🔍 #ویلنٹائن_ڈے 📜 قِسۡط ❸
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2119472218215401&id=100004579304922
حیا بھلائی یعنی خیر ہی لاتی ہے!
شرم و حیا اور بری باتوں سے .....
عورتیں شیطان کی جال ہیں لڑکی
مغرب کی طرف جاؤگے ڈوب جاؤگے
عورت کی نگاہ شوہر کے سوا کسی
قدرت نے لڑکیوں کو گھر کے اندر ...
عورت کا باہر نکلنا ہی فتنہ ہے Faiz
نماز کے لئے مسجد نہیں تو کالج ؟
چودہ 14 فروری حجاب ڈے 📜
یوم حیا | حجاب ہی میرا شعار ہے!
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2119472218215401&id=100004579304922
حیا بھلائی یعنی خیر ہی لاتی ہے!
شرم و حیا اور بری باتوں سے .....
عورتیں شیطان کی جال ہیں لڑکی
مغرب کی طرف جاؤگے ڈوب جاؤگے
عورت کی نگاہ شوہر کے سوا کسی
قدرت نے لڑکیوں کو گھر کے اندر ...
عورت کا باہر نکلنا ہی فتنہ ہے Faiz
نماز کے لئے مسجد نہیں تو کالج ؟
چودہ 14 فروری حجاب ڈے 📜
یوم حیا | حجاب ہی میرا شعار ہے!
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
👍1
Forwarded from فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
*📚 « امجــــدی مضــــامین » 📚*
-----------------------------------------------------------
*🕯عورت کی خوبصورتی حیا میں، اور تحفظ حجاب میں ہے🕯*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
📬 اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات اور نظام عدل ہے ،جو احترام انسانیت سکھاتا ہے، بھایئ چارگی ،اخوت ومحبت کا یکساں درس دیتا ہے۔ اسلام ایک دین فطرت ہے جو افراط وتفریط کے درمیان ہے۔
امن واماں اور سلامتی کا خوبصورت پاٹھ پڑھاتا ہے۔
اور زندگی کے کسی شعبے میں بھی انسانیت کی تحقیر وتوہین بالکل پسند نہیں کرتا ،
بلکہ ان تمام رجحانات وخیالات کا سختی کے ساتھ قلع قمع کرتا ہے ، جن سے انسانیت کی توہین وتحقیر ہوتی ہے۔
اللہ رب العزت نے عورتوں کو پردہ فرمانے کا حکم دیا تاکہ اس کی انسانی قدروں کا احترام ممکن ہو سکے۔ عورتوں کے لئے پردہ انعام خداوندی ہے۔ اس کے لئے رب کی طرف سے ملنے والا ایک بہت بڑا انعام ہے۔ اسی پردہ میں عورت کی عزت ہے ،یہی اس کی عفت وعصمت اور حیا کی حفاظت کا بہترین ذریعہ ہے۔ جو عورت پردہ کرتی اللہ رب العزت اس کو دنیا وآخرت کی بہت سی نعمتیں عطا کرتا ہے ،ان میں سب سے بڑی نعمت یہ ہے کہ اللہ اس سے راضی ہو جاتا ہے اب ایک مسلمان عورت کے لئے اس سے بڑھ کر اور کیا خوش بختی ہو سکتی ہے کہ اس سے اس کا پروردگار خوش ہوجاتا ہے، خود وہ راضی ہو جاتا ہے جس نے اس کو اور ساری کائنات کو پیدا کیا۔اس سے پردہ کی اہمیت کا اندازہ لگائیے کہ
ایک مسلمہ خاتون کے لئے پردہ کتنے اہمیت وخصوصیت کا حامل ہے۔
اور ایک موقع پر حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :”عورت سراپا پردہ ہے، جب وہ گھر سے نکلتی ہے تو شیطان اس کو جھانکتا ہے” (ترمذی شریف) یعنی شیطان لعین کی یہ اپنی کوشش ہوتی ہے کہ لوگوں کو اس پر برانگیختہ کرے ،اور لوگ اس طرح کے گناہ کے شکار ہوں جو رب سے ناراضگی کا خاص سبب بنے۔
چنانچہ ،اللہ رب العزت
قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے:
"اے نبی !! صلی اللہ علیہ وسلم آپ مسلمان مردوں سے فرما دیجئے کہ وہ اپنی نگاہوں کو نیچی رکھیں اور اپنے شرم گاہوں کی حفاظت کریں یہ ان کے لئے زیادہ پاکیزگی کا باعث ہے” (النور)
اور باالکل یہی حکم مسلمان عورتوں کے لئے بھی وارد ہے: چنانچہ باری تعالی ارشاد فرماتا ہے:
"اے نبی!! صلی اللہ علیہ وسلم آپ مسلمان عورتوں سےفرما دیجئے کہ وہ سب اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنے عصمتوں کی حفاظت کریں” (النور)
اللہ جل مجدہ الکریم کا اس طرح حکم فرمانا ، اس بات کی طرف اشارہ ہوتا ہے کہ نظروں کی بے احتیاطی کا عفتوں کی پامالی سے چولی دامن کا رشتہ ہے۔ اسی لئے حکیم مطلق نے غض بصر کے ساتھ اس کا مفاد بھی بیان فرمادیا کہ اس سے عصمتوں کی حفاظت ہوتی ہے، کیوں کہ مردوں کی نظر بے باک اور کافی حوس ناک وخطرناک ہوتی ہے، اسی لئے اس سے منع کیا گیا کہ عورتوں کو گھور گھور کر نہ دیکھے۔
اور اللہ رب العزت نے قرآن حکیم میں ارشاد فرمایا:
ترجمہ: نبی کی بیویوں (امہات المؤمنین)
سے اگر تمہیں کچھ مانگنا ہو تو پردے کے پیچھو سے مانگا کرو، یہ تمہارے اور ان کے دلوں کے پاکیزگی کے لئے زیادہ مناسب طریقہ ہے۔ (احزاب)
سنہ پانچ ہجری میں اس کا نزول ہوا ،اس آیت کو آیت حجاب کہا جاتا ہے ۔
علماء کرام نے لکھا ہے کہ اس آیت کے نزول کے بعد امہات المؤمنین نے اپنے اپنے گھروں کے دروازوں پر پردے لٹکا دیئے ۔پھر ان ہی کی دیکھا دیکھی دوسرے مسلمانوں کے گھروں میں بھی یہی طریقہ رائج ہو گیا کہ باہر کے لوگ اندر کے لوگوں کو نہیں دیکھ سکتے اور اندر کے لوگ باہر کے لوگوں کو بھی نہیں دیکھ سکتے تھے۔ حضرت انس اس کے نزول سے پہلے امہات المؤمنین کے حجروں میں بے فکر ہوکر آتے جاتے تھے لیکن اس کے بعد وہ اچانک جانے سے رک گئے۔
اسلامی معاشرہ کی پاکیزگی اور سکون کے لئے اسی طرح کے احکام دھیرے دھیرے نازل ہوتے رہے۔
اچانک پڑ جانے والی نظر کے متعلق رحمۃ اللعالمین نے حضرت علی کرم اللہ وجھہ کو مخاطب کرکے فرمایا: اے علی !! "نظر پر نظر نہ ڈالو کیوں کہ پہلی نظر تو تمہارے معاف اور دوسری تم پر گناہ ہے”
عورتوں کے نگاہ کے متعلق سے رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : "نگاہیں زنا کرتی ہیں ارو ان کا زنا دیکھنا یے ، دل خواہش اور تمنا کرتا ہے اور شرم گاہ اس کی تصدیق یا تکذیب کرتا ہے۔”
جس کا مفہوم یہ ہے کہ نگاہوں کے واسطے سے دل تک جو خوبصورت تصویرں اترتی ہیں، دل اس پر خوب مچلنے لگتا ہے ،دماغ اس کے لئے پلان اور شارزشیں کرنے لگتا ہے،آخر میں شرم گاہ کی باری آتی ہے اگر وہ اس کو کر ڈالے تو جو زنا ابھی تک مجاز کی حد میں تھا اب وہ زنائے حقیقی کا روپ اختیار کر لیتا ہے۔
اور ایسے ہی ایک مقام پر رب تعالی ارشاد فرماتا ہے : ” اے نبی !!صلی اللہ علیہ وسلم
-----------------------------------------------------------
*🕯عورت کی خوبصورتی حیا میں، اور تحفظ حجاب میں ہے🕯*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
📬 اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات اور نظام عدل ہے ،جو احترام انسانیت سکھاتا ہے، بھایئ چارگی ،اخوت ومحبت کا یکساں درس دیتا ہے۔ اسلام ایک دین فطرت ہے جو افراط وتفریط کے درمیان ہے۔
امن واماں اور سلامتی کا خوبصورت پاٹھ پڑھاتا ہے۔
اور زندگی کے کسی شعبے میں بھی انسانیت کی تحقیر وتوہین بالکل پسند نہیں کرتا ،
بلکہ ان تمام رجحانات وخیالات کا سختی کے ساتھ قلع قمع کرتا ہے ، جن سے انسانیت کی توہین وتحقیر ہوتی ہے۔
اللہ رب العزت نے عورتوں کو پردہ فرمانے کا حکم دیا تاکہ اس کی انسانی قدروں کا احترام ممکن ہو سکے۔ عورتوں کے لئے پردہ انعام خداوندی ہے۔ اس کے لئے رب کی طرف سے ملنے والا ایک بہت بڑا انعام ہے۔ اسی پردہ میں عورت کی عزت ہے ،یہی اس کی عفت وعصمت اور حیا کی حفاظت کا بہترین ذریعہ ہے۔ جو عورت پردہ کرتی اللہ رب العزت اس کو دنیا وآخرت کی بہت سی نعمتیں عطا کرتا ہے ،ان میں سب سے بڑی نعمت یہ ہے کہ اللہ اس سے راضی ہو جاتا ہے اب ایک مسلمان عورت کے لئے اس سے بڑھ کر اور کیا خوش بختی ہو سکتی ہے کہ اس سے اس کا پروردگار خوش ہوجاتا ہے، خود وہ راضی ہو جاتا ہے جس نے اس کو اور ساری کائنات کو پیدا کیا۔اس سے پردہ کی اہمیت کا اندازہ لگائیے کہ
ایک مسلمہ خاتون کے لئے پردہ کتنے اہمیت وخصوصیت کا حامل ہے۔
اور ایک موقع پر حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :”عورت سراپا پردہ ہے، جب وہ گھر سے نکلتی ہے تو شیطان اس کو جھانکتا ہے” (ترمذی شریف) یعنی شیطان لعین کی یہ اپنی کوشش ہوتی ہے کہ لوگوں کو اس پر برانگیختہ کرے ،اور لوگ اس طرح کے گناہ کے شکار ہوں جو رب سے ناراضگی کا خاص سبب بنے۔
چنانچہ ،اللہ رب العزت
قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے:
"اے نبی !! صلی اللہ علیہ وسلم آپ مسلمان مردوں سے فرما دیجئے کہ وہ اپنی نگاہوں کو نیچی رکھیں اور اپنے شرم گاہوں کی حفاظت کریں یہ ان کے لئے زیادہ پاکیزگی کا باعث ہے” (النور)
اور باالکل یہی حکم مسلمان عورتوں کے لئے بھی وارد ہے: چنانچہ باری تعالی ارشاد فرماتا ہے:
"اے نبی!! صلی اللہ علیہ وسلم آپ مسلمان عورتوں سےفرما دیجئے کہ وہ سب اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنے عصمتوں کی حفاظت کریں” (النور)
اللہ جل مجدہ الکریم کا اس طرح حکم فرمانا ، اس بات کی طرف اشارہ ہوتا ہے کہ نظروں کی بے احتیاطی کا عفتوں کی پامالی سے چولی دامن کا رشتہ ہے۔ اسی لئے حکیم مطلق نے غض بصر کے ساتھ اس کا مفاد بھی بیان فرمادیا کہ اس سے عصمتوں کی حفاظت ہوتی ہے، کیوں کہ مردوں کی نظر بے باک اور کافی حوس ناک وخطرناک ہوتی ہے، اسی لئے اس سے منع کیا گیا کہ عورتوں کو گھور گھور کر نہ دیکھے۔
اور اللہ رب العزت نے قرآن حکیم میں ارشاد فرمایا:
ترجمہ: نبی کی بیویوں (امہات المؤمنین)
سے اگر تمہیں کچھ مانگنا ہو تو پردے کے پیچھو سے مانگا کرو، یہ تمہارے اور ان کے دلوں کے پاکیزگی کے لئے زیادہ مناسب طریقہ ہے۔ (احزاب)
سنہ پانچ ہجری میں اس کا نزول ہوا ،اس آیت کو آیت حجاب کہا جاتا ہے ۔
علماء کرام نے لکھا ہے کہ اس آیت کے نزول کے بعد امہات المؤمنین نے اپنے اپنے گھروں کے دروازوں پر پردے لٹکا دیئے ۔پھر ان ہی کی دیکھا دیکھی دوسرے مسلمانوں کے گھروں میں بھی یہی طریقہ رائج ہو گیا کہ باہر کے لوگ اندر کے لوگوں کو نہیں دیکھ سکتے اور اندر کے لوگ باہر کے لوگوں کو بھی نہیں دیکھ سکتے تھے۔ حضرت انس اس کے نزول سے پہلے امہات المؤمنین کے حجروں میں بے فکر ہوکر آتے جاتے تھے لیکن اس کے بعد وہ اچانک جانے سے رک گئے۔
اسلامی معاشرہ کی پاکیزگی اور سکون کے لئے اسی طرح کے احکام دھیرے دھیرے نازل ہوتے رہے۔
اچانک پڑ جانے والی نظر کے متعلق رحمۃ اللعالمین نے حضرت علی کرم اللہ وجھہ کو مخاطب کرکے فرمایا: اے علی !! "نظر پر نظر نہ ڈالو کیوں کہ پہلی نظر تو تمہارے معاف اور دوسری تم پر گناہ ہے”
عورتوں کے نگاہ کے متعلق سے رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : "نگاہیں زنا کرتی ہیں ارو ان کا زنا دیکھنا یے ، دل خواہش اور تمنا کرتا ہے اور شرم گاہ اس کی تصدیق یا تکذیب کرتا ہے۔”
جس کا مفہوم یہ ہے کہ نگاہوں کے واسطے سے دل تک جو خوبصورت تصویرں اترتی ہیں، دل اس پر خوب مچلنے لگتا ہے ،دماغ اس کے لئے پلان اور شارزشیں کرنے لگتا ہے،آخر میں شرم گاہ کی باری آتی ہے اگر وہ اس کو کر ڈالے تو جو زنا ابھی تک مجاز کی حد میں تھا اب وہ زنائے حقیقی کا روپ اختیار کر لیتا ہے۔
اور ایسے ہی ایک مقام پر رب تعالی ارشاد فرماتا ہے : ” اے نبی !!صلی اللہ علیہ وسلم
❤1
Forwarded from فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
آپ اپنی بیویوں (امہات المؤمنین) بیٹیوں اور مسلمان خواتین سے فر مادیجئے کہ وہ اپنے چہرے پر اپنے آنچل ڈال لیا کریں،اس سے قریب ہے کہ وہ پہچان لی جائیں گی اور انہیں تکلیف نہیں پہونچائی جائے گی اور اللہ بخشنے والا اور مہربان ہے۔” (الاحزاب)
اور متعدد احادیث مقدسہ بھی اس بات خوب دلالت کرتی ہیں کہ عورت اپنے چہرے کا پردہ کرے:
ملت کی ماں طیبہ طاہرہ ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا واقعہ افک کی ایک لمبی روایت میں فرماتی ہیں: "جب میں نے ان کے (صفوان بن معطل سلمی )”انا للہ وانا الیہ رجعون” پڑھنے کی آواز سنی تو اپنے چہرے کو اپنے دوپٹے سے ڈھانپ لیا”
اور ایسے ہی حجۃ الوداع کے ضمن میں آپ رضی اللہ عنہا ارشاد فرماتی ہیں: "سواروں کے قافلے ہمارے پاس سے گزرتے اور ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حالت احرام میں تھے ، جب وہ ہمارے قریب آتے تو ہم اپنے آنچلوں کو اپنے سر سے لے کر چہروں پر لٹکا لیا کرتے اور جس وقت وہ ہم سے گزر جاتے تو ہم لوگ اپنے چہروں کو کھول لیتے”
ان مذکورہ بالا احادیث کریمہ سے یہ بات ثابت ہوئی کہ مسلم خواتین کے لئے ضروری ہے کہ جب وہ اپنے گھر سے باہر نکلےتو ضرور چہرے کا پردہ کرے ،کیوں چہرہ ہی خوبصورتی یا بد صورتی کا صحیح عنوان ہے۔
ستر عورت کے حدود کے سلسلے میں خلیفۂ دوم سیدنا حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کا ارشاد ہے: کہ "عورتوں کو ایسے کپڑے نہ پہناؤ جو جسم اس قدر چست ہوں کہ جسم ساخت وہیئت نمایاں ہو” (حدیث)
ان نصوص کے تناظر میں آج کے اس دور پرفتن وحوشربا اور عریانیت کے ماحول میں ذرا مسلمان خواتین کاجائزہ لیا جائے تو بہت ہی کم تعداد ایسی ملے گی جو شریعت مطہرہ کے فرمان کے مطابق کما حقہ پردے کا اہتمام کرتی ہوں۔
آج کل لباس کا ایسا چلن ہے کہ اللہ کی پناہ!! ایسے ایسے باریک اور کم لباس جس سے ستر کی مکمل طور پر حد بندی نہیں ہوتی،باریک سے باریک تر دوپٹہ اونچی شلوار جسے دیکھنے کے بعد نہ جانے دل میں کیسے کیسے تصورات پیدا ہوتے ہیں۔ اور افسوس کہ ایسے شارٹ کٹ اور کم لباس مسلمان خواتین خوب پسند کرتیں ہیں،بڑے ہی شوق کے ساتھ ان کی خریداری کرکے انہیں زیب تن کئے جانے پر فخر محسوس کیا جاتاہے ۔
والدین کے لئے ضروری ہے کہ اپنے لڑکوں کو غیر محرم عورتوں پر نظر ڈالنے سے روکیں اور لڑکیوں کو نامحرم مردوں سے پردہ کرنے کا حکم کریں اور حکم کی بجاآوری نہ کرنے پر سختی سے پیش آئیں۔ انہیں خوشبو لگا کر چلنے ، لوچ دار شیریں بات اور لکش اداؤں ،اور پاؤں کی جھنکار سے روکیں ، شرعی حجاب کی خوبیاں ان کے سامنے بیان کریں ۔ کیوں کہ فطری طور پر عورتوں میں مردوں کے لئے اور مردوں میں عورتوں کے لئے رغبت وضع کی گئی ہے۔ بے حیا بے مروت مرد جب کھلے عام بے پردہ عورت کو دکھتا ہے تو اپنی رمممکغبت کی تکمیل کے اس کی طرف لپکتا ہے اور اس کو اپنی حوس حرص کا نشانہ بناتا ہے آئے دن یہ واقعات ہوتے ہی رہتے ہیں جس اخبارات گواہ ہیں کہ لوگ کس طرح بے راہ روی کے ہوتے چلے جا رہے ہیں، اور اس کا واحد حل پردہ ہے ۔غیر محرم مرد وعورت کی مکمل علی حدگی اور ان کے باہمی اختلاط پر پابندی لگائی گئی ہے اگر بوقت ضروت عورت کو گھر سے نکلنا اور غیر محرم مردوں کے سامنے گزرنا پڑے تو اس کے لئے شریعت مطہرہ شریف نے پردے کا حکم نافذ فرمایا۔ابھی حال ہی میں کرناٹک کے اڈوپی میں جس طرح سیکنڑون زعفرانی پوشوں نے ایک اکیلی مسلم باحجاب خاتون کو لے کر شوشل میڈیا پر جو ہورڈنگ مچایا ہے اس سے دوسرے ممالک میں مادر وطن ہندوستان کی شبیہ داغدار کی گئی ہے۔ایسی ویڈیو دیکھ کر مجھے اس معصوم بچی
"مسکان خان” پر فخر ہے جو ان ظالم جانوروں کے خلاف جنگ میں اکیلی ہونے کے باوجود نڈر اور بے باکی سے صدائے توحید بلند کرکے ڈٹی رہی۔ملک کے کونے کونے سے اس کی حوصلہ افزائی کی جارہی ہے۔رب کی بارگاہ میں دعا گو کہ الہ العالمین مسلم خواتین کی عزت وعصمت سلامت رکھے اور انہیں باحجاب رہ کر صراط مستوی کی ہدایت بخشے۔۔۔۔
https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*از قلم✍🏻 محمد مجیب احمد فیضی، استاذ: دارالعلوم محبوبیہ رموا پور کلاں اترولہ بلرام پور۔*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
اور متعدد احادیث مقدسہ بھی اس بات خوب دلالت کرتی ہیں کہ عورت اپنے چہرے کا پردہ کرے:
ملت کی ماں طیبہ طاہرہ ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا واقعہ افک کی ایک لمبی روایت میں فرماتی ہیں: "جب میں نے ان کے (صفوان بن معطل سلمی )”انا للہ وانا الیہ رجعون” پڑھنے کی آواز سنی تو اپنے چہرے کو اپنے دوپٹے سے ڈھانپ لیا”
اور ایسے ہی حجۃ الوداع کے ضمن میں آپ رضی اللہ عنہا ارشاد فرماتی ہیں: "سواروں کے قافلے ہمارے پاس سے گزرتے اور ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حالت احرام میں تھے ، جب وہ ہمارے قریب آتے تو ہم اپنے آنچلوں کو اپنے سر سے لے کر چہروں پر لٹکا لیا کرتے اور جس وقت وہ ہم سے گزر جاتے تو ہم لوگ اپنے چہروں کو کھول لیتے”
ان مذکورہ بالا احادیث کریمہ سے یہ بات ثابت ہوئی کہ مسلم خواتین کے لئے ضروری ہے کہ جب وہ اپنے گھر سے باہر نکلےتو ضرور چہرے کا پردہ کرے ،کیوں چہرہ ہی خوبصورتی یا بد صورتی کا صحیح عنوان ہے۔
ستر عورت کے حدود کے سلسلے میں خلیفۂ دوم سیدنا حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کا ارشاد ہے: کہ "عورتوں کو ایسے کپڑے نہ پہناؤ جو جسم اس قدر چست ہوں کہ جسم ساخت وہیئت نمایاں ہو” (حدیث)
ان نصوص کے تناظر میں آج کے اس دور پرفتن وحوشربا اور عریانیت کے ماحول میں ذرا مسلمان خواتین کاجائزہ لیا جائے تو بہت ہی کم تعداد ایسی ملے گی جو شریعت مطہرہ کے فرمان کے مطابق کما حقہ پردے کا اہتمام کرتی ہوں۔
آج کل لباس کا ایسا چلن ہے کہ اللہ کی پناہ!! ایسے ایسے باریک اور کم لباس جس سے ستر کی مکمل طور پر حد بندی نہیں ہوتی،باریک سے باریک تر دوپٹہ اونچی شلوار جسے دیکھنے کے بعد نہ جانے دل میں کیسے کیسے تصورات پیدا ہوتے ہیں۔ اور افسوس کہ ایسے شارٹ کٹ اور کم لباس مسلمان خواتین خوب پسند کرتیں ہیں،بڑے ہی شوق کے ساتھ ان کی خریداری کرکے انہیں زیب تن کئے جانے پر فخر محسوس کیا جاتاہے ۔
والدین کے لئے ضروری ہے کہ اپنے لڑکوں کو غیر محرم عورتوں پر نظر ڈالنے سے روکیں اور لڑکیوں کو نامحرم مردوں سے پردہ کرنے کا حکم کریں اور حکم کی بجاآوری نہ کرنے پر سختی سے پیش آئیں۔ انہیں خوشبو لگا کر چلنے ، لوچ دار شیریں بات اور لکش اداؤں ،اور پاؤں کی جھنکار سے روکیں ، شرعی حجاب کی خوبیاں ان کے سامنے بیان کریں ۔ کیوں کہ فطری طور پر عورتوں میں مردوں کے لئے اور مردوں میں عورتوں کے لئے رغبت وضع کی گئی ہے۔ بے حیا بے مروت مرد جب کھلے عام بے پردہ عورت کو دکھتا ہے تو اپنی رمممکغبت کی تکمیل کے اس کی طرف لپکتا ہے اور اس کو اپنی حوس حرص کا نشانہ بناتا ہے آئے دن یہ واقعات ہوتے ہی رہتے ہیں جس اخبارات گواہ ہیں کہ لوگ کس طرح بے راہ روی کے ہوتے چلے جا رہے ہیں، اور اس کا واحد حل پردہ ہے ۔غیر محرم مرد وعورت کی مکمل علی حدگی اور ان کے باہمی اختلاط پر پابندی لگائی گئی ہے اگر بوقت ضروت عورت کو گھر سے نکلنا اور غیر محرم مردوں کے سامنے گزرنا پڑے تو اس کے لئے شریعت مطہرہ شریف نے پردے کا حکم نافذ فرمایا۔ابھی حال ہی میں کرناٹک کے اڈوپی میں جس طرح سیکنڑون زعفرانی پوشوں نے ایک اکیلی مسلم باحجاب خاتون کو لے کر شوشل میڈیا پر جو ہورڈنگ مچایا ہے اس سے دوسرے ممالک میں مادر وطن ہندوستان کی شبیہ داغدار کی گئی ہے۔ایسی ویڈیو دیکھ کر مجھے اس معصوم بچی
"مسکان خان” پر فخر ہے جو ان ظالم جانوروں کے خلاف جنگ میں اکیلی ہونے کے باوجود نڈر اور بے باکی سے صدائے توحید بلند کرکے ڈٹی رہی۔ملک کے کونے کونے سے اس کی حوصلہ افزائی کی جارہی ہے۔رب کی بارگاہ میں دعا گو کہ الہ العالمین مسلم خواتین کی عزت وعصمت سلامت رکھے اور انہیں باحجاب رہ کر صراط مستوی کی ہدایت بخشے۔۔۔۔
https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*از قلم✍🏻 محمد مجیب احمد فیضی، استاذ: دارالعلوم محبوبیہ رموا پور کلاں اترولہ بلرام پور۔*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
Telegram
فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
اہلسنت و جماعت مسلک اعلیٰ حضرت کا ترجمان، وسط ہند کی عظیم درسگاہ " دارالعلوم امجدیہ ناگپور مہاراشٹرا" کے نام سے منسوب گروپ
👍2❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
👍1
Forwarded from فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
*📚 « امجــــدی مضــــامین » 📚*
-----------------------------------------------------------
*🕯عورت اور پردہ🕯*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
📬 اسلام ایک نظامِ عدل ہے۔ وہ انسانیت کا احترام سکھاتا ہے اور زندگی کے کسی شعبے میں بھی انسانیت کی تحقیر و توہین پسند نہیں فرماتا، بلکہ اُن تمام رُحجانات کا شدت کے ساتھ قلع قمع کرتا ہے جن سے انسانیت کی توہین ہوتی ہے۔ اسلام نے عورت کو پردے کا حکم بھی اسی لیے دیا ہے کہ اس کی انسانی قدروں کا احترام ممکن ہوسکے۔ آپ اگر ازمنۂ قدیمہ میں عورت کی حیثیت کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوگا کہ آج صرف انداز بدل گیا ہے، ورنہ اسلام سے قبل عرب، ہند، روم و یونان میں عورت کو جو حیثیت حاصل تھی اور جس ذلت کی زندگی پر اسے مجبور کیا گیا تھا، غیر اسلامی معاشرے میں آج بھی وہی حیثیت برقرار ہے، صرف برتاؤ کا انداز بدل گیا ہے، تخاطب کا لب ولہجہ بدل گیا ہے، شرابِ کہن کو نئے جام میں انڈیل دیا گیا ہے۔
جس زمانے میں پوری دُنیا میں عورت کو کوئی عزت کا مقام حاصل نہیں تھا، یونان میں یہ بحث چل رہی تھی کہ عورت کے اندر احساس ہے یا نہیں۔ یورپ نے اسے خبیثہ، مکارہ اور شجرِ ممنوعہ کی طرف لے جانے والی برائی قرار دیا تھا۔ عرب وہند میں عورت کو بازار کی جنسِ ارزاں سے زیادہ حیثیت حاصل نہیں تھی، کہیں بچیوں کو زندہ دفن کیا جاتا تھا اور کہیں مرد کی چِتا پر عورتوں کو زبردستی جلنا پڑتا تھا۔ اسی دور میں پیغمبر آخرالزماں صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلی بار دُنیا کو عورتوں کی عزت واحترام کا احساس دلایا اور اپنی تعلیمات میں یہ بات واضح کر دی کہ عورت نصف انسانیت ہے اور مرد ہی کی طرح لائقِ احترام ہے۔ آپ نے ارشاد فرمایا: عورتیں نازک شیشے ہیں، ان کا خیال رکھو۔ ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا کہ: عورتوں کو ان کے حقوق دو اور ان پر ظلم نہ کرو۔ اپنے آخری خطبے میں حجۃ الوداع کے موقع پر ارشاد فرمایا کہ: عورتوں کے معاملے میں خدا سے ڈرتے رہو۔ اپنی مقدس تعلیمات کے ذریعے رسولِ پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسا صالح معاشرہ تشکیل فرمایا کہ جس میں دُنیا کے اس مظلوم ترین طبقہ نے عزت و وقار کی آنکھ کھولی اور زندگی کے تمام میدانوں میں خواہ وہ معاشرتی ہوں یا تعلیمی؛ سرگرم حصہ لے کر دین ودُنیا کی تعمیر وترقی میں نمایاں کردار ادا کیا۔ اس کے برعکس یورپ میں عورت سترھویں صدی عیسوی تک مظلوم تر رہی اور جب یہاں کے لوگوں نے کلیسائی جبر و تشدد کا قلادہ اپنی گردن سے اُتار پھینکا تو عورت بھی ایک دَم آزاد ہوگئی۔ مگر اس کی آزادی بالکل ایسی ہی تھی جیسے کہ کسی قیدی کو ایک صحرا میں لے جاکر آزاد کر دیا جائے، جہاں اس کو اپنی منزل کا قطعی پتہ نہ ہو۔ حتیٰ کہ اسے سمتوں کا تعین کرنا بھی مشکل ہو۔ ظاہر ہے ایسی صورت میں جو بھی کارواں اس طرف سے گذرے گا وہ اُس کے ساتھ ہوجائے گا، خواہ وہ کاروانِ حیات ہو یا قافلۂ موت، رہزَنوں کا گروہ ہویا رہبَروں کی جماعت۔
یہی وجہ ہے کہ گذشتہ تین صدیوں سے یورپ میں عورت اپنے حقوق کے تعین، اپنی انفرادی حیثیت کی بقا اور تحفظ کے سلسلے میں جن مراحل سے گزری ہے اور جس قدر متضاد طرزِ زندگی پر مجبور کی گئی ہے، دُنیا کی تاریخ میں اس کی مثال کم ہی ملے گی۔ اگر عدالتوں میں اس کے حقوق کا جائزہ لیا جائے تو اوسطاً ہر پچیس سال کے بعد قوانین کو تبدیل کرکے بھی آج اس کے ساتھ انصاف نہیں کیا جارہا ہے، اور اگر معاشرے میں اس کے مقام اور کردار کے متعلق غور کیا جائے تو پتہ چلے گا کہ آج سے زیادہ رُسوائی اور بے عزتی کا دور عورت کے اوپر کبھی نہیں آیا تھا۔ کس قدر عجیب بات ہے کہ مرد اپنے ذوقِ جمال کو تسکین دینے کے لیے اور اپنی شہوانی آگ کو مزید شعلۂ جوالہ بنانے کے لیے آج ہر مقام پر عورت کو عریاں اور آزاد کر چکا ہے۔ بازاروں میں، مکانوں میں، ہوٹلوں میں، ناچ گھروں میں، کلبوں میں، دکانوں پر جہاں کہیں آپ جائیں، عورت مرد کی آسودگیِ نظر کا سامان نظر آئے گی۔ گویا خود عورت کا اپنا وجود نہیں ہے، مرد عورت کو جس انداز میں دیکھنا چاہتا ہے وہ عریاں ہوتی جارہی ہے۔ سب سے پہلے جب مرد نے اپنی پیاسی نگاہوں کی تسکین کے لیے عورت سے لباس کی قید سے قدرے آزاد ہونے کا مطالبہ کیا تو بنتِ ِحوّا نے قباے مریم اُتار پھینکی، لیکن انسان کی نظر -ہل من مزید- کی قائل ہے۔ چنانچہ جب اس نے مزید تسکینِ نظر چاہی تو دست و بازو کھول دیے، پھر سینہ وساق عریاں ہوگئے اور بالآخر جسم پر جو براے نام لباس رہ گیا تھا آج اُس کو بھی اُتار پھینکنے کا مطالبہ شدید سے شدید تر ہوتا چلا جارہا ہے۔
-----------------------------------------------------------
*🕯عورت اور پردہ🕯*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
📬 اسلام ایک نظامِ عدل ہے۔ وہ انسانیت کا احترام سکھاتا ہے اور زندگی کے کسی شعبے میں بھی انسانیت کی تحقیر و توہین پسند نہیں فرماتا، بلکہ اُن تمام رُحجانات کا شدت کے ساتھ قلع قمع کرتا ہے جن سے انسانیت کی توہین ہوتی ہے۔ اسلام نے عورت کو پردے کا حکم بھی اسی لیے دیا ہے کہ اس کی انسانی قدروں کا احترام ممکن ہوسکے۔ آپ اگر ازمنۂ قدیمہ میں عورت کی حیثیت کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوگا کہ آج صرف انداز بدل گیا ہے، ورنہ اسلام سے قبل عرب، ہند، روم و یونان میں عورت کو جو حیثیت حاصل تھی اور جس ذلت کی زندگی پر اسے مجبور کیا گیا تھا، غیر اسلامی معاشرے میں آج بھی وہی حیثیت برقرار ہے، صرف برتاؤ کا انداز بدل گیا ہے، تخاطب کا لب ولہجہ بدل گیا ہے، شرابِ کہن کو نئے جام میں انڈیل دیا گیا ہے۔
جس زمانے میں پوری دُنیا میں عورت کو کوئی عزت کا مقام حاصل نہیں تھا، یونان میں یہ بحث چل رہی تھی کہ عورت کے اندر احساس ہے یا نہیں۔ یورپ نے اسے خبیثہ، مکارہ اور شجرِ ممنوعہ کی طرف لے جانے والی برائی قرار دیا تھا۔ عرب وہند میں عورت کو بازار کی جنسِ ارزاں سے زیادہ حیثیت حاصل نہیں تھی، کہیں بچیوں کو زندہ دفن کیا جاتا تھا اور کہیں مرد کی چِتا پر عورتوں کو زبردستی جلنا پڑتا تھا۔ اسی دور میں پیغمبر آخرالزماں صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلی بار دُنیا کو عورتوں کی عزت واحترام کا احساس دلایا اور اپنی تعلیمات میں یہ بات واضح کر دی کہ عورت نصف انسانیت ہے اور مرد ہی کی طرح لائقِ احترام ہے۔ آپ نے ارشاد فرمایا: عورتیں نازک شیشے ہیں، ان کا خیال رکھو۔ ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا کہ: عورتوں کو ان کے حقوق دو اور ان پر ظلم نہ کرو۔ اپنے آخری خطبے میں حجۃ الوداع کے موقع پر ارشاد فرمایا کہ: عورتوں کے معاملے میں خدا سے ڈرتے رہو۔ اپنی مقدس تعلیمات کے ذریعے رسولِ پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسا صالح معاشرہ تشکیل فرمایا کہ جس میں دُنیا کے اس مظلوم ترین طبقہ نے عزت و وقار کی آنکھ کھولی اور زندگی کے تمام میدانوں میں خواہ وہ معاشرتی ہوں یا تعلیمی؛ سرگرم حصہ لے کر دین ودُنیا کی تعمیر وترقی میں نمایاں کردار ادا کیا۔ اس کے برعکس یورپ میں عورت سترھویں صدی عیسوی تک مظلوم تر رہی اور جب یہاں کے لوگوں نے کلیسائی جبر و تشدد کا قلادہ اپنی گردن سے اُتار پھینکا تو عورت بھی ایک دَم آزاد ہوگئی۔ مگر اس کی آزادی بالکل ایسی ہی تھی جیسے کہ کسی قیدی کو ایک صحرا میں لے جاکر آزاد کر دیا جائے، جہاں اس کو اپنی منزل کا قطعی پتہ نہ ہو۔ حتیٰ کہ اسے سمتوں کا تعین کرنا بھی مشکل ہو۔ ظاہر ہے ایسی صورت میں جو بھی کارواں اس طرف سے گذرے گا وہ اُس کے ساتھ ہوجائے گا، خواہ وہ کاروانِ حیات ہو یا قافلۂ موت، رہزَنوں کا گروہ ہویا رہبَروں کی جماعت۔
یہی وجہ ہے کہ گذشتہ تین صدیوں سے یورپ میں عورت اپنے حقوق کے تعین، اپنی انفرادی حیثیت کی بقا اور تحفظ کے سلسلے میں جن مراحل سے گزری ہے اور جس قدر متضاد طرزِ زندگی پر مجبور کی گئی ہے، دُنیا کی تاریخ میں اس کی مثال کم ہی ملے گی۔ اگر عدالتوں میں اس کے حقوق کا جائزہ لیا جائے تو اوسطاً ہر پچیس سال کے بعد قوانین کو تبدیل کرکے بھی آج اس کے ساتھ انصاف نہیں کیا جارہا ہے، اور اگر معاشرے میں اس کے مقام اور کردار کے متعلق غور کیا جائے تو پتہ چلے گا کہ آج سے زیادہ رُسوائی اور بے عزتی کا دور عورت کے اوپر کبھی نہیں آیا تھا۔ کس قدر عجیب بات ہے کہ مرد اپنے ذوقِ جمال کو تسکین دینے کے لیے اور اپنی شہوانی آگ کو مزید شعلۂ جوالہ بنانے کے لیے آج ہر مقام پر عورت کو عریاں اور آزاد کر چکا ہے۔ بازاروں میں، مکانوں میں، ہوٹلوں میں، ناچ گھروں میں، کلبوں میں، دکانوں پر جہاں کہیں آپ جائیں، عورت مرد کی آسودگیِ نظر کا سامان نظر آئے گی۔ گویا خود عورت کا اپنا وجود نہیں ہے، مرد عورت کو جس انداز میں دیکھنا چاہتا ہے وہ عریاں ہوتی جارہی ہے۔ سب سے پہلے جب مرد نے اپنی پیاسی نگاہوں کی تسکین کے لیے عورت سے لباس کی قید سے قدرے آزاد ہونے کا مطالبہ کیا تو بنتِ ِحوّا نے قباے مریم اُتار پھینکی، لیکن انسان کی نظر -ہل من مزید- کی قائل ہے۔ چنانچہ جب اس نے مزید تسکینِ نظر چاہی تو دست و بازو کھول دیے، پھر سینہ وساق عریاں ہوگئے اور بالآخر جسم پر جو براے نام لباس رہ گیا تھا آج اُس کو بھی اُتار پھینکنے کا مطالبہ شدید سے شدید تر ہوتا چلا جارہا ہے۔
❤1
Forwarded from فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
کیا یہ صورتِ حال عورت کو یہ احساس نہیں دلاتی کہ وہ محض مرد کی نگاہوں اور جنسی تقاضوں کی تسکین کا سامان ہے اور بس، اس کی اپنی کوئی مستقل حیثیت نہیں ہے۔ مجھے حیرت ہوتی ہے کہ ایک دُکان دار اپنی دُکان میں، ایک ہوٹل کا منتظم اپنے ہوٹل میں، کلبوں اور رقص گاہوں کے مالکان اپنے کلبوں اور ڈانس گھروں میں، فضائی پروازوں کی کمپنیاں اپنی پروازوں میں محض اس لیے خوب صورت عورتوں کو ملازم رکھتے ہیں کہ ان کا کاروبار چمکے اور گاہک زیادہ سے زیادہ آئیں۔ تو عورت کی ’’اَنا‘‘ اور اس کا ضمیر کیوں نہیں محسوس کرتا کہ وہ پہلے سامانِ تجارت تھی اور اب سامانِ تجارت کے ساتھ بِک رہی ہے۔ مگر صدیوں کی اس تذلیل نے عورتوں کا احساسِ خودی چھین لیا ہے اور اب وہ اپنی ان ذلتوں پر مطمئن ہوگئی ہے۔
اسلام نے عورتوں کے حدودِ عمل کی تعیین اور پردے کا حکم اس لیے نہیں دیا تھا کہ عورت کو مجبورِ محض بنا کر گھر کی چار دیواریوں میں محصور کردیا جائے بلکہ اسلام ان پابندیوں سے عورت کی عظمت اور معاشرے میں اس کے لیے مناسب کردار کا تحفظ چاہتا ہے۔ اگر آپ اسلام کے ماضی کا مطالعہ کریں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ انسانیت کی فلاح و بہبود اور ترقی وکمال میں عورت نے مرد ہی کی طرح اپنے حصے کا کارنامہ انجام دیا ہے اور کسی بھی مقام پر اپنے کو ان قیودِ عزت سے آزاد کرنے کی کوشش نہیں کی جن میں اس کا اپنا وقارِ نسوانی محفوظ تھا۔ اسلام نے عورت اور مرد کی فطری صلاحیتوں کے مطابق تقسیمِ کار کے بہترین اُصول وضع فرمائے۔ مرد اگر باہر کی دُنیا کا مہتمم ہے تو عورت گھر کے مسائل کی نگرانِ اعلیٰ۔ مرد اگر شمعِ انجمن ہے تو عورت چراغِ خانہ، مرد اگر خالد وطارق و محمود اور صلاح الدین بننے کے لیے پیدا ہوا ہے تو عورت اس لیے ہے کہ وہ گھر کو ایک ایسی تربیت گاہ بنا دے اور اس میں ایسے اسباب مہیا کرے جو مرد کو خالد وطارق اور محمود وصلاح الدین کے امثال بننے میں مدد دے۔ ؎
مکالماتِ فلاطوں نہ لکھ سکی لیکن
اسی کے شعلے سے ٹوٹا شرارِ افلاطوں
نکہتِ گل جب تک دامنِ گل میں پوشیدہ رہتی ہے باعزت و باوقار رہتی ہے، لیکن جب دامنِ گل سے نکل کر آوارہ ہوجاتی ہے تومٹ جاتی ہے۔ گل جب تک شاخِ گل سے وابستہ رہتا ہے تر و تازہ رہتا ہے اور جب شاخِ گل سے توڑ لیا جائے تو ممکن ہے کسی کے گلے کا ہار بن جائے، یا کسی کے دستار کی زینت بنے، یا کسی کے دامنِ حیات کو چند لمحوں کے لیے مہکا دے لیکن پھر وہ قدموں تلے روند دیا جاتا ہے۔ ؎
نہیں ہے شانِ خود داری چمن سے توڑ کر تجھ کو
کوئی دستار میں رکھ لے کوئی زیب گلو کر لے
کیا یہ آج کے بے پردہ ماحول کا خوف ناک انجام نہیں ہے کہ ایک انسان کا دل جب اپنی شریکِ زندگی سے بھر جاتا ہے، یا ایک عورت کا دل جب اپنے شریکِ حیات سے آسودہ ہوجاتا ہے تو اُس کی نگہِ انتخاب دوسری طرف اُٹھتی ہے، اور دونوں کی نگاہ میں ماضی کی رفاقت کی کوئی قدر و قیمت نہیں رہ جاتی؟ صنفِ نازک کی عریانیت معاشرے میں عفت و پاک دامنی کو ناممکن بنادیتی ہے۔ کیا یہ ایک ثابت شدہ حقیقت نہیں ہے کہ یورپ جیسے علاقے میں عصمت ایک جنسِ نایاب ہے جو کہیں نہیں پائی جاتی؟
یورپ میں ایک طرف تو مرد عورت کو زِنا کے بعد مطالبۂ طلاق کا حق دیا گیا ہے اور دوسری طرف زِنا کے اسباب و محرکات اس قدر عام کر دیے گئے ہیں کہ وہ قدم قدم پر دعوتِ گناہ دیتے ہیں۔
اسلام کی ایک بہت بڑی خوبی یہ بھی ہے کہ وہ قانون عطا فرمانے سے پہلے ایک ایسا ماحول تیار کرتا ہے جس میں اُس قانون کا نفاذ بخوبی کیا جاسکے۔ وہ راستے کے موانعات کو ختم فرماتا ہے، پھر راستہ چلنے کا حکم دیتا ہے۔ وہ عفت و پاک دامنی کا مطالبہ کرتا ہے تو پہلے زِنا کو حرام قرار دیتا ہے اور معاشرے میں ایسی فضا پیدا کرتا ہے جہاں باعفت اور پاک دامن رہنا آسان اور ارتکابِ گناہ دُشوار تر ہوجائے۔
پردے کا حکم بھی اسی لیے دیا گیا ہے کہ معاشرے کو جنسی جنون کی دست برد سے بچایا جاسکے اور معاشرے میں ایسے افراد پیدا کیے جا سکیں جن کا دامن جنسی آلودگیوں سے پاک ہو۔ اسلام ہر گھر کو عبادت گاہ تو نہیں بنانا چاہتا مگر عبادت گاہوں کا تقدس ضرور بخشتا ہے۔ آج اسلام کی کسی بیٹی کو مریم و عذرا ہونے کا دعویٰ تو نہیں ہے لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ آج بھی صرف مسلم معاشرے ہی میں ایسی بے شمارخواتین موجود ہیں جن کو مریم پاک کے مقدس آنچل کے صدقے میں عفت وعصمت کا لباسِ تقدس میسّرہے۔
[ماخوذ: مقالاتِ خطیب اعظم، مرتب: غلام مصطفیٰ رضوی، مطبوعہ رضا اکیڈمی ممبئی]
https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*از قلم✍🏻 علامہ قمرالزماں خان اعظمی، سکریٹری جنرل ورلڈ اسلامک مشن، لندن۔*
*ترسیل : نوری مشن مالیگاؤں۔*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
اسلام نے عورتوں کے حدودِ عمل کی تعیین اور پردے کا حکم اس لیے نہیں دیا تھا کہ عورت کو مجبورِ محض بنا کر گھر کی چار دیواریوں میں محصور کردیا جائے بلکہ اسلام ان پابندیوں سے عورت کی عظمت اور معاشرے میں اس کے لیے مناسب کردار کا تحفظ چاہتا ہے۔ اگر آپ اسلام کے ماضی کا مطالعہ کریں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ انسانیت کی فلاح و بہبود اور ترقی وکمال میں عورت نے مرد ہی کی طرح اپنے حصے کا کارنامہ انجام دیا ہے اور کسی بھی مقام پر اپنے کو ان قیودِ عزت سے آزاد کرنے کی کوشش نہیں کی جن میں اس کا اپنا وقارِ نسوانی محفوظ تھا۔ اسلام نے عورت اور مرد کی فطری صلاحیتوں کے مطابق تقسیمِ کار کے بہترین اُصول وضع فرمائے۔ مرد اگر باہر کی دُنیا کا مہتمم ہے تو عورت گھر کے مسائل کی نگرانِ اعلیٰ۔ مرد اگر شمعِ انجمن ہے تو عورت چراغِ خانہ، مرد اگر خالد وطارق و محمود اور صلاح الدین بننے کے لیے پیدا ہوا ہے تو عورت اس لیے ہے کہ وہ گھر کو ایک ایسی تربیت گاہ بنا دے اور اس میں ایسے اسباب مہیا کرے جو مرد کو خالد وطارق اور محمود وصلاح الدین کے امثال بننے میں مدد دے۔ ؎
مکالماتِ فلاطوں نہ لکھ سکی لیکن
اسی کے شعلے سے ٹوٹا شرارِ افلاطوں
نکہتِ گل جب تک دامنِ گل میں پوشیدہ رہتی ہے باعزت و باوقار رہتی ہے، لیکن جب دامنِ گل سے نکل کر آوارہ ہوجاتی ہے تومٹ جاتی ہے۔ گل جب تک شاخِ گل سے وابستہ رہتا ہے تر و تازہ رہتا ہے اور جب شاخِ گل سے توڑ لیا جائے تو ممکن ہے کسی کے گلے کا ہار بن جائے، یا کسی کے دستار کی زینت بنے، یا کسی کے دامنِ حیات کو چند لمحوں کے لیے مہکا دے لیکن پھر وہ قدموں تلے روند دیا جاتا ہے۔ ؎
نہیں ہے شانِ خود داری چمن سے توڑ کر تجھ کو
کوئی دستار میں رکھ لے کوئی زیب گلو کر لے
کیا یہ آج کے بے پردہ ماحول کا خوف ناک انجام نہیں ہے کہ ایک انسان کا دل جب اپنی شریکِ زندگی سے بھر جاتا ہے، یا ایک عورت کا دل جب اپنے شریکِ حیات سے آسودہ ہوجاتا ہے تو اُس کی نگہِ انتخاب دوسری طرف اُٹھتی ہے، اور دونوں کی نگاہ میں ماضی کی رفاقت کی کوئی قدر و قیمت نہیں رہ جاتی؟ صنفِ نازک کی عریانیت معاشرے میں عفت و پاک دامنی کو ناممکن بنادیتی ہے۔ کیا یہ ایک ثابت شدہ حقیقت نہیں ہے کہ یورپ جیسے علاقے میں عصمت ایک جنسِ نایاب ہے جو کہیں نہیں پائی جاتی؟
یورپ میں ایک طرف تو مرد عورت کو زِنا کے بعد مطالبۂ طلاق کا حق دیا گیا ہے اور دوسری طرف زِنا کے اسباب و محرکات اس قدر عام کر دیے گئے ہیں کہ وہ قدم قدم پر دعوتِ گناہ دیتے ہیں۔
اسلام کی ایک بہت بڑی خوبی یہ بھی ہے کہ وہ قانون عطا فرمانے سے پہلے ایک ایسا ماحول تیار کرتا ہے جس میں اُس قانون کا نفاذ بخوبی کیا جاسکے۔ وہ راستے کے موانعات کو ختم فرماتا ہے، پھر راستہ چلنے کا حکم دیتا ہے۔ وہ عفت و پاک دامنی کا مطالبہ کرتا ہے تو پہلے زِنا کو حرام قرار دیتا ہے اور معاشرے میں ایسی فضا پیدا کرتا ہے جہاں باعفت اور پاک دامن رہنا آسان اور ارتکابِ گناہ دُشوار تر ہوجائے۔
پردے کا حکم بھی اسی لیے دیا گیا ہے کہ معاشرے کو جنسی جنون کی دست برد سے بچایا جاسکے اور معاشرے میں ایسے افراد پیدا کیے جا سکیں جن کا دامن جنسی آلودگیوں سے پاک ہو۔ اسلام ہر گھر کو عبادت گاہ تو نہیں بنانا چاہتا مگر عبادت گاہوں کا تقدس ضرور بخشتا ہے۔ آج اسلام کی کسی بیٹی کو مریم و عذرا ہونے کا دعویٰ تو نہیں ہے لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ آج بھی صرف مسلم معاشرے ہی میں ایسی بے شمارخواتین موجود ہیں جن کو مریم پاک کے مقدس آنچل کے صدقے میں عفت وعصمت کا لباسِ تقدس میسّرہے۔
[ماخوذ: مقالاتِ خطیب اعظم، مرتب: غلام مصطفیٰ رضوی، مطبوعہ رضا اکیڈمی ممبئی]
https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*از قلم✍🏻 علامہ قمرالزماں خان اعظمی، سکریٹری جنرل ورلڈ اسلامک مشن، لندن۔*
*ترسیل : نوری مشن مالیگاؤں۔*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
Telegram
فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
اہلسنت و جماعت مسلک اعلیٰ حضرت کا ترجمان، وسط ہند کی عظیم درسگاہ " دارالعلوم امجدیہ ناگپور مہاراشٹرا" کے نام سے منسوب گروپ
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
👍1
لحد میں علی کا نام لیا فرشتے بھول گئے پڑھنے کا حکم
https://www.facebook.com/1960113650870434/posts/3064749343740187/
محترم قارئینِ کرام : فرشتے نوری مخلوق ہیں ۔ اللہ تعالی نے انہیں نور سے پیدا کیا اور ہماری نظروں سے پوشیدہ کر دیا اور انہیں ایسی طاقت دی کہ جس شکل میں چاہیں ظاہر ہو جائیں ۔ فرشتے حکمِ الٰہی کے خلاف کچھ نہیں کرتے ۔ یہ ہر قسم کے صغیرہ ، کبیرہ گناہوں سے پاک ہوتے ہیں ۔ کسی ”فرشتے“ کی ادنیٰ سی گستاخی بھی کفر ہے ۔ فرشتوں کے وجود کا انکار کرنا یا یہ کہنا کہ ”فرشتہ“ نیکی کی قوت کو کہتے ہیں اور اس کے سوا کچھ نہیں ، یہ کُفر ہے ۔ فرشتے اللہ تعالیٰ کے معصوم مخلوق ہیں اور نور سے پیدا کیے گئے ہیں ۔ فرشتے ہماری نظروں سے غائب ہیں اور وہ نہ تو مذکر ہیں اور نہ مؤنث ہیں ۔ نیز فرشتے انسانی حاجتوں کھانا ، پینا اور سونا وغیرہ سے پاک ہیں ۔
لحد میں میں نے جو مولیٰ علی کا نام لیا
قسم خدا کی فرشتے سوال بھول گئے
اس طرح کے اشعار بے جا غلو اور گستاخی کے زمرے میں آتے ہیں ۔
دوسرے مصرعے کی شرعی قباحت اہلِ علم سے پوشیدہ نہیں کہ ایک تخیلاتی احساس پر قسم اٹھانا اور وہ بھی ایک صریح کفر پر جس میں معصوم فرشتوں کی طرف نسیان کی نسبت کی گئ , بدترین گستاخی ہے ۔ مسئلہ یہ ہے کہ فرشتوں سے امکانِ نسیان تک محال ہے جبکہ مذکورہ بالا شعر میں صدورِ نسیان ثابت کیا گیا ہے ۔ ہمارے لکھنے والوں کو چاہیے کہ لکھنے سے پہلے حدود و قیود کا علم حاصل کریں اور جس کی مدح کرنی ہو کم از کم اس کی سیرت کے تابندہ گوشوں سے اخذ مضمون کریں اور ممدوح کے نظریات کی مخالف شاعری سے احتراز کریں , ایسی شاعری جس میں بجائے مدح کے ذم کا پہلو نکلتا ہو اور شرع شریف سے تصادم پیدا ہوتا ہو کرنے سے نہ کرنا بہتر ہے کیونکہ جن کی تعریف میں آپ ایسے غلو آمیز اور کفریہ شعر لکھتے پڑھتے ہیں بلا شبہ وہ ایسی مدح سے خوش نہیں بلکہ ناراض ہی ہونگے ۔
اس شعر میں کتنے کفریات و گستاخیاں ہیں یہ کسی اہل علم سے مخفی نہیں ۔
یہاں فرشتوں کو بھول جانے والا کہا گیا جو کہ سیدھی سیدھی گستاخی ہے اور یہی نہیں اس پہ قسم بھی اٹھائی گئی ۔
پاس بیٹھے نام نہاد مفکر اسلام و مفسر قرآن ریاض شاہ پنڈوی جھوم رہا ہے اور لوگوں سے ہاتھ چُمواتے ہوئے نذرانے وصول کر رہا ہے ، لیکن مجال ہے کہ موصوف کے کان پہ اس قدر غلو و گستاخی پر مبنی شعر سُن کر جوں تک رینگی ہو ۔ حالانکہ اہل سنت کا عقیدہ ہے کہ ملائکہ معصوم عن الخطاء ہیں ، بھول چوک سے پاک ہیں ۔ لیکن تفضیلی ٹولے کو عقائد اہل سنت کی پرواہ ہی نہیں ، کیونکہ اب یہ ٹولا اُن لوگوں کے باطل عقائد و نظریات کو اپنے انداز میں پھیلا رہا ہے جن کے نزدیک فرشتے بھول سکتے ہیں جیسا کہ ان رافضیوں کی کتابوں میں لکھا ہے ۔
شیعہ لکھتا ہے کہ : وحی پہنچانے میں جبرائیل سے غلطی ہوئی اور وہ حضرت علی کی بجائے حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے پاس وحی لے گئے ۔ (انوارِ نُعمانیہ 2/208،چشتی)
اگر اہل بیت اطہار رضی اللہ عنہم کی ایسی شانیں بیان کرو گے جس سے انبیاء و ملائکہ علیہم السلام یا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی توہین و بے ادبی ہوتی ہو تو قبر میں ان شاءالله فرشتے بھولیں گے نہیں بلکہ بڑی اچھی طرح یاد رکھیں گے کہ یہی وہ شخص ہے جو دنیا میں شریعت کو ہلکا سمجھتے ہوئے عقائدِ اہل سنت کی مخالفت کرتا رہا ۔
اور آخر میں ایسے اشعار پڑھنے والے نعت خوانوں اور پِیروں کو اُنہی کی بولی میں جواب کہ : ⬇
آل کی محبت بھی ہے وہی قبول
جو ہو شریعت کے مطابق یہ بھول گئے ؟
فرشتے ہیں نسیان سے پاک
عقائدِ اسلام کیوں بھول گئے ؟
قبر میں ہوں گے تین سوال
اے منکر بے ایمان ! یہ کیوں بھول گئے ؟
اور شیطان تو رہا خبیث و پلید
کیا تم بھی مسلمان ہونا بھول گئے ؟
(بصد شکریہ علامہ ارسلان احمد اصمعی قادری)
فرشتوں“ کے بارے میں اسلامی عقیدہ
فرشتے اللہ تعالیٰ کے معصوم مخلوق ہیں اور نور سے پیدا کیے گئے ہیں ۔ فرشتے ہماری نظروں سے غائب ہیں اور وہ نہ تو مذکر ہیں اور نہ مؤنث ہیں ۔ نیز فرشتے انسانی حاجتوں (کھانا ، پینا اور سونا وغیرہ) سے پاک ہیں ۔
يجب أن يقول آمنت بالله وملائكته
(وملائكته) بأنهم عباد مكرمون لايسبقونه بالقول وهم بأمره يعملون وأنهم معصومون ولا يعصون الله ومنزهون عن صفة الذكورية ونعت الأنوثية وقد أنكر الله في كتابه على من قال إنهم بنات الله حيث قال وجعلوا الملائكة الذين هم عباد الرحمن إناثا أشهدوا خلقهم ستكتب شهادتهم ويسئلون وقال أيضا أصطفي البنات على البنين مالكم كيف تحكمون وذكر في جواهر الأصول أن الملائكة ليس لهم حظ من نعيم الجنان ولا من رؤية الرحمن كذا في شرح القونوى لعمدة النسفي وذكر أيضا أنهم أجسام لطيفة هوائية تقدر على التشكل بأشكال مختلفة أولو أجنحة مثنى وثلاث ورباع مسكنهم السموات أى مسكن معظمهم قال وهذا قول أكثر المسلمين (شرح الفقه الاكبر للقاري صـ ١٢)
https://www.facebook.com/1960113650870434/posts/3064749343740187/
محترم قارئینِ کرام : فرشتے نوری مخلوق ہیں ۔ اللہ تعالی نے انہیں نور سے پیدا کیا اور ہماری نظروں سے پوشیدہ کر دیا اور انہیں ایسی طاقت دی کہ جس شکل میں چاہیں ظاہر ہو جائیں ۔ فرشتے حکمِ الٰہی کے خلاف کچھ نہیں کرتے ۔ یہ ہر قسم کے صغیرہ ، کبیرہ گناہوں سے پاک ہوتے ہیں ۔ کسی ”فرشتے“ کی ادنیٰ سی گستاخی بھی کفر ہے ۔ فرشتوں کے وجود کا انکار کرنا یا یہ کہنا کہ ”فرشتہ“ نیکی کی قوت کو کہتے ہیں اور اس کے سوا کچھ نہیں ، یہ کُفر ہے ۔ فرشتے اللہ تعالیٰ کے معصوم مخلوق ہیں اور نور سے پیدا کیے گئے ہیں ۔ فرشتے ہماری نظروں سے غائب ہیں اور وہ نہ تو مذکر ہیں اور نہ مؤنث ہیں ۔ نیز فرشتے انسانی حاجتوں کھانا ، پینا اور سونا وغیرہ سے پاک ہیں ۔
لحد میں میں نے جو مولیٰ علی کا نام لیا
قسم خدا کی فرشتے سوال بھول گئے
اس طرح کے اشعار بے جا غلو اور گستاخی کے زمرے میں آتے ہیں ۔
دوسرے مصرعے کی شرعی قباحت اہلِ علم سے پوشیدہ نہیں کہ ایک تخیلاتی احساس پر قسم اٹھانا اور وہ بھی ایک صریح کفر پر جس میں معصوم فرشتوں کی طرف نسیان کی نسبت کی گئ , بدترین گستاخی ہے ۔ مسئلہ یہ ہے کہ فرشتوں سے امکانِ نسیان تک محال ہے جبکہ مذکورہ بالا شعر میں صدورِ نسیان ثابت کیا گیا ہے ۔ ہمارے لکھنے والوں کو چاہیے کہ لکھنے سے پہلے حدود و قیود کا علم حاصل کریں اور جس کی مدح کرنی ہو کم از کم اس کی سیرت کے تابندہ گوشوں سے اخذ مضمون کریں اور ممدوح کے نظریات کی مخالف شاعری سے احتراز کریں , ایسی شاعری جس میں بجائے مدح کے ذم کا پہلو نکلتا ہو اور شرع شریف سے تصادم پیدا ہوتا ہو کرنے سے نہ کرنا بہتر ہے کیونکہ جن کی تعریف میں آپ ایسے غلو آمیز اور کفریہ شعر لکھتے پڑھتے ہیں بلا شبہ وہ ایسی مدح سے خوش نہیں بلکہ ناراض ہی ہونگے ۔
اس شعر میں کتنے کفریات و گستاخیاں ہیں یہ کسی اہل علم سے مخفی نہیں ۔
یہاں فرشتوں کو بھول جانے والا کہا گیا جو کہ سیدھی سیدھی گستاخی ہے اور یہی نہیں اس پہ قسم بھی اٹھائی گئی ۔
پاس بیٹھے نام نہاد مفکر اسلام و مفسر قرآن ریاض شاہ پنڈوی جھوم رہا ہے اور لوگوں سے ہاتھ چُمواتے ہوئے نذرانے وصول کر رہا ہے ، لیکن مجال ہے کہ موصوف کے کان پہ اس قدر غلو و گستاخی پر مبنی شعر سُن کر جوں تک رینگی ہو ۔ حالانکہ اہل سنت کا عقیدہ ہے کہ ملائکہ معصوم عن الخطاء ہیں ، بھول چوک سے پاک ہیں ۔ لیکن تفضیلی ٹولے کو عقائد اہل سنت کی پرواہ ہی نہیں ، کیونکہ اب یہ ٹولا اُن لوگوں کے باطل عقائد و نظریات کو اپنے انداز میں پھیلا رہا ہے جن کے نزدیک فرشتے بھول سکتے ہیں جیسا کہ ان رافضیوں کی کتابوں میں لکھا ہے ۔
شیعہ لکھتا ہے کہ : وحی پہنچانے میں جبرائیل سے غلطی ہوئی اور وہ حضرت علی کی بجائے حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے پاس وحی لے گئے ۔ (انوارِ نُعمانیہ 2/208،چشتی)
اگر اہل بیت اطہار رضی اللہ عنہم کی ایسی شانیں بیان کرو گے جس سے انبیاء و ملائکہ علیہم السلام یا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی توہین و بے ادبی ہوتی ہو تو قبر میں ان شاءالله فرشتے بھولیں گے نہیں بلکہ بڑی اچھی طرح یاد رکھیں گے کہ یہی وہ شخص ہے جو دنیا میں شریعت کو ہلکا سمجھتے ہوئے عقائدِ اہل سنت کی مخالفت کرتا رہا ۔
اور آخر میں ایسے اشعار پڑھنے والے نعت خوانوں اور پِیروں کو اُنہی کی بولی میں جواب کہ : ⬇
آل کی محبت بھی ہے وہی قبول
جو ہو شریعت کے مطابق یہ بھول گئے ؟
فرشتے ہیں نسیان سے پاک
عقائدِ اسلام کیوں بھول گئے ؟
قبر میں ہوں گے تین سوال
اے منکر بے ایمان ! یہ کیوں بھول گئے ؟
اور شیطان تو رہا خبیث و پلید
کیا تم بھی مسلمان ہونا بھول گئے ؟
(بصد شکریہ علامہ ارسلان احمد اصمعی قادری)
فرشتوں“ کے بارے میں اسلامی عقیدہ
فرشتے اللہ تعالیٰ کے معصوم مخلوق ہیں اور نور سے پیدا کیے گئے ہیں ۔ فرشتے ہماری نظروں سے غائب ہیں اور وہ نہ تو مذکر ہیں اور نہ مؤنث ہیں ۔ نیز فرشتے انسانی حاجتوں (کھانا ، پینا اور سونا وغیرہ) سے پاک ہیں ۔
يجب أن يقول آمنت بالله وملائكته
(وملائكته) بأنهم عباد مكرمون لايسبقونه بالقول وهم بأمره يعملون وأنهم معصومون ولا يعصون الله ومنزهون عن صفة الذكورية ونعت الأنوثية وقد أنكر الله في كتابه على من قال إنهم بنات الله حيث قال وجعلوا الملائكة الذين هم عباد الرحمن إناثا أشهدوا خلقهم ستكتب شهادتهم ويسئلون وقال أيضا أصطفي البنات على البنين مالكم كيف تحكمون وذكر في جواهر الأصول أن الملائكة ليس لهم حظ من نعيم الجنان ولا من رؤية الرحمن كذا في شرح القونوى لعمدة النسفي وذكر أيضا أنهم أجسام لطيفة هوائية تقدر على التشكل بأشكال مختلفة أولو أجنحة مثنى وثلاث ورباع مسكنهم السموات أى مسكن معظمهم قال وهذا قول أكثر المسلمين (شرح الفقه الاكبر للقاري صـ ١٢)
❤1