🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
#فیضان_حضرت_علی_مرتضی
ولادت حضرت مولا علی مشکل کشا
رَضِیَ الــلّٰــهُ تَـبَـارَڪَـ وَ تَـعَـالیٰ عَــنۡــہۡ
@islaamic_Knowledge
پَیدائِش ¹³رجب المرجب عُمر ⁶³سَال
تاریخ شہادت : 21 رمضان ۰۴؁ ھ
مدت خلافت : ❹برس ❽ماہ ❾دِن
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
📚 « مختصــر ســوانح حیــات » 📚
-----------------------------------------------------------
🕯مولائے کائنات حضرت علی کَرَّمَ اللّٰه تَعَالی وَجْہَہُ الْکَرِیْم🕯


نام و نسب:
اسمِ گرامی: والد نے آپ کا نام ’’علی‘‘ اور والدۂ ماجدہ نے’’حیدر‘‘ رکھا۔
کنیت: ابوالحسن اور ابو تراب ہے۔
القاب: امیر المؤمنین، امام المتقین، صاحب اللواء، اسداللہ (شیرِ خدا)، کرار، مرتضیٰ، اور مولا مشکل کشا مشہور القاب ہیں۔
والد کی طرف سے سلسلۂ نسب: علی بن ابی طالب بن عبدالمطلب بن ہاشم بن عبدِ مناف بن قصی بن کلاب بن مرہ۔
والدہ کی طرف سے سلسلۂ نسب: فاطمہ بنتِ اسد بن ہاشم بن عبد المطلب الٰی آخرہٖ۔

تاریخِ ولادت: آپ 13؍ رجب المرجّب، بروز جمعۃ المبارک، عام الفیل کے 30 سال بعد، بمطابق 17؍ مارچ 599ء بمقام بیت اللہ مکۃ المکرمہ میں پیدا ہوئے۔

شیرِ خداکی سب سے پہلی غذا: آپ کی والدۂ ماجدہ سیّدہ فاطمہ بنتِ اسد رضی اللہ تعالٰی عنہا فرماتی ہیں: جب میرے لختِ جگر علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالٰی عنہ پیدا ہوئے تو رسولِ اکر مﷺ نے آپ کے منہ میں لعابِ دہن ڈالا اور اور اپنی ’’مَا یَنْطِقُ عَنِ الْہَوٰی‘‘ والی زبانِ مبارک چوسنے کے لیے دی ،آپ حضورﷺ کی زبان چوستے ہوئے نیند کی آغوش میں چلے گئے اور جب تک اللہ تعالیٰ نے چاہا آپ رسولِ اکرمﷺ کی زبانِ اقدس کو چوستے رہے اور غذا حاصل کرتے رہے۔
(السیرۃ الحلبیۃ، ج1، ص282)

فضائل و مناقب: امام احمد فرماتے ہیں کہ جتنی احادیث حضرت مولاعلی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کی فضیلت میں وارد ہوئی ہیں کسی اورصحابی کی فضیلت میں وارد نہیں ہوئی ہیں۔
(تاریخ الخلفاء،ص:364)
آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ رسولِ اکرمﷺ کے چچازاد بھائی ہیں۔بچپن سے ہی رحمتِ عالمﷺ کے زیرِ تربیت رہے۔ اس بات پر اجماع ہے کہ بچوں میں سب سے پہلے اسلام قبول کرنے والے آپ ہی ہیں۔ اسلام قبول کرنے کے بعد حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ دعوتِ اسلام کے ہر مرحلے اور آزمائش میں حضور ﷺ کے ساتھ رہے۔ 2ھ میں مدینۂ منوّرہ آنے کے بعد حضورﷺ نے انھیں اپنی دامادی کا شرف بخشا۔ ہجرتِ مدینہ کے بعد غزوات کا سلسلہ شروع ہوا تو حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے تمام غزوات (بدر، اُحد، خندق، بنی قریظہ اور حنین،خیبر وغیرہ) میں کار ہائے نمایاں سر انجام دیے۔ علاوہ ازیں متعدد سرایا میں آپ کو کمانڈر بنا کر بھیجا گیا، جنھیں آپ نے کامیابی کے ساتھ انجام کو پہنچایا۔ حضورﷺ کے وصال کے بعد ان کے غسل اور تجہیز و تکفین کی سعادت میں بھی آپ شریک تھے۔ غرض آغازِ بعثت سے لے کر زندگی کے آخری لمحات تک آپ حضور نبی اکرمﷺ کے دست و بازو بنے رہے۔ حضرت صدّیقِ اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ اور حضرت فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہکے دورِ خلافت میں آپ مجلسِ شوریٰ کے رکن تھے۔ حضرات شیخین کو آپ کے مفید مشوروں پر بڑا اعتماد تھا۔ اسی طرح حضرت عثمان رضی اللہ تعالٰی عنہ کی بھی آپ آخر تک حمایت کرتے رہے۔ زبانِ نبوّت سے آپ کو اَنَا مَدِیْنَۃُ الْعَلْمِ وَعَلِیٌّ بَابُہَا کی سند ملی تھی۔ آپ فرمایا کرتے تھے کہ قرآنِ مجید میں کوئی آیت ایسی نہیں ہے جس کے متعلق میں یہ نہ جانتا ہوں کہ وہ کس بارے میں اور کہاں اور کس کے متعلق نازل ہوئی۔ فقہ میں آپ کی ذاتِ گرامی صحابۂ کرام کا مرجع تھی۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ خود مجتہد اور فقیہ تھے، لیکن آپ سے بھی استفادہ کرتے تھے حتیٰ کہ امیر معاویہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کو اختلاف کے باوجود اکثر مواقع پر آپ کی طرف رجوع کرنا پڑتا تھا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ جن کے فتاوٰی اور مروی اسناد پر فقہِ حنفی کی بنیاد ہے، آپ کے فیض یافتہ تھے۔ تصوف کا سرچشمہ بھی آپ ہی کی ذاتِ گرامی ہے۔ صوفیا کے تمام بڑے سلاسل حضرت خواجہ حسن بصری رضی اللہ تعالٰی عنہ کے واسطہ سے آپ تک پہنچتے ہیں۔ آپ شاعری کا بھی نہایت اعلیٰ اور پاکیزہ ذوق رکھتے تھے۔ علمِ نحو کی بنیاد بھی آپ ہی نے رکھی۔ سب سے پہلے ابو لاسود دؤلی کو نحو کے اصول سکھائے تھے، جس نے بعد میں ان اصولوں کی روشنی میں نحو کے قواعد مرتّب کیے۔ آپ کی زندگی ہی میں آپ سے بغض رکھنے والے اور آپ کی تعریف میں غلو کرنے والے لوگ موجود تھے۔ مشہور صحابی حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالٰی عنہ فرمایا کرتے تھے کہ میں منافقوں کو بغضِ علی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے پہچان لیتا ہوں (ترمذی)۔ علم کے ساتھ عمل کا یہ حال تھا کہ حضرت زبیر بن سعید رضی اللہ تعالٰی عنہ کا بیان ہے کہ بنی ہاشم میں آپ سے بڑھ کے کوئی عبادت گزار نہ تھا۔ حضرت عائشہ صدّیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا فرماتی تھیں کہ علی رضی اللہ تعالٰی عنہ قائم اللیل اور صائم النہار تھے۔
1
مختصر سیرت ِمرتضوی: ایک مرتبہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے حضرت ضرار رضی اللہ تعالٰی عنہ سے فرمایا کہ حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ کے بارے میں کچھ بیان کریں۔ اس کے جواب میں انہوں نے جو تقریر کی وہ سیرتِ مرتضوی پر ایک جامع تبصرہ ہے۔
انھوں نے کہا:

’’حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ بلند حوصلہ اور نہایت قوی تھے۔ فیصلہ کن بات کہتے تھے،عادلانہ فیصلے کرتے تھے۔ اُن کے ہرسمت سے علم پھوٹتا اور حکمت ٹپکتی تھی۔ دنیا اور اس کی دل فربیوں سے و حشت کرتے تھے۔ رات کی تاریکی وو حشت سے محبّت کرتے تھے، عبرت پذیر اور بہت غور و فکر کرنے والے تھے۔ معمولی لباس اور جو کا کھانا پسند کرتے تھے۔ ہم میں ہم ہی لوگوں کی طرح رہتے تھے۔ دین داروں کی تعظیم کرتے تھے۔ غریبوں کو مقرب بناتے تھے۔ ان کے سامنے طاقتور باطل میں طمع نہیں کر سکتا تھا اور کمزور انصاف سے مایوس نہیں ہوتا تھا۔ بعض مواقع پر میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ رات گزر رہی ہے، ستارے جھلملا رہے ہیں اور وہ اپنی داڑھی مٹھی میں دبائے ایک بے قرار اور غم رسیدہ انسان کی طرح اشک بار کہہ رہے ہیں: اے دنیا! کسی اور کو فریب دے تو مجھ سے لگاوٹ کر رہی ہے، میری مشتاق ہے۔ افسوس! افسوس! میں نے تجھے تین طلاقیں دیں۔ تیری عمر تھوڑی اور تیرا مقصد حقیر ہے۔ ہائے ہائے ،سفر طویل، راستہ و حشت ناک اور زادِ سفر تھوڑا ہے۔‘‘

دورانِ تقریر حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کی آنکھوں سے آنسو بارش کے قطروں کی طرح ٹپک رہے تھے،اور فرما رہے تھے کہ حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ اس سے بھی بڑھ کر شان کے مالک ہیں، اور پھر ان کو انعامات سے نوازا۔ صحابۂ کرام(رضوان اللہ تعالٰی عنہم اجمعین) کی آپس میں جو محبّت تھی مذکورہ واقعے سے اس کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ (عیون الحکایات:ص،25)

مولا علی کا پیغام، محبین کے نام: امیرالمؤمنین سیّدنا علی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم فرماتے ہیں:
’’رسول اللہ صل اللہ تعالٰی علیہ وسلم کےبعد سب سے بہتر و افضل ابوبکر اور عمر ہیں۔‘‘ پھر فرمایا: ’’لایجتمع حبی وبغض ابی بکر وعمر فی قلب مؤمن۔‘‘ یعنی میری محبّت اور شیخین کریمین ابوبکر و عمر کا بغض کسی مؤمن کے دل میں جمع نہیں ہو سکتا۔
(المعجم الاوسط لطبرانی،ج،۳،حدیث:۳۹۲۰)

وصال: آپ 4 سال 8 ماہ نو دن تک مسندِ خلافت پر رونق افروز رہے۔17 یا 19رمضان المبارک کو ایک بدبخت کے قاتلانہ حملے سے شدید زخمی ہوگئے اور بروزِ اتوار 21؍ رمضان، 40ھ بمطابق 27؍ جنوری 661ء کی رات جامِ شہادت نوش فرما گئے۔ (تاریخ الخلفاء،ص:۱۳۲)
https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp

المرتب محـمد یـوسـف رضـا رضـوی امجـدی نائب مدیر "فیضـانِ دارالعـلوم امجـدیہ ناگپور گروپ" 9604397443
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
👍1
Forwarded from 📚تحقیقات📚
❤️ مولائے کائنات،مولیٰ مُشکل کُشا،شیرِ خُدا،
فاتحِ خیبر
اسلام کے چوتھے خلیفہ
❤️امیرُ المؤمنین، ابو الحسن،
ابو تراب حضرت سیدنا علی المرتضیٰ کرّم الله تعالیٰ وجھہ الکریم❤️
کے فضائل و مناقب اور عقائد پر مشتمل
علماء اہلسنت کی
100 سے زائد کتب
آن لائن مطالعہ کرنے
اور PDf ڈاؤن لوڈ کرنے کا لنک
👉🏻 https://sahabaahlebaitbooklibrary.wafasite.com/search/label/%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA%20%D8%B3%DB%8C%D8%AF%D9%86%D8%A7%20%D8%B9%D9%84%DB%8C%20%E2%80%8F%D8%A7%D9%84%D9%85%D8%B1%D8%AA%D8%B6%DB%8C?&max-results=12


👥 صدقہ جاریہ کے لیے دوسروں کو بھی شئیر کریں
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
👍1
رافضیت و ناصبیت کو پہچانیں!
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/292820842953962/
محترم قارئینِ کرام : رافضیت اہلبیت رضی اللہ عنہم کی محبت کا نام نہیں ہے بلکہ یہ بغضِ صحابہ رضی اللہ عنہم کا نام ہے ۔ اسی طرح ناصبیت محبتِ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا نام نہیں بلکہ بغضِ اہلبیت اطہار رضی اللہ عنہم کا نام ہے ۔ الحَمْدُ ِلله ہم اہلسنت و جماعت صحابہ کرام و اہلبیتِ اطہار رضی اللہ عنہم دونوں کے غلام ہیں اور اُن سب کا ادب و احترام کرتے ہیں اور اُن سب سے محبت کرتے ہیں ۔ ہم اہلسنت و جماعت صحابہ کرام و اہلبیتِ اطہار رضی اللہ عنہم سے بغض رکھنے والوں پر ببانگِ دہل لعنت بھیجتے ہیں ۔

امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : جب ہم حضرت علی رضی اللہ عنہ کے مناقب بیان کرتے ہیں تو جاہلوں کے نزدیک ہمارا شمار روافض میں ہوتا ہے اور جب میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے مناقب بیان کرتا ہوں تو مجھے ناصبی ہونے کا طعنہ دیا جاتا ہے ، پس میں رافضی اور ناصبی رہونگا ان کی محبت کی وجہ سے یہاں تک کہ قبر میں دفن کیا جاؤں ۔ (دیوان الامام شافعی مترجم اردو صفحہ نمبر 203 مطبوعہ انڈیا)

رافضی کسےکہتے ہیں

رافضی کے معنی : (مجازاً) شیعہ انحراف کرنے والا اہل تشیع کا ایک فرقہ سپاہیوں کا وہ گروہ جو اپنے سردار کو چھوڑ دے فرقہ رافضہ فرقہ رافضہ کا ایک فرد رافضی کے انگریزی معنی :

(one of) a Shi'ite dissenting sect (Plural) روافض rva'fizadj & n.m ۔

رافضہ یا روافض کے لفظ کے ساتھ کوئی پیشین گوئی حدیث میں نہیں ہے ۔ البتہ ان لوگوں نے ایسے ایسے عقیدے گھڑے جو قرآن و حدیث کے صریح خلاف ہیں ، اس لیئے علماء نے اس جماعت کا نام رافضی رکھا ۔

رافضی کے معنی ہیں تارکِ اسلام

چونکہ انہوں نے اپنے عقائد باطلہ کی وجہ سے اسلام کو چھوڑدیا اس لیئے انہیں رافضی کہا جاتا ہے ۔ مثلاً ان کے عقائد میں سے یہ عقیدہ ہے کہ قرآن تحریف شدہ ہے ۔ حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ کی الوہیت کے قائل ہیں ۔ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پر زنا کی تہمت لگاتے ہیں ۔ حضرت جبرئیل علیہ السّلام کو خائن کہتے ہیں یعنی وحی امام غائب کے پاس لانے کے بجائے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آئے ۔ اپنے بارہ اماموں کے بارے میں ان کا عقیدہ ہے کہ ان کو اللہ کی طرف سے نیا دین دیا گیا اور آسمانی نئی کتاب دی گئی ہے ۔ شیعہ در حقیقت رافضی ہی ہیں ۔ وہ اپنے آپ کو بطور تقیہ شیعہ ظاہر کرتے ہیں تاکہ غیر مضر تشیع کے ذریعے اہلِ سُنّت و جماعت میں بھی رہا جائے اور جب موقعہ ملے تو اپنی رافضیت کو ظاہر بھی کر دیا جائے ۔

شیعہ رافضی کے تاریخِ اسلام کے امام و شیوخ علیہم الرّحمہ کے فتوے

حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اگر میں اپنے شیعوں کو جانچوں تو یہ زبانی دعویٰ کرنے والے ہیں اور باتیں بنانے والے نکلیں گے ، اور ان کا امتحان لوں تو یہ سب مرتد نکلیں گے ۔ (ارضہ کلینی:۱۰۷)

حضرت امام مالک رحمۃ اللہ علیہ لیغیظ بھم الکفار کے تحت فرماتے ہیں کہ : رافضیوں کے کفر کی قرآنی دلیل یہ ہے کہ یہ صحابہ رضی اللہ عنہم کو دیکھ کر جلتے ہیں ، اس لئے کافر ہیں ۔ (الاعتصام :۲/۱۲۶۱)(روح المعانی:پارہ۲۶)

کتاب الشفاء میں قاضی عیاض مالکی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : جو شخص ایسی بات کرے کہ جس سے امت گمراہ قرار پائے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی تکفیر ہو ، ہم اسے قطعیت کے ساتھ کافر کہتے ہیں ، اسی طرح جو قرآن میں تبدیلی یا زیادتی کا اقرار کرے ۔ (کتاب الشفاء:۲/۲۸۶،۸۲۱،چشتی)

حضرت غوث الاعظم شیخ عبد القادر جیلانی رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ : شیعوں کے تمام گروہ اس بات پر اتفاق رکھتے ہیں کہ امام کا تعین اللہ تعالیٰ کے واضح حکم سے ہوتا ہے ، وہ معصوم ہوتا ہے ، حضرت علی تمام صحابہ رضی اللہ عنہم سے افضل ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی وفات کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ کو امام ماننے کی وجہ سے چند ایک کے سوا تمام صحابہ مرتد ہوگئے ۔ (غنیۃ الطالبین:۱۵۶۔۱۶۲)

حضرت امام فخر الدین رازی رحمۃ اللہ علیہ تفسیر کبیر میں فرماتے ہیں : رافضیوں کی طر ف سے قرآن مجید کی تحریف کادعویٰ اسلام کو باطل کردیتا ہے ۔ (تفسیر کبیر:۱۱۸)

علامہ کمال الدین ابن عصام رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : فتح القدیر میں علامہ کمال الدین رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : اگر رافضی ابوبکر صدیق و عمر رضی اللہ عنہما کی خلافت کا منکر ہے تو وہ کافر ہے ۔ (فتح القدیر، باب الامامت:۸)

صاحبِ فتاویٰ بزازیہ فرماتے ہیں : ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کی خلافت کا منکر کافر ہے ۔ حضرت علی ، طلحہ ، زبیر اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہم کو کافر کہنے والے کو کافر کہنا واجب ہے ۔ (فتاویٰ بزازیہ:۳/۳۱۸)
1
ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ شرح فقہ اکبر میں فرماتے ہیں : جو شخص ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کی خلافت کا انکار کرے تو وہ کافر ہے ، کیونکہ ان دونوں کی خلافت پر تو صحابہ رضی اللہ عنہم کا اجماع ہے ۔ (شرح فقہ اکبر:۱۹۸،چشتی)

حضرت مجدِّد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ مختلف مکتوبات میں روافض کو کافر فرماتے ہیں ، ایک رسالہ مستقل ان پر لکھا ہے جس کا نام رد روافض ہے ، اس میں تحریر فرماتے ہیں : اس میں شک نہیں کہ ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما صحابہ میں سب سے افضل ہیں ، پس یہ بات ظاہر ہے کہ ان کو کافر کہنا ان کی کمی بیان کرنا کفر و زندیقیت اور گمراہی کا باعث ہے ۔ (ردّ روافض:۳۱)

علمائے احناف کا متفقہ فتویٰ : روافض اگر حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کی شان میں گستاخی کریں اور ان پر لعنت کریں تو کافر ہیں ، روافض دائرۂ اسلام سے خارج ہیں اور کافر ہیں اور ان کے احکام وہ ہیں جو شریعت میں مرتدین کے ہیں ۔ (فتاویٰ عالمگیری:۲/۲۶۸)

حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ اپنی کتاب مسویٰ شرح مؤطا امام محمد میں تحریر فرماتے ہیں کہ : اگر کوئی خود کو مسلمان کہتا ہے لیکن بعض ایسی دینی حقیقتوں کی جن کا ثبوت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم سے قطعی ہے ایسی تشریح و تاویل کرتا ہے جو صحابہ و تابعین رضی اللہ عنہم اور اجماعِ امت کے خلاف ہے تو اس زندیق کہا جائے گا اور وہ لوگ زندیق ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما اہل جنت میں سے نہیں ہیں ، لیکن اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے بعد کسی کو نبی نہ کہا جائے گا ، لیکن نبوت کی جو حقیقت کسی انسان کا اللہ کی طرف سے مبعوث ہونا ، اس کی اطاعت کا فرض ہونا اور اس کا معصوم ہونا ، یہ سب ہمارے اماموں کو حاصل ہے ، تو یہ عقیدہ رکھنے والے زندیق ہیں اور جمہور متأخرین حنفیہ ، شافعیہ کا اتفاق ہے کہ یہ واجب القتل ہیں ۔ (مسویٰ شرح مؤطا محمد)

صاحبِ درّ مختار فرماتے ہیں : ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما میں سے کسی ایک کو برا بھلا کہنے والا یا ان میں سے کسی ایک پر طعن کرنے والا کافر ہے اور اس کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی ۔ (درمختار)

علامہ شامی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : جو سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگائے یا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی صحابیت کا انکار کرے تو اس کے کفر میں کسی شبہ کی گنجائش نہیں ۔ (شامی : ۲/۲۹۴)

ناصبی کون ؟

محترم قارئینِ کرام : ناصبی جس کی جمع نواصب ہے اور اس کے لیئے ناصبہ اور ناصبیہ بھی استعمال کیا جاتا ہے ۔ (القاموس المحیط ص177) (فتح الباری 7:437)

اس کی اصطلاحی تعریفات ایک سے زائد ہیں جن میں سے معروف درج ذیل ہیں

علامہ زمخشری و علامہ آلوسی علیہما لعّحمہ لکھتے ہیں : بغض علی و عداوتہ ۔ ترجمہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بغض و عداوت کا نام ناصبیت ہے ۔ (الکشاف 4:777) (روح المعانی 30:172)

علامہ حافظ ابن حجر العسقلانی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں : بغض علی و تقدیم غیرہ علیہ (ھدی الساری ص 459)
ترجمہ : مفہوم اوپر گزر چکا ہے ۔

سیرت نگار ابن اسید الناس رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں : النواصب قوم یتدینون ببغضۃ علی ۔ (المحکم والمحیط الاعظم 8:345) ، اور اس قول کو معروف لغوی ابن منظور اور فیروزاآبادی نےبھی اختیار کیا ہے ۔

علامہ ابن تیمیہ ممدوح غیر مقلد وہابی حضرات لکھتے ہیں : النواصب : الذین یوذون اہل البیت بقول و عمل ۔ (مجموع الفتاوی 3:154)

”ناصبیت“ کی اصطلاح رافضیوں کی ایجاد کردہ ہے ، تیسری صدی ہجری تک کسی بھی سنی عالم نے کسی دوسرے سنی عالم کو”ناصبی“ نہیں کہا ہے ، بلکہ اس دور میں اگر کوئی شخص کسی کو ناصبی کہتا تھا تو یہ اس کے ”رافضی“ ہونے کی دلیل سمجھی جاتی تھی ۔

امام علی بن المدينی رحمۃ اللہ علیہ (المتوفى234) سے منقول ہے : ومن قال فلان ناصبی علمنا أنه رافضی ۔
ترجمہ : جو کہتا تھا کہ فلاں ناصبی ہے تو ہم جان لیتے تھے کہ وہ رافضی ہے ۔ (شرح أصول اعتقاد أهل السنة 1/ 166)

امام علی بن المدینی رحمہ اللہ کے شاگرد امام أبو حاتم الرازی رحمۃ اللہ علیہ (المتوفى277) نے بھی یہی بات کہی ہے اور اسے اپنے دور کے تمام علماء کی طرف منسوب کیا ہے ، اس سے اس نقل کی تائید ہوتی ہے ، کیونکہ ظاہر ہے کہ اس نسبت میں ان کے استاذ علی بن المدینی رحمۃ اللہ علیہ بدرجہ اولی شامل ہیں ۔

امام أبو حاتم الرازی (المتوفى277) اور امام أبو زرعہ الرازی (المتوفى264) علیہما الرحمہ نے فرمایا : وعلامة الرافضة تسميتهم أهل السنة ناصبة ۔
ترجمہ : رافضیوں کی علامت یہ ہے کہ وہ اہل سنت کو ناصبی کہتے ہیں ۔

یاد رہے کہ یہ صرف ان دو ائمہ ہی کا کہنا نہیں ہے بلکہ ان کے دور کے تمام علماء کا یہی ماننا تھا ، جیسا کہ امام ابوحاتم رازی اور امام ابوزرعہ رازی نے یہ بات کہنے سے پہلے اس کی صراحت اس طرح کی ہے : أدركنا العلماء في جميع الأمصار حجازا وعراقا وشاما ويمنا فكان من مذهبهم ترجمہ : ہم نے تمام شہروں ، حجاز ، عراق ، شام ، یمن
1
کے علماء کو پایا ہے ۔ (شرح اعتقاد أهل السنة للالکائی 1/ 201 ، وإسناده صحيح ، أصل السنة واعتقاد الدين للرازيين : ق168/ب ، وإسناده صحيح وانظر: تکحیل العینین : صفحہ نمبر 222)

امام أبو محمد الحسن بن علي بن خلف البربهاری رحمۃ اللہ علیہ (المتوفی 329 ) نے فرمایا : وإذا سمعت الرجل يقول فلان ناصبی فاعلم أنه رافضی ۔
ترجمہ : جب تم کسی شخص کو کہتے ہوئے سنو کہ فلاں ناصبی ہے ، تو جان لو کہ وہ رافضی ہے ۔ (شرح السنہ للبربھاری : ص 118 ، طبقات الحنابلة 2/ 36)

ناصبیت و رافضیت گمراہی کی دو انتہائیں ہیں ۔ جبکہ عقیدہ اہل سنت ان کے درمیان ایک پل صراط ہے ، جس سے ذرا برابر بھی اِدھر اُدھر ہونے والا یا تو ناصبیت کی پر خار وادی میں جا گرتا ہے یا رافضیت کی ۔ ناصبیت کی وادی میں گرنے والا دفاع صحابہ رضی اللہ عنہم کے جذباتی نعرے لگاتے ہوئے گرتا ہے جبکہ رافضیت کی وادی میں گرنے والا دفاع اہل بیت رضی اللہ عنہم کے جذباتی نعرے لگاتے ہوئے گرتا ہے ۔ گمراہی کی ان دونوں انتہاؤں کا سبب رطب و یابس سے بھر پور تاریخی روایات ہیں ، دفاعِ صحابہ رضی اللہ عنہم والا ناصبی جب سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا دفاع کرتا ہے تو یزید اس کے گلے میں مچھلی کے کانٹے کی طرح پھنس جاتا ہے ، چار و ناچار اسے دفاعِ صحابہ رضی اللہ عنہم کے نام پر تاریخی روایات کے سہارے یہ کانٹا بھی نگلنا پڑتا ہے ، اور سیدنا امامِ حسین رضی اللہ عنہ کے بارے میں بدگمان ہونا پڑتا ہے ۔

دفاع اہل بیت رضی اللہ عنہم والا رافضی جب علی و فاطمہ و حسنین رضی اللہ عنہم کا دفاع کرتا ہے تو خلفاء ثلاثہ اور امیر معاویہ رضی اللہ عنہم کی طرف منسوب غلط تاریخی روایات کی وجہ سے اسے ان نفوس قدسیہ سے بدگمانی پیدا ہوتی ہے ۔ ناصبی جب دفاعِ یزید پلید کےلیے تاریخی روایات لے کے آتا ہے تو رافضی بھی بھاگم بھاگ مخالفت معاویہ رضی اللہ عنہ میں اسی قسم کے سینکڑوں حوالے اٹھا لاتا ہے ۔ اگر ناصبی کو حق ہے کہ وہ تاریخی روایات کی بنیاد پر یزید پلید کےلیے نرم گوشہ رکھے تو پھر رافضی کو بھی یہ حق ملنا چاہیے کہ وہ تاریخی روایات کی بنیاد پر امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں بد گوئی کرے ۔

اور اگر رافضی کو یہ حق حاصل نہیں ہے تو پھر ناصبی کو تاریخی روایات کی بنیاد پر یزید کے لیے نرم گوشہ رکھنے کا حق کس نے دیا ہے ؟

اسی لیے اہل سنت و جماعت کا عقیدہ ان بے ہنگم تاریخی روایات سے ہٹ کر قرآن و سنت کی مستند بنیادوں پر قائم ہے ، قرآن نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی جو عظمتیں بیان کی ہیں وہ تمام صحابہ رضی اللہ عنہم کو پوری پوری ملیں گی ۔ اور جو اہل بیت رضی اللہ عنہم کی عظمتیں بیان کی ہیں وہ انہیں پوری پوری ملیں گی ۔

اہل سنت و جماعت میں ایک گروہ بڑی شدت سے مائل بارافضیت ہو چکا ہے اور سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ و دیگر عظیم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بارے میں یاوہ گوئی کرتا ہے ۔ جبکہ اہل سنت میں ہی اب ایک گروہ مائل بناصبیت ہوتا پھر رہا ہے، وہ یزید کو تحفظ دینے کا خواہاں ہے اور سیدنا امامِ حسین رضی اللہ عنہ کے بارے میں تحفظات کا شکار ہے ۔ اگر عظمت صحابہ کرام کے بارے میں قرآن و سنت کی کثیر نصوص موجود ہیں تو کیا عظمت اہل بیت کے بارے میں کوئی نصوص موجود نہیں ہیں ؟ جب دونوں کے لیے نصوص موجود ہیں تو پھر ادھر ادھر بھٹکنے کی بجائے ہر دو کی عظمت قائم رکھنے میں ہی ایمان کی سلامتی ہے ۔

محترم قارئینِ کرام : آج کل کے روافض نے ایک پُر فریب طریقہ نکالا ہے ، اور وہ یہ ہے کہ جو ان کے مکر و دجل کو بےنقاب کرتا ہے اسے یہ ناصبی کہہ دیتے ہیں روافض نے یہ "ناصبی ناصبی" کی گردان اتنے زور شور سے کی کہ اب یہ حال ہے کہ اگر کوئی سنی روافض کے مکر کا رد کرے تو اہل سنت عوام بھی اسے ناصبی کہنے لگ جاتے ہیں ۔ بھولے بھالے اہل سنت یہ بھی نہیں جانتے کہ اسلافِ اُمّت علیہم الرّحمہ کے نزدیک جو ناصبی تھے ان کا اب کوئی وجود نہیں ، نہ ہی ان جیسا عقیدہ و عمل اس شخص کے جیسا ہے کہ جسے وہ ناصبی کہہ رہے ہیں ۔ اسلافِ اُمّت علیہم الرّحمہ نے ایک خاص دور کے خاص رجحان رکھنے والوں کو ناصبی کہا ہے ۔ یہ چوتھی صدی ہجری میں شام کی ایک اقلیت تھی جو بنو امیہ سے محبت اور روافض سے بغض رکھتی تھی ! جب روافض نے اس صدی میں پر پرزے نکالے اور دس محرم کو سرعام سوگ و ماتم منانا شروع کیا تو ان شامی نواصب نے اگلے سال سے دس محرم کو عید (خوشی) منانا شروع کر دی ، نئے کپڑے پہتے ، خوشبو لگاتے ، رقص محفل و میلوں کا اہتمام کرتے ۔ یہ سب وہ اپنی دانست میں روافض کے رد میں کرتے تھے ، بہرحال ۔ الحمد للہ اب اس باطل فرقے کا نام و نشاں بھی باقی نہیں ۔ لیکن روافض پھر کیو ہر دوسرے بندے کو ناصبی کہتے رہتے ہیں ؟
1