Forwarded from فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
*📚 « امجــــدی مضــــامین » 📚*
-----------------------------------------------------------
*🕯عورت اور پردہ🕯*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
📬 اسلام ایک نظامِ عدل ہے۔ وہ انسانیت کا احترام سکھاتا ہے اور زندگی کے کسی شعبے میں بھی انسانیت کی تحقیر و توہین پسند نہیں فرماتا، بلکہ اُن تمام رُحجانات کا شدت کے ساتھ قلع قمع کرتا ہے جن سے انسانیت کی توہین ہوتی ہے۔ اسلام نے عورت کو پردے کا حکم بھی اسی لیے دیا ہے کہ اس کی انسانی قدروں کا احترام ممکن ہوسکے۔ آپ اگر ازمنۂ قدیمہ میں عورت کی حیثیت کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوگا کہ آج صرف انداز بدل گیا ہے، ورنہ اسلام سے قبل عرب، ہند، روم و یونان میں عورت کو جو حیثیت حاصل تھی اور جس ذلت کی زندگی پر اسے مجبور کیا گیا تھا، غیر اسلامی معاشرے میں آج بھی وہی حیثیت برقرار ہے، صرف برتاؤ کا انداز بدل گیا ہے، تخاطب کا لب ولہجہ بدل گیا ہے، شرابِ کہن کو نئے جام میں انڈیل دیا گیا ہے۔
جس زمانے میں پوری دُنیا میں عورت کو کوئی عزت کا مقام حاصل نہیں تھا، یونان میں یہ بحث چل رہی تھی کہ عورت کے اندر احساس ہے یا نہیں۔ یورپ نے اسے خبیثہ، مکارہ اور شجرِ ممنوعہ کی طرف لے جانے والی برائی قرار دیا تھا۔ عرب وہند میں عورت کو بازار کی جنسِ ارزاں سے زیادہ حیثیت حاصل نہیں تھی، کہیں بچیوں کو زندہ دفن کیا جاتا تھا اور کہیں مرد کی چِتا پر عورتوں کو زبردستی جلنا پڑتا تھا۔ اسی دور میں پیغمبر آخرالزماں صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلی بار دُنیا کو عورتوں کی عزت واحترام کا احساس دلایا اور اپنی تعلیمات میں یہ بات واضح کر دی کہ عورت نصف انسانیت ہے اور مرد ہی کی طرح لائقِ احترام ہے۔ آپ نے ارشاد فرمایا: عورتیں نازک شیشے ہیں، ان کا خیال رکھو۔ ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا کہ: عورتوں کو ان کے حقوق دو اور ان پر ظلم نہ کرو۔ اپنے آخری خطبے میں حجۃ الوداع کے موقع پر ارشاد فرمایا کہ: عورتوں کے معاملے میں خدا سے ڈرتے رہو۔ اپنی مقدس تعلیمات کے ذریعے رسولِ پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسا صالح معاشرہ تشکیل فرمایا کہ جس میں دُنیا کے اس مظلوم ترین طبقہ نے عزت و وقار کی آنکھ کھولی اور زندگی کے تمام میدانوں میں خواہ وہ معاشرتی ہوں یا تعلیمی؛ سرگرم حصہ لے کر دین ودُنیا کی تعمیر وترقی میں نمایاں کردار ادا کیا۔ اس کے برعکس یورپ میں عورت سترھویں صدی عیسوی تک مظلوم تر رہی اور جب یہاں کے لوگوں نے کلیسائی جبر و تشدد کا قلادہ اپنی گردن سے اُتار پھینکا تو عورت بھی ایک دَم آزاد ہوگئی۔ مگر اس کی آزادی بالکل ایسی ہی تھی جیسے کہ کسی قیدی کو ایک صحرا میں لے جاکر آزاد کر دیا جائے، جہاں اس کو اپنی منزل کا قطعی پتہ نہ ہو۔ حتیٰ کہ اسے سمتوں کا تعین کرنا بھی مشکل ہو۔ ظاہر ہے ایسی صورت میں جو بھی کارواں اس طرف سے گذرے گا وہ اُس کے ساتھ ہوجائے گا، خواہ وہ کاروانِ حیات ہو یا قافلۂ موت، رہزَنوں کا گروہ ہویا رہبَروں کی جماعت۔
یہی وجہ ہے کہ گذشتہ تین صدیوں سے یورپ میں عورت اپنے حقوق کے تعین، اپنی انفرادی حیثیت کی بقا اور تحفظ کے سلسلے میں جن مراحل سے گزری ہے اور جس قدر متضاد طرزِ زندگی پر مجبور کی گئی ہے، دُنیا کی تاریخ میں اس کی مثال کم ہی ملے گی۔ اگر عدالتوں میں اس کے حقوق کا جائزہ لیا جائے تو اوسطاً ہر پچیس سال کے بعد قوانین کو تبدیل کرکے بھی آج اس کے ساتھ انصاف نہیں کیا جارہا ہے، اور اگر معاشرے میں اس کے مقام اور کردار کے متعلق غور کیا جائے تو پتہ چلے گا کہ آج سے زیادہ رُسوائی اور بے عزتی کا دور عورت کے اوپر کبھی نہیں آیا تھا۔ کس قدر عجیب بات ہے کہ مرد اپنے ذوقِ جمال کو تسکین دینے کے لیے اور اپنی شہوانی آگ کو مزید شعلۂ جوالہ بنانے کے لیے آج ہر مقام پر عورت کو عریاں اور آزاد کر چکا ہے۔ بازاروں میں، مکانوں میں، ہوٹلوں میں، ناچ گھروں میں، کلبوں میں، دکانوں پر جہاں کہیں آپ جائیں، عورت مرد کی آسودگیِ نظر کا سامان نظر آئے گی۔ گویا خود عورت کا اپنا وجود نہیں ہے، مرد عورت کو جس انداز میں دیکھنا چاہتا ہے وہ عریاں ہوتی جارہی ہے۔ سب سے پہلے جب مرد نے اپنی پیاسی نگاہوں کی تسکین کے لیے عورت سے لباس کی قید سے قدرے آزاد ہونے کا مطالبہ کیا تو بنتِ ِحوّا نے قباے مریم اُتار پھینکی، لیکن انسان کی نظر -ہل من مزید- کی قائل ہے۔ چنانچہ جب اس نے مزید تسکینِ نظر چاہی تو دست و بازو کھول دیے، پھر سینہ وساق عریاں ہوگئے اور بالآخر جسم پر جو براے نام لباس رہ گیا تھا آج اُس کو بھی اُتار پھینکنے کا مطالبہ شدید سے شدید تر ہوتا چلا جارہا ہے۔
-----------------------------------------------------------
*🕯عورت اور پردہ🕯*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
📬 اسلام ایک نظامِ عدل ہے۔ وہ انسانیت کا احترام سکھاتا ہے اور زندگی کے کسی شعبے میں بھی انسانیت کی تحقیر و توہین پسند نہیں فرماتا، بلکہ اُن تمام رُحجانات کا شدت کے ساتھ قلع قمع کرتا ہے جن سے انسانیت کی توہین ہوتی ہے۔ اسلام نے عورت کو پردے کا حکم بھی اسی لیے دیا ہے کہ اس کی انسانی قدروں کا احترام ممکن ہوسکے۔ آپ اگر ازمنۂ قدیمہ میں عورت کی حیثیت کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوگا کہ آج صرف انداز بدل گیا ہے، ورنہ اسلام سے قبل عرب، ہند، روم و یونان میں عورت کو جو حیثیت حاصل تھی اور جس ذلت کی زندگی پر اسے مجبور کیا گیا تھا، غیر اسلامی معاشرے میں آج بھی وہی حیثیت برقرار ہے، صرف برتاؤ کا انداز بدل گیا ہے، تخاطب کا لب ولہجہ بدل گیا ہے، شرابِ کہن کو نئے جام میں انڈیل دیا گیا ہے۔
جس زمانے میں پوری دُنیا میں عورت کو کوئی عزت کا مقام حاصل نہیں تھا، یونان میں یہ بحث چل رہی تھی کہ عورت کے اندر احساس ہے یا نہیں۔ یورپ نے اسے خبیثہ، مکارہ اور شجرِ ممنوعہ کی طرف لے جانے والی برائی قرار دیا تھا۔ عرب وہند میں عورت کو بازار کی جنسِ ارزاں سے زیادہ حیثیت حاصل نہیں تھی، کہیں بچیوں کو زندہ دفن کیا جاتا تھا اور کہیں مرد کی چِتا پر عورتوں کو زبردستی جلنا پڑتا تھا۔ اسی دور میں پیغمبر آخرالزماں صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلی بار دُنیا کو عورتوں کی عزت واحترام کا احساس دلایا اور اپنی تعلیمات میں یہ بات واضح کر دی کہ عورت نصف انسانیت ہے اور مرد ہی کی طرح لائقِ احترام ہے۔ آپ نے ارشاد فرمایا: عورتیں نازک شیشے ہیں، ان کا خیال رکھو۔ ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا کہ: عورتوں کو ان کے حقوق دو اور ان پر ظلم نہ کرو۔ اپنے آخری خطبے میں حجۃ الوداع کے موقع پر ارشاد فرمایا کہ: عورتوں کے معاملے میں خدا سے ڈرتے رہو۔ اپنی مقدس تعلیمات کے ذریعے رسولِ پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسا صالح معاشرہ تشکیل فرمایا کہ جس میں دُنیا کے اس مظلوم ترین طبقہ نے عزت و وقار کی آنکھ کھولی اور زندگی کے تمام میدانوں میں خواہ وہ معاشرتی ہوں یا تعلیمی؛ سرگرم حصہ لے کر دین ودُنیا کی تعمیر وترقی میں نمایاں کردار ادا کیا۔ اس کے برعکس یورپ میں عورت سترھویں صدی عیسوی تک مظلوم تر رہی اور جب یہاں کے لوگوں نے کلیسائی جبر و تشدد کا قلادہ اپنی گردن سے اُتار پھینکا تو عورت بھی ایک دَم آزاد ہوگئی۔ مگر اس کی آزادی بالکل ایسی ہی تھی جیسے کہ کسی قیدی کو ایک صحرا میں لے جاکر آزاد کر دیا جائے، جہاں اس کو اپنی منزل کا قطعی پتہ نہ ہو۔ حتیٰ کہ اسے سمتوں کا تعین کرنا بھی مشکل ہو۔ ظاہر ہے ایسی صورت میں جو بھی کارواں اس طرف سے گذرے گا وہ اُس کے ساتھ ہوجائے گا، خواہ وہ کاروانِ حیات ہو یا قافلۂ موت، رہزَنوں کا گروہ ہویا رہبَروں کی جماعت۔
یہی وجہ ہے کہ گذشتہ تین صدیوں سے یورپ میں عورت اپنے حقوق کے تعین، اپنی انفرادی حیثیت کی بقا اور تحفظ کے سلسلے میں جن مراحل سے گزری ہے اور جس قدر متضاد طرزِ زندگی پر مجبور کی گئی ہے، دُنیا کی تاریخ میں اس کی مثال کم ہی ملے گی۔ اگر عدالتوں میں اس کے حقوق کا جائزہ لیا جائے تو اوسطاً ہر پچیس سال کے بعد قوانین کو تبدیل کرکے بھی آج اس کے ساتھ انصاف نہیں کیا جارہا ہے، اور اگر معاشرے میں اس کے مقام اور کردار کے متعلق غور کیا جائے تو پتہ چلے گا کہ آج سے زیادہ رُسوائی اور بے عزتی کا دور عورت کے اوپر کبھی نہیں آیا تھا۔ کس قدر عجیب بات ہے کہ مرد اپنے ذوقِ جمال کو تسکین دینے کے لیے اور اپنی شہوانی آگ کو مزید شعلۂ جوالہ بنانے کے لیے آج ہر مقام پر عورت کو عریاں اور آزاد کر چکا ہے۔ بازاروں میں، مکانوں میں، ہوٹلوں میں، ناچ گھروں میں، کلبوں میں، دکانوں پر جہاں کہیں آپ جائیں، عورت مرد کی آسودگیِ نظر کا سامان نظر آئے گی۔ گویا خود عورت کا اپنا وجود نہیں ہے، مرد عورت کو جس انداز میں دیکھنا چاہتا ہے وہ عریاں ہوتی جارہی ہے۔ سب سے پہلے جب مرد نے اپنی پیاسی نگاہوں کی تسکین کے لیے عورت سے لباس کی قید سے قدرے آزاد ہونے کا مطالبہ کیا تو بنتِ ِحوّا نے قباے مریم اُتار پھینکی، لیکن انسان کی نظر -ہل من مزید- کی قائل ہے۔ چنانچہ جب اس نے مزید تسکینِ نظر چاہی تو دست و بازو کھول دیے، پھر سینہ وساق عریاں ہوگئے اور بالآخر جسم پر جو براے نام لباس رہ گیا تھا آج اُس کو بھی اُتار پھینکنے کا مطالبہ شدید سے شدید تر ہوتا چلا جارہا ہے۔
❤1
Forwarded from فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
کیا یہ صورتِ حال عورت کو یہ احساس نہیں دلاتی کہ وہ محض مرد کی نگاہوں اور جنسی تقاضوں کی تسکین کا سامان ہے اور بس، اس کی اپنی کوئی مستقل حیثیت نہیں ہے۔ مجھے حیرت ہوتی ہے کہ ایک دُکان دار اپنی دُکان میں، ایک ہوٹل کا منتظم اپنے ہوٹل میں، کلبوں اور رقص گاہوں کے مالکان اپنے کلبوں اور ڈانس گھروں میں، فضائی پروازوں کی کمپنیاں اپنی پروازوں میں محض اس لیے خوب صورت عورتوں کو ملازم رکھتے ہیں کہ ان کا کاروبار چمکے اور گاہک زیادہ سے زیادہ آئیں۔ تو عورت کی ’’اَنا‘‘ اور اس کا ضمیر کیوں نہیں محسوس کرتا کہ وہ پہلے سامانِ تجارت تھی اور اب سامانِ تجارت کے ساتھ بِک رہی ہے۔ مگر صدیوں کی اس تذلیل نے عورتوں کا احساسِ خودی چھین لیا ہے اور اب وہ اپنی ان ذلتوں پر مطمئن ہوگئی ہے۔
اسلام نے عورتوں کے حدودِ عمل کی تعیین اور پردے کا حکم اس لیے نہیں دیا تھا کہ عورت کو مجبورِ محض بنا کر گھر کی چار دیواریوں میں محصور کردیا جائے بلکہ اسلام ان پابندیوں سے عورت کی عظمت اور معاشرے میں اس کے لیے مناسب کردار کا تحفظ چاہتا ہے۔ اگر آپ اسلام کے ماضی کا مطالعہ کریں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ انسانیت کی فلاح و بہبود اور ترقی وکمال میں عورت نے مرد ہی کی طرح اپنے حصے کا کارنامہ انجام دیا ہے اور کسی بھی مقام پر اپنے کو ان قیودِ عزت سے آزاد کرنے کی کوشش نہیں کی جن میں اس کا اپنا وقارِ نسوانی محفوظ تھا۔ اسلام نے عورت اور مرد کی فطری صلاحیتوں کے مطابق تقسیمِ کار کے بہترین اُصول وضع فرمائے۔ مرد اگر باہر کی دُنیا کا مہتمم ہے تو عورت گھر کے مسائل کی نگرانِ اعلیٰ۔ مرد اگر شمعِ انجمن ہے تو عورت چراغِ خانہ، مرد اگر خالد وطارق و محمود اور صلاح الدین بننے کے لیے پیدا ہوا ہے تو عورت اس لیے ہے کہ وہ گھر کو ایک ایسی تربیت گاہ بنا دے اور اس میں ایسے اسباب مہیا کرے جو مرد کو خالد وطارق اور محمود وصلاح الدین کے امثال بننے میں مدد دے۔ ؎
مکالماتِ فلاطوں نہ لکھ سکی لیکن
اسی کے شعلے سے ٹوٹا شرارِ افلاطوں
نکہتِ گل جب تک دامنِ گل میں پوشیدہ رہتی ہے باعزت و باوقار رہتی ہے، لیکن جب دامنِ گل سے نکل کر آوارہ ہوجاتی ہے تومٹ جاتی ہے۔ گل جب تک شاخِ گل سے وابستہ رہتا ہے تر و تازہ رہتا ہے اور جب شاخِ گل سے توڑ لیا جائے تو ممکن ہے کسی کے گلے کا ہار بن جائے، یا کسی کے دستار کی زینت بنے، یا کسی کے دامنِ حیات کو چند لمحوں کے لیے مہکا دے لیکن پھر وہ قدموں تلے روند دیا جاتا ہے۔ ؎
نہیں ہے شانِ خود داری چمن سے توڑ کر تجھ کو
کوئی دستار میں رکھ لے کوئی زیب گلو کر لے
کیا یہ آج کے بے پردہ ماحول کا خوف ناک انجام نہیں ہے کہ ایک انسان کا دل جب اپنی شریکِ زندگی سے بھر جاتا ہے، یا ایک عورت کا دل جب اپنے شریکِ حیات سے آسودہ ہوجاتا ہے تو اُس کی نگہِ انتخاب دوسری طرف اُٹھتی ہے، اور دونوں کی نگاہ میں ماضی کی رفاقت کی کوئی قدر و قیمت نہیں رہ جاتی؟ صنفِ نازک کی عریانیت معاشرے میں عفت و پاک دامنی کو ناممکن بنادیتی ہے۔ کیا یہ ایک ثابت شدہ حقیقت نہیں ہے کہ یورپ جیسے علاقے میں عصمت ایک جنسِ نایاب ہے جو کہیں نہیں پائی جاتی؟
یورپ میں ایک طرف تو مرد عورت کو زِنا کے بعد مطالبۂ طلاق کا حق دیا گیا ہے اور دوسری طرف زِنا کے اسباب و محرکات اس قدر عام کر دیے گئے ہیں کہ وہ قدم قدم پر دعوتِ گناہ دیتے ہیں۔
اسلام کی ایک بہت بڑی خوبی یہ بھی ہے کہ وہ قانون عطا فرمانے سے پہلے ایک ایسا ماحول تیار کرتا ہے جس میں اُس قانون کا نفاذ بخوبی کیا جاسکے۔ وہ راستے کے موانعات کو ختم فرماتا ہے، پھر راستہ چلنے کا حکم دیتا ہے۔ وہ عفت و پاک دامنی کا مطالبہ کرتا ہے تو پہلے زِنا کو حرام قرار دیتا ہے اور معاشرے میں ایسی فضا پیدا کرتا ہے جہاں باعفت اور پاک دامن رہنا آسان اور ارتکابِ گناہ دُشوار تر ہوجائے۔
پردے کا حکم بھی اسی لیے دیا گیا ہے کہ معاشرے کو جنسی جنون کی دست برد سے بچایا جاسکے اور معاشرے میں ایسے افراد پیدا کیے جا سکیں جن کا دامن جنسی آلودگیوں سے پاک ہو۔ اسلام ہر گھر کو عبادت گاہ تو نہیں بنانا چاہتا مگر عبادت گاہوں کا تقدس ضرور بخشتا ہے۔ آج اسلام کی کسی بیٹی کو مریم و عذرا ہونے کا دعویٰ تو نہیں ہے لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ آج بھی صرف مسلم معاشرے ہی میں ایسی بے شمارخواتین موجود ہیں جن کو مریم پاک کے مقدس آنچل کے صدقے میں عفت وعصمت کا لباسِ تقدس میسّرہے۔
[ماخوذ: مقالاتِ خطیب اعظم، مرتب: غلام مصطفیٰ رضوی، مطبوعہ رضا اکیڈمی ممبئی]
https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*از قلم✍🏻 علامہ قمرالزماں خان اعظمی، سکریٹری جنرل ورلڈ اسلامک مشن، لندن۔*
*ترسیل : نوری مشن مالیگاؤں۔*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
اسلام نے عورتوں کے حدودِ عمل کی تعیین اور پردے کا حکم اس لیے نہیں دیا تھا کہ عورت کو مجبورِ محض بنا کر گھر کی چار دیواریوں میں محصور کردیا جائے بلکہ اسلام ان پابندیوں سے عورت کی عظمت اور معاشرے میں اس کے لیے مناسب کردار کا تحفظ چاہتا ہے۔ اگر آپ اسلام کے ماضی کا مطالعہ کریں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ انسانیت کی فلاح و بہبود اور ترقی وکمال میں عورت نے مرد ہی کی طرح اپنے حصے کا کارنامہ انجام دیا ہے اور کسی بھی مقام پر اپنے کو ان قیودِ عزت سے آزاد کرنے کی کوشش نہیں کی جن میں اس کا اپنا وقارِ نسوانی محفوظ تھا۔ اسلام نے عورت اور مرد کی فطری صلاحیتوں کے مطابق تقسیمِ کار کے بہترین اُصول وضع فرمائے۔ مرد اگر باہر کی دُنیا کا مہتمم ہے تو عورت گھر کے مسائل کی نگرانِ اعلیٰ۔ مرد اگر شمعِ انجمن ہے تو عورت چراغِ خانہ، مرد اگر خالد وطارق و محمود اور صلاح الدین بننے کے لیے پیدا ہوا ہے تو عورت اس لیے ہے کہ وہ گھر کو ایک ایسی تربیت گاہ بنا دے اور اس میں ایسے اسباب مہیا کرے جو مرد کو خالد وطارق اور محمود وصلاح الدین کے امثال بننے میں مدد دے۔ ؎
مکالماتِ فلاطوں نہ لکھ سکی لیکن
اسی کے شعلے سے ٹوٹا شرارِ افلاطوں
نکہتِ گل جب تک دامنِ گل میں پوشیدہ رہتی ہے باعزت و باوقار رہتی ہے، لیکن جب دامنِ گل سے نکل کر آوارہ ہوجاتی ہے تومٹ جاتی ہے۔ گل جب تک شاخِ گل سے وابستہ رہتا ہے تر و تازہ رہتا ہے اور جب شاخِ گل سے توڑ لیا جائے تو ممکن ہے کسی کے گلے کا ہار بن جائے، یا کسی کے دستار کی زینت بنے، یا کسی کے دامنِ حیات کو چند لمحوں کے لیے مہکا دے لیکن پھر وہ قدموں تلے روند دیا جاتا ہے۔ ؎
نہیں ہے شانِ خود داری چمن سے توڑ کر تجھ کو
کوئی دستار میں رکھ لے کوئی زیب گلو کر لے
کیا یہ آج کے بے پردہ ماحول کا خوف ناک انجام نہیں ہے کہ ایک انسان کا دل جب اپنی شریکِ زندگی سے بھر جاتا ہے، یا ایک عورت کا دل جب اپنے شریکِ حیات سے آسودہ ہوجاتا ہے تو اُس کی نگہِ انتخاب دوسری طرف اُٹھتی ہے، اور دونوں کی نگاہ میں ماضی کی رفاقت کی کوئی قدر و قیمت نہیں رہ جاتی؟ صنفِ نازک کی عریانیت معاشرے میں عفت و پاک دامنی کو ناممکن بنادیتی ہے۔ کیا یہ ایک ثابت شدہ حقیقت نہیں ہے کہ یورپ جیسے علاقے میں عصمت ایک جنسِ نایاب ہے جو کہیں نہیں پائی جاتی؟
یورپ میں ایک طرف تو مرد عورت کو زِنا کے بعد مطالبۂ طلاق کا حق دیا گیا ہے اور دوسری طرف زِنا کے اسباب و محرکات اس قدر عام کر دیے گئے ہیں کہ وہ قدم قدم پر دعوتِ گناہ دیتے ہیں۔
اسلام کی ایک بہت بڑی خوبی یہ بھی ہے کہ وہ قانون عطا فرمانے سے پہلے ایک ایسا ماحول تیار کرتا ہے جس میں اُس قانون کا نفاذ بخوبی کیا جاسکے۔ وہ راستے کے موانعات کو ختم فرماتا ہے، پھر راستہ چلنے کا حکم دیتا ہے۔ وہ عفت و پاک دامنی کا مطالبہ کرتا ہے تو پہلے زِنا کو حرام قرار دیتا ہے اور معاشرے میں ایسی فضا پیدا کرتا ہے جہاں باعفت اور پاک دامن رہنا آسان اور ارتکابِ گناہ دُشوار تر ہوجائے۔
پردے کا حکم بھی اسی لیے دیا گیا ہے کہ معاشرے کو جنسی جنون کی دست برد سے بچایا جاسکے اور معاشرے میں ایسے افراد پیدا کیے جا سکیں جن کا دامن جنسی آلودگیوں سے پاک ہو۔ اسلام ہر گھر کو عبادت گاہ تو نہیں بنانا چاہتا مگر عبادت گاہوں کا تقدس ضرور بخشتا ہے۔ آج اسلام کی کسی بیٹی کو مریم و عذرا ہونے کا دعویٰ تو نہیں ہے لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ آج بھی صرف مسلم معاشرے ہی میں ایسی بے شمارخواتین موجود ہیں جن کو مریم پاک کے مقدس آنچل کے صدقے میں عفت وعصمت کا لباسِ تقدس میسّرہے۔
[ماخوذ: مقالاتِ خطیب اعظم، مرتب: غلام مصطفیٰ رضوی، مطبوعہ رضا اکیڈمی ممبئی]
https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*از قلم✍🏻 علامہ قمرالزماں خان اعظمی، سکریٹری جنرل ورلڈ اسلامک مشن، لندن۔*
*ترسیل : نوری مشن مالیگاؤں۔*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
Telegram
فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
اہلسنت و جماعت مسلک اعلیٰ حضرت کا ترجمان، وسط ہند کی عظیم درسگاہ " دارالعلوم امجدیہ ناگپور مہاراشٹرا" کے نام سے منسوب گروپ
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
👍1
لحد میں علی کا نام لیا فرشتے بھول گئے پڑھنے کا حکم
https://www.facebook.com/1960113650870434/posts/3064749343740187/
محترم قارئینِ کرام : فرشتے نوری مخلوق ہیں ۔ اللہ تعالی نے انہیں نور سے پیدا کیا اور ہماری نظروں سے پوشیدہ کر دیا اور انہیں ایسی طاقت دی کہ جس شکل میں چاہیں ظاہر ہو جائیں ۔ فرشتے حکمِ الٰہی کے خلاف کچھ نہیں کرتے ۔ یہ ہر قسم کے صغیرہ ، کبیرہ گناہوں سے پاک ہوتے ہیں ۔ کسی ”فرشتے“ کی ادنیٰ سی گستاخی بھی کفر ہے ۔ فرشتوں کے وجود کا انکار کرنا یا یہ کہنا کہ ”فرشتہ“ نیکی کی قوت کو کہتے ہیں اور اس کے سوا کچھ نہیں ، یہ کُفر ہے ۔ فرشتے اللہ تعالیٰ کے معصوم مخلوق ہیں اور نور سے پیدا کیے گئے ہیں ۔ فرشتے ہماری نظروں سے غائب ہیں اور وہ نہ تو مذکر ہیں اور نہ مؤنث ہیں ۔ نیز فرشتے انسانی حاجتوں کھانا ، پینا اور سونا وغیرہ سے پاک ہیں ۔
لحد میں میں نے جو مولیٰ علی کا نام لیا
قسم خدا کی فرشتے سوال بھول گئے
اس طرح کے اشعار بے جا غلو اور گستاخی کے زمرے میں آتے ہیں ۔
دوسرے مصرعے کی شرعی قباحت اہلِ علم سے پوشیدہ نہیں کہ ایک تخیلاتی احساس پر قسم اٹھانا اور وہ بھی ایک صریح کفر پر جس میں معصوم فرشتوں کی طرف نسیان کی نسبت کی گئ , بدترین گستاخی ہے ۔ مسئلہ یہ ہے کہ فرشتوں سے امکانِ نسیان تک محال ہے جبکہ مذکورہ بالا شعر میں صدورِ نسیان ثابت کیا گیا ہے ۔ ہمارے لکھنے والوں کو چاہیے کہ لکھنے سے پہلے حدود و قیود کا علم حاصل کریں اور جس کی مدح کرنی ہو کم از کم اس کی سیرت کے تابندہ گوشوں سے اخذ مضمون کریں اور ممدوح کے نظریات کی مخالف شاعری سے احتراز کریں , ایسی شاعری جس میں بجائے مدح کے ذم کا پہلو نکلتا ہو اور شرع شریف سے تصادم پیدا ہوتا ہو کرنے سے نہ کرنا بہتر ہے کیونکہ جن کی تعریف میں آپ ایسے غلو آمیز اور کفریہ شعر لکھتے پڑھتے ہیں بلا شبہ وہ ایسی مدح سے خوش نہیں بلکہ ناراض ہی ہونگے ۔
اس شعر میں کتنے کفریات و گستاخیاں ہیں یہ کسی اہل علم سے مخفی نہیں ۔
یہاں فرشتوں کو بھول جانے والا کہا گیا جو کہ سیدھی سیدھی گستاخی ہے اور یہی نہیں اس پہ قسم بھی اٹھائی گئی ۔
پاس بیٹھے نام نہاد مفکر اسلام و مفسر قرآن ریاض شاہ پنڈوی جھوم رہا ہے اور لوگوں سے ہاتھ چُمواتے ہوئے نذرانے وصول کر رہا ہے ، لیکن مجال ہے کہ موصوف کے کان پہ اس قدر غلو و گستاخی پر مبنی شعر سُن کر جوں تک رینگی ہو ۔ حالانکہ اہل سنت کا عقیدہ ہے کہ ملائکہ معصوم عن الخطاء ہیں ، بھول چوک سے پاک ہیں ۔ لیکن تفضیلی ٹولے کو عقائد اہل سنت کی پرواہ ہی نہیں ، کیونکہ اب یہ ٹولا اُن لوگوں کے باطل عقائد و نظریات کو اپنے انداز میں پھیلا رہا ہے جن کے نزدیک فرشتے بھول سکتے ہیں جیسا کہ ان رافضیوں کی کتابوں میں لکھا ہے ۔
شیعہ لکھتا ہے کہ : وحی پہنچانے میں جبرائیل سے غلطی ہوئی اور وہ حضرت علی کی بجائے حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے پاس وحی لے گئے ۔ (انوارِ نُعمانیہ 2/208،چشتی)
اگر اہل بیت اطہار رضی اللہ عنہم کی ایسی شانیں بیان کرو گے جس سے انبیاء و ملائکہ علیہم السلام یا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی توہین و بے ادبی ہوتی ہو تو قبر میں ان شاءالله فرشتے بھولیں گے نہیں بلکہ بڑی اچھی طرح یاد رکھیں گے کہ یہی وہ شخص ہے جو دنیا میں شریعت کو ہلکا سمجھتے ہوئے عقائدِ اہل سنت کی مخالفت کرتا رہا ۔
اور آخر میں ایسے اشعار پڑھنے والے نعت خوانوں اور پِیروں کو اُنہی کی بولی میں جواب کہ : ⬇
آل کی محبت بھی ہے وہی قبول
جو ہو شریعت کے مطابق یہ بھول گئے ؟
فرشتے ہیں نسیان سے پاک
عقائدِ اسلام کیوں بھول گئے ؟
قبر میں ہوں گے تین سوال
اے منکر بے ایمان ! یہ کیوں بھول گئے ؟
اور شیطان تو رہا خبیث و پلید
کیا تم بھی مسلمان ہونا بھول گئے ؟
(بصد شکریہ علامہ ارسلان احمد اصمعی قادری)
فرشتوں“ کے بارے میں اسلامی عقیدہ
فرشتے اللہ تعالیٰ کے معصوم مخلوق ہیں اور نور سے پیدا کیے گئے ہیں ۔ فرشتے ہماری نظروں سے غائب ہیں اور وہ نہ تو مذکر ہیں اور نہ مؤنث ہیں ۔ نیز فرشتے انسانی حاجتوں (کھانا ، پینا اور سونا وغیرہ) سے پاک ہیں ۔
يجب أن يقول آمنت بالله وملائكته
(وملائكته) بأنهم عباد مكرمون لايسبقونه بالقول وهم بأمره يعملون وأنهم معصومون ولا يعصون الله ومنزهون عن صفة الذكورية ونعت الأنوثية وقد أنكر الله في كتابه على من قال إنهم بنات الله حيث قال وجعلوا الملائكة الذين هم عباد الرحمن إناثا أشهدوا خلقهم ستكتب شهادتهم ويسئلون وقال أيضا أصطفي البنات على البنين مالكم كيف تحكمون وذكر في جواهر الأصول أن الملائكة ليس لهم حظ من نعيم الجنان ولا من رؤية الرحمن كذا في شرح القونوى لعمدة النسفي وذكر أيضا أنهم أجسام لطيفة هوائية تقدر على التشكل بأشكال مختلفة أولو أجنحة مثنى وثلاث ورباع مسكنهم السموات أى مسكن معظمهم قال وهذا قول أكثر المسلمين (شرح الفقه الاكبر للقاري صـ ١٢)
https://www.facebook.com/1960113650870434/posts/3064749343740187/
محترم قارئینِ کرام : فرشتے نوری مخلوق ہیں ۔ اللہ تعالی نے انہیں نور سے پیدا کیا اور ہماری نظروں سے پوشیدہ کر دیا اور انہیں ایسی طاقت دی کہ جس شکل میں چاہیں ظاہر ہو جائیں ۔ فرشتے حکمِ الٰہی کے خلاف کچھ نہیں کرتے ۔ یہ ہر قسم کے صغیرہ ، کبیرہ گناہوں سے پاک ہوتے ہیں ۔ کسی ”فرشتے“ کی ادنیٰ سی گستاخی بھی کفر ہے ۔ فرشتوں کے وجود کا انکار کرنا یا یہ کہنا کہ ”فرشتہ“ نیکی کی قوت کو کہتے ہیں اور اس کے سوا کچھ نہیں ، یہ کُفر ہے ۔ فرشتے اللہ تعالیٰ کے معصوم مخلوق ہیں اور نور سے پیدا کیے گئے ہیں ۔ فرشتے ہماری نظروں سے غائب ہیں اور وہ نہ تو مذکر ہیں اور نہ مؤنث ہیں ۔ نیز فرشتے انسانی حاجتوں کھانا ، پینا اور سونا وغیرہ سے پاک ہیں ۔
لحد میں میں نے جو مولیٰ علی کا نام لیا
قسم خدا کی فرشتے سوال بھول گئے
اس طرح کے اشعار بے جا غلو اور گستاخی کے زمرے میں آتے ہیں ۔
دوسرے مصرعے کی شرعی قباحت اہلِ علم سے پوشیدہ نہیں کہ ایک تخیلاتی احساس پر قسم اٹھانا اور وہ بھی ایک صریح کفر پر جس میں معصوم فرشتوں کی طرف نسیان کی نسبت کی گئ , بدترین گستاخی ہے ۔ مسئلہ یہ ہے کہ فرشتوں سے امکانِ نسیان تک محال ہے جبکہ مذکورہ بالا شعر میں صدورِ نسیان ثابت کیا گیا ہے ۔ ہمارے لکھنے والوں کو چاہیے کہ لکھنے سے پہلے حدود و قیود کا علم حاصل کریں اور جس کی مدح کرنی ہو کم از کم اس کی سیرت کے تابندہ گوشوں سے اخذ مضمون کریں اور ممدوح کے نظریات کی مخالف شاعری سے احتراز کریں , ایسی شاعری جس میں بجائے مدح کے ذم کا پہلو نکلتا ہو اور شرع شریف سے تصادم پیدا ہوتا ہو کرنے سے نہ کرنا بہتر ہے کیونکہ جن کی تعریف میں آپ ایسے غلو آمیز اور کفریہ شعر لکھتے پڑھتے ہیں بلا شبہ وہ ایسی مدح سے خوش نہیں بلکہ ناراض ہی ہونگے ۔
اس شعر میں کتنے کفریات و گستاخیاں ہیں یہ کسی اہل علم سے مخفی نہیں ۔
یہاں فرشتوں کو بھول جانے والا کہا گیا جو کہ سیدھی سیدھی گستاخی ہے اور یہی نہیں اس پہ قسم بھی اٹھائی گئی ۔
پاس بیٹھے نام نہاد مفکر اسلام و مفسر قرآن ریاض شاہ پنڈوی جھوم رہا ہے اور لوگوں سے ہاتھ چُمواتے ہوئے نذرانے وصول کر رہا ہے ، لیکن مجال ہے کہ موصوف کے کان پہ اس قدر غلو و گستاخی پر مبنی شعر سُن کر جوں تک رینگی ہو ۔ حالانکہ اہل سنت کا عقیدہ ہے کہ ملائکہ معصوم عن الخطاء ہیں ، بھول چوک سے پاک ہیں ۔ لیکن تفضیلی ٹولے کو عقائد اہل سنت کی پرواہ ہی نہیں ، کیونکہ اب یہ ٹولا اُن لوگوں کے باطل عقائد و نظریات کو اپنے انداز میں پھیلا رہا ہے جن کے نزدیک فرشتے بھول سکتے ہیں جیسا کہ ان رافضیوں کی کتابوں میں لکھا ہے ۔
شیعہ لکھتا ہے کہ : وحی پہنچانے میں جبرائیل سے غلطی ہوئی اور وہ حضرت علی کی بجائے حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے پاس وحی لے گئے ۔ (انوارِ نُعمانیہ 2/208،چشتی)
اگر اہل بیت اطہار رضی اللہ عنہم کی ایسی شانیں بیان کرو گے جس سے انبیاء و ملائکہ علیہم السلام یا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی توہین و بے ادبی ہوتی ہو تو قبر میں ان شاءالله فرشتے بھولیں گے نہیں بلکہ بڑی اچھی طرح یاد رکھیں گے کہ یہی وہ شخص ہے جو دنیا میں شریعت کو ہلکا سمجھتے ہوئے عقائدِ اہل سنت کی مخالفت کرتا رہا ۔
اور آخر میں ایسے اشعار پڑھنے والے نعت خوانوں اور پِیروں کو اُنہی کی بولی میں جواب کہ : ⬇
آل کی محبت بھی ہے وہی قبول
جو ہو شریعت کے مطابق یہ بھول گئے ؟
فرشتے ہیں نسیان سے پاک
عقائدِ اسلام کیوں بھول گئے ؟
قبر میں ہوں گے تین سوال
اے منکر بے ایمان ! یہ کیوں بھول گئے ؟
اور شیطان تو رہا خبیث و پلید
کیا تم بھی مسلمان ہونا بھول گئے ؟
(بصد شکریہ علامہ ارسلان احمد اصمعی قادری)
فرشتوں“ کے بارے میں اسلامی عقیدہ
فرشتے اللہ تعالیٰ کے معصوم مخلوق ہیں اور نور سے پیدا کیے گئے ہیں ۔ فرشتے ہماری نظروں سے غائب ہیں اور وہ نہ تو مذکر ہیں اور نہ مؤنث ہیں ۔ نیز فرشتے انسانی حاجتوں (کھانا ، پینا اور سونا وغیرہ) سے پاک ہیں ۔
يجب أن يقول آمنت بالله وملائكته
(وملائكته) بأنهم عباد مكرمون لايسبقونه بالقول وهم بأمره يعملون وأنهم معصومون ولا يعصون الله ومنزهون عن صفة الذكورية ونعت الأنوثية وقد أنكر الله في كتابه على من قال إنهم بنات الله حيث قال وجعلوا الملائكة الذين هم عباد الرحمن إناثا أشهدوا خلقهم ستكتب شهادتهم ويسئلون وقال أيضا أصطفي البنات على البنين مالكم كيف تحكمون وذكر في جواهر الأصول أن الملائكة ليس لهم حظ من نعيم الجنان ولا من رؤية الرحمن كذا في شرح القونوى لعمدة النسفي وذكر أيضا أنهم أجسام لطيفة هوائية تقدر على التشكل بأشكال مختلفة أولو أجنحة مثنى وثلاث ورباع مسكنهم السموات أى مسكن معظمهم قال وهذا قول أكثر المسلمين (شرح الفقه الاكبر للقاري صـ ١٢)
❤1
الملائكة عباد مكرمون يواظبون على الطاعة ويظهرون في صور مختلفة ويتمكنون من أفعال شاقة ومع كونهم أجساما أحياء لا يوصفون بذكورة ولا أنوثة (شرح المقاصد ٥/٦٢)
فان قلت فما المراد بقوله تعالى وجعلوا بينه وبين الجنة نسبا هل هو الجن أو الملائكة كما هو المشهور من قولهم في الملائكة إنهم بنات الله تعالى عن ذلك فالجواب المراد بالجنة هنا الملائكة وسموا جنة لاستتارهم عن العيون مع كونهم يحضرون معنا في مجالسنا ولانراهم (اليواقيت والجواهر ٢/٥٠)
عن عائشة قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم خلقت الملائكة من نور وخلق الجان من مارج من نار وخلق آدم مما وصف لكم (صحيح مسلم، الرقم: ۲۹۹٦)
وقوله فلما رأى أيديهم لا تصل إليه نكرهم، تنكرهم وأوجس منهم خيفة وذلك أن الملائكة لا همة لهم إلى الطعام ولا يشتهونه ولا يأكلونه (تفسير ابن كثير ٤/۳۳۳،چشتی)
فرشتے نوری مخلوق ہیں ۔ اللہ تَعَالیٰ نے انہیں نور سے پیدا کیا اور ہماری نظروں سے پوشیدہ کر دیا اور انہیں ایسی طاقت دی کہ جس شکل میں چاہیں ظاہر ہو جائیں ۔ ”فرشتے“ حکمِ الٰہی کے خلاف کچھ نہیں کرتے ۔ یہ ہر قسم کے صغیرہ ، کبیرہ گناہوں سے پاک ہوتے ہیں ۔ کسی ”فرشتے“ کی ادنیٰ سی گستاخی بھی کفر ہے۔”فرشتوں“ کے وجود کا انکار کرنا یا یہ کہنا کہ ”فرشتہ“ نیکی کی قوت کو کہتے ہیں اور اس کے سوا کچھ نہیں ، یہ کُفر ہے ۔
فرشتوں کی تعداد
فرشتوں کی تعداد وہی رَبّ عَزَّوَجَلَّ بہتر جانتا ہے جس نے انہیں پیدا کیا اور اُس کے بتائے سے اُس کا رسول جانے ۔
چار فرشتے بہت مشہور ہیں : حضرات جبرائیل و میکائیل و اسرافیل و عزرائیل عَلَیْہِمُ السَّلَام اور یہ سب ”فرشتوں“ پر فضیلت رکھتے ہیں ۔
فرشتے کیا کرتے ہیں ؟
اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ان کے ذمے مختلف کام لگائے ہیں ، جن میں سے چند یہ ہیں : انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام کی خدمت میں وحی لانا ، بارش برسانا ، ہوائیں چلانا ، مخلوق تک روزی پہنچانا ، ماں کے پیٹ میں بچہ کی صورت بنانا ، بدنِ انسانی میں تصرف کرنا ، انسان کی حفاظت کرنا ، نیک اجتماعات میں شریک ہونا ، انسان کے نامۂ اعمال لکھنا ، دربارِ رِسالت مآب میں حاضر ہونا ، بارگارہِ رسالت میں مسلمانوں کا دُرُود و سلام پہنچانا ، مُردوں سے سوال کرنا ، روح قبض کرنا، گناہ گاروں کو عذاب کرنا ، صُور پُھونکنا اور اِن کے علاوہ اور بہت سے کام ہیں جو ملائکہ انجام دیتے ہیں ۔ (بہارِ شریعت جلد 1 صفحہ 90 تا 95) ۔
(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)
فان قلت فما المراد بقوله تعالى وجعلوا بينه وبين الجنة نسبا هل هو الجن أو الملائكة كما هو المشهور من قولهم في الملائكة إنهم بنات الله تعالى عن ذلك فالجواب المراد بالجنة هنا الملائكة وسموا جنة لاستتارهم عن العيون مع كونهم يحضرون معنا في مجالسنا ولانراهم (اليواقيت والجواهر ٢/٥٠)
عن عائشة قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم خلقت الملائكة من نور وخلق الجان من مارج من نار وخلق آدم مما وصف لكم (صحيح مسلم، الرقم: ۲۹۹٦)
وقوله فلما رأى أيديهم لا تصل إليه نكرهم، تنكرهم وأوجس منهم خيفة وذلك أن الملائكة لا همة لهم إلى الطعام ولا يشتهونه ولا يأكلونه (تفسير ابن كثير ٤/۳۳۳،چشتی)
فرشتے نوری مخلوق ہیں ۔ اللہ تَعَالیٰ نے انہیں نور سے پیدا کیا اور ہماری نظروں سے پوشیدہ کر دیا اور انہیں ایسی طاقت دی کہ جس شکل میں چاہیں ظاہر ہو جائیں ۔ ”فرشتے“ حکمِ الٰہی کے خلاف کچھ نہیں کرتے ۔ یہ ہر قسم کے صغیرہ ، کبیرہ گناہوں سے پاک ہوتے ہیں ۔ کسی ”فرشتے“ کی ادنیٰ سی گستاخی بھی کفر ہے۔”فرشتوں“ کے وجود کا انکار کرنا یا یہ کہنا کہ ”فرشتہ“ نیکی کی قوت کو کہتے ہیں اور اس کے سوا کچھ نہیں ، یہ کُفر ہے ۔
فرشتوں کی تعداد
فرشتوں کی تعداد وہی رَبّ عَزَّوَجَلَّ بہتر جانتا ہے جس نے انہیں پیدا کیا اور اُس کے بتائے سے اُس کا رسول جانے ۔
چار فرشتے بہت مشہور ہیں : حضرات جبرائیل و میکائیل و اسرافیل و عزرائیل عَلَیْہِمُ السَّلَام اور یہ سب ”فرشتوں“ پر فضیلت رکھتے ہیں ۔
فرشتے کیا کرتے ہیں ؟
اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ان کے ذمے مختلف کام لگائے ہیں ، جن میں سے چند یہ ہیں : انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام کی خدمت میں وحی لانا ، بارش برسانا ، ہوائیں چلانا ، مخلوق تک روزی پہنچانا ، ماں کے پیٹ میں بچہ کی صورت بنانا ، بدنِ انسانی میں تصرف کرنا ، انسان کی حفاظت کرنا ، نیک اجتماعات میں شریک ہونا ، انسان کے نامۂ اعمال لکھنا ، دربارِ رِسالت مآب میں حاضر ہونا ، بارگارہِ رسالت میں مسلمانوں کا دُرُود و سلام پہنچانا ، مُردوں سے سوال کرنا ، روح قبض کرنا، گناہ گاروں کو عذاب کرنا ، صُور پُھونکنا اور اِن کے علاوہ اور بہت سے کام ہیں جو ملائکہ انجام دیتے ہیں ۔ (بہارِ شریعت جلد 1 صفحہ 90 تا 95) ۔
(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)
❤1
اِس شعر کے بارے میں حکم شرع
https://t.me/islaamic_Knowledge/24672
لحد میں میں نے جو مولیٰ علی کا نام لیا
قسم خدا کی فرشتے سوال بھول گئے
https://www.facebook.com/1960113650870434/posts/3064749343740187/
✍ #ڈاکٹر_فیض_احمد_چشتی
https://t.me/islaamic_Knowledge/24672
لحد میں میں نے جو مولیٰ علی کا نام لیا
قسم خدا کی فرشتے سوال بھول گئے
https://www.facebook.com/1960113650870434/posts/3064749343740187/
✍ #ڈاکٹر_فیض_احمد_چشتی
❤1
فضائل و مناقب حضرت مولا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/287281996841180/
محترم قارئینِ کرام : نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے جب دعوت اسلام دی تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جن کی عمر دس سال کے لگ بھگ تھی اور آپ نے فوراً اسلام قبول کرلیا تھا ۔ ایک انصاری شخص ابو حمزہ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ سب سے پہلے حضرت علی رضی اللہ عنہ ایمان لائے ۔ (جامع الترمذی، رقم: 3735)
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم حجفہ میں غدیر خم کے مقام پر تھے، جب نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلّم باہر تشریف لائے تو آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہاتھ پکڑ کر فوراً فرمایا : من کنت مولاه فعلی مولاه ۔
ترجمہ : جس کامیں مولا ہوں اس کا علی مولا ہے ۔ (ابن ابی شيبه، المصنف، رقم: 12121)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے فرمایا میں شہرِ علم ہوں اور علی اس کا دروازہ ہیں۔ پس جو کوئی علم کا ارادہ کرے وہ دروازے کے پاس آئے ۔ (المعجم الطبرانی، 11: 55)
اسی طرح ایک اور روایت ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے فرمایا: میں حکمت کا گھر ہوں اور علی رضی اللہ عنہ اس کا دروازہ ہیں ۔ (جامع الترمذی، کتاب المناقب، 5: 637)
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلّمنے فرمایا: علی قرآن کے ساتھ اور قرآن علی کے ساتھ ہے ۔ یہ دونوں (اس طرح جڑے رہیں گے اور) جدا نہیں ہوں گے حتی کہ حوض کوثر پر مل کر میرے پاس آئیں گے ۔ (المستدرک للحاکم، 3: 121،چشتی)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے فرمایا : حسن و حسین رضی اللہ عنہما جنت کے جوانوں کے دو سردار ہیں اور ان کے باپ (علی رضی اللہ عنہ) ان دونوں سے بہتر ہیں ۔ (ابن ماجه، 1: 44)
حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ سے 11586 احادیث مروی ہیں ۔ فقہ اور اجتہاد میں آپ رضی اللہ عنہ کو خاص مقام حاصل تھا ۔ حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ چار سال نو ماہ تک منصب خلافت پر فائز رہے ۔ 19 رمضان المبارک 40 ہجری 660 عیسوی کو جب حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ فجر کی نماز کوفہ کی مسجد میں پڑھارہے تھے تو ایک خارجی عبدالرحمن ابن ملجم ملعون آپ پر زہر آلود خنجر سے حملہ آور ہوا ۔ حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ کو کئی زخم آئے جس کے نتیجے میں 21 رمضان المبارک کو جام شہادت نوش فرمایا ۔
خلیفہ چہارم جانشین رسول وزوج بتول حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی کنیت ”ابوالحسن”اور”ابو تراب”ہے۔ آپ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے چچا ابو طالب کے فرزند ارجمند ہیں ۔ عام الفیل کے تیس برس بعد جبکہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کی عمر شریف تیس برس کی تھی ۔ جمعہ کے دن حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ پیدا ہوئے ۔ آپ کی والد ہ ماجدہ کا نام حضرت فاطمہ بنت اسد ہے (رضی اللہ تعالیٰ عنہا) آپ نے اپنے بچپن ہی میں اسلام قبول کرلیا تھا اورحضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے زیرتربیت ہر وقت آ پ کی امدادونصرت میں لگے رہتے تھے ۔ آپ مہاجرین اولین اورعشر ہ مبشرہ میں اپنے بعض خصوصی درجات کے لحاظ سے بہت زیادہ ممتاز ہیں۔ جنگ بدر، جنگ اُحد، جنگ خندق وغیرہ تمام اسلامی لڑائیوں میں اپنی بے پناہ شجاعت کے ساتھ جنگ فرماتے رہے اورکفار عرب کے بڑے بڑے نامور بہادر اور سورما آپ کی مقدس تلوارِ ذُوالفقار کی مار سے مقتول ہوئے ۔ امیرالمؤمنین حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت کے بعد انصار و مہاجرین نے آپ کے دست حق پرست پر بیعت کر کے آپ کو امیرالمؤمنین منتخب کیا اور چار برس آٹھ ماہ نو دن تک آپ مسندِ خلافت کو سرفراز فرماتے رہے ۔ ۱۷ رمضان ۴۰ھ کو عبدالرحمن بن ملجم مرادی خارجی مردود نے نماز فجر کو جاتے ہوئے آ پ کی مقدس پیشانی اورنورانی چہرے پر ایسی تلوار ماری جس سے آپ شدیدطور پر زخمی ہوگئے اور دودن زندہ رہ کر جام شہادت سے سیراب ہوگئے اوربعض کتابوں میں لکھا ہے کہ ۱۹ رمضان جمعہ کی رات میں آپ زخمی ہوئے اور ۲۱ رمضان شب یکشنبہ آپ کی شہادت ہوئی ۔ آپ کے بڑے فرزند ارجمند حضرت امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ کی نماز جنازہ پڑھائی اور آپ کو دفن فرمایا ۔ (تاریخ الخلفاء، وازالۃ الخفاء،چشتی)
قبروالوں سے سوال و جواب
حضرت سعید بن مسیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ امیرالمؤمنین حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ مدینہ منورہ کے قبرستان جنت البقیع میں گئے تو آپ نے قبروں کے سامنے کھڑے ہوکر باآواز بلند فرمایا کہ اے قبروالو! السلام علیکم ورحمۃ اللہ ! کیا تم لوگ اپنی خبریں ہمیں سناؤ گے یا ہم تم لوگوں کو تمہاری خبریں سنائیں؟ اس کے جواب میں قبروں کے اندر سے آواز آئی: ”وعلیک السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ” اے امیر المؤمنین! رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/287281996841180/
محترم قارئینِ کرام : نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے جب دعوت اسلام دی تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جن کی عمر دس سال کے لگ بھگ تھی اور آپ نے فوراً اسلام قبول کرلیا تھا ۔ ایک انصاری شخص ابو حمزہ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ سب سے پہلے حضرت علی رضی اللہ عنہ ایمان لائے ۔ (جامع الترمذی، رقم: 3735)
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم حجفہ میں غدیر خم کے مقام پر تھے، جب نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلّم باہر تشریف لائے تو آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہاتھ پکڑ کر فوراً فرمایا : من کنت مولاه فعلی مولاه ۔
ترجمہ : جس کامیں مولا ہوں اس کا علی مولا ہے ۔ (ابن ابی شيبه، المصنف، رقم: 12121)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے فرمایا میں شہرِ علم ہوں اور علی اس کا دروازہ ہیں۔ پس جو کوئی علم کا ارادہ کرے وہ دروازے کے پاس آئے ۔ (المعجم الطبرانی، 11: 55)
اسی طرح ایک اور روایت ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے فرمایا: میں حکمت کا گھر ہوں اور علی رضی اللہ عنہ اس کا دروازہ ہیں ۔ (جامع الترمذی، کتاب المناقب، 5: 637)
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلّمنے فرمایا: علی قرآن کے ساتھ اور قرآن علی کے ساتھ ہے ۔ یہ دونوں (اس طرح جڑے رہیں گے اور) جدا نہیں ہوں گے حتی کہ حوض کوثر پر مل کر میرے پاس آئیں گے ۔ (المستدرک للحاکم، 3: 121،چشتی)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے فرمایا : حسن و حسین رضی اللہ عنہما جنت کے جوانوں کے دو سردار ہیں اور ان کے باپ (علی رضی اللہ عنہ) ان دونوں سے بہتر ہیں ۔ (ابن ماجه، 1: 44)
حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ سے 11586 احادیث مروی ہیں ۔ فقہ اور اجتہاد میں آپ رضی اللہ عنہ کو خاص مقام حاصل تھا ۔ حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ چار سال نو ماہ تک منصب خلافت پر فائز رہے ۔ 19 رمضان المبارک 40 ہجری 660 عیسوی کو جب حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ فجر کی نماز کوفہ کی مسجد میں پڑھارہے تھے تو ایک خارجی عبدالرحمن ابن ملجم ملعون آپ پر زہر آلود خنجر سے حملہ آور ہوا ۔ حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ کو کئی زخم آئے جس کے نتیجے میں 21 رمضان المبارک کو جام شہادت نوش فرمایا ۔
خلیفہ چہارم جانشین رسول وزوج بتول حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی کنیت ”ابوالحسن”اور”ابو تراب”ہے۔ آپ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے چچا ابو طالب کے فرزند ارجمند ہیں ۔ عام الفیل کے تیس برس بعد جبکہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کی عمر شریف تیس برس کی تھی ۔ جمعہ کے دن حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ پیدا ہوئے ۔ آپ کی والد ہ ماجدہ کا نام حضرت فاطمہ بنت اسد ہے (رضی اللہ تعالیٰ عنہا) آپ نے اپنے بچپن ہی میں اسلام قبول کرلیا تھا اورحضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے زیرتربیت ہر وقت آ پ کی امدادونصرت میں لگے رہتے تھے ۔ آپ مہاجرین اولین اورعشر ہ مبشرہ میں اپنے بعض خصوصی درجات کے لحاظ سے بہت زیادہ ممتاز ہیں۔ جنگ بدر، جنگ اُحد، جنگ خندق وغیرہ تمام اسلامی لڑائیوں میں اپنی بے پناہ شجاعت کے ساتھ جنگ فرماتے رہے اورکفار عرب کے بڑے بڑے نامور بہادر اور سورما آپ کی مقدس تلوارِ ذُوالفقار کی مار سے مقتول ہوئے ۔ امیرالمؤمنین حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت کے بعد انصار و مہاجرین نے آپ کے دست حق پرست پر بیعت کر کے آپ کو امیرالمؤمنین منتخب کیا اور چار برس آٹھ ماہ نو دن تک آپ مسندِ خلافت کو سرفراز فرماتے رہے ۔ ۱۷ رمضان ۴۰ھ کو عبدالرحمن بن ملجم مرادی خارجی مردود نے نماز فجر کو جاتے ہوئے آ پ کی مقدس پیشانی اورنورانی چہرے پر ایسی تلوار ماری جس سے آپ شدیدطور پر زخمی ہوگئے اور دودن زندہ رہ کر جام شہادت سے سیراب ہوگئے اوربعض کتابوں میں لکھا ہے کہ ۱۹ رمضان جمعہ کی رات میں آپ زخمی ہوئے اور ۲۱ رمضان شب یکشنبہ آپ کی شہادت ہوئی ۔ آپ کے بڑے فرزند ارجمند حضرت امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ کی نماز جنازہ پڑھائی اور آپ کو دفن فرمایا ۔ (تاریخ الخلفاء، وازالۃ الخفاء،چشتی)
قبروالوں سے سوال و جواب
حضرت سعید بن مسیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ امیرالمؤمنین حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ مدینہ منورہ کے قبرستان جنت البقیع میں گئے تو آپ نے قبروں کے سامنے کھڑے ہوکر باآواز بلند فرمایا کہ اے قبروالو! السلام علیکم ورحمۃ اللہ ! کیا تم لوگ اپنی خبریں ہمیں سناؤ گے یا ہم تم لوگوں کو تمہاری خبریں سنائیں؟ اس کے جواب میں قبروں کے اندر سے آواز آئی: ”وعلیک السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ” اے امیر المؤمنین! رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ
❤1
ہی ہمیں یہ سنائيے کہ ہماری موت کے بعد ہمارے گھروں میں کیا کیا معاملات ہوئے ؟ حضرت امیر المؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ اے قبر والو! تمہارے بعد تمہارے گھروں کی خبر یہ ہے کہ تمہاری بیویوں نے دوسرے لوگوں سے نکاح کرلیا اور تمہارے مال ودولت کو تمہارے وارثوں نے آپس میں تقسیم کرلیا اور تمہارے چھوٹے چھوٹے بچے یتیم ہوکر دربدر پھر رہے ہیں اورتمہارے مضبوط اور اونچے اونچے محلوں میں تمہارے دشمن آرام اورچین کے ساتھ زندگی بسر کررہے ہیں ۔ اس کے جواب میں قبروں میں سے ایک مردہ کی یہ دردناک آواز آئی کہ اے امیرالمؤمنین! رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہماری خبریہ ہے کہ ہمارے کفن پرانے ہوکر پھٹ چکے ہیں اورجو کچھ ہم نے دنیا میں خرچ کیا تھا اس کو ہم نے یہاں پالیا ہے اورجو کچھ ہم دنیا میں چھوڑآئے تھے اس میں ہمیں گھاٹا ہی گھاٹااٹھانا پڑا ہے ۔ (حجۃ اللہ علی العالمین ج۲،ص۸۶۳،چشتی)
اس روایت سے معلوم ہوا کہ اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے محبوب بندوں کو یہ طاقت وقدرت عطافرماتاہے کہ قبر والے ان کے سوالوں کا باآواز بلنداس طرح جواب دیتے ہیں کہ دوسرے حاضرین بھی سن لیتے ہیں ۔ یہ قدرت وطاقت عام انسانوں کو حاصل نہیں ہے۔ لوگ اپنی آوازیں تو مردوں کو سنا سکتے ہیں اورمردے ان کی آوازوں کو سن بھی لیتے ہیں مگر قبر کے اندر سے مردوں کی آوازوں کو سن لینا یہ عام انسانوں کے بس کی بات نہیں ہے ،بلکہ یہ خاصا ن خدا کا خاص حصہ اور خاصہ ہے جس کوان کی کرامت کے سواکچھ بھی نہیں کہاجاسکتااوراس روایت سے یہ بھی پتاچلا کہ قبروالوں کا یہ اقبالی بیان ہے کہ مرنے والے دنیا میں جو مال ودولت چھوڑ کر مرجاتے ہیں اس میں مرنے والوں کے لیے سر اسر گھاٹا ہی گھاٹا ہے اورجس مال ودولت کو وہ مرنے سے پہلے خدا عزوجل کی راہ میں خرچ کرتے ہیں وہی ان کے کام آنے والاہے ۔
فالج زدہ اچھا ہوگیا
علامہ تاج الدین سبکی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اپنی کتاب”طبقات” میں ذکر فرمایا ہے کہ ایک مرتبہ امیر المؤمنین حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے دونوں شاہزادگان حضرت امام حسن وامام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہماکے ساتھ حرم کعبہ میں حاضر تھے کہ درمیانی رات میں ناگہاں یہ سنا کہ ایک شخص بہت ہی گڑگڑا کر اپنی حاجت کے لیے دعا مانگ رہا ہے اور زار زار رو رہا ہے ۔ آپ نے حکم دیا کہ اس شخص کو میرے پاس لاؤ ۔ وہ شخص اس حال میں حاضر خدمت ہوا کہ اس کے بدن کی ایک کروٹ فالج زدہ تھی اوروہ زمین پر گھسٹتا ہوا آپ کے سامنے آیا۔آپ نے اس کا قصہ دریافت فرمایا تو اس نے عرض کیا کہ اے امیرالمؤمنین! رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں بہت ہی بے باکی کے ساتھ قسم قسم کے گناہوں میں دن رات منہمک رہتا تھا اورمیرا باپ جو بہت ہی صالح اورپابند شریعت مسلما ن تھا، باربار مجھ کو ٹوکتا اور گناہوں سے منع کرتارہتا تھا میں نے ایک دن اپنے باپ کی نصیحت سے ناراض ہوکر اس کو ماردیا اورمیر ی مار کھا کر میرا باپ رنج وغم میں ڈوباہوا حرم کعبہ آیااور میرے لئے بد دعا کرنے لگا۔ ابھی اس کی دعا ختم بھی نہیں ہوئی تھی کہ بالکل ہی اچانک میری ایک کروٹ پر فالج کا اثر ہوگیااورمیں زمین پر گھسٹ کر چلنے لگا۔ اس غیبی سزاسے مجھے بڑی عبرت حاصل ہوئی اورمیں نے روروکر اپنے باپ سے اپنے جرم کی معافی طلب کی اور میرے با پ نے اپنی شفقت پدری سے مجبور ہوکر مجھ پر رحم کھایا اور مجھے معاف کردیا اور کہا کہ بیٹا چل!جہاں میں نے تیرے ليے بد دعا کی تھی اسی جگہ اب میں تیرے لئے صحت وسلامتی کی دعا مانگوں گا۔ چنانچہ میں اپنے باپ کو اونٹنی پر سوا رکر کے مکہ معظمہ لارہا تھا کہ راستے میں بالکل ناگہاں اونٹنی ایک مقام پر بدک کر بھاگنے لگی اور میرا باپ اس کی پیٹھ پر سے گر کر دو چٹانوں کے درمیان ہلاک ہوگیا اوراب میں اکیلا ہی حرم کعبہ میں آکر دن رات رو رو کر خداتعالیٰ سے اپنی تندرستی کے لیے دعائیں مانگتا رہتا ہوں ۔ امیرالمؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ساری سرگزشت سن کر فرمایا کہ اے شخص !اگر واقعی تیرا باپ تجھ سے خوش ہوگیا تھا تو اطمینان رکھ کہ خدا کریم بھی تجھ سے خوش ہوگیا ہے ۔ اس نے کہا کہ اے امیر المؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں بحلف شرعی قسم کھا کر کہتاہوں کہ میرا باپ مجھ سے خوش ہوگیا تھا۔ امیرالمؤمنین حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس شخص کی حالت زار پر رحم کھاکر اس کو تسلی دی اورچند رکعت نماز پڑھ کر اس کی تندرستی کے لئے دعا مانگی۔ پھرفرمایا کہ اے شخص! اٹھ کھڑا ہوجا!یہ سنتے ہی وہ بلا تکلف اٹھ کر کھڑا ہو گیا اورچلنے لگا۔ آپ نے فرمایا کہ اے شخص !اگر تو نے قسم کھاکر یہ نہ کہا ہوتا کہ تیرا باپ تجھ سے خوش ہوگیا تھا تو میں ہرگز تیرے لئے دعا نہ کرتا ۔ (حجۃ اللہ علی العالمین جلد ۲ صفحہ ۸۶۳،چشتی)
گرتی ہوئی دیوار تھم گئی
اس روایت سے معلوم ہوا کہ اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے محبوب بندوں کو یہ طاقت وقدرت عطافرماتاہے کہ قبر والے ان کے سوالوں کا باآواز بلنداس طرح جواب دیتے ہیں کہ دوسرے حاضرین بھی سن لیتے ہیں ۔ یہ قدرت وطاقت عام انسانوں کو حاصل نہیں ہے۔ لوگ اپنی آوازیں تو مردوں کو سنا سکتے ہیں اورمردے ان کی آوازوں کو سن بھی لیتے ہیں مگر قبر کے اندر سے مردوں کی آوازوں کو سن لینا یہ عام انسانوں کے بس کی بات نہیں ہے ،بلکہ یہ خاصا ن خدا کا خاص حصہ اور خاصہ ہے جس کوان کی کرامت کے سواکچھ بھی نہیں کہاجاسکتااوراس روایت سے یہ بھی پتاچلا کہ قبروالوں کا یہ اقبالی بیان ہے کہ مرنے والے دنیا میں جو مال ودولت چھوڑ کر مرجاتے ہیں اس میں مرنے والوں کے لیے سر اسر گھاٹا ہی گھاٹا ہے اورجس مال ودولت کو وہ مرنے سے پہلے خدا عزوجل کی راہ میں خرچ کرتے ہیں وہی ان کے کام آنے والاہے ۔
فالج زدہ اچھا ہوگیا
علامہ تاج الدین سبکی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اپنی کتاب”طبقات” میں ذکر فرمایا ہے کہ ایک مرتبہ امیر المؤمنین حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے دونوں شاہزادگان حضرت امام حسن وامام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہماکے ساتھ حرم کعبہ میں حاضر تھے کہ درمیانی رات میں ناگہاں یہ سنا کہ ایک شخص بہت ہی گڑگڑا کر اپنی حاجت کے لیے دعا مانگ رہا ہے اور زار زار رو رہا ہے ۔ آپ نے حکم دیا کہ اس شخص کو میرے پاس لاؤ ۔ وہ شخص اس حال میں حاضر خدمت ہوا کہ اس کے بدن کی ایک کروٹ فالج زدہ تھی اوروہ زمین پر گھسٹتا ہوا آپ کے سامنے آیا۔آپ نے اس کا قصہ دریافت فرمایا تو اس نے عرض کیا کہ اے امیرالمؤمنین! رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں بہت ہی بے باکی کے ساتھ قسم قسم کے گناہوں میں دن رات منہمک رہتا تھا اورمیرا باپ جو بہت ہی صالح اورپابند شریعت مسلما ن تھا، باربار مجھ کو ٹوکتا اور گناہوں سے منع کرتارہتا تھا میں نے ایک دن اپنے باپ کی نصیحت سے ناراض ہوکر اس کو ماردیا اورمیر ی مار کھا کر میرا باپ رنج وغم میں ڈوباہوا حرم کعبہ آیااور میرے لئے بد دعا کرنے لگا۔ ابھی اس کی دعا ختم بھی نہیں ہوئی تھی کہ بالکل ہی اچانک میری ایک کروٹ پر فالج کا اثر ہوگیااورمیں زمین پر گھسٹ کر چلنے لگا۔ اس غیبی سزاسے مجھے بڑی عبرت حاصل ہوئی اورمیں نے روروکر اپنے باپ سے اپنے جرم کی معافی طلب کی اور میرے با پ نے اپنی شفقت پدری سے مجبور ہوکر مجھ پر رحم کھایا اور مجھے معاف کردیا اور کہا کہ بیٹا چل!جہاں میں نے تیرے ليے بد دعا کی تھی اسی جگہ اب میں تیرے لئے صحت وسلامتی کی دعا مانگوں گا۔ چنانچہ میں اپنے باپ کو اونٹنی پر سوا رکر کے مکہ معظمہ لارہا تھا کہ راستے میں بالکل ناگہاں اونٹنی ایک مقام پر بدک کر بھاگنے لگی اور میرا باپ اس کی پیٹھ پر سے گر کر دو چٹانوں کے درمیان ہلاک ہوگیا اوراب میں اکیلا ہی حرم کعبہ میں آکر دن رات رو رو کر خداتعالیٰ سے اپنی تندرستی کے لیے دعائیں مانگتا رہتا ہوں ۔ امیرالمؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ساری سرگزشت سن کر فرمایا کہ اے شخص !اگر واقعی تیرا باپ تجھ سے خوش ہوگیا تھا تو اطمینان رکھ کہ خدا کریم بھی تجھ سے خوش ہوگیا ہے ۔ اس نے کہا کہ اے امیر المؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں بحلف شرعی قسم کھا کر کہتاہوں کہ میرا باپ مجھ سے خوش ہوگیا تھا۔ امیرالمؤمنین حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس شخص کی حالت زار پر رحم کھاکر اس کو تسلی دی اورچند رکعت نماز پڑھ کر اس کی تندرستی کے لئے دعا مانگی۔ پھرفرمایا کہ اے شخص! اٹھ کھڑا ہوجا!یہ سنتے ہی وہ بلا تکلف اٹھ کر کھڑا ہو گیا اورچلنے لگا۔ آپ نے فرمایا کہ اے شخص !اگر تو نے قسم کھاکر یہ نہ کہا ہوتا کہ تیرا باپ تجھ سے خوش ہوگیا تھا تو میں ہرگز تیرے لئے دعا نہ کرتا ۔ (حجۃ اللہ علی العالمین جلد ۲ صفحہ ۸۶۳،چشتی)
گرتی ہوئی دیوار تھم گئی
❤1
حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ تعالیٰ عنہ راوی ہیں کہ ایک مرتبہ امیرالمؤمنین حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک دیوار کے سائے میں ایک مقدمہ کا فیصلہ فرمانے کے لیے بیٹھ گئے ۔ درمیان مقدمہ میں لوگوں نے شور مچایا کہ اے امیرالمؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ یہاں سے اٹھ جائيے یہ دیوار گررہی ہے ۔ آپ نے نہایت سکون واطمینان کے ساتھ فرمایا کہ مقدمہ کی کارروائی جاری رکھو۔اللہ تعالیٰ بہترین حافظ وناصرونگہبان ہے۔ چنانچہ اطمینان کے ساتھ آپ اس مقدمہ کا فیصلہ فرما کر جب وہاں سے چل دیئے تو فوراً ہی وہ دیوار گر گئی ۔ (ازالۃ الخفاء، مقصد ۲،ص۲۷۳) ۔ یہ روایت اس بات کی دلیل ہے کہ خداوند قدوس اپنے اولیاء کرام کو ایسی ایسی روحانی طاقتیں عطافرماتاہے کہ ان کے اشاروں سے گرتی ہوئی دیواریں تو کیا چیز ہیں؟ بہتے ہوئے دریاؤں کی روانی بھی ٹھہر جاتی ہے ۔
آپ کو جھوٹا کہنے والا اندھا ہوگیا
علی بن زاذان کا بیان ہے کہ امیر المؤمنین حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک مرتبہ کوئی بات ارشاد فرمائی تو ایک بد نصیب نے نہایت ہی بیباکی کے ساتھ یہ کہہ دیا کہ اے امیرالمؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ جھوٹے ہیں ۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ اے شخص ! اگر میں سچاہوں تو ضرور تو قہر الٰہی میں گرفتار ہو جائے گا ۔ اس گستاخ نے کہہ دیا کہ آپ میرے لیے بد دعا کردیجئے، مجھے اس کی پرواہ نہیں ہے ۔ ا س کے منہ سے ان الفاظ کا نکلنا تھا کہ بالکل ہی اچانک وہ شخص دونوں آنکھوں سے اندھا ہوگیا اور ادھر ادھر ہاتھ پاؤں مارنے لگا ۔ (ازالۃ الخفاء مقصد ۲ صفحہ نمبر ۲۷۳،چشتی)
کون کہاں مرے گا ؟ کہاں دفن ہوگا
حضرت اصبغ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ ایک مرتبہ امیرالمؤمنین حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ سفر میں میدان کربلا کے اندر ٹھیک اس جگہ پہنچے جہاں آج حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قبر انور بنی ہوئی ہے، توآپ نے فرمایا کہ اس جگہ آئندہ زمانے میں ایک آل رسول (رضی اللہ تعالیٰ عنہم)کا قافلہ ٹھہرے گا اوراس جگہ ان کے اونٹ بندھے ہوئے ہوں گے اوراسی میدان میں جوانان اہل بیت کی شہادت ہوگی اور اسی جگہ ان شہیدوں کا مدفن بنے گا اوران لوگوں پر آسمان وزمین روئیں گے ۔ (ازالۃ الخفاء مقصد ۲ صفحہ ۲۷۳ بحوالہ الریاض النضرۃ)
اس روایت سے پتہ چلتا ہے کہ اولیاء اللہ کو بذریعہ کشف برسوں بعد ہونے والے واقعات اورلوگوں کے حالات یہاں تک کہ لوگوں کی موت اورمدفن کی کیفیات کا علم حاصل ہوجاتاہے اوریہ درحقیقت علم غیب ہے جو اللہ تعالیٰ کے عطا فرمانے سے اولیاء کرام کو حاصل ہواکرتاہے اوریہ اولیاء کرام کی کرامت ہواکرتی ہے ۔
فرشتوں نے چکی چلائی
حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے مجھے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بلانے کے لیے ان کے مکان پر بھیجا تو میں نے وہاں یہ دیکھا کہ ان کے گھر میں چکی بغیر کسی چلانے والے کے خود بخود چل رہی ہے۔ جب میں نے بارگاہ رسالت میں اس عجیب کرامت کا تذکرہ کیا تو حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اے ابو ذررضی اللہ تعالیٰ عنہ اللہ تعالیٰ کے کچھ فرشتے ایسے بھی ہیں جو زمین میں سیر کرتے رہتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے ان فرشتوں کی یہ بھی ڈیوٹی فرما دی ہے کہ وہ میری آل کی امدادواعانت کرتے رہیں ۔ (ازالۃ الخفاء ، مقصد۲، صفحہ نمبر۲۷۳،چشتی)
اس روایت سے یہ سبق ملتاہے کہ حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کی آل پاک کو بارگاہ خداوندی میں اس قدر قرب اورمقبولیت حاصل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کچھ فرشتوں کو ان کی امدادونصرت اورحاجت برآری کے لئے خاص طورپر مقررفرمادیا ہے۔ یہ شرف حضرات اہل بیت کو حضوراقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کی نسبت خاصہ کی و جہ سے حاصل ہوا ہے۔ سبحان اللہ! سلطان مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کی عزت و عظمت اوران کے وقارواقتدارکا کیا کہنا ؟کہ آپ کے گھر والوں کی چکی فرشتے چلا یا کرتے تھے ۔
میں کب وفات پاؤں گا ؟
حضرت فضالہ بن ابی فضالہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما ارشاد فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ امیرالمؤمنین حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ مقام ”ینبع” میں بہت سخت بیمار ہوگئے تومیں اپنے والد کے ہمراہ ان کی عیادت کے لیے گیا ۔ دوران گفتگو میرے والد نے عرض کیا : اے امیرالمؤمنین!رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ اس وقت ایسی جگہ علالت کی حالت میں مقیم ہیں اگراس جگہ آپ کی وفات ہوگئی توقبیلہ ”جہینہ”کے گنواروں کے سوا اورکون آپ کی تجہیز و تکفین کریگا؟اس لیے میری گزارش ہے کہ آپ مدینہ منورہ تشریف لے چلیں کیونکہ وہاں اگر یہ حادثہ رونما ہوا تو وہاں آپ کے جاں نثار مہاجرین وانصاراور دوسرے مقدس صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم آپ کی نمازجنازہ پڑھیں گے اوریہ مقدس ہستیاں آپ کے کفن ودفن کا انتظام کریں گی۔ یہ سن کر آپ نے فرمایا کہ اے ابوفضالہ! تم اطمینان رکھو کہ میں اپنی بیماری میں ہرگز ہرگز وفات نہیں پاؤں گا۔ سن لو اس وقت تک ہر گز ہرگز میری
آپ کو جھوٹا کہنے والا اندھا ہوگیا
علی بن زاذان کا بیان ہے کہ امیر المؤمنین حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک مرتبہ کوئی بات ارشاد فرمائی تو ایک بد نصیب نے نہایت ہی بیباکی کے ساتھ یہ کہہ دیا کہ اے امیرالمؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ جھوٹے ہیں ۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ اے شخص ! اگر میں سچاہوں تو ضرور تو قہر الٰہی میں گرفتار ہو جائے گا ۔ اس گستاخ نے کہہ دیا کہ آپ میرے لیے بد دعا کردیجئے، مجھے اس کی پرواہ نہیں ہے ۔ ا س کے منہ سے ان الفاظ کا نکلنا تھا کہ بالکل ہی اچانک وہ شخص دونوں آنکھوں سے اندھا ہوگیا اور ادھر ادھر ہاتھ پاؤں مارنے لگا ۔ (ازالۃ الخفاء مقصد ۲ صفحہ نمبر ۲۷۳،چشتی)
کون کہاں مرے گا ؟ کہاں دفن ہوگا
حضرت اصبغ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ ایک مرتبہ امیرالمؤمنین حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ سفر میں میدان کربلا کے اندر ٹھیک اس جگہ پہنچے جہاں آج حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قبر انور بنی ہوئی ہے، توآپ نے فرمایا کہ اس جگہ آئندہ زمانے میں ایک آل رسول (رضی اللہ تعالیٰ عنہم)کا قافلہ ٹھہرے گا اوراس جگہ ان کے اونٹ بندھے ہوئے ہوں گے اوراسی میدان میں جوانان اہل بیت کی شہادت ہوگی اور اسی جگہ ان شہیدوں کا مدفن بنے گا اوران لوگوں پر آسمان وزمین روئیں گے ۔ (ازالۃ الخفاء مقصد ۲ صفحہ ۲۷۳ بحوالہ الریاض النضرۃ)
اس روایت سے پتہ چلتا ہے کہ اولیاء اللہ کو بذریعہ کشف برسوں بعد ہونے والے واقعات اورلوگوں کے حالات یہاں تک کہ لوگوں کی موت اورمدفن کی کیفیات کا علم حاصل ہوجاتاہے اوریہ درحقیقت علم غیب ہے جو اللہ تعالیٰ کے عطا فرمانے سے اولیاء کرام کو حاصل ہواکرتاہے اوریہ اولیاء کرام کی کرامت ہواکرتی ہے ۔
فرشتوں نے چکی چلائی
حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے مجھے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بلانے کے لیے ان کے مکان پر بھیجا تو میں نے وہاں یہ دیکھا کہ ان کے گھر میں چکی بغیر کسی چلانے والے کے خود بخود چل رہی ہے۔ جب میں نے بارگاہ رسالت میں اس عجیب کرامت کا تذکرہ کیا تو حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اے ابو ذررضی اللہ تعالیٰ عنہ اللہ تعالیٰ کے کچھ فرشتے ایسے بھی ہیں جو زمین میں سیر کرتے رہتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے ان فرشتوں کی یہ بھی ڈیوٹی فرما دی ہے کہ وہ میری آل کی امدادواعانت کرتے رہیں ۔ (ازالۃ الخفاء ، مقصد۲، صفحہ نمبر۲۷۳،چشتی)
اس روایت سے یہ سبق ملتاہے کہ حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کی آل پاک کو بارگاہ خداوندی میں اس قدر قرب اورمقبولیت حاصل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کچھ فرشتوں کو ان کی امدادونصرت اورحاجت برآری کے لئے خاص طورپر مقررفرمادیا ہے۔ یہ شرف حضرات اہل بیت کو حضوراقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کی نسبت خاصہ کی و جہ سے حاصل ہوا ہے۔ سبحان اللہ! سلطان مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کی عزت و عظمت اوران کے وقارواقتدارکا کیا کہنا ؟کہ آپ کے گھر والوں کی چکی فرشتے چلا یا کرتے تھے ۔
میں کب وفات پاؤں گا ؟
حضرت فضالہ بن ابی فضالہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما ارشاد فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ امیرالمؤمنین حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ مقام ”ینبع” میں بہت سخت بیمار ہوگئے تومیں اپنے والد کے ہمراہ ان کی عیادت کے لیے گیا ۔ دوران گفتگو میرے والد نے عرض کیا : اے امیرالمؤمنین!رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ اس وقت ایسی جگہ علالت کی حالت میں مقیم ہیں اگراس جگہ آپ کی وفات ہوگئی توقبیلہ ”جہینہ”کے گنواروں کے سوا اورکون آپ کی تجہیز و تکفین کریگا؟اس لیے میری گزارش ہے کہ آپ مدینہ منورہ تشریف لے چلیں کیونکہ وہاں اگر یہ حادثہ رونما ہوا تو وہاں آپ کے جاں نثار مہاجرین وانصاراور دوسرے مقدس صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم آپ کی نمازجنازہ پڑھیں گے اوریہ مقدس ہستیاں آپ کے کفن ودفن کا انتظام کریں گی۔ یہ سن کر آپ نے فرمایا کہ اے ابوفضالہ! تم اطمینان رکھو کہ میں اپنی بیماری میں ہرگز ہرگز وفات نہیں پاؤں گا۔ سن لو اس وقت تک ہر گز ہرگز میری
❤1