Forwarded from Abde Mustafa Organisation
لڑکیوں کو پڑھانا صحیح نہیں ہے
عنوان (ٹائٹل) دیکھ کر بھڑکنے سے پہلے ہماری پوری بات سُن لیں؛ ہمیں معلوم ہے کہ جب کوئی دینی علم رکھنے والا "مولوی ٹائپ" شخص ایسی باتیں کرتا ہے کہ "لڑکیوں کو یہ نہیں کرنا چاہیے، وہ نہیں کرنا چاہیے....." تو کئی لوگوں کو بڑی تکلیف ہوتی ہے-
ابھی ایک مقابلہ چل رہا ہے کہ "لڑکیاں کسی سے (خاص کر لڑکوں سے) کم نہیں ہیں" اور تقریباً ہر شخص اپنے گھر کی لڑکیوں کو اس مقابلے کا حصہ بنانا چاہتا ہے- لڑکا اسکول جائے گا تو لڑکی بھی جائے گی، لڑکا کالج جائے گا تو لڑکی بھی جائے گی، یہ گاڑی چلائے گا تو وہ بھی چلائے گی، یہ نوکری (جاب) کرے گا تو وہ بھی کرے گی، اگر یہ کشتی (باکسنگ) کرے گا تو اس نے بھی چوڑیاں نہیں پہنی ہیں اور اگر یہ سیاست (پالیٹکس) میں آئے گا تو وہ بھی الیکشن لڑے گی!
اس مقابلے میں جو چیز کنارے (سائیڈ) کر دی گئی وہ ہے "شریعت" اور اب تو یہ سب اتنا عام (کامن) ہو چکا ہے کہ غلط کو غلط ہی نہیں سمجھا جاتا!
ایسے حالات میں پھنس جاتا ہے "مولوی ٹائپ" شخص جو لوگوں کو یہ سمجھانے نکلتا ہے کہ صحیح کیا ہے اور غلط کیا ہے-
باتیں تو بہت ہیں پر اب ہم عنوان (ٹائٹل) کی طرف لوٹتے ہیں- ہمارا ایک سوال ہے کہ لڑکیوں کو پڑھانے کی کیا ضرورت ہے؟ ہم جانتے ہیں آپ کے پاس کئی جوابات ہیں اور اگر نہیں بھی ہیں تو آپ کو کہیں سے انتظام کرنے ہوں گے لیکن پہلے سوال کو اچھی طرح سمجھ لیجیے؛ سوال میں "پڑھانے" سے مراد جدید عصری علوم یعنی میٹرک، انٹر، بیچلر، ماسٹر وغیرہ ہیں نہ کہ دینی علوم جو کہ آج کل اتنا پڑھایا جاتا ہے کہ لڑکے والوں سے کہا جا سکے کہ "لڑکی قرآن پڑھنا جانتی ہے"-
اب آپ کئی جوابات دے سکتے ہیں جن کا سیدھا تعلق (کنیکشن) اُس "مقابلے" سے ہوگا جو ہم نے بیان کیا اور بات پھر وہیں آ گئی کہ آپ بھی اسی مقابلے کے چکر میں کسی "ایک چیز" کو کنارے (سائیڈ) کرنا چاہتے ہیں جس کا نام اوپر بیان ہو چکا ہے-
جس چیز کو کنارے (سائیڈ) کیا جا رہا ہے، اُس کو ذرا سامنے (فرنٹ میں) رکھتے ہیں؛ ایک ایسا پہلو نظر آتا ہے جس کی ایک جھلک سے ایسے "مقابلوں" کا کوئی وجود ہی باقی نہیں رہتا، چناں چہ:
امام اہل سنت، اعلی حضرت رحمہ اللہ تعالی لکھتے ہیں کہ صحیح حدیث سے ثابت ہے کہ لڑکیوں کو سورۂ یوسف شریف کی تفسیر نہ پڑھائی جائے-
(ملخصاً: فتاوی رضویہ، ج24، ص456)
سورۂ یوسف قرآن کا حصہ ہے، جس کے بارے میں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے:
نَحْنُ نَقُصُّ عَلَیْكَ اَحْسَنَ الْقَصَصِ
یعنی (اے نبی ﷺ) ہم تمھارے سامنے سب سے اچھا واقعہ بیان کرتے ہیں-
اللہ تعالی اس واقعے کو سب سے اچھا واقعہ فرما رہا ہے، اس کے باوجود بھی عورتوں کو اس کی تفسیر پڑھانے سے منع کیا گیا ہے- اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیوں منع کیا گیا؟ اس واقعے میں ایسا کیا ہے؟.......،
ان سوالوں کا جواب جاننے سے پہلے یہ جاننے کی کوشش کیجیے کہ آپ کی لڑکی کو میٹرک تک پڑھائے جانے والے موضوعات (سبجیکٹس) میں کیا کیا موجود ہے؟
انگریزی اور ہندی کتابوں میں کیسے واقعات موجود ہیں؟
آپ کی لڑکی کے اسکول کے تھیلے (بیگ) میں موجود سائنس کی کتاب میں کیا کیا ہے؟
میٹرک تک (تقریباً تیرہ چودہ سال تک) روزانہ پانچ سے چھے گھنٹے تک (تقریباً ستائیس ہزار گھنٹوں تک) کیا پڑھایا گیا؟
کالج میں آپ کی لڑکی نے کیا کیا پڑھا؟
جسم کے حصوں (پارٹس آف باڈی) کے نام پر کیا کیا جاننے کو ملا؟
لیکچر میں کیا تھا؟ تاریخ میں کیا تھا؟ زولوجی میں کیا جانا؟ باٹنی میں کیا سیکھا؟ کمپیوٹر کورس میں کیا سیکھا؟..........؟
جب آپ یہ سب جان لیں اس کے بعد یہ جاننے کی کوشش کیجیے گا کہ سورۂ یوسف کی تفسیر کیوں نہیں پڑھانی چاہیے- آپ کو کسی "مولوی ٹائپ" شخص کے چکر میں پھنسنے کی ضرورت نہیں ہے کیوں کہ آپ ان سے زیادہ اپنی لڑکی کے لیے بھلائی کے طلب گار ہیں-
اور ہاں! یہ بھی بتا دیجیے گا کہ "ہمارا عنوان" کس طرح غلط ہے- اگر ہماری باتیں غلط ہیں تو انھیں دیوار پر مار دیں اور "مقابلے" میں ضرور حصہ لیں، داخلہ تو ہمیشہ جاری ہے-
عبد مصطفی
عنوان (ٹائٹل) دیکھ کر بھڑکنے سے پہلے ہماری پوری بات سُن لیں؛ ہمیں معلوم ہے کہ جب کوئی دینی علم رکھنے والا "مولوی ٹائپ" شخص ایسی باتیں کرتا ہے کہ "لڑکیوں کو یہ نہیں کرنا چاہیے، وہ نہیں کرنا چاہیے....." تو کئی لوگوں کو بڑی تکلیف ہوتی ہے-
ابھی ایک مقابلہ چل رہا ہے کہ "لڑکیاں کسی سے (خاص کر لڑکوں سے) کم نہیں ہیں" اور تقریباً ہر شخص اپنے گھر کی لڑکیوں کو اس مقابلے کا حصہ بنانا چاہتا ہے- لڑکا اسکول جائے گا تو لڑکی بھی جائے گی، لڑکا کالج جائے گا تو لڑکی بھی جائے گی، یہ گاڑی چلائے گا تو وہ بھی چلائے گی، یہ نوکری (جاب) کرے گا تو وہ بھی کرے گی، اگر یہ کشتی (باکسنگ) کرے گا تو اس نے بھی چوڑیاں نہیں پہنی ہیں اور اگر یہ سیاست (پالیٹکس) میں آئے گا تو وہ بھی الیکشن لڑے گی!
اس مقابلے میں جو چیز کنارے (سائیڈ) کر دی گئی وہ ہے "شریعت" اور اب تو یہ سب اتنا عام (کامن) ہو چکا ہے کہ غلط کو غلط ہی نہیں سمجھا جاتا!
ایسے حالات میں پھنس جاتا ہے "مولوی ٹائپ" شخص جو لوگوں کو یہ سمجھانے نکلتا ہے کہ صحیح کیا ہے اور غلط کیا ہے-
باتیں تو بہت ہیں پر اب ہم عنوان (ٹائٹل) کی طرف لوٹتے ہیں- ہمارا ایک سوال ہے کہ لڑکیوں کو پڑھانے کی کیا ضرورت ہے؟ ہم جانتے ہیں آپ کے پاس کئی جوابات ہیں اور اگر نہیں بھی ہیں تو آپ کو کہیں سے انتظام کرنے ہوں گے لیکن پہلے سوال کو اچھی طرح سمجھ لیجیے؛ سوال میں "پڑھانے" سے مراد جدید عصری علوم یعنی میٹرک، انٹر، بیچلر، ماسٹر وغیرہ ہیں نہ کہ دینی علوم جو کہ آج کل اتنا پڑھایا جاتا ہے کہ لڑکے والوں سے کہا جا سکے کہ "لڑکی قرآن پڑھنا جانتی ہے"-
اب آپ کئی جوابات دے سکتے ہیں جن کا سیدھا تعلق (کنیکشن) اُس "مقابلے" سے ہوگا جو ہم نے بیان کیا اور بات پھر وہیں آ گئی کہ آپ بھی اسی مقابلے کے چکر میں کسی "ایک چیز" کو کنارے (سائیڈ) کرنا چاہتے ہیں جس کا نام اوپر بیان ہو چکا ہے-
جس چیز کو کنارے (سائیڈ) کیا جا رہا ہے، اُس کو ذرا سامنے (فرنٹ میں) رکھتے ہیں؛ ایک ایسا پہلو نظر آتا ہے جس کی ایک جھلک سے ایسے "مقابلوں" کا کوئی وجود ہی باقی نہیں رہتا، چناں چہ:
امام اہل سنت، اعلی حضرت رحمہ اللہ تعالی لکھتے ہیں کہ صحیح حدیث سے ثابت ہے کہ لڑکیوں کو سورۂ یوسف شریف کی تفسیر نہ پڑھائی جائے-
(ملخصاً: فتاوی رضویہ، ج24، ص456)
سورۂ یوسف قرآن کا حصہ ہے، جس کے بارے میں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے:
نَحْنُ نَقُصُّ عَلَیْكَ اَحْسَنَ الْقَصَصِ
یعنی (اے نبی ﷺ) ہم تمھارے سامنے سب سے اچھا واقعہ بیان کرتے ہیں-
اللہ تعالی اس واقعے کو سب سے اچھا واقعہ فرما رہا ہے، اس کے باوجود بھی عورتوں کو اس کی تفسیر پڑھانے سے منع کیا گیا ہے- اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیوں منع کیا گیا؟ اس واقعے میں ایسا کیا ہے؟.......،
ان سوالوں کا جواب جاننے سے پہلے یہ جاننے کی کوشش کیجیے کہ آپ کی لڑکی کو میٹرک تک پڑھائے جانے والے موضوعات (سبجیکٹس) میں کیا کیا موجود ہے؟
انگریزی اور ہندی کتابوں میں کیسے واقعات موجود ہیں؟
آپ کی لڑکی کے اسکول کے تھیلے (بیگ) میں موجود سائنس کی کتاب میں کیا کیا ہے؟
میٹرک تک (تقریباً تیرہ چودہ سال تک) روزانہ پانچ سے چھے گھنٹے تک (تقریباً ستائیس ہزار گھنٹوں تک) کیا پڑھایا گیا؟
کالج میں آپ کی لڑکی نے کیا کیا پڑھا؟
جسم کے حصوں (پارٹس آف باڈی) کے نام پر کیا کیا جاننے کو ملا؟
لیکچر میں کیا تھا؟ تاریخ میں کیا تھا؟ زولوجی میں کیا جانا؟ باٹنی میں کیا سیکھا؟ کمپیوٹر کورس میں کیا سیکھا؟..........؟
جب آپ یہ سب جان لیں اس کے بعد یہ جاننے کی کوشش کیجیے گا کہ سورۂ یوسف کی تفسیر کیوں نہیں پڑھانی چاہیے- آپ کو کسی "مولوی ٹائپ" شخص کے چکر میں پھنسنے کی ضرورت نہیں ہے کیوں کہ آپ ان سے زیادہ اپنی لڑکی کے لیے بھلائی کے طلب گار ہیں-
اور ہاں! یہ بھی بتا دیجیے گا کہ "ہمارا عنوان" کس طرح غلط ہے- اگر ہماری باتیں غلط ہیں تو انھیں دیوار پر مار دیں اور "مقابلے" میں ضرور حصہ لیں، داخلہ تو ہمیشہ جاری ہے-
عبد مصطفی
❤3👍1
#Farmane_Faize_Millat 1
Jab Namaz Jaisi ibadat Ke Liye Aurat Masjid Nahin Ja Sakti To is Qalami Taaleem Ke Liye College Kaise Ja Sakti Hai ?
✍ Huzoor Faize Millat Allama Faiz Ahmad Owaisi Razavi علیہ الرحمہ
#فرمان_فیض_ملت 1
جب نماز جیسی عبادت کے لئے عورت مسجد نہیں جا سکتی تو اس قلمی تعلیم کے لئے کالج کیسے جا سکتی ہے ؟
✍ حضور فیض ملت علامہ فیض احمد اویسی رضوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
#फ़रमाने_फ़ैज़े_मिल्लत 1
जब नमाज़ जैसी इ़बादत के लिये औ़रत मस्जिद नहीं जा सकती तो इस क़लमी तालीम के लिये कॉलेज कैसे जा सकती है ?
✍ अ़ल्लामा फ़ैज़ अह़मद उवैसी रज़वी علیہ الرحمہ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
फ़ेसबुक Facebook فیس بک
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2116315758531047&id=100004579304922
Jab Namaz Jaisi ibadat Ke Liye Aurat Masjid Nahin Ja Sakti To is Qalami Taaleem Ke Liye College Kaise Ja Sakti Hai ?
✍ Huzoor Faize Millat Allama Faiz Ahmad Owaisi Razavi علیہ الرحمہ
#فرمان_فیض_ملت 1
جب نماز جیسی عبادت کے لئے عورت مسجد نہیں جا سکتی تو اس قلمی تعلیم کے لئے کالج کیسے جا سکتی ہے ؟
✍ حضور فیض ملت علامہ فیض احمد اویسی رضوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
#फ़रमाने_फ़ैज़े_मिल्लत 1
जब नमाज़ जैसी इ़बादत के लिये औ़रत मस्जिद नहीं जा सकती तो इस क़लमी तालीम के लिये कॉलेज कैसे जा सकती है ?
✍ अ़ल्लामा फ़ैज़ अह़मद उवैसी रज़वी علیہ الرحمہ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
फ़ेसबुक Facebook فیس بک
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2116315758531047&id=100004579304922
❤2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
👍2
Forwarded from Abde Mustafa Organisation
माल और वक़्त बरबाद, स्कूल और कॉलेज आबाद
आप को अच्छा लगे या ना लगे लेकिन माल और वक़्त की बरबादी का दूसरा नाम स्कूल और कॉलेज है। अगर आप ये समझते है के हम इल्म हासिल करने के ख़िलाफ़ है तो आप को हमारी बातें समझ नहीं आएगी। आप अगर ये समझते है के इल्म हासिल करने के लिए हम स्कूल और कॉलेज के मोहताज है तो भी आप को हमारी बातें समझ नहीं आएगी।
हम एक ऐसी हकीकत पर से पर्दा उठाने की कोशिश कर रहे हैं जिस पर कई पर्दे है। हमारे मुआश्रे में अब एक अजीब माहोल बन चुका है के जिस काम को लोग कसरत से करते है या करने को जरूरी समझते है, हमें भी वही करना है और वही जरूरी है।
स्कूल और कॉलेज में बच्चो की आधी ज़िन्दगी बीत जाती है लेकिन हासिल क्या होता है? ये आप खुद देखे तो मालूम हो जाएगा।
हमने कई पढ़ाकू देखे है जिन्होंने स्कूल और कॉलेज के हजारों चक्कर लगाए है लेकिन उन्होंने इल्म हासिल नहीं किया। ये आप समझते है के स्कूल और कॉलेज ही इल्म हासिल करने का जरिया है लेकिन हकीकत में ऐसा कुछ नहीं है। जब स्कूल और कॉलेज का नामो निशान नहीं था, उस वक़्त ऐसे ऐसे लोग मौजूद थे जिनके बारे में पढ़ कर ये कहना बिल्कुल सही होगा के सैंकड़ों स्कूल और कॉलेज के मुकाबले में वह अकेले काफी थे। दरअसल वह इल्म हासिल करते थे और हम बस रसम (formality) अदा कर रहे है और इसे जरूरी भी समझ रहे है।
इल्म हासिल करने के लिए उम्र क्या होनी चाहिए?
वक़्त कितना लगना चाहिए? माल कितना खर्च होना चाहिए? अगर वक़्त और पैसे ज्यादा लग रहे है तो इल्म कोन सा और कितना हासिल होना चाहिए? इन बातो का अंदाज़ा लगा सकते है तो लगाए और देखे के आप स्कूल और कॉलेज में तालीम हासिल कर रहे है या अपना और अपने बच्चो का वक़्त बर्बाद कर रहे है।
अब्दे मुस्तफा
आप को अच्छा लगे या ना लगे लेकिन माल और वक़्त की बरबादी का दूसरा नाम स्कूल और कॉलेज है। अगर आप ये समझते है के हम इल्म हासिल करने के ख़िलाफ़ है तो आप को हमारी बातें समझ नहीं आएगी। आप अगर ये समझते है के इल्म हासिल करने के लिए हम स्कूल और कॉलेज के मोहताज है तो भी आप को हमारी बातें समझ नहीं आएगी।
हम एक ऐसी हकीकत पर से पर्दा उठाने की कोशिश कर रहे हैं जिस पर कई पर्दे है। हमारे मुआश्रे में अब एक अजीब माहोल बन चुका है के जिस काम को लोग कसरत से करते है या करने को जरूरी समझते है, हमें भी वही करना है और वही जरूरी है।
स्कूल और कॉलेज में बच्चो की आधी ज़िन्दगी बीत जाती है लेकिन हासिल क्या होता है? ये आप खुद देखे तो मालूम हो जाएगा।
हमने कई पढ़ाकू देखे है जिन्होंने स्कूल और कॉलेज के हजारों चक्कर लगाए है लेकिन उन्होंने इल्म हासिल नहीं किया। ये आप समझते है के स्कूल और कॉलेज ही इल्म हासिल करने का जरिया है लेकिन हकीकत में ऐसा कुछ नहीं है। जब स्कूल और कॉलेज का नामो निशान नहीं था, उस वक़्त ऐसे ऐसे लोग मौजूद थे जिनके बारे में पढ़ कर ये कहना बिल्कुल सही होगा के सैंकड़ों स्कूल और कॉलेज के मुकाबले में वह अकेले काफी थे। दरअसल वह इल्म हासिल करते थे और हम बस रसम (formality) अदा कर रहे है और इसे जरूरी भी समझ रहे है।
इल्म हासिल करने के लिए उम्र क्या होनी चाहिए?
वक़्त कितना लगना चाहिए? माल कितना खर्च होना चाहिए? अगर वक़्त और पैसे ज्यादा लग रहे है तो इल्म कोन सा और कितना हासिल होना चाहिए? इन बातो का अंदाज़ा लगा सकते है तो लगाए और देखे के आप स्कूल और कॉलेज में तालीम हासिल कर रहे है या अपना और अपने बच्चो का वक़्त बर्बाद कर रहे है।
अब्दे मुस्तफा
❤2
Forwarded from Abde Mustafa Organisation
Maal Aur Waqt Barbaad, School Aur Collage Aabad
Aap Ko Accha Lage Ya Na Lage Lekin Maal Aur Waqt Ki Barbaadi Ka Dusra Naam School Aur College Hai, Agar Aap Ye Samajhte Hai Ki Hum Ilm Hasil Karne Ke Khilaf Hai To Aap Ko Humari Baate Samajh Nahi Aayegi, Aap Agar Ye Samajhte Hai Ki Ilm Hasil Karne Ke Liye Hum School Aur College Ke Muhataaj Hai To Bhi Aap Ko Humari Baate Samajh Nahi Aayegi
Hum Ek Aisi Haqiqat Par Se Parda Uthane Ki Koshish Kar Rahe Hai Jis Par Kayi Parde Hai
Humare Mu'aashre Me Ab Ek Ajeeb Mahol Ban Gaya Hai Ki Jis Kaam Ko Log Kasrat Se Karte Hai Ya Karne Ko Zaroori Samajhte Hai Hume Bhi Wahi Karna Hai Aur Wahi Zaroori Hai
School Aur College Me Baccho Ki Aadhi Zindagi Beet Jati Hai Lekin Hasil Kya Hota Hai? Ye Aap Khud Dekhe To Maloom Ho Jayega
Hum Ne Kayi Padhaku Dekhe Hai Jinho Ne School Aur College Ke Hazaro Chakkar Lagaye Hai Lekin Unhone Ilm Hasil Nahi Kiya
Ye Aap Samajhte Hai Ki School Aur College Hi Ilm Hasil Karne Ka Zariya Hai Lekin Haqiqat Me Aisa Kuch Nahi Hai
Jab School Aur College Ka Naam Wa Nishan Na Tha, Us Waqt Aise Aise Log Maujood The Jin Ke Baare Me Padh Kar Ye Kahena Bilkul Sahih Hoga Ki Saikdo Schools Aur Colleges Ke Muqable Me Woh Akele Kafi The
Dar Asal Woh Ilm Hasil Karte The Aur Hum Bus Rasm (Formality) Ada Kar Rahe Hai Aur Ise Zaroori Bhi Samajh Rahe Hain
Ilm Hasil Karne Ke Liye Umar Kya Honi Chahiye? Waqt Kitna Lagana Chahiye? Maal Kitna Kharch Hona Chahiye? Agar Waqt Aur Paise Zayada Laga Rahe Hai To Ilm Kaun Sa Aur Kitna Hasil Hona Chahiye? In Baato Ka Andaza Laga Sakte Hai To Lagaye Aur Dekhe Ki School Aur College Me Taleem Hasil Kar Rahe Hai Ya Apna Aur Apne Baccho Ka Waqt Barbaad Kar Rahe Hain
Abde Mustafa
Aap Ko Accha Lage Ya Na Lage Lekin Maal Aur Waqt Ki Barbaadi Ka Dusra Naam School Aur College Hai, Agar Aap Ye Samajhte Hai Ki Hum Ilm Hasil Karne Ke Khilaf Hai To Aap Ko Humari Baate Samajh Nahi Aayegi, Aap Agar Ye Samajhte Hai Ki Ilm Hasil Karne Ke Liye Hum School Aur College Ke Muhataaj Hai To Bhi Aap Ko Humari Baate Samajh Nahi Aayegi
Hum Ek Aisi Haqiqat Par Se Parda Uthane Ki Koshish Kar Rahe Hai Jis Par Kayi Parde Hai
Humare Mu'aashre Me Ab Ek Ajeeb Mahol Ban Gaya Hai Ki Jis Kaam Ko Log Kasrat Se Karte Hai Ya Karne Ko Zaroori Samajhte Hai Hume Bhi Wahi Karna Hai Aur Wahi Zaroori Hai
School Aur College Me Baccho Ki Aadhi Zindagi Beet Jati Hai Lekin Hasil Kya Hota Hai? Ye Aap Khud Dekhe To Maloom Ho Jayega
Hum Ne Kayi Padhaku Dekhe Hai Jinho Ne School Aur College Ke Hazaro Chakkar Lagaye Hai Lekin Unhone Ilm Hasil Nahi Kiya
Ye Aap Samajhte Hai Ki School Aur College Hi Ilm Hasil Karne Ka Zariya Hai Lekin Haqiqat Me Aisa Kuch Nahi Hai
Jab School Aur College Ka Naam Wa Nishan Na Tha, Us Waqt Aise Aise Log Maujood The Jin Ke Baare Me Padh Kar Ye Kahena Bilkul Sahih Hoga Ki Saikdo Schools Aur Colleges Ke Muqable Me Woh Akele Kafi The
Dar Asal Woh Ilm Hasil Karte The Aur Hum Bus Rasm (Formality) Ada Kar Rahe Hai Aur Ise Zaroori Bhi Samajh Rahe Hain
Ilm Hasil Karne Ke Liye Umar Kya Honi Chahiye? Waqt Kitna Lagana Chahiye? Maal Kitna Kharch Hona Chahiye? Agar Waqt Aur Paise Zayada Laga Rahe Hai To Ilm Kaun Sa Aur Kitna Hasil Hona Chahiye? In Baato Ka Andaza Laga Sakte Hai To Lagaye Aur Dekhe Ki School Aur College Me Taleem Hasil Kar Rahe Hai Ya Apna Aur Apne Baccho Ka Waqt Barbaad Kar Rahe Hain
Abde Mustafa
❤2
Forwarded from Abde Mustafa Organisation
مال اور وقت برباد، اسکول اور کالج آباد
آپ کو اچھا لگے یا نہ لگے لیکن مال اور وقت کی بربادی کا دوسرا نام اسکول اور کالج ہے۔ اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ہم علم حاصل کرنے کے خلاف ہیں تو آپ کو ہماری باتیں سمجھ نہیں آئیں گی۔ آپ اگر یہ سمجھتے ہیں کہ علم حاصل کرنے کے لیے ہم اسکول اور کالج کے محتاج ہیں تو بھی آپ کو ہماری باتیں سمجھ نہیں آئیں گی۔
ہم ایک ایسی حقیقت پر سے پردہ اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں جس پر کئی پردے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں اب ایک عجیب ماحول بن چکا ہے کہ جس کام کو لوگ کثرت سے کرتے ہیں یا کرنے کو ضروری سمجھتے ہیں، ہمیں بھی وہی کرنا ہے اور وہی ضروری ہے۔
اسکول اور کالج میں بچوں کی آدھی زندگی بیت جاتی ہے لیکن حاصل کیا ہوتا ہے؟ یہ آپ خود دیکھیں تو معلوم ہو جائے گا۔
ہم نے کئی پڑھاکو دیکھے ہیں جنھوں نے اسکول اور کالج کے ہزاروں چکر لگائے ہیں لیکن انھوں نے علم حاصل نہیں کیا۔ یہ آپ سمجھتے ہیں کہ اسکول اور کالج ہی علم حاصل کرنے کا ذریعہ ہے لیکن حقیقت میں ایسا کچھ نہیں ہے۔
جب اسکول اور کالج کا نام و نشان نہیں تھا، اس وقت ایسے ایسے لوگ موجود تھے جن کے بارے میں پڑھ کر یہ کہنا بالکل صحیح ہوگا کہ سیکڑوں اسکول اور کالج کے مقابلے میں وہ اکیلے کافی تھے۔ در اصل وہ علم حاصل کرتے تھے اور ہم بس رسم (Formality) ادا کر رہے ہیں اور اسے ضروری بھی سمجھ رہے ہیں۔
علم حاصل کرنے کے لیے عمر کیا ہونی چاہیے؟ وقت کتنا لگنا چاہیے؟ مال کتنا خرچ ہونا چاہیے؟ اگر وقت اور پیسے زیادہ لگ رہے ہیں تو علم کون سا اور کتنا حاصل ہونا چاہیے؟ ان باتوں کا اندازہ لگا سکتے ہیں تو لگائیں اور دیکھیں کہ آپ اسکول اور کالج میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں یا اپنا اور اپنے بچوں کا وقت برباد کر رہے ہیں۔
عبد مصطفی
آپ کو اچھا لگے یا نہ لگے لیکن مال اور وقت کی بربادی کا دوسرا نام اسکول اور کالج ہے۔ اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ہم علم حاصل کرنے کے خلاف ہیں تو آپ کو ہماری باتیں سمجھ نہیں آئیں گی۔ آپ اگر یہ سمجھتے ہیں کہ علم حاصل کرنے کے لیے ہم اسکول اور کالج کے محتاج ہیں تو بھی آپ کو ہماری باتیں سمجھ نہیں آئیں گی۔
ہم ایک ایسی حقیقت پر سے پردہ اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں جس پر کئی پردے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں اب ایک عجیب ماحول بن چکا ہے کہ جس کام کو لوگ کثرت سے کرتے ہیں یا کرنے کو ضروری سمجھتے ہیں، ہمیں بھی وہی کرنا ہے اور وہی ضروری ہے۔
اسکول اور کالج میں بچوں کی آدھی زندگی بیت جاتی ہے لیکن حاصل کیا ہوتا ہے؟ یہ آپ خود دیکھیں تو معلوم ہو جائے گا۔
ہم نے کئی پڑھاکو دیکھے ہیں جنھوں نے اسکول اور کالج کے ہزاروں چکر لگائے ہیں لیکن انھوں نے علم حاصل نہیں کیا۔ یہ آپ سمجھتے ہیں کہ اسکول اور کالج ہی علم حاصل کرنے کا ذریعہ ہے لیکن حقیقت میں ایسا کچھ نہیں ہے۔
جب اسکول اور کالج کا نام و نشان نہیں تھا، اس وقت ایسے ایسے لوگ موجود تھے جن کے بارے میں پڑھ کر یہ کہنا بالکل صحیح ہوگا کہ سیکڑوں اسکول اور کالج کے مقابلے میں وہ اکیلے کافی تھے۔ در اصل وہ علم حاصل کرتے تھے اور ہم بس رسم (Formality) ادا کر رہے ہیں اور اسے ضروری بھی سمجھ رہے ہیں۔
علم حاصل کرنے کے لیے عمر کیا ہونی چاہیے؟ وقت کتنا لگنا چاہیے؟ مال کتنا خرچ ہونا چاہیے؟ اگر وقت اور پیسے زیادہ لگ رہے ہیں تو علم کون سا اور کتنا حاصل ہونا چاہیے؟ ان باتوں کا اندازہ لگا سکتے ہیں تو لگائیں اور دیکھیں کہ آپ اسکول اور کالج میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں یا اپنا اور اپنے بچوں کا وقت برباد کر رہے ہیں۔
عبد مصطفی
❤3
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1👍1