آپ کے عہد زریں کی مدت سے متعلق ’’الاکمال‘‘میں ہے : وکانت خلافتہ اربع سنین وتسعۃ اشہر وایاما ۔ آپ کی خلافت جملہ چار (4)سال ،نو(9) مہینے اورچند دن رہی ۔ (الاکمال فی اسماء الرجال ، حرف العین فصل فی الصحابۃ)
مدینہ منورہ کی عظمت وتقدس کو ملحوظ رکھتے ہوئے کوفہ کو حضرت علی مرتضی رضی اللہ تعالی عنہ نے دار الخلافہ بنالیا،اور آپ نے دینی لبادہ اوڑھے ہوئے دشمنان اسلام بے ادب وگستاخ فرقہ خوارج کا مقابلہ کیا اور مقام نہاوند میں انہیں تہ تیغ کیا ،اور آپ نے اس موقع پر مخبر صادق صلی اللہ علیہ وسلم کی خبر صادق بیان فرمائی کہ آپ نے ارشاد فرمایا تھا : دس (10) اہل اسلام شہید ہوں گے اور دشمن سارے مارے جائیں گے، صرف دس (10) لوگ بچیں گے۔
شہادت کی بشارت : حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے آپ کو پہلے ہی سے خلافت وشہادت کی بشارت عطا فرمائی تھی ، چنانچہ امام ابو نعیم اصبہانی رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے روایت نقل کی ہے : عن جابر بن سمرۃ ، قال : قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لعلی : إنک مؤمر مستخلف وإنک مقتول ۔
ترجمہ : سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے ،انہوںنے فرمایا ، حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے ارشاد فرمایا:بیشک تم والی اور خلیفہ مقرر کئے جانے والے ہو اور بیشک تم شہید کیے جانے والے ہو ۔ (فضائل الخلفاء الراشدین لأبی نعیم الأصبھانی جلد نمبر 1 صفحہ نمبر 347،چشتی)
شہادت عظمیٰ : حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کی شہادت سے متعلق تفصیلات بیان کر تے ہوئے صاحب اِکمال رقم طراز ہیں : ضربہ عبد الرحمن بن ملجم المرادی بالکوفۃ صبیحۃ الجمعۃ لثمانی عشرۃ لیلۃ خلت من شہر رمضان سنۃ اربعین ومات بعد ثلاث لیال من ضربۃ ۔ ابن ملجم شقی نے سنہ چالیس (40) ہجری ، سترہ (17) رمضان المبارک،جمعہ کی صبح آپ پرحملہ کیا اورحملہ کے تین (3) دن بعد (بیس 20) رمضان المبارک کو) آپ کی شہادت عظمی ہوئی ۔ (الاکمال فی اسماء الرجال،حرف العین ،فصل فی الصحابۃ)
غسل مبارک : حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے غسل مبارک اور نمازجنازہ سے متعلق تاریخ میں اس طرح تفصیلات ملتی ہیں : وغسلہ ابناہ الحسن والحسین وعبد اللہ بن جعفر وصلی علیہ الحسن ۔ ترجمہ : حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ ،حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ اور حضرت عبد اللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ نے غسل مبارک دیا اور حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ نے نماز پڑھائی ۔ (الاکمال فی اسماء الرجال،حرف العین ،فصل فی الصحابۃ،چشتی)
حضرت مولائے کائنات کو یہ خصوصیت بھی حاصل ہے کہ اللہ تعالی نے آپ کو شہادت کا منصبِ رفیع عطا فرمایا، ابن ملجم شقی کے حملہ کرنے کے بعد صبح صادق کے وقت آپ نے فرمایا کہ میرا چہرہ مشرق کی سمت پھیر دو!جب چہرۂ مبارک مشرق کی جانب پھیر دیا گیا تو آپ نے فرمایا:ائے صبح صادق؛تجھے اس ذات کی قسم جس کے حکم سے تو نمودار ہوتی ہے!بروز قیامت تو گواہی دینا کہ جس وقت سے میں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ساتھ نماز ادا کی ہے ؛اس وقت سے آج تک کبھی تو نے مجھے سوتا ہوا نہ پائی،تیرے نمودار ہونے سے قبل ہی میں بیدار ہوجاتا۔
پھر سجدہ ریز ہوکر آپ نے دعا کی؛الہی!قیامت کے دن جبکہ ہزارہا انبیاء وملائکہ ،صدیقین وشہداء تیرے عرش عظیم کو دیکھ رہے ہوں گے؛ اس وقت تو گواہی دینا کہ جب سے میں نے تیرے حبیب صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر ایمان لایا؛ کبھی آپ کے کسی حکم کی خلاف ورزی نہیں کی ۔ (الریاض النضرہ ، فضائل خلفائے راشدین وغیرہ)
اللہ تعالی سے دعا ہے کہ ہمیں حبیب کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے صدقہ وطفیل حضرات اہل بیت کرام وصحابۂ عظام رضی اللہ عنہم سے بے پناہ محبت کرنے والا بنائے،حضرت مولائے کائنات رضی اللہ عنہ کی ذات گرامی سے بے انتہاء عقیدت والفت رکھنے والابنائے اور آپ کے فیوض وبرکات سے ہمیں مستفیض فرمائے اور آپ کی تعلیمات پر عمل کرنے والا بنائے ۔
(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)
مدینہ منورہ کی عظمت وتقدس کو ملحوظ رکھتے ہوئے کوفہ کو حضرت علی مرتضی رضی اللہ تعالی عنہ نے دار الخلافہ بنالیا،اور آپ نے دینی لبادہ اوڑھے ہوئے دشمنان اسلام بے ادب وگستاخ فرقہ خوارج کا مقابلہ کیا اور مقام نہاوند میں انہیں تہ تیغ کیا ،اور آپ نے اس موقع پر مخبر صادق صلی اللہ علیہ وسلم کی خبر صادق بیان فرمائی کہ آپ نے ارشاد فرمایا تھا : دس (10) اہل اسلام شہید ہوں گے اور دشمن سارے مارے جائیں گے، صرف دس (10) لوگ بچیں گے۔
شہادت کی بشارت : حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے آپ کو پہلے ہی سے خلافت وشہادت کی بشارت عطا فرمائی تھی ، چنانچہ امام ابو نعیم اصبہانی رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے روایت نقل کی ہے : عن جابر بن سمرۃ ، قال : قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لعلی : إنک مؤمر مستخلف وإنک مقتول ۔
ترجمہ : سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے ،انہوںنے فرمایا ، حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے ارشاد فرمایا:بیشک تم والی اور خلیفہ مقرر کئے جانے والے ہو اور بیشک تم شہید کیے جانے والے ہو ۔ (فضائل الخلفاء الراشدین لأبی نعیم الأصبھانی جلد نمبر 1 صفحہ نمبر 347،چشتی)
شہادت عظمیٰ : حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کی شہادت سے متعلق تفصیلات بیان کر تے ہوئے صاحب اِکمال رقم طراز ہیں : ضربہ عبد الرحمن بن ملجم المرادی بالکوفۃ صبیحۃ الجمعۃ لثمانی عشرۃ لیلۃ خلت من شہر رمضان سنۃ اربعین ومات بعد ثلاث لیال من ضربۃ ۔ ابن ملجم شقی نے سنہ چالیس (40) ہجری ، سترہ (17) رمضان المبارک،جمعہ کی صبح آپ پرحملہ کیا اورحملہ کے تین (3) دن بعد (بیس 20) رمضان المبارک کو) آپ کی شہادت عظمی ہوئی ۔ (الاکمال فی اسماء الرجال،حرف العین ،فصل فی الصحابۃ)
غسل مبارک : حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے غسل مبارک اور نمازجنازہ سے متعلق تاریخ میں اس طرح تفصیلات ملتی ہیں : وغسلہ ابناہ الحسن والحسین وعبد اللہ بن جعفر وصلی علیہ الحسن ۔ ترجمہ : حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ ،حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ اور حضرت عبد اللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ نے غسل مبارک دیا اور حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ نے نماز پڑھائی ۔ (الاکمال فی اسماء الرجال،حرف العین ،فصل فی الصحابۃ،چشتی)
حضرت مولائے کائنات کو یہ خصوصیت بھی حاصل ہے کہ اللہ تعالی نے آپ کو شہادت کا منصبِ رفیع عطا فرمایا، ابن ملجم شقی کے حملہ کرنے کے بعد صبح صادق کے وقت آپ نے فرمایا کہ میرا چہرہ مشرق کی سمت پھیر دو!جب چہرۂ مبارک مشرق کی جانب پھیر دیا گیا تو آپ نے فرمایا:ائے صبح صادق؛تجھے اس ذات کی قسم جس کے حکم سے تو نمودار ہوتی ہے!بروز قیامت تو گواہی دینا کہ جس وقت سے میں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ساتھ نماز ادا کی ہے ؛اس وقت سے آج تک کبھی تو نے مجھے سوتا ہوا نہ پائی،تیرے نمودار ہونے سے قبل ہی میں بیدار ہوجاتا۔
پھر سجدہ ریز ہوکر آپ نے دعا کی؛الہی!قیامت کے دن جبکہ ہزارہا انبیاء وملائکہ ،صدیقین وشہداء تیرے عرش عظیم کو دیکھ رہے ہوں گے؛ اس وقت تو گواہی دینا کہ جب سے میں نے تیرے حبیب صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر ایمان لایا؛ کبھی آپ کے کسی حکم کی خلاف ورزی نہیں کی ۔ (الریاض النضرہ ، فضائل خلفائے راشدین وغیرہ)
اللہ تعالی سے دعا ہے کہ ہمیں حبیب کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے صدقہ وطفیل حضرات اہل بیت کرام وصحابۂ عظام رضی اللہ عنہم سے بے پناہ محبت کرنے والا بنائے،حضرت مولائے کائنات رضی اللہ عنہ کی ذات گرامی سے بے انتہاء عقیدت والفت رکھنے والابنائے اور آپ کے فیوض وبرکات سے ہمیں مستفیض فرمائے اور آپ کی تعلیمات پر عمل کرنے والا بنائے ۔
(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)
❤1
https://t.me/islaamic_Knowledge/24697
خصائص و کمالات حضرت علی
رضی اللہ تبارک و تعالیٰ عنہ🌹
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/287886930114020/
✍ #ڈاکٹر_فیض_احمد_چشتی
خصائص و کمالات حضرت علی
رضی اللہ تبارک و تعالیٰ عنہ🌹
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/287886930114020/
✍ #ڈاکٹر_فیض_احمد_چشتی
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
👍1
#فیضان_حضرت_علی_مرتضی ❶
ولادت حضرت مولا علی مشکل کشا
رَضِیَ الــلّٰــهُ تَـبَـارَڪَـ وَ تَـعَـالیٰ عَــنۡــہۡ
@islaamic_Knowledge
پَیدائِش ¹³رجب المرجب عُمر ⁶³سَال
تاریخ شہادت : 21 رمضان ۰۴ ھ
مدت خلافت : ❹برس ❽ماہ ❾دِن
ولادت حضرت مولا علی مشکل کشا
رَضِیَ الــلّٰــهُ تَـبَـارَڪَـ وَ تَـعَـالیٰ عَــنۡــہۡ
@islaamic_Knowledge
پَیدائِش ¹³رجب المرجب عُمر ⁶³سَال
تاریخ شہادت : 21 رمضان ۰۴ ھ
مدت خلافت : ❹برس ❽ماہ ❾دِن
❤1
Forwarded from فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
📚 « مختصــر ســوانح حیــات » 📚
-----------------------------------------------------------
🕯مولائے کائنات حضرت علی کَرَّمَ اللّٰه تَعَالی وَجْہَہُ الْکَرِیْم🕯
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
نام و نسب:
اسمِ گرامی: والد نے آپ کا نام ’’علی‘‘ اور والدۂ ماجدہ نے’’حیدر‘‘ رکھا۔
کنیت: ابوالحسن اور ابو تراب ہے۔
القاب: امیر المؤمنین، امام المتقین، صاحب اللواء، اسداللہ (شیرِ خدا)، کرار، مرتضیٰ، اور مولا مشکل کشا مشہور القاب ہیں۔
والد کی طرف سے سلسلۂ نسب: علی بن ابی طالب بن عبدالمطلب بن ہاشم بن عبدِ مناف بن قصی بن کلاب بن مرہ۔
والدہ کی طرف سے سلسلۂ نسب: فاطمہ بنتِ اسد بن ہاشم بن عبد المطلب الٰی آخرہٖ۔
تاریخِ ولادت: آپ 13؍ رجب المرجّب، بروز جمعۃ المبارک، عام الفیل کے 30 سال بعد، بمطابق 17؍ مارچ 599ء بمقام بیت اللہ مکۃ المکرمہ میں پیدا ہوئے۔
شیرِ خداکی سب سے پہلی غذا: آپ کی والدۂ ماجدہ سیّدہ فاطمہ بنتِ اسد رضی اللہ تعالٰی عنہا فرماتی ہیں: جب میرے لختِ جگر علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالٰی عنہ پیدا ہوئے تو رسولِ اکر مﷺ نے آپ کے منہ میں لعابِ دہن ڈالا اور اور اپنی ’’مَا یَنْطِقُ عَنِ الْہَوٰی‘‘ والی زبانِ مبارک چوسنے کے لیے دی ،آپ حضورﷺ کی زبان چوستے ہوئے نیند کی آغوش میں چلے گئے اور جب تک اللہ تعالیٰ نے چاہا آپ رسولِ اکرمﷺ کی زبانِ اقدس کو چوستے رہے اور غذا حاصل کرتے رہے۔
(السیرۃ الحلبیۃ، ج1، ص282)
فضائل و مناقب: امام احمد فرماتے ہیں کہ جتنی احادیث حضرت مولاعلی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کی فضیلت میں وارد ہوئی ہیں کسی اورصحابی کی فضیلت میں وارد نہیں ہوئی ہیں۔
(تاریخ الخلفاء،ص:364)
آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ رسولِ اکرمﷺ کے چچازاد بھائی ہیں۔بچپن سے ہی رحمتِ عالمﷺ کے زیرِ تربیت رہے۔ اس بات پر اجماع ہے کہ بچوں میں سب سے پہلے اسلام قبول کرنے والے آپ ہی ہیں۔ اسلام قبول کرنے کے بعد حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ دعوتِ اسلام کے ہر مرحلے اور آزمائش میں حضور ﷺ کے ساتھ رہے۔ 2ھ میں مدینۂ منوّرہ آنے کے بعد حضورﷺ نے انھیں اپنی دامادی کا شرف بخشا۔ ہجرتِ مدینہ کے بعد غزوات کا سلسلہ شروع ہوا تو حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے تمام غزوات (بدر، اُحد، خندق، بنی قریظہ اور حنین،خیبر وغیرہ) میں کار ہائے نمایاں سر انجام دیے۔ علاوہ ازیں متعدد سرایا میں آپ کو کمانڈر بنا کر بھیجا گیا، جنھیں آپ نے کامیابی کے ساتھ انجام کو پہنچایا۔ حضورﷺ کے وصال کے بعد ان کے غسل اور تجہیز و تکفین کی سعادت میں بھی آپ شریک تھے۔ غرض آغازِ بعثت سے لے کر زندگی کے آخری لمحات تک آپ حضور نبی اکرمﷺ کے دست و بازو بنے رہے۔ حضرت صدّیقِ اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ اور حضرت فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہکے دورِ خلافت میں آپ مجلسِ شوریٰ کے رکن تھے۔ حضرات شیخین کو آپ کے مفید مشوروں پر بڑا اعتماد تھا۔ اسی طرح حضرت عثمان رضی اللہ تعالٰی عنہ کی بھی آپ آخر تک حمایت کرتے رہے۔ زبانِ نبوّت سے آپ کو اَنَا مَدِیْنَۃُ الْعَلْمِ وَعَلِیٌّ بَابُہَا کی سند ملی تھی۔ آپ فرمایا کرتے تھے کہ قرآنِ مجید میں کوئی آیت ایسی نہیں ہے جس کے متعلق میں یہ نہ جانتا ہوں کہ وہ کس بارے میں اور کہاں اور کس کے متعلق نازل ہوئی۔ فقہ میں آپ کی ذاتِ گرامی صحابۂ کرام کا مرجع تھی۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ خود مجتہد اور فقیہ تھے، لیکن آپ سے بھی استفادہ کرتے تھے حتیٰ کہ امیر معاویہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کو اختلاف کے باوجود اکثر مواقع پر آپ کی طرف رجوع کرنا پڑتا تھا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ جن کے فتاوٰی اور مروی اسناد پر فقہِ حنفی کی بنیاد ہے، آپ کے فیض یافتہ تھے۔ تصوف کا سرچشمہ بھی آپ ہی کی ذاتِ گرامی ہے۔ صوفیا کے تمام بڑے سلاسل حضرت خواجہ حسن بصری رضی اللہ تعالٰی عنہ کے واسطہ سے آپ تک پہنچتے ہیں۔ آپ شاعری کا بھی نہایت اعلیٰ اور پاکیزہ ذوق رکھتے تھے۔ علمِ نحو کی بنیاد بھی آپ ہی نے رکھی۔ سب سے پہلے ابو لاسود دؤلی کو نحو کے اصول سکھائے تھے، جس نے بعد میں ان اصولوں کی روشنی میں نحو کے قواعد مرتّب کیے۔ آپ کی زندگی ہی میں آپ سے بغض رکھنے والے اور آپ کی تعریف میں غلو کرنے والے لوگ موجود تھے۔ مشہور صحابی حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالٰی عنہ فرمایا کرتے تھے کہ میں منافقوں کو بغضِ علی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے پہچان لیتا ہوں (ترمذی)۔ علم کے ساتھ عمل کا یہ حال تھا کہ حضرت زبیر بن سعید رضی اللہ تعالٰی عنہ کا بیان ہے کہ بنی ہاشم میں آپ سے بڑھ کے کوئی عبادت گزار نہ تھا۔ حضرت عائشہ صدّیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا فرماتی تھیں کہ علی رضی اللہ تعالٰی عنہ قائم اللیل اور صائم النہار تھے۔
-----------------------------------------------------------
🕯مولائے کائنات حضرت علی کَرَّمَ اللّٰه تَعَالی وَجْہَہُ الْکَرِیْم🕯
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
نام و نسب:
اسمِ گرامی: والد نے آپ کا نام ’’علی‘‘ اور والدۂ ماجدہ نے’’حیدر‘‘ رکھا۔
کنیت: ابوالحسن اور ابو تراب ہے۔
القاب: امیر المؤمنین، امام المتقین، صاحب اللواء، اسداللہ (شیرِ خدا)، کرار، مرتضیٰ، اور مولا مشکل کشا مشہور القاب ہیں۔
والد کی طرف سے سلسلۂ نسب: علی بن ابی طالب بن عبدالمطلب بن ہاشم بن عبدِ مناف بن قصی بن کلاب بن مرہ۔
والدہ کی طرف سے سلسلۂ نسب: فاطمہ بنتِ اسد بن ہاشم بن عبد المطلب الٰی آخرہٖ۔
تاریخِ ولادت: آپ 13؍ رجب المرجّب، بروز جمعۃ المبارک، عام الفیل کے 30 سال بعد، بمطابق 17؍ مارچ 599ء بمقام بیت اللہ مکۃ المکرمہ میں پیدا ہوئے۔
شیرِ خداکی سب سے پہلی غذا: آپ کی والدۂ ماجدہ سیّدہ فاطمہ بنتِ اسد رضی اللہ تعالٰی عنہا فرماتی ہیں: جب میرے لختِ جگر علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالٰی عنہ پیدا ہوئے تو رسولِ اکر مﷺ نے آپ کے منہ میں لعابِ دہن ڈالا اور اور اپنی ’’مَا یَنْطِقُ عَنِ الْہَوٰی‘‘ والی زبانِ مبارک چوسنے کے لیے دی ،آپ حضورﷺ کی زبان چوستے ہوئے نیند کی آغوش میں چلے گئے اور جب تک اللہ تعالیٰ نے چاہا آپ رسولِ اکرمﷺ کی زبانِ اقدس کو چوستے رہے اور غذا حاصل کرتے رہے۔
(السیرۃ الحلبیۃ، ج1، ص282)
فضائل و مناقب: امام احمد فرماتے ہیں کہ جتنی احادیث حضرت مولاعلی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کی فضیلت میں وارد ہوئی ہیں کسی اورصحابی کی فضیلت میں وارد نہیں ہوئی ہیں۔
(تاریخ الخلفاء،ص:364)
آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ رسولِ اکرمﷺ کے چچازاد بھائی ہیں۔بچپن سے ہی رحمتِ عالمﷺ کے زیرِ تربیت رہے۔ اس بات پر اجماع ہے کہ بچوں میں سب سے پہلے اسلام قبول کرنے والے آپ ہی ہیں۔ اسلام قبول کرنے کے بعد حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ دعوتِ اسلام کے ہر مرحلے اور آزمائش میں حضور ﷺ کے ساتھ رہے۔ 2ھ میں مدینۂ منوّرہ آنے کے بعد حضورﷺ نے انھیں اپنی دامادی کا شرف بخشا۔ ہجرتِ مدینہ کے بعد غزوات کا سلسلہ شروع ہوا تو حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے تمام غزوات (بدر، اُحد، خندق، بنی قریظہ اور حنین،خیبر وغیرہ) میں کار ہائے نمایاں سر انجام دیے۔ علاوہ ازیں متعدد سرایا میں آپ کو کمانڈر بنا کر بھیجا گیا، جنھیں آپ نے کامیابی کے ساتھ انجام کو پہنچایا۔ حضورﷺ کے وصال کے بعد ان کے غسل اور تجہیز و تکفین کی سعادت میں بھی آپ شریک تھے۔ غرض آغازِ بعثت سے لے کر زندگی کے آخری لمحات تک آپ حضور نبی اکرمﷺ کے دست و بازو بنے رہے۔ حضرت صدّیقِ اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ اور حضرت فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہکے دورِ خلافت میں آپ مجلسِ شوریٰ کے رکن تھے۔ حضرات شیخین کو آپ کے مفید مشوروں پر بڑا اعتماد تھا۔ اسی طرح حضرت عثمان رضی اللہ تعالٰی عنہ کی بھی آپ آخر تک حمایت کرتے رہے۔ زبانِ نبوّت سے آپ کو اَنَا مَدِیْنَۃُ الْعَلْمِ وَعَلِیٌّ بَابُہَا کی سند ملی تھی۔ آپ فرمایا کرتے تھے کہ قرآنِ مجید میں کوئی آیت ایسی نہیں ہے جس کے متعلق میں یہ نہ جانتا ہوں کہ وہ کس بارے میں اور کہاں اور کس کے متعلق نازل ہوئی۔ فقہ میں آپ کی ذاتِ گرامی صحابۂ کرام کا مرجع تھی۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ خود مجتہد اور فقیہ تھے، لیکن آپ سے بھی استفادہ کرتے تھے حتیٰ کہ امیر معاویہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کو اختلاف کے باوجود اکثر مواقع پر آپ کی طرف رجوع کرنا پڑتا تھا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ جن کے فتاوٰی اور مروی اسناد پر فقہِ حنفی کی بنیاد ہے، آپ کے فیض یافتہ تھے۔ تصوف کا سرچشمہ بھی آپ ہی کی ذاتِ گرامی ہے۔ صوفیا کے تمام بڑے سلاسل حضرت خواجہ حسن بصری رضی اللہ تعالٰی عنہ کے واسطہ سے آپ تک پہنچتے ہیں۔ آپ شاعری کا بھی نہایت اعلیٰ اور پاکیزہ ذوق رکھتے تھے۔ علمِ نحو کی بنیاد بھی آپ ہی نے رکھی۔ سب سے پہلے ابو لاسود دؤلی کو نحو کے اصول سکھائے تھے، جس نے بعد میں ان اصولوں کی روشنی میں نحو کے قواعد مرتّب کیے۔ آپ کی زندگی ہی میں آپ سے بغض رکھنے والے اور آپ کی تعریف میں غلو کرنے والے لوگ موجود تھے۔ مشہور صحابی حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالٰی عنہ فرمایا کرتے تھے کہ میں منافقوں کو بغضِ علی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے پہچان لیتا ہوں (ترمذی)۔ علم کے ساتھ عمل کا یہ حال تھا کہ حضرت زبیر بن سعید رضی اللہ تعالٰی عنہ کا بیان ہے کہ بنی ہاشم میں آپ سے بڑھ کے کوئی عبادت گزار نہ تھا۔ حضرت عائشہ صدّیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا فرماتی تھیں کہ علی رضی اللہ تعالٰی عنہ قائم اللیل اور صائم النہار تھے۔
❤1
Forwarded from فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
مختصر سیرت ِمرتضوی: ایک مرتبہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے حضرت ضرار رضی اللہ تعالٰی عنہ سے فرمایا کہ حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ کے بارے میں کچھ بیان کریں۔ اس کے جواب میں انہوں نے جو تقریر کی وہ سیرتِ مرتضوی پر ایک جامع تبصرہ ہے۔
انھوں نے کہا:
’’حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ بلند حوصلہ اور نہایت قوی تھے۔ فیصلہ کن بات کہتے تھے،عادلانہ فیصلے کرتے تھے۔ اُن کے ہرسمت سے علم پھوٹتا اور حکمت ٹپکتی تھی۔ دنیا اور اس کی دل فربیوں سے و حشت کرتے تھے۔ رات کی تاریکی وو حشت سے محبّت کرتے تھے، عبرت پذیر اور بہت غور و فکر کرنے والے تھے۔ معمولی لباس اور جو کا کھانا پسند کرتے تھے۔ ہم میں ہم ہی لوگوں کی طرح رہتے تھے۔ دین داروں کی تعظیم کرتے تھے۔ غریبوں کو مقرب بناتے تھے۔ ان کے سامنے طاقتور باطل میں طمع نہیں کر سکتا تھا اور کمزور انصاف سے مایوس نہیں ہوتا تھا۔ بعض مواقع پر میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ رات گزر رہی ہے، ستارے جھلملا رہے ہیں اور وہ اپنی داڑھی مٹھی میں دبائے ایک بے قرار اور غم رسیدہ انسان کی طرح اشک بار کہہ رہے ہیں: اے دنیا! کسی اور کو فریب دے تو مجھ سے لگاوٹ کر رہی ہے، میری مشتاق ہے۔ افسوس! افسوس! میں نے تجھے تین طلاقیں دیں۔ تیری عمر تھوڑی اور تیرا مقصد حقیر ہے۔ ہائے ہائے ،سفر طویل، راستہ و حشت ناک اور زادِ سفر تھوڑا ہے۔‘‘
دورانِ تقریر حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کی آنکھوں سے آنسو بارش کے قطروں کی طرح ٹپک رہے تھے،اور فرما رہے تھے کہ حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ اس سے بھی بڑھ کر شان کے مالک ہیں، اور پھر ان کو انعامات سے نوازا۔ صحابۂ کرام(رضوان اللہ تعالٰی عنہم اجمعین) کی آپس میں جو محبّت تھی مذکورہ واقعے سے اس کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ (عیون الحکایات:ص،25)
مولا علی کا پیغام، محبین کے نام: امیرالمؤمنین سیّدنا علی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم فرماتے ہیں:
’’رسول اللہ صل اللہ تعالٰی علیہ وسلم کےبعد سب سے بہتر و افضل ابوبکر اور عمر ہیں۔‘‘ پھر فرمایا: ’’لایجتمع حبی وبغض ابی بکر وعمر فی قلب مؤمن۔‘‘ یعنی میری محبّت اور شیخین کریمین ابوبکر و عمر کا بغض کسی مؤمن کے دل میں جمع نہیں ہو سکتا۔
(المعجم الاوسط لطبرانی،ج،۳،حدیث:۳۹۲۰)
وصال: آپ 4 سال 8 ماہ نو دن تک مسندِ خلافت پر رونق افروز رہے۔17 یا 19رمضان المبارک کو ایک بدبخت کے قاتلانہ حملے سے شدید زخمی ہوگئے اور بروزِ اتوار 21؍ رمضان، 40ھ بمطابق 27؍ جنوری 661ء کی رات جامِ شہادت نوش فرما گئے۔ (تاریخ الخلفاء،ص:۱۳۲)
https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
المرتب⬅ محـمد یـوسـف رضـا رضـوی امجـدی نائب مدیر "فیضـانِ دارالعـلوم امجـدیہ ناگپور گروپ" 9604397443
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
انھوں نے کہا:
’’حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ بلند حوصلہ اور نہایت قوی تھے۔ فیصلہ کن بات کہتے تھے،عادلانہ فیصلے کرتے تھے۔ اُن کے ہرسمت سے علم پھوٹتا اور حکمت ٹپکتی تھی۔ دنیا اور اس کی دل فربیوں سے و حشت کرتے تھے۔ رات کی تاریکی وو حشت سے محبّت کرتے تھے، عبرت پذیر اور بہت غور و فکر کرنے والے تھے۔ معمولی لباس اور جو کا کھانا پسند کرتے تھے۔ ہم میں ہم ہی لوگوں کی طرح رہتے تھے۔ دین داروں کی تعظیم کرتے تھے۔ غریبوں کو مقرب بناتے تھے۔ ان کے سامنے طاقتور باطل میں طمع نہیں کر سکتا تھا اور کمزور انصاف سے مایوس نہیں ہوتا تھا۔ بعض مواقع پر میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ رات گزر رہی ہے، ستارے جھلملا رہے ہیں اور وہ اپنی داڑھی مٹھی میں دبائے ایک بے قرار اور غم رسیدہ انسان کی طرح اشک بار کہہ رہے ہیں: اے دنیا! کسی اور کو فریب دے تو مجھ سے لگاوٹ کر رہی ہے، میری مشتاق ہے۔ افسوس! افسوس! میں نے تجھے تین طلاقیں دیں۔ تیری عمر تھوڑی اور تیرا مقصد حقیر ہے۔ ہائے ہائے ،سفر طویل، راستہ و حشت ناک اور زادِ سفر تھوڑا ہے۔‘‘
دورانِ تقریر حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کی آنکھوں سے آنسو بارش کے قطروں کی طرح ٹپک رہے تھے،اور فرما رہے تھے کہ حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ اس سے بھی بڑھ کر شان کے مالک ہیں، اور پھر ان کو انعامات سے نوازا۔ صحابۂ کرام(رضوان اللہ تعالٰی عنہم اجمعین) کی آپس میں جو محبّت تھی مذکورہ واقعے سے اس کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ (عیون الحکایات:ص،25)
مولا علی کا پیغام، محبین کے نام: امیرالمؤمنین سیّدنا علی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم فرماتے ہیں:
’’رسول اللہ صل اللہ تعالٰی علیہ وسلم کےبعد سب سے بہتر و افضل ابوبکر اور عمر ہیں۔‘‘ پھر فرمایا: ’’لایجتمع حبی وبغض ابی بکر وعمر فی قلب مؤمن۔‘‘ یعنی میری محبّت اور شیخین کریمین ابوبکر و عمر کا بغض کسی مؤمن کے دل میں جمع نہیں ہو سکتا۔
(المعجم الاوسط لطبرانی،ج،۳،حدیث:۳۹۲۰)
وصال: آپ 4 سال 8 ماہ نو دن تک مسندِ خلافت پر رونق افروز رہے۔17 یا 19رمضان المبارک کو ایک بدبخت کے قاتلانہ حملے سے شدید زخمی ہوگئے اور بروزِ اتوار 21؍ رمضان، 40ھ بمطابق 27؍ جنوری 661ء کی رات جامِ شہادت نوش فرما گئے۔ (تاریخ الخلفاء،ص:۱۳۲)
https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
المرتب⬅ محـمد یـوسـف رضـا رضـوی امجـدی نائب مدیر "فیضـانِ دارالعـلوم امجـدیہ ناگپور گروپ" 9604397443
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
Telegram
فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
اہلسنت و جماعت مسلک اعلیٰ حضرت کا ترجمان، وسط ہند کی عظیم درسگاہ " دارالعلوم امجدیہ ناگپور مہاراشٹرا" کے نام سے منسوب گروپ
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
👍1