Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
👍1
Forwarded from فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
*📚 « امجــــدی مضــــامین » 📚*
-----------------------------------------------------------
*🕯فضائل ماہ رجب المرجب🕯*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
قِسط نمبـــــر ۵
📬 دن مقرَّر کرنا:
وسوسہ :تیجہ ، چالیسواں ، گیارہویں ، بارہویں اوررجب کے کونڈے وغیرہ کے نام سے ایصالِ ثواب کے دن کیوں مخصوص کر لئے گئے ہیں؟
جواب وسوسہ: ایصالِ ثواب کے لئے شریعت میں کوئی مدّت اور وَقت متعین ( مُتَ۔عَ۔یَّن یعنی مقرّر ) نہیں ،البتّہ دن وغیرہ مقرر کرنے میں شَرْعاً حَرج بھی نہیں ،وقت مُقرَّرکرنا دو طرح ہے (۱) شَرعی: شریعت نے کسی کام کے لیے وقت مقرَّر فرمایا ہو۔ مَثَلًا قربانی ،حج وغیرہ (۲) عُرفی: شریعت کی جانب سے وَقت مقرّر نہ ہو لیکن لوگ اپنی اور دوسروں کی سَہولت اوریادد ہانی یا کسی خاص مَصلَحَت کے لیے کوئی وقت خاص کر لیں۔ جیسے آج کل مساجِد میں نمازوں کی جماعت کے لیے اوقات مخصوص کرناوغیرہ، حالانکہ پہلے جماعت کے لئے وقت طے نہیں ہوتا تھا جب نمازی اکٹّھے ہو جاتے جماعت کھڑی کر دی جاتی۔ بعض کاموں کے لیے تو خود سرکار ِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے وَقت مقرَّر فرمایا نیز صَحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان اوربُزُرگان دین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن سے بھی ایسا کرنا ثابت ہے مَثَلاً {۱} حضور پر نور سیِّد عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ہرسال شہدائے اُحُد عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی قبروں پر تشریف لے جانے کا وقت مقرَّر فرمالیا تھا([3]){۲}سنیچر(یعنی ہفتے) کے دن سرکارِ مدینہ عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کامسجد قبا میں تشریف لانا ([4]){۳} اورسیِّدُنا صدِّیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے دینی مُشاوَرت کے لیے وقتِ صبح وشام کی تعیین ([5]){۴} حضرتِ عبدُاللّٰہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے وعظ وتذکیر کے لیے پنجشنبہ(یعنی جمعرات) کا دن مقرر کیا ([6]){۵}اورعُلما نے سبق شروع کرنے کے لیے بدھ کا دن رکھا ۔([7]) (ماخوذ از فتاوٰی رضویہ مُخَرَّجہ ج۹ ص ۵۸۵۔۵۸۶)
رجب کے ابتدائی تین روزوں کی فضیلت:
رَجب شریف کے ابتدائی تین روزوں کے فضائل کی بھی کیا بات ہے ! حضرتِ سیِّدُنا عبدُاللّٰہ ابن عبّاس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے کہ بے چین دلوں کے چین ، رحمتِ دارَین، تاجدارِحرمین ، سرورِ کونین ، نانائے حَسنین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ رَحمت نشان ہے:’’رجبکے پہلے دن کا روزہ تین سال کا کَفّارہ ہے اور دوسرے دن کا روزہ دو سال کا اور تیسرے دن کا ایک سال کا کَفّارہ ہے ،پھر ہر دن کا روزہ ایک ماہ کا کفّارہ ہے۔‘‘
(اَلْجامِعُ الصَّغِیر لِلسُّیُوطی ص۳۱۱ حدیث ۵۰۵۱،فَضائِلُ شَہْرِ رَجَب لِلخَلّال ص ۶۴)
میں گنہگار گناہوں کے سوا کیا لاتا
نیکیاں ہوتی ہیں سرکار نِکو کار کے پاس
نفلی روزوں کی بھی کیا فضائل ہیں! اِس ضِمن میں دو احادیثِ مبارَکہ مُلاحَظہ فرما ئیے:
{۱} فِرشتے دُعائے مغفِرت کرتے ہیں:
حضرتِ سیِدَّتُنا اُمّ عُمارہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَافرماتی ہیں : حضورِ پاک ، صاحبِ لولاک ، سیّاحِ اَفلاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ میرے یہاں تشریف لائے تو میں نے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خدمتِ سراپا بَرَکت میں کھانا پیش کیا تو ارشاد فرمایا :’’ تم بھی کھائو۔‘‘ میں نے عرض کی : میں روزے سے ہوں۔ تو رحمتِ عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : جب تک روزہ دار کے سامنے کھانا کھایا جاتا ہے،فِرشتے اس( روزہ دار) کے لیے دُعائے مغفرت کرتے رہتے ہیں۔
(سُنَنِ تِرمِذی ج ۲ ص ۲۰۵ حدیث ۷۸۵)
{۲} روزہ دار کی ہڈیاں کب تسبیح کرتی ہیں:
حضرتِ سیِّدُنابِلال رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نبیِّ اکرم، نورِ مُجَسَّم ، شاہِ آدم وبنی آدم ، رسُولِ مُحتَشَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی خدمتِ معظَّم میں حاضِرہوئے، اُس وقت حضور پُرنو ر ، شافِع یوم النُّشور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ناشتا کررہے تھے، فرمایا : اے بِلال !’’ ناشتا کرلو۔‘‘ عرض کی: ’’ یَارَسُولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ! میں روزہ دار ہوں۔‘‘ تو رَسُولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : ’’ہم اپنی روزی کھارہے ہیں اور بلال کا ر ِزق جنت میں بڑھ رہا ہے۔‘‘اے بلال ! کیا تمہیں خبر ہے کہ جب تک روزہ دار کے سامنے کچھ کھایا جائے تب تک اُس کی ہڈّیاں تسبیح کرتی ہیں، اسے فرشتے دُعائیں دیتے ہیں۔‘‘
( شُعَبُ الْاِیمانج ۳ ص ۲۹۷حدیث ۳۵۸۶)
مُفَسّرِشہیر حکیمُ الْاُمَّت حضر تِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الحَنّان فرماتے ہیں:
-----------------------------------------------------------
*🕯فضائل ماہ رجب المرجب🕯*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
قِسط نمبـــــر ۵
📬 دن مقرَّر کرنا:
وسوسہ :تیجہ ، چالیسواں ، گیارہویں ، بارہویں اوررجب کے کونڈے وغیرہ کے نام سے ایصالِ ثواب کے دن کیوں مخصوص کر لئے گئے ہیں؟
جواب وسوسہ: ایصالِ ثواب کے لئے شریعت میں کوئی مدّت اور وَقت متعین ( مُتَ۔عَ۔یَّن یعنی مقرّر ) نہیں ،البتّہ دن وغیرہ مقرر کرنے میں شَرْعاً حَرج بھی نہیں ،وقت مُقرَّرکرنا دو طرح ہے (۱) شَرعی: شریعت نے کسی کام کے لیے وقت مقرَّر فرمایا ہو۔ مَثَلًا قربانی ،حج وغیرہ (۲) عُرفی: شریعت کی جانب سے وَقت مقرّر نہ ہو لیکن لوگ اپنی اور دوسروں کی سَہولت اوریادد ہانی یا کسی خاص مَصلَحَت کے لیے کوئی وقت خاص کر لیں۔ جیسے آج کل مساجِد میں نمازوں کی جماعت کے لیے اوقات مخصوص کرناوغیرہ، حالانکہ پہلے جماعت کے لئے وقت طے نہیں ہوتا تھا جب نمازی اکٹّھے ہو جاتے جماعت کھڑی کر دی جاتی۔ بعض کاموں کے لیے تو خود سرکار ِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے وَقت مقرَّر فرمایا نیز صَحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان اوربُزُرگان دین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن سے بھی ایسا کرنا ثابت ہے مَثَلاً {۱} حضور پر نور سیِّد عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ہرسال شہدائے اُحُد عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی قبروں پر تشریف لے جانے کا وقت مقرَّر فرمالیا تھا([3]){۲}سنیچر(یعنی ہفتے) کے دن سرکارِ مدینہ عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کامسجد قبا میں تشریف لانا ([4]){۳} اورسیِّدُنا صدِّیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے دینی مُشاوَرت کے لیے وقتِ صبح وشام کی تعیین ([5]){۴} حضرتِ عبدُاللّٰہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے وعظ وتذکیر کے لیے پنجشنبہ(یعنی جمعرات) کا دن مقرر کیا ([6]){۵}اورعُلما نے سبق شروع کرنے کے لیے بدھ کا دن رکھا ۔([7]) (ماخوذ از فتاوٰی رضویہ مُخَرَّجہ ج۹ ص ۵۸۵۔۵۸۶)
رجب کے ابتدائی تین روزوں کی فضیلت:
رَجب شریف کے ابتدائی تین روزوں کے فضائل کی بھی کیا بات ہے ! حضرتِ سیِّدُنا عبدُاللّٰہ ابن عبّاس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے کہ بے چین دلوں کے چین ، رحمتِ دارَین، تاجدارِحرمین ، سرورِ کونین ، نانائے حَسنین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ رَحمت نشان ہے:’’رجبکے پہلے دن کا روزہ تین سال کا کَفّارہ ہے اور دوسرے دن کا روزہ دو سال کا اور تیسرے دن کا ایک سال کا کَفّارہ ہے ،پھر ہر دن کا روزہ ایک ماہ کا کفّارہ ہے۔‘‘
(اَلْجامِعُ الصَّغِیر لِلسُّیُوطی ص۳۱۱ حدیث ۵۰۵۱،فَضائِلُ شَہْرِ رَجَب لِلخَلّال ص ۶۴)
میں گنہگار گناہوں کے سوا کیا لاتا
نیکیاں ہوتی ہیں سرکار نِکو کار کے پاس
نفلی روزوں کی بھی کیا فضائل ہیں! اِس ضِمن میں دو احادیثِ مبارَکہ مُلاحَظہ فرما ئیے:
{۱} فِرشتے دُعائے مغفِرت کرتے ہیں:
حضرتِ سیِدَّتُنا اُمّ عُمارہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَافرماتی ہیں : حضورِ پاک ، صاحبِ لولاک ، سیّاحِ اَفلاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ میرے یہاں تشریف لائے تو میں نے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خدمتِ سراپا بَرَکت میں کھانا پیش کیا تو ارشاد فرمایا :’’ تم بھی کھائو۔‘‘ میں نے عرض کی : میں روزے سے ہوں۔ تو رحمتِ عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : جب تک روزہ دار کے سامنے کھانا کھایا جاتا ہے،فِرشتے اس( روزہ دار) کے لیے دُعائے مغفرت کرتے رہتے ہیں۔
(سُنَنِ تِرمِذی ج ۲ ص ۲۰۵ حدیث ۷۸۵)
{۲} روزہ دار کی ہڈیاں کب تسبیح کرتی ہیں:
حضرتِ سیِّدُنابِلال رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نبیِّ اکرم، نورِ مُجَسَّم ، شاہِ آدم وبنی آدم ، رسُولِ مُحتَشَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی خدمتِ معظَّم میں حاضِرہوئے، اُس وقت حضور پُرنو ر ، شافِع یوم النُّشور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ناشتا کررہے تھے، فرمایا : اے بِلال !’’ ناشتا کرلو۔‘‘ عرض کی: ’’ یَارَسُولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ! میں روزہ دار ہوں۔‘‘ تو رَسُولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : ’’ہم اپنی روزی کھارہے ہیں اور بلال کا ر ِزق جنت میں بڑھ رہا ہے۔‘‘اے بلال ! کیا تمہیں خبر ہے کہ جب تک روزہ دار کے سامنے کچھ کھایا جائے تب تک اُس کی ہڈّیاں تسبیح کرتی ہیں، اسے فرشتے دُعائیں دیتے ہیں۔‘‘
( شُعَبُ الْاِیمانج ۳ ص ۲۹۷حدیث ۳۵۸۶)
مُفَسّرِشہیر حکیمُ الْاُمَّت حضر تِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الحَنّان فرماتے ہیں:
❤1👍1
Forwarded from فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
اس سے معلوم ہوا کہ اگر کھانا کھاتے میں کوئی آجائے تو اُسے بھی کھانے کے لیے بُلانا سُنَّت ہے، مگر دِلی ارادے سے بُلائے جھوٹی تواضع نہ کرے، اور آنے والا بھی جھوٹ بول کر یہ نہ کہے کہ مجھے خواہش نہیں ، تاکہ بھوک اور جھوٹ کا اجتماع نہ ہوجائے، بلکہ اگر ( نہ کھانا چاہے یا) کھانا کم دیکھے تو کہہ دے : بَارَکَ اللّٰہ( یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ برکت دے) یہ بھی معلوم ہوا کہ سرورِ کائنات ، شاہِ موجودات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے اپنی عبادات نہیں چھپانی چا ہئیں بلکہ ظاہر کردی جائیں تاکہ حضور پرنور، شافع یومُ النُّشور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اس پر گواہ بن جائیں۔ یہ اظہار ریا نہیں۔( حضرتِ سیِّدُنا بلال کے روزے کا سُن کر جو کچھ فرمایا گیا اُس کی شرح یہ ہے) یعنی آج کی روزی ہم تو اپنی یہیں کھائے لیتے ہیں اور حضرتِ بلال رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ اس کے عوض ( عِ۔ وَض ) جنت میں کھائیں گے وہ عوض ( یعنی بدلہ ) اِس سے بہتر بھی ہوگا اور زِیادہ بھی۔ حدیث بالکل اپنے ظاہری معنی پر ہے، واقعی اُس وقت روزہ دار کی ہر ہڈّی و جوڑ بلکہ رگ رگ تسبیح ( یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی پاکی بیان) کرتی ہے، جس کا روزہ دار کو پتا نہیں ہوتا مگرسرکار ِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سنتے ہیں۔
(مراٰۃ ج ۳، ص ۲۰۲بتغیر قلیل )
[1] ۔۔۔ سیر اَعلام النبلاء للذھبی ج۶ص۴۴۷۔
[2] ۔۔۔ شواہدالنبوۃص۲۴۵
[3] ۔۔۔ مصنّف عبدالرزاق ج۳ص ۳۸۱حدیث ۶۷۴۵
[4] ۔۔۔ مُسلِم ص۷۲۴حدیث۱۳۹۹
[5] ۔۔۔ بُخاری ج ۱ص۱۸۰حدیث۴۷۶
[6] ۔۔۔ بُخاری ج ۱ص۴۲حدیث۷۰
[7] ۔۔۔ تعلیم المتعلّم ص ۷۲
https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*پیشکش📮فیضــان دارالعــلوم امجــدیہ ناگپور گروپ 966551830750+*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
(مراٰۃ ج ۳، ص ۲۰۲بتغیر قلیل )
[1] ۔۔۔ سیر اَعلام النبلاء للذھبی ج۶ص۴۴۷۔
[2] ۔۔۔ شواہدالنبوۃص۲۴۵
[3] ۔۔۔ مصنّف عبدالرزاق ج۳ص ۳۸۱حدیث ۶۷۴۵
[4] ۔۔۔ مُسلِم ص۷۲۴حدیث۱۳۹۹
[5] ۔۔۔ بُخاری ج ۱ص۱۸۰حدیث۴۷۶
[6] ۔۔۔ بُخاری ج ۱ص۴۲حدیث۷۰
[7] ۔۔۔ تعلیم المتعلّم ص ۷۲
https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*پیشکش📮فیضــان دارالعــلوم امجــدیہ ناگپور گروپ 966551830750+*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
Telegram
فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
اہلسنت و جماعت مسلک اعلیٰ حضرت کا ترجمان، وسط ہند کی عظیم درسگاہ " دارالعلوم امجدیہ ناگپور مہاراشٹرا" کے نام سے منسوب گروپ
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
👍1