🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
📚 « امجــــدی مضــــامین » 📚
-----------------------------------------------------------
🕯️حضرت خواجہ غریب نواز قدس سرہٗ کے اقوالِ زرین🕯️


📬 حضرت خواجہ معین الدین چشتی رحمۃ اللہ علیہ کا مقصد اسلام کی تبلیغ و اشاعت اور اس کے اصولوں سے لوگوں کو متعارف کرانا تھا، چناں چہ آپ کی مجالس میں تزکیہ و طہارت اور معرفت و سلوک کی باتیں ہوتی رہتی تھیں۔ آپ کے ارشادات اور اقوال کو حضرت کے جانشین خواجہ قطب الدین بختیار کاکی نے ’’دلیل العارفین ‘‘ کے نام سے قلم بند کر لیا تھا، یہ کتاب مختلف دینی مسائل کا سرچشمہ ہے، ذیل میں اسی کتاب سے حضرت خواجہ کے چند اقوالِ زریں نقل کیے جاتے ہیں۔

٭ نماز بندوں کے لیے خدا کی امانت ہے پس بندوں کو چاہیے کہ اس کا حق ادا کریں کہ اس میں کوئی خیانت نہ پیدا ہو۔ نماز ایک راز ہے جو بندہ اپنے پروردگار سے کہتا ہے۔

٭ قیامت کے روز سب سے پہلے نماز کا حساب انبیا و اولیا اور ہر مسلمان سے ہو گا جو اس حساب سے عہدہ بر آ نہیں ہوسکے گا وہ عذابِ دوزخ کا شکار ہو گا۔

٭ جو بھوکے کو کھانا کھلاتا ہے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسکے اور جہنم کے درمیان سات پردے حائل کر دیگا۔

٭ اس سے بڑھ کر کوئی گناہِ کبیرہ نہیں کہ مسلمان بھائی کو بِلا وجہ ستایا جائے اس سے خدا و رسول دونوں ناراض ہوتے ہیں۔

٭ کون سی چیز ہے جو اللہ تعالیٰ کی قدرت میں نہیں ہے مرد کو چاہیے کہ احکامِ الٰہی بجا لانے میں کمی نہ کرے پھر جو کچھ چاہے گا مِل جائے گا۔

٭ قبرستان میں جان بوجھ کر کھانا یا پانی پینا گناہِ کبیرہ ہے۔ جو ایسا کرے وہ ملعون اور منافق ہے کیوں کہ قبرستان عبرت کی جگہ ہے نہ کہ جائے حرص و ہَوا۔

٭ جس نے جھوٹی قسم کھائی گویا اس نے اپنے خاندان کو ویران کر دیا اس گھر سے برکت اٹھا لی جاتی ہے۔

٭ گناہ تم کو اتنا نقصان نہیں پہنچا سکتا جتنا مسلمان بھائی کو ذلیل و رسو ا کرنا۔

٭ جس نے خدا کو پہچان لیا اگر و ہ خلق سے دور نہ بھاگے تو سمجھ لو کہ اس میں کوئی نعمت نہیں۔

٭ عارف وہ شخص ہوتا ہے جو کچھ اس کے اندر ہو اسے دل سے نکال دے تاکہ اپنے دوست کی طرح یگانہ ہو جائے پھر اللہ تعالیٰ اس پر کسی چیز کو مخفی نہ رکھے گا اور وہ دونوں جہاں سے بے نیاز ہو جائے گا۔

٭ اگر قیامت کے دن کوئی چیز جنت میں لے جائے گی تو وہ زہد ہے نہ کہ علم۔

٭ جو شخص عشقِ الٰہی کی راہ میں قدم رکھتا ہے اس کا نام و نشان نہیں ملتا۔

٭ اہلِ عرفان یادِ الٰہی کے علاوہ کوئی اور بات اپنی زبان سے نہیں نکالتے اور اللہ کے خیال کے سوا دل میں کسی دوسرے کا خیال نہیں لاتے۔

٭ اگر کسی شخص میں تین خصلتیں پائی جائیں تو سمجھ لو کہ اللہ تعالیٰ اسے دوست رکھتا ہے (۱) سخاوت (۲) شفقت (۳) تواضع (عاجزی)، سخاوت دریا جیسی، شفقت آفتاب کی طرح اور تواضع زمین کی مانند۔

٭ نیکوں کی صحبت نیک کام سے بہتر ہے اور بروں کی صحبت برے کام سے بری ہے۔

٭ دنیا میں تین افراد بہترین کہلانے کے مستحق ہیں (۱) عالم جو اپنے علم سے بات کہے(۲) جو لالچ نہ رکھے (۳) وہ عارف جو ہمیشہ دوست کی تعریف و توصیف کرتا رہے۔

٭ حق شناسی کی علامت لوگوں سے راہِ فرار اختیار کرنا اور معرفت میں خاموشی اختیار کرنا ہے۔

٭ عارف سورج کی طرح ہوتا ہے جو سارے جہان کو روشنی بخشتا ہے جس کی روشنی سے کوئی چیز خالی نہیں رہتی۔

٭ توکل یہ ہے کہ اللہ کے علاوہ کسی اور پر توکل نہ ہو اور نہ کسی چیز کی طرف توجہ کی جائے۔

٭ سچی توبہ کے لیے تین باتیں ضروری ہیں (۱) کم کھانا (۲) کم سونا(۳) کم بولنا، پہلے سے خوفِ خدا، دوسرے اور تیسرے سے محبتِ الٰہی پیدا ہوتی ہے۔

٭ اہلِ طریقت کے لیے دس شرطیں لازم ہیں (۱) طلبِ حق (۲) طلبِ مرشد (۳) ادب (۴) رضا (۵) محبت اور ترکِ فضول (۶) تقوا (۷) شریعت پر استقامت (۸) کم کھانا کم سونا کم بولنا (۹) خلق سے دوری اور تنہائی اختیار کرنا(۱۰) روزہ و نماز کی ہر حال میں پابندی۔

٭ پانچ چیزوں کو دیکھنا عبادت ہے (۱) اپنے والدین کے چہرے کو دیکھنا حدیث میں ہے، جو فرزند اپنے والدین کا چہر ہ دیکھتا ہے اس کے نامۂ اعمال میں حج کا ثواب لکھا جاتا ہے(۲) کلامِ مجید کا دیکھنا (۳) کسی عالمِ با عمل کا چہرہ عزت و احترام سے دیکھنا (۴) خانۂ کعبہ کے دروازے کی زیارت اور کعبہ شریف کو دیکھنا (۵) اپنے پیر و مرشد کے چہرے کو دیکھنا اور ان کی خدمت کرنا۔

اللّٰه کریم ہمیں حضرت خواجہ غریب نواز قدس سرہٗ کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے، آمین بجاہ النبی الامین الاشرف الافضل النجیب صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وصحبہ وبارک وسلم

(ماخوذ: خواجہ معین الدین چشتی از محمد حسین مشاہد رضوی)


از قلم✍️ ڈاکٹر محمد حسین مشاہد رضوی صاحب مالیگاؤں مہاراشٹرا

1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
📚 « امجــــدی مضــــامین » 📚
-----------------------------------------------------------
🕯️ہند میں شوکتِ اسلام کے نظارے اور خواجہ غریب نواز کے فیض کی جلوہ باریاں🕯️


📬 برصغیر میں اسلام کی اشاعت و تبلیغ صوفیۂ کرام و اولیاے اسلام کی کوششوں سے ہوئی۔ ہند کی تاریخ کا مطالعہ کیجیے۔ اشاعتِ اسلام کے کارواں کا تاریخی نظروں سے مشاہدہ کیجیے۔ مسلم سلاطین کا اقتدار صدیوں رہا؛ لیکن ہند میں اسلام کی بہاریں سلاطین کی رہین منت نہیں بلکہ اولیاے کرام کی کد و کاوش اور مساعی جمیلہ کا نتیجہ ہے۔ ان کی بارگاہیں ہمیشہ دعوت و تبلیغ کا مسکن بنی رہیں۔ ان کے یہاں سے کتاب و سنت کی تعلیم عام ہوئی۔ دلوں کی دُنیا میں انقلاب آیا۔ فکروں میں تبدیلی واقع ہوئی۔گمرہی کی تہیں چاک ہوئیں۔ اس پہلو سے مولانا محمد عبدالمبین نعمانی لکھتے ہیں:
’’اِس حقیقت سے کسی کو انکار نہیں ہونا چاہیے کہ برصغیر میں اگرچہ مسلم حکمراں مدت تک حکمرانی کرتے رہے، لیکن اسلام کی روشنی اور روحانیت کا اُجالا صوفیۂ کرام ہی نے پھیلایا، مسلم حکمراں تو حکومت کے دبدبے سے بھی کسی کو مسلمان نہ بنا سکے، مگر اولیا اور صوفیہ نے لاکھوں کے دلوں میں اسلام کا نور بھر دیا جیسا کہ خود غریب نواز کی زندگی کا مطالعہ کرنے والا ہر حقیقت پسند اس کا اعتراف کیے بغیر نہ رہے گا۔
حضرت خواجہ غریب نواز نے تلوار نہیں اُٹھائی، مگر اخلاق و کردار اور کشف و کرامات کی ایسی ضرب لگائی کہ دلوں کی دُنیا زیر و زبر ہو گئی، اندر چھپی ہوئی کفر و شرک کی غلاظت چھٹتی نظر آئی اور آج پورے پاک و ہند اور بنگلہ دیش میں اسلام کا نام لینے والوں کی جو کھیپ ہے، ان میں زیادہ تر افراد کا وجود خواجہ غریب نواز کی مساعی تبلیغ اور ارشاد و ہدایت کا ہی مرہونِ منت ہے۔‘‘ (برکاتِ خواجہ، مطبوعہ نوری مشن مالیگاؤں)
ہند میں دعوت و تبلیغِ اسلام کا نظام خواجہ غریب نوازکے وجودِ مسعود سے مستحکم ہوا۔ گرچہ آپ کی آمد سے قبل کیرلا، سندھ و گجرات اور بعض علاقوں میں اسلام کی کرنیں پھیل چکی تھیں؛ تاہم مجموعی طور پر پورے ہند میں اسلامی نور خواجہ غریب نواز اور ان کے فیض یافتگان کے توسط سے عام ہوا۔ آپ نے اس نظام میں استحکام کے لیے اپنے خلفا و تلامذہ، مریدین و مسترشدین کو تیار کیا۔ جن کی کاوش ، جدوجہد اور عملی زندگی سے صالح انقلاب برپا ہوا۔ طبیعتیں کشاں کشاں کھنچی چلی آئیں۔ شوریدہ افکار پاکیزہ ہو گئے۔ بجھی بجھی طبیعتیں کھل اُٹھیں۔ خزاں دور ہوئی۔ بہاروں کے جھونکے چلنے لگے۔ جو بادل اجمیر مقدس سے اُٹھے تھے؛ وہ کشورِ ہند پر چھا گئے۔ ابرِ کرم برسا۔ زور برسا۔ ایسا کہ وادیاں جَل تھل ہو گئیں۔
دہلی میں فیضانِ خواجۂ ہند برسا۔ خواجہ قطب الدین بختیار کاکی نے دہلی و نواحِ دہلی میں دعوتی نظام پھیلایا۔ لوگ جوق در جوق تائب ہوتے گئے۔ شرک کی فضا سمٹتی گئی۔ نورِ ایمان بستا گیا۔ خیالات کی وادیاں سیراب ہوئیں۔
خواجہ قطب الدین بختیار کاکی کے فیض یافتہ و خلیفہ خواجہ فرید الدین گنج شکر نے پنجاب و مضافات کو منور کیا۔ ان کے نظام نے بھی اپنے خوش گوار نتائج سے وادیوں کو سرشار کیا۔ خزاں رسیدہ ماحول باغ و بہار ہو گیا۔
حضرت گنج شکر کے خلیفۂ خاص حضرت محبوبِ الٰہی نظام الحق والدین کے ذریعے چشتیت کے جام دہلی سے دور دور پہنچے۔ سمتوں میں فیض کے بادل گھرے۔ شرق و غرب، شمال و جنوب میں فیض کی بارش ہونے لگی۔ بڑے بڑے شرکیہ مراکز میں اوس پڑ گئی۔چراغِ کفر بجھنے لگے۔ شر کے مراکز میں اندھیرا چھا گیا۔ خیر کا غلغلہ ہوا۔ اذانِ سحر گونج گونج اُٹھی۔ وہ علاقے جہاں گھنٹیاں بجتی تھیں؛ فضا گدلی تھی؛ آلودگی چھائی ہوئی تھی؛ یکایک توحید کے نغمے بلند ہونے لگے۔ محبتِ رسول ﷺ کی سوغات بٹنے لگی۔ نعت اقدس کے مصفیٰ اشعار سے فضا مشک بار ہو گئی۔
ہمارے اسلاف نے اِس زمیں کو خونِ جگر سے سینچا۔ یہاں کی بادِ صبا اجمیر مقدس کے فیض سے معمور ہے۔ یہاں کی فضا میں خواجۂ ہند کے سوزِ دروں کا اثر ہے، نالۂ نیم شبی کا ارتعاش ہے۔ یہاں عزم کے اسباق تازہ ہیں، گرچہ پھر یورشِ اقتدارِ شرک ہے۔ لیکن ہمیں فرنگی تخیلات اور شرکیہ افکار کی تہیں چاک کر کے تعلیماتِ خواجۂ ہند سے بزم عرفاں کو سجانا ہے۔ پست ہمتوں کو توانائی اور مایوسی کو یقیں کا توشہ دینا ہے۔ ان شاء اللہ وادی بھی ہماری ہو گی اور گلشن بھی ہمارا؎

خدا اگر دل فطرت شناس دے تجھ کو
سکوتِ لالہ و گل سے کلام پیدا کر
اٹھا نہ شیشہ گرانِ فرنگ کے احساں
سفالِ ہند سے مینا و جام پیدا کر

عزائم کی سیج پر ہمیں اسلامی تعلیمات کافی ہیں۔ یاسیت کے اندھیروں میں ہمیں اسلاف کی حیات کے ابواب سے درسِ عمل ملتا ہے۔ خواجۂ ہند کی تعلیمات کی ترجمانی سفیرانِ عشقِ رسول ﷺ نے ہر عہد میں کی۔ منزل بہ منزل کاروانِ شوق کے سالار کی حیات پڑھ جائیے۔ کیسے کیسے سالار موجود ہیں۔ اِسی ہند میں مخدوم کلیر و مخدوم کچھوچھہ ہیں، خواجہ باقی باللہ ومجدد الفِ ثانی ہیں، فضل حق خیرآبادی و اعلیٰ حضرت بریلوی ہیں،
1
سرکارانِ مارہرہ و سرکارِ دیویٰ ہیں، اکابرِ بدایوں و محدثین دہلی ہیں۔ سبھی کاروانِ اسلام کے سپہ سالار اور جانشینانِ سلفِ صالحین ہیں، جن کے دَم قدم سے گلشن کی بہاریں ہیں۔ جن کی تعلیمات میں خواجۂ ہند کا جمال بھی ہے اور مشائخ کرام کا جلال بھی۔ جن کے نقوشِ قدم ہمارے لیے راہِ ہدایت ہیں اور نشانِ منزل ؎

ترے غلاموں کا نقشِ قدم ہے راہِ خدا
وہ کیا بہک سکے جو یہ سراغ لے کے چلے


از قلم✍️ غلام مصطفیٰ رضوی، نوری مشن مالیگاؤں مہاراشٹرا
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
👍1
📚 « مختصــر ســوانح حیــات » 📚
-----------------------------------------------------------
🕯شیخ الاسلام سلطان الہند خواجہ سید معین الدین حسن چشتی اجمیری رحمۃ اللّٰه علیہ🕯


نام و نسب:
اسمِ گرامی: سید محمد حسن۔
کنیت: معین الدین۔
لقب: سلطان الہند ،خواجہ غریب نواز، عطائے رسول، نائب النبی فی الہند معروف ہیں۔
آپ نجیب الطرفین سید ہیں۔
سلسلہ نسب اسطرح ہے: خواجہ معین الدین بن سید غیاث الدین بن سید کمال الدین بن سید احمد حسین۔ (علیہم الرحمہ )

تاریخِ ولادت: آپ ۱۴/ رجب ۵۳۰ھ، بمطابق ۱۱۳۵ء ،میں بمقام "سنجر" (ایران) سید غیاث الدین کے گھر پیدا ہوئے۔ آپکی نشوو نما "خراسان" میں ہوئی۔

تحصیلِ علم: ابتدائی تعلیم اپنے گھر پر ہوئی۔ مزید حصول ِ علم کیلئے "سمرقند" اور "بخارا" کیطرف سفر کیا کیونکہ ان ایام میں یہی بلاد علوم و فنون کے مراکز تھے۔ حفظ القرآن ،اور چند ابتدائی علوم و فنون کی کتب مولانا شرف الدین علیہ الرحمہ سے پڑھیں۔ جمیع علومِ نقلیہ و عقلیہ کی تکمیل مولانا حسام الدین بخاری علیہ الرحمہ ہوئی۔

بیعت و خلافت: شیخ الاسلام حضرت خواجہ عثمان ہارونی علیہ الرحمہ سے ۵۵۸ھ میں بیعت و خلافت حاصل ہوئی۔

سیرت و خصائص: حضرت سلطان الہند محسن ہند ہیں۔برصغیر میں اسلام کی دلکش بہاریں آپ کی دعوت و تبلیغ اور رشد و ہدایت کا نتیجہ ہیں۔ آپ کے خلفاء و متوسلین خاکِ ہند کے جس خطے پر پہنچے، اسلام کا بول بالا ہوتا چلا گیا۔ نورِ ہدایت پھیلتا چلا گیا اور کفر کا اندھیرا چھٹتا چلا گیا۔ آپ کی کرامت آثار نگاہ ِفیض سے بالکل پہلی بار دہلی اور اجمیر کے ایوانوں میں مسلمانوں کی حکومت کا پرچم لہرایا۔

سیر الاولیاء کے مصنف سید کرمانی (م ۷۷۰ھ ) رقم طراز ہیں!
اس آفتاب (خواجہ ) کے طلوع ہونے سے قبل پورے ہندستان میں کفر و بت پرستی کا رواج تھا اور ہند کا ہر سر کش "انا ربکم الاعلٰی" کا دعوی کرتا تھا، اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کا شریک کہتا تھا، وہ پتھر، ڈھیلے، گھر، درخت ، چوپایوں اور گائے اور ان کے گوبر کو سجدہ کرتے تھے۔اور کفر کی تاریکی سے ان کے دلوں کے تالے اور بھی مضبوط ہو رہے تھے۔ اہل یقین کے اس آفتاب کے مبارک قدموں کی برکت سے جو رد حقیقت معین الدین تھے، اس ملک کی تاریکی اسلام کے نور سے جگمگا اٹھی۔
[سیر الاولیاء ص ۴۷]

آپ کی نگاہِ ولایت جس شخص پر پڑتی دل کی دنیا بدل جاتی، رہزن آتا رہبر بن جاتا ، قاتل آتا محافظ بن جاتا، سرکش آتا غلام بن جاتا، کافر آتا مسلمان بن جاتا، فاسق آتا متقی بن جاتا، دشمن آتا حاشیہ بردار بن جاتا، جادوگر آتا تائب ہوکر عاملِ قرآن بن جاتا۔ رسالہ "احوال پیران ِچشت" میں ہے:

‘‘نظر شیخ معین الدین بر فاسق کہ افتادے در زمان تائب شدے ، باز دگر معصیت نہ کردے’’ یعنی حضرت خواجہ معین الدین چشتی کی نگاہ جس فاسق پر پڑجاتی اسی وقت توبہ کرلیتا اور پھر گناہ کے قریب نہ بھٹکتا۔

علامہ حسن رضا بریلوی فرماتے ہیں!

خفتگانِ شب ِغفلت کوجگا دیتا ہے
سالہا سال وہ راتوں کو نہ سونا تیرا

حضرت سلطان الہند نے ہندوستان میں بلاشبہ کفر شکن تحریک برپا کی تھی۔ جو کام ہزاروں تلواریں نہیں کر سکیں، وہ ایک عارف باللہ کی خاموش اور اخلاقی تحریک نے کر دکھایا۔ آپکی کوششوں سے ہندوستان "دارا لاسلام" بن گیا۔

وصال: سلطان الہند کا وصال پر ملال ۶/رجب المرجب۶۳۳ ھ ،بمطابق ۱۲۲۹ء میں ہوا۔ وقتِ وصال آپ کی مقدس پیشانی پر یہ نقشِ جمیل ظاہر ہوا:
ھذا حبیب اللہ مات فی حب اللہ ۔
[اخبارالا خیار،ص،۶۶]

آپکا مزار اجمیر شریف (انڈیا) میں منبع فیوض و برکات ہے۔


المرتب محـمد یـوسـف رضـا رضـوی امجـدی نائب مدیر "فیضـانِ دارالعـلوم امجـدیہ ناگپور گروپ" 9604397443
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
#فیضان_خواجہ_غریب_نواز ❶ خواجہ معین الدین چشتی‌اجمیری رَضِیَ الـلّٰـهُ تَـبَـارَڪَ وَ تَـعَـالیٰ عَـنۡـهٗ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬ ولادت 14 رجب | وصال 6 رجب روضہ مبارکہ خواجہ غریب نواز مختصر حیات خواجہ غریب نواز मुख़्तस़र सवानेह़ ग़रीब नवाज़ سوانح حیات خواجہ غریب نواز…
#فیضان_خواجہ_غریب_نواز
خواجہ معین الدین چشتی‌اجمیری
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَـبَـارَڪَ وَ تَـعَـالیٰ عَـنۡـهٗ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
ولادت 14 رجب المرجب 537 ھ
وصال 6 رجب المرجب 627 ھ
نعرۂ چشتی: یا خواجہ غریب نواز
Urse KGN = Urse Khwaja Ghareeb Nawaz Khoob Khoob Mubarak Ho 💐
تمام سنیوں کو عرس KGN خوب خوب مبارک ہو 💐 عرس خواجہ غریب نواز رضی الله عنه 🌹❤️💐
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
سیرت خواجہ غریب نواز پر کتب
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/12652
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1