🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
#فیضان_حضرت_علی_مرتضی ❶ ولادت حضرت مولا علی مشکل کشا رَضِیَ الــلّٰــهُ تَـبَـارَڪَـ وَ تَـعَـالیٰ عَــنۡــہۡ @islaamic_Knowledge پَیدائِش ¹³رجب المرجب عُمر ⁶³سَال تاریخ شہادت : 21 رمضان ۰۴ ھ مدت خلافت : ❹برس ❽ماہ ❾دِن
#فیضان_حضرت_علی_مرتضی ❷
ولادت حضرت مولا علی مشکل کشا
رَضِیَ الــلّٰــهُ تَـبَـارَڪَـ وَ تَـعَـالیٰ عَـنۡـہۡ
@islaamic_Knowledge
پَیدائِش ¹³رجب المرجب عُمر ⁶³سَال
تاریخ شہادت : 21 رمضان ۰۴ ھ
مدت خلافت : ❹برس ❽ماہ ❾دِن
ولادت حضرت مولا علی مشکل کشا
رَضِیَ الــلّٰــهُ تَـبَـارَڪَـ وَ تَـعَـالیٰ عَـنۡـہۡ
@islaamic_Knowledge
پَیدائِش ¹³رجب المرجب عُمر ⁶³سَال
تاریخ شہادت : 21 رمضان ۰۴ ھ
مدت خلافت : ❹برس ❽ماہ ❾دِن
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ علمی و انقلابی شخصیت
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/293054962930550/
محترم قارئینِ کرام : خلیفۂ چہارُم امیرُالمؤمنین حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ایک قول کے مطابق 10سال کی عُمْر میں اسلام قبول کرکے بچّوں میں سب سے پہلے اسلام قبول کرنے کا شرف پایا ۔ (سیرتِ ابن اسحاق ، ص137 ، مقدمۃ ابن الصلاح ، ص300)
بچپن سے لے کر رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے ظاہری وِصال فرمانے تک سفر و حَضر اور اہلِ بیت ہونے کی وجہ سے بسا اوقات گھر میں بھی حُضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے ساتھ ہوتے اور نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی سنّتوں کو دل و جان سے اپناتے ، حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہُ عنہا فرماتی ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ لوگوں میں سنّت کو زیادہ جاننے والے ہیں ۔ (تاریخ ابن عساکر ، 42 / 408)
عَہد ساز اور اِنقلاب آفریں شخصیات نے ہر دور میں انسانی سوچ کے دھارے بدلے ، مزاج و کردار کو نئی سمت پر گامزن اور گفتار و نگاہ کو نئے زاویوں سے روشناس کیا ۔ کئی انقلابی شخصیات ایسی بھی ہوتی ہیں جن کے کارنامے نہ صرف اپنے زمانے بلکہ آنے والی صدیوں کو بھی متاثر کرتے ہیں اور لوگ نسل در نسل اُن کی انمول اور انقلاب آفریں تعلیمات کی روشنی میں اپنے حال اور مستقبل کا فیصلہ کرتے ہیں ۔ ایسی ہی ایک انقلابی شخصیت جو اَخلاقِ کریمانہ و اقوالِ حکیمانہ ، جُہْدِ مسلسل ، ہمت و شجاعت ، علم و تقویٰ ، کردار و عمل ، تَدَبُّر و اسلامی سیاست ، ایثار و تَواضُع ، اِسْتِغْنَا و توکُّل اور قناعت و سادگی جیسے عمده اَوصاف سے مزیَّن ہے ۔ دنیا جنہیں حیدر و صفدر ، فاتحِ خیبر ، شیرِ خدا ، سیّدُالاَولیاِء ، امام الاَتْقِیاء ، مَخْزَنِ سخاوت ، تاجدار شجاعت ، اِمَامُ الْمَشَارِق و الْمَغَارِب ، خلیفۂ چہارم امیر المؤمنین حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ کے نام سے جانتی ہے ۔
بابُ مدینۃِ العلم آپ رضی اللہ عنہ کو بارگاہِ رسالت سے ”بابُ العلم (علم کا دروازہ)“ کالقب عطا ہوا ۔ آپ خود فرماتے ہیں : مجھے حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلیہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے علم کے ہزار باب عطا کیے اور ہر باب سے آگے ہزار باب کھلتے ہیں ۔ (تاریخ ابن عساکر جلد 42 صفحہ 385،چشتی)
ایک موقع پر یوں فرمایا : مجھ سے پوچھو ! اللہ تعالیٰ کی قسم !قیامت تک ہونے والی جو بات تم مجھ سے پوچھو گے، میں تمہیں ضرور بتاؤں گا ۔ (کنز العمال، جز 2 ج 1 ص 239، حدیث: 4737)
آپ رضی اللہ عنہ کی قراٰن فہمی کا یہ عالم تھا کہ ایک بار فرمایا: اگر میں چاہوں تو سورۂ فاتحہ کی تفسیر سے 70 اونٹ بھر دوں ۔ (الاتقان،ج2، ص1223)
شجاعت و بہادری ہجرت کی رات جبکہ چاروں طرف کفار تلواریں لیے کھڑے تھے آپ رضی اللہ عنہ نبیِّ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلیہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے بستر پر سوئے ۔ (سیرت ابن ہشام صفحہ 192،چشتی)
غزوۂ تبوک کے علاوہ ہر غزوہ میں شرکت فرمائی اور خیبرکے قلعہ کو فتح کر کے ”فاتحِ خیبر“ کے نام سے شہرت پائی ۔ (بخاری ج 3 ص 84 حدیث: 4209)
روشن فیصلے جب سینہ دستِ نبوی سے فیض یاب ہو اور فیصلوں کو تصدیقاتِ نبوی حاصل ہوں تو ایسے فیصلے زمانے میں انقلاب برپا کر دیتے ہیں ۔ آپ رضی اللہ عنہ کے فیصلوں کو خود نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلیہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے پسند فرمایا ۔ (فضائل الصحابہ، ص812، حدیث:1113)
مقدمہ کتنا ہی پیچیدہ کیوں نہ ہوتا آپ رضی اللہ عنہ چند لمحوں میں اُس کا بہترین فیصلہ فرما دیا کرتے ، الغرض آپ رضی اللہ عنہ کے فیصلے اسلامی عدالت کےلیے انقلابی حیثیت رکھتے ہیں ۔
صائب الرائے (درست رائے والے) آپ رضی اللہ عنہ ایسی درست رائے کے حامل تھے کہ نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلیہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے آپ سے مشورہ فرمایا ۔ (بخاری ج 4 ص 528)
خلیفۂ اوَّل حضرت سیدنا صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ اور خلیفۂ دُوُم حضرت سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ جیسےدور اندیش اور تجربہ کار اپنے دورِ خلافت میں آپ رضی اللہ عنہ سے مشورہ فرماتے ۔ (الکامل فی التاریخ،ج3، ص205)
عربی زبان کے قواعد آپ رضی اللہ عنہ نے جب لوگوں کو عربی بول چال میں غلطیاں کرتے پایا تو اصلاح کےلیے بنیادی قواعد و ضوابط مرتب کیے اور حضرت ابو الاسود دُؤلی رضی اللہ عنہ کو کلمہ کی تینوں قسموں” اسم ، فعل ، حرف “ کی تعریفیں لکھ کر دیں اور اِس میں اضافہ کرنے کا فرمایا پھر اُن کے اضافہ جات کی اصلاح بھی فرمائی ۔ (تاریخ الخلفاء، ص143،چشتی)
فقہ و فتاویٰ بابُ مدینۃ العلم رضی اللہ عنہ نے اس میدان میں بھی تاریخ رقم فرمائی ، پیش آنے والے نئے مسائل کو پَل بھر میں حل فرما دیتے ، کثیرصحابۂ کرام رضی اللہ عنہم فقہی مسائل میں آپ کی طرف رجوع کرتے ۔ کئی بار ایسا بھی ہوا کہ حضرت عمر فاروقِ اعظم و حضرت عائشہ رضی اللہ عنہما سے لوگوں نے مسئلے پوچھے تو فرمایا : حضرت علی رضی اللہ عنہ سے جاکر پوچھو ۔ (مسلم ص 130، حدیث: 639، مصنف
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/293054962930550/
محترم قارئینِ کرام : خلیفۂ چہارُم امیرُالمؤمنین حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ایک قول کے مطابق 10سال کی عُمْر میں اسلام قبول کرکے بچّوں میں سب سے پہلے اسلام قبول کرنے کا شرف پایا ۔ (سیرتِ ابن اسحاق ، ص137 ، مقدمۃ ابن الصلاح ، ص300)
بچپن سے لے کر رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے ظاہری وِصال فرمانے تک سفر و حَضر اور اہلِ بیت ہونے کی وجہ سے بسا اوقات گھر میں بھی حُضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے ساتھ ہوتے اور نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی سنّتوں کو دل و جان سے اپناتے ، حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہُ عنہا فرماتی ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ لوگوں میں سنّت کو زیادہ جاننے والے ہیں ۔ (تاریخ ابن عساکر ، 42 / 408)
عَہد ساز اور اِنقلاب آفریں شخصیات نے ہر دور میں انسانی سوچ کے دھارے بدلے ، مزاج و کردار کو نئی سمت پر گامزن اور گفتار و نگاہ کو نئے زاویوں سے روشناس کیا ۔ کئی انقلابی شخصیات ایسی بھی ہوتی ہیں جن کے کارنامے نہ صرف اپنے زمانے بلکہ آنے والی صدیوں کو بھی متاثر کرتے ہیں اور لوگ نسل در نسل اُن کی انمول اور انقلاب آفریں تعلیمات کی روشنی میں اپنے حال اور مستقبل کا فیصلہ کرتے ہیں ۔ ایسی ہی ایک انقلابی شخصیت جو اَخلاقِ کریمانہ و اقوالِ حکیمانہ ، جُہْدِ مسلسل ، ہمت و شجاعت ، علم و تقویٰ ، کردار و عمل ، تَدَبُّر و اسلامی سیاست ، ایثار و تَواضُع ، اِسْتِغْنَا و توکُّل اور قناعت و سادگی جیسے عمده اَوصاف سے مزیَّن ہے ۔ دنیا جنہیں حیدر و صفدر ، فاتحِ خیبر ، شیرِ خدا ، سیّدُالاَولیاِء ، امام الاَتْقِیاء ، مَخْزَنِ سخاوت ، تاجدار شجاعت ، اِمَامُ الْمَشَارِق و الْمَغَارِب ، خلیفۂ چہارم امیر المؤمنین حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ کے نام سے جانتی ہے ۔
بابُ مدینۃِ العلم آپ رضی اللہ عنہ کو بارگاہِ رسالت سے ”بابُ العلم (علم کا دروازہ)“ کالقب عطا ہوا ۔ آپ خود فرماتے ہیں : مجھے حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلیہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے علم کے ہزار باب عطا کیے اور ہر باب سے آگے ہزار باب کھلتے ہیں ۔ (تاریخ ابن عساکر جلد 42 صفحہ 385،چشتی)
ایک موقع پر یوں فرمایا : مجھ سے پوچھو ! اللہ تعالیٰ کی قسم !قیامت تک ہونے والی جو بات تم مجھ سے پوچھو گے، میں تمہیں ضرور بتاؤں گا ۔ (کنز العمال، جز 2 ج 1 ص 239، حدیث: 4737)
آپ رضی اللہ عنہ کی قراٰن فہمی کا یہ عالم تھا کہ ایک بار فرمایا: اگر میں چاہوں تو سورۂ فاتحہ کی تفسیر سے 70 اونٹ بھر دوں ۔ (الاتقان،ج2، ص1223)
شجاعت و بہادری ہجرت کی رات جبکہ چاروں طرف کفار تلواریں لیے کھڑے تھے آپ رضی اللہ عنہ نبیِّ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلیہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے بستر پر سوئے ۔ (سیرت ابن ہشام صفحہ 192،چشتی)
غزوۂ تبوک کے علاوہ ہر غزوہ میں شرکت فرمائی اور خیبرکے قلعہ کو فتح کر کے ”فاتحِ خیبر“ کے نام سے شہرت پائی ۔ (بخاری ج 3 ص 84 حدیث: 4209)
روشن فیصلے جب سینہ دستِ نبوی سے فیض یاب ہو اور فیصلوں کو تصدیقاتِ نبوی حاصل ہوں تو ایسے فیصلے زمانے میں انقلاب برپا کر دیتے ہیں ۔ آپ رضی اللہ عنہ کے فیصلوں کو خود نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلیہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے پسند فرمایا ۔ (فضائل الصحابہ، ص812، حدیث:1113)
مقدمہ کتنا ہی پیچیدہ کیوں نہ ہوتا آپ رضی اللہ عنہ چند لمحوں میں اُس کا بہترین فیصلہ فرما دیا کرتے ، الغرض آپ رضی اللہ عنہ کے فیصلے اسلامی عدالت کےلیے انقلابی حیثیت رکھتے ہیں ۔
صائب الرائے (درست رائے والے) آپ رضی اللہ عنہ ایسی درست رائے کے حامل تھے کہ نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلیہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے آپ سے مشورہ فرمایا ۔ (بخاری ج 4 ص 528)
خلیفۂ اوَّل حضرت سیدنا صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ اور خلیفۂ دُوُم حضرت سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ جیسےدور اندیش اور تجربہ کار اپنے دورِ خلافت میں آپ رضی اللہ عنہ سے مشورہ فرماتے ۔ (الکامل فی التاریخ،ج3، ص205)
عربی زبان کے قواعد آپ رضی اللہ عنہ نے جب لوگوں کو عربی بول چال میں غلطیاں کرتے پایا تو اصلاح کےلیے بنیادی قواعد و ضوابط مرتب کیے اور حضرت ابو الاسود دُؤلی رضی اللہ عنہ کو کلمہ کی تینوں قسموں” اسم ، فعل ، حرف “ کی تعریفیں لکھ کر دیں اور اِس میں اضافہ کرنے کا فرمایا پھر اُن کے اضافہ جات کی اصلاح بھی فرمائی ۔ (تاریخ الخلفاء، ص143،چشتی)
فقہ و فتاویٰ بابُ مدینۃ العلم رضی اللہ عنہ نے اس میدان میں بھی تاریخ رقم فرمائی ، پیش آنے والے نئے مسائل کو پَل بھر میں حل فرما دیتے ، کثیرصحابۂ کرام رضی اللہ عنہم فقہی مسائل میں آپ کی طرف رجوع کرتے ۔ کئی بار ایسا بھی ہوا کہ حضرت عمر فاروقِ اعظم و حضرت عائشہ رضی اللہ عنہما سے لوگوں نے مسئلے پوچھے تو فرمایا : حضرت علی رضی اللہ عنہ سے جاکر پوچھو ۔ (مسلم ص 130، حدیث: 639، مصنف
❤1
ابن ابی شیبہ،ج 4، ص223، حدیث:5)
خارجیوں کا قلع قمع اسلام دُشمن خارجیوں کا سب سے پہلے آپ رضی اللہ عنہ ہی نے قلع قمع فرما کر مسلمانوں کو ان کے فتنے سے محفوظ و مامون کیا ۔ (الاستیعاب ج 3 ص 217)
ہجری سن کا آغاز عہدِ فاروقی میں آپ رضی اللہ عنہ ہی کے مشورے پر عمل کرتے ہوئے اسلامی سن کا آغاز ہجرتِ مدینہ سے کیا گیا ۔ (البدایۃ والنہایۃ جلد 5 صفحہ 146،چشتی)
اُمور رفاہِ عامہ (عوامی بھلائی کے کام) آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے دورِ خلافت میں مسلمانوں کی خیر خواہی کےلیے حقوقِ عامہ کی حفاظت کا بھی اہتمام فرمایا جیسا کہ شاہراہِ عام کو گندگی سے بچانے کےلیے بیت الخلاء اور نالیوں کو شارع عام سے دور بنانے کا حکم فرمایا ۔ (مصنف عبد الرزاق جلد 9 صفحہ 405 حدیث نمبر 18722،چشتی)
انسانی جانوں کے تحفظ کےلیے قانون بنایا کہ اگر کسی کے کنواں کھودنے یا بانس وغیرہ گاڑنے کی صورت میں انسانی جان تلف ہوئی تو ضمان ادا کرنا ہو گا ۔(مصنف عبدالرزاق،ج 9، ص405، حدیث: 18723)
حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ علم و حکمت کا دروازہ : مولا علی مشکل کُشا ، شیرِ خدا رضی اللہ عنہ علمی اعتبار سے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم میں ایک خاص مقام رکھتے تھے اور کیوں نہ رکھتے ہوں کہ خود نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے آپ رضی اللہ عنہ کی علمی شان بیان کرتے ہوئے آپ کو علم و حکمت کا دروازہ فرمایا ہے : ⬇
اَنَا مَدِیْنَۃُ الْعِلْمِ وَعَلِیٌّ بَابُھَا یعنی میں علم کا شہر ہوں اور علی اُس کا دروازہ ہیں ۔ (مستدرک للحاکم ، 4 / 96 ، حدیث : 3744،چشتی)
اَنَا دَارُ الْحِکْمَۃِ وَعَلِیٌّ بَابُھَا یعنی میں حکمت کا گھر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہیں ۔ (ترمذی ، 5 / 402 ، حدیث : 3744)
حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے میرے سینے پر ہاتھ رکھ کر یوں دعا کی : اَللّٰهُمَّ اِمْلَأْ قَلْبَهٗ عِلْماً وَفَهْماً وَحِكَماً وَنُوراً ۔ اے اللہ ! علی کے سینے کو علم ، عقل و دانائی ، حکمت اور نور سے بھر دے ۔ (تاریخ ابن عساکر ، 42 / 386)
حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ اور علم کے ہزار باب : بابِ علم و حکمت ، حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے مجھے علم کے ایک ہزار باب سکھائے اور میں نے ان میں سے ہر باب سے مزید ایک ہزار باب نکالے ۔ (تفسیرِ کبیر ، 3 / 200،چشتی)
جو پوچھنا ہے مجھ سے پوچھ لو : آپ رضی اللہ عنہ کی علمی لیاقت بیان کرتے ہوئے صحابیِ رسول حضرت ابوطُفیل عامر بن واثلہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ خطبہ ارشاد فرما رہے تھے ، آپ نے خطبے کے دوران ارشاد فرمایا : مجھ سے سوال کرو ، اللہ پاک کی قسم ! تم مجھ سے قیامت تک ہونے والے جس معاملے کے متعلق بھی پوچھو گے میں تمہیں اس کا جواب ضرور دوں گا ۔ (جامع بیان العلم و فضلہ صفحہ نمبر 157 ، رقم : 508،چشتی)
نشہور تابعی حضرت سعید بن مسیّب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے صحابہ رضی اللہ عنہم میں سوائے حضرت علی رضی اللہُ عنہ کے کوئی یہ کہنے والا نہیں تھا کہ مجھ سے پوچھ لو ۔ (مصنف ابن ابی شیبہ ، 13 / 457 ، رقم : 26948)
حضرت علی رضی اللہ عنہ اور قرآنی آیات کی معلومات : آپ رضی اللہُ عنہ قرآنِ کریم کی آیات کے بارے میں جانتے تھے کہ کون سی آیت کب اور کہاں نازِل ہوئی ہے ۔ چنانچہ منبعِ علم و حکمت ، مولائے کائنات حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : مجھ سے قراٰنِ کریم کے بارے میں پوچھو ، بے شک میں قرآنِ پاک کی ہر آیت کے بارے میں جانتا ہوں کہ وہ رات میں نازِل ہوئی ہے یا دن میں ، ہموار زمین پر نازِل ہوئی یا پہاڑ پر ۔ ایک مقام پر مولا علی مشکل کُشا رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اللہ پاک کی قسم ! میں قرآنِ کریم کی ہر آیت کے بارے میں جانتا ہوں کہ وہ کب اور کہاں نازِل ہوئی ہے اور کس کے بارے میں نازِل ہوئی ہے ۔ (طبقاتِ ابن سعد ، 2 / 257،چشتی)
قرآنِ کریم کے ظاہر و باطن کے عالم : فقیہِ اُمّت کا لقب پانے والے صحابی حضرت عبدُاللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ آپ رضی اللہ عنہ کی قرآن فہمی بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں : امیرُالمؤمنین حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ ایسے عالِم ہیں کہ جن کے پاس قرآنِ کریم کے ظاہر و باطن دونوں کا علم ہے ۔ (تاریخ ابن عساکر ، 42 / 400)
قرآنِ کریم کی آیت کے ظاہر اور باطن کی وضاحت کرتے ہوئے حکیمُ الاُمّت حضرت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں : ظاہری مراد اِس کا لفظی ترجمہ ہے باطِنی مراد اِس کا منشاء اور مقصد یا ظاہر شریعت ہے اور باطن طریقت یا ظاہر اَحکام ہیں اور باطن اَسرار یا ظاہر وہ ہے جس پر علماء مطَّلَع ہیں اور باطن وہ ہے جس سے صوفیائے کرام خبردار ہیں یا ظاہر وہ جو نقْل سے معلوم ہو باطن وہ جو کشْف سے معلوم ہو ۔ (مراۃ المناجیح جلد 1 صفحہ 210،چشتی)
خارجیوں کا قلع قمع اسلام دُشمن خارجیوں کا سب سے پہلے آپ رضی اللہ عنہ ہی نے قلع قمع فرما کر مسلمانوں کو ان کے فتنے سے محفوظ و مامون کیا ۔ (الاستیعاب ج 3 ص 217)
ہجری سن کا آغاز عہدِ فاروقی میں آپ رضی اللہ عنہ ہی کے مشورے پر عمل کرتے ہوئے اسلامی سن کا آغاز ہجرتِ مدینہ سے کیا گیا ۔ (البدایۃ والنہایۃ جلد 5 صفحہ 146،چشتی)
اُمور رفاہِ عامہ (عوامی بھلائی کے کام) آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے دورِ خلافت میں مسلمانوں کی خیر خواہی کےلیے حقوقِ عامہ کی حفاظت کا بھی اہتمام فرمایا جیسا کہ شاہراہِ عام کو گندگی سے بچانے کےلیے بیت الخلاء اور نالیوں کو شارع عام سے دور بنانے کا حکم فرمایا ۔ (مصنف عبد الرزاق جلد 9 صفحہ 405 حدیث نمبر 18722،چشتی)
انسانی جانوں کے تحفظ کےلیے قانون بنایا کہ اگر کسی کے کنواں کھودنے یا بانس وغیرہ گاڑنے کی صورت میں انسانی جان تلف ہوئی تو ضمان ادا کرنا ہو گا ۔(مصنف عبدالرزاق،ج 9، ص405، حدیث: 18723)
حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ علم و حکمت کا دروازہ : مولا علی مشکل کُشا ، شیرِ خدا رضی اللہ عنہ علمی اعتبار سے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم میں ایک خاص مقام رکھتے تھے اور کیوں نہ رکھتے ہوں کہ خود نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے آپ رضی اللہ عنہ کی علمی شان بیان کرتے ہوئے آپ کو علم و حکمت کا دروازہ فرمایا ہے : ⬇
اَنَا مَدِیْنَۃُ الْعِلْمِ وَعَلِیٌّ بَابُھَا یعنی میں علم کا شہر ہوں اور علی اُس کا دروازہ ہیں ۔ (مستدرک للحاکم ، 4 / 96 ، حدیث : 3744،چشتی)
اَنَا دَارُ الْحِکْمَۃِ وَعَلِیٌّ بَابُھَا یعنی میں حکمت کا گھر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہیں ۔ (ترمذی ، 5 / 402 ، حدیث : 3744)
حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے میرے سینے پر ہاتھ رکھ کر یوں دعا کی : اَللّٰهُمَّ اِمْلَأْ قَلْبَهٗ عِلْماً وَفَهْماً وَحِكَماً وَنُوراً ۔ اے اللہ ! علی کے سینے کو علم ، عقل و دانائی ، حکمت اور نور سے بھر دے ۔ (تاریخ ابن عساکر ، 42 / 386)
حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ اور علم کے ہزار باب : بابِ علم و حکمت ، حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے مجھے علم کے ایک ہزار باب سکھائے اور میں نے ان میں سے ہر باب سے مزید ایک ہزار باب نکالے ۔ (تفسیرِ کبیر ، 3 / 200،چشتی)
جو پوچھنا ہے مجھ سے پوچھ لو : آپ رضی اللہ عنہ کی علمی لیاقت بیان کرتے ہوئے صحابیِ رسول حضرت ابوطُفیل عامر بن واثلہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ خطبہ ارشاد فرما رہے تھے ، آپ نے خطبے کے دوران ارشاد فرمایا : مجھ سے سوال کرو ، اللہ پاک کی قسم ! تم مجھ سے قیامت تک ہونے والے جس معاملے کے متعلق بھی پوچھو گے میں تمہیں اس کا جواب ضرور دوں گا ۔ (جامع بیان العلم و فضلہ صفحہ نمبر 157 ، رقم : 508،چشتی)
نشہور تابعی حضرت سعید بن مسیّب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے صحابہ رضی اللہ عنہم میں سوائے حضرت علی رضی اللہُ عنہ کے کوئی یہ کہنے والا نہیں تھا کہ مجھ سے پوچھ لو ۔ (مصنف ابن ابی شیبہ ، 13 / 457 ، رقم : 26948)
حضرت علی رضی اللہ عنہ اور قرآنی آیات کی معلومات : آپ رضی اللہُ عنہ قرآنِ کریم کی آیات کے بارے میں جانتے تھے کہ کون سی آیت کب اور کہاں نازِل ہوئی ہے ۔ چنانچہ منبعِ علم و حکمت ، مولائے کائنات حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : مجھ سے قراٰنِ کریم کے بارے میں پوچھو ، بے شک میں قرآنِ پاک کی ہر آیت کے بارے میں جانتا ہوں کہ وہ رات میں نازِل ہوئی ہے یا دن میں ، ہموار زمین پر نازِل ہوئی یا پہاڑ پر ۔ ایک مقام پر مولا علی مشکل کُشا رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اللہ پاک کی قسم ! میں قرآنِ کریم کی ہر آیت کے بارے میں جانتا ہوں کہ وہ کب اور کہاں نازِل ہوئی ہے اور کس کے بارے میں نازِل ہوئی ہے ۔ (طبقاتِ ابن سعد ، 2 / 257،چشتی)
قرآنِ کریم کے ظاہر و باطن کے عالم : فقیہِ اُمّت کا لقب پانے والے صحابی حضرت عبدُاللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ آپ رضی اللہ عنہ کی قرآن فہمی بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں : امیرُالمؤمنین حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ ایسے عالِم ہیں کہ جن کے پاس قرآنِ کریم کے ظاہر و باطن دونوں کا علم ہے ۔ (تاریخ ابن عساکر ، 42 / 400)
قرآنِ کریم کی آیت کے ظاہر اور باطن کی وضاحت کرتے ہوئے حکیمُ الاُمّت حضرت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں : ظاہری مراد اِس کا لفظی ترجمہ ہے باطِنی مراد اِس کا منشاء اور مقصد یا ظاہر شریعت ہے اور باطن طریقت یا ظاہر اَحکام ہیں اور باطن اَسرار یا ظاہر وہ ہے جس پر علماء مطَّلَع ہیں اور باطن وہ ہے جس سے صوفیائے کرام خبردار ہیں یا ظاہر وہ جو نقْل سے معلوم ہو باطن وہ جو کشْف سے معلوم ہو ۔ (مراۃ المناجیح جلد 1 صفحہ 210،چشتی)
❤1
صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کو اگر کسی معاملے میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے فتوے کا علم ہو جاتا تو صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم آپ کے فتوے پر عمل کیا کرتے تھے ، چنانچہ حضرت عبدُاللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب کوئی معتبر شخص ہمیں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا فتویٰ بتاتا تو ہم اُس سے تجاوز نہ کرتے ۔ (طبقات ابن سعد جلد 2 صفحہ 258،چشتی)
صحابۂ کرام بلکہ اُمُّ المؤمنین حضرت سیّدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہم بھی مسائل کے حل کےلیے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا کرتی تھیں ۔ جیسا کہ تابعی حضرت شُریح بن ہانی رضی اللہ عنہما نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے موزوں پر مسح کے بارے میں سوال کیا تو آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤ اور ان سے پوچھو کیونکہ وہ اس مسئلے کے بارے میں مجھ سے زیادہ جانتے ہیں ۔ (مسلم ، ص130 ، 131 ، حدیث : 639 ، 641،چشتی)
حضرت عبدُاللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ اہلِ مدینہ میں علمِ میراث سب سے زیادہ جانتے تھے ۔ (الاستیعاب ، 3 / 207)
حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ سے 586 احادیثِ مبارکہ مروی ہیں جو کتبِ احادیث میں اپنی خوشبوئیں بکھیر رہی ہیں ۔
شہادت : سِن 40 ہجری میں 17 یا 19 رَمَضانُ المبارَک کو فجر کی نماز کےلیے جاتے ہوئے راستے میں آپ رضی اللہُ عنہ پر قاتلانہ حملہ ہوا جس میں آپ شدید زخمی ہوگئے اور 21 رَمَضانُ المبارَک کی رات کو جامِ شہادت نوش فرمایا ۔ (طبقات ابن سعد ، 3 / 27)
امیر المومنین حضرت مولا علی مرتضی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم کے اقوال و ارشادات بلاشبہہ دریاے علم و عرفان کے ایسے بے نظیر موتی ہیں جن سے آدمی اپنے اخلاق و کردار کو آراستہ و پیراستہ کر سکتا ہے ۔ اور ان کی زبانِ فیض ترجمان سے نکلے ہوئے کلمات آسمان رشد و ہدایت کے وہ تابندہ ستارے ہیں جن کی روشنی میں چلنے والا انسان کبھی اپنی منزل سے بھٹک نہیں سکتا ۔ دلیلِ مدعا کے طور پر بعض اقوال و ارشادات پیش خدمت ہیں : ⬇
بے وقوف کی دوستی سے بچو ؛کیوں کہ وہ تجھے نفع پہنچانا چاہے گا ، لیکن نادانی کی وجہ سے نقصان پہنچاے گا ، اور کذاب (جھوٹے) کی دوستی سے بچو ؛کیوں کہ وہ تجھ پر دور کو قریب ظاہر کرے گا اور قریب کو دور بتائے گا ، اور بخیل کی دوستی سے بچو ؛ کیوں کہ جب تجھے اس کی مدد کی ضرورت ہوگی تو وہ تجھ سے دور بھاگ جائے گا ، اور بدکار کی دوستی سے بچو ؛ کیوں کہ وہ معمولی چیز کے بدلے تجھے فروخت کردے گا ۔ (تاریخ الخلفاء علی بن ابی طالب اخبارہ و قضا یاہ و کلماتہ صفحہ ۱۴۵،چشتی)
یقینا جس قوم نے جنت کی لالچ میں اللہ تبارک و تعالیٰ کی عبادت کی ، اس کی عبادت تاجروں کی طرح ہوئی ۔ اور جس قوم نے عذاب کے ڈر سے اللہ تبارک و تعالیٰ کی عبادت کی ، اس کی عبادت غلاموں کی طرح ہوئی ۔ اور جس قوم نے شکریہ ادا کرنے کےلیے اللہ جلّ شانہ کی عبادت کی ، اس کی عبادت آزاد شریف لوگوں کی طرح ہے ۔ (نہج البلاغۃ ،مجموعہ کلام امیر المومنین سیدنا علی بن ابی طالب،ج۴، ص۵۳)
تم میں کا ہر شخص صرف اپنے گناہوں سے ڈرے اور اپنے پروردگار ہی سے امیدیں لگائے ، جو شخص نہیں جانتا ہے وہ علم حاصل کرنے میں شرم نہ کرے ، اور کم علم آدمی سے جب ایسا مسئلہ پوچھا جو اسے معلوم نہیں ہے تو یہ کہنے میں کہ اللہ جل شانہ بہتر جانتا ہے اپنی بے عزتی نہ سمجھے ۔ صبر ایمان کےلیے ایسا ہی ہے جیسا کہ سر جسم کےلیے ، جب صبر کا دامن چھوٹ جائے گا تو ایمان رخصت ہو جائے گا اور جب سر نہیں رہے گا تو جسم بے کار ہو جائے گا ۔ (تاریخ الخلفاء علی بن ابی طالب اخبارہ و قضا یاہ و کلماتہ صفحہ ۱۴۷،چشتی)
سب سے بڑا عاجز وہ ہے جو اچھے دوست نہ بناسکے ،اور اس سے بھی بڑا عاجز وہ ہے جو اچھا دوست پاکر اسے ضائع کردے ۔(نہج البلاغۃ جلد ۴ صفحہ ۴)
بے وقوف کادل اس کے منہ میں ہوتا ہے ، اور عقل مند کی زبان اس کے دل میں ہوتی ہے ۔ (نہج البلاغۃ جلد ۴ صفحہ ۱۲)
تیرے دوست تین طرح کے ہیں : تیرا اپنا دوست ،تیرے دوست کا دوست اور تیرے دشمن کا دشمن ۔اور تیرے دشمن بھی تین طرح کے ہیں : تیرا اپنا دشمن ، تیرے دوست کا دشمن اور تیرے دشمن کا دوست ۔ (نہج البلاغۃ جلد ۴ صفحہ ۷۱)
سب سے بڑی دولت عقل ہے ، سب سے بڑی محتاجی وتنگ دستی حماقت و بے عقلی ہے ،سب سے خطر ناک دیوانگی تکبر و غرور ہے اور سب سے بڑی بزرگی حسن اخلاق ہے ۔ (تاریخ الخلفاء علی بن ابی طالب اخبارہ و قضایاہ و کلماتہ صفحہ ۱۴۵)
سب سے بڑی دولت عقل ہے ، سب سے بڑی محتاجی و تنگ دستی حماقت وبے عقلی ہے ،سب سے خطر ناک دیوانگی تکبر و غرور ہے اور سب سے بڑی بزرگی حسن اخلاق ہے ۔ (تاریخ الخلفاء ،علی بن ابی طالب ،اخبارہ و قضایاہ و کلماتہ صفحہ ۱۴۵) ۔
(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)
صحابۂ کرام بلکہ اُمُّ المؤمنین حضرت سیّدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہم بھی مسائل کے حل کےلیے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا کرتی تھیں ۔ جیسا کہ تابعی حضرت شُریح بن ہانی رضی اللہ عنہما نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے موزوں پر مسح کے بارے میں سوال کیا تو آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤ اور ان سے پوچھو کیونکہ وہ اس مسئلے کے بارے میں مجھ سے زیادہ جانتے ہیں ۔ (مسلم ، ص130 ، 131 ، حدیث : 639 ، 641،چشتی)
حضرت عبدُاللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ اہلِ مدینہ میں علمِ میراث سب سے زیادہ جانتے تھے ۔ (الاستیعاب ، 3 / 207)
حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ سے 586 احادیثِ مبارکہ مروی ہیں جو کتبِ احادیث میں اپنی خوشبوئیں بکھیر رہی ہیں ۔
شہادت : سِن 40 ہجری میں 17 یا 19 رَمَضانُ المبارَک کو فجر کی نماز کےلیے جاتے ہوئے راستے میں آپ رضی اللہُ عنہ پر قاتلانہ حملہ ہوا جس میں آپ شدید زخمی ہوگئے اور 21 رَمَضانُ المبارَک کی رات کو جامِ شہادت نوش فرمایا ۔ (طبقات ابن سعد ، 3 / 27)
امیر المومنین حضرت مولا علی مرتضی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم کے اقوال و ارشادات بلاشبہہ دریاے علم و عرفان کے ایسے بے نظیر موتی ہیں جن سے آدمی اپنے اخلاق و کردار کو آراستہ و پیراستہ کر سکتا ہے ۔ اور ان کی زبانِ فیض ترجمان سے نکلے ہوئے کلمات آسمان رشد و ہدایت کے وہ تابندہ ستارے ہیں جن کی روشنی میں چلنے والا انسان کبھی اپنی منزل سے بھٹک نہیں سکتا ۔ دلیلِ مدعا کے طور پر بعض اقوال و ارشادات پیش خدمت ہیں : ⬇
بے وقوف کی دوستی سے بچو ؛کیوں کہ وہ تجھے نفع پہنچانا چاہے گا ، لیکن نادانی کی وجہ سے نقصان پہنچاے گا ، اور کذاب (جھوٹے) کی دوستی سے بچو ؛کیوں کہ وہ تجھ پر دور کو قریب ظاہر کرے گا اور قریب کو دور بتائے گا ، اور بخیل کی دوستی سے بچو ؛ کیوں کہ جب تجھے اس کی مدد کی ضرورت ہوگی تو وہ تجھ سے دور بھاگ جائے گا ، اور بدکار کی دوستی سے بچو ؛ کیوں کہ وہ معمولی چیز کے بدلے تجھے فروخت کردے گا ۔ (تاریخ الخلفاء علی بن ابی طالب اخبارہ و قضا یاہ و کلماتہ صفحہ ۱۴۵،چشتی)
یقینا جس قوم نے جنت کی لالچ میں اللہ تبارک و تعالیٰ کی عبادت کی ، اس کی عبادت تاجروں کی طرح ہوئی ۔ اور جس قوم نے عذاب کے ڈر سے اللہ تبارک و تعالیٰ کی عبادت کی ، اس کی عبادت غلاموں کی طرح ہوئی ۔ اور جس قوم نے شکریہ ادا کرنے کےلیے اللہ جلّ شانہ کی عبادت کی ، اس کی عبادت آزاد شریف لوگوں کی طرح ہے ۔ (نہج البلاغۃ ،مجموعہ کلام امیر المومنین سیدنا علی بن ابی طالب،ج۴، ص۵۳)
تم میں کا ہر شخص صرف اپنے گناہوں سے ڈرے اور اپنے پروردگار ہی سے امیدیں لگائے ، جو شخص نہیں جانتا ہے وہ علم حاصل کرنے میں شرم نہ کرے ، اور کم علم آدمی سے جب ایسا مسئلہ پوچھا جو اسے معلوم نہیں ہے تو یہ کہنے میں کہ اللہ جل شانہ بہتر جانتا ہے اپنی بے عزتی نہ سمجھے ۔ صبر ایمان کےلیے ایسا ہی ہے جیسا کہ سر جسم کےلیے ، جب صبر کا دامن چھوٹ جائے گا تو ایمان رخصت ہو جائے گا اور جب سر نہیں رہے گا تو جسم بے کار ہو جائے گا ۔ (تاریخ الخلفاء علی بن ابی طالب اخبارہ و قضا یاہ و کلماتہ صفحہ ۱۴۷،چشتی)
سب سے بڑا عاجز وہ ہے جو اچھے دوست نہ بناسکے ،اور اس سے بھی بڑا عاجز وہ ہے جو اچھا دوست پاکر اسے ضائع کردے ۔(نہج البلاغۃ جلد ۴ صفحہ ۴)
بے وقوف کادل اس کے منہ میں ہوتا ہے ، اور عقل مند کی زبان اس کے دل میں ہوتی ہے ۔ (نہج البلاغۃ جلد ۴ صفحہ ۱۲)
تیرے دوست تین طرح کے ہیں : تیرا اپنا دوست ،تیرے دوست کا دوست اور تیرے دشمن کا دشمن ۔اور تیرے دشمن بھی تین طرح کے ہیں : تیرا اپنا دشمن ، تیرے دوست کا دشمن اور تیرے دشمن کا دوست ۔ (نہج البلاغۃ جلد ۴ صفحہ ۷۱)
سب سے بڑی دولت عقل ہے ، سب سے بڑی محتاجی وتنگ دستی حماقت و بے عقلی ہے ،سب سے خطر ناک دیوانگی تکبر و غرور ہے اور سب سے بڑی بزرگی حسن اخلاق ہے ۔ (تاریخ الخلفاء علی بن ابی طالب اخبارہ و قضایاہ و کلماتہ صفحہ ۱۴۵)
سب سے بڑی دولت عقل ہے ، سب سے بڑی محتاجی و تنگ دستی حماقت وبے عقلی ہے ،سب سے خطر ناک دیوانگی تکبر و غرور ہے اور سب سے بڑی بزرگی حسن اخلاق ہے ۔ (تاریخ الخلفاء ،علی بن ابی طالب ،اخبارہ و قضایاہ و کلماتہ صفحہ ۱۴۵) ۔
(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)
❤1
https://t.me/islaamic_Knowledge/24749
حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ
علمی و انقلابی شخصیت
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/293054962930550/
✍ #ڈاکٹر_فیض_احمد_چشتی
حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ
علمی و انقلابی شخصیت
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/293054962930550/
✍ #ڈاکٹر_فیض_احمد_چشتی
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
حضرت علی رضی اللہ عنہ اہلبیت سے ہیں اور آپ کی محبت و بغض مومن و منافق کی پہچان
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/293349899567723/
محترم قارئینِ کرام : حضرت مولا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی محبت و تکریم سے عاری دل ، سوائے منافقت خانے کے اور کچھ نہیں ۔ صحابہ کرام رضی اللہ وعنھم تو منافقین کی پہچان ہی حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا نام لے کر کرتے تھے ۔ جس کے چہرے پر مولا علی رضی اللہ عنہ کا نام سن کر خوشی آجاتی ، سمجھ جاتے وہ مومن ہے ۔ اور جس کے چہرے پر تنگی ، کڑواہٹ ، بغض و عداوت ، تکلیف و پریشانی کے آثار نمایاں ہوجاتے ہیں (جیسے آج بھی بعض حضرات کے چہروں پر ذکرِ و فضائلِ مولا علی رضی اللہ عنہ سے تکلیف کے آثار نمایاں ہوتے ہیں اور ان کی توانائیاں اس موضوع سے توجہ ہٹانے کے لیے فوراً حرکت میں آجاتی ہیں) صحابہ کرام رضوان اللہ علھم اجمعین سمجھ جاتے تھے کہ یہ منافق ہے ۔
علی ہیں اہل بیت مصطفی میں یہ روایت ہے
وہی ہے مومن کامل جسے اُن سے محبت ہے
(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، رضی اللہ تعالیٰ عنہم)
عَنْ زِرٍّ قَالَ : قَالَ عَلِيٌّ : وَالَّذِيْ فَلَقَ الْحَبَّةَ وَ بَرَأَ النَّسْمَةَ إِنَّهُ لَعَهْدُ النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ صلي الله عليه وآله وسلم إِلَيَّ أَنْ لَا يُحِبَّنِيْ إِلاَّ مُؤْمِنٌ وَّ لَا يُبْغِضَنِيْ إِلَّا مُنَافِقٌ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ ۔
ترجمہ : حضرت زر بن حبیش رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : قسم ہے اس ذات کی جس نے دانے کو پھاڑا (اور اس سے اناج اور نباتات اگائے) اور جس نے جانداروں کو پیدا کیا ، حضور نبی امی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مجھ سے عہد ہے کہ مجھ سے صرف مومن ہی محبت کرے گا اور صرف منافق ہی مجھ سے بغض رکھے گا ۔ اس حدیث کو امام مسلم نے روایت کیا ہے ۔ (أخرجه مسلم في الصحيح، کتاب الإيمان، باب الدليل علي أن حب الأنصار و علي من الإيمان، 1 / 86، الحديث رقم : 78،چشتی، و ابن حبان في الصحيح، 15 / 367، الحديث رقم : 6924، والنسائي في السنن الکبري، 5 / 47، الحديث رقم : 8153، وابن أبي شيبة في المصنف، 6 / 365، الحديث رقم : 32064،چشتی،وأبويعلي في المسند، 1 / 250، الحديث رقم : 291، و البزار في المسند، 2 / 182، الحديث رقم : 560، و ابن ابي عاصم في السنة، 2 / 598، الحديث رقم : 1325)
عَنْ عَلِيٍّ : قَالَ لَقَدْ عَهِدَ إِلَيَّ النَّبِيُّ الْأُمِّيُّ صلي الله عليه وآله وسلم أَنَّهُ لَا يُحِبُّکَ إِلاَّ مُؤْمِنٌ وَلَا يُبْغِضُکَ إِلاَّ مُنَافِقٌ . قَالَ عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ أَنَا مِنَ الْقَرْنِ الَّذِيْنَ دَعَالَهُمُ النَّبِيُّ صلي الله عليه وآله وسلم. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ . وَقَالَ هَذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ صَحِيْحٌ ۔
ترجمہ : حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی امی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے عہد فرمایا کہ مومن ہی تجھ سے محبت کرے گا اور کوئی منافق ہی تجھ سے بغض رکھے گا ۔ عدی بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں اس زمانے کے لوگوں میں سے ہوں جن کے لیے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعا فرمائی ہے ۔ اس حدیث کو امام ترمذی نے روایت کیا ہے اور کہا یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ (أخرجه الترمذي في الجامع الصحيح، ابواب المناقب، باب مناقب علي بن أبي طالب 5 / 643، الحديث رقم : 3736، چشتی)
عَنْ بُرَيْدَةَ، قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ ﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم : إنَّ ﷲ أَمَرَنِيْ بِحُبِّ أَرْبَعَةٍ، وَأخْبَرَنِيْ أنَّهُ يُحِبُّهُمْ. قِيْلَ : يَا رَسُوْلَ ﷲِ سَمِّهُمْ لَنَا، قَالَ : عَلِيٌّ مِنْهُمْ، يَقُوْلُ ذَلِکَ ثَلَاثاً وَ أَبُوْذَرٍّ، وَالْمِقْدَادُ، وَ سَلْمَانُ وَ أَمًرَنِيْ بِحُبِّهِمْ، وَ أَخْبَرَنِيْ أَنَّّهُ يُحِبُّهُمْ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَ ابْنُ مَاجَةَ ۔ وَ قَالَ التِّرْمِذِيُّ. هَذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ ۔
ترجمہ : حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ﷲ تعالیٰ نے مجھے چار آدمیوں سے محبت کرنے کا حکم دیتے ہوئے فرمایا ہے کہ ﷲ بھی ان سے محبت کرتا ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا گیا یا رسول ﷲ ! ہمیں ان کے نام بتا دیجئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا کہ علی بھی انہی میں سے ہے ، اور باقی تین ابو ذر ، مقداد اور سلمان ہیں ۔ راوی کہتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے ان سے محبت کرنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ میں بھی ان سے محبت کرتا ہوں ۔ اس حدیث کو امام ترمذی اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے امام ترمذی نے کہا یہ حدیث حسن ہے ۔ (أخرجه الترمذي في الجامع الصحيح، 5 / 636، ابواب المناقب، باب مناقب علي بن أبي طالب، الحديث رقم : 3718، وابن ماجة في السنن، مقدمه، فضل سلمان وأبي ذرومقداد، الحديث رقم : 149، وأبونعيم في حلية الاولياء، 1 / 172)
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/293349899567723/
محترم قارئینِ کرام : حضرت مولا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی محبت و تکریم سے عاری دل ، سوائے منافقت خانے کے اور کچھ نہیں ۔ صحابہ کرام رضی اللہ وعنھم تو منافقین کی پہچان ہی حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا نام لے کر کرتے تھے ۔ جس کے چہرے پر مولا علی رضی اللہ عنہ کا نام سن کر خوشی آجاتی ، سمجھ جاتے وہ مومن ہے ۔ اور جس کے چہرے پر تنگی ، کڑواہٹ ، بغض و عداوت ، تکلیف و پریشانی کے آثار نمایاں ہوجاتے ہیں (جیسے آج بھی بعض حضرات کے چہروں پر ذکرِ و فضائلِ مولا علی رضی اللہ عنہ سے تکلیف کے آثار نمایاں ہوتے ہیں اور ان کی توانائیاں اس موضوع سے توجہ ہٹانے کے لیے فوراً حرکت میں آجاتی ہیں) صحابہ کرام رضوان اللہ علھم اجمعین سمجھ جاتے تھے کہ یہ منافق ہے ۔
علی ہیں اہل بیت مصطفی میں یہ روایت ہے
وہی ہے مومن کامل جسے اُن سے محبت ہے
(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، رضی اللہ تعالیٰ عنہم)
عَنْ زِرٍّ قَالَ : قَالَ عَلِيٌّ : وَالَّذِيْ فَلَقَ الْحَبَّةَ وَ بَرَأَ النَّسْمَةَ إِنَّهُ لَعَهْدُ النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ صلي الله عليه وآله وسلم إِلَيَّ أَنْ لَا يُحِبَّنِيْ إِلاَّ مُؤْمِنٌ وَّ لَا يُبْغِضَنِيْ إِلَّا مُنَافِقٌ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ ۔
ترجمہ : حضرت زر بن حبیش رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : قسم ہے اس ذات کی جس نے دانے کو پھاڑا (اور اس سے اناج اور نباتات اگائے) اور جس نے جانداروں کو پیدا کیا ، حضور نبی امی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مجھ سے عہد ہے کہ مجھ سے صرف مومن ہی محبت کرے گا اور صرف منافق ہی مجھ سے بغض رکھے گا ۔ اس حدیث کو امام مسلم نے روایت کیا ہے ۔ (أخرجه مسلم في الصحيح، کتاب الإيمان، باب الدليل علي أن حب الأنصار و علي من الإيمان، 1 / 86، الحديث رقم : 78،چشتی، و ابن حبان في الصحيح، 15 / 367، الحديث رقم : 6924، والنسائي في السنن الکبري، 5 / 47، الحديث رقم : 8153، وابن أبي شيبة في المصنف، 6 / 365، الحديث رقم : 32064،چشتی،وأبويعلي في المسند، 1 / 250، الحديث رقم : 291، و البزار في المسند، 2 / 182، الحديث رقم : 560، و ابن ابي عاصم في السنة، 2 / 598، الحديث رقم : 1325)
عَنْ عَلِيٍّ : قَالَ لَقَدْ عَهِدَ إِلَيَّ النَّبِيُّ الْأُمِّيُّ صلي الله عليه وآله وسلم أَنَّهُ لَا يُحِبُّکَ إِلاَّ مُؤْمِنٌ وَلَا يُبْغِضُکَ إِلاَّ مُنَافِقٌ . قَالَ عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ أَنَا مِنَ الْقَرْنِ الَّذِيْنَ دَعَالَهُمُ النَّبِيُّ صلي الله عليه وآله وسلم. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ . وَقَالَ هَذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ صَحِيْحٌ ۔
ترجمہ : حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی امی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے عہد فرمایا کہ مومن ہی تجھ سے محبت کرے گا اور کوئی منافق ہی تجھ سے بغض رکھے گا ۔ عدی بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں اس زمانے کے لوگوں میں سے ہوں جن کے لیے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعا فرمائی ہے ۔ اس حدیث کو امام ترمذی نے روایت کیا ہے اور کہا یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ (أخرجه الترمذي في الجامع الصحيح، ابواب المناقب، باب مناقب علي بن أبي طالب 5 / 643، الحديث رقم : 3736، چشتی)
عَنْ بُرَيْدَةَ، قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ ﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم : إنَّ ﷲ أَمَرَنِيْ بِحُبِّ أَرْبَعَةٍ، وَأخْبَرَنِيْ أنَّهُ يُحِبُّهُمْ. قِيْلَ : يَا رَسُوْلَ ﷲِ سَمِّهُمْ لَنَا، قَالَ : عَلِيٌّ مِنْهُمْ، يَقُوْلُ ذَلِکَ ثَلَاثاً وَ أَبُوْذَرٍّ، وَالْمِقْدَادُ، وَ سَلْمَانُ وَ أَمًرَنِيْ بِحُبِّهِمْ، وَ أَخْبَرَنِيْ أَنَّّهُ يُحِبُّهُمْ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَ ابْنُ مَاجَةَ ۔ وَ قَالَ التِّرْمِذِيُّ. هَذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ ۔
ترجمہ : حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ﷲ تعالیٰ نے مجھے چار آدمیوں سے محبت کرنے کا حکم دیتے ہوئے فرمایا ہے کہ ﷲ بھی ان سے محبت کرتا ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا گیا یا رسول ﷲ ! ہمیں ان کے نام بتا دیجئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا کہ علی بھی انہی میں سے ہے ، اور باقی تین ابو ذر ، مقداد اور سلمان ہیں ۔ راوی کہتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے ان سے محبت کرنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ میں بھی ان سے محبت کرتا ہوں ۔ اس حدیث کو امام ترمذی اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے امام ترمذی نے کہا یہ حدیث حسن ہے ۔ (أخرجه الترمذي في الجامع الصحيح، 5 / 636، ابواب المناقب، باب مناقب علي بن أبي طالب، الحديث رقم : 3718، وابن ماجة في السنن، مقدمه، فضل سلمان وأبي ذرومقداد، الحديث رقم : 149، وأبونعيم في حلية الاولياء، 1 / 172)
❤1
عَنْ أَبِيْ سَعِيْدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ إِنَّا کُنَّا لَنَعْرِفُ الْمُنَافِقِيْنَ نَحْنُ مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ بِبُغْضِهِمْ عَلِيَّ بْنَ أَبِيْ طَالِبٍ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ ۔
ترجمہ : حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم انصار لوگ ، منافقین کو ان کے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ بغض کی وجہ سے پہچانتے تھے ۔ اس حدیث کو امام ترمذی نے روایت کیا ہے ۔ (أخرجه الترمذي في الجامع الصحيح، ابواب المناقب، باب مناقب علي بن أبي طالب، 5 / 635، الحديث رقم : 3717، و أبو نعيم في حلية الاولياء، 6 / 295، چشتی)
عَنِ أُمِّ سَلَمَةَ تَقُوْلُ : کَانَ رَسُوْلُ ﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم يَقُوْلُ : لَا يُحِبُّ عَلِيًّا مُنَافِقٌ وَلَا يُبْغِضُهُ مُؤْمِنٌ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.وَقَالَ. هَذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ ۔
ترجمہ : حضرت ام سلمہ رضی ﷲ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمایا کرتے تھے کہ کوئی منافق حضرت علی رضی اللہ عنہ سے محبت نہیں کرسکتا اور کوئی مومن اس سے بغض نہیں رکھ سکتا ۔ اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے اور کہا یہ حدیث حسن ہے ۔ (أخرجه الترمذي في الجامع الصحيح، ابواب المناقب، باب مناقب علي، 5 / 635، الحديث رقم : 3717، و أبويعلي في المسند، 12 / 362، الحديث رقم : 6931 و الطبراني في المعجم الکبير، 23 / 375، الحديث رقم : 886، چشتی)
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ ﷲِ قَالَ : وَاللّٰهِ مَاکُنَّا نَعْرِفُ مُنَافِقِيْنَا عَلٰي عَهْدِ رَسُوْلِ ﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم إِلَّا بِبُغْضِهِمْ عَلِيًّا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْمُعْجَمِ الْأَوْسَطِ ۔
ترجمہ : حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ کی قسم ! ہم حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں اپنے اندر منافقین کو حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بغض کی وجہ سے ہی پہچانتے تھے ۔ اس حدیث کو طبرانی نے ’’المعجم الاوسط‘‘ میں بیان کیا ہے ۔ (أخرجه الطبراني في المعجم الأوسط، 4 / 264، الحديث رقم : 4151، و الهيثمي في مجمع الزوائد، 9 / 132، چشتی)
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : إِنَّمَا دَفَعَ ﷲُ الْقُطْرَ عَنْ بَنِيْ إِسْرَئِيْلَ بِسُوْءِ رَأْيِهِمْ فِي أَنْبِيَائِهِمْ وَ إِنَّ ﷲَ يَدْفَعُ الْقُطْرَ عَنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ بِبُغْضِهِمْ عَلِيَّ بْنَ أَبِيْ طَالِبٍ. رَوَاهُ الدَّيْلِمِيُّ ۔
ترجمہ : حضرت عبد ﷲ بن عباس رضی ﷲ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ﷲ تعالی نے بنی اسرائیل سے ان کی بادشاہت انبیاء کرام علیھم السلام کے ساتھ ان کے برے سلوک کی وجہ سے چھین لی اور بے شک ﷲ تبارک و تعالیٰ اس امت سے اس کی بادشاہت کو علی کے ساتھ بغض کی وجہ سے چھین لے گا ۔ اس حدیث کو دیلمی نے روایت کیا ہے ۔ (أخرجه الديلمي في الفردوس بمأثور الخطاب، 1 / 344، الحديث رقم : 1384، والذهبي في ميزان الاعتدال في نقد الرجال، 2 / 251)
حضرت علی اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہما میں ہونے والے اختلاف اور معافی ، کی خبر نبی کریم صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم نے دے دی تھی ۔ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ مولا علی رضی عنہ سے محبت کرتے تھے ۔ (تفسیر در منثور جلد 1 صفحہ 831 مترجم اردو)
حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی خبر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دی بر حق ہے ۔ حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ امت کے دو گروہوں میں صلح کروائیں گے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خبر دی حق ہے ۔ اسی طرح دیگر صحابہ و اہلبیت رضی اللہ عنہم کے متعلق خبریں بر حق ہیں ۔ تو حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے درمیان ہونے والی رنجش و اختلاف اور اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی طرف سے معافی کی خبر بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دی اس فرمان کے بعد اس پر کیچڑ اچھالنے والے ، توہین کرنے والے اور اعتراضات کرنے والے کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات اقدس اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان اقدس کی توہین نہیں کر رہے ؟ اے اہل ایمان سوچیے اور فیصلہ کیجیے اللہ ہمیں اہلبیت اطہار اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا ادب کرنے کی توفیق عطاء فرمائے اور بے ادبی سے بچائے آمین ۔
(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)
ترجمہ : حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم انصار لوگ ، منافقین کو ان کے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ بغض کی وجہ سے پہچانتے تھے ۔ اس حدیث کو امام ترمذی نے روایت کیا ہے ۔ (أخرجه الترمذي في الجامع الصحيح، ابواب المناقب، باب مناقب علي بن أبي طالب، 5 / 635، الحديث رقم : 3717، و أبو نعيم في حلية الاولياء، 6 / 295، چشتی)
عَنِ أُمِّ سَلَمَةَ تَقُوْلُ : کَانَ رَسُوْلُ ﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم يَقُوْلُ : لَا يُحِبُّ عَلِيًّا مُنَافِقٌ وَلَا يُبْغِضُهُ مُؤْمِنٌ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.وَقَالَ. هَذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ ۔
ترجمہ : حضرت ام سلمہ رضی ﷲ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمایا کرتے تھے کہ کوئی منافق حضرت علی رضی اللہ عنہ سے محبت نہیں کرسکتا اور کوئی مومن اس سے بغض نہیں رکھ سکتا ۔ اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے اور کہا یہ حدیث حسن ہے ۔ (أخرجه الترمذي في الجامع الصحيح، ابواب المناقب، باب مناقب علي، 5 / 635، الحديث رقم : 3717، و أبويعلي في المسند، 12 / 362، الحديث رقم : 6931 و الطبراني في المعجم الکبير، 23 / 375، الحديث رقم : 886، چشتی)
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ ﷲِ قَالَ : وَاللّٰهِ مَاکُنَّا نَعْرِفُ مُنَافِقِيْنَا عَلٰي عَهْدِ رَسُوْلِ ﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم إِلَّا بِبُغْضِهِمْ عَلِيًّا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْمُعْجَمِ الْأَوْسَطِ ۔
ترجمہ : حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ کی قسم ! ہم حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں اپنے اندر منافقین کو حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بغض کی وجہ سے ہی پہچانتے تھے ۔ اس حدیث کو طبرانی نے ’’المعجم الاوسط‘‘ میں بیان کیا ہے ۔ (أخرجه الطبراني في المعجم الأوسط، 4 / 264، الحديث رقم : 4151، و الهيثمي في مجمع الزوائد، 9 / 132، چشتی)
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : إِنَّمَا دَفَعَ ﷲُ الْقُطْرَ عَنْ بَنِيْ إِسْرَئِيْلَ بِسُوْءِ رَأْيِهِمْ فِي أَنْبِيَائِهِمْ وَ إِنَّ ﷲَ يَدْفَعُ الْقُطْرَ عَنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ بِبُغْضِهِمْ عَلِيَّ بْنَ أَبِيْ طَالِبٍ. رَوَاهُ الدَّيْلِمِيُّ ۔
ترجمہ : حضرت عبد ﷲ بن عباس رضی ﷲ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ﷲ تعالی نے بنی اسرائیل سے ان کی بادشاہت انبیاء کرام علیھم السلام کے ساتھ ان کے برے سلوک کی وجہ سے چھین لی اور بے شک ﷲ تبارک و تعالیٰ اس امت سے اس کی بادشاہت کو علی کے ساتھ بغض کی وجہ سے چھین لے گا ۔ اس حدیث کو دیلمی نے روایت کیا ہے ۔ (أخرجه الديلمي في الفردوس بمأثور الخطاب، 1 / 344، الحديث رقم : 1384، والذهبي في ميزان الاعتدال في نقد الرجال، 2 / 251)
حضرت علی اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہما میں ہونے والے اختلاف اور معافی ، کی خبر نبی کریم صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم نے دے دی تھی ۔ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ مولا علی رضی عنہ سے محبت کرتے تھے ۔ (تفسیر در منثور جلد 1 صفحہ 831 مترجم اردو)
حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی خبر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دی بر حق ہے ۔ حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ امت کے دو گروہوں میں صلح کروائیں گے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خبر دی حق ہے ۔ اسی طرح دیگر صحابہ و اہلبیت رضی اللہ عنہم کے متعلق خبریں بر حق ہیں ۔ تو حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے درمیان ہونے والی رنجش و اختلاف اور اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی طرف سے معافی کی خبر بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دی اس فرمان کے بعد اس پر کیچڑ اچھالنے والے ، توہین کرنے والے اور اعتراضات کرنے والے کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات اقدس اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان اقدس کی توہین نہیں کر رہے ؟ اے اہل ایمان سوچیے اور فیصلہ کیجیے اللہ ہمیں اہلبیت اطہار اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا ادب کرنے کی توفیق عطاء فرمائے اور بے ادبی سے بچائے آمین ۔
(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)
❤1
https://t.me/islaamic_Knowledge/24754
حضرت علی رضی اللہ عنہ اہلبیت سے ہیں اور آپ کی محبت و بغض مومن و منافق کی پہچان
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/293349899567723/
✍ #ڈاکٹر_فیض_احمد_چشتی
حضرت علی رضی اللہ عنہ اہلبیت سے ہیں اور آپ کی محبت و بغض مومن و منافق کی پہچان
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/293349899567723/
✍ #ڈاکٹر_فیض_احمد_چشتی
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ کو مشکل کشاء کہنا حصّہ اوّل
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/293095192926527/
محترم قارئینِ کرام : حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ کے متلعق مشکل کشا کا لفظ نہ معلوم کس وجہ سے لوگوں کو گراں ہوتا ہے ، زمانہ سابق میں یہ لفظ مبزلہ لقب حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ کےلیے مستعمل ہوتا تھا ، یہ لفظ عربی حلال المعاقد کا ترجمہ ہے حسب معنی لغوی خصوصیت ذاتِ خداوندی کے ساتھ نہیں رکھتا معانی شرعیہ کے اعتبار سے مشکل قسیم مجمل و متشابہ ہوتا ہے جس کا مصداق ہر فقیہ صاحب الرائے ہو سکتے ہے ۔ حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ کے متعلق بوقت ارسال یمن جبکہ انہوں نے عرض کی کہ میں حدیث السن ہوں اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مجھ کو قاضی اور حاکم بنا کر بھیجتے ہیں ! تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سینہ مرتضویہ پر دست مبارک مارا ۔ جس کا اثر یہ ہوا کہ حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ مشکلات کے حل کرنے میں زمانہ صحابہ رضی اللہ عنم میں بھی مشہور ہوگئے تھے تاکہ سخت فیصلہ میں یہ مثل صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی مشہور ہے ۔ ہر مسلمان کو مصیبت زدہ انسانوں کا مشکل کشا اور حاجت روا ہونا چاہیے بھوکے کو کھانا کھلانا ، پیاسے کو پانی پلانا، بیمار کو دوا دینا ، ننگے کو لباس دینا، بے گھر کو گھر مہیا کرنا، غریب کی ضرورت پوری کرنا، غریب، یتیم، مسکین، بچوں کی ضروریات پوری کرنا، ان کی اچھی تعلیم و تربیت کرنا، ان کی خوراک، پوشاک، تعلیم کا بندوبست کرنا، زخمی کو ہسپتال پہنچانا، حادثات، سیلاب، وباؤں، زلزلوں اور طوفانوں کے متاثرین کی مدد کرنا حسب توفیق ہر ایک پر فرض ہے۔ جب ہر مسلمان کو مشکل کشا اور حسب توفیق حاجت روا ہونا لازم ہے تو مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم کو مشکل کشا کہنا کیونکر غلط ہوگیا؟ جب ہم کسی بھی دنیا دار سے کچھ طلب کرتے ہیں تو معترضین اسے غلط نہیں کہتے مگر جونہی کوئی شخص اللہ کے نیک اور صالح بندوں سے مجازی طور پر مدد طلب کرتا ہے استعانت کرتا ہے تو اسے شرک قرار دیا جاتا ہے۔ یہ سوچ جہالت پر مبنی ہے۔
قرآن پاک کی روشنی میں : اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ وَمَا نَقَمُواْ إِلاَّ أَنْ أَغْنَاهُمُ اللّهُ وَرَسُولُهُ مِن فَضْلِهِ ۔ (سورہ التوبة 9 : 74)
ترجمہ : اور کسی چیز کو ناپسند نہ کر سکے سوائے اس کے کہ انہیں اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے فضل سے غنی کر دیا تھا ۔
ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا : وَلَوْ أَنَّهُمْ رَضُوْاْ مَا آتَاهُمُ اللّهُ وَرَسُولُهُ وَقَالُواْ حَسْبُنَا اللّهُ سَيُؤْتِينَا اللّهُ مِن فَضْلِهِ وَرَسُولُهُ إِنَّا إِلَى اللّهِ رَاغِبُونَ ۔ (سورہ التوبة 9 : 59)
ترجمہ : اور کیا ہی اچھا ہوتا اگر وہ لوگ اس پر راضی ہو جاتے جو ان کو اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عطا فرمایا تھا اور کہتے کہ ہمیں اللہ کافی ہے ۔ عنقریب ہمیں اللہ اپنے فضل سے اور اس کا رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مزید) عطا فرمائے گا ۔ بے شک ہم اللہ ہی کی طرف راغب ہیں (اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسی کا واسطہ اور وسیلہ ہے ، اس کا دینا بھی اللہ ہی کا دینا ہے ۔ اگر یہ عقیدہ رکھتے اور طعنہ زنی نہ کرتے تو یہ بہتر ہوتا)
قرآن پاک میں ارشاد باری تعالیٰ ہے : تَعَاوَنُواْ عَلَى الْـبِـرِّ وَالتَّقْوَى وَلاَ تَعَاوَنُواْ عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ ۔ (المائدة 5 : 2)
ترجمہ : نیکی اور پرہیزگاری (کے کاموں) پر ایک دوسرے کی مدد کیا کرو اور گناہ اور ظلم (کے کاموں) پر ایک دوسرے کی مدد نہ کرو ۔
یہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ اچھے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرو اور برے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد نہ کرو۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں : من قضی لأحد من أمتی حاجة يريد أن يسره بها فقد سرني ومن سرني فقد سر ﷲ ومن سر ﷲ أدخله ﷲ الجنة ۔ (ديلمی مسند الفردوس، 3 : 546، رقم : 5702،چشتی)
ترجمہ : جس کسی نے میرے کسی امتی کو خوش کرنے کے لیے اس کی حاجت پوری کی اس نے مجھے خوش کیا اور جس نے مجھے خوش کیا اس نے اللہ کو خوش کیا اور جس نے اللہ تعالیٰ کو خوش کیا اللہ اسے جنت میں داخل کرے گا ۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : من أغاث ملهوفا کتب ﷲ له ثلاثا وسبعين مغفرة واحدة فيها صلاح أمره کله وثنتان وسبعون له درجات يوم القيمه ۔ (بيهقی، شعب الايمان، 6 : 120، رقم : 7670)
ترجمہ : جس نے کسی مظلوم و بے بس بیچارے کی فریادرسی کی اللہ تعالیٰ اس کےلیے 73 مغفرتیں لکھ دیتا ہے جن میں سے ایک کے عوض اس کے سارے معاملات درست ہوجائیں اور بہتر درجات اسے قیامت کے دن ملیں گے ۔
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/293095192926527/
محترم قارئینِ کرام : حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ کے متلعق مشکل کشا کا لفظ نہ معلوم کس وجہ سے لوگوں کو گراں ہوتا ہے ، زمانہ سابق میں یہ لفظ مبزلہ لقب حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ کےلیے مستعمل ہوتا تھا ، یہ لفظ عربی حلال المعاقد کا ترجمہ ہے حسب معنی لغوی خصوصیت ذاتِ خداوندی کے ساتھ نہیں رکھتا معانی شرعیہ کے اعتبار سے مشکل قسیم مجمل و متشابہ ہوتا ہے جس کا مصداق ہر فقیہ صاحب الرائے ہو سکتے ہے ۔ حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ کے متعلق بوقت ارسال یمن جبکہ انہوں نے عرض کی کہ میں حدیث السن ہوں اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مجھ کو قاضی اور حاکم بنا کر بھیجتے ہیں ! تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سینہ مرتضویہ پر دست مبارک مارا ۔ جس کا اثر یہ ہوا کہ حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ مشکلات کے حل کرنے میں زمانہ صحابہ رضی اللہ عنم میں بھی مشہور ہوگئے تھے تاکہ سخت فیصلہ میں یہ مثل صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی مشہور ہے ۔ ہر مسلمان کو مصیبت زدہ انسانوں کا مشکل کشا اور حاجت روا ہونا چاہیے بھوکے کو کھانا کھلانا ، پیاسے کو پانی پلانا، بیمار کو دوا دینا ، ننگے کو لباس دینا، بے گھر کو گھر مہیا کرنا، غریب کی ضرورت پوری کرنا، غریب، یتیم، مسکین، بچوں کی ضروریات پوری کرنا، ان کی اچھی تعلیم و تربیت کرنا، ان کی خوراک، پوشاک، تعلیم کا بندوبست کرنا، زخمی کو ہسپتال پہنچانا، حادثات، سیلاب، وباؤں، زلزلوں اور طوفانوں کے متاثرین کی مدد کرنا حسب توفیق ہر ایک پر فرض ہے۔ جب ہر مسلمان کو مشکل کشا اور حسب توفیق حاجت روا ہونا لازم ہے تو مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم کو مشکل کشا کہنا کیونکر غلط ہوگیا؟ جب ہم کسی بھی دنیا دار سے کچھ طلب کرتے ہیں تو معترضین اسے غلط نہیں کہتے مگر جونہی کوئی شخص اللہ کے نیک اور صالح بندوں سے مجازی طور پر مدد طلب کرتا ہے استعانت کرتا ہے تو اسے شرک قرار دیا جاتا ہے۔ یہ سوچ جہالت پر مبنی ہے۔
قرآن پاک کی روشنی میں : اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ وَمَا نَقَمُواْ إِلاَّ أَنْ أَغْنَاهُمُ اللّهُ وَرَسُولُهُ مِن فَضْلِهِ ۔ (سورہ التوبة 9 : 74)
ترجمہ : اور کسی چیز کو ناپسند نہ کر سکے سوائے اس کے کہ انہیں اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے فضل سے غنی کر دیا تھا ۔
ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا : وَلَوْ أَنَّهُمْ رَضُوْاْ مَا آتَاهُمُ اللّهُ وَرَسُولُهُ وَقَالُواْ حَسْبُنَا اللّهُ سَيُؤْتِينَا اللّهُ مِن فَضْلِهِ وَرَسُولُهُ إِنَّا إِلَى اللّهِ رَاغِبُونَ ۔ (سورہ التوبة 9 : 59)
ترجمہ : اور کیا ہی اچھا ہوتا اگر وہ لوگ اس پر راضی ہو جاتے جو ان کو اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عطا فرمایا تھا اور کہتے کہ ہمیں اللہ کافی ہے ۔ عنقریب ہمیں اللہ اپنے فضل سے اور اس کا رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مزید) عطا فرمائے گا ۔ بے شک ہم اللہ ہی کی طرف راغب ہیں (اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسی کا واسطہ اور وسیلہ ہے ، اس کا دینا بھی اللہ ہی کا دینا ہے ۔ اگر یہ عقیدہ رکھتے اور طعنہ زنی نہ کرتے تو یہ بہتر ہوتا)
قرآن پاک میں ارشاد باری تعالیٰ ہے : تَعَاوَنُواْ عَلَى الْـبِـرِّ وَالتَّقْوَى وَلاَ تَعَاوَنُواْ عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ ۔ (المائدة 5 : 2)
ترجمہ : نیکی اور پرہیزگاری (کے کاموں) پر ایک دوسرے کی مدد کیا کرو اور گناہ اور ظلم (کے کاموں) پر ایک دوسرے کی مدد نہ کرو ۔
یہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ اچھے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرو اور برے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد نہ کرو۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں : من قضی لأحد من أمتی حاجة يريد أن يسره بها فقد سرني ومن سرني فقد سر ﷲ ومن سر ﷲ أدخله ﷲ الجنة ۔ (ديلمی مسند الفردوس، 3 : 546، رقم : 5702،چشتی)
ترجمہ : جس کسی نے میرے کسی امتی کو خوش کرنے کے لیے اس کی حاجت پوری کی اس نے مجھے خوش کیا اور جس نے مجھے خوش کیا اس نے اللہ کو خوش کیا اور جس نے اللہ تعالیٰ کو خوش کیا اللہ اسے جنت میں داخل کرے گا ۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : من أغاث ملهوفا کتب ﷲ له ثلاثا وسبعين مغفرة واحدة فيها صلاح أمره کله وثنتان وسبعون له درجات يوم القيمه ۔ (بيهقی، شعب الايمان، 6 : 120، رقم : 7670)
ترجمہ : جس نے کسی مظلوم و بے بس بیچارے کی فریادرسی کی اللہ تعالیٰ اس کےلیے 73 مغفرتیں لکھ دیتا ہے جن میں سے ایک کے عوض اس کے سارے معاملات درست ہوجائیں اور بہتر درجات اسے قیامت کے دن ملیں گے ۔
❤1
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی روایت ہے : أنه إذا أتاه السائل أوصاحب الحاجة قال اشفعوا فلتؤجرو اوليقض ﷲ علی لسان رسوله ماشاء ۔ (بخاری، الصحيح 5 : 2243، رقم : 5681)
ترجمہ : جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں جب کوئی منگتا یا حاجت مند آتا آپ فرماتے اس کی سفارش کرو اور ثواب حاصل کرو اللہ تعالیٰ اپنے رسول کی زبان پر جو چاہے فیصلہ کرے ۔
حضرت فراس بن غنم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے : أسال يا رسول ﷲ ، فقال النبی لا وإن کنت لا بد فسئل الصالحين ۔ ( بيهقی، شعب الايمان، 3 : 270، رقم : 3512 )
ترجمہ : میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کی یا رسول اللہ میں کسی سے سوال کرو ں ؟ فرمایا نہیں۔ اگر مانگے بغیر چارہ نہ ہو تو نیک لوگوں سے مانگ ۔
پس اسلام دوسروں کی مدد کا حکم دیتا ہے دوسروں کی حاجت روائی کرنا ہر مسلمان کا مشن بتاتا ہے اور اس پر اجر عظیم اور ثواب دارین کا وعدہ بھی کرتا ہے، نیز نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی اپنے صحابہ کو نیک اور صالح افراد سے مانگنے کی ترغیب دیتے ۔
’الفتاح‘ اللہ تعالیٰ کی ذاتی صفت ہے جیسے عالم، علیم، حلیم، روف، رحیم، سمیع، بصیر، شہید، حاکم، حکم، شکور، مالک، ملک، مولی، ولی، نور، ھادی، ذارع وغیرہ وغیرہ یہ تمام اسماء حسنی قرآن پاک میں ذات باری تعالیٰ کے لیے استعمال ہوئے ہیں۔ اس حقیقت میں کسی کو شک نہیں ہونا چاہیے ۔ اب ذرا دیکھیے یہی اسماء حسنی بندوں کےلیے بھی قرآن کریم میں استعمال ہوئے ہیں مثلاً ۔ الْعَالِمُوْنَ ۔(العنکبوت، 29 : 43)’’علم والے بندے‘‘ ۔ آتَيْنَاهُ حُكْمًا وَعِلْمًا ۔ (يوسف 12 : 22)’’ہم نے اسے حکمِ (نبوت) اور علم (تعبیر)عطا فرمایا‘‘ ۔ قُلْنَا لَا تَخَفْ اِنَّـکَ اَنْتَ الْاَعْلٰی ۔ (طه 20 : 68) ’’ہم نے (موسیٰ علیہ السلام سے) فرمایا : خوف مت کرو بے شک تم ہی غالب رہوگے۔‘‘
اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام قرآن کریم میں متعدد نام جہاں اپنے لیے استعمال فرمائے ہیں بعینہ وہی اسمائے وصفی اپنے بندوں کے لیے بھی استعمال فرمائے ہیں اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر شرک کا دشمن اور توحید کا حامی کون ہو سکتا ہے ؟ ایسا کرنا ہرگز ہرگز شرک نہیں شرک برائی ہے اور اللہ تعالیٰ برائی کا نہ مرتکب ہو سکتا ہے نہ اپنے بندوں کو اس کی تعلیم دے سکتا ہے۔ إِنَّ اللّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَo(النحل، 16 : 90)
’’بے شک اللہ (ہر ایک کے ساتھ) عدل اور احسان کا حکم فرماتا ہے اور قرابت داروں کو دیتے رہنے کا اور بے حیائی اور برے کاموں اور سرکشی و نافرمانی سے منع فرماتا ہے، وہ تمہیں نصیحت فرماتا ہے تاکہ تم خوب یاد رکھوo‘‘
اللہ تعالیٰ حاکم ہے حاکموں کا حاکم ہے مگر اس نے اپنے بندوں کو بھی حکومت دی ہے وہ بھی حاکم ہیں بس اتنا فرق ملحوظ رکھیں کہ اللہ اپنی شان کے مطابق حاکم ہے بالذات و بالاستقلال۔ بندے اس کی عطا سے اور اس کے بنانے سے حاکم ہیں بندوں کے تمام کمالات اس کی عطا اور خیرات ہے جبکہ اس کے تمام کمالات ذاتی ہیں کسی کی عطا سے نہیں ۔
مولا کا مطلب : اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں ارشاد فرمایا : فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ مَوْلَاهُ وَجِبْرِيلُ وَصَالِحُ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمَلَائِكَةُ بَعْدَ ذَلِكَ ظَهِيرٌ ۔ (سورہ التحريم 66 : 4)
’’سو بے شک اللہ ہی اُن کا دوست و مددگار ہے، اور جبریل اور صالح مومنین بھی اور اس کے بعد (سارے) فرشتے بھی (اُن کے) مددگار ہیں۔‘‘
یہاں پر مولا مدد گار کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔دیکھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مدد گار (مولا) کون کون ہیں : اللہ تعالیٰ ، جبریل علیہ السلام ، نیک مسلمان ، تمام فرشتے ۔
یہ کہنا جہالت ہے کہ اللہ ہی مولا ہے جب صالح مومنین نبی پاک کے مدد گار ہیں جبریل علیہ السلام حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مدد گار ہیں تو یہ نیک مسلمان اور جبریل علیہ السلام اللہ تو نہیں اہل ایمان ہیں مسیح علیہ السلام فرماتے ہیں : مَنْ أَنصَارِي إِلَى اللّهِ. قَالَ الْحَوَارِيُّوْنَ نَحْنُ اَنْصَارُ ﷲِ ۔
اس نے کہا : اﷲ کی طرف کون لوگ میرے مددگار ہیں ؟ تو اس کے مخلص ساتھیوں نے عرض کیا: ہم اﷲ (کے دین) کے مددگار ہیں،(آل عمران، 3 : 52)
اسی طرح النھایہ میں لفظ مولا کے مختلف معانی بیان کیے گئے ہیں۔
رب (پرورش کرنیوالا) ، مالک۔ سردار ، انعام کرنیوالا ، آزاد کرنیوالا ، مدد گار ، محبت کرنیوالا ، تابع (پیروی کرنے والا ، پڑوسی ،ابن العم (چچا زاد ، حلیف (دوستی کا معاہدہ کرنیوالا ) ، عقید (معاہدہ کرنے والا ) ، صھر (داماد، سسر) ، غلام ، آزاد شدہ غلام ، جس پر انعام ہوا ۔
ترجمہ : جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں جب کوئی منگتا یا حاجت مند آتا آپ فرماتے اس کی سفارش کرو اور ثواب حاصل کرو اللہ تعالیٰ اپنے رسول کی زبان پر جو چاہے فیصلہ کرے ۔
حضرت فراس بن غنم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے : أسال يا رسول ﷲ ، فقال النبی لا وإن کنت لا بد فسئل الصالحين ۔ ( بيهقی، شعب الايمان، 3 : 270، رقم : 3512 )
ترجمہ : میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کی یا رسول اللہ میں کسی سے سوال کرو ں ؟ فرمایا نہیں۔ اگر مانگے بغیر چارہ نہ ہو تو نیک لوگوں سے مانگ ۔
پس اسلام دوسروں کی مدد کا حکم دیتا ہے دوسروں کی حاجت روائی کرنا ہر مسلمان کا مشن بتاتا ہے اور اس پر اجر عظیم اور ثواب دارین کا وعدہ بھی کرتا ہے، نیز نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی اپنے صحابہ کو نیک اور صالح افراد سے مانگنے کی ترغیب دیتے ۔
’الفتاح‘ اللہ تعالیٰ کی ذاتی صفت ہے جیسے عالم، علیم، حلیم، روف، رحیم، سمیع، بصیر، شہید، حاکم، حکم، شکور، مالک، ملک، مولی، ولی، نور، ھادی، ذارع وغیرہ وغیرہ یہ تمام اسماء حسنی قرآن پاک میں ذات باری تعالیٰ کے لیے استعمال ہوئے ہیں۔ اس حقیقت میں کسی کو شک نہیں ہونا چاہیے ۔ اب ذرا دیکھیے یہی اسماء حسنی بندوں کےلیے بھی قرآن کریم میں استعمال ہوئے ہیں مثلاً ۔ الْعَالِمُوْنَ ۔(العنکبوت، 29 : 43)’’علم والے بندے‘‘ ۔ آتَيْنَاهُ حُكْمًا وَعِلْمًا ۔ (يوسف 12 : 22)’’ہم نے اسے حکمِ (نبوت) اور علم (تعبیر)عطا فرمایا‘‘ ۔ قُلْنَا لَا تَخَفْ اِنَّـکَ اَنْتَ الْاَعْلٰی ۔ (طه 20 : 68) ’’ہم نے (موسیٰ علیہ السلام سے) فرمایا : خوف مت کرو بے شک تم ہی غالب رہوگے۔‘‘
اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام قرآن کریم میں متعدد نام جہاں اپنے لیے استعمال فرمائے ہیں بعینہ وہی اسمائے وصفی اپنے بندوں کے لیے بھی استعمال فرمائے ہیں اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر شرک کا دشمن اور توحید کا حامی کون ہو سکتا ہے ؟ ایسا کرنا ہرگز ہرگز شرک نہیں شرک برائی ہے اور اللہ تعالیٰ برائی کا نہ مرتکب ہو سکتا ہے نہ اپنے بندوں کو اس کی تعلیم دے سکتا ہے۔ إِنَّ اللّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَo(النحل، 16 : 90)
’’بے شک اللہ (ہر ایک کے ساتھ) عدل اور احسان کا حکم فرماتا ہے اور قرابت داروں کو دیتے رہنے کا اور بے حیائی اور برے کاموں اور سرکشی و نافرمانی سے منع فرماتا ہے، وہ تمہیں نصیحت فرماتا ہے تاکہ تم خوب یاد رکھوo‘‘
اللہ تعالیٰ حاکم ہے حاکموں کا حاکم ہے مگر اس نے اپنے بندوں کو بھی حکومت دی ہے وہ بھی حاکم ہیں بس اتنا فرق ملحوظ رکھیں کہ اللہ اپنی شان کے مطابق حاکم ہے بالذات و بالاستقلال۔ بندے اس کی عطا سے اور اس کے بنانے سے حاکم ہیں بندوں کے تمام کمالات اس کی عطا اور خیرات ہے جبکہ اس کے تمام کمالات ذاتی ہیں کسی کی عطا سے نہیں ۔
مولا کا مطلب : اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں ارشاد فرمایا : فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ مَوْلَاهُ وَجِبْرِيلُ وَصَالِحُ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمَلَائِكَةُ بَعْدَ ذَلِكَ ظَهِيرٌ ۔ (سورہ التحريم 66 : 4)
’’سو بے شک اللہ ہی اُن کا دوست و مددگار ہے، اور جبریل اور صالح مومنین بھی اور اس کے بعد (سارے) فرشتے بھی (اُن کے) مددگار ہیں۔‘‘
یہاں پر مولا مدد گار کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔دیکھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مدد گار (مولا) کون کون ہیں : اللہ تعالیٰ ، جبریل علیہ السلام ، نیک مسلمان ، تمام فرشتے ۔
یہ کہنا جہالت ہے کہ اللہ ہی مولا ہے جب صالح مومنین نبی پاک کے مدد گار ہیں جبریل علیہ السلام حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مدد گار ہیں تو یہ نیک مسلمان اور جبریل علیہ السلام اللہ تو نہیں اہل ایمان ہیں مسیح علیہ السلام فرماتے ہیں : مَنْ أَنصَارِي إِلَى اللّهِ. قَالَ الْحَوَارِيُّوْنَ نَحْنُ اَنْصَارُ ﷲِ ۔
اس نے کہا : اﷲ کی طرف کون لوگ میرے مددگار ہیں ؟ تو اس کے مخلص ساتھیوں نے عرض کیا: ہم اﷲ (کے دین) کے مددگار ہیں،(آل عمران، 3 : 52)
اسی طرح النھایہ میں لفظ مولا کے مختلف معانی بیان کیے گئے ہیں۔
رب (پرورش کرنیوالا) ، مالک۔ سردار ، انعام کرنیوالا ، آزاد کرنیوالا ، مدد گار ، محبت کرنیوالا ، تابع (پیروی کرنے والا ، پڑوسی ،ابن العم (چچا زاد ، حلیف (دوستی کا معاہدہ کرنیوالا ) ، عقید (معاہدہ کرنے والا ) ، صھر (داماد، سسر) ، غلام ، آزاد شدہ غلام ، جس پر انعام ہوا ۔
❤1
جو کسی چیز کا مختار ہو۔ کسی کام کا ذمہ دار ہو۔ اسے مولا اور ولی کہا جاتا ہے۔
جس کے ہاتھ پر کوئی اسلام قبول کرے وہ اس کا مولا ہے یعنی اس کا وارث ہوگا وغیرہ ۔ (ابن اثير، النهايه، 5 : 228)
حضرت علی کرم اللہ وجہہ ہی نہیں ہر مسلمان کو مشکل کشا ہونا فرض ہے تاکہ بوقت ضرورت وہ مظلوم، مجبور، مسکین، مسافر، بیوہ، یتیم، فقیر کی حسب توفیق مشکل حل کرسکے کیا بھوکے پیاسے کو کھانا پانی نہ دو گے اور اسے بھوک و پیاس سے یہ کہہ کے مار و گے کہ کھلانے پلانے والا وہی رزاق ہے اسی سے مانگو۔ هُوَ يُطْعِمُنِي وَيَسْقِينِ ۔ (سورہ الشعراء، 26 : 79)’’جو مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے‘‘
کیا مریض کی عیادت نہ کرو گے۔ ہسپتال نہ پہنچاؤ گے دوا لے کر نہ دو گے یہ کہہ کر کہ :وَإِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ يَشْفِينِ ۔ (الشعراء، 26 : 80)’’جب بیمار پڑتا ہوں وہی شفا دیتا ہے۔‘‘
مومن حاجت روا مشکل کشا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں : من قضی لأحد من أمتي حاجة يريد أن يسره بها فقد سرني ومن سرني فقد سر ﷲ ومن سر ﷲ أدخله ﷲ الجنه ۔ (ديلمی، مسند الفردوس بمأثور الخطاب، 3 : 546، رقم : 5702)
’’ جو میرے کسی امتی کو خوش کرنے کےلیے اس کی حاجت پوری کرے اس نے مجھے خوش کیا اور جس نے مجھے خوش کیا اس نے اللہ تعالیٰ کو خوش کیا اور جس نے اللہ تعالیٰ کو خوش کیا اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل فرمائے گا ‘‘
پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں : ’’من أغاث ملهوفا کتب ﷲ له ثلاثا و سبعين مغفرة واحدة فيها صلاح أمره کله وثنتان وسبعون له درجات يوم القيمة‘‘ ۔ (بيهقی، شعب الايمان، 6 : 120، رقم : 7670،چشتی)
’’جس نے کسی بیچارے مظلوم کی فریاد رسی کی اللہ پاک اس کے لیے تہتر بخششیں لکھتا ہے جن میں ایک کے سبب اس کے تمام معاملات سدھر جاتے ہیں اور بہتر درجے اس کو قیامت کے دن ملیں گے۔‘‘
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں : ’’من نفس عن مؤمن کربة من کرب الدنيا نفس ﷲ عنه کربة من کرب يوم القيمة ومن يسر علی معسر يسر ﷲ عليه فی الدنيا والآخرة ومن ستر مسلما ستره ﷲ فی الدنيا والآخرة وﷲ فی عون العبد ما کان العبد في عون أخيه و من سلک طريقا يلتمس فيه علما سهل ﷲ له به طريقا إلی الجنة وما اجتمع قوم في بيت من بيوت ﷲ يتلون کتاب ﷲ ويتدا رسونه بينهم إلا نزلت عليهم السکينة وغشيتهم الرحمة وحفتهم الملآئکة و ذکر هم ﷲ فيمن عنده ومن بطأ به عمله لم يسرع به نسبه ۔ (مسلم، الصحيح، 4 : 2074، رقم : 2699)
’’جس نے کسی مسلمان کی دنیاوی تکلیف دور کی اللہ تعالیٰ اس کی آخرت کی مشکل حل فرمائے گا اور جس نے تنگ دست پر آسانی کی اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں اس پر آسانی کرے گا اور جس نے کسی مسلمان کی پردہ پوشی کی اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں اس کی ستر پوشی فرمائے گا اور اللہ پاک اس وقت تک بندے کی مدد میں رہتا ہے جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد کرنے میں مصروف رہتا ہے اور جو علم حاصل کرنے کے رستے پر چل نکلتا ہے اللہ پاک اس کےلیے جنت کا راستہ آسان کردیتا ہے اور جب بھی کوئی قوم اللہ تعالیٰ کے گھروں میں سے کسی گھر میں اللہ تعالیٰ کی کتاب پڑھنے پڑھانے کے لیے جمع ہوتی ہے ان پر سکینہ (سکون و راحت) نازل ہوتی ہے رحمت اس کو ڈھانپ لیتی ہے فرشتے اس پر چھا جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اپنے حضور حاضر فرشتوں کی مجلس میں ان بندوں کا فخریہ انداز میں ذکر فرماتا ہے اور جس کو عمل نے بلند تر مقام و مرتبہ پر پہنچنے میں ڈھیلا و موخر رکھا اسے نام و نسب جلد نہیں پہنچا سکتا ۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں : ’’من ولا ه ﷲ شيأ من أمر المسلمين فاحتجب دون حاجتهم وخلتهم وفقرهم احتجب ﷲ دون حاجته و خلته و فقره فجعل معاوية رجلا علی حوائج الناس ۔ (ابوداؤد، السنن، 3 : 135، رقم : 2948،چشتی)
’’اللہ تعالیٰ نے جس آدمی کو مسلمانوں کے کسی عمل کا ولی (ذمہ دار، عہدیدار) بنایا اور اس نے ان کی حاجت و ضرورت و محتاجی کے آگے پردے لٹکادیے (اور حاجت مندوں کو اپنے تک پہنچنے نہ دیا) اللہ پاک اس کی حاجت و ضرورت و محتاجی کے آگے پردے لٹکادے گا (اس کی مدد نہیں فرمائے گا) امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے لوگوں کی حاجت روائی کے لیے ایک شخص مقر ر فرمایا تھا ۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : من ولي من امر الناس شيا ثم اغلق بابه دون المسکين اوالمظلوم أوذی الحاجة اغلق ﷲ دونه أبواب رحمته عند حاجته و فقره أفقر ما يکون إليها ۔ (احمد بن حنبل، المسند، 3 : 441، رقم : 15689)
’’جو لوگوں کے کسی درجہ کے معاملات کا حاکم بنایا گیا پھر اپنا دروازہ مسلمانوں کے آگے یا مظلوم یا حاجت مند کے آگے بند رکھا اللہ تعالیٰ اس کے سامنے اس کی حاجت اور طویل محتاجی کے وقت (قیامت کو) اپنی رحمت کے دروازے بند کردے گا ۔
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ عامل بناتے وقت عامل (حاکم) پر شرط رکھتے کہ
1 : عمدہ ترکی نسل کے گھوڑے پر سواری نہیں کرے گا۔
2 : چھنے ہوئے آٹے کی روٹی نہیں کھائے گا۔
3 : باریک کپڑا نہیں پہنے گا۔
جس کے ہاتھ پر کوئی اسلام قبول کرے وہ اس کا مولا ہے یعنی اس کا وارث ہوگا وغیرہ ۔ (ابن اثير، النهايه، 5 : 228)
حضرت علی کرم اللہ وجہہ ہی نہیں ہر مسلمان کو مشکل کشا ہونا فرض ہے تاکہ بوقت ضرورت وہ مظلوم، مجبور، مسکین، مسافر، بیوہ، یتیم، فقیر کی حسب توفیق مشکل حل کرسکے کیا بھوکے پیاسے کو کھانا پانی نہ دو گے اور اسے بھوک و پیاس سے یہ کہہ کے مار و گے کہ کھلانے پلانے والا وہی رزاق ہے اسی سے مانگو۔ هُوَ يُطْعِمُنِي وَيَسْقِينِ ۔ (سورہ الشعراء، 26 : 79)’’جو مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے‘‘
کیا مریض کی عیادت نہ کرو گے۔ ہسپتال نہ پہنچاؤ گے دوا لے کر نہ دو گے یہ کہہ کر کہ :وَإِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ يَشْفِينِ ۔ (الشعراء، 26 : 80)’’جب بیمار پڑتا ہوں وہی شفا دیتا ہے۔‘‘
مومن حاجت روا مشکل کشا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں : من قضی لأحد من أمتي حاجة يريد أن يسره بها فقد سرني ومن سرني فقد سر ﷲ ومن سر ﷲ أدخله ﷲ الجنه ۔ (ديلمی، مسند الفردوس بمأثور الخطاب، 3 : 546، رقم : 5702)
’’ جو میرے کسی امتی کو خوش کرنے کےلیے اس کی حاجت پوری کرے اس نے مجھے خوش کیا اور جس نے مجھے خوش کیا اس نے اللہ تعالیٰ کو خوش کیا اور جس نے اللہ تعالیٰ کو خوش کیا اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل فرمائے گا ‘‘
پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں : ’’من أغاث ملهوفا کتب ﷲ له ثلاثا و سبعين مغفرة واحدة فيها صلاح أمره کله وثنتان وسبعون له درجات يوم القيمة‘‘ ۔ (بيهقی، شعب الايمان، 6 : 120، رقم : 7670،چشتی)
’’جس نے کسی بیچارے مظلوم کی فریاد رسی کی اللہ پاک اس کے لیے تہتر بخششیں لکھتا ہے جن میں ایک کے سبب اس کے تمام معاملات سدھر جاتے ہیں اور بہتر درجے اس کو قیامت کے دن ملیں گے۔‘‘
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں : ’’من نفس عن مؤمن کربة من کرب الدنيا نفس ﷲ عنه کربة من کرب يوم القيمة ومن يسر علی معسر يسر ﷲ عليه فی الدنيا والآخرة ومن ستر مسلما ستره ﷲ فی الدنيا والآخرة وﷲ فی عون العبد ما کان العبد في عون أخيه و من سلک طريقا يلتمس فيه علما سهل ﷲ له به طريقا إلی الجنة وما اجتمع قوم في بيت من بيوت ﷲ يتلون کتاب ﷲ ويتدا رسونه بينهم إلا نزلت عليهم السکينة وغشيتهم الرحمة وحفتهم الملآئکة و ذکر هم ﷲ فيمن عنده ومن بطأ به عمله لم يسرع به نسبه ۔ (مسلم، الصحيح، 4 : 2074، رقم : 2699)
’’جس نے کسی مسلمان کی دنیاوی تکلیف دور کی اللہ تعالیٰ اس کی آخرت کی مشکل حل فرمائے گا اور جس نے تنگ دست پر آسانی کی اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں اس پر آسانی کرے گا اور جس نے کسی مسلمان کی پردہ پوشی کی اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں اس کی ستر پوشی فرمائے گا اور اللہ پاک اس وقت تک بندے کی مدد میں رہتا ہے جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد کرنے میں مصروف رہتا ہے اور جو علم حاصل کرنے کے رستے پر چل نکلتا ہے اللہ پاک اس کےلیے جنت کا راستہ آسان کردیتا ہے اور جب بھی کوئی قوم اللہ تعالیٰ کے گھروں میں سے کسی گھر میں اللہ تعالیٰ کی کتاب پڑھنے پڑھانے کے لیے جمع ہوتی ہے ان پر سکینہ (سکون و راحت) نازل ہوتی ہے رحمت اس کو ڈھانپ لیتی ہے فرشتے اس پر چھا جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اپنے حضور حاضر فرشتوں کی مجلس میں ان بندوں کا فخریہ انداز میں ذکر فرماتا ہے اور جس کو عمل نے بلند تر مقام و مرتبہ پر پہنچنے میں ڈھیلا و موخر رکھا اسے نام و نسب جلد نہیں پہنچا سکتا ۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں : ’’من ولا ه ﷲ شيأ من أمر المسلمين فاحتجب دون حاجتهم وخلتهم وفقرهم احتجب ﷲ دون حاجته و خلته و فقره فجعل معاوية رجلا علی حوائج الناس ۔ (ابوداؤد، السنن، 3 : 135، رقم : 2948،چشتی)
’’اللہ تعالیٰ نے جس آدمی کو مسلمانوں کے کسی عمل کا ولی (ذمہ دار، عہدیدار) بنایا اور اس نے ان کی حاجت و ضرورت و محتاجی کے آگے پردے لٹکادیے (اور حاجت مندوں کو اپنے تک پہنچنے نہ دیا) اللہ پاک اس کی حاجت و ضرورت و محتاجی کے آگے پردے لٹکادے گا (اس کی مدد نہیں فرمائے گا) امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے لوگوں کی حاجت روائی کے لیے ایک شخص مقر ر فرمایا تھا ۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : من ولي من امر الناس شيا ثم اغلق بابه دون المسکين اوالمظلوم أوذی الحاجة اغلق ﷲ دونه أبواب رحمته عند حاجته و فقره أفقر ما يکون إليها ۔ (احمد بن حنبل، المسند، 3 : 441، رقم : 15689)
’’جو لوگوں کے کسی درجہ کے معاملات کا حاکم بنایا گیا پھر اپنا دروازہ مسلمانوں کے آگے یا مظلوم یا حاجت مند کے آگے بند رکھا اللہ تعالیٰ اس کے سامنے اس کی حاجت اور طویل محتاجی کے وقت (قیامت کو) اپنی رحمت کے دروازے بند کردے گا ۔
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ عامل بناتے وقت عامل (حاکم) پر شرط رکھتے کہ
1 : عمدہ ترکی نسل کے گھوڑے پر سواری نہیں کرے گا۔
2 : چھنے ہوئے آٹے کی روٹی نہیں کھائے گا۔
3 : باریک کپڑا نہیں پہنے گا۔
❤1
(ولا تغلقوا أبوابکم دون حوائج الناس فإن فعلتم شيئا من ذلک فقد حلت بکم العقوبة ثم يشيعهم ۔ (بيهقی، شعب الايمان، 6 : 24، رقم : 7394،چشتی)
’’لوگوں کی حاجت برداری کے آگے اپنے دروازے بند نہ کرنا اگر تم نے ان میں سے کوئی کام کیا تو سزا پاؤ گے پھر ان کے ہمراہ چل کر انہیں رخصت فرماتے۔‘‘
خلاصہ کلام : اللہ تعالیٰ کے اکثر صفاتی نام در حقیقت اس کی صفات ہیں جو اس کی ذاتی مستقل اور دائمی ہیں کسی کی عطا کردہ نہیں۔ حادث نہیں۔ عارضی نہیں وقتی نہیں مگر وہ ذات با برکات کریم ہے جواد ہے، سخی ہے، عطا کرنے والی ہے اسی نے اپنے بندوں کو سننے دیکھنے، کرم، سخاوت، عطا، علم، قدرت اور حسن وغیرہ صفات عالیہ کا صدقہ عطا فرمایا ہے لہٰذا بندے صاحبان قدرت، صاحبان سمع و بصر، صاحبان کرم و سخاوت، عالم، حلیم، حکیم، علیم، رؤف، (شفیق) ہیں مگر سب کچھ اس کی عطا سے ۔ اللہ تعالیٰ کی صفات مستقل اور ذاتی ہیں مخلوق کی صفات عارضی اور عطائی ہیں تمام صفات میں یہی اصول پیش رہے بادشاہی حکم (حاکم) گواہ وغیرہ وغیرہ۔ اللہ تعالیٰ اللہ ہے نبی ولی اور دیگر مخلوق اپنی حیثیت رکھتی ہیں ایک کی جگہ دوسرے کو بٹھانا ظلم ہے ۔ بندہ کو بندہ کی حیثیت میں مانو اللہ تعالیٰ کو اس کی حیثیت و شان کے مطابق ۔
(مزید حصّہ دوم میں ان شاء اللہ) ۔
(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)
’’لوگوں کی حاجت برداری کے آگے اپنے دروازے بند نہ کرنا اگر تم نے ان میں سے کوئی کام کیا تو سزا پاؤ گے پھر ان کے ہمراہ چل کر انہیں رخصت فرماتے۔‘‘
خلاصہ کلام : اللہ تعالیٰ کے اکثر صفاتی نام در حقیقت اس کی صفات ہیں جو اس کی ذاتی مستقل اور دائمی ہیں کسی کی عطا کردہ نہیں۔ حادث نہیں۔ عارضی نہیں وقتی نہیں مگر وہ ذات با برکات کریم ہے جواد ہے، سخی ہے، عطا کرنے والی ہے اسی نے اپنے بندوں کو سننے دیکھنے، کرم، سخاوت، عطا، علم، قدرت اور حسن وغیرہ صفات عالیہ کا صدقہ عطا فرمایا ہے لہٰذا بندے صاحبان قدرت، صاحبان سمع و بصر، صاحبان کرم و سخاوت، عالم، حلیم، حکیم، علیم، رؤف، (شفیق) ہیں مگر سب کچھ اس کی عطا سے ۔ اللہ تعالیٰ کی صفات مستقل اور ذاتی ہیں مخلوق کی صفات عارضی اور عطائی ہیں تمام صفات میں یہی اصول پیش رہے بادشاہی حکم (حاکم) گواہ وغیرہ وغیرہ۔ اللہ تعالیٰ اللہ ہے نبی ولی اور دیگر مخلوق اپنی حیثیت رکھتی ہیں ایک کی جگہ دوسرے کو بٹھانا ظلم ہے ۔ بندہ کو بندہ کی حیثیت میں مانو اللہ تعالیٰ کو اس کی حیثیت و شان کے مطابق ۔
(مزید حصّہ دوم میں ان شاء اللہ) ۔
(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)
❤1
https://t.me/islaamic_Knowledge/24758
حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ
کو مشکل کشاء کہنا حصّہ اوّل
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/293095192926527/
✍ #ڈاکٹر_فیض_احمد_چشتی
حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ
کو مشکل کشاء کہنا حصّہ اوّل
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/293095192926527/
✍ #ڈاکٹر_فیض_احمد_چشتی
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ کو مشکل کشاء کہنا حصّہ دوم
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/293218199580893/
محترم قارئینِ کرام : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت کے ان مولا صفات بندوں میں سے جس ہستی کو تاج سروری عطا کیا گیا وہ خاتون جنت کے شوہر نامدار، حسنین کریمین رضی اللہ عنہما کے والد گرامی حضرت سیدنا مولا علی رضی اللہ عنہ کی ذات گرامی ہے ۔ صحابہ رضی اللہ عنہم کے بھرے مجمعے میں جن کا ہاتھ باعثِ تکوین کائنات فخر موجودات سیدالمرسلین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ہاتھ میں لے کر بلند کیا اور فرمایا : مَنْ کُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِیُّ مَوْلَاهُ ۔
ترجمہ : جس کا میں مولا ہوں علی بھی اسکا مولا ہیں ۔
ہم دیکھتے ہیں کہ جس طرح لوگ مشکلات اور پریشانیوں میں سید دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں رجوع کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی توجہ اور دعا سے انہیں مشکلات سے نجات مل جاتی تھی ، اسی طرح وہ بارگاہ مرتضوی رضی اللہ عنہ سے بھی رجوع کرتے چنانچہ آپ رضی اللہ عنہ کی روحانی توجہ اور دعا سے مشکل کشائی ہو جاتی ۔
اللہ رب العزت نے اپنے خاص دوستوں کو ایسی شان و مرتبہ سے نواز رکھا ہے کہ وہ اپنی خداداد طاقت کے ذریعے لوگوں کے احوال سے نہ صرف آگاہی رکھتے ہیں بلکہ ان کی رہنمائی اور حاجت روائی بھی فرماتے ہیں ۔
کیا کسی انسان کو اللہ کے سوا حاجت روا کہا جا سکتا ہے ۔ کیا اللہ کے علاوہ کسی دوسرے کو حاجت روا کہنے سے شرک تو لازم نہیں آتا ؟
یہ وہ سوال ہے جو ایک طبقہ ہر اس موقع پر داغ دیتا ہے جب ان کے سامنے کسی مقبول خدا کی کوئی کرامت پیش کی جاتی ہے اور اس پر وہ قرآن مجید سے استدلال کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی ولی اور مددگار نہیں ۔ مثلاً : وَمَا لَکُمْ مِّنْ دُوْنِ ﷲِ مِّنْ وَّلِیٍّ وَّلَا نَصِيْرٍ ۔
ترجمہ : اللہ کے سوا نہ تمہارا کوئی ولی ہے نہ مددگار ۔ (سورہ البقرہ آیت نمبر 107)
وَمَا النَّصُر اِلاَّ مِنْ عِنْدِ اللّٰه ۔
ترجمہ : اللہ کی بارگاہ کے علاوہ کوئی اور مدد نہیں ۔ (سورہ اٰل عمران آیت نمبر ۱۲۶)
اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر اللہ کی مرضی اور حکم نہ ہو تو کوئی فرشتہ یا انسان کسی دوسرے کی مدد نہیں کر سکتا ۔ مدد کرنے کی قوت اور طاقت بارگاہ ربوبیت سے ملتی ہے اور اسی کے اذن اور حکم سے مشکل کشائی ہوتی ہے ۔ یہ ہستیاں خواہ فرشتے ہوں ، جن ہوں یا انسان ، حزب اللہ ’’یعنی اللہ کی ٹیم اور جماعت‘‘ کے کارکن ہیں اور ان کے کام، حقیقت میں اللہ کے کام ہیں۔ اس لئے نیابت کے طور پر وہ بھی ولی اور مددگار ہیں۔ جیسا کہ قرآن مجید میں فرمایا گیا : اِنَّمَا وَلِيُّکُمُ اﷲُ وَ رَسُوْلُه وَالَّذِيْنَ اٰٰمَنُوا ۔ (سورہ المائدة آیت نمبر 55)
ترجمہ : بے شک تمہارا ولی (مددگار) تو اللہ ہے اور اس کا رسول ہے اور اہل ایمان تمہارے ولی (مددگار دوست) ہیں ۔
دوسری جگہ ارشاد فرمایا : فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ مَوْلَاهُ وَجِبْرِيلُ وَصَالِحُ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمَلَائِكَةُ بَعْدَ ذَلِكَ ظَهِيرٌ ۔ (سورہ التحريم آیت نمبر 4)
ترجمہ : بے شک اللہ اس (رسول کریم) کا مولا (مددگار) ہے۔ جبریل اور نیک صاحب ایمان لوگ بھی ان کے مددگار ہیں اور اس کے بعد فرشتے بھی کھلم کھلا مددگار ہیں ۔
یاد رہے کہ ’’مولا‘‘ کا لفظ کئی جگہ قرآن مجید میں اللہ رب العزت کے لئے استعمال ہوا ہے ۔
اَنْتَ مَوْلَانَا فَانْصُرْنَا عَلَی الْقَوْمِ الْکَافِرِيْن ۔ (سورہ البقرة)
ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا : نِعْمَ الْمَوْلٰی وَ نِعْمَ النَّصِيْر ۔
بے شک حقیقی معنوں میں اللہ تعالیٰ ہی ’’مولا‘‘ ہے لیکن قرآن مجید میں جبریل علیہ السلام اور صالح مومنین کو بھی مولا قرار دیا گیا ۔ جس سے معلوم ہوا کہ اللہ کے سوا دوسرے کو مولا کہنے سے شرک نہیں ہوتا ورنہ قرآن مجید میں انہیں مولا نہ کہا جاتا ۔ لیکن یہ مولا خود بخود نہیں بنے اللہ کے بنائے سے بنے ہیں ۔
اب رہی یہ بات کہ اللہ کے سوا کیا کسی اور کو حاجت روا اور مشکل کشا کہا جا سکتا ہے یا ایسا کہنا شرک کے دائرے میں آتا ہے ؟
اس کا ایک جواب تو اوپر آگیا کہ فرشتوں اور صالح مومنین کا ’’مولا‘‘ ، مددگار ہونا خود قرآن سے ثابت ہے اور وہ خود مولا نہیں بنے بلکہ یہ منصب انہیں خود اللہ تعالیٰ نے عطا فرمایا ہے ۔ اب سید دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک حدیث پڑھیے اور اس بارے میں خود ہی فیصلہ فرما لیجیے ۔
بخاری و مسلم کی روایت ہے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : مَنْ کَانَ فِیْ حَاجَةِ اَخِيْهِ کَانَ اللّٰهُ فِی حَاجته وَمَن فَرَّجَ عَنْ مُسْلمٍ کُرْبَةً فَرَّجَ اللّٰهُ عَنْهُ بِهَا کُرْبَةَ مِنْ کُرْب يوم الْقيامة ۔
ترجمہ : جو شخص اپنے کسی بھائی کی حاجت روائی کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی حاجت پوری فرماتا ہے ۔ اور جس نے کسی مسلمان کی ایک تکلیف دور کی (مشکل حل کر دی) اللہ تعالیٰ اس کی برکت سے قیامت کی تکلیفوں میں سے اس کی ایک تکلیف دور فرما دے گا ۔
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/293218199580893/
محترم قارئینِ کرام : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت کے ان مولا صفات بندوں میں سے جس ہستی کو تاج سروری عطا کیا گیا وہ خاتون جنت کے شوہر نامدار، حسنین کریمین رضی اللہ عنہما کے والد گرامی حضرت سیدنا مولا علی رضی اللہ عنہ کی ذات گرامی ہے ۔ صحابہ رضی اللہ عنہم کے بھرے مجمعے میں جن کا ہاتھ باعثِ تکوین کائنات فخر موجودات سیدالمرسلین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ہاتھ میں لے کر بلند کیا اور فرمایا : مَنْ کُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِیُّ مَوْلَاهُ ۔
ترجمہ : جس کا میں مولا ہوں علی بھی اسکا مولا ہیں ۔
ہم دیکھتے ہیں کہ جس طرح لوگ مشکلات اور پریشانیوں میں سید دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں رجوع کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی توجہ اور دعا سے انہیں مشکلات سے نجات مل جاتی تھی ، اسی طرح وہ بارگاہ مرتضوی رضی اللہ عنہ سے بھی رجوع کرتے چنانچہ آپ رضی اللہ عنہ کی روحانی توجہ اور دعا سے مشکل کشائی ہو جاتی ۔
اللہ رب العزت نے اپنے خاص دوستوں کو ایسی شان و مرتبہ سے نواز رکھا ہے کہ وہ اپنی خداداد طاقت کے ذریعے لوگوں کے احوال سے نہ صرف آگاہی رکھتے ہیں بلکہ ان کی رہنمائی اور حاجت روائی بھی فرماتے ہیں ۔
کیا کسی انسان کو اللہ کے سوا حاجت روا کہا جا سکتا ہے ۔ کیا اللہ کے علاوہ کسی دوسرے کو حاجت روا کہنے سے شرک تو لازم نہیں آتا ؟
یہ وہ سوال ہے جو ایک طبقہ ہر اس موقع پر داغ دیتا ہے جب ان کے سامنے کسی مقبول خدا کی کوئی کرامت پیش کی جاتی ہے اور اس پر وہ قرآن مجید سے استدلال کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی ولی اور مددگار نہیں ۔ مثلاً : وَمَا لَکُمْ مِّنْ دُوْنِ ﷲِ مِّنْ وَّلِیٍّ وَّلَا نَصِيْرٍ ۔
ترجمہ : اللہ کے سوا نہ تمہارا کوئی ولی ہے نہ مددگار ۔ (سورہ البقرہ آیت نمبر 107)
وَمَا النَّصُر اِلاَّ مِنْ عِنْدِ اللّٰه ۔
ترجمہ : اللہ کی بارگاہ کے علاوہ کوئی اور مدد نہیں ۔ (سورہ اٰل عمران آیت نمبر ۱۲۶)
اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر اللہ کی مرضی اور حکم نہ ہو تو کوئی فرشتہ یا انسان کسی دوسرے کی مدد نہیں کر سکتا ۔ مدد کرنے کی قوت اور طاقت بارگاہ ربوبیت سے ملتی ہے اور اسی کے اذن اور حکم سے مشکل کشائی ہوتی ہے ۔ یہ ہستیاں خواہ فرشتے ہوں ، جن ہوں یا انسان ، حزب اللہ ’’یعنی اللہ کی ٹیم اور جماعت‘‘ کے کارکن ہیں اور ان کے کام، حقیقت میں اللہ کے کام ہیں۔ اس لئے نیابت کے طور پر وہ بھی ولی اور مددگار ہیں۔ جیسا کہ قرآن مجید میں فرمایا گیا : اِنَّمَا وَلِيُّکُمُ اﷲُ وَ رَسُوْلُه وَالَّذِيْنَ اٰٰمَنُوا ۔ (سورہ المائدة آیت نمبر 55)
ترجمہ : بے شک تمہارا ولی (مددگار) تو اللہ ہے اور اس کا رسول ہے اور اہل ایمان تمہارے ولی (مددگار دوست) ہیں ۔
دوسری جگہ ارشاد فرمایا : فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ مَوْلَاهُ وَجِبْرِيلُ وَصَالِحُ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمَلَائِكَةُ بَعْدَ ذَلِكَ ظَهِيرٌ ۔ (سورہ التحريم آیت نمبر 4)
ترجمہ : بے شک اللہ اس (رسول کریم) کا مولا (مددگار) ہے۔ جبریل اور نیک صاحب ایمان لوگ بھی ان کے مددگار ہیں اور اس کے بعد فرشتے بھی کھلم کھلا مددگار ہیں ۔
یاد رہے کہ ’’مولا‘‘ کا لفظ کئی جگہ قرآن مجید میں اللہ رب العزت کے لئے استعمال ہوا ہے ۔
اَنْتَ مَوْلَانَا فَانْصُرْنَا عَلَی الْقَوْمِ الْکَافِرِيْن ۔ (سورہ البقرة)
ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا : نِعْمَ الْمَوْلٰی وَ نِعْمَ النَّصِيْر ۔
بے شک حقیقی معنوں میں اللہ تعالیٰ ہی ’’مولا‘‘ ہے لیکن قرآن مجید میں جبریل علیہ السلام اور صالح مومنین کو بھی مولا قرار دیا گیا ۔ جس سے معلوم ہوا کہ اللہ کے سوا دوسرے کو مولا کہنے سے شرک نہیں ہوتا ورنہ قرآن مجید میں انہیں مولا نہ کہا جاتا ۔ لیکن یہ مولا خود بخود نہیں بنے اللہ کے بنائے سے بنے ہیں ۔
اب رہی یہ بات کہ اللہ کے سوا کیا کسی اور کو حاجت روا اور مشکل کشا کہا جا سکتا ہے یا ایسا کہنا شرک کے دائرے میں آتا ہے ؟
اس کا ایک جواب تو اوپر آگیا کہ فرشتوں اور صالح مومنین کا ’’مولا‘‘ ، مددگار ہونا خود قرآن سے ثابت ہے اور وہ خود مولا نہیں بنے بلکہ یہ منصب انہیں خود اللہ تعالیٰ نے عطا فرمایا ہے ۔ اب سید دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک حدیث پڑھیے اور اس بارے میں خود ہی فیصلہ فرما لیجیے ۔
بخاری و مسلم کی روایت ہے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : مَنْ کَانَ فِیْ حَاجَةِ اَخِيْهِ کَانَ اللّٰهُ فِی حَاجته وَمَن فَرَّجَ عَنْ مُسْلمٍ کُرْبَةً فَرَّجَ اللّٰهُ عَنْهُ بِهَا کُرْبَةَ مِنْ کُرْب يوم الْقيامة ۔
ترجمہ : جو شخص اپنے کسی بھائی کی حاجت روائی کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی حاجت پوری فرماتا ہے ۔ اور جس نے کسی مسلمان کی ایک تکلیف دور کی (مشکل حل کر دی) اللہ تعالیٰ اس کی برکت سے قیامت کی تکلیفوں میں سے اس کی ایک تکلیف دور فرما دے گا ۔
❤1