🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
Photo
#فیضان_خواجہ_غریب_نواز
خواجہ معین الدین چشتی‌اجمیری
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَـبَـارَڪَ وَ تَـعَـالیٰ عَـنۡـهٗ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
ولادت 14 رجب المرجب 537 ھ
وصال 6 رجب المرجب 627 ھ
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
👍1
Forwarded from Gulam Mustafa Razvi
*’’میں نے ایک قبر(تربتِ غریب نواز) کو ہندوستان میں حکومت کرتے دیکھا‘‘*
(وائسرائے ہند لارڈ کرزن)
حضور خواجۂ خواجگاں نے وادیِ کفر و شرک کو ایمان کی کرنوں سے منوّر کر دیا.....!

غلام مصطفیٰ رضوی
نوری مشن مالیگاؤں

    ملک ہندوستان شرک و کفر کے دَلدَل میں پھنسا ہوا تھا۔ بعض علاقے ہی دامن اسلام میں تھے؛ جیسے کیرلا و سندھ ۔ کثیر علاقے شرک کی تاریکیوں میں ڈوبے ہوئے تھے۔ لاکھوں اصنامِ باطل کی پرستش ہوتی تھی۔ پتھروں کے آگے سر جھکے ہوئے تھے۔ پیشانیوں کا وقار مجروح تھا۔ معبودِ حقیقی سے جبیں منحرف تھی۔ ایسے ماحول میں سلطان الہند حضرت خواجہ غریب نواز معین الدین حسن چشتی رحمۃ اللہ علیہ ہندوستان کی سرزمین پر تشریف لائے۔ آپ کی یہ آمد خدائی حکمت کے تحت ہوئی۔ یہی وجہ ہے کہ لاہور سے دہلی تک- اور دہلی سے اجمیر تک- جہاں جہاں قیام ہوا؛ دلوں سے کفر و شرک کے زنگ دُھلتے رہے۔ لوگ جوق در جوق دامنِ اسلام میں آتے رہے۔

    جس جگہ اصنام ہی صدیوں سے پرستش کا باعث بنے ہوئے ہوں- وہاں یقیں کے اُجالے بکھیرناآسان نہیں۔ خواجہ غریب نواز نے اپنی سادہ طرزِ زندگی، خوف و خشیت الٰہی سے پُر تعلیمات، اعلیٰ اخلاق، روشن و تاباں کردار کی بدولت کفر کی وادیوں میں اذانِ سحر دی۔ باطن کے اندھیرے دور کیے۔ ایمان کے نور سے جبیں کو منور کر دیا۔ کشتِ ایماں ہری بھری ہو گئی۔ اجمیر کی دھرتی سے پورے ہندوستان کو کنٹرول فرمایا۔ آپ کا نظام دعوت و تبلیغ معمولی نہ تھا۔ آج لاکھوں افراد میں تبلیغ اسلام کا دعویٰ کیا جاتا ہے اور نتائج و حقائق دعوے کی قلعی کھول دیتے ہیں۔ خواجہ غریب نواز کی تبلیغ مثالی اور نتیجہ خیز تھی۔ بجھی طبیعتیں ایمانی نور سے کھل اُٹھیں۔من کی دنیا میں انقلاب آگیا۔ گویا دبستاں کھل گیا۔ بنجر وادیاں شاداب ہو گئیں۔ تشنہ کام سیراب ہوئے۔ شرک کے بادل چھٹے۔ اندھیریاں دور ہوئیں۔ روشنی پھیلتی گئی۔ طیبہ سے ایمان کی بادِ بہاری چلی۔ پورا ہندوستان اس سے خوش گوار ہو گیا۔اِسی آفاقی تبدیلی نے مشنِ خواجہ کی مقبولیت کو ہویدا کیا۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا بریلوی نے خواجہ غریب نواز کی مقبولیت کے ضمن میں اس بات کو ذکر فرمایا ہے کہ: قبولیتِ دُعا کے مقامات میں بارگاہِ خواجہ غریب نواز بھی ہے، جہاں مانگی ہوئیں دُعائیں اجابت کی منزل پر فائز ہوتی ہیں۔

    انقلاب کی تازہ لہر نے بہت جلد خواجہ غریب نوازکے مشن کی معنویت کو ظاہر کیا۔ خدائی مدد کا جلوہ رونما ہوا۔ اپنے ہی کیا پرائے بھی معترف ہوئے۔ مولانا محمد عبدالمبین نعمانی اس انقلابی تبدیلی کے ضمن میں فرماتے ہیں:

    آپ کی زندگی بظاہر معمولی اور سادہ تھی ایک چھوٹی سی جھونپڑی میں بیٹھ کر آپ نے ہندوستان میں جو روحانی انقلاب برپا کیا اس کی مثال پیش کرنے سے تاریخ ہند خالی ہے، یہی وجہ ہے کہ آج آپ کی عقیدتوں کے چراغ بلا تفریق مذہب و ملت سب کے دل میں جل رہے ہیں اور جملہ باشندگان ہند آج پروانہ وار آپ کی چوکھٹ پر حاضری دینے کے لیے اپنے کو بے قرار پاتے ہیں، یہ آپ کی وہ روحانی حکومت ہے جس کا اعتراف ایک انگریز حکمراں وائسرائے ہند لارڈ کرزن نے جب وہ ۱۹۰۲ء میں آستانہ غریب نواز پر گیا تھا اس طرح کیا ہے: ’میں نے ایک قبر کو ہندستان میں حکومت کرتے دیکھا ہے‘۔ (اکابرین چشت ص ۲ پروفیسر غلام سرور رانا)

    خواجہ غریب نواز نے دین کی تعلیمات کو بڑی سادگی کے ساتھ پھیلایا۔ اس میں ان کی اخلاقی عظمت کی قندیل فروزاں دکھائی دیتی ہے۔ آپ کے معرکہ آرا ارشادات میں اصلاح و فلاح کا جہان آباد ہے۔ چند ارشادات مطالعہ کریں:

[۱] محبت میں عارف کا کم سے کم مرتبہ یہ ہے کہ وہ صفاتِ حق کا مظہر ہوجائے اور محبت میں عارفِ کامل کا درجہ یہ ہے کہ اگر کوئی اس کے مقابلے پر دعویٰ کرکے آئے تو وہ اپنی قوت کرامت سے اسے گرفتار کرلے۔
[۲] بدبختی کی علامت یہ ہے کہ کوئی گناہ کرتارہے، پھر بھی مقبولِ بارگاہِ الٰہی ہونے کی اُمید رکھے۔
[۳] سخاوت کا بڑا درجہ ہے جس نے بھی نعمت پائی سخاوت سے پائی۔
[۴] لوگ منزلِ قرب نہیں پاتے مگر نماز کی ادائیگی میں کیوں کہ نماز مومن کی معراج ہے۔ (ماخوذ:اخبار الاخیارو مونس الارواح)
[۵]جس نے کچھ پایا خدمت سے پایا تو لازم ہے کہ مرشد کے فرمان سے ذرہ برابر تجاوز نہ کرے اور خدمت میں مشغول رہے۔
[۶]نماز بندوں کے لیے خدا کی امانت ہے تو بندوں کو چاہیے کہ اس کا حق اس طرح ادا کریں کہ اس میں کوئی خیانت پیدا نہ ہو۔
[۷]نماز دین کا رکن ہے اور رکن ستون ہوتا ہے تو جب ستون قائم ہو گیا تو مکان بھی قائم ہو گیا۔
[۸] جو بھوکے کو کھانا کھلاتا ہے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے اور جہنم کے درمیان سات پردے حائل کردے گا جن میں سے ہر ایک پردہ پانچ سو سال کی راہ کے برابر ہوگا۔
1
Forwarded from Gulam Mustafa Razvi
[۹] اس سے بڑھ کر کوئی کبیرہ گناہ نہیں کہ مسلمان بھائی کو بغیر سبب تکلیف دی جائے اس میں خدا و رسول دونوں ناراض ہوتے ہیں۔
[۱۰] یہ بھی کبیرہ گناہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کا نام سنے یا کلام اللہ سنے تو اس کا دل نرم نہ ہو اور ہیبتِ الٰہی سے اس کا ایمان زیادہ نہ ہو۔(ماخوذ:دلیل العارفین)

    ان ارشادات میں اصلاحِ باطن و تزکیہ نفس کا پہلو مستور ہے۔ نمازوں سے رغبت دلائی گئی ہے۔ اعمال کی اصلاح کا پیغام مضمر ہے۔ان ارشادات پر عمل سے معاشرہ پاکیزہ ہو سکتا ہے۔ ضرورت ہے کہ تعلیمات خواجہ غریب نواز کی اشاعت کر کے معاشرے کی اصلاح کی جائے۔
٭٭٭
2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
👍1
*📚 « امجــــدی مضــــامین » 📚*
-----------------------------------------------------------
*🕯فضائل ماہ رجب المرجب🕯*

قِسط نمبـــــر ۵

📬 دن مقرَّر کرنا:
وسوسہ :تیجہ ، چالیسواں ، گیارہویں ، بارہویں اوررجب کے کونڈے وغیرہ کے نام سے ایصالِ ثواب کے دن کیوں مخصوص کر لئے گئے ہیں؟
جواب وسوسہ: ایصالِ ثواب کے لئے شریعت میں کوئی مدّت اور وَقت متعین ( مُتَ۔عَ۔یَّن یعنی مقرّر ) نہیں ،البتّہ دن وغیرہ مقرر کرنے میں شَرْعاً حَرج بھی نہیں ،وقت مُقرَّرکرنا دو طرح ہے (۱) شَرعی: شریعت نے کسی کام کے لیے وقت مقرَّر فرمایا ہو۔ مَثَلًا قربانی ،حج وغیرہ (۲) عُرفی: شریعت کی جانب سے وَقت مقرّر نہ ہو لیکن لوگ اپنی اور دوسروں کی سَہولت اوریادد ہانی یا کسی خاص مَصلَحَت کے لیے کوئی وقت خاص کر لیں۔ جیسے آج کل مساجِد میں نمازوں کی جماعت کے لیے اوقات مخصوص کرناوغیرہ، حالانکہ پہلے جماعت کے لئے وقت طے نہیں ہوتا تھا جب نمازی اکٹّھے ہو جاتے جماعت کھڑی کر دی جاتی۔ بعض کاموں کے لیے تو خود سرکار ِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے وَقت مقرَّر فرمایا نیز صَحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان اوربُزُرگان دین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن سے بھی ایسا کرنا ثابت ہے مَثَلاً {۱} حضور پر نور سیِّد عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ہرسال شہدائے اُحُد عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی قبروں پر تشریف لے جانے کا وقت مقرَّر فرمالیا تھا([3]){۲}سنیچر(یعنی ہفتے) کے دن سرکارِ مدینہ عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کامسجد قبا میں تشریف لانا ([4]){۳} اورسیِّدُنا صدِّیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے دینی مُشاوَرت کے لیے وقتِ صبح وشام کی تعیین ([5]){۴} حضرتِ عبدُاللّٰہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے وعظ وتذکیر کے لیے پنجشنبہ(یعنی جمعرات) کا دن مقرر کیا ([6]){۵}اورعُلما نے سبق شروع کرنے کے لیے بدھ کا دن رکھا ۔([7]) (ماخوذ از فتاوٰی رضویہ مُخَرَّجہ ج۹ ص ۵۸۵۔۵۸۶)

رجب کے ابتدائی تین روزوں کی فضیلت:
رَجب شریف کے ابتدائی تین روزوں کے فضائل کی بھی کیا بات ہے ! حضرتِ سیِّدُنا عبدُاللّٰہ ابن عبّاس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے کہ بے چین دلوں کے چین ، رحمتِ دارَین، تاجدارِحرمین ، سرورِ کونین ، نانائے حَسنین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ رَحمت نشان ہے:’’رجبکے پہلے دن کا روزہ تین سال کا کَفّارہ ہے اور دوسرے دن کا روزہ دو سال کا اور تیسرے دن کا ایک سال کا کَفّارہ ہے ،پھر ہر دن کا روزہ ایک ماہ کا کفّارہ ہے۔‘‘
(اَلْجامِعُ الصَّغِیر لِلسُّیُوطی ص۳۱۱ حدیث ۵۰۵۱،فَضائِلُ شَہْرِ رَجَب لِلخَلّال ص ۶۴)
میں گنہگار گناہوں کے سوا کیا لاتا
نیکیاں ہوتی ہیں سرکار نِکو کار کے پاس

نفلی روزوں کی بھی کیا فضائل ہیں! اِس ضِمن میں دو احادیثِ مبارَکہ مُلاحَظہ فرما ئیے:
{۱} فِرشتے دُعائے مغفِرت کرتے ہیں:
حضرتِ سیِدَّتُنا اُمّ عُمارہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَافرماتی ہیں : حضورِ پاک ، صاحبِ لولاک ، سیّاحِ اَفلاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ میرے یہاں تشریف لائے تو میں نے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خدمتِ سراپا بَرَکت میں کھانا پیش کیا تو ارشاد فرمایا :’’ تم بھی کھائو۔‘‘ میں نے عرض کی : میں روزے سے ہوں۔ تو رحمتِ عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : جب تک روزہ دار کے سامنے کھانا کھایا جاتا ہے،فِرشتے اس( روزہ دار) کے لیے دُعائے مغفرت کرتے رہتے ہیں۔
(سُنَنِ تِرمِذی ج ۲ ص ۲۰۵ حدیث ۷۸۵)

{۲} روزہ دار کی ہڈیاں کب تسبیح کرتی ہیں:
حضرتِ سیِّدُنابِلال رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نبیِّ اکرم، نورِ مُجَسَّم ، شاہِ آدم وبنی آدم ، رسُولِ مُحتَشَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی خدمتِ معظَّم میں حاضِرہوئے، اُس وقت حضور پُرنو ر ، شافِع یوم النُّشور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ناشتا کررہے تھے، فرمایا : اے بِلال !’’ ناشتا کرلو۔‘‘ عرض کی: ’’ یَارَسُولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ! میں روزہ دار ہوں۔‘‘ تو رَسُولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : ’’ہم اپنی روزی کھارہے ہیں اور بلال کا ر ِزق جنت میں بڑھ رہا ہے۔‘‘اے بلال ! کیا تمہیں خبر ہے کہ جب تک روزہ دار کے سامنے کچھ کھایا جائے تب تک اُس کی ہڈّیاں تسبیح کرتی ہیں، اسے فرشتے دُعائیں دیتے ہیں۔‘‘
( شُعَبُ الْاِیمانج ۳ ص ۲۹۷حدیث ۳۵۸۶)

مُفَسّرِشہیر حکیمُ الْاُمَّت حضر تِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الحَنّان فرماتے ہیں:
1👍1