و نزدیک کوئی حیثیت نہیں ۔ جب دور و نزدیک کوئی حیثیت نہیں رکھتا تو دور و نزدیک بحث عبث یعنی بے کار ہے ۔
حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ ہادی عالم اور مشکل کشاء ہیں اکابرین دیوبند
اکابرین کے پیر و مرشد حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکّی رحمۃ اللہ علیہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے علاوہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بھی مشکل کشاء کہا ہے ۔
دور کر دل سے حجاب جہل و غفلت میرے رب
کھول دے دل میں در علم حقیقت میرے رب
ہادی عالم علی مشکل کشاء کے واسطے
(کلیاتِ امدادیہ صفحہ نمبر 103ط مطبوعہ دار الاشاعت کراچی)
ظاہر ہے کہ جب خود "مشکل کشاء" کی اصطلاح نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لئے استعمال کرتے رہے ہیں تو ان کے خلفاء و مریدین کو اس میں کیا عذر لاحق ہوسکتا ہے ۔
مشکل کشاء اور پیر دستگیر
دیوبندیوں کے امام جناب محمد سرفراز خان صفدر کے چھوٹے بھائی جناب صوفی عبدالحمید خان سواتی صاحب نے تو ’’فوائد عثمانی‘‘ کا حوالہ صحیح سمجھ کر نقل کیا ہے جس سے ایک صوفی بزرگ مولانا عثمان کو "مشکل کشاء" اور "پیر دستگیر" کہا گیا ہے ۔ اس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم ، حضرت علی رضی اللہ عنہ کے علاوہ اس صوفی بزرگ کے لئے حسب ذیل القابات میں نہ صرف "مشکل کشاء" بلکہ "دستگیر" کی اصطلاح بھی استعمال کی گئی ہے ۔
ملاحظہ فرمائیں : الہی بحرمت حضرت خواجہ مشکل کشاء ، سید الاولیاء، سندالاتقیاء ، زبدۃالفقہاء، راس العلماء ، رئیس الفضلاء ، شیخ المحدثین ، قبلۃ السالکین ، امام العارفین ، برہان المعرفہ ، شمس الحقیۃ ، فرید العصر ، وحیدالزمان ، حاجی الحرمین الشریفین ، مظہر فیض الرحمن پیر دستگیر حضرت مولانا محمد عثمان رضی اللہ عنہ ۔ (فیوضات حسینی ص 68۔ مطبوعہ مدرسہ نصرۃ العلوم گجرانوالہ1387ھ)
شیخ الاسلام دیوبند جناب حسین احمد مدنی فرماتے ہیں کہ : کیونکہ دعوات میں توسل کرنا خواہ اعمال صالحہ سے ہو یا عابدین صالحین سے ، اولیاء اللہ سے ہو یا انبیاء اللہ سے ، ملائکہ مقربین سے ہو یا اسماء و صفات و افعال الٰہیہ سے ایجابت دعاء میں بہت زیادہ مفید اور موثر اور سلف صالحین کا محمول بہ امر ہے ۔ اس لئے ان شجروں کو اسی طریق توسل پر ترتیب دیا گیا ہے ، مناسب یہ ہے کہ احباب روزانہ کم از کم ایک مرتبہ جونسا بھی شجرہ پسند خاطر ہو پڑھ لیا کریں اپنے لئے اور اس ناکارہ ننگ خاندان کے لئے بھی دعاء کریں ۔ امید قوی ہے کہ اس طریقہ پر دعاء قبول ہوگی ۔ (سلاسل طیبہ صفحہ نمبر 6 مطبوعہ ادارہ اسلامیات انار کلی لاہور،چشتی)
آگے تمام شجروں میں مختلف الفاظ سے اور ایک شجرہ میں واضح طور پر یہ لکھا گیا ہے کہ : ’’ہادی عالم علی مشکل کشاء کے واسطے ۔ یا اللہ ہادی عالم علی مشکل کشاء کے واسطے ، اور صالحین علیہم الرّحمہ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے وسیلہ و واسطے سے کرم فرما ۔ (سلاسلِ طیّبہ صفحہ 14 شیخ الاسلام دیوبند)
اگر یہی الفاظ مسلمانانِ اہلسنت نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم اور اولیاء کرام علیہم الرّحمہ کےلیئے استعمال کرتے ہیں تو شرک کے فتوے مگر اہنے مردہ مٹی میں مل جانے اور گل سڑ جانے والے مولوی کےلیئے یہ سب کچھ جائز ہے آواز دو انصاف کو انصاف کہاں ہے ؟ اور اب تک کسی دیوبندی عالم اور پر جوش موحد نے اس کتاب پر اور لکھنے والے پر نہ کوئی فتویٰ لگایا اور نہ ہی رد لکھا آخر یہ دہرا معیار کیوں جناب اور امت مسلمہ پر فتوے لگا کر وہی افعال خود اپنا کر منافقت دیکھا کر تفرقہ و انتشار کیوں پھیلایا جاتا ہے آخر کیوں ؟ اصل اسکن پیش خدمت ہیں فیصلہ اہل ایمان خود کریں مسلمانان اہلسنت یہ نظریات رکھیں اور کہیں
❤1
تو شرک کے فتوے اور دیوبندی خود سب کچھ کریں تو جائز آخر یہ دہرا معیار و منافقت اپنا کر امت مسلمہ میں تفرقہ و انتشار کیوں پھیلایاجاتا ہے ؟
ندائے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم
قرآن و حدیث کی روشنی میں اہلسنّت و جماعت کا یہ عقیدہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو بغیر قید زمان و مکاں ہر وقت ہر جگہ لفظ یا سے پکارنا 'ندا کرنا ' یا رسول اللہ ' یا حبیب اللہ کہنا جائز و مستحب ہے ۔ چنانچہ قرآن پاک میں ہے : یا ایھا النبی 'یا ایھا الرسول یا ایھا المزمل'یا ایھا المدثر ۔ لا تجعلوادعاء الرسول بینکم کدعا ء بعضکم بعضا ۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے پکارنے کو آپس میں ایسا نہ ٹھہرا لو جیسا تم میں ایک دوسرے کو پکارتا ہے ۔ (پارہ ١٨، سورۃ النور ، آیت ٦٣)
حدیث شریف : ینا د و ن یا محمد یا ر سول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ۔ (صحیح مسلم شریف ص ٤١٩، جلد ٢)
امیر المومنین سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے وصال کے بعد فرمایا '' دو موتیں نہ آئیں گی ، یعنی آپ نے موت کا ذائقہ چکھا وہ ہو گیا اس کے بعد حیات ہے ۔ حیات کے بعد پھر موت نہیں آئے گی جیسا کہ خود سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا فنبی اللہ حی ۔ اللہ کے نبی زندہ ہیں ۔ (سنن ابن ماجہ ص ١١٩، جلاء الافہام ابن قیم)
ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی قبر انورپر حاضر ہوا اور عرض کیا اے اللہ کے رسول اپنی اُمت کیلئے بارش طلب فرمائیں ۔ تحقیق وہ ہلاک ہو گئے ۔ اس کے بعد حضورنبی ئ پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو خواب میں زیارت عطا فرمائی اور فرمایا کہ عمر کو میرا سلام کہنا اور خوشخبری دو بارش ہو گی ۔ (مصنف ابن ابی شیبہ از امام محدث ابوبکر عبد اللہ رحمۃ اللہ علیہ' اُستاذ امام مسلم و بخاری جلد نمبر١٢، ص ٣٢ کتاب الفضائل)(فتح الباری شرح بخاری جلد ٢ ، ص ٤٩٥ نیز فرمایا اس کی سند صحیح ہے)
حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی وصیت کے مطابق آپ کا جنازہ روضہ مبارک پر لے جا کر رکھ دیا گیا اور حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے عرض کی ''السلام علیک یا رسول اللہ '' یہ ابوبکر صدیق ہیں اجازت چاہتے ہیں ۔ (آپ کے پاس دفن ہونے کی) پھر اس کے بعد دروازہ مبارک کھل گیا اور آواز آئی ا د خلو ا لحبیب ا لی حبیبہ ۔(خصائص الکبریٰ محدث جلال الدین سیوطی ، تفسیر کبیر ص ٤٧٨، جلد ٥)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ظاہری وصال کے بعد سیدنا عبد اللہ بن سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہما کا پاؤں سن ہوا تو انہوں نے پکارا یا محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) ۔ حضرت سیدنا خالد بن ولید نے مسیلمہ کذاب سے جنگ کے وقت فرمایا : بشعار المسلمین یا محمداہ (صلی اللہ علیہ وسلم) ۔ (فتوح الشام ص ١٦٠ ، ج ١)(ابن کثیر نے البدایہ ص ٣٢٤ جلد ٦ میں لکھا ہے : کا ن شعا ر ھم یو مئذ یا محمد اہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم)
حضرت عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ کی قیادت میں حلب میں لڑنے والے اسلامی لشکر نے کہا ''یا محمد یا محمد یا نصر ا للہ انزل '' (تاریخ فتوح الشام ، ج١)
حضرت علقمہ رضی اللہ عنہ جب مسجد میں داخل ہوتے تو یہ پڑھتے : السلام علیک ا یھا ا لنبی و رحمۃ ا للہ و برکا تہ ۔(الشفاء شریف جلد دوم ، ص ٥٣)
حضرت سیدنا عبد اللہ بن عباس (رضی اللہ عنہما) کا قدم مبارک سن ہوا تو انہوں نے پکارا '' یا محمد'' صلی اللہ علیہ وسلم ۔ (تحفۃ الذاکرین ص ٢٠٢ ، شوکانی)(الداء والدواء ص ٤٧ ، صدیق حسن خان)
قرآن و حدیث سے ثابت ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو لفظ یا سے ندا کرنا ' دور سے یا نزدیک سے پکارنا جائز ہے ' ان کی ظاہر ی زندگی میں بھی اوروصال کے بعد بھی' ہر طرح جائز اور باعث برکت ہے ۔ قرآن و حدیث عمل صحابہ اور ہر نمازی کا نماز میں سلام عرض کرنا یہ روشن دلیلیں موجود ہیں ۔ بدعقیدہ لوگ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) کہنے والے کو مشرک کہتے ہیں ۔ لفظ یا سے پکارنے والے پر شرک کا فتویٰ لگتاہے ۔ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ اپنے پیارے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو یا سے ندا فرماتا ہے' صحابہ کرام رضی اللہ عنہم آپ کی ظاہری زندگی میں بھی اور وصال کے بعد بھی یا سے پکارتے رہے ۔ ان کے بارے میں بدمذہبوں کا کیا عقیدہ ہے ۔ ان پر کیا فتویٰ لگے گا ۔
عقل ہوتی تو خدا سے نہ لڑائی لیتے
یہ گھٹائیں اُسے منظور بڑھانا تیرا
غیظ میں جل جائیں بے دینوں کے دل
یا رسول (ﷺ) کی کثرت کیجئے
حضرت عثمان بن حنیف کی حدیث میں آیا ہے '' یا محمد انی اتوجہ بک الی ربی ''یعنی یا محمد! میں آپ کے وسیلہ سے اپنے رب کی طرف متوجہ ہوتا ہوں ۔ بیہقی اور جزری نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے ۔ (ہدیۃ المہدی ص ٢٤ عربی،چشتی)(نشر الطیب ص ٢٧٦)
ندائے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم
قرآن و حدیث کی روشنی میں اہلسنّت و جماعت کا یہ عقیدہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو بغیر قید زمان و مکاں ہر وقت ہر جگہ لفظ یا سے پکارنا 'ندا کرنا ' یا رسول اللہ ' یا حبیب اللہ کہنا جائز و مستحب ہے ۔ چنانچہ قرآن پاک میں ہے : یا ایھا النبی 'یا ایھا الرسول یا ایھا المزمل'یا ایھا المدثر ۔ لا تجعلوادعاء الرسول بینکم کدعا ء بعضکم بعضا ۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے پکارنے کو آپس میں ایسا نہ ٹھہرا لو جیسا تم میں ایک دوسرے کو پکارتا ہے ۔ (پارہ ١٨، سورۃ النور ، آیت ٦٣)
حدیث شریف : ینا د و ن یا محمد یا ر سول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ۔ (صحیح مسلم شریف ص ٤١٩، جلد ٢)
امیر المومنین سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے وصال کے بعد فرمایا '' دو موتیں نہ آئیں گی ، یعنی آپ نے موت کا ذائقہ چکھا وہ ہو گیا اس کے بعد حیات ہے ۔ حیات کے بعد پھر موت نہیں آئے گی جیسا کہ خود سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا فنبی اللہ حی ۔ اللہ کے نبی زندہ ہیں ۔ (سنن ابن ماجہ ص ١١٩، جلاء الافہام ابن قیم)
ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی قبر انورپر حاضر ہوا اور عرض کیا اے اللہ کے رسول اپنی اُمت کیلئے بارش طلب فرمائیں ۔ تحقیق وہ ہلاک ہو گئے ۔ اس کے بعد حضورنبی ئ پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو خواب میں زیارت عطا فرمائی اور فرمایا کہ عمر کو میرا سلام کہنا اور خوشخبری دو بارش ہو گی ۔ (مصنف ابن ابی شیبہ از امام محدث ابوبکر عبد اللہ رحمۃ اللہ علیہ' اُستاذ امام مسلم و بخاری جلد نمبر١٢، ص ٣٢ کتاب الفضائل)(فتح الباری شرح بخاری جلد ٢ ، ص ٤٩٥ نیز فرمایا اس کی سند صحیح ہے)
حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی وصیت کے مطابق آپ کا جنازہ روضہ مبارک پر لے جا کر رکھ دیا گیا اور حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے عرض کی ''السلام علیک یا رسول اللہ '' یہ ابوبکر صدیق ہیں اجازت چاہتے ہیں ۔ (آپ کے پاس دفن ہونے کی) پھر اس کے بعد دروازہ مبارک کھل گیا اور آواز آئی ا د خلو ا لحبیب ا لی حبیبہ ۔(خصائص الکبریٰ محدث جلال الدین سیوطی ، تفسیر کبیر ص ٤٧٨، جلد ٥)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ظاہری وصال کے بعد سیدنا عبد اللہ بن سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہما کا پاؤں سن ہوا تو انہوں نے پکارا یا محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) ۔ حضرت سیدنا خالد بن ولید نے مسیلمہ کذاب سے جنگ کے وقت فرمایا : بشعار المسلمین یا محمداہ (صلی اللہ علیہ وسلم) ۔ (فتوح الشام ص ١٦٠ ، ج ١)(ابن کثیر نے البدایہ ص ٣٢٤ جلد ٦ میں لکھا ہے : کا ن شعا ر ھم یو مئذ یا محمد اہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم)
حضرت عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ کی قیادت میں حلب میں لڑنے والے اسلامی لشکر نے کہا ''یا محمد یا محمد یا نصر ا للہ انزل '' (تاریخ فتوح الشام ، ج١)
حضرت علقمہ رضی اللہ عنہ جب مسجد میں داخل ہوتے تو یہ پڑھتے : السلام علیک ا یھا ا لنبی و رحمۃ ا للہ و برکا تہ ۔(الشفاء شریف جلد دوم ، ص ٥٣)
حضرت سیدنا عبد اللہ بن عباس (رضی اللہ عنہما) کا قدم مبارک سن ہوا تو انہوں نے پکارا '' یا محمد'' صلی اللہ علیہ وسلم ۔ (تحفۃ الذاکرین ص ٢٠٢ ، شوکانی)(الداء والدواء ص ٤٧ ، صدیق حسن خان)
قرآن و حدیث سے ثابت ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو لفظ یا سے ندا کرنا ' دور سے یا نزدیک سے پکارنا جائز ہے ' ان کی ظاہر ی زندگی میں بھی اوروصال کے بعد بھی' ہر طرح جائز اور باعث برکت ہے ۔ قرآن و حدیث عمل صحابہ اور ہر نمازی کا نماز میں سلام عرض کرنا یہ روشن دلیلیں موجود ہیں ۔ بدعقیدہ لوگ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) کہنے والے کو مشرک کہتے ہیں ۔ لفظ یا سے پکارنے والے پر شرک کا فتویٰ لگتاہے ۔ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ اپنے پیارے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو یا سے ندا فرماتا ہے' صحابہ کرام رضی اللہ عنہم آپ کی ظاہری زندگی میں بھی اور وصال کے بعد بھی یا سے پکارتے رہے ۔ ان کے بارے میں بدمذہبوں کا کیا عقیدہ ہے ۔ ان پر کیا فتویٰ لگے گا ۔
عقل ہوتی تو خدا سے نہ لڑائی لیتے
یہ گھٹائیں اُسے منظور بڑھانا تیرا
غیظ میں جل جائیں بے دینوں کے دل
یا رسول (ﷺ) کی کثرت کیجئے
حضرت عثمان بن حنیف کی حدیث میں آیا ہے '' یا محمد انی اتوجہ بک الی ربی ''یعنی یا محمد! میں آپ کے وسیلہ سے اپنے رب کی طرف متوجہ ہوتا ہوں ۔ بیہقی اور جزری نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے ۔ (ہدیۃ المہدی ص ٢٤ عربی،چشتی)(نشر الطیب ص ٢٧٦)
❤1
ایک روایت میں ہے یا رسول اللہ انی توجہت بک الی ربی یعنی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم میں آپ کے وسیلہ سے اپنے رب کی طرف متوجہ ہوتا ہوں ۔ (ہدیۃ المہدی عربی ص ٢٤، مولوی وحید الزمان وہابی)
حضرت مولیٰ علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ واللہ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے وصال کے وقت آسمان سے میں نے یہ آواز سنی ''یا محمداہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ۔ (الشمامۃ العنبریہ ص ١١٣ ، صدیق حسن بھوپالوی وہابی)
امام نووی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی مناسک میں لکھا ہے کہ : ابن عمر رضی اللہ عنہما تو اتنا ہی کہتے تھے ''السلام علیک یا رسول اللہ السلام علیک یا ابابکر ، السلام علیک یا ابتاہ ''۔ (فضائل حج ص ٩١٧ ، ذکریا سہارنپوری' دیوبندی)
جو عوام الناس کہتے ہیں یعنی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم یا علی ، یا غوث تو اکیلی نداء سے ان پر شرک کا حکم نہیں دیا جائے گا اور کیسے دیا جا سکتا ہے ۔ جبکہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے بدر کے مقتولوں کو فلاں بن فلاں کہتے ہوئے پکارا تھا ۔ اور حضرت عثمان بن حنیف کی حدیث میں یا محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے لفظ بھی آئے ہیں اور ایک حدیث میں یا رسول اللہ کا لفظ بھی ہے ''۔ (ہدیۃ المہدی اُردو ص ٥١،٥٠)
صلوٰۃ و سلام کے الفاظ میں تنگی نہیں ہے ادب شرط ہے ۔ چنانچہ امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ نے قبر شریف پر سلام اس طرح پڑھا ہے ''السلام علیک یا رسول اللہ ، السلام علیک یا نبی اللہ ، السلام علیک یا حبیب اللہ ، السلام علیک یا احمد ، السلام علیک یا محمد ۔ (الصلوٰ ۃ والسلام ص ١٢٦ ، فردوس شاہ قصوری وہابی)
تفسیر ابن کثیر و مدارک میں ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے دفن کے بعد ایک اعرابی آیا اور اپنے کو روتے اور سر پر خاک ڈالتے ہوئے قبر شریف پر گرا دیا اور کہا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے بے شک اپنی جان پر ظلم کیا اور آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں کہ آپ میرے لئے استغفار فرمائیں ۔ قبر مبارک سے آواز آئی ''کہ تجھ کو بخش دیا گیا ہے ۔ (نشر الطیب ص ٢٧٩ ، فضائل حج ص ٢٥٣)
اشرف علی تھانوی دیوبندی نے کہا : اس بندہ نے آپ کو یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم مستغیث ہو کر اور اُمید کی چیزوں کا اُمید وار ہو کر پکارا ہے ۔ (نشر الطیب ص ٢٧٩)
جب روم کے بادشاہ نے مجاہدین اسلام کو عیسائیت کی ترغیب دی تو انہوں نے بوقت شہادت ''یا محمداہ'' صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا نعرہ لگایا جیسا کہ ہمارے اصحاب میں سے ابن جوزی نے روایت کیا ۔ (ہدیۃ المہدی نواب وحید الزمان حیدر آبادی وہابی)
غوث پاک رضی اللہ عنہ نے فرمایا : دو رکعت نفل پڑھنے کے بعد ١٠٠ مرتبہ درود غوثیہ پڑھ کر ١١ بار یہ درود و سلام پڑھو اغثنی یا ر سو ل اللہ علیک ا لصلو ٰۃ و ا لسلام (کتاب غوث اعظم صفحہ نمبر ٣٢ احتشام الحسن کاندھلوی دیوبندی)
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے ان کا قول ''السلام علیک ایھا النبی '' بغیر کسی اعتراض کے ثابت ہے اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا یہ قول ''یا ابراہیم اپنے مردہ فرزند کو ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں اور حضرت حسان کا فرمان '' و جا ہک یا ر سو ل اللہ جاہ ۔ (یا حرف محبت صفحہ ٩٤ مصنف دیوبندی)
حضرت ابراہیم ، حضرت موسیٰ ، حضرت عیسیٰ (علیہم السلام ) نے آپ کو بایں الفاظ سلام کیا ''ا لسلام علیک یا ا وّل ، ا لسلام علیک یا آخر ، السلام علیک یا حا شر '' ۔ (کتاب معراج مصطفےٰ صفحہ نمبر ١٢ ، مولوی محمد علی جانباز وہابی)
فضائل اعمال میں لکھا ہے
زمہجوری بر آمد جان عالم
تراحم یا نبی اللہ تراحم
آپ کے فراق سے کائنات عالم کا ذرہ ذرہ جاں بلب ہے اور دم توڑ رہا ہے ۔ اے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نگاہ کرم فرمائیے اے ختم المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم رحم فرمائیے ۔
(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)
حضرت مولیٰ علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ واللہ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے وصال کے وقت آسمان سے میں نے یہ آواز سنی ''یا محمداہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ۔ (الشمامۃ العنبریہ ص ١١٣ ، صدیق حسن بھوپالوی وہابی)
امام نووی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی مناسک میں لکھا ہے کہ : ابن عمر رضی اللہ عنہما تو اتنا ہی کہتے تھے ''السلام علیک یا رسول اللہ السلام علیک یا ابابکر ، السلام علیک یا ابتاہ ''۔ (فضائل حج ص ٩١٧ ، ذکریا سہارنپوری' دیوبندی)
جو عوام الناس کہتے ہیں یعنی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم یا علی ، یا غوث تو اکیلی نداء سے ان پر شرک کا حکم نہیں دیا جائے گا اور کیسے دیا جا سکتا ہے ۔ جبکہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے بدر کے مقتولوں کو فلاں بن فلاں کہتے ہوئے پکارا تھا ۔ اور حضرت عثمان بن حنیف کی حدیث میں یا محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے لفظ بھی آئے ہیں اور ایک حدیث میں یا رسول اللہ کا لفظ بھی ہے ''۔ (ہدیۃ المہدی اُردو ص ٥١،٥٠)
صلوٰۃ و سلام کے الفاظ میں تنگی نہیں ہے ادب شرط ہے ۔ چنانچہ امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ نے قبر شریف پر سلام اس طرح پڑھا ہے ''السلام علیک یا رسول اللہ ، السلام علیک یا نبی اللہ ، السلام علیک یا حبیب اللہ ، السلام علیک یا احمد ، السلام علیک یا محمد ۔ (الصلوٰ ۃ والسلام ص ١٢٦ ، فردوس شاہ قصوری وہابی)
تفسیر ابن کثیر و مدارک میں ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے دفن کے بعد ایک اعرابی آیا اور اپنے کو روتے اور سر پر خاک ڈالتے ہوئے قبر شریف پر گرا دیا اور کہا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے بے شک اپنی جان پر ظلم کیا اور آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں کہ آپ میرے لئے استغفار فرمائیں ۔ قبر مبارک سے آواز آئی ''کہ تجھ کو بخش دیا گیا ہے ۔ (نشر الطیب ص ٢٧٩ ، فضائل حج ص ٢٥٣)
اشرف علی تھانوی دیوبندی نے کہا : اس بندہ نے آپ کو یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم مستغیث ہو کر اور اُمید کی چیزوں کا اُمید وار ہو کر پکارا ہے ۔ (نشر الطیب ص ٢٧٩)
جب روم کے بادشاہ نے مجاہدین اسلام کو عیسائیت کی ترغیب دی تو انہوں نے بوقت شہادت ''یا محمداہ'' صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا نعرہ لگایا جیسا کہ ہمارے اصحاب میں سے ابن جوزی نے روایت کیا ۔ (ہدیۃ المہدی نواب وحید الزمان حیدر آبادی وہابی)
غوث پاک رضی اللہ عنہ نے فرمایا : دو رکعت نفل پڑھنے کے بعد ١٠٠ مرتبہ درود غوثیہ پڑھ کر ١١ بار یہ درود و سلام پڑھو اغثنی یا ر سو ل اللہ علیک ا لصلو ٰۃ و ا لسلام (کتاب غوث اعظم صفحہ نمبر ٣٢ احتشام الحسن کاندھلوی دیوبندی)
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے ان کا قول ''السلام علیک ایھا النبی '' بغیر کسی اعتراض کے ثابت ہے اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا یہ قول ''یا ابراہیم اپنے مردہ فرزند کو ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں اور حضرت حسان کا فرمان '' و جا ہک یا ر سو ل اللہ جاہ ۔ (یا حرف محبت صفحہ ٩٤ مصنف دیوبندی)
حضرت ابراہیم ، حضرت موسیٰ ، حضرت عیسیٰ (علیہم السلام ) نے آپ کو بایں الفاظ سلام کیا ''ا لسلام علیک یا ا وّل ، ا لسلام علیک یا آخر ، السلام علیک یا حا شر '' ۔ (کتاب معراج مصطفےٰ صفحہ نمبر ١٢ ، مولوی محمد علی جانباز وہابی)
فضائل اعمال میں لکھا ہے
زمہجوری بر آمد جان عالم
تراحم یا نبی اللہ تراحم
آپ کے فراق سے کائنات عالم کا ذرہ ذرہ جاں بلب ہے اور دم توڑ رہا ہے ۔ اے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نگاہ کرم فرمائیے اے ختم المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم رحم فرمائیے ۔
(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)
❤1
https://t.me/islaamic_Knowledge/24770
حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ
کو مشکل کشاء کہنا حصّہ سوم
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/293234109579302/
✍ #ڈاکٹر_فیض_احمد_چشتی
حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ
کو مشکل کشاء کہنا حصّہ سوم
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/293234109579302/
✍ #ڈاکٹر_فیض_احمد_چشتی
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
صحابہ و اہلبیت رضی اللہ عنہم کی آپس میں محبت و رشتہ داریاں حصّہ اوّل
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/292959166273463/
محترم قارئینِ کرام : قرآنِ کریم میں اہلِ بیتِ اطہار رضی اللہ عنہم کی محبت کے بارے میں اللہ عزّوجلّ کا فرمان ہے : قُلْ لَّاۤ اَسْٸلُكُمْ عَلَیْهِ اَجْرًا اِلَّا الْمَوَدَّةَ فِی الْقُرْبٰىؕ ۔
تَرجَمہ : آپ فرماٸیں میں اس (یعنی تبلیغِ رسالت) پر تم سے کچھ اجرت نہیں مانگتا مگر قرابت کی محبّت ۔ (پارہ نمبر 25 سورہ الشوریٰ آیت نمبر 23)
بعض شر پسند و فتنہ پرور لوگ اہلبیت اطہار رضی اللہ عنہم کی شان اس طرح بیان کرتے ہیں کہ جیسے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے ان کی مخاصمت اور لڑائی تھی یونہی اس کے بالعکس بعض شر پسند و فتنہ پرور لوگ شان صحابہ رضی اللہ عنہم اسی انداز میں بیان کرتے ہیں ۔ ہمارا دعویٰ یہ ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور اہلبیت اطہار رضی اللہ عنہم کے درمیان بیحد محبت و آپس میں قریبی رشتہ داریاں و تعلقات تھے ۔ اس کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ وہ ایک دوسرے کی فضلیت پر احادیثِ مبارکہ بیان فرماتے تھے ۔
جب ام المومنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی ﷲ عنہا سے پوچھا جاتا ہے کہ لوگوں میں سے رسول ﷲ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو سب سے زیادہ پیارا کون تھا ؟ تو آپ فرماتی ہیں فاطمہ رضی ﷲ عنہا ۔ پھر پوچھا جاتا ہے کہ مردوں میں سے کون زیادہ محبوب تھا ؟ فرماتی ہیں ‘ اْن کے شوہر یعنی حضرت علی رضی ﷲ عنہ ۔ (جامع ترمذی)
اسی طرح جب حضرت سیدہ فاطمہ رضی ﷲ عنہا سے پوچھا جاتا ہے کہ لوگوں میں سے رسول ﷲ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو سب سے زیادہ پیارا کون تھا ؟ تو آپ فرماتی ہیں ‘ عائشہ رضی ﷲ عنہا ۔ پھر پوچھا جاتا ہے کہ مردوں میں سے کون زیادہ محبوب تھا ؟ تو آپ فرماتی ہیں ‘ ان کے والد حضرت ابوبکر رضی ﷲ عنہ ۔ (صحیح بخاری)
اگر خدانخواستہ ان کے درمیان کوئی مخاصمت یا رنجش ہوتی تو وہ ایسی احادیث بیان نہ کرتے ۔
حضرے سیدنا ابوبکر صدی و سیدنا علی رضی ﷲ عنہما کی باہم محبت
حضرت ابوبکر اور حضرت علی رضی ﷲ عنہما کے درمیان کس قدر محبت تھی ‘ اس کا اندازہ اس حدیث پاک سے کیجیے ۔ قیس بن ابی حازم رضی ﷲ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دن حضرت ابوبکر رضی ﷲ عنہ حضرت علی رضی ﷲ عنہ چہرے کی طرف دیکھ کر مسکرانے لگے ۔ حضرت علی رضی ﷲ عنہ نے پوچھا ‘ آپ کیوں مسکرا رہے ہیں ؟ سیدنا ابوبکر رضی ﷲ عنہ نے فرمایا ‘ ’’ میں نے آقا و مولیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ پل صراط پر سے صرف وہی گزر کر جنت میں جائے گا جس کو علی وہاں سے گزرنے کا پروانہ دیں گے ۔ اس پر سیدنا علی رضی ﷲ عنہ ہنسنے لگے اور فرمایا ‘ اے ابوبکر ! آپ کو بشارت ہو ۔ میرے آقا ومولیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے یہ بھی فرمایا ہے کہ (اے علی!) پل صراط پر سے گزرنے کا پروانہ صرف اسی کو دینا جس کے دل میں ابوبکر کی محبت ہو ۔ (الریاض النضرۃ فی مناقب العشرۃ ج۲:۵۵ امطبوعہ مصر،چشتی)
حضرت سیدنا مولا علی رضی ﷲ عنہ نے فرمایا ‘ ایک دن مشرکین نے رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو اپنے نرغہ میں لے لیا ۔ وہ آپ کو گھسیٹ رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ تم وہی ہو جو کہتا ہے کہ ایک خدا ہے ۔ خدا کی قسم ! کسی کو ان مشرکین سے مقابلہ کی جرأت نہیں ہوئی سوائے ابوبکر رضی ﷲ عنہ کے ۔ وہ آگے بڑھے اور مشرکین کو مارمار کر اور دھکے دے دے کر ہٹاتے جاتے اور فرماتے جاتے ‘ تم پر افسوس ہے کہ تم ایسے شخض کو ایذا پہنچا رہے ہو جو کہتا ہے کہ ’’ میرا رب صرف ﷲ ہے ۔‘‘ یہ فرما کر حضرت مولا علی رضی ﷲ عنہ اتنا روئے کہ آپ کی داڑھی ترہو گئی ۔ پھر فرمایا ‘ اے لوگو ! یہ بتاؤ کہ آل فرعون کا مومن اچھا تھا یا ابوبکر رضی ﷲ عنہ اچھے تھے ؟ لوگ یہ سن کر خاموش رہے تو حضرت علی رضی ﷲ عنہ نے پھر فرمایا ‘ لوگو ! جواب کیوں نہیں دیتے ۔ خدا کی قسم ! ابوبکر صدیق رضی ﷲ عنہ کی زندگی کا ایک لمحہ آلِ فرعون کے مومن کی ہزار ساعتوں سے بہتر اور برتر ہے کیونکہ وہ لوگ اپنا ایمان ڈر کی وجہ سے چھپاتے تھے اور ابوبکر صدیق رضی ﷲ عنہ نے اپنے ایمان کا اظہار علی الاعلان کیا ۔ (تاریخ الخلفاء عربی صفحہ ۱۰۰)
حضرت مولا علی رضی ﷲ عنہ سے روایت ہے کہ کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابوبکر رضی ﷲ عنہ کے پاس سے گزرا اور وہ صرف ایک کپڑا اوڑھے بیٹھے تھے ۔ ان کی یہ حالت دیکھ کر بے ساختہ میری زبان سے نکلا ‘ کوئی صحیفہ والا ﷲ تعالٰی کو اتنا محبوب نہیں جتنا یہ کپڑا اوڑھنے والا ﷲ تعالٰی کو محبوب ہے ۔ (تاریخ الخلفاء: ابن عساکر)
حضرت انس رضی ﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم اپنے صحابہ کے درمیان مسجد میں تشریف فرما تھے کہ حضرت علی رضی ﷲ عنہ آئے اور سلام کر کے کھڑے ہوگئے ۔ حضور منتظر رہے کہ دیکھیں کون ان کےلیے جگہ بناتا ہے ۔ حضرت ابوبکر رضی ﷲ عنہ آپ کی دائیں جانب بیٹھے ہوئے تھے ۔ آپ اپنی جگہ سے اْٹھ گئے اور فرمایا ‘ اے ابوالحسن ! یہاں تشریف لے آئیے ۔ حضرت علی رضی ﷲ عنہ ‘ حضور
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/292959166273463/
محترم قارئینِ کرام : قرآنِ کریم میں اہلِ بیتِ اطہار رضی اللہ عنہم کی محبت کے بارے میں اللہ عزّوجلّ کا فرمان ہے : قُلْ لَّاۤ اَسْٸلُكُمْ عَلَیْهِ اَجْرًا اِلَّا الْمَوَدَّةَ فِی الْقُرْبٰىؕ ۔
تَرجَمہ : آپ فرماٸیں میں اس (یعنی تبلیغِ رسالت) پر تم سے کچھ اجرت نہیں مانگتا مگر قرابت کی محبّت ۔ (پارہ نمبر 25 سورہ الشوریٰ آیت نمبر 23)
بعض شر پسند و فتنہ پرور لوگ اہلبیت اطہار رضی اللہ عنہم کی شان اس طرح بیان کرتے ہیں کہ جیسے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے ان کی مخاصمت اور لڑائی تھی یونہی اس کے بالعکس بعض شر پسند و فتنہ پرور لوگ شان صحابہ رضی اللہ عنہم اسی انداز میں بیان کرتے ہیں ۔ ہمارا دعویٰ یہ ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور اہلبیت اطہار رضی اللہ عنہم کے درمیان بیحد محبت و آپس میں قریبی رشتہ داریاں و تعلقات تھے ۔ اس کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ وہ ایک دوسرے کی فضلیت پر احادیثِ مبارکہ بیان فرماتے تھے ۔
جب ام المومنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی ﷲ عنہا سے پوچھا جاتا ہے کہ لوگوں میں سے رسول ﷲ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو سب سے زیادہ پیارا کون تھا ؟ تو آپ فرماتی ہیں فاطمہ رضی ﷲ عنہا ۔ پھر پوچھا جاتا ہے کہ مردوں میں سے کون زیادہ محبوب تھا ؟ فرماتی ہیں ‘ اْن کے شوہر یعنی حضرت علی رضی ﷲ عنہ ۔ (جامع ترمذی)
اسی طرح جب حضرت سیدہ فاطمہ رضی ﷲ عنہا سے پوچھا جاتا ہے کہ لوگوں میں سے رسول ﷲ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو سب سے زیادہ پیارا کون تھا ؟ تو آپ فرماتی ہیں ‘ عائشہ رضی ﷲ عنہا ۔ پھر پوچھا جاتا ہے کہ مردوں میں سے کون زیادہ محبوب تھا ؟ تو آپ فرماتی ہیں ‘ ان کے والد حضرت ابوبکر رضی ﷲ عنہ ۔ (صحیح بخاری)
اگر خدانخواستہ ان کے درمیان کوئی مخاصمت یا رنجش ہوتی تو وہ ایسی احادیث بیان نہ کرتے ۔
حضرے سیدنا ابوبکر صدی و سیدنا علی رضی ﷲ عنہما کی باہم محبت
حضرت ابوبکر اور حضرت علی رضی ﷲ عنہما کے درمیان کس قدر محبت تھی ‘ اس کا اندازہ اس حدیث پاک سے کیجیے ۔ قیس بن ابی حازم رضی ﷲ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دن حضرت ابوبکر رضی ﷲ عنہ حضرت علی رضی ﷲ عنہ چہرے کی طرف دیکھ کر مسکرانے لگے ۔ حضرت علی رضی ﷲ عنہ نے پوچھا ‘ آپ کیوں مسکرا رہے ہیں ؟ سیدنا ابوبکر رضی ﷲ عنہ نے فرمایا ‘ ’’ میں نے آقا و مولیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ پل صراط پر سے صرف وہی گزر کر جنت میں جائے گا جس کو علی وہاں سے گزرنے کا پروانہ دیں گے ۔ اس پر سیدنا علی رضی ﷲ عنہ ہنسنے لگے اور فرمایا ‘ اے ابوبکر ! آپ کو بشارت ہو ۔ میرے آقا ومولیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے یہ بھی فرمایا ہے کہ (اے علی!) پل صراط پر سے گزرنے کا پروانہ صرف اسی کو دینا جس کے دل میں ابوبکر کی محبت ہو ۔ (الریاض النضرۃ فی مناقب العشرۃ ج۲:۵۵ امطبوعہ مصر،چشتی)
حضرت سیدنا مولا علی رضی ﷲ عنہ نے فرمایا ‘ ایک دن مشرکین نے رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو اپنے نرغہ میں لے لیا ۔ وہ آپ کو گھسیٹ رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ تم وہی ہو جو کہتا ہے کہ ایک خدا ہے ۔ خدا کی قسم ! کسی کو ان مشرکین سے مقابلہ کی جرأت نہیں ہوئی سوائے ابوبکر رضی ﷲ عنہ کے ۔ وہ آگے بڑھے اور مشرکین کو مارمار کر اور دھکے دے دے کر ہٹاتے جاتے اور فرماتے جاتے ‘ تم پر افسوس ہے کہ تم ایسے شخض کو ایذا پہنچا رہے ہو جو کہتا ہے کہ ’’ میرا رب صرف ﷲ ہے ۔‘‘ یہ فرما کر حضرت مولا علی رضی ﷲ عنہ اتنا روئے کہ آپ کی داڑھی ترہو گئی ۔ پھر فرمایا ‘ اے لوگو ! یہ بتاؤ کہ آل فرعون کا مومن اچھا تھا یا ابوبکر رضی ﷲ عنہ اچھے تھے ؟ لوگ یہ سن کر خاموش رہے تو حضرت علی رضی ﷲ عنہ نے پھر فرمایا ‘ لوگو ! جواب کیوں نہیں دیتے ۔ خدا کی قسم ! ابوبکر صدیق رضی ﷲ عنہ کی زندگی کا ایک لمحہ آلِ فرعون کے مومن کی ہزار ساعتوں سے بہتر اور برتر ہے کیونکہ وہ لوگ اپنا ایمان ڈر کی وجہ سے چھپاتے تھے اور ابوبکر صدیق رضی ﷲ عنہ نے اپنے ایمان کا اظہار علی الاعلان کیا ۔ (تاریخ الخلفاء عربی صفحہ ۱۰۰)
حضرت مولا علی رضی ﷲ عنہ سے روایت ہے کہ کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابوبکر رضی ﷲ عنہ کے پاس سے گزرا اور وہ صرف ایک کپڑا اوڑھے بیٹھے تھے ۔ ان کی یہ حالت دیکھ کر بے ساختہ میری زبان سے نکلا ‘ کوئی صحیفہ والا ﷲ تعالٰی کو اتنا محبوب نہیں جتنا یہ کپڑا اوڑھنے والا ﷲ تعالٰی کو محبوب ہے ۔ (تاریخ الخلفاء: ابن عساکر)
حضرت انس رضی ﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم اپنے صحابہ کے درمیان مسجد میں تشریف فرما تھے کہ حضرت علی رضی ﷲ عنہ آئے اور سلام کر کے کھڑے ہوگئے ۔ حضور منتظر رہے کہ دیکھیں کون ان کےلیے جگہ بناتا ہے ۔ حضرت ابوبکر رضی ﷲ عنہ آپ کی دائیں جانب بیٹھے ہوئے تھے ۔ آپ اپنی جگہ سے اْٹھ گئے اور فرمایا ‘ اے ابوالحسن ! یہاں تشریف لے آئیے ۔ حضرت علی رضی ﷲ عنہ ‘ حضور
❤1
صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم اور سیدنا ابوبکر رضی ﷲ عنہ کے درمیان بیٹھ گئے ۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے چہرہ مبارک پر خوشی کے آثار ظاہر ہوئے اور آپ نے فرمایا ‘ ’’اہل فضل کی فضلیت کو صاحب فضل ہی جانتا ہے ۔‘‘ اسی طرح سیدنا ابوبکر رضی ﷲ عنہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے چچا حضرت عباس رضی ﷲ عنہ کی بھی تعظیم کیا کرتے ۔ (الصواعق المحرقہ صفحہ ۲۶۹)
ایک روز حضرت ابوبکر رضی ﷲ عنہ مسجد نبوی میں منبر پر تشریف فرما تھے کہ اس دوران امام حسن رضی ﷲ عنہ آگئے جو کہ اس وقت بہت کم عمر تھے ۔ امام حسن رضی ﷲ عنہ کہنے لگے ‘ میرے بابا جان کے منبر سے نیچے اتر آئیے ۔ سیدنا ابوبکر رضی ﷲ عنہ نے فرمایا ‘ ’’ تم سچ کہتے ہو ۔ یہ تمہارے باباجان ہی کا منبر ہے ۔‘‘ یہ فرما کر آپ نے امام حسن رضی ﷲ عنہ کوگود میں اٹھا لیا اور اشکبار ہوگئے ۔ حضرت علی رضی ﷲ عنہ بھی وہاں موجود تھے ۔ انہوں نے کہا ‘ خدا کی قسم ! میں نے اس سے کچھ نہیں کہا تھا ۔ سیدنا ابوبکر رضی ﷲ عنہ نے فرمایا : آپ سچ کہتے ہیں ‘ میں آپ کے متعلق غلط گمان نہیں کرتا ۔(تاریخ الخلفاء صفحہ ۱۴۷)(الصواعق المحرقہ صفحہ نمبر ۲۶۹،چشتی)
امام ابن عبدالبر رحمة ﷲ علیہ نے بیان کیا ہے کہ حضرت ابوبکر رضی ﷲ عنہ اکثر حضرت علی رضی ﷲ عنہ کے چہرے کی طرف دیکھا کرتے ۔ حضرت عائشہ رضی ﷲ عنہا نے ان سے اس کا سبب دریافت کیا تو فرمایا ‘ میں نے آقا و مولٰی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ علی رضی ﷲ عنہ کے چہرے کی طرف دیکھنا عبادت ہے ۔ (الصواعق المحرقتہ: ۲۶۹،چشتی)
ایک روز سیدنا ابوبکر رضی ﷲ عنہ تشریف فرما تھے کہ سیدنا علی رضی ﷲ عنہ آگئے ۔ آپ نے انہیں دیکھ کر لوگوں سے فرمایا ‘ جو کوئی رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے قریبی لوگوں میں سے عظیم مرتبت‘ قرابت کے لحاظ سے قریب تر ‘ افضل اور عظیم تر حق کے حامل شخص کو دیکھ کر خوش ہونا چاہے وہ اس آنے والے کو دیکھ لے ۔ (الصواعق المحرقہ صفحہ ۲۷۰‘ دار قطنی)
سیدنا ابوبکر رضی ﷲ عنہ کے سب سے زیادہ بہادر ہونے سے متعلق سیدنا علی رضی ﷲ عنہ کا ارشاد پہلے تحریر ہو چکا ‘ اگر ان کے مابین کسی قسم کی رنجش ہوتی تو کیا یہ دونوں حضرات ایک دوسرے کی فضیلت بیان فرماتے ؟ یہ احادیث مبارکہ ان کی باہم محبت کی واضح مثالیں ہیں۔
سیدنا عمر و سیدنا علی رضی ﷲ عنہما کی باہم محبت
حضرت ابن عباس رضی ﷲ عنہما فرماتے ہیں کہ دورِفاروقی میں مدائن کی فتح کے بعد حضرت عمر رضی ﷲ عنہ نے مسجد نبوی میں مال غنیمت جمع کر کے تقسیم کرنا شروع کیا ۔ امام حسن رضی ﷲ عنہ تشریف لائے تو انہیں ایک ہزار درہم نذر کیے ۔ پھر امام حسین رضی اﷲ عنہ تشریف لائے تو انہیں بھی ایک ہزار درہم پیش کیے ۔ پھر آپ کے صاحبزادے عبد ﷲ رضی ﷲ عنہ آئے تو انہیں پانچ سو درہم دیے۔ انہوں نے عرض کی ‘ اے امیرالمٔومنین ! جب میں عہدِ رسالت میں جہاد کیا کرتا تھا اس وقت حسن و حسین بچے تھے ۔ جبکہ آپ نے انہیں ہزار ہزار اور مجھے سو درہم دیے ہیں ۔ حضرت عمر رضی ﷲ عنہ نے فرمایا ‘ تم عمر کے بیٹے ہو جبکہ ان والد علی المرتضٰی ‘ والدہ فاطمۃ الزہرا ‘ نانا رسول ﷲ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم ‘ نانی خدیجہ الکبریٰ ‘ چچا جعفر طیار ‘ پھوپھی اْم ہانی‘ ماموں ابراہیم بن رسول ﷲ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم ‘ خالہ رقیہ و ام کلثوم و زینب رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی بیٹیاں ہیں رضی ﷲ عنہن ۔ اگر تمہیں ایسی فضیلت ملتی تو تم ہزار درہم کا مطالبہ کرتے ۔ یہ سن کر حضرت عبد ﷲ بن عمر رضی ﷲ عنہما خاموش ہو گئے ۔ جب اس واقعہ کی خبر حضرت علی رضی ﷲ عنہ کوہوئی تو انہوں نے فرمایا ‘ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو یہ فرماتے سنا ہے کہ ’’ عمر اہل جنت کے چراغ ہیں ۔‘‘ حضرت علی رضی ﷲ عنہ کا یہ ارشاد حضرت عمر رضی ﷲ عنہ تک پہنچا تو آپ بعض صحابہ کے ہمراہ حضرت علی رضی ﷲ عنہ کے گھر تشریف لائے اور دریافت کیا ‘ اے علی ! کیا آپ نے سنا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے مجھے اہل جنت کا چراغ فرمایا ہے ۔ حضرت علی رضی ﷲ عنہ نے فرمایا ‘ ہاں ! میں نے خود سنا ہے ۔ حضرت عمر رضی ﷲ عنہ نے فرمایا ‘ اے علی! میری خواہش ہے کہ آپ یہ حدیث میرے لیے تحریر کربدیں ۔ سیدنا علی رضی ﷲ عنہ نے یہ حدیث لکھی : یہ وہ بات ہے جس کے ضامن علی بن ابی طالب ہیں عمر بن خطاب رضی ﷲ عنہ کےلیے کہ رسول ﷲ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا ‘ اْن سے جبرائیل علیہ السلام نے ‘ اْن سے ﷲ تعالٰی نے کہ : ان عمر بن الخطاب سراج اھل الجنۃ ۔ ترجمہ : عمر بن خطاب اہل جنت کے چراغ ہیں ۔ سیدنا علی رضی ﷲ عنہ کی یہ تحریر حضرت عمررضی ﷲ عنہ نے لے لی اور وصیت فرمائی کہ جب میرا وصال ہو تو یہ تحریر میرے کفن میں رکھ دینا ۔ چنانچہ آپ کی شہادت کے بعد وہ تحریر آپ کے کفن میں رکھ دی گئی ۔ (ازالتہ الخفاء، الریاض النضرۃ ج ا:۲۸۲،چشتی)
ایک روز حضرت ابوبکر رضی ﷲ عنہ مسجد نبوی میں منبر پر تشریف فرما تھے کہ اس دوران امام حسن رضی ﷲ عنہ آگئے جو کہ اس وقت بہت کم عمر تھے ۔ امام حسن رضی ﷲ عنہ کہنے لگے ‘ میرے بابا جان کے منبر سے نیچے اتر آئیے ۔ سیدنا ابوبکر رضی ﷲ عنہ نے فرمایا ‘ ’’ تم سچ کہتے ہو ۔ یہ تمہارے باباجان ہی کا منبر ہے ۔‘‘ یہ فرما کر آپ نے امام حسن رضی ﷲ عنہ کوگود میں اٹھا لیا اور اشکبار ہوگئے ۔ حضرت علی رضی ﷲ عنہ بھی وہاں موجود تھے ۔ انہوں نے کہا ‘ خدا کی قسم ! میں نے اس سے کچھ نہیں کہا تھا ۔ سیدنا ابوبکر رضی ﷲ عنہ نے فرمایا : آپ سچ کہتے ہیں ‘ میں آپ کے متعلق غلط گمان نہیں کرتا ۔(تاریخ الخلفاء صفحہ ۱۴۷)(الصواعق المحرقہ صفحہ نمبر ۲۶۹،چشتی)
امام ابن عبدالبر رحمة ﷲ علیہ نے بیان کیا ہے کہ حضرت ابوبکر رضی ﷲ عنہ اکثر حضرت علی رضی ﷲ عنہ کے چہرے کی طرف دیکھا کرتے ۔ حضرت عائشہ رضی ﷲ عنہا نے ان سے اس کا سبب دریافت کیا تو فرمایا ‘ میں نے آقا و مولٰی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ علی رضی ﷲ عنہ کے چہرے کی طرف دیکھنا عبادت ہے ۔ (الصواعق المحرقتہ: ۲۶۹،چشتی)
ایک روز سیدنا ابوبکر رضی ﷲ عنہ تشریف فرما تھے کہ سیدنا علی رضی ﷲ عنہ آگئے ۔ آپ نے انہیں دیکھ کر لوگوں سے فرمایا ‘ جو کوئی رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے قریبی لوگوں میں سے عظیم مرتبت‘ قرابت کے لحاظ سے قریب تر ‘ افضل اور عظیم تر حق کے حامل شخص کو دیکھ کر خوش ہونا چاہے وہ اس آنے والے کو دیکھ لے ۔ (الصواعق المحرقہ صفحہ ۲۷۰‘ دار قطنی)
سیدنا ابوبکر رضی ﷲ عنہ کے سب سے زیادہ بہادر ہونے سے متعلق سیدنا علی رضی ﷲ عنہ کا ارشاد پہلے تحریر ہو چکا ‘ اگر ان کے مابین کسی قسم کی رنجش ہوتی تو کیا یہ دونوں حضرات ایک دوسرے کی فضیلت بیان فرماتے ؟ یہ احادیث مبارکہ ان کی باہم محبت کی واضح مثالیں ہیں۔
سیدنا عمر و سیدنا علی رضی ﷲ عنہما کی باہم محبت
حضرت ابن عباس رضی ﷲ عنہما فرماتے ہیں کہ دورِفاروقی میں مدائن کی فتح کے بعد حضرت عمر رضی ﷲ عنہ نے مسجد نبوی میں مال غنیمت جمع کر کے تقسیم کرنا شروع کیا ۔ امام حسن رضی ﷲ عنہ تشریف لائے تو انہیں ایک ہزار درہم نذر کیے ۔ پھر امام حسین رضی اﷲ عنہ تشریف لائے تو انہیں بھی ایک ہزار درہم پیش کیے ۔ پھر آپ کے صاحبزادے عبد ﷲ رضی ﷲ عنہ آئے تو انہیں پانچ سو درہم دیے۔ انہوں نے عرض کی ‘ اے امیرالمٔومنین ! جب میں عہدِ رسالت میں جہاد کیا کرتا تھا اس وقت حسن و حسین بچے تھے ۔ جبکہ آپ نے انہیں ہزار ہزار اور مجھے سو درہم دیے ہیں ۔ حضرت عمر رضی ﷲ عنہ نے فرمایا ‘ تم عمر کے بیٹے ہو جبکہ ان والد علی المرتضٰی ‘ والدہ فاطمۃ الزہرا ‘ نانا رسول ﷲ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم ‘ نانی خدیجہ الکبریٰ ‘ چچا جعفر طیار ‘ پھوپھی اْم ہانی‘ ماموں ابراہیم بن رسول ﷲ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم ‘ خالہ رقیہ و ام کلثوم و زینب رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی بیٹیاں ہیں رضی ﷲ عنہن ۔ اگر تمہیں ایسی فضیلت ملتی تو تم ہزار درہم کا مطالبہ کرتے ۔ یہ سن کر حضرت عبد ﷲ بن عمر رضی ﷲ عنہما خاموش ہو گئے ۔ جب اس واقعہ کی خبر حضرت علی رضی ﷲ عنہ کوہوئی تو انہوں نے فرمایا ‘ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو یہ فرماتے سنا ہے کہ ’’ عمر اہل جنت کے چراغ ہیں ۔‘‘ حضرت علی رضی ﷲ عنہ کا یہ ارشاد حضرت عمر رضی ﷲ عنہ تک پہنچا تو آپ بعض صحابہ کے ہمراہ حضرت علی رضی ﷲ عنہ کے گھر تشریف لائے اور دریافت کیا ‘ اے علی ! کیا آپ نے سنا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے مجھے اہل جنت کا چراغ فرمایا ہے ۔ حضرت علی رضی ﷲ عنہ نے فرمایا ‘ ہاں ! میں نے خود سنا ہے ۔ حضرت عمر رضی ﷲ عنہ نے فرمایا ‘ اے علی! میری خواہش ہے کہ آپ یہ حدیث میرے لیے تحریر کربدیں ۔ سیدنا علی رضی ﷲ عنہ نے یہ حدیث لکھی : یہ وہ بات ہے جس کے ضامن علی بن ابی طالب ہیں عمر بن خطاب رضی ﷲ عنہ کےلیے کہ رسول ﷲ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا ‘ اْن سے جبرائیل علیہ السلام نے ‘ اْن سے ﷲ تعالٰی نے کہ : ان عمر بن الخطاب سراج اھل الجنۃ ۔ ترجمہ : عمر بن خطاب اہل جنت کے چراغ ہیں ۔ سیدنا علی رضی ﷲ عنہ کی یہ تحریر حضرت عمررضی ﷲ عنہ نے لے لی اور وصیت فرمائی کہ جب میرا وصال ہو تو یہ تحریر میرے کفن میں رکھ دینا ۔ چنانچہ آپ کی شہادت کے بعد وہ تحریر آپ کے کفن میں رکھ دی گئی ۔ (ازالتہ الخفاء، الریاض النضرۃ ج ا:۲۸۲،چشتی)
❤1
اگر ان کے مابین کسی قسم کی مخاصمت ہوتی تو کیا دونوں حضرات رضی اللہ عنہما ایک دوسرے کی فضیلت بیان فرماتے ؟ یہ واقعہ ان کی باہم محبت کی بہت عمدہ دلیل ہے ۔
امام دارقطنی رحمة ﷲ علیہ نے روایت کیا ہے کہ حضرت عمر رضی ﷲ عنہ نے حضرت علی رضی ﷲ عنہ سے کوئی بات پوچھی جس کا انہوں نے جواب دیا ۔ اس پر حضرت عمر رضی ﷲ عنہ نے فرمایا ‘ اے ابوالحسن ! میں اس بات سے ﷲ تعالٰی کی پناہ چاہتا ہوں کہ میں ایسے لوگوں میں رہوں جن میں آپ نہ ہوں ۔ (الصواعق المحرقہ صفحہ نمبر ۲۷۲)
اس واقعہ سے بھی اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ حضرت عمر رضی ﷲ عنہ کو حضرت علی رضی ﷲ عنہ سے کس قدر محبت تھی ۔
حضرت عمر رضی ﷲ عنہ امورِ سلطنت کے وقت کسی سے نہیں ملے تھے ۔ آپ کے صاحبزادے عبد ﷲ رضی ﷲ عنہ نے ملاقات کی اجازت طلب کی تو نہیں ملی ۔ اس دوران امام حسن رضی ﷲ عنہ بھی ملاقات کے لیے آگئے ۔ انہوں نے دیکھا کہ ابن عمر رضی ﷲ عنہما کو اجازت نہیں ملی تو مجھے بھی اجازت نہیں ملے گی ۔ یہ سوچ کر واپس جانے لگے ۔ کسی نے حضرت عمر رضی ﷲ عنہ کو اطلاع کر دی تو آپ نے فرمایا‘ انہیں میرے پاس لاؤ۔ جب وہ آئے تو فرمایا‘ آپ نے آنے کی خبر کیوں نہ کی ؟ امام حسن رضی ﷲ عنہ نے کہا‘ میں نے سوچا‘ بہت بیٹے کو اجازت نہیں ملی تو مجھے بھی نہیں ملے گی ۔ آپ نے فرمایا‘ وہ عمر کا بیٹا ہے اور آپ رسول ﷲ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے بیٹے ہیں اس لیے آپ اجازت کے زیادہ حقدار ہیں ۔ عمر رضی ﷲ عنہ کو جو عزت ملی ہے وہ ﷲ کے بعد اس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم اور اہلبیت رضی اللہ عنہم کے ذریعے ملی ہے ۔ ایک اور روایت میں ہے کہ آئندہ جب آپ آئیں تو اجازت لینے کی بھی ضرورت نہیں ۔ (الصواعق المحرقہ: ۲۷۲،چشتی)
ایک اور روایت ملاحظہ فرمائیں جس سے سیدنا عمر و علی رضی ﷲ عنہما میں محبت کا اندازہ کیا جا سکتا ہے ۔ حضرت ابوبکر رضی ﷲ عنہ جب شدید علیل ہو گئے تو آپ نے کھڑکی سے سر مبارک باہر نکال کر صحابہ سے فرمایا‘ اے لوگو! میں نے ایک شخص کو تم پر خلیفہ مقرر کیا ہے کیا تم اس کام سے راضی ہو ؟ ۔ سب لوگوں نے متفق ہو کر کہا‘ اے خلیفہ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم! ہم بالکل راضی ہیں ۔ اس پر سیدنا علی رضی ﷲ عنہ کھڑے ہو گئے اور کہا‘وہ شخص اگر عمر رضی ﷲ عنہ نہیں ہیں تو ہم راضی نہیں ہیں ۔ سیدنا ابوبکر رضی ﷲ عنہ نے فرمایا‘ بیشک وہ عمر ہی ہیں ۔ (تاریخ الخلفاء:۱۵۰‘ عساکر)
اسی طرح امام محمد باقر رضی ﷲ عنہ حضرت جابر انصاری رضی ﷲ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ جب وصال کے بعد حضرت عمر رضی ﷲ عنہ کو غسل دے کر کفن پہنایا گیا تو حضرت علی رضی ﷲ عنہ تشریف لائے اور فرمانے لگے‘ ان پر ﷲ تعالٰی کی رحمت ہو‘ میرے نزدیک تم میں سے کوئی شخص مجھے اس (حضرت عمررضی ﷲ عنہ) سے زیادہ محبوب نہیں کہ میں اس جیسا اعمال نامہ لےکر بارگاہِ الٰہی میں حاضر ہوں ۔ (شیعہ کتاب تلخیص الشافی:۲۱۹‘ مطبوعہ ایران)
اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ان حضرات میں کس قدر پیار و محبت تھی ۔ اور فاروقی تربیت ہی کا نتیجہ تھا کہ جب ایک حاسد شخص نے حضرت عبد ﷲ بن عمر رضی ﷲ عنہما سے حضرت علی رضی ﷲ عنہ کے متعلق سوال کیا تو آپ نے ان کی خوبیاں بیان کیں پھر پوچھا‘ یہ باتیں تجھے بری لگیں؟ اس نے کہا‘ ہاں ۔ آپ نے فرمایا‘ ﷲ تعالٰی تجھے ذلیل و خوار کرے۔ جا دفع ہو اور مجھے نقصان پہنچانے کی جو کوشش کر سکتا ہو کر لے ۔ (صحیح بخاری باب مناقب علی رضی اللہ عنہ)
حضرت عمر رضی ﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا‘ ’’قیامت کے دن میرے حسب و نسب کے سوا ہر سلسلۂ نسب منقطع ہو جائے گا’’۔ اسی بنا پر سیدنا عمر رضی ﷲ عنہ نے سیدنا علی رضی ﷲ عنہ سے ان کی صاحبزادی سیدہ اْم کلثوم رضی ﷲ عنہا کا رشتہ مانگ لیا۔ اور ان سے آپ کے ایک فرزند زید رضی ﷲ عنہ پیدا ہوئے ۔
حضرت علی رضی ﷲ عنہ کا یہ ارشاد بھی قابلِ غور ہے‘ آپ فرماتے ہیں کہ ’’ جب تم صالحین کا ذکر کرو تو حضرت عمر رضی ﷲ عنہ کو کبھی فراموش نہ کرو ۔‘‘ (تاریخ الخلفاء: ۱۹۵)
سیدنا علی اور عظمت شیخین رضی اللہ عنہم
سیدنا علی رضی ﷲ عنہ اور حضرات شیخین رضی ﷲ عنہا ایک دوسرے کی خوشی کو اپنی خوشی اور دوسرے کے غم کو اپنا غم سمجھتے تھے ۔ شعیہ عالم ملا باقر مجلسی نے جلا ء العیون صفحہ نمبر ۱۶۸ پر لکھا ہے کہ حضرت علی رضی ﷲ عنہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم سے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا رشتہ مانگنے کے لیے حضرت ابوبکر و عمر رضی ﷲ عنہ نے قائل کیا ۔ اسی کتاب میں مرقوم ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے سیدہ فاطمہ رضی ﷲ عنہا کی شادی کےلیے ضروری سامان خریدنے کے لیے سیدنا ابوبکر رضی ﷲ عنہ کو ذمہ داری سونپی تھی ۔ اس سے معلوم ہوا کہ سیدنا ابوبکر رضی ﷲ عنہ کو رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے گھریلو معاملات میں بھی خاص قرب حاصل تھا ۔
امام دارقطنی رحمة ﷲ علیہ نے روایت کیا ہے کہ حضرت عمر رضی ﷲ عنہ نے حضرت علی رضی ﷲ عنہ سے کوئی بات پوچھی جس کا انہوں نے جواب دیا ۔ اس پر حضرت عمر رضی ﷲ عنہ نے فرمایا ‘ اے ابوالحسن ! میں اس بات سے ﷲ تعالٰی کی پناہ چاہتا ہوں کہ میں ایسے لوگوں میں رہوں جن میں آپ نہ ہوں ۔ (الصواعق المحرقہ صفحہ نمبر ۲۷۲)
اس واقعہ سے بھی اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ حضرت عمر رضی ﷲ عنہ کو حضرت علی رضی ﷲ عنہ سے کس قدر محبت تھی ۔
حضرت عمر رضی ﷲ عنہ امورِ سلطنت کے وقت کسی سے نہیں ملے تھے ۔ آپ کے صاحبزادے عبد ﷲ رضی ﷲ عنہ نے ملاقات کی اجازت طلب کی تو نہیں ملی ۔ اس دوران امام حسن رضی ﷲ عنہ بھی ملاقات کے لیے آگئے ۔ انہوں نے دیکھا کہ ابن عمر رضی ﷲ عنہما کو اجازت نہیں ملی تو مجھے بھی اجازت نہیں ملے گی ۔ یہ سوچ کر واپس جانے لگے ۔ کسی نے حضرت عمر رضی ﷲ عنہ کو اطلاع کر دی تو آپ نے فرمایا‘ انہیں میرے پاس لاؤ۔ جب وہ آئے تو فرمایا‘ آپ نے آنے کی خبر کیوں نہ کی ؟ امام حسن رضی ﷲ عنہ نے کہا‘ میں نے سوچا‘ بہت بیٹے کو اجازت نہیں ملی تو مجھے بھی نہیں ملے گی ۔ آپ نے فرمایا‘ وہ عمر کا بیٹا ہے اور آپ رسول ﷲ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے بیٹے ہیں اس لیے آپ اجازت کے زیادہ حقدار ہیں ۔ عمر رضی ﷲ عنہ کو جو عزت ملی ہے وہ ﷲ کے بعد اس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم اور اہلبیت رضی اللہ عنہم کے ذریعے ملی ہے ۔ ایک اور روایت میں ہے کہ آئندہ جب آپ آئیں تو اجازت لینے کی بھی ضرورت نہیں ۔ (الصواعق المحرقہ: ۲۷۲،چشتی)
ایک اور روایت ملاحظہ فرمائیں جس سے سیدنا عمر و علی رضی ﷲ عنہما میں محبت کا اندازہ کیا جا سکتا ہے ۔ حضرت ابوبکر رضی ﷲ عنہ جب شدید علیل ہو گئے تو آپ نے کھڑکی سے سر مبارک باہر نکال کر صحابہ سے فرمایا‘ اے لوگو! میں نے ایک شخص کو تم پر خلیفہ مقرر کیا ہے کیا تم اس کام سے راضی ہو ؟ ۔ سب لوگوں نے متفق ہو کر کہا‘ اے خلیفہ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم! ہم بالکل راضی ہیں ۔ اس پر سیدنا علی رضی ﷲ عنہ کھڑے ہو گئے اور کہا‘وہ شخص اگر عمر رضی ﷲ عنہ نہیں ہیں تو ہم راضی نہیں ہیں ۔ سیدنا ابوبکر رضی ﷲ عنہ نے فرمایا‘ بیشک وہ عمر ہی ہیں ۔ (تاریخ الخلفاء:۱۵۰‘ عساکر)
اسی طرح امام محمد باقر رضی ﷲ عنہ حضرت جابر انصاری رضی ﷲ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ جب وصال کے بعد حضرت عمر رضی ﷲ عنہ کو غسل دے کر کفن پہنایا گیا تو حضرت علی رضی ﷲ عنہ تشریف لائے اور فرمانے لگے‘ ان پر ﷲ تعالٰی کی رحمت ہو‘ میرے نزدیک تم میں سے کوئی شخص مجھے اس (حضرت عمررضی ﷲ عنہ) سے زیادہ محبوب نہیں کہ میں اس جیسا اعمال نامہ لےکر بارگاہِ الٰہی میں حاضر ہوں ۔ (شیعہ کتاب تلخیص الشافی:۲۱۹‘ مطبوعہ ایران)
اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ان حضرات میں کس قدر پیار و محبت تھی ۔ اور فاروقی تربیت ہی کا نتیجہ تھا کہ جب ایک حاسد شخص نے حضرت عبد ﷲ بن عمر رضی ﷲ عنہما سے حضرت علی رضی ﷲ عنہ کے متعلق سوال کیا تو آپ نے ان کی خوبیاں بیان کیں پھر پوچھا‘ یہ باتیں تجھے بری لگیں؟ اس نے کہا‘ ہاں ۔ آپ نے فرمایا‘ ﷲ تعالٰی تجھے ذلیل و خوار کرے۔ جا دفع ہو اور مجھے نقصان پہنچانے کی جو کوشش کر سکتا ہو کر لے ۔ (صحیح بخاری باب مناقب علی رضی اللہ عنہ)
حضرت عمر رضی ﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا‘ ’’قیامت کے دن میرے حسب و نسب کے سوا ہر سلسلۂ نسب منقطع ہو جائے گا’’۔ اسی بنا پر سیدنا عمر رضی ﷲ عنہ نے سیدنا علی رضی ﷲ عنہ سے ان کی صاحبزادی سیدہ اْم کلثوم رضی ﷲ عنہا کا رشتہ مانگ لیا۔ اور ان سے آپ کے ایک فرزند زید رضی ﷲ عنہ پیدا ہوئے ۔
حضرت علی رضی ﷲ عنہ کا یہ ارشاد بھی قابلِ غور ہے‘ آپ فرماتے ہیں کہ ’’ جب تم صالحین کا ذکر کرو تو حضرت عمر رضی ﷲ عنہ کو کبھی فراموش نہ کرو ۔‘‘ (تاریخ الخلفاء: ۱۹۵)
سیدنا علی اور عظمت شیخین رضی اللہ عنہم
سیدنا علی رضی ﷲ عنہ اور حضرات شیخین رضی ﷲ عنہا ایک دوسرے کی خوشی کو اپنی خوشی اور دوسرے کے غم کو اپنا غم سمجھتے تھے ۔ شعیہ عالم ملا باقر مجلسی نے جلا ء العیون صفحہ نمبر ۱۶۸ پر لکھا ہے کہ حضرت علی رضی ﷲ عنہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم سے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا رشتہ مانگنے کے لیے حضرت ابوبکر و عمر رضی ﷲ عنہ نے قائل کیا ۔ اسی کتاب میں مرقوم ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے سیدہ فاطمہ رضی ﷲ عنہا کی شادی کےلیے ضروری سامان خریدنے کے لیے سیدنا ابوبکر رضی ﷲ عنہ کو ذمہ داری سونپی تھی ۔ اس سے معلوم ہوا کہ سیدنا ابوبکر رضی ﷲ عنہ کو رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے گھریلو معاملات میں بھی خاص قرب حاصل تھا ۔
❤1
حضرت ابن عباس رضی ﷲ عنہما سے روایت ہے کہ میں حضرت عمر رضی ﷲ عنہ کی شہادت کے بعد ان کے جسمِ اقدس کے پاس کھڑا تھا کہ ایک صاحب نے میرے پیچھے سے آکر میرے کندھے پر اپنی کہنی رکھی اور فرمایا‘ ﷲتعالٰی آپ پر رحم فرمائے! بے شک مجھے امید ہے کہ ﷲ تعالیٰ آپ کو آپ کے دونوں دوستوں (یعنی حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم اور ابوبکر صدیق رضی ﷲ عنہ) کا ساتھ عطا کرے گا کیونکہ میں نے بار ہا رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ’میں تھا اور ابوبکر و عمر‘’میں نے یہ کہا اور ابوبکر و عمر نے‘’میں چلا اور ابوبکر و عمر‘’میں داخل ہوا اور ابوبکر و عمر‘’میں نکلا اور ابوبکر و عمر‘۔ (رضی ﷲ عنہما) میں نے پیچھے مڑ کے دیکھا تو وہ حضرت علی کرم ﷲ وجہہ تھے ۔ (صحیح بخاری المناقب)(مسلم کتاب الفضائل الصحابہ،چشتی)
اس حدیث پاک سے معلوم ہوا کہ سیدنا علی کرم ﷲ وجہہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم سے خصوصی قرب ومحبت کے باعث سیدنا ابوبکر و عمر رضی ﷲ عنہما سے دلی محبت رکھتے تھے ۔
ایک شخص نے حضرت علی رضی ﷲ عنہ سے دریافت کیا‘ میں نے خطبہ میں آپ کو یہ فرماتے سنا ہے کہ’’ اے ﷲ! ہم کو ویسی ہی صلاحیت عطا فرما جیسی تو نے ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کو عطا فرمائی تھی‘‘۔ ازراہِ کرم آپ مجھے ان ہدایت یاب خلفائے راشدین کے نام بتا دیں ۔ یہ سن کر حضرت علی رضی ﷲ عنہ آبدیدہ ہو گئے اور فرمایا : وہ میرے دوست ابوبکر اور عمر رضی ﷲ عنہما تھے ۔ ان میں سے ہر ایک ہدایت کا امام اور شیخ الاسلام تھا ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے بعد وہ دونوں قریش کے مقتدیٰ تھے‘ جس شخص نے ان کی پیروی کی وہ ﷲ تعالٰی کی جماعت میں داخل ہو گیا ۔ (تاریخ الخلفاء صفحہ نمبر ۲۶۷،چشتی) ۔ یہی واقعہ شیعہ حضرات کی کتاب تلخیص الشافی جلد ۳ صفحہ ۳۱۸ پر امام جعفر صادق رضی ﷲ عنہ نے امام باقر رضی ﷲ عنہ سے روایت کیا ہے ۔
شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمہ ﷲ فرماتے ہیں‘ یہ بات صحیح روایات سے ثابت اور تواتر سے نقل ہوتی چلی آئی ہے کہ حضرت علی رضی ﷲ عنہ اپنی خلافت کے زمانے میں اپنے رفقاء کے سامنے حضرت ابوبکر و عمر رضی ﷲ عنہما کی تعریف و توصیف کے ساتھ ساتھ ان کی افضلیت کو برملا اور علانیہ بیان کرتے رہے ہیں ۔ امام ذہبی رحمة ﷲ علیہ نے اسی (80) سے زیادہ حضرات سے صحیح سندوں کے ساتھ ثابت کیا ہے اور صحیح بخاری کے حوالے سے بھی بیان کیا ہے کہ حضرت علی رضی ﷲ عنہ نے فرمایا‘ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے بعد سب لوگوں سے افضل ترین ابوبکر رضی ﷲ عنہ ہیں پھر عمر رضی ﷲ عنہ ۔ آپ کے صاحبزادے محمد بن حنفیہ رضی ﷲ عنہما نے کہا‘ پھر آپ ؟ تو آپ تو فرمایا‘ میں ایک عام مسلمان ہوں۔(تکمیل الایمان صفحہ نمبر ۱۶۶،چشتی)
سیدنا علی رضی ﷲ عنہ نے انہیں سیدنا ابوبکر و عمر رضی ﷲ عنہ سے افضل کہنے والوں کے لیے درّوں کی سزا تجویز فرمائی ہے‘ شعیہ حضرات کی اسماء الرجال کی معتبر کتاب رجال کشی کا حوالہ ملاحظہ فرمائیں ۔ سفیان ثوری‘ محمد بن سکندر رحہما اللہ علیہما سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت علی رضی ﷲ عنہ کو کوفہ کے منبر پربیٹھے ہوئے دیکھا کہ وہ فرمارہے تھے‘ اگر میرے پاس کوئی ایسا شخص آئے جو مجھے ابوبکر و عمر رضی ﷲ عنہما پر فضیلت دیتا ہوتو میں اس کو ضرور دْرّے لگائوں گا جو کہ بہتان لگانے والے کی سزا ہے ۔ (تکمیل الایمان: ۱۶۶)(سنن دارقطنی)(رجال کشی۳۳۸ مطبوعہ کربلا)
شیعوں کی اسی کتاب میں سیدنا علی رضی ﷲ عنہ کا فتویٰ موجود ہے کہ ’’حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی ﷲ عنہما کی محبت ایمان ہے اور ان کا بغض کفر ہے ۔‘‘ (رجال کشی صفحہ ۳۳۸)
امام احمد رضا خان قادری رحمة ﷲ علیہ فرماتے ہیں‘ محبت علی مرتضٰی رضی ﷲ عنہ کا یہی تقاضا ہے کہ محبوب کہ اطاعت کیجیے (یعنی سیدنا ابوبکر و عمر رضی ﷲ عنہما کو ساری امت سے افضل مانیے) اور خود کو غضب اور اسی کوڑوں کے استحقاق سے بچئے ۔ (اعتقادالاحباب صفحہ نمبر ۵۶،چشتی)
شیعہ حضرات یہ کہہ کر انکار کردیتے ہیں کہ ’’یہ ساری باتیں تقیہ کے طور پر کہی گئی تھیں (أَسْتَغْفِرُ اللّٰه) ۔ یعنی حضرت علی رضی ﷲ عنہ حضرات شیخین کی تعریف محض جان کے خوف اور دشمنوں کے ڈر سے کیا کرتے تھے ۔ اگر ایسا نہ کرتے تو ان کی جان کو خطرہ تھا مگر دلی طور پر حضرت علی رضی ﷲ عنہ حضرات شیخین کے خلاف تھے ۔ شعیوں کے اس بیان میں قطعاً کوئی صداقت نہیں ۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ حضرت علی رضی ﷲ عنہ جو شیرخدا تھے اور مرکز دائرہ حق تھے‘ اتنے بزدل‘ مغلوب اور عاجز ہو گئے تھے کہ وہ حق بیان کرنے سے قاصر رہے اور ساری زندگی خوف وعجز میں گزار دی‘ پھر اسدُﷲِ الغالب کا لقب کیا معنی رکھتا ہے ؟ ۔ (تکمیل الایمان صفحہ ۱۶۷)
اس حدیث پاک سے معلوم ہوا کہ سیدنا علی کرم ﷲ وجہہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم سے خصوصی قرب ومحبت کے باعث سیدنا ابوبکر و عمر رضی ﷲ عنہما سے دلی محبت رکھتے تھے ۔
ایک شخص نے حضرت علی رضی ﷲ عنہ سے دریافت کیا‘ میں نے خطبہ میں آپ کو یہ فرماتے سنا ہے کہ’’ اے ﷲ! ہم کو ویسی ہی صلاحیت عطا فرما جیسی تو نے ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کو عطا فرمائی تھی‘‘۔ ازراہِ کرم آپ مجھے ان ہدایت یاب خلفائے راشدین کے نام بتا دیں ۔ یہ سن کر حضرت علی رضی ﷲ عنہ آبدیدہ ہو گئے اور فرمایا : وہ میرے دوست ابوبکر اور عمر رضی ﷲ عنہما تھے ۔ ان میں سے ہر ایک ہدایت کا امام اور شیخ الاسلام تھا ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے بعد وہ دونوں قریش کے مقتدیٰ تھے‘ جس شخص نے ان کی پیروی کی وہ ﷲ تعالٰی کی جماعت میں داخل ہو گیا ۔ (تاریخ الخلفاء صفحہ نمبر ۲۶۷،چشتی) ۔ یہی واقعہ شیعہ حضرات کی کتاب تلخیص الشافی جلد ۳ صفحہ ۳۱۸ پر امام جعفر صادق رضی ﷲ عنہ نے امام باقر رضی ﷲ عنہ سے روایت کیا ہے ۔
شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمہ ﷲ فرماتے ہیں‘ یہ بات صحیح روایات سے ثابت اور تواتر سے نقل ہوتی چلی آئی ہے کہ حضرت علی رضی ﷲ عنہ اپنی خلافت کے زمانے میں اپنے رفقاء کے سامنے حضرت ابوبکر و عمر رضی ﷲ عنہما کی تعریف و توصیف کے ساتھ ساتھ ان کی افضلیت کو برملا اور علانیہ بیان کرتے رہے ہیں ۔ امام ذہبی رحمة ﷲ علیہ نے اسی (80) سے زیادہ حضرات سے صحیح سندوں کے ساتھ ثابت کیا ہے اور صحیح بخاری کے حوالے سے بھی بیان کیا ہے کہ حضرت علی رضی ﷲ عنہ نے فرمایا‘ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے بعد سب لوگوں سے افضل ترین ابوبکر رضی ﷲ عنہ ہیں پھر عمر رضی ﷲ عنہ ۔ آپ کے صاحبزادے محمد بن حنفیہ رضی ﷲ عنہما نے کہا‘ پھر آپ ؟ تو آپ تو فرمایا‘ میں ایک عام مسلمان ہوں۔(تکمیل الایمان صفحہ نمبر ۱۶۶،چشتی)
سیدنا علی رضی ﷲ عنہ نے انہیں سیدنا ابوبکر و عمر رضی ﷲ عنہ سے افضل کہنے والوں کے لیے درّوں کی سزا تجویز فرمائی ہے‘ شعیہ حضرات کی اسماء الرجال کی معتبر کتاب رجال کشی کا حوالہ ملاحظہ فرمائیں ۔ سفیان ثوری‘ محمد بن سکندر رحہما اللہ علیہما سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت علی رضی ﷲ عنہ کو کوفہ کے منبر پربیٹھے ہوئے دیکھا کہ وہ فرمارہے تھے‘ اگر میرے پاس کوئی ایسا شخص آئے جو مجھے ابوبکر و عمر رضی ﷲ عنہما پر فضیلت دیتا ہوتو میں اس کو ضرور دْرّے لگائوں گا جو کہ بہتان لگانے والے کی سزا ہے ۔ (تکمیل الایمان: ۱۶۶)(سنن دارقطنی)(رجال کشی۳۳۸ مطبوعہ کربلا)
شیعوں کی اسی کتاب میں سیدنا علی رضی ﷲ عنہ کا فتویٰ موجود ہے کہ ’’حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی ﷲ عنہما کی محبت ایمان ہے اور ان کا بغض کفر ہے ۔‘‘ (رجال کشی صفحہ ۳۳۸)
امام احمد رضا خان قادری رحمة ﷲ علیہ فرماتے ہیں‘ محبت علی مرتضٰی رضی ﷲ عنہ کا یہی تقاضا ہے کہ محبوب کہ اطاعت کیجیے (یعنی سیدنا ابوبکر و عمر رضی ﷲ عنہما کو ساری امت سے افضل مانیے) اور خود کو غضب اور اسی کوڑوں کے استحقاق سے بچئے ۔ (اعتقادالاحباب صفحہ نمبر ۵۶،چشتی)
شیعہ حضرات یہ کہہ کر انکار کردیتے ہیں کہ ’’یہ ساری باتیں تقیہ کے طور پر کہی گئی تھیں (أَسْتَغْفِرُ اللّٰه) ۔ یعنی حضرت علی رضی ﷲ عنہ حضرات شیخین کی تعریف محض جان کے خوف اور دشمنوں کے ڈر سے کیا کرتے تھے ۔ اگر ایسا نہ کرتے تو ان کی جان کو خطرہ تھا مگر دلی طور پر حضرت علی رضی ﷲ عنہ حضرات شیخین کے خلاف تھے ۔ شعیوں کے اس بیان میں قطعاً کوئی صداقت نہیں ۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ حضرت علی رضی ﷲ عنہ جو شیرخدا تھے اور مرکز دائرہ حق تھے‘ اتنے بزدل‘ مغلوب اور عاجز ہو گئے تھے کہ وہ حق بیان کرنے سے قاصر رہے اور ساری زندگی خوف وعجز میں گزار دی‘ پھر اسدُﷲِ الغالب کا لقب کیا معنی رکھتا ہے ؟ ۔ (تکمیل الایمان صفحہ ۱۶۷)
❤1
سیدنا علی المرتضٰی حیدر کرار رضی ﷲ عنہ سے محبت کا دعویٰ کرنے والے آپ کے یہ ارشاد بھی دل کے کانوں سے سن لیں ۔ حضرت علی رضی ﷲ عنہ فرماتے ہیں‘ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے بعد تمام لوگوں میں ابوبکر و عمر رضی ﷲ عنہ سب سے بہتر ہیں۔ کسی مومن کے دل میں میری محبت اور ابوبکر و عمر رضی ﷲ عنہما کا بغض کبھی یکجا نہیں ہو سکتے ۔ (تاریخ الخلفاء: ۱۲۲‘ معجم الاوسط،چشتی)
صحابہ و اہلبیت رضی اللہ عنہم کی آپس میں محبت : بالخصوص چاروں خلفاء راشدین اور اہلبیت اس قدر مضبوط و مستحکم ، خاندانی و ایمانی رشتوں میں بندھے ہوئے تھے کہ اس تعلق کو کوئی بھی ایک دوسرے سے ختم نہیں کر سکا ۔ خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اور خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے سسر ہیں ۔ کیونکہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے نکاح میں آئی تھیں ۔ خلیفہ سوم سیدنا حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ اور خلیفہ چہارم حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے داماد ہیں ۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی دو صاحبزادیاں حضرت ام کلثوم اور حضرت رقیہ رضی اللہ عنہما یکے بعد دیگرے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے نکاح میں آئیں اور خاتون جنت سیدہ حضرت فاطمہ الزہرہ رضی اللہ عنہا حضرت علی رضی اللہ عنہ کے نکاح میں آئیں ۔ سبحان اللہ !! کیا عالی شان تقسیم ہے کہ دو خلفاء حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے سسر اور دو خلفاء داماد ہیں ۔ جب امُ المومنین حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے نکاح میں آئیں تو ان کے والد حضرت ابو سفیان رضی اللہ عنہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے سسر ہوئے ۔ اس طرح حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ (حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے بھائی اور حضرت ابو سفیان کے بیٹے) کے بہنوئی ہوئے ۔
حضرت ام کلثوم اور حضرت رقیہ رضی اللہ عنہما چونکہ حضرت فاطمہ الزہرہ رضی اللہ عنہا کی بہنیں تھیں لہٰذا حضرت امام حسن اور حضرت امام حسین رضی اللہ عنہما کی خالہ ہوئیں اور سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ خالو جان ہوئے ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ، حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا اور حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا چونکہ حضرت امام حسن اور حضرت امام حسین رضی اللہ عنہما کے نانا جان حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے نکاح میں آئیں تھیں تو یہ تینوں مقدس خواتین حضرت امام حسن اور حضرت امام حسین رضی اللہ عنہما کی نانیاں ہوئیں ۔ سبحان اللہ !! غور کیجئے صحابہ کرام اور اہلبیت رضی اللہ عنہم اجمعین کو اللہ تعالٰی نے کتنی گہری وابستگی عطا فرمائی ہے ۔ حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی ، حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی بیٹی اور پیغمبر اسلام کی حقیقی نواسی ہیں ۔
امیر المومنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی خواہش تھی کہ ان کی خاندانِ نبوت سے رشتہ داری قائم ہو جائے ، چنانچہ آپ نے اپنی اس خواہش کا اظہار حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کر دیا ۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم نے آپ کی اس درخواست کو قبول فرما لیا اور اپنی صاحبزادی حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا کا نکاح امیر المومنین حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے کر دیا۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے حضرت زید بن عمر رحمة اللہ علیہ ، حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا ہی کے شکم مبارک سے پیدا ہوئے ۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی عمر زیادہ تھی مگر اس کے باوجود حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنی کم عمر بیٹی کا ان سے نکاح کر دیا ۔ یہ واقعہ ان اسلام دشمن قوتوں کے لئے عبرت کا تعزیانہ ہے جو بظاہر اہلبیت رضی اللہ عنہم سے اپنی محبت کا ظاہری دم بھرتے ہیں اور جو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی شان اقدس میں گستاخی کرکے اپنی آخرت کو برباد کرتے ہیں ، اور نعوذ باللہ ان پر سب و شتم کر کے اپنے اعمال کو سیاہ اور داغدار کرتے ہیں ۔ کوئی ان ظالموں سے پوچھے اے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی گستاخی کرنے والو ! تمہارا حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں کیا خیال ہے۔ جنہوں نے بقول تمہارے ایک غاصب، ظالم اور مرتد سے اپنی کمسن صاحبزادی کا نکاح کر دیا ؟ ذرا سوچئے ! اگر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نعوذ باللہ ظالم ہوتے تو کیا حضرت علی رضی اللہ عنہ اپنی بیٹی انہیں دیتے ؟ ہرگز نہیں ۔
(مزید حصّہ دوم میں ان شاء اللہ) ۔
(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)
صحابہ و اہلبیت رضی اللہ عنہم کی آپس میں محبت : بالخصوص چاروں خلفاء راشدین اور اہلبیت اس قدر مضبوط و مستحکم ، خاندانی و ایمانی رشتوں میں بندھے ہوئے تھے کہ اس تعلق کو کوئی بھی ایک دوسرے سے ختم نہیں کر سکا ۔ خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اور خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے سسر ہیں ۔ کیونکہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے نکاح میں آئی تھیں ۔ خلیفہ سوم سیدنا حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ اور خلیفہ چہارم حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے داماد ہیں ۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی دو صاحبزادیاں حضرت ام کلثوم اور حضرت رقیہ رضی اللہ عنہما یکے بعد دیگرے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے نکاح میں آئیں اور خاتون جنت سیدہ حضرت فاطمہ الزہرہ رضی اللہ عنہا حضرت علی رضی اللہ عنہ کے نکاح میں آئیں ۔ سبحان اللہ !! کیا عالی شان تقسیم ہے کہ دو خلفاء حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے سسر اور دو خلفاء داماد ہیں ۔ جب امُ المومنین حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے نکاح میں آئیں تو ان کے والد حضرت ابو سفیان رضی اللہ عنہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے سسر ہوئے ۔ اس طرح حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ (حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے بھائی اور حضرت ابو سفیان کے بیٹے) کے بہنوئی ہوئے ۔
حضرت ام کلثوم اور حضرت رقیہ رضی اللہ عنہما چونکہ حضرت فاطمہ الزہرہ رضی اللہ عنہا کی بہنیں تھیں لہٰذا حضرت امام حسن اور حضرت امام حسین رضی اللہ عنہما کی خالہ ہوئیں اور سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ خالو جان ہوئے ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ، حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا اور حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا چونکہ حضرت امام حسن اور حضرت امام حسین رضی اللہ عنہما کے نانا جان حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے نکاح میں آئیں تھیں تو یہ تینوں مقدس خواتین حضرت امام حسن اور حضرت امام حسین رضی اللہ عنہما کی نانیاں ہوئیں ۔ سبحان اللہ !! غور کیجئے صحابہ کرام اور اہلبیت رضی اللہ عنہم اجمعین کو اللہ تعالٰی نے کتنی گہری وابستگی عطا فرمائی ہے ۔ حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی ، حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی بیٹی اور پیغمبر اسلام کی حقیقی نواسی ہیں ۔
امیر المومنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی خواہش تھی کہ ان کی خاندانِ نبوت سے رشتہ داری قائم ہو جائے ، چنانچہ آپ نے اپنی اس خواہش کا اظہار حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کر دیا ۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم نے آپ کی اس درخواست کو قبول فرما لیا اور اپنی صاحبزادی حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا کا نکاح امیر المومنین حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے کر دیا۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے حضرت زید بن عمر رحمة اللہ علیہ ، حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا ہی کے شکم مبارک سے پیدا ہوئے ۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی عمر زیادہ تھی مگر اس کے باوجود حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنی کم عمر بیٹی کا ان سے نکاح کر دیا ۔ یہ واقعہ ان اسلام دشمن قوتوں کے لئے عبرت کا تعزیانہ ہے جو بظاہر اہلبیت رضی اللہ عنہم سے اپنی محبت کا ظاہری دم بھرتے ہیں اور جو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی شان اقدس میں گستاخی کرکے اپنی آخرت کو برباد کرتے ہیں ، اور نعوذ باللہ ان پر سب و شتم کر کے اپنے اعمال کو سیاہ اور داغدار کرتے ہیں ۔ کوئی ان ظالموں سے پوچھے اے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی گستاخی کرنے والو ! تمہارا حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں کیا خیال ہے۔ جنہوں نے بقول تمہارے ایک غاصب، ظالم اور مرتد سے اپنی کمسن صاحبزادی کا نکاح کر دیا ؟ ذرا سوچئے ! اگر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نعوذ باللہ ظالم ہوتے تو کیا حضرت علی رضی اللہ عنہ اپنی بیٹی انہیں دیتے ؟ ہرگز نہیں ۔
(مزید حصّہ دوم میں ان شاء اللہ) ۔
(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)
❤1
https://t.me/islaamic_Knowledge/24778
صحابہ و اہلبیت رضی اللہ عنہم کی آپس میں محبت و رشتہ داریاں حصّہ اوّل
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/292959166273463/
✍ #ڈاکٹر_فیض_احمد_چشتی
صحابہ و اہلبیت رضی اللہ عنہم کی آپس میں محبت و رشتہ داریاں حصّہ اوّل
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/292959166273463/
✍ #ڈاکٹر_فیض_احمد_چشتی
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1