ہی ہمیں یہ سنائيے کہ ہماری موت کے بعد ہمارے گھروں میں کیا کیا معاملات ہوئے ؟ حضرت امیر المؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ اے قبر والو! تمہارے بعد تمہارے گھروں کی خبر یہ ہے کہ تمہاری بیویوں نے دوسرے لوگوں سے نکاح کرلیا اور تمہارے مال ودولت کو تمہارے وارثوں نے آپس میں تقسیم کرلیا اور تمہارے چھوٹے چھوٹے بچے یتیم ہوکر دربدر پھر رہے ہیں اورتمہارے مضبوط اور اونچے اونچے محلوں میں تمہارے دشمن آرام اورچین کے ساتھ زندگی بسر کررہے ہیں ۔ اس کے جواب میں قبروں میں سے ایک مردہ کی یہ دردناک آواز آئی کہ اے امیرالمؤمنین! رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہماری خبریہ ہے کہ ہمارے کفن پرانے ہوکر پھٹ چکے ہیں اورجو کچھ ہم نے دنیا میں خرچ کیا تھا اس کو ہم نے یہاں پالیا ہے اورجو کچھ ہم دنیا میں چھوڑآئے تھے اس میں ہمیں گھاٹا ہی گھاٹااٹھانا پڑا ہے ۔ (حجۃ اللہ علی العالمین ج۲،ص۸۶۳،چشتی)
اس روایت سے معلوم ہوا کہ اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے محبوب بندوں کو یہ طاقت وقدرت عطافرماتاہے کہ قبر والے ان کے سوالوں کا باآواز بلنداس طرح جواب دیتے ہیں کہ دوسرے حاضرین بھی سن لیتے ہیں ۔ یہ قدرت وطاقت عام انسانوں کو حاصل نہیں ہے۔ لوگ اپنی آوازیں تو مردوں کو سنا سکتے ہیں اورمردے ان کی آوازوں کو سن بھی لیتے ہیں مگر قبر کے اندر سے مردوں کی آوازوں کو سن لینا یہ عام انسانوں کے بس کی بات نہیں ہے ،بلکہ یہ خاصا ن خدا کا خاص حصہ اور خاصہ ہے جس کوان کی کرامت کے سواکچھ بھی نہیں کہاجاسکتااوراس روایت سے یہ بھی پتاچلا کہ قبروالوں کا یہ اقبالی بیان ہے کہ مرنے والے دنیا میں جو مال ودولت چھوڑ کر مرجاتے ہیں اس میں مرنے والوں کے لیے سر اسر گھاٹا ہی گھاٹا ہے اورجس مال ودولت کو وہ مرنے سے پہلے خدا عزوجل کی راہ میں خرچ کرتے ہیں وہی ان کے کام آنے والاہے ۔
فالج زدہ اچھا ہوگیا
علامہ تاج الدین سبکی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اپنی کتاب”طبقات” میں ذکر فرمایا ہے کہ ایک مرتبہ امیر المؤمنین حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے دونوں شاہزادگان حضرت امام حسن وامام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہماکے ساتھ حرم کعبہ میں حاضر تھے کہ درمیانی رات میں ناگہاں یہ سنا کہ ایک شخص بہت ہی گڑگڑا کر اپنی حاجت کے لیے دعا مانگ رہا ہے اور زار زار رو رہا ہے ۔ آپ نے حکم دیا کہ اس شخص کو میرے پاس لاؤ ۔ وہ شخص اس حال میں حاضر خدمت ہوا کہ اس کے بدن کی ایک کروٹ فالج زدہ تھی اوروہ زمین پر گھسٹتا ہوا آپ کے سامنے آیا۔آپ نے اس کا قصہ دریافت فرمایا تو اس نے عرض کیا کہ اے امیرالمؤمنین! رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں بہت ہی بے باکی کے ساتھ قسم قسم کے گناہوں میں دن رات منہمک رہتا تھا اورمیرا باپ جو بہت ہی صالح اورپابند شریعت مسلما ن تھا، باربار مجھ کو ٹوکتا اور گناہوں سے منع کرتارہتا تھا میں نے ایک دن اپنے باپ کی نصیحت سے ناراض ہوکر اس کو ماردیا اورمیر ی مار کھا کر میرا باپ رنج وغم میں ڈوباہوا حرم کعبہ آیااور میرے لئے بد دعا کرنے لگا۔ ابھی اس کی دعا ختم بھی نہیں ہوئی تھی کہ بالکل ہی اچانک میری ایک کروٹ پر فالج کا اثر ہوگیااورمیں زمین پر گھسٹ کر چلنے لگا۔ اس غیبی سزاسے مجھے بڑی عبرت حاصل ہوئی اورمیں نے روروکر اپنے باپ سے اپنے جرم کی معافی طلب کی اور میرے با پ نے اپنی شفقت پدری سے مجبور ہوکر مجھ پر رحم کھایا اور مجھے معاف کردیا اور کہا کہ بیٹا چل!جہاں میں نے تیرے ليے بد دعا کی تھی اسی جگہ اب میں تیرے لئے صحت وسلامتی کی دعا مانگوں گا۔ چنانچہ میں اپنے باپ کو اونٹنی پر سوا رکر کے مکہ معظمہ لارہا تھا کہ راستے میں بالکل ناگہاں اونٹنی ایک مقام پر بدک کر بھاگنے لگی اور میرا باپ اس کی پیٹھ پر سے گر کر دو چٹانوں کے درمیان ہلاک ہوگیا اوراب میں اکیلا ہی حرم کعبہ میں آکر دن رات رو رو کر خداتعالیٰ سے اپنی تندرستی کے لیے دعائیں مانگتا رہتا ہوں ۔ امیرالمؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ساری سرگزشت سن کر فرمایا کہ اے شخص !اگر واقعی تیرا باپ تجھ سے خوش ہوگیا تھا تو اطمینان رکھ کہ خدا کریم بھی تجھ سے خوش ہوگیا ہے ۔ اس نے کہا کہ اے امیر المؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں بحلف شرعی قسم کھا کر کہتاہوں کہ میرا باپ مجھ سے خوش ہوگیا تھا۔ امیرالمؤمنین حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس شخص کی حالت زار پر رحم کھاکر اس کو تسلی دی اورچند رکعت نماز پڑھ کر اس کی تندرستی کے لئے دعا مانگی۔ پھرفرمایا کہ اے شخص! اٹھ کھڑا ہوجا!یہ سنتے ہی وہ بلا تکلف اٹھ کر کھڑا ہو گیا اورچلنے لگا۔ آپ نے فرمایا کہ اے شخص !اگر تو نے قسم کھاکر یہ نہ کہا ہوتا کہ تیرا باپ تجھ سے خوش ہوگیا تھا تو میں ہرگز تیرے لئے دعا نہ کرتا ۔ (حجۃ اللہ علی العالمین جلد ۲ صفحہ ۸۶۳،چشتی)
گرتی ہوئی دیوار تھم گئی
اس روایت سے معلوم ہوا کہ اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے محبوب بندوں کو یہ طاقت وقدرت عطافرماتاہے کہ قبر والے ان کے سوالوں کا باآواز بلنداس طرح جواب دیتے ہیں کہ دوسرے حاضرین بھی سن لیتے ہیں ۔ یہ قدرت وطاقت عام انسانوں کو حاصل نہیں ہے۔ لوگ اپنی آوازیں تو مردوں کو سنا سکتے ہیں اورمردے ان کی آوازوں کو سن بھی لیتے ہیں مگر قبر کے اندر سے مردوں کی آوازوں کو سن لینا یہ عام انسانوں کے بس کی بات نہیں ہے ،بلکہ یہ خاصا ن خدا کا خاص حصہ اور خاصہ ہے جس کوان کی کرامت کے سواکچھ بھی نہیں کہاجاسکتااوراس روایت سے یہ بھی پتاچلا کہ قبروالوں کا یہ اقبالی بیان ہے کہ مرنے والے دنیا میں جو مال ودولت چھوڑ کر مرجاتے ہیں اس میں مرنے والوں کے لیے سر اسر گھاٹا ہی گھاٹا ہے اورجس مال ودولت کو وہ مرنے سے پہلے خدا عزوجل کی راہ میں خرچ کرتے ہیں وہی ان کے کام آنے والاہے ۔
فالج زدہ اچھا ہوگیا
علامہ تاج الدین سبکی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اپنی کتاب”طبقات” میں ذکر فرمایا ہے کہ ایک مرتبہ امیر المؤمنین حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے دونوں شاہزادگان حضرت امام حسن وامام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہماکے ساتھ حرم کعبہ میں حاضر تھے کہ درمیانی رات میں ناگہاں یہ سنا کہ ایک شخص بہت ہی گڑگڑا کر اپنی حاجت کے لیے دعا مانگ رہا ہے اور زار زار رو رہا ہے ۔ آپ نے حکم دیا کہ اس شخص کو میرے پاس لاؤ ۔ وہ شخص اس حال میں حاضر خدمت ہوا کہ اس کے بدن کی ایک کروٹ فالج زدہ تھی اوروہ زمین پر گھسٹتا ہوا آپ کے سامنے آیا۔آپ نے اس کا قصہ دریافت فرمایا تو اس نے عرض کیا کہ اے امیرالمؤمنین! رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں بہت ہی بے باکی کے ساتھ قسم قسم کے گناہوں میں دن رات منہمک رہتا تھا اورمیرا باپ جو بہت ہی صالح اورپابند شریعت مسلما ن تھا، باربار مجھ کو ٹوکتا اور گناہوں سے منع کرتارہتا تھا میں نے ایک دن اپنے باپ کی نصیحت سے ناراض ہوکر اس کو ماردیا اورمیر ی مار کھا کر میرا باپ رنج وغم میں ڈوباہوا حرم کعبہ آیااور میرے لئے بد دعا کرنے لگا۔ ابھی اس کی دعا ختم بھی نہیں ہوئی تھی کہ بالکل ہی اچانک میری ایک کروٹ پر فالج کا اثر ہوگیااورمیں زمین پر گھسٹ کر چلنے لگا۔ اس غیبی سزاسے مجھے بڑی عبرت حاصل ہوئی اورمیں نے روروکر اپنے باپ سے اپنے جرم کی معافی طلب کی اور میرے با پ نے اپنی شفقت پدری سے مجبور ہوکر مجھ پر رحم کھایا اور مجھے معاف کردیا اور کہا کہ بیٹا چل!جہاں میں نے تیرے ليے بد دعا کی تھی اسی جگہ اب میں تیرے لئے صحت وسلامتی کی دعا مانگوں گا۔ چنانچہ میں اپنے باپ کو اونٹنی پر سوا رکر کے مکہ معظمہ لارہا تھا کہ راستے میں بالکل ناگہاں اونٹنی ایک مقام پر بدک کر بھاگنے لگی اور میرا باپ اس کی پیٹھ پر سے گر کر دو چٹانوں کے درمیان ہلاک ہوگیا اوراب میں اکیلا ہی حرم کعبہ میں آکر دن رات رو رو کر خداتعالیٰ سے اپنی تندرستی کے لیے دعائیں مانگتا رہتا ہوں ۔ امیرالمؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ساری سرگزشت سن کر فرمایا کہ اے شخص !اگر واقعی تیرا باپ تجھ سے خوش ہوگیا تھا تو اطمینان رکھ کہ خدا کریم بھی تجھ سے خوش ہوگیا ہے ۔ اس نے کہا کہ اے امیر المؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں بحلف شرعی قسم کھا کر کہتاہوں کہ میرا باپ مجھ سے خوش ہوگیا تھا۔ امیرالمؤمنین حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس شخص کی حالت زار پر رحم کھاکر اس کو تسلی دی اورچند رکعت نماز پڑھ کر اس کی تندرستی کے لئے دعا مانگی۔ پھرفرمایا کہ اے شخص! اٹھ کھڑا ہوجا!یہ سنتے ہی وہ بلا تکلف اٹھ کر کھڑا ہو گیا اورچلنے لگا۔ آپ نے فرمایا کہ اے شخص !اگر تو نے قسم کھاکر یہ نہ کہا ہوتا کہ تیرا باپ تجھ سے خوش ہوگیا تھا تو میں ہرگز تیرے لئے دعا نہ کرتا ۔ (حجۃ اللہ علی العالمین جلد ۲ صفحہ ۸۶۳،چشتی)
گرتی ہوئی دیوار تھم گئی
❤1
حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ تعالیٰ عنہ راوی ہیں کہ ایک مرتبہ امیرالمؤمنین حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک دیوار کے سائے میں ایک مقدمہ کا فیصلہ فرمانے کے لیے بیٹھ گئے ۔ درمیان مقدمہ میں لوگوں نے شور مچایا کہ اے امیرالمؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ یہاں سے اٹھ جائيے یہ دیوار گررہی ہے ۔ آپ نے نہایت سکون واطمینان کے ساتھ فرمایا کہ مقدمہ کی کارروائی جاری رکھو۔اللہ تعالیٰ بہترین حافظ وناصرونگہبان ہے۔ چنانچہ اطمینان کے ساتھ آپ اس مقدمہ کا فیصلہ فرما کر جب وہاں سے چل دیئے تو فوراً ہی وہ دیوار گر گئی ۔ (ازالۃ الخفاء، مقصد ۲،ص۲۷۳) ۔ یہ روایت اس بات کی دلیل ہے کہ خداوند قدوس اپنے اولیاء کرام کو ایسی ایسی روحانی طاقتیں عطافرماتاہے کہ ان کے اشاروں سے گرتی ہوئی دیواریں تو کیا چیز ہیں؟ بہتے ہوئے دریاؤں کی روانی بھی ٹھہر جاتی ہے ۔
آپ کو جھوٹا کہنے والا اندھا ہوگیا
علی بن زاذان کا بیان ہے کہ امیر المؤمنین حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک مرتبہ کوئی بات ارشاد فرمائی تو ایک بد نصیب نے نہایت ہی بیباکی کے ساتھ یہ کہہ دیا کہ اے امیرالمؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ جھوٹے ہیں ۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ اے شخص ! اگر میں سچاہوں تو ضرور تو قہر الٰہی میں گرفتار ہو جائے گا ۔ اس گستاخ نے کہہ دیا کہ آپ میرے لیے بد دعا کردیجئے، مجھے اس کی پرواہ نہیں ہے ۔ ا س کے منہ سے ان الفاظ کا نکلنا تھا کہ بالکل ہی اچانک وہ شخص دونوں آنکھوں سے اندھا ہوگیا اور ادھر ادھر ہاتھ پاؤں مارنے لگا ۔ (ازالۃ الخفاء مقصد ۲ صفحہ نمبر ۲۷۳،چشتی)
کون کہاں مرے گا ؟ کہاں دفن ہوگا
حضرت اصبغ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ ایک مرتبہ امیرالمؤمنین حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ سفر میں میدان کربلا کے اندر ٹھیک اس جگہ پہنچے جہاں آج حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قبر انور بنی ہوئی ہے، توآپ نے فرمایا کہ اس جگہ آئندہ زمانے میں ایک آل رسول (رضی اللہ تعالیٰ عنہم)کا قافلہ ٹھہرے گا اوراس جگہ ان کے اونٹ بندھے ہوئے ہوں گے اوراسی میدان میں جوانان اہل بیت کی شہادت ہوگی اور اسی جگہ ان شہیدوں کا مدفن بنے گا اوران لوگوں پر آسمان وزمین روئیں گے ۔ (ازالۃ الخفاء مقصد ۲ صفحہ ۲۷۳ بحوالہ الریاض النضرۃ)
اس روایت سے پتہ چلتا ہے کہ اولیاء اللہ کو بذریعہ کشف برسوں بعد ہونے والے واقعات اورلوگوں کے حالات یہاں تک کہ لوگوں کی موت اورمدفن کی کیفیات کا علم حاصل ہوجاتاہے اوریہ درحقیقت علم غیب ہے جو اللہ تعالیٰ کے عطا فرمانے سے اولیاء کرام کو حاصل ہواکرتاہے اوریہ اولیاء کرام کی کرامت ہواکرتی ہے ۔
فرشتوں نے چکی چلائی
حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے مجھے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بلانے کے لیے ان کے مکان پر بھیجا تو میں نے وہاں یہ دیکھا کہ ان کے گھر میں چکی بغیر کسی چلانے والے کے خود بخود چل رہی ہے۔ جب میں نے بارگاہ رسالت میں اس عجیب کرامت کا تذکرہ کیا تو حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اے ابو ذررضی اللہ تعالیٰ عنہ اللہ تعالیٰ کے کچھ فرشتے ایسے بھی ہیں جو زمین میں سیر کرتے رہتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے ان فرشتوں کی یہ بھی ڈیوٹی فرما دی ہے کہ وہ میری آل کی امدادواعانت کرتے رہیں ۔ (ازالۃ الخفاء ، مقصد۲، صفحہ نمبر۲۷۳،چشتی)
اس روایت سے یہ سبق ملتاہے کہ حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کی آل پاک کو بارگاہ خداوندی میں اس قدر قرب اورمقبولیت حاصل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کچھ فرشتوں کو ان کی امدادونصرت اورحاجت برآری کے لئے خاص طورپر مقررفرمادیا ہے۔ یہ شرف حضرات اہل بیت کو حضوراقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کی نسبت خاصہ کی و جہ سے حاصل ہوا ہے۔ سبحان اللہ! سلطان مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کی عزت و عظمت اوران کے وقارواقتدارکا کیا کہنا ؟کہ آپ کے گھر والوں کی چکی فرشتے چلا یا کرتے تھے ۔
میں کب وفات پاؤں گا ؟
حضرت فضالہ بن ابی فضالہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما ارشاد فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ امیرالمؤمنین حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ مقام ”ینبع” میں بہت سخت بیمار ہوگئے تومیں اپنے والد کے ہمراہ ان کی عیادت کے لیے گیا ۔ دوران گفتگو میرے والد نے عرض کیا : اے امیرالمؤمنین!رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ اس وقت ایسی جگہ علالت کی حالت میں مقیم ہیں اگراس جگہ آپ کی وفات ہوگئی توقبیلہ ”جہینہ”کے گنواروں کے سوا اورکون آپ کی تجہیز و تکفین کریگا؟اس لیے میری گزارش ہے کہ آپ مدینہ منورہ تشریف لے چلیں کیونکہ وہاں اگر یہ حادثہ رونما ہوا تو وہاں آپ کے جاں نثار مہاجرین وانصاراور دوسرے مقدس صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم آپ کی نمازجنازہ پڑھیں گے اوریہ مقدس ہستیاں آپ کے کفن ودفن کا انتظام کریں گی۔ یہ سن کر آپ نے فرمایا کہ اے ابوفضالہ! تم اطمینان رکھو کہ میں اپنی بیماری میں ہرگز ہرگز وفات نہیں پاؤں گا۔ سن لو اس وقت تک ہر گز ہرگز میری
آپ کو جھوٹا کہنے والا اندھا ہوگیا
علی بن زاذان کا بیان ہے کہ امیر المؤمنین حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک مرتبہ کوئی بات ارشاد فرمائی تو ایک بد نصیب نے نہایت ہی بیباکی کے ساتھ یہ کہہ دیا کہ اے امیرالمؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ جھوٹے ہیں ۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ اے شخص ! اگر میں سچاہوں تو ضرور تو قہر الٰہی میں گرفتار ہو جائے گا ۔ اس گستاخ نے کہہ دیا کہ آپ میرے لیے بد دعا کردیجئے، مجھے اس کی پرواہ نہیں ہے ۔ ا س کے منہ سے ان الفاظ کا نکلنا تھا کہ بالکل ہی اچانک وہ شخص دونوں آنکھوں سے اندھا ہوگیا اور ادھر ادھر ہاتھ پاؤں مارنے لگا ۔ (ازالۃ الخفاء مقصد ۲ صفحہ نمبر ۲۷۳،چشتی)
کون کہاں مرے گا ؟ کہاں دفن ہوگا
حضرت اصبغ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ ایک مرتبہ امیرالمؤمنین حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ سفر میں میدان کربلا کے اندر ٹھیک اس جگہ پہنچے جہاں آج حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قبر انور بنی ہوئی ہے، توآپ نے فرمایا کہ اس جگہ آئندہ زمانے میں ایک آل رسول (رضی اللہ تعالیٰ عنہم)کا قافلہ ٹھہرے گا اوراس جگہ ان کے اونٹ بندھے ہوئے ہوں گے اوراسی میدان میں جوانان اہل بیت کی شہادت ہوگی اور اسی جگہ ان شہیدوں کا مدفن بنے گا اوران لوگوں پر آسمان وزمین روئیں گے ۔ (ازالۃ الخفاء مقصد ۲ صفحہ ۲۷۳ بحوالہ الریاض النضرۃ)
اس روایت سے پتہ چلتا ہے کہ اولیاء اللہ کو بذریعہ کشف برسوں بعد ہونے والے واقعات اورلوگوں کے حالات یہاں تک کہ لوگوں کی موت اورمدفن کی کیفیات کا علم حاصل ہوجاتاہے اوریہ درحقیقت علم غیب ہے جو اللہ تعالیٰ کے عطا فرمانے سے اولیاء کرام کو حاصل ہواکرتاہے اوریہ اولیاء کرام کی کرامت ہواکرتی ہے ۔
فرشتوں نے چکی چلائی
حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے مجھے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بلانے کے لیے ان کے مکان پر بھیجا تو میں نے وہاں یہ دیکھا کہ ان کے گھر میں چکی بغیر کسی چلانے والے کے خود بخود چل رہی ہے۔ جب میں نے بارگاہ رسالت میں اس عجیب کرامت کا تذکرہ کیا تو حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اے ابو ذررضی اللہ تعالیٰ عنہ اللہ تعالیٰ کے کچھ فرشتے ایسے بھی ہیں جو زمین میں سیر کرتے رہتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے ان فرشتوں کی یہ بھی ڈیوٹی فرما دی ہے کہ وہ میری آل کی امدادواعانت کرتے رہیں ۔ (ازالۃ الخفاء ، مقصد۲، صفحہ نمبر۲۷۳،چشتی)
اس روایت سے یہ سبق ملتاہے کہ حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کی آل پاک کو بارگاہ خداوندی میں اس قدر قرب اورمقبولیت حاصل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کچھ فرشتوں کو ان کی امدادونصرت اورحاجت برآری کے لئے خاص طورپر مقررفرمادیا ہے۔ یہ شرف حضرات اہل بیت کو حضوراقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کی نسبت خاصہ کی و جہ سے حاصل ہوا ہے۔ سبحان اللہ! سلطان مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کی عزت و عظمت اوران کے وقارواقتدارکا کیا کہنا ؟کہ آپ کے گھر والوں کی چکی فرشتے چلا یا کرتے تھے ۔
میں کب وفات پاؤں گا ؟
حضرت فضالہ بن ابی فضالہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما ارشاد فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ امیرالمؤمنین حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ مقام ”ینبع” میں بہت سخت بیمار ہوگئے تومیں اپنے والد کے ہمراہ ان کی عیادت کے لیے گیا ۔ دوران گفتگو میرے والد نے عرض کیا : اے امیرالمؤمنین!رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ اس وقت ایسی جگہ علالت کی حالت میں مقیم ہیں اگراس جگہ آپ کی وفات ہوگئی توقبیلہ ”جہینہ”کے گنواروں کے سوا اورکون آپ کی تجہیز و تکفین کریگا؟اس لیے میری گزارش ہے کہ آپ مدینہ منورہ تشریف لے چلیں کیونکہ وہاں اگر یہ حادثہ رونما ہوا تو وہاں آپ کے جاں نثار مہاجرین وانصاراور دوسرے مقدس صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم آپ کی نمازجنازہ پڑھیں گے اوریہ مقدس ہستیاں آپ کے کفن ودفن کا انتظام کریں گی۔ یہ سن کر آپ نے فرمایا کہ اے ابوفضالہ! تم اطمینان رکھو کہ میں اپنی بیماری میں ہرگز ہرگز وفات نہیں پاؤں گا۔ سن لو اس وقت تک ہر گز ہرگز میری
❤1
موت نہیں آسکتی جب تک کہ مجھے تلوار مار کرمیری پیشانی اورداڑھی کو خون سے رنگین نہ کردیا جائے ۔ (ازالۃ الخفاء، مقصد۲، ص۲۷۳،چشتی)
چنانچہ ایسا ہی ہواکہ بدبخت عبدالرحمن بن ملجم مرادی خارجی نے آپ کی مقدس پیشانی پر تلوار چلادی، جو آپ کی پیشانی کو کاٹتی ہوئی جبڑے تک پیوست ہوگئی۔ اس وقت آپکی زبان مبارک سے یہ جملہ ادا ہوا: فُزْتُ بِرَبِّ الْکَعْبَۃِ (یعنی کعبہ کے رب کی قسم! کہ میں کامیاب ہو گیا) اس زخم میں آپ شہادت کے شرف سے سرفراز ہوگئے اور آپ نے حضرت ابوفضالہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مقام ینبع میں جو فرمایا تھا وہ حرف بحرف صحیح ہوکررہا ۔
درِخیبرکا وزن
جنگ خیبر میں جب گھمسان کی جنگ ہونے لگی تو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ڈھال کٹ کر گرپڑی تو آپ نے جوش جہاد میں آگے بڑھ کر قلعہ خیبر کا پھاٹک اکھاڑ ڈالا اوراس کے ایک کواڑکو ڈھال بنا کراس پر دشمنوں کی تلواروں کو روکتے تھے ۔ یہ کواڑ اتنا بھاری اوروزنی تھا کہ جنگ کے خاتمہ کے بعد چالیس آدمی ملکر بھی اس کو نہ اٹھا سکے ۔ (زرقانی ج۲،ص۲۳۰)
کیا فاتح خیبرکے اس کارنامہ کو انسانی طاقت کی کارگزاری کہا جاسکتاہے؟ ہرگزہرگز نہیں ۔ یہ انسانی طاقت کا کارنامہ نہیں ہے بلکہ یہ روحانی طاقت کا ایک شاہکار ہے جو فقط اللہ والوں ہی کا حصہ ہے جس کو عرف عام میں کرامت کہا جاتاہے ۔
کٹاہوا ہاتھ جوڑدیا
روایت ہے کہ ایک حبشی غلام جو امیرالمؤمنین حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا انتہائی مخلص محب تھا، شامت اعمال سے اس نے ایک مرتبہ چوری کرلی، لوگوں نے اس کو پکڑ کر دربارخلافت میں پیش کردیا اورغلام نے اپنے جرم کا اقرار بھی کرلیا۔ امیرالمؤمنین حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کا ہاتھ کاٹ دیا۔ جب وہ اپنے گھر کو روانہ ہوا تو راستہ میں حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اورابن الکرا سے اس کی ملاقات ہوگئی ۔ ابن الکرا نے پوچھاکہ تمہارا ہاتھ کس نے کاٹا ؟ تو غلام نے کہا : امیرالمؤمنین ، داماد رسول وزوج بتول نے ۔ ابن الکرا نے کہا کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تمہارا ہاتھ کاٹ ڈالا پھر بھی تم اس قدر اعزاز و اکرام اور مدح و ثناء کے ساتھ ان کا نام لیتے ہو ؟ غلام نے کہا کہ کیا ہوا؟انہوں نے حق پر میرا ہاتھ کاٹا اورمجھے عذاب جہنم سے بچالیا۔ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دونوں کی گفتگو سنی اور امیرالمؤمنین حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اس کا تذکر ہ کیاتو امیر المؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس غلام کو بلوا کر اس کا کٹا ہوا ہاتھ اس کی کلائی پر رکھ کر رومال سے چھپا دیاپھر کچھ پڑھنا شروع کردیا۔ اتنے میں ایک غیبی آواز آئی کہ رومال ہٹا ؤ جب لوگوں نے رومال ہٹا یاتو غلام کا کٹا ہوا ہاتھ اس طرح کلائی سے جڑ گیا تھا کہ کہیں کٹنے کا نشان بھی نہیں تھا ۔ (تفسیر کبیر جلد ۵ صحہ ۴۷۹،چشتی)
شوہر ، عورت کا بیٹا نکلا
امیرالمؤ منین حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے کاشانہ خلافت سے کچھ دور ایک مسجد کے پہلو میں دومیاں بیوی رات بھر جھگڑا کرتے رہے ، صبح کوامیرالمؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دونوں کو بلا کر جھگڑے کا سبب دریافت فرمایا، شوہر نے عرض کیا :اے امیر المؤمنین! رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں کیا کروں ؟نکاح کے بعد مجھے اس عورت سے بے انتہا نفرت ہوگئی ، یہ دیکھ کر بیوی مجھ سے جھگڑا کرنے لگی، پھر بات بڑھ گئی اوررات بھر لڑائی ہوتی رہی ۔آپ نے تمام حاضرین دربارکوباہر نکال دیا اور عورت سے فرمایا کہ دیکھ میں تجھ سے جو سوال کروں اس کا سچ سچ جواب دینا۔ پھرآپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: اے عورت! تیرا نام یہ ہے ؟ تیرے باپ کا نام یہ ہے؟ عورت نے کہا کہ بالکل ٹھیک ٹھیک آپ نے بتایا۔ پھرآپ نے فرمایا کہ اے عورت تو یاد کر کہ تو زناکاری سے حاملہ ہوگئی تھی اورایک مدت تک تو اورتیری ماں اس حمل کو چھپاتی رہی۔ جب دردزہ شروع ہوا تو تیری ماں تجھے اس گھر سے باہر لے گئی اور جب بچہ پیدا ہوا تو اس کو ایک کپڑے میں لپیٹ کر تو نے میدان میں ڈال دیا۔ اتفاق سے ایک کتااس بچے کے پاس آیا۔ تیری ماں نے اس کتے کو پتھر مارا لیکن وہ پتھر بچے کو لگا اوراس کا سرپھٹ گیا تیری ماں کو بچے پر رحم آگیا اوراس نے بچے کے زخم پر پٹی باندھ دی۔ پھر تم دونوں وہاں سے بھاگ کھڑی ہوئیں۔ اس کے بعد اس بچے کی تم دونوں کو کچھ بھی خبر نہیں ملی۔ کیا یہ واقعہ سچ ہے؟ عورت نے کہا کہ ہاں! اے امیرالمؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ یہ پورا واقعہ حرف بحرف صحیح ہے۔ پھر آپ نے فرمایا کہ اے مرد!تو اپنا سرکھول کر اس کو دکھا دے ۔ مرد نے سرکھولا تو اس زخم کا نشان موجود تھا۔ اس کے بعد امیر المؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ اے عورت ! یہ مرد تیراشوہرنہیں ہے بلکہ تیرابیٹا ہے ، تم دونوں اللہ تعالیٰ کا شکر اداکروکہ اس نے تم دونوں کو حرام کاری سے بچالیا، اب تو اپنے اس بیٹے کو لے کراپنے گھر چلی جا ۔ (شواہدالنبوۃ،ص۱۶۱)
چنانچہ ایسا ہی ہواکہ بدبخت عبدالرحمن بن ملجم مرادی خارجی نے آپ کی مقدس پیشانی پر تلوار چلادی، جو آپ کی پیشانی کو کاٹتی ہوئی جبڑے تک پیوست ہوگئی۔ اس وقت آپکی زبان مبارک سے یہ جملہ ادا ہوا: فُزْتُ بِرَبِّ الْکَعْبَۃِ (یعنی کعبہ کے رب کی قسم! کہ میں کامیاب ہو گیا) اس زخم میں آپ شہادت کے شرف سے سرفراز ہوگئے اور آپ نے حضرت ابوفضالہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مقام ینبع میں جو فرمایا تھا وہ حرف بحرف صحیح ہوکررہا ۔
درِخیبرکا وزن
جنگ خیبر میں جب گھمسان کی جنگ ہونے لگی تو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ڈھال کٹ کر گرپڑی تو آپ نے جوش جہاد میں آگے بڑھ کر قلعہ خیبر کا پھاٹک اکھاڑ ڈالا اوراس کے ایک کواڑکو ڈھال بنا کراس پر دشمنوں کی تلواروں کو روکتے تھے ۔ یہ کواڑ اتنا بھاری اوروزنی تھا کہ جنگ کے خاتمہ کے بعد چالیس آدمی ملکر بھی اس کو نہ اٹھا سکے ۔ (زرقانی ج۲،ص۲۳۰)
کیا فاتح خیبرکے اس کارنامہ کو انسانی طاقت کی کارگزاری کہا جاسکتاہے؟ ہرگزہرگز نہیں ۔ یہ انسانی طاقت کا کارنامہ نہیں ہے بلکہ یہ روحانی طاقت کا ایک شاہکار ہے جو فقط اللہ والوں ہی کا حصہ ہے جس کو عرف عام میں کرامت کہا جاتاہے ۔
کٹاہوا ہاتھ جوڑدیا
روایت ہے کہ ایک حبشی غلام جو امیرالمؤمنین حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا انتہائی مخلص محب تھا، شامت اعمال سے اس نے ایک مرتبہ چوری کرلی، لوگوں نے اس کو پکڑ کر دربارخلافت میں پیش کردیا اورغلام نے اپنے جرم کا اقرار بھی کرلیا۔ امیرالمؤمنین حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کا ہاتھ کاٹ دیا۔ جب وہ اپنے گھر کو روانہ ہوا تو راستہ میں حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اورابن الکرا سے اس کی ملاقات ہوگئی ۔ ابن الکرا نے پوچھاکہ تمہارا ہاتھ کس نے کاٹا ؟ تو غلام نے کہا : امیرالمؤمنین ، داماد رسول وزوج بتول نے ۔ ابن الکرا نے کہا کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تمہارا ہاتھ کاٹ ڈالا پھر بھی تم اس قدر اعزاز و اکرام اور مدح و ثناء کے ساتھ ان کا نام لیتے ہو ؟ غلام نے کہا کہ کیا ہوا؟انہوں نے حق پر میرا ہاتھ کاٹا اورمجھے عذاب جہنم سے بچالیا۔ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دونوں کی گفتگو سنی اور امیرالمؤمنین حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اس کا تذکر ہ کیاتو امیر المؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس غلام کو بلوا کر اس کا کٹا ہوا ہاتھ اس کی کلائی پر رکھ کر رومال سے چھپا دیاپھر کچھ پڑھنا شروع کردیا۔ اتنے میں ایک غیبی آواز آئی کہ رومال ہٹا ؤ جب لوگوں نے رومال ہٹا یاتو غلام کا کٹا ہوا ہاتھ اس طرح کلائی سے جڑ گیا تھا کہ کہیں کٹنے کا نشان بھی نہیں تھا ۔ (تفسیر کبیر جلد ۵ صحہ ۴۷۹،چشتی)
شوہر ، عورت کا بیٹا نکلا
امیرالمؤ منین حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے کاشانہ خلافت سے کچھ دور ایک مسجد کے پہلو میں دومیاں بیوی رات بھر جھگڑا کرتے رہے ، صبح کوامیرالمؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دونوں کو بلا کر جھگڑے کا سبب دریافت فرمایا، شوہر نے عرض کیا :اے امیر المؤمنین! رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں کیا کروں ؟نکاح کے بعد مجھے اس عورت سے بے انتہا نفرت ہوگئی ، یہ دیکھ کر بیوی مجھ سے جھگڑا کرنے لگی، پھر بات بڑھ گئی اوررات بھر لڑائی ہوتی رہی ۔آپ نے تمام حاضرین دربارکوباہر نکال دیا اور عورت سے فرمایا کہ دیکھ میں تجھ سے جو سوال کروں اس کا سچ سچ جواب دینا۔ پھرآپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: اے عورت! تیرا نام یہ ہے ؟ تیرے باپ کا نام یہ ہے؟ عورت نے کہا کہ بالکل ٹھیک ٹھیک آپ نے بتایا۔ پھرآپ نے فرمایا کہ اے عورت تو یاد کر کہ تو زناکاری سے حاملہ ہوگئی تھی اورایک مدت تک تو اورتیری ماں اس حمل کو چھپاتی رہی۔ جب دردزہ شروع ہوا تو تیری ماں تجھے اس گھر سے باہر لے گئی اور جب بچہ پیدا ہوا تو اس کو ایک کپڑے میں لپیٹ کر تو نے میدان میں ڈال دیا۔ اتفاق سے ایک کتااس بچے کے پاس آیا۔ تیری ماں نے اس کتے کو پتھر مارا لیکن وہ پتھر بچے کو لگا اوراس کا سرپھٹ گیا تیری ماں کو بچے پر رحم آگیا اوراس نے بچے کے زخم پر پٹی باندھ دی۔ پھر تم دونوں وہاں سے بھاگ کھڑی ہوئیں۔ اس کے بعد اس بچے کی تم دونوں کو کچھ بھی خبر نہیں ملی۔ کیا یہ واقعہ سچ ہے؟ عورت نے کہا کہ ہاں! اے امیرالمؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ یہ پورا واقعہ حرف بحرف صحیح ہے۔ پھر آپ نے فرمایا کہ اے مرد!تو اپنا سرکھول کر اس کو دکھا دے ۔ مرد نے سرکھولا تو اس زخم کا نشان موجود تھا۔ اس کے بعد امیر المؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ اے عورت ! یہ مرد تیراشوہرنہیں ہے بلکہ تیرابیٹا ہے ، تم دونوں اللہ تعالیٰ کا شکر اداکروکہ اس نے تم دونوں کو حرام کاری سے بچالیا، اب تو اپنے اس بیٹے کو لے کراپنے گھر چلی جا ۔ (شواہدالنبوۃ،ص۱۶۱)
❤1
ان دونوں مستند کرامتوں کو بغور پڑھیے اور ایمان رکھيے کہ اللہ عز و جل کے اولیاء کرام علیہم الرّحمہ عام انسانوں کی طرح نہیں ہوا کرتے بلکہ اللہ تعالیٰ اپنے ان محبوب بندوں کو ایسی ایسی روحانی طاقتوں کا بادشاہ بلکہ شہنشاہ بنا دیتا ہے کہ ان بزرگوں کے تصرفات اور ان کی روحانی طاقتوں اورقدرتوں کی منزل بلند تک کسی بڑے سے بڑے فلسفی کی عقل وفہم کی بھی رسائی نہیں ہو سکتی ۔
اللہ کی قسم میں حیران ہوں کہ کتنے بڑے جاہل یا متجاہل ہیں وہ لوگ جو اولیاء کرام علیہم الرّحمہ کو بالکل اپنے ہی جیسا سمجھ کران کے ساتھ برابری کادعوی کرتے ہیں اور اولیاء کرام کے تصرفات کا چلا چلا کر انکار کرتے پھرتے ہیں تعجب ہے کہ ایسے ایسے واقعات جو نور ہدایت کے چاند تارے ہیں ان منکروں کی نگاہ سے آج تک اوجھل ہی ہیں مگر اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں ، جو دونوں ہاتھوں سے اپنی آنکھوں کو بند کرلے اس کو چاند ستارے تو کیا سورج کی روشنی بھی نظر نہیں آسکتی ۔درحقیقت اولیاء کرام کے منکرین کا یہی حال ہے ۔
ذرا دیر میں قرآن کریم ختم کرلیتے
یہ کرامت روایات صحیحہ سے ثابت کہ آپ گھوڑے پر سوا رہوتے وقت ایک پاؤں رکاب میں رکھتے اور قرآن مجید شروع کرتے اوردوسراپاؤں رکاب میں رکھ کر گھوڑے کی زین پر بیٹھنے تک اتنی دیر میں ایک قرآن مجید ختم کرلیا کرتے تھے ۔ (شواہد النبوۃ صفحہ ۱۶۰،چشتی)
اشارہ سے دریا کی طغیانی ختم
ایک مرتبہ نہر فرات میں ایسی خوفناک طغیانی آگئی کہ سیلاب میں تمام کھیتیاں غرقاب ہوگئیں لوگوں نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دربار گوہر بار میں فریاد کی ۔ آپ فوراً ہی اٹھ کھڑے ہوئے اوررسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کا جبہ مبارکہ وعمامہ مقدسہ وچادر مبارکہ زیب تن فرما کر گھوڑے پر سوار ہوئے اورآدمیوں کی ایک جماعت جس میں حضرت امام حسن وامام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہما بھی تھے ، آپ کے ساتھ چل پڑے ۔ آپ نے پل پر پہنچ کر اپنے عصاء سے نہر فرات کی طرف اشارہ کیا تو نہر کا پانی ایک گز کم ہوگیا ۔ پھر دوسری مرتبہ اشارہ فرمایا تو مزید ایک گز کم ہوگیا جب تیسری بار اشارہ کیا تو تین گز پانی اتر گیا اور سیلاب ختم ہوگیا۔ لوگوں نے شور مچایا کہ امیر المؤمنین!رضی اللہ تعالیٰ عنہ بس کیجئے یہی کافی ہے ۔ (شواہدالنبوۃ صفحہ ۱۶۲،چشتی)
جاسوس اندھا ہوگیا
ایک شخص آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس رہ کر جاسوسی کیا کرتا تھا اورآپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خفیہ خبریں آپ کے مخالفین کو پہنچایا کرتا تھا۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جب اس سے دریافت فرمایا تو وہ شخص قسمیں کھانے لگا اوراپنی برأت ظاہر کرنے لگا۔ آپ نے جلال میں آکر فرمایا کہ اگر تو جھوٹا ہے تواللہ تعالیٰ تیری آنکھوں کی روشنی چھین لے۔ ایک ہفتہ بھی نہیں گزرا تھا کہ یہ شخص اندھا ہوگیا اورلوگ اس کولاٹھی پکڑاکر چلانے لگے ۔ (شواہد النبوۃ صفحہ ۱۶۷)
تمہاری موت کس طرح ہوگی ؟
ایک شخص آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا تو آپ نے اس کو اس کے حالات بتا کر یہ بتایا کہ تم کو فلاں کھجور کے درخت پر پھانسی دی جائے گی۔ چنانچہ اس شخص کے بارے میں جو کچھ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا تھاوہ حرف بحرف درست نکلا اورآپ کی پیش گوئی پوری ہوکر رہی ۔ (شواہد النبوۃ صفحہ ۱۶۲،چشتی)
پتھر اٹھایا تو چشمہ اُبل پڑا
مقام صفین کو جاتے ہوئے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا لشکر ایک ایسے میدان سے گزرا جہاں پانی نایاب تھا،پورا لشکر پیاس کی شدت سے بے تاب ہوگیا۔وہاں کے گرجا گھر میں ایک راہب رہتا تھا ۔ اس نے بتایا کہ یہاں سے دو کوس کے فاصلے پر پانی مل سکے گا۔ کچھ لوگوں نے اجازت طلب کی تاکہ وہاں سے جاکر پانی پئیں ،یہ سنکر آپ اپنے خچر پر سوار ہوگئے اورایک جگہ کی طرف اشارہ فرمایا کہ اس جگہ تم لوگ زمین کو کھودو۔ چنانچہ لوگوں نے زمین کی کھدائی شروع کردی تو ایک پتھر ظاہر ہوا ۔ لوگوں نے اس پتھر کو نکالنے کی انتہائی کوشش کی لیکن تمام آلات بے کار ہوگئے اوروہ پتھر نہ نکل سکا۔ یہ دیکھ کر آپ کو جلال آگیا اور آپ نے اپنی سواری سے اتر کر آستین چڑھائی اور دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو اس پتھرکی دراز میں ڈال کر زور لگایاتو وہ پتھر نکل پڑا اور اس کے نیچے سے ایک نہایت ہی صاف شفاف اورشیریں پانی کا چشمہ ظاہر ہوگیا اورتمام لشکر اس پانی سے سیراب ہوگیا۔ لوگوں نے اپنے جانوروں کو بھی پلایا اور لشکر کی تمام مشکوں کو بھی بھر لیا، پھرآپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس پتھر کو اس کی جگہ پررکھ دیا ۔ گرجا گھر کا عیسائی راہب آپ کی یہ کرامت دیکھ کر سامنے آیا اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے دریافت کیا کہ کیا آ پ فرشتہ ہیں ؟ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: نہیں ۔اس نے پوچھا: کیا آپ نبی ہیں ؟ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمای ا: نہیں ۔ اس نے کہا: پھر آپ کون ہیں ؟ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا : میں پیغمبرِ مرسل حضرت محمدبن عبد اللہ خاتم النبیین صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کا صحابی ہوں اور مجھ کو نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ
اللہ کی قسم میں حیران ہوں کہ کتنے بڑے جاہل یا متجاہل ہیں وہ لوگ جو اولیاء کرام علیہم الرّحمہ کو بالکل اپنے ہی جیسا سمجھ کران کے ساتھ برابری کادعوی کرتے ہیں اور اولیاء کرام کے تصرفات کا چلا چلا کر انکار کرتے پھرتے ہیں تعجب ہے کہ ایسے ایسے واقعات جو نور ہدایت کے چاند تارے ہیں ان منکروں کی نگاہ سے آج تک اوجھل ہی ہیں مگر اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں ، جو دونوں ہاتھوں سے اپنی آنکھوں کو بند کرلے اس کو چاند ستارے تو کیا سورج کی روشنی بھی نظر نہیں آسکتی ۔درحقیقت اولیاء کرام کے منکرین کا یہی حال ہے ۔
ذرا دیر میں قرآن کریم ختم کرلیتے
یہ کرامت روایات صحیحہ سے ثابت کہ آپ گھوڑے پر سوا رہوتے وقت ایک پاؤں رکاب میں رکھتے اور قرآن مجید شروع کرتے اوردوسراپاؤں رکاب میں رکھ کر گھوڑے کی زین پر بیٹھنے تک اتنی دیر میں ایک قرآن مجید ختم کرلیا کرتے تھے ۔ (شواہد النبوۃ صفحہ ۱۶۰،چشتی)
اشارہ سے دریا کی طغیانی ختم
ایک مرتبہ نہر فرات میں ایسی خوفناک طغیانی آگئی کہ سیلاب میں تمام کھیتیاں غرقاب ہوگئیں لوگوں نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دربار گوہر بار میں فریاد کی ۔ آپ فوراً ہی اٹھ کھڑے ہوئے اوررسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کا جبہ مبارکہ وعمامہ مقدسہ وچادر مبارکہ زیب تن فرما کر گھوڑے پر سوار ہوئے اورآدمیوں کی ایک جماعت جس میں حضرت امام حسن وامام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہما بھی تھے ، آپ کے ساتھ چل پڑے ۔ آپ نے پل پر پہنچ کر اپنے عصاء سے نہر فرات کی طرف اشارہ کیا تو نہر کا پانی ایک گز کم ہوگیا ۔ پھر دوسری مرتبہ اشارہ فرمایا تو مزید ایک گز کم ہوگیا جب تیسری بار اشارہ کیا تو تین گز پانی اتر گیا اور سیلاب ختم ہوگیا۔ لوگوں نے شور مچایا کہ امیر المؤمنین!رضی اللہ تعالیٰ عنہ بس کیجئے یہی کافی ہے ۔ (شواہدالنبوۃ صفحہ ۱۶۲،چشتی)
جاسوس اندھا ہوگیا
ایک شخص آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس رہ کر جاسوسی کیا کرتا تھا اورآپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خفیہ خبریں آپ کے مخالفین کو پہنچایا کرتا تھا۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جب اس سے دریافت فرمایا تو وہ شخص قسمیں کھانے لگا اوراپنی برأت ظاہر کرنے لگا۔ آپ نے جلال میں آکر فرمایا کہ اگر تو جھوٹا ہے تواللہ تعالیٰ تیری آنکھوں کی روشنی چھین لے۔ ایک ہفتہ بھی نہیں گزرا تھا کہ یہ شخص اندھا ہوگیا اورلوگ اس کولاٹھی پکڑاکر چلانے لگے ۔ (شواہد النبوۃ صفحہ ۱۶۷)
تمہاری موت کس طرح ہوگی ؟
ایک شخص آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا تو آپ نے اس کو اس کے حالات بتا کر یہ بتایا کہ تم کو فلاں کھجور کے درخت پر پھانسی دی جائے گی۔ چنانچہ اس شخص کے بارے میں جو کچھ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا تھاوہ حرف بحرف درست نکلا اورآپ کی پیش گوئی پوری ہوکر رہی ۔ (شواہد النبوۃ صفحہ ۱۶۲،چشتی)
پتھر اٹھایا تو چشمہ اُبل پڑا
مقام صفین کو جاتے ہوئے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا لشکر ایک ایسے میدان سے گزرا جہاں پانی نایاب تھا،پورا لشکر پیاس کی شدت سے بے تاب ہوگیا۔وہاں کے گرجا گھر میں ایک راہب رہتا تھا ۔ اس نے بتایا کہ یہاں سے دو کوس کے فاصلے پر پانی مل سکے گا۔ کچھ لوگوں نے اجازت طلب کی تاکہ وہاں سے جاکر پانی پئیں ،یہ سنکر آپ اپنے خچر پر سوار ہوگئے اورایک جگہ کی طرف اشارہ فرمایا کہ اس جگہ تم لوگ زمین کو کھودو۔ چنانچہ لوگوں نے زمین کی کھدائی شروع کردی تو ایک پتھر ظاہر ہوا ۔ لوگوں نے اس پتھر کو نکالنے کی انتہائی کوشش کی لیکن تمام آلات بے کار ہوگئے اوروہ پتھر نہ نکل سکا۔ یہ دیکھ کر آپ کو جلال آگیا اور آپ نے اپنی سواری سے اتر کر آستین چڑھائی اور دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو اس پتھرکی دراز میں ڈال کر زور لگایاتو وہ پتھر نکل پڑا اور اس کے نیچے سے ایک نہایت ہی صاف شفاف اورشیریں پانی کا چشمہ ظاہر ہوگیا اورتمام لشکر اس پانی سے سیراب ہوگیا۔ لوگوں نے اپنے جانوروں کو بھی پلایا اور لشکر کی تمام مشکوں کو بھی بھر لیا، پھرآپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس پتھر کو اس کی جگہ پررکھ دیا ۔ گرجا گھر کا عیسائی راہب آپ کی یہ کرامت دیکھ کر سامنے آیا اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے دریافت کیا کہ کیا آ پ فرشتہ ہیں ؟ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: نہیں ۔اس نے پوچھا: کیا آپ نبی ہیں ؟ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمای ا: نہیں ۔ اس نے کہا: پھر آپ کون ہیں ؟ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا : میں پیغمبرِ مرسل حضرت محمدبن عبد اللہ خاتم النبیین صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کا صحابی ہوں اور مجھ کو نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ
❤1
والہ وسلم نے چند باتوں کی وصیت بھی فرمائی ہے۔ یہ سن کر وہ عیسائی راہب کلمہ شریف پڑھ کر مشرف بہ اسلام ہوگیا ۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا : تم نے اتنی مدت تک اسلام کیوں قبول نہیں کیا تھا ؟ راہب نے کہا کہ ہماری کتابوں میں یہ لکھا ہوا ہے کہ اس گرجا گھر کے قریب جو ایک چشمہ پوشیدہ ہے اوراس چشمہ کو وہی شخص ظاہر کریگا جو یاتو نبی ہوگا یا نبی کا صحابی ہوگا ۔ چنانچہ میں اور مجھ سے پہلے بہت سے راہب اس گرجا گھر میں اسی انتظار میں مقیم رہے ۔ اب آج آپ نے یہ چشمہ ظاہر کردیا تو میری مراد برآئی ۔ اس لئے میں نے آپ کے دین کو قبول کرلیا ۔راہب کی تقریرسن کر آپ روپڑے اور اس قدر روئے کہ آپ کی ریش مبارک آنسوؤں سے تر ہوگئی اورپھر آپ نے ارشاد فرمایا:الحمد للہ! عزوجل کہ ان لوگوں کی کتابوں میں بھی میرا ذکر ہے۔ یہ راہب مسلمان ہوکر آپ کے خادموں میں شامل ہوگیااورآپ کے لشکر میں داخل ہوکر شامیوں سے جنگ کرتے ہوئے شہید ہوگیا اور آپ نے اس کو اپنے دست مبارک سے دفن کیا اور اس کے لیے مغفرت کی دعا فرمائی ۔
(شواہد النبوۃ صفحہ نمبر ۱۶۴)۔
(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)
(شواہد النبوۃ صفحہ نمبر ۱۶۴)۔
(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)
❤1
https://t.me/islaamic_Knowledge/24676
فضائل و مناقب حضرت مولا علی
شیر خدا رضی اللہ تعالیٰ عنہ
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/287281996841180/
✍ #ڈاکٹر_فیض_احمد_چشتی
فضائل و مناقب حضرت مولا علی
شیر خدا رضی اللہ تعالیٰ عنہ
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/287281996841180/
✍ #ڈاکٹر_فیض_احمد_چشتی
❤1
خصائص و کمالات حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/287886930114020/
محترم قارئینِ کرام : مولائے کائنات سیدنا علی مرتضی رضی اللہ عنہ کو اللہ تعالی نے بے پناہ خصائص و امتیازات سے ممتاز فرمایا ، آپ کو فضائل و کمالات کا جامع علوم و معارف کا منبعِ رشد و ہدایت کا مصدر ، زہد و ورع ، شجاعت وسخاوت کا پیکر اور مرکز ولایت بنایا ، آپ کی شان و عظمت کے بیان میں متعدد آیات قرآنیہ ناطق اور بے شمار احادیث کریمہ وارد ہیں ۔
حضرت مولا علی رضی اللہ تعالی عنہ کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ ولادت باکرامت کے بعد سب سے پہلے آپ نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے رخ زیبا کا دیدار کیا ہے ، چونکہ آپ نے ولادت کے بعد سب سے پہلے حضور کا چہرۂ مبارک دیکھا اس کی برکت یہ ہوئی کہ آپ کا چہرہ دیکھنا بھی عبادت قرار پایا،جیسا کہ مستدرک علی الصحیحین میں حدیث مبارک ہے : عَنْ عَبْدِﷲِ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ ﷲِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :النَّظْرُ إِلٰی وَجْهِ عَلِیٍّ عِبَادَةٌ -
ترجمہ : سیدنا عبد ﷲ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ نے فرمایا کہ حضرت رسول اکر م صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرما یا :علی (رضی اللہ تعالی عنہ ) کے چہرہ کو دیکھنا عبادت ہے ۔ (المستدرک علی الصحیحین، کتاب معرفۃ الصحابۃ رضی اللہ عنہم، حدیث نمبر:4665،چشتی)
حضرت مولائے کائنات رضی اللہ تعالی عنہ کو یہ فضیلت بھی حاصل ہے کہ صاحبزادوں میں سب سے پہلے آپ ہی نے اسلام قبول کیا ،جیساکہ جامع ترمذی شریف میں حدیث مبارک ہے : عَنْ ابِي حَمْزَةَ رَجُلٍ مِنَ الْانْصَارِ، قَالَ : سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ ارْقَمَ يَقُوْل:اوَّلُ مَنْ اَسْلَمَ عَلِیٌّ . ترجمہ : ایک انصاری صحابی حضرت ابو حمزہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا : میں نے حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ (صاحبزادوں میں)سب سے پہلے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا ۔ (جامع الترمذی ،ابواب المناقب، باب مناقب علی بن أبی طالب رضی اللہ عنہ. حدیث نمبر:4100)
اسی جامع ترمذی شریف میں روایت ہے : عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، قَالَ بُعِثَ النَّبِیُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْإِثْنَيْنِ وَصَلَّی عَلِیٌّ يَوْمَ الثُّلَاثَاءِ ۔
ترجمہ : سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،آپ نے فرمایاکہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوشنبہ کو اعلان نبوت فرمایا اور سہ شنبہ کو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے نماز ادا فرمائی ۔ (جامع الترمذی ،ابواب المناقب، باب مناقب علی بن أبی طالب رضی اللہ عنہ. حدیث نمبر: 4094)
حضراتِ اہل بیت کرام وصحابۂ عظام رضی اللہ عنہم سے عقیدت ومحبت ، سعادت دنیوی کا ذریعہ اور نجات اخروی کا باعث ہے،چونکہ حضرت مولائے کائنات رضی اللہ عنہ اہل بیت ہونے کے شرف سے بھی مشرف ہیں اور صحابیت کے اعزاز سے بھی معزز ہیں اسی لیے آپ سے دو جہتوں سے محبت کی جائے ۔
آپ کی شان وعظمت اور حضور سے کمال قربت کا اندازہ صحیح بخاری شریف میں وارد حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد مبارک سے ہوتا ہے آپ نے فرمایا : اَنْتَ مِنِّی وَاَنَا مِنْکَ ۔ ترجمہ : اے علی !تم مجھ سے ہو اور میں تم سے ہوں ۔ (صحیح البخاری،کتاب فضائل الصحابۃ، باب مناقب علی بن أبی طالب القرشی الہاشمی أبی الحسن رضی اللہ عنہ،حدیث نمبر:2699 ،چشتی)
حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا عقد نکاح ، خاتون جنت سیدہ فاطمۃ الزھراء رضی اللہ عنہا سے ہوا۔معجم کبیر طبرانی میں حدیث مبارک ہے : عَنْ عَبْدِ ﷲِ بْنِ مَسْعُوْدٍ رَضِیَ ﷲُ عَنْہُ، عَنْ رَسُوْلِ ﷲِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِنَّ ﷲَ أَمَرَنِیْ أَنْ أُزَوِّجَ فَاطِمَۃَ مِنْ عَلِیٍّ ۔
ترجمہ : حضرت عبداللہ بن مسعود رضی ﷲ عنہ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے ارشاد فرمایا بیشک اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم فرمایا کہ میں فاطمہ (رضی اللہ تعالی عنہا) کا نکاح علی (رضی اللہ تعالی عنہ) سے کراؤں ۔ (المعجم الکبیر للطبرانی،ج،8،ص،497،حدیث نمبر:10152،چشتی)
حضرات اہل بیت کرام وصحابۂ عظام اور بزرگان دین کا نام ذکر کرتے وقت بطور اکرام رضی اللہ تعالی عنہ اور رحمۃ اللہ تعالی علیہ کہا جاتا ہے،حضرت مولائے کائنات رضی اللہ تعالی عنہ کے نام مبارک کے ساتھ ان عمومی کلمات کے علاوہ بطور خاص"کرم اللہ وجہہ" کہا جاتا ہے ، اس کی وجہ نور الابصار میں اس طرح بیان کی گئی ہے : (وامہ) فاطمۃ بنت اسد بن ہاشم بن عبد مناف۔۔۔۔ انہا کانت اذا ارادت ان تسجد لصنم وعلی رضی اللہ تعالی عنہ فی بطنہا لم یمکنہا یضع رجلہ علی بطنہا ویلصق ظہرہ بظہرہا ویمنعہا من ذلک؛ولذلک یقال عند ذکرہ"کرم اللہ وجہہ"۔
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/287886930114020/
محترم قارئینِ کرام : مولائے کائنات سیدنا علی مرتضی رضی اللہ عنہ کو اللہ تعالی نے بے پناہ خصائص و امتیازات سے ممتاز فرمایا ، آپ کو فضائل و کمالات کا جامع علوم و معارف کا منبعِ رشد و ہدایت کا مصدر ، زہد و ورع ، شجاعت وسخاوت کا پیکر اور مرکز ولایت بنایا ، آپ کی شان و عظمت کے بیان میں متعدد آیات قرآنیہ ناطق اور بے شمار احادیث کریمہ وارد ہیں ۔
حضرت مولا علی رضی اللہ تعالی عنہ کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ ولادت باکرامت کے بعد سب سے پہلے آپ نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے رخ زیبا کا دیدار کیا ہے ، چونکہ آپ نے ولادت کے بعد سب سے پہلے حضور کا چہرۂ مبارک دیکھا اس کی برکت یہ ہوئی کہ آپ کا چہرہ دیکھنا بھی عبادت قرار پایا،جیسا کہ مستدرک علی الصحیحین میں حدیث مبارک ہے : عَنْ عَبْدِﷲِ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ ﷲِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :النَّظْرُ إِلٰی وَجْهِ عَلِیٍّ عِبَادَةٌ -
ترجمہ : سیدنا عبد ﷲ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ نے فرمایا کہ حضرت رسول اکر م صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرما یا :علی (رضی اللہ تعالی عنہ ) کے چہرہ کو دیکھنا عبادت ہے ۔ (المستدرک علی الصحیحین، کتاب معرفۃ الصحابۃ رضی اللہ عنہم، حدیث نمبر:4665،چشتی)
حضرت مولائے کائنات رضی اللہ تعالی عنہ کو یہ فضیلت بھی حاصل ہے کہ صاحبزادوں میں سب سے پہلے آپ ہی نے اسلام قبول کیا ،جیساکہ جامع ترمذی شریف میں حدیث مبارک ہے : عَنْ ابِي حَمْزَةَ رَجُلٍ مِنَ الْانْصَارِ، قَالَ : سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ ارْقَمَ يَقُوْل:اوَّلُ مَنْ اَسْلَمَ عَلِیٌّ . ترجمہ : ایک انصاری صحابی حضرت ابو حمزہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا : میں نے حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ (صاحبزادوں میں)سب سے پہلے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا ۔ (جامع الترمذی ،ابواب المناقب، باب مناقب علی بن أبی طالب رضی اللہ عنہ. حدیث نمبر:4100)
اسی جامع ترمذی شریف میں روایت ہے : عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، قَالَ بُعِثَ النَّبِیُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْإِثْنَيْنِ وَصَلَّی عَلِیٌّ يَوْمَ الثُّلَاثَاءِ ۔
ترجمہ : سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،آپ نے فرمایاکہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوشنبہ کو اعلان نبوت فرمایا اور سہ شنبہ کو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے نماز ادا فرمائی ۔ (جامع الترمذی ،ابواب المناقب، باب مناقب علی بن أبی طالب رضی اللہ عنہ. حدیث نمبر: 4094)
حضراتِ اہل بیت کرام وصحابۂ عظام رضی اللہ عنہم سے عقیدت ومحبت ، سعادت دنیوی کا ذریعہ اور نجات اخروی کا باعث ہے،چونکہ حضرت مولائے کائنات رضی اللہ عنہ اہل بیت ہونے کے شرف سے بھی مشرف ہیں اور صحابیت کے اعزاز سے بھی معزز ہیں اسی لیے آپ سے دو جہتوں سے محبت کی جائے ۔
آپ کی شان وعظمت اور حضور سے کمال قربت کا اندازہ صحیح بخاری شریف میں وارد حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد مبارک سے ہوتا ہے آپ نے فرمایا : اَنْتَ مِنِّی وَاَنَا مِنْکَ ۔ ترجمہ : اے علی !تم مجھ سے ہو اور میں تم سے ہوں ۔ (صحیح البخاری،کتاب فضائل الصحابۃ، باب مناقب علی بن أبی طالب القرشی الہاشمی أبی الحسن رضی اللہ عنہ،حدیث نمبر:2699 ،چشتی)
حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا عقد نکاح ، خاتون جنت سیدہ فاطمۃ الزھراء رضی اللہ عنہا سے ہوا۔معجم کبیر طبرانی میں حدیث مبارک ہے : عَنْ عَبْدِ ﷲِ بْنِ مَسْعُوْدٍ رَضِیَ ﷲُ عَنْہُ، عَنْ رَسُوْلِ ﷲِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِنَّ ﷲَ أَمَرَنِیْ أَنْ أُزَوِّجَ فَاطِمَۃَ مِنْ عَلِیٍّ ۔
ترجمہ : حضرت عبداللہ بن مسعود رضی ﷲ عنہ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے ارشاد فرمایا بیشک اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم فرمایا کہ میں فاطمہ (رضی اللہ تعالی عنہا) کا نکاح علی (رضی اللہ تعالی عنہ) سے کراؤں ۔ (المعجم الکبیر للطبرانی،ج،8،ص،497،حدیث نمبر:10152،چشتی)
حضرات اہل بیت کرام وصحابۂ عظام اور بزرگان دین کا نام ذکر کرتے وقت بطور اکرام رضی اللہ تعالی عنہ اور رحمۃ اللہ تعالی علیہ کہا جاتا ہے،حضرت مولائے کائنات رضی اللہ تعالی عنہ کے نام مبارک کے ساتھ ان عمومی کلمات کے علاوہ بطور خاص"کرم اللہ وجہہ" کہا جاتا ہے ، اس کی وجہ نور الابصار میں اس طرح بیان کی گئی ہے : (وامہ) فاطمۃ بنت اسد بن ہاشم بن عبد مناف۔۔۔۔ انہا کانت اذا ارادت ان تسجد لصنم وعلی رضی اللہ تعالی عنہ فی بطنہا لم یمکنہا یضع رجلہ علی بطنہا ویلصق ظہرہ بظہرہا ویمنعہا من ذلک؛ولذلک یقال عند ذکرہ"کرم اللہ وجہہ"۔
❤1
ترجمہ : سیدنا علی مرتضی رضی اللہ تعالی عنہ کی والدۂ محترمہ کا نام مبارک حضرت"فاطمہ بنت اسد بن ہاشم بن عبد مناف"رضی اللہ عنہم ہے۔ جب کبھی وہ کسی بت کے آگے سجدہ کرنے کا ارادہ کرتیں ؛ جبکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ آپ کے شکم میں تھے وہ سجدہ نہیں کرپاتی تھیں،کیونکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اپنے قدم ان کے شکم مبارک سے چمٹا دیتے اور اپنی پیٹھ ان کی پیٹھ سے لگادیتے اور انہیں سجدہ کرنے سے روک دیتے،یہی وجہ ہے کہ جب بھی آپ کا مبارک تذکرہ کیا جاتا ہے تو "کرم اللہ وجہہ" (اللہ تعالی آپ کے چہرۂ انور کو باکرامت رکھے) کہا جاتاہے ۔ (نورالابصار فی مناقب آل بیت النبی المختار صلی اللہ علیہ والہ وسلم صفحہ 85)
حضرت مولائے کائنات رضی اللہ عنہ کی ہستی اللہ تعالی اور اس کے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں ایسی مقبول ہے کہ آپ سے محبت کرنے والے کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا محبوب قرار دیا اور آپ سے بغض رکھنے کواپنی ناراضگی قرار دیا ‘ جیساکہ معجم کبیر طبرانی میں حدیث مبارک ہے : عَنْ سَلْمَانَ، أَنّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، قَالَ لِعَلِیٍّ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالَی عَنْہُ:"مُحِبُّکَ مُحِبِّی، ومُبْغِضُکَ مُبْغِضِی" ۔ ترجمہ : سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی مرتضی رضی اللہ عنہ سے ارشاد فرمایا :(ائے علی) تم سے محبت کرنے والا مجھ سے محبت کرنے والا ہے اور تم سے بغض رکھنے والا مجھ سے بغض رکھنے والا ہے ۔ (المعجم الکبیر للطبرانی،ج،6،ص،47، حدیث نمبر:5973،چشتی)
حضرت علی مرتضی رضی اللہ عنہ کی ذات گرامی چونکہ اللہ تعالی کو بھی محبوب ہے اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو بھی محبوب ہے ،اسی لئے کائنات کا ذرہ ذرہ آپ سے محبت کرتا ہے،اور اللہ تعالی اس محبت کرنے والے کو دنیا میں بھی نوازتا ہے اور آخرت میں بھی سرفراز فرماتا ہے،علامہ امام طبری رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے اپنی کتاب الریاض النضرۃ میں روایت نقل کی ہے : وعن أنس رضی اللہ عنہ قال: دفع علی بن أبی طالب إلی بلال درہما یشتری بہ بطیخا؛ قال: فاشتریت بہ فأخذ بطیخۃ فقورہا فوجدہا مرۃ فقال یا بلال رد ہذا إلی صاحبہ، وائتنی بالدرہم فإن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال لی : إن اللہ أخذ حبک علی البشر والشجر والثمر والبذر فما أجاب إلی حبک عذب وطاب وما لم یجب خبث ومر " . وأنی أظن ہذا مما لم یجب .
ترجمہ : سیدناانس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،آپ نے فرمایا کہ ایک مرتبہ سیدناعلی مرتضی رضی اللہ عنہ نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو خربوز ہ خریدنے کےلیے ایک درہم عطا فرمایا،حضرت بلال نے فرمایا کہ میں ایک خربوزہ آپ کی خدمت میں پیش کیا،جب آپ نے اسے کاٹا تو اسے کڑوا پایا،آپ نے ارشاد فرمایا :ائے بلال!جس شخص کے پاس سے یہ لائے ہو ؛ اسی کو واپس کردو!اوردرہم میرے پاس واپس لاؤ! کیونکہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے مجھ سے ارشاد فرمایا:بیشک اللہ تعالی نے تمہاری محبت کا عہد ہر انسان،درخت،پھل اور ہر بیج سے لیا ہے ،تو جس نے تمہاری محبت کو اپنے دل میں سمالیا وہ شیریں و پاکیزہ ہوگیا اورجس نے تمہاری محبت کو قبول نہ کیا وہ پلید اور کڑوا ہوگیا ،اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ خربوزہ بھی اس درخت کا ہے؛ جس نے میری محبت کے عہد کو قبول نہیں کیا ہے ۔ (الریاض النضرۃ فی مناقب العشرۃ)
غزوۂ خیبر کے موقع پر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی خصوصی فضیلت کو آشکار فرمایا اور آپ کے اللہ تعالی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں مقبول ومحبوب ہونے کی بشارت عطا فرمائی ، جیساکہ صحیح بخاری شریف میں حدیث مبارک ہے : عَنْ أَبِی حَازِمٍ قَالَ أَخْبَرَنِی سَہْلُ بْنُ سَعْدٍ رضی اللہ عنہ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ یَوْمَ خَیْبَرَ : لأُعْطِیَنَّ ہَذِہِ الرَّایَۃَ غَدًا رَجُلاً ، یَفْتَحُ اللَّہُ عَلَی یَدَیْہِ ، یُحِبُّ اللَّہَ وَرَسُولَہُ ، وَیُحِبُّہُ اللَّہُ وَرَسُولُہُ . قَالَ فَبَاتَ النَّاسُ یَدُوکُونَ لَیْلَتَہُمْ أَیُّہُمْ یُعْطَاہَا فَلَمَّا أَصْبَحَ النَّاسُ غَدَوْا عَلَی رَسُولِ اللَّہِ صلی اللہ علیہ وسلم ، کُلُّہُمْ یَرْجُو أَنْ یُعْطَاہَا فَقَالَ : أَیْنَ عَلِیُّ بْنُ أَبِی طَالِبٍ . فَقِیلَ ہُوَ یَا رَسُولَ اللَّہِ یَشْتَکِی عَیْنَیْہِ . قَالَ : فَأَرْسِلُوا إِلَیْہِ . ترجمہ : حضرت ابو حازم رضی اللہ عنہ سے ورایت ہے،انہوں نے فرمایا،مجھے حضرت سہل بن سعدرضی اللہ عنہ نے بیان کیاکہ غزوۂ خیبر کے موقع پر حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:کل میں ایسے شخص کو جھنڈاعطا کروںگا؛ جن کے ہاتھ پراللہ تعالیٰ (قلعۂ خیبر) فتح کرے گا،وہ اللہ تعالی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتے ہیں اور اللہ تعالی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ان سے محبت کرتے ہیں، صحابۂ کرام رضی اللہ تعالی
حضرت مولائے کائنات رضی اللہ عنہ کی ہستی اللہ تعالی اور اس کے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں ایسی مقبول ہے کہ آپ سے محبت کرنے والے کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا محبوب قرار دیا اور آپ سے بغض رکھنے کواپنی ناراضگی قرار دیا ‘ جیساکہ معجم کبیر طبرانی میں حدیث مبارک ہے : عَنْ سَلْمَانَ، أَنّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، قَالَ لِعَلِیٍّ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالَی عَنْہُ:"مُحِبُّکَ مُحِبِّی، ومُبْغِضُکَ مُبْغِضِی" ۔ ترجمہ : سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی مرتضی رضی اللہ عنہ سے ارشاد فرمایا :(ائے علی) تم سے محبت کرنے والا مجھ سے محبت کرنے والا ہے اور تم سے بغض رکھنے والا مجھ سے بغض رکھنے والا ہے ۔ (المعجم الکبیر للطبرانی،ج،6،ص،47، حدیث نمبر:5973،چشتی)
حضرت علی مرتضی رضی اللہ عنہ کی ذات گرامی چونکہ اللہ تعالی کو بھی محبوب ہے اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو بھی محبوب ہے ،اسی لئے کائنات کا ذرہ ذرہ آپ سے محبت کرتا ہے،اور اللہ تعالی اس محبت کرنے والے کو دنیا میں بھی نوازتا ہے اور آخرت میں بھی سرفراز فرماتا ہے،علامہ امام طبری رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے اپنی کتاب الریاض النضرۃ میں روایت نقل کی ہے : وعن أنس رضی اللہ عنہ قال: دفع علی بن أبی طالب إلی بلال درہما یشتری بہ بطیخا؛ قال: فاشتریت بہ فأخذ بطیخۃ فقورہا فوجدہا مرۃ فقال یا بلال رد ہذا إلی صاحبہ، وائتنی بالدرہم فإن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال لی : إن اللہ أخذ حبک علی البشر والشجر والثمر والبذر فما أجاب إلی حبک عذب وطاب وما لم یجب خبث ومر " . وأنی أظن ہذا مما لم یجب .
ترجمہ : سیدناانس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،آپ نے فرمایا کہ ایک مرتبہ سیدناعلی مرتضی رضی اللہ عنہ نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو خربوز ہ خریدنے کےلیے ایک درہم عطا فرمایا،حضرت بلال نے فرمایا کہ میں ایک خربوزہ آپ کی خدمت میں پیش کیا،جب آپ نے اسے کاٹا تو اسے کڑوا پایا،آپ نے ارشاد فرمایا :ائے بلال!جس شخص کے پاس سے یہ لائے ہو ؛ اسی کو واپس کردو!اوردرہم میرے پاس واپس لاؤ! کیونکہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے مجھ سے ارشاد فرمایا:بیشک اللہ تعالی نے تمہاری محبت کا عہد ہر انسان،درخت،پھل اور ہر بیج سے لیا ہے ،تو جس نے تمہاری محبت کو اپنے دل میں سمالیا وہ شیریں و پاکیزہ ہوگیا اورجس نے تمہاری محبت کو قبول نہ کیا وہ پلید اور کڑوا ہوگیا ،اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ خربوزہ بھی اس درخت کا ہے؛ جس نے میری محبت کے عہد کو قبول نہیں کیا ہے ۔ (الریاض النضرۃ فی مناقب العشرۃ)
غزوۂ خیبر کے موقع پر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی خصوصی فضیلت کو آشکار فرمایا اور آپ کے اللہ تعالی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں مقبول ومحبوب ہونے کی بشارت عطا فرمائی ، جیساکہ صحیح بخاری شریف میں حدیث مبارک ہے : عَنْ أَبِی حَازِمٍ قَالَ أَخْبَرَنِی سَہْلُ بْنُ سَعْدٍ رضی اللہ عنہ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ یَوْمَ خَیْبَرَ : لأُعْطِیَنَّ ہَذِہِ الرَّایَۃَ غَدًا رَجُلاً ، یَفْتَحُ اللَّہُ عَلَی یَدَیْہِ ، یُحِبُّ اللَّہَ وَرَسُولَہُ ، وَیُحِبُّہُ اللَّہُ وَرَسُولُہُ . قَالَ فَبَاتَ النَّاسُ یَدُوکُونَ لَیْلَتَہُمْ أَیُّہُمْ یُعْطَاہَا فَلَمَّا أَصْبَحَ النَّاسُ غَدَوْا عَلَی رَسُولِ اللَّہِ صلی اللہ علیہ وسلم ، کُلُّہُمْ یَرْجُو أَنْ یُعْطَاہَا فَقَالَ : أَیْنَ عَلِیُّ بْنُ أَبِی طَالِبٍ . فَقِیلَ ہُوَ یَا رَسُولَ اللَّہِ یَشْتَکِی عَیْنَیْہِ . قَالَ : فَأَرْسِلُوا إِلَیْہِ . ترجمہ : حضرت ابو حازم رضی اللہ عنہ سے ورایت ہے،انہوں نے فرمایا،مجھے حضرت سہل بن سعدرضی اللہ عنہ نے بیان کیاکہ غزوۂ خیبر کے موقع پر حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:کل میں ایسے شخص کو جھنڈاعطا کروںگا؛ جن کے ہاتھ پراللہ تعالیٰ (قلعۂ خیبر) فتح کرے گا،وہ اللہ تعالی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتے ہیں اور اللہ تعالی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ان سے محبت کرتے ہیں، صحابۂ کرام رضی اللہ تعالی
❤1
عنہم ساری رات اس انتظار میں تھے کہ یہ سعادت کس کو ملے گی ؟ جب صحابۂ کرام رضی اللہ تعالی عنہم نے صبح کی توان میں سے ہر ایک بارگاہ نبوی میں اس امید کے ساتھ حاضر ہوئے کہ جھنڈا انہیں عطا ہو، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:علی (رضی اللہ عنہ )کہاں ہیں، تو عرض کیا کہ آپ کو آشوب چشم لاحق ہے تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ کو بلانے کا حکم فرمایا ! فَأُتِیَ بِہِ فَبَصَقَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی عَیْنَیْہِ ، وَدَعَا لَہُ ، فَبَرَأَ حَتَّی کَأَنْ لَمْ یَکُنْ بِہِ وَجَعٌ ، فَأَعْطَاہُ الرَّایَۃَ ۔ جب آپ کو لایا گیاتوحضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کی چشمان مبارک میں اپنا مبارک لعاب دہن ڈالا اور دعا فرمائی توآپ ایسے صحت یاب ہوگئے جیسا کہ آپ کو درد ہی نہ تھا،اورآقانے آپ کو پرچم اسلا م عطا فرمایا ۔ (صحیح البخاری ،کتاب المناقب،باب مناقب علی بن ابی طالب،حدیث نمبر:3701،چشتی)
فاتح خیبر، حیدر کرار،صاحب ذو الفقار،شیریزداں،شان مرداں ابو الحسن سیدنا علی مرتضی رضی اللہ تعالی عنہ کو اللہ تعالی نے شجاعت وبہادری کے عظیم جوہر سے مزین فرمایا،میدان کارزار میں آپ کی سبقت وپیش قدمی بہادر مرد وجوان افراد کے لئے ایک نمونہ تھی،غزوۂ خیبر کے موقع پرآپ کی شجاعت وبہادری سے متعلق امام ابن عساکر کے حوالہ سے روایت مذکور ہے : وقال جابر بن عبد اللہ حمل علی الباب علی ظہرہ یوم خیبر حتی صعد المسلمون علیہ فتحوہا وإنہم جروہ بعد ذلک فلم یحملہ إلا أربعون رجلا۔ أخرجہ ابن عساکر . ترجمہ : سیدناجابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالی عنہما نے فرمایا : حضرت علی مرتضی رضی اللہ تعالی عنہ نے خیبر کے دن (قلعہ کے)دروازہ کو اپنی پشت پر اٹھالیا،یہاں تک کہ اہل اسلام نے اس پر چڑھائی کی اور اسے فتح کرلیا،اور اس کے بعدلوگوں نے اس دروازہ کو کھینچا تو وہ(اپنی جگہ سے)نہ ہٹا، یہاں تک کہ چالیس( 40) افراد نے اسے اٹھایا ۔ (تاریخ الخلفاء ،علی بن أبی طالب رضی اللہ عنہ)
حضرت علی مرتضی کرم اللہ وجہہ کی بلند و بالا ہستی اور آپ کے فضائل و مناقب کے کیا کہنے!جبکہ سرور کونین صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کے کمالات کو بڑی جامعیت کے سا تھ ارشاد فرمایا،چنانچہ اس سلسلہ میں امام ابو نعیم اصبہانی رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے روایت نقل کی ہے : عن أبی الحمراء مولی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال : کنا حول النبی صلی اللہ علیہ وسلم فطلع علی بن أبی طالب رضی اللہ عنہ ، فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم : من سرہ أن ینظر إلی آدم فی علمہ ، وإلی نوح فی فہمہ ، وإلی إبراہیم فی خلقہ ، فلینظر إلی علی بن أبی طالب ۔
ترجمہ : حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے غلام سیدنا ابو حمراء رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے ، آپ نے فرمایا کہ ہم حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر تھے کہ حضرت علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ رونق افروز ہوئے،تو حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا:جس شخص کو یہ بات خوش کرے کہ وہ حضرت آدم علیہ السلام کو ان کی علمی شان کے ساتھ دیکھے،حضرت نوح علیہ السلام کو ان کی فہم ودانشمندی کی شان کے ساتھ دیکھے،اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ان کے پاکیزہ اخلاق کی شان کے ساتھ دیکھے تو وہ علی بن ابو طالب (رضی اللہ تعالی عنہ )کو دیکھ لے ۔ (فضائل الخلفاء الراشدین لأبی نعیم الأصبہانی جلد 1 صفحہ 75،چشتی)
سیدنا علی مرتضی رضی اللہ تعالی عنہ کو جن خصائص وکمالات سے اللہ تعالی نے ممتاز فرمایا ہے ان میں یہ بھی ہے کہ آپ حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے چوتھے خلیفہ ہیں،آپ کوعشرۂ مبشرہ میں ہونے کا بھی اعزاز حاصل ہے،حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اپنی زبان حق ترجمان سے یہ ضمانت عطا فرمائی : وَعَلِیٌّ فِی الْجَنَّۃِ ۔
ترجمہ : اور علی (رضی اللہ تعالی عنہ) جنت میں ہیں ۔ (سنن ابن ماجہ، المقدمۃ،باب فضائل العشرۃ رضی اللہ عنہم. حدیث نمبر:138،چشتی)
آپ کے حق میں صاحب قرآن سید الانس والجان صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے یہ مژدۂ جاں فزا سنایا کہ علی (رضی اللہ عنہ) قرآن کے ساتھ ہیں اور قرآن علی (رضی اللہ تعالی عنہ)کے ساتھ ہے ،جیساکہ مستدرک علی الصحیحین ،معجم اوسط طبرانی اورمعجم صغیر طبرانی وغیرہ میں روایت ہے : عن أم سلمۃ ، قالت : سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول : علی مع القرآن والقرآن مع علی لن یتفرقا حتی یردا علی الحوض ۔
ترجمہ : ام المؤمنین سیدتنا ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت ہے،آپ نے فرمایا کہ میں نے حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو ارشاد فرماتے ہوئے سناکہ علی (رضی اللہ عنہ) قرآن کے ساتھ ہیں اور قرآن علی (رضی اللہ تعالی عنہ) کے ساتھ ہے،وہ دونوں ہرگز جدا نہیں ہوسکتے یہاں تک کہ حوض کوثر پر وہ دونوں میرے پاس ساتھ ساتھ آئیں گے ۔ (المستدرک علی الصحیحین للحاکم ، کتاب معرفۃ الصحابۃ رضی اللہ عنہم حدیث نمبر : 4604۔ المعجم الأوسط للطبرانی، باب
فاتح خیبر، حیدر کرار،صاحب ذو الفقار،شیریزداں،شان مرداں ابو الحسن سیدنا علی مرتضی رضی اللہ تعالی عنہ کو اللہ تعالی نے شجاعت وبہادری کے عظیم جوہر سے مزین فرمایا،میدان کارزار میں آپ کی سبقت وپیش قدمی بہادر مرد وجوان افراد کے لئے ایک نمونہ تھی،غزوۂ خیبر کے موقع پرآپ کی شجاعت وبہادری سے متعلق امام ابن عساکر کے حوالہ سے روایت مذکور ہے : وقال جابر بن عبد اللہ حمل علی الباب علی ظہرہ یوم خیبر حتی صعد المسلمون علیہ فتحوہا وإنہم جروہ بعد ذلک فلم یحملہ إلا أربعون رجلا۔ أخرجہ ابن عساکر . ترجمہ : سیدناجابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالی عنہما نے فرمایا : حضرت علی مرتضی رضی اللہ تعالی عنہ نے خیبر کے دن (قلعہ کے)دروازہ کو اپنی پشت پر اٹھالیا،یہاں تک کہ اہل اسلام نے اس پر چڑھائی کی اور اسے فتح کرلیا،اور اس کے بعدلوگوں نے اس دروازہ کو کھینچا تو وہ(اپنی جگہ سے)نہ ہٹا، یہاں تک کہ چالیس( 40) افراد نے اسے اٹھایا ۔ (تاریخ الخلفاء ،علی بن أبی طالب رضی اللہ عنہ)
حضرت علی مرتضی کرم اللہ وجہہ کی بلند و بالا ہستی اور آپ کے فضائل و مناقب کے کیا کہنے!جبکہ سرور کونین صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کے کمالات کو بڑی جامعیت کے سا تھ ارشاد فرمایا،چنانچہ اس سلسلہ میں امام ابو نعیم اصبہانی رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے روایت نقل کی ہے : عن أبی الحمراء مولی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال : کنا حول النبی صلی اللہ علیہ وسلم فطلع علی بن أبی طالب رضی اللہ عنہ ، فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم : من سرہ أن ینظر إلی آدم فی علمہ ، وإلی نوح فی فہمہ ، وإلی إبراہیم فی خلقہ ، فلینظر إلی علی بن أبی طالب ۔
ترجمہ : حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے غلام سیدنا ابو حمراء رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے ، آپ نے فرمایا کہ ہم حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر تھے کہ حضرت علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ رونق افروز ہوئے،تو حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا:جس شخص کو یہ بات خوش کرے کہ وہ حضرت آدم علیہ السلام کو ان کی علمی شان کے ساتھ دیکھے،حضرت نوح علیہ السلام کو ان کی فہم ودانشمندی کی شان کے ساتھ دیکھے،اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ان کے پاکیزہ اخلاق کی شان کے ساتھ دیکھے تو وہ علی بن ابو طالب (رضی اللہ تعالی عنہ )کو دیکھ لے ۔ (فضائل الخلفاء الراشدین لأبی نعیم الأصبہانی جلد 1 صفحہ 75،چشتی)
سیدنا علی مرتضی رضی اللہ تعالی عنہ کو جن خصائص وکمالات سے اللہ تعالی نے ممتاز فرمایا ہے ان میں یہ بھی ہے کہ آپ حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے چوتھے خلیفہ ہیں،آپ کوعشرۂ مبشرہ میں ہونے کا بھی اعزاز حاصل ہے،حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اپنی زبان حق ترجمان سے یہ ضمانت عطا فرمائی : وَعَلِیٌّ فِی الْجَنَّۃِ ۔
ترجمہ : اور علی (رضی اللہ تعالی عنہ) جنت میں ہیں ۔ (سنن ابن ماجہ، المقدمۃ،باب فضائل العشرۃ رضی اللہ عنہم. حدیث نمبر:138،چشتی)
آپ کے حق میں صاحب قرآن سید الانس والجان صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے یہ مژدۂ جاں فزا سنایا کہ علی (رضی اللہ عنہ) قرآن کے ساتھ ہیں اور قرآن علی (رضی اللہ تعالی عنہ)کے ساتھ ہے ،جیساکہ مستدرک علی الصحیحین ،معجم اوسط طبرانی اورمعجم صغیر طبرانی وغیرہ میں روایت ہے : عن أم سلمۃ ، قالت : سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول : علی مع القرآن والقرآن مع علی لن یتفرقا حتی یردا علی الحوض ۔
ترجمہ : ام المؤمنین سیدتنا ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت ہے،آپ نے فرمایا کہ میں نے حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو ارشاد فرماتے ہوئے سناکہ علی (رضی اللہ عنہ) قرآن کے ساتھ ہیں اور قرآن علی (رضی اللہ تعالی عنہ) کے ساتھ ہے،وہ دونوں ہرگز جدا نہیں ہوسکتے یہاں تک کہ حوض کوثر پر وہ دونوں میرے پاس ساتھ ساتھ آئیں گے ۔ (المستدرک علی الصحیحین للحاکم ، کتاب معرفۃ الصحابۃ رضی اللہ عنہم حدیث نمبر : 4604۔ المعجم الأوسط للطبرانی، باب
❤1
العین، من اسمہ : عباد، حدیث نمبر :5037۔ المعجم الصغیر للطبرانی، باب العین، من اسمہ : عباد،حدیث نمبر: 721)
حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے اسی فرمان عالی شان کی برکت تھی کہ سیدنا علی مرتضی رضی اللہ تعالی عنہ کا شمار ان صحابۂ کرام میں ہوتا ہے ؛جنہوں نے قرآن کریم کو جمع کیا اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو سنایا،جیساکہ امام جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے تاریخ الخلفاء میں لکھا ہے : وعلی رضی اللہ عنہ۔۔۔۔ أحد من جمع القرآن وعرضہ علی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ۔
(تاریخ الخلفاء ، علی بن أبی طالب رضی اللہ عنہ،ج 1،ص 68،چشتی)
حضرت مولائے کائنات کی فیاضی بارگاہ الہی میں مقبول ۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے : الَّذِینَ یُنْفِقُونَ أَمْوَالَہُمْ بِاللَّیْلِ وَالنَّہَارِ سِرًّا وَعَلَانِیَۃً فَلَہُمْ أَجْرُہُمْ عِنْدَ رَبِّہِمْ وَلَا خَوْفٌ عَلَیْہِمْ وَلَا ہُمْ یَحْزَنُوْنَ ۔ ترجمہ : جو لوگ اپنا مال (اللہ کی راہ میں) رات اور دن،پوشیدہ اور ظاہری طور پر خرچ کرتے ہیں تو ان کا ثواب ان کے رب کے پاس ہے اور ان کو (قیامت کے دن)نہ کسی طرح کا خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔(سورۃ البقرۃ ۔274)
اس آیت کریمہ میں عمومی طور پر اللہ کے ان پاکباز بندوں کا تذکرہ ہے جو رضاء الہی کی خاطر دن ورات اپنا مال خرچ کرتے ہیں،لیکن مفسرین کرام نے یہ صراحت کی ہے کہ یہ آیت کریمہ بطور خاص سیدنا علی مرتضی رضی اللہ تعالی عنہ کی شان میں وارد ہوئی ہے،جیساکہ امام جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے تفسیر در منثور میں روایت نقل کی ہے : عن ابن عباس فی قولہ ( الذین ینفقون أموالہم باللیل والنہار سراً وعلانیۃ) قال : نزلت فی علی بن أبی طالب ، کانت لہ أربعۃ دراہم فأنفق باللیل درہماً ، وبالنہار درہماً ، وسراً درہماً ، وعلانیۃ درہماً . سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے آیت کریمہ" الَّذِینَ یُنْفِقُونَ أَمْوَالَہُمْ بِاللَّیْلِ وَالنَّہَارِ سِرًّا ۔
سے متعلق روایت ہے،آپ نے فرمایا کہ یہ آیت کریمہ حضرت علی مرتضی رضی اللہ تعالی عنہ کی شان میں نازل ہوئی،آپ کے پاس چار درہم تھے،آپ نے ایک درہم رات میں خرچ کیا اور ایک دن میں،ایک پوشیدہ طور پر خرچ کیا اور ایک علانیہ طور پر ۔ (الدر المنثور فی التفسیرالمأثور، سورۃ البقرۃ۔ 274)
آپ کے اس طرح خرچ کرنے کی ادا اللہ تعالی کو اتنی پسند آئی کہ اللہ تعالی نے آپ کی عظمت کے اظہار اور اپنے دربار میں آپ کی مقبولیت کو آشکار کرنے کےلیے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی۔
حضرت سیدنا علی مرتضی رضی اللہ تعالی عنہ نے رضاء الہی کی خاطر نہ صرف اپنا مال قربان کیا بلکہ اپنے گھر اور وطن کو قربان کیا،شریعت کے تحفظ کی خاطر اپنے آپ کو قربان کیا اور دین کی سربلندی کے لئے اپنے شہزادوں کو قربان کیا ۔
اللہ تعالیٰ نے جن و انس کو اپنی اطاعت و بندگی او ر معرفت و عبادت کے لئے پیدا کیا ہے اورجو بندگان خدا دنیا میں اخلاص وللہیت کے ساتھ اس کی عبادت کرتے ہیں ان کےلیے یہ بشارت عنایت فرمائی : وَتِلْکَ الْجَنَّۃُ الَّتِیْ اُورِثْتُمُوْہَا بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۔
ترجمہ : یہ وہ جنت ہے جس کے تم وارث بنائے گئے ہو اُس عمل کے صلہ میں جو تم کیا کرتے تھے۔ (سورۃ الزخرف۔72)
چونکہ جنت کو مومنین کے لئے عبادت کا صلہ قرار دیا گیا؛ جہاں ابدی چین و قرار ہے ،اسی لئے ہر کوئی جنت کا مشتاق اور اس کا طالب ہوتاہے، لیکن کچھ مقربان بارگاہ ‘خدا ترس بندے ایسے ہوتے ہیں؛ جن کے لئے جنت مشتاق رہتی ہے، انہی نفوس قدسیہ میں مولائے کائنات، فاتح خیبر، ابو تراب، باب العلم، ابوالحسن سیدنا علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ سر فہرست ہیں؛ جن کی بابت حضور اکرم رحمت عالم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا : عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْجَنَّۃَ لَتَشْتَاقُ إِلَی ثَلاَثَۃٍ عَلِیٍّ وَعَمَّارٍ وَسَلْمَانَ ۔ ترجمہ:حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا:حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یقینا جنت تین افراد کی مشتاق ہے (1) (حضرت) علی (رضی اللہ عنہ) (2) (حضرت) عمار (رضی اللہ عنہ)(3) (حضرت) سلمان (رضی اللہ عنہ) (جامع الترمذی،ابواب المناقب، باب مناقب سلمان الفارسی رضی اللہ عنہ.حدیث نمبر4166،چشتی)
جب بلوائیوں نے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو شہید کردیا تو اسی وقت آپ نے اسلامی خلافت کی باگ ڈورسنبھال لی،جیسا کہ روایت ہے : استخلف یوم قتل عثمان وہو یوم الجمعۃ لثمانی عشرۃ خلت من ذی الحجۃ سنۃ خمس وثلاثین ۔
حضرت علی مرتضی رضی اللہ تعالی عنہ سنہ پینتیس (35) ہجری ، 18 ذوالحجہ، بروز جمعہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے دن مسندخلافت پر جلوہ افروز ہوئے۔(الاکمال فی اسماء الرجال،حرف العین ،فصل فی الصحابۃ)
حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے اسی فرمان عالی شان کی برکت تھی کہ سیدنا علی مرتضی رضی اللہ تعالی عنہ کا شمار ان صحابۂ کرام میں ہوتا ہے ؛جنہوں نے قرآن کریم کو جمع کیا اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو سنایا،جیساکہ امام جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے تاریخ الخلفاء میں لکھا ہے : وعلی رضی اللہ عنہ۔۔۔۔ أحد من جمع القرآن وعرضہ علی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ۔
(تاریخ الخلفاء ، علی بن أبی طالب رضی اللہ عنہ،ج 1،ص 68،چشتی)
حضرت مولائے کائنات کی فیاضی بارگاہ الہی میں مقبول ۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے : الَّذِینَ یُنْفِقُونَ أَمْوَالَہُمْ بِاللَّیْلِ وَالنَّہَارِ سِرًّا وَعَلَانِیَۃً فَلَہُمْ أَجْرُہُمْ عِنْدَ رَبِّہِمْ وَلَا خَوْفٌ عَلَیْہِمْ وَلَا ہُمْ یَحْزَنُوْنَ ۔ ترجمہ : جو لوگ اپنا مال (اللہ کی راہ میں) رات اور دن،پوشیدہ اور ظاہری طور پر خرچ کرتے ہیں تو ان کا ثواب ان کے رب کے پاس ہے اور ان کو (قیامت کے دن)نہ کسی طرح کا خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔(سورۃ البقرۃ ۔274)
اس آیت کریمہ میں عمومی طور پر اللہ کے ان پاکباز بندوں کا تذکرہ ہے جو رضاء الہی کی خاطر دن ورات اپنا مال خرچ کرتے ہیں،لیکن مفسرین کرام نے یہ صراحت کی ہے کہ یہ آیت کریمہ بطور خاص سیدنا علی مرتضی رضی اللہ تعالی عنہ کی شان میں وارد ہوئی ہے،جیساکہ امام جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے تفسیر در منثور میں روایت نقل کی ہے : عن ابن عباس فی قولہ ( الذین ینفقون أموالہم باللیل والنہار سراً وعلانیۃ) قال : نزلت فی علی بن أبی طالب ، کانت لہ أربعۃ دراہم فأنفق باللیل درہماً ، وبالنہار درہماً ، وسراً درہماً ، وعلانیۃ درہماً . سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے آیت کریمہ" الَّذِینَ یُنْفِقُونَ أَمْوَالَہُمْ بِاللَّیْلِ وَالنَّہَارِ سِرًّا ۔
سے متعلق روایت ہے،آپ نے فرمایا کہ یہ آیت کریمہ حضرت علی مرتضی رضی اللہ تعالی عنہ کی شان میں نازل ہوئی،آپ کے پاس چار درہم تھے،آپ نے ایک درہم رات میں خرچ کیا اور ایک دن میں،ایک پوشیدہ طور پر خرچ کیا اور ایک علانیہ طور پر ۔ (الدر المنثور فی التفسیرالمأثور، سورۃ البقرۃ۔ 274)
آپ کے اس طرح خرچ کرنے کی ادا اللہ تعالی کو اتنی پسند آئی کہ اللہ تعالی نے آپ کی عظمت کے اظہار اور اپنے دربار میں آپ کی مقبولیت کو آشکار کرنے کےلیے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی۔
حضرت سیدنا علی مرتضی رضی اللہ تعالی عنہ نے رضاء الہی کی خاطر نہ صرف اپنا مال قربان کیا بلکہ اپنے گھر اور وطن کو قربان کیا،شریعت کے تحفظ کی خاطر اپنے آپ کو قربان کیا اور دین کی سربلندی کے لئے اپنے شہزادوں کو قربان کیا ۔
اللہ تعالیٰ نے جن و انس کو اپنی اطاعت و بندگی او ر معرفت و عبادت کے لئے پیدا کیا ہے اورجو بندگان خدا دنیا میں اخلاص وللہیت کے ساتھ اس کی عبادت کرتے ہیں ان کےلیے یہ بشارت عنایت فرمائی : وَتِلْکَ الْجَنَّۃُ الَّتِیْ اُورِثْتُمُوْہَا بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۔
ترجمہ : یہ وہ جنت ہے جس کے تم وارث بنائے گئے ہو اُس عمل کے صلہ میں جو تم کیا کرتے تھے۔ (سورۃ الزخرف۔72)
چونکہ جنت کو مومنین کے لئے عبادت کا صلہ قرار دیا گیا؛ جہاں ابدی چین و قرار ہے ،اسی لئے ہر کوئی جنت کا مشتاق اور اس کا طالب ہوتاہے، لیکن کچھ مقربان بارگاہ ‘خدا ترس بندے ایسے ہوتے ہیں؛ جن کے لئے جنت مشتاق رہتی ہے، انہی نفوس قدسیہ میں مولائے کائنات، فاتح خیبر، ابو تراب، باب العلم، ابوالحسن سیدنا علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ سر فہرست ہیں؛ جن کی بابت حضور اکرم رحمت عالم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا : عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْجَنَّۃَ لَتَشْتَاقُ إِلَی ثَلاَثَۃٍ عَلِیٍّ وَعَمَّارٍ وَسَلْمَانَ ۔ ترجمہ:حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا:حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یقینا جنت تین افراد کی مشتاق ہے (1) (حضرت) علی (رضی اللہ عنہ) (2) (حضرت) عمار (رضی اللہ عنہ)(3) (حضرت) سلمان (رضی اللہ عنہ) (جامع الترمذی،ابواب المناقب، باب مناقب سلمان الفارسی رضی اللہ عنہ.حدیث نمبر4166،چشتی)
جب بلوائیوں نے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو شہید کردیا تو اسی وقت آپ نے اسلامی خلافت کی باگ ڈورسنبھال لی،جیسا کہ روایت ہے : استخلف یوم قتل عثمان وہو یوم الجمعۃ لثمانی عشرۃ خلت من ذی الحجۃ سنۃ خمس وثلاثین ۔
حضرت علی مرتضی رضی اللہ تعالی عنہ سنہ پینتیس (35) ہجری ، 18 ذوالحجہ، بروز جمعہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے دن مسندخلافت پر جلوہ افروز ہوئے۔(الاکمال فی اسماء الرجال،حرف العین ،فصل فی الصحابۃ)
❤1
آپ کے عہد زریں کی مدت سے متعلق ’’الاکمال‘‘میں ہے : وکانت خلافتہ اربع سنین وتسعۃ اشہر وایاما ۔ آپ کی خلافت جملہ چار (4)سال ،نو(9) مہینے اورچند دن رہی ۔ (الاکمال فی اسماء الرجال ، حرف العین فصل فی الصحابۃ)
مدینہ منورہ کی عظمت وتقدس کو ملحوظ رکھتے ہوئے کوفہ کو حضرت علی مرتضی رضی اللہ تعالی عنہ نے دار الخلافہ بنالیا،اور آپ نے دینی لبادہ اوڑھے ہوئے دشمنان اسلام بے ادب وگستاخ فرقہ خوارج کا مقابلہ کیا اور مقام نہاوند میں انہیں تہ تیغ کیا ،اور آپ نے اس موقع پر مخبر صادق صلی اللہ علیہ وسلم کی خبر صادق بیان فرمائی کہ آپ نے ارشاد فرمایا تھا : دس (10) اہل اسلام شہید ہوں گے اور دشمن سارے مارے جائیں گے، صرف دس (10) لوگ بچیں گے۔
شہادت کی بشارت : حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے آپ کو پہلے ہی سے خلافت وشہادت کی بشارت عطا فرمائی تھی ، چنانچہ امام ابو نعیم اصبہانی رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے روایت نقل کی ہے : عن جابر بن سمرۃ ، قال : قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لعلی : إنک مؤمر مستخلف وإنک مقتول ۔
ترجمہ : سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے ،انہوںنے فرمایا ، حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے ارشاد فرمایا:بیشک تم والی اور خلیفہ مقرر کئے جانے والے ہو اور بیشک تم شہید کیے جانے والے ہو ۔ (فضائل الخلفاء الراشدین لأبی نعیم الأصبھانی جلد نمبر 1 صفحہ نمبر 347،چشتی)
شہادت عظمیٰ : حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کی شہادت سے متعلق تفصیلات بیان کر تے ہوئے صاحب اِکمال رقم طراز ہیں : ضربہ عبد الرحمن بن ملجم المرادی بالکوفۃ صبیحۃ الجمعۃ لثمانی عشرۃ لیلۃ خلت من شہر رمضان سنۃ اربعین ومات بعد ثلاث لیال من ضربۃ ۔ ابن ملجم شقی نے سنہ چالیس (40) ہجری ، سترہ (17) رمضان المبارک،جمعہ کی صبح آپ پرحملہ کیا اورحملہ کے تین (3) دن بعد (بیس 20) رمضان المبارک کو) آپ کی شہادت عظمی ہوئی ۔ (الاکمال فی اسماء الرجال،حرف العین ،فصل فی الصحابۃ)
غسل مبارک : حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے غسل مبارک اور نمازجنازہ سے متعلق تاریخ میں اس طرح تفصیلات ملتی ہیں : وغسلہ ابناہ الحسن والحسین وعبد اللہ بن جعفر وصلی علیہ الحسن ۔ ترجمہ : حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ ،حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ اور حضرت عبد اللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ نے غسل مبارک دیا اور حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ نے نماز پڑھائی ۔ (الاکمال فی اسماء الرجال،حرف العین ،فصل فی الصحابۃ،چشتی)
حضرت مولائے کائنات کو یہ خصوصیت بھی حاصل ہے کہ اللہ تعالی نے آپ کو شہادت کا منصبِ رفیع عطا فرمایا، ابن ملجم شقی کے حملہ کرنے کے بعد صبح صادق کے وقت آپ نے فرمایا کہ میرا چہرہ مشرق کی سمت پھیر دو!جب چہرۂ مبارک مشرق کی جانب پھیر دیا گیا تو آپ نے فرمایا:ائے صبح صادق؛تجھے اس ذات کی قسم جس کے حکم سے تو نمودار ہوتی ہے!بروز قیامت تو گواہی دینا کہ جس وقت سے میں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ساتھ نماز ادا کی ہے ؛اس وقت سے آج تک کبھی تو نے مجھے سوتا ہوا نہ پائی،تیرے نمودار ہونے سے قبل ہی میں بیدار ہوجاتا۔
پھر سجدہ ریز ہوکر آپ نے دعا کی؛الہی!قیامت کے دن جبکہ ہزارہا انبیاء وملائکہ ،صدیقین وشہداء تیرے عرش عظیم کو دیکھ رہے ہوں گے؛ اس وقت تو گواہی دینا کہ جب سے میں نے تیرے حبیب صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر ایمان لایا؛ کبھی آپ کے کسی حکم کی خلاف ورزی نہیں کی ۔ (الریاض النضرہ ، فضائل خلفائے راشدین وغیرہ)
اللہ تعالی سے دعا ہے کہ ہمیں حبیب کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے صدقہ وطفیل حضرات اہل بیت کرام وصحابۂ عظام رضی اللہ عنہم سے بے پناہ محبت کرنے والا بنائے،حضرت مولائے کائنات رضی اللہ عنہ کی ذات گرامی سے بے انتہاء عقیدت والفت رکھنے والابنائے اور آپ کے فیوض وبرکات سے ہمیں مستفیض فرمائے اور آپ کی تعلیمات پر عمل کرنے والا بنائے ۔
(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)
مدینہ منورہ کی عظمت وتقدس کو ملحوظ رکھتے ہوئے کوفہ کو حضرت علی مرتضی رضی اللہ تعالی عنہ نے دار الخلافہ بنالیا،اور آپ نے دینی لبادہ اوڑھے ہوئے دشمنان اسلام بے ادب وگستاخ فرقہ خوارج کا مقابلہ کیا اور مقام نہاوند میں انہیں تہ تیغ کیا ،اور آپ نے اس موقع پر مخبر صادق صلی اللہ علیہ وسلم کی خبر صادق بیان فرمائی کہ آپ نے ارشاد فرمایا تھا : دس (10) اہل اسلام شہید ہوں گے اور دشمن سارے مارے جائیں گے، صرف دس (10) لوگ بچیں گے۔
شہادت کی بشارت : حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے آپ کو پہلے ہی سے خلافت وشہادت کی بشارت عطا فرمائی تھی ، چنانچہ امام ابو نعیم اصبہانی رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے روایت نقل کی ہے : عن جابر بن سمرۃ ، قال : قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لعلی : إنک مؤمر مستخلف وإنک مقتول ۔
ترجمہ : سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے ،انہوںنے فرمایا ، حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے ارشاد فرمایا:بیشک تم والی اور خلیفہ مقرر کئے جانے والے ہو اور بیشک تم شہید کیے جانے والے ہو ۔ (فضائل الخلفاء الراشدین لأبی نعیم الأصبھانی جلد نمبر 1 صفحہ نمبر 347،چشتی)
شہادت عظمیٰ : حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کی شہادت سے متعلق تفصیلات بیان کر تے ہوئے صاحب اِکمال رقم طراز ہیں : ضربہ عبد الرحمن بن ملجم المرادی بالکوفۃ صبیحۃ الجمعۃ لثمانی عشرۃ لیلۃ خلت من شہر رمضان سنۃ اربعین ومات بعد ثلاث لیال من ضربۃ ۔ ابن ملجم شقی نے سنہ چالیس (40) ہجری ، سترہ (17) رمضان المبارک،جمعہ کی صبح آپ پرحملہ کیا اورحملہ کے تین (3) دن بعد (بیس 20) رمضان المبارک کو) آپ کی شہادت عظمی ہوئی ۔ (الاکمال فی اسماء الرجال،حرف العین ،فصل فی الصحابۃ)
غسل مبارک : حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے غسل مبارک اور نمازجنازہ سے متعلق تاریخ میں اس طرح تفصیلات ملتی ہیں : وغسلہ ابناہ الحسن والحسین وعبد اللہ بن جعفر وصلی علیہ الحسن ۔ ترجمہ : حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ ،حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ اور حضرت عبد اللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ نے غسل مبارک دیا اور حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ نے نماز پڑھائی ۔ (الاکمال فی اسماء الرجال،حرف العین ،فصل فی الصحابۃ،چشتی)
حضرت مولائے کائنات کو یہ خصوصیت بھی حاصل ہے کہ اللہ تعالی نے آپ کو شہادت کا منصبِ رفیع عطا فرمایا، ابن ملجم شقی کے حملہ کرنے کے بعد صبح صادق کے وقت آپ نے فرمایا کہ میرا چہرہ مشرق کی سمت پھیر دو!جب چہرۂ مبارک مشرق کی جانب پھیر دیا گیا تو آپ نے فرمایا:ائے صبح صادق؛تجھے اس ذات کی قسم جس کے حکم سے تو نمودار ہوتی ہے!بروز قیامت تو گواہی دینا کہ جس وقت سے میں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ساتھ نماز ادا کی ہے ؛اس وقت سے آج تک کبھی تو نے مجھے سوتا ہوا نہ پائی،تیرے نمودار ہونے سے قبل ہی میں بیدار ہوجاتا۔
پھر سجدہ ریز ہوکر آپ نے دعا کی؛الہی!قیامت کے دن جبکہ ہزارہا انبیاء وملائکہ ،صدیقین وشہداء تیرے عرش عظیم کو دیکھ رہے ہوں گے؛ اس وقت تو گواہی دینا کہ جب سے میں نے تیرے حبیب صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر ایمان لایا؛ کبھی آپ کے کسی حکم کی خلاف ورزی نہیں کی ۔ (الریاض النضرہ ، فضائل خلفائے راشدین وغیرہ)
اللہ تعالی سے دعا ہے کہ ہمیں حبیب کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے صدقہ وطفیل حضرات اہل بیت کرام وصحابۂ عظام رضی اللہ عنہم سے بے پناہ محبت کرنے والا بنائے،حضرت مولائے کائنات رضی اللہ عنہ کی ذات گرامی سے بے انتہاء عقیدت والفت رکھنے والابنائے اور آپ کے فیوض وبرکات سے ہمیں مستفیض فرمائے اور آپ کی تعلیمات پر عمل کرنے والا بنائے ۔
(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)
❤1
https://t.me/islaamic_Knowledge/24697
خصائص و کمالات حضرت علی
رضی اللہ تبارک و تعالیٰ عنہ🌹
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/287886930114020/
✍ #ڈاکٹر_فیض_احمد_چشتی
خصائص و کمالات حضرت علی
رضی اللہ تبارک و تعالیٰ عنہ🌹
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/287886930114020/
✍ #ڈاکٹر_فیض_احمد_چشتی
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
👍1
#فیضان_حضرت_علی_مرتضی ❶
ولادت حضرت مولا علی مشکل کشا
رَضِیَ الــلّٰــهُ تَـبَـارَڪَـ وَ تَـعَـالیٰ عَــنۡــہۡ
@islaamic_Knowledge
پَیدائِش ¹³رجب المرجب عُمر ⁶³سَال
تاریخ شہادت : 21 رمضان ۰۴ ھ
مدت خلافت : ❹برس ❽ماہ ❾دِن
ولادت حضرت مولا علی مشکل کشا
رَضِیَ الــلّٰــهُ تَـبَـارَڪَـ وَ تَـعَـالیٰ عَــنۡــہۡ
@islaamic_Knowledge
پَیدائِش ¹³رجب المرجب عُمر ⁶³سَال
تاریخ شہادت : 21 رمضان ۰۴ ھ
مدت خلافت : ❹برس ❽ماہ ❾دِن
❤1