Forwarded from فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
*📚 « امجــــدی مضــــامین » 📚*
-----------------------------------------------------------
*🕯فضائل ماہ رجب المرجب🕯*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
قِسط نمبـــــر 4
📬 رجب کے کونڈے:
صَدرُالشَّریعہ،بَدرُالطَّریقہ حضرتِ علّامہ مولانامفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں:ماہِ رجب میں بعض جگہ حضرتِ( سَیِّدُنا )امام جعفر صادِق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو ایصالِ ثواب کے لیے پور یوں کے کونڈے بھرے جاتے ہیں یہ بھی جائز مگر اس میں بھی اسی جگہ کھانے کی بعضوں نے پابندی کررکھی ہے یہ بے جا پابندی ہے۔ اس کونڈے کے متعلق ایک کتاب بھی ہے جس کا نام ’’داستانِ عجیب‘‘ ہے، اس موقع پر بعض لوگ اس کو پڑھواتے ہیں اس میں جو کچھ لکھا ہے اس کا کوئی ثبو ت نہیں وہ نہ پڑھی جائے فاتحہ دلا کر ایصالِ ثواب کریں۔(بہارِشریعت ج ۳ص۶۴۳)
اِسی طرح ’’دس بیبیوں کی کہانی،‘‘ ’’لکڑہارے کی کہانی‘‘ اور’’ جنابِ سیِّدہ کی کہانی‘‘ سب من گھڑت قِصّے ہیں ان کو نہ پڑھا کریں، اِس کے بجائے ایک بار سُوْرَۂ یٰسٓ پڑھ لیا کریں کہ دس قراٰنِ کریم ختم کرنے کا ثواب ملے گا ۔یہ بھی یاد رہے کہ کونڈے ہی میں کھیر کھانا ،کھلانا ضَروری نہیں، دوسرے برتن میں بھی کھا اور کھلا سکتے ہیں ۔ ایصالِ ثواب(یعنی ثواب پہنچانا) قراٰنِ کریم و احادیثِ مبارَکہ سے ثابت ہے ، ایصالِ ثواب دُعا کے ذریعے بھی کیاجاسکتا ہے اور کھاناوغیرہ پکا کر اُس پر فاتحہ دلا کر بھی ۔ کونڈوں کی نیاز بھی ایصالِ ثواب ہی کی ایک صورت ہے اِس کو ناجائز کہنا شریعت پر اِفترا (یعنی تہمت باندھنا) ہے۔ ناجائز کہنے والے پارہ 7 سُوْرَۃُ الْمَائِدہکی آیت نمبر87میں بیان کردہ حکمِ الٰہی سے عبرت پکڑیں چنانچِہ ارشاد ہوتا ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُحَرِّمُوْا طَیِّبٰتِ مَاۤ اَحَلَّ اللّٰهُ لَكُمْ وَ لَا تَعْتَدُوْاؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ(۸۷)
ترجَمۂ کنزالایمان:اے ایمان والو!حرام نہ ٹھہرا ؤ وہ ستھری چیزیں کہ اللہ نے تمہارے لئے حلال کیں اور حد سے نہ بڑھو۔ بے شک حد سے بڑھنے والےاللہ کوناپسند ہیں ۔
’’رَجَب کے کونڈے ‘‘کِس تاریخ کو کریں؟
پورے ماہِ رَجب میں بلکہ سارے سال میں جب چاہیں ایصالِ ثواب کیلئے کونڈوں کی نیاز کر سکتے ہیں، البتّہ مناسب یہ ہے کہ 15 رَجَبُ المُرَجَّب کو ’’ رَجب کے کونڈے‘‘ کئے جائیں کیوں کہ یہ آپ کا یومِ عُرس ہے جیسا کہ فتاوٰی فقیہِ ملّت جلد 2 صَفْحَہ 265 پر ہے:’’حضرتِ (سَیِّدُنا ) امام جعفرِ صادِق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی نیاز 15رجب کو کریں کہ حضرت کا وصال 15 ہی کو ہواہے۔‘‘نیز مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ کتاب شرحِ شجرۂ قادریہ ‘‘ صَفْحَہ59پر ہے:آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو68برس کی عمر میں([1]) 15 رَجَبُ المُرَجَّب([2]) ۱۴۸ھ کو کسی شَقِیُّ الْقَلْب(یعنی سنگ دل۔ظالم)نے زہر دیاجو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی شہادت کا سبب بنا ۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا مزارِ اقدس جنَّتُ الْبقیع (مدینۃُ المنوّرہ)میں والد محترم حضرت سیِّدُنا امام محمد باقِر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے پہلو میں ہے ۔ اللّٰہ ربُّ العزّت عَزَّ وَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور اُن کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو۔اٰمِین بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
کھانا کھلانے کے ذریعے ایصالِ ثواب کرنا سنّتِ صحابہ ہے اور رجب کے کونڈے میں بھی غذا یعنی کھانے ہی کی چیز ہوتی ہے جو کہ ایصالِ ثواب کیلئے کھلائی جاتی ہے۔
چُنانچِہ صَحابہ سات دن تک ایصالِ ثواب کرتے
حضرتِ علّامہ جلالُ الدّین سُیُوطِی شافِعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی نقل فرماتے ہیں کہ صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان سات روز تک وفات پاجانے والوں کی طرف سے کھانا کھلایا کرتے تھے ۔
(اَلْحاوِی لِلْفَتاوِی لِلسُّیُوطی ج۲ص۲۲۳)
صحابی نے ماں کی طرف سے باغ صدقہ کر دیا:
بخاری شریف میں ہے:حضرتِ سیِّدُنا سعد بن عُبادہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی امّی جان کا انتقال ہوا توانہوں نے بارگاہ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ میں حاضر ہو کر عرض کی: یَارَسُولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ! میری امّی جان کا میری غیر موجودگی میں انتقال ہو گیا ہے ،اگر میں ان کی طرف سے کچھ صَدَقہ کروں تو کیا انہیں کوئی فائدہ پہنچ سکتا ہے؟ ارشاد فرمایا: ہاں ، عرض کی: تو میں آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میر ا باغ ان کی طرف سے صَدَقہ ہے ۔ ( بُخاری ج۲ص ۲۴۱ حدیث۲۷۶۲)
-----------------------------------------------------------
*🕯فضائل ماہ رجب المرجب🕯*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
قِسط نمبـــــر 4
📬 رجب کے کونڈے:
صَدرُالشَّریعہ،بَدرُالطَّریقہ حضرتِ علّامہ مولانامفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں:ماہِ رجب میں بعض جگہ حضرتِ( سَیِّدُنا )امام جعفر صادِق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو ایصالِ ثواب کے لیے پور یوں کے کونڈے بھرے جاتے ہیں یہ بھی جائز مگر اس میں بھی اسی جگہ کھانے کی بعضوں نے پابندی کررکھی ہے یہ بے جا پابندی ہے۔ اس کونڈے کے متعلق ایک کتاب بھی ہے جس کا نام ’’داستانِ عجیب‘‘ ہے، اس موقع پر بعض لوگ اس کو پڑھواتے ہیں اس میں جو کچھ لکھا ہے اس کا کوئی ثبو ت نہیں وہ نہ پڑھی جائے فاتحہ دلا کر ایصالِ ثواب کریں۔(بہارِشریعت ج ۳ص۶۴۳)
اِسی طرح ’’دس بیبیوں کی کہانی،‘‘ ’’لکڑہارے کی کہانی‘‘ اور’’ جنابِ سیِّدہ کی کہانی‘‘ سب من گھڑت قِصّے ہیں ان کو نہ پڑھا کریں، اِس کے بجائے ایک بار سُوْرَۂ یٰسٓ پڑھ لیا کریں کہ دس قراٰنِ کریم ختم کرنے کا ثواب ملے گا ۔یہ بھی یاد رہے کہ کونڈے ہی میں کھیر کھانا ،کھلانا ضَروری نہیں، دوسرے برتن میں بھی کھا اور کھلا سکتے ہیں ۔ ایصالِ ثواب(یعنی ثواب پہنچانا) قراٰنِ کریم و احادیثِ مبارَکہ سے ثابت ہے ، ایصالِ ثواب دُعا کے ذریعے بھی کیاجاسکتا ہے اور کھاناوغیرہ پکا کر اُس پر فاتحہ دلا کر بھی ۔ کونڈوں کی نیاز بھی ایصالِ ثواب ہی کی ایک صورت ہے اِس کو ناجائز کہنا شریعت پر اِفترا (یعنی تہمت باندھنا) ہے۔ ناجائز کہنے والے پارہ 7 سُوْرَۃُ الْمَائِدہکی آیت نمبر87میں بیان کردہ حکمِ الٰہی سے عبرت پکڑیں چنانچِہ ارشاد ہوتا ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُحَرِّمُوْا طَیِّبٰتِ مَاۤ اَحَلَّ اللّٰهُ لَكُمْ وَ لَا تَعْتَدُوْاؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ(۸۷)
ترجَمۂ کنزالایمان:اے ایمان والو!حرام نہ ٹھہرا ؤ وہ ستھری چیزیں کہ اللہ نے تمہارے لئے حلال کیں اور حد سے نہ بڑھو۔ بے شک حد سے بڑھنے والےاللہ کوناپسند ہیں ۔
’’رَجَب کے کونڈے ‘‘کِس تاریخ کو کریں؟
پورے ماہِ رَجب میں بلکہ سارے سال میں جب چاہیں ایصالِ ثواب کیلئے کونڈوں کی نیاز کر سکتے ہیں، البتّہ مناسب یہ ہے کہ 15 رَجَبُ المُرَجَّب کو ’’ رَجب کے کونڈے‘‘ کئے جائیں کیوں کہ یہ آپ کا یومِ عُرس ہے جیسا کہ فتاوٰی فقیہِ ملّت جلد 2 صَفْحَہ 265 پر ہے:’’حضرتِ (سَیِّدُنا ) امام جعفرِ صادِق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی نیاز 15رجب کو کریں کہ حضرت کا وصال 15 ہی کو ہواہے۔‘‘نیز مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ کتاب شرحِ شجرۂ قادریہ ‘‘ صَفْحَہ59پر ہے:آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو68برس کی عمر میں([1]) 15 رَجَبُ المُرَجَّب([2]) ۱۴۸ھ کو کسی شَقِیُّ الْقَلْب(یعنی سنگ دل۔ظالم)نے زہر دیاجو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی شہادت کا سبب بنا ۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا مزارِ اقدس جنَّتُ الْبقیع (مدینۃُ المنوّرہ)میں والد محترم حضرت سیِّدُنا امام محمد باقِر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے پہلو میں ہے ۔ اللّٰہ ربُّ العزّت عَزَّ وَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور اُن کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو۔اٰمِین بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
کھانا کھلانے کے ذریعے ایصالِ ثواب کرنا سنّتِ صحابہ ہے اور رجب کے کونڈے میں بھی غذا یعنی کھانے ہی کی چیز ہوتی ہے جو کہ ایصالِ ثواب کیلئے کھلائی جاتی ہے۔
چُنانچِہ صَحابہ سات دن تک ایصالِ ثواب کرتے
حضرتِ علّامہ جلالُ الدّین سُیُوطِی شافِعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی نقل فرماتے ہیں کہ صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان سات روز تک وفات پاجانے والوں کی طرف سے کھانا کھلایا کرتے تھے ۔
(اَلْحاوِی لِلْفَتاوِی لِلسُّیُوطی ج۲ص۲۲۳)
صحابی نے ماں کی طرف سے باغ صدقہ کر دیا:
بخاری شریف میں ہے:حضرتِ سیِّدُنا سعد بن عُبادہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی امّی جان کا انتقال ہوا توانہوں نے بارگاہ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ میں حاضر ہو کر عرض کی: یَارَسُولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ! میری امّی جان کا میری غیر موجودگی میں انتقال ہو گیا ہے ،اگر میں ان کی طرف سے کچھ صَدَقہ کروں تو کیا انہیں کوئی فائدہ پہنچ سکتا ہے؟ ارشاد فرمایا: ہاں ، عرض کی: تو میں آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میر ا باغ ان کی طرف سے صَدَقہ ہے ۔ ( بُخاری ج۲ص ۲۴۱ حدیث۲۷۶۲)
Forwarded from فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
معلوم ہو ا کھانا کھلانے کے علاوہ باغ یعنی مال خرچ کرنے کے ذَرِیعے بھی ایصالِ ثواب جائز ہے اور کونڈے شریف کی نیاز بھی مالی ایصالِ ثواب میں شامل ہے۔میرے آقااعلیٰ حضرت امام اَحمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں:امواتِ مسلمین (یعنی مرحومین)کے نام پر کھانا پکاکر ایصالِ ثواب کے لئے تَصَدُّق(یعنی خیرات) کرنا بلا شبہ جائز ومُسْتَحسَن(یعنی پسندیدہ)ہے اور اس پر فاتحہ (کے ذریعے )سے ایصالِ ثواب (کرنا) دوسرا مُسْتَحسَن(یعنی پسندیدہ)ہے اور دوچیزوں کا جمع کرنا زِیادتِ خیر(یعنی بھلائی میں اِضافہ) ہے(فتاوٰی رضویہ مُخَرَّجہ ج۹ ص۵۹۵)
ہر شخص کو افضل یہی کہ جو عملِ صالح (یعنی جو بھی نیک کام)کرے اُس کا ثواب اوّلین وآخِرین اَحیاء واَموات (یعنی سیِّدُنا آدم صَفِیُّ اللّٰہ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام سے لے کر تا قیامت ہونے والے)تمام مؤمنین ومؤمِنات کے لیے ہدِیَّہ(ہَ۔دی۔یہ) بھیجے (یعنی ایصالِ ثواب کرے)، سب کو ثواب پہنچے گااور اُسے(یعنی جس نے ایصالِ ثواب کیا)اُن سب کے برابر اجرملے گا۔(ایضاً ص۶۱۷) ایصالِ ثواب اچّھی نیّت سے کیا جائے اس میںنُمود و نمائش (یعنی دِکھاوا ) مقصود نہ ہو، نہ اس کی اُجرت اور مُعاوَضہ لیا گیا ہو، ورنہ نہ ثواب ہے نہ ایصالِ ثواب۔ یعنی جب ثواب ہی نہ ملا تو پہنچے گا کیسے!(ماخوذاز بہار شریعت ج۱ ص۱۲۰۱ ج۳ ص۶۴۳)
قِسط جاری۔۔۔
https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*پیشکش📮فیضــان دارالعــلوم امجــدیہ ناگپور گروپ 966551830750+*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
ہر شخص کو افضل یہی کہ جو عملِ صالح (یعنی جو بھی نیک کام)کرے اُس کا ثواب اوّلین وآخِرین اَحیاء واَموات (یعنی سیِّدُنا آدم صَفِیُّ اللّٰہ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام سے لے کر تا قیامت ہونے والے)تمام مؤمنین ومؤمِنات کے لیے ہدِیَّہ(ہَ۔دی۔یہ) بھیجے (یعنی ایصالِ ثواب کرے)، سب کو ثواب پہنچے گااور اُسے(یعنی جس نے ایصالِ ثواب کیا)اُن سب کے برابر اجرملے گا۔(ایضاً ص۶۱۷) ایصالِ ثواب اچّھی نیّت سے کیا جائے اس میںنُمود و نمائش (یعنی دِکھاوا ) مقصود نہ ہو، نہ اس کی اُجرت اور مُعاوَضہ لیا گیا ہو، ورنہ نہ ثواب ہے نہ ایصالِ ثواب۔ یعنی جب ثواب ہی نہ ملا تو پہنچے گا کیسے!(ماخوذاز بہار شریعت ج۱ ص۱۲۰۱ ج۳ ص۶۴۳)
قِسط جاری۔۔۔
https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*پیشکش📮فیضــان دارالعــلوم امجــدیہ ناگپور گروپ 966551830750+*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
Telegram
فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
اہلسنت و جماعت مسلک اعلیٰ حضرت کا ترجمان، وسط ہند کی عظیم درسگاہ " دارالعلوم امجدیہ ناگپور مہاراشٹرا" کے نام سے منسوب گروپ
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
🕯ملفوظاتِ خواجہ غریب نواز🕯
اللہ کریم کے جن نیک بندوں نے اصلاحِ اُمّت اور اشاعتِ اسلام کے لئے اپنی زندگیاں وقف کیں،ان میں ایک بڑا نام سلطانُ الہند،خواجہ غریب نواز حضرت سیّد معینُ الدّین حسن سنجری چشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ کا بھی ہے۔ آپ کی ولادت 537 ہجری کو سیستان (موجودہ ایران) کے علاقہ ”سَنجر“ میں ہوئی۔
📗(اقتباس الانوار،ص345)
آپ رحمۃ اللہ علیہ نے تقریباً 81 سال راہِ خدا میں علم کے حصول اور مخلوقِ خدا کی اصلاح میں گزارے اور کئی کتابیں بھی تحریر فرمائیں۔آپ رحمۃ اللہ علیہ کا وصال 6رجب المرجب633ہجری کو ہوا۔
📗(فیضانِ خواجہ غریب نواز، ص17، 25)
خوش نصیب مسلمان ہر سال 6رجب المرجب کو چَھٹی شریف کے نام سے آپ کا عُرس مناتے اور ایصالِ ثواب کرتے ہیں۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہ عاشقانِ رسول کی مدنی تحریک دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول میں عُرسِ خواجہ غریب نوازاہتمام کے ساتھ منایا جاتاہے، رجب المرجب کے پہلے 6دنوں میں روزانہ مدنی مذاکروں کا سلسلہ ہوتا ہے،ان ایّام میں ملک و بیرونِ ملک یہ مدنی مذاکرے دیکھے جانے کے ساتھ ساتھ ہزاروں عاشقانِ رسول دعوتِ اسلامی کے عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ بابُ المدینہ کراچی میں حاضر ہوکر فیضانِ خواجہ غریب نوازکی برکتیں حاصل کرتے ہیں۔6رجب المرجب کو دُنیا بھر میں باقاعدہ ”اجتماعِ یومِ غریب نواز“ کا سلسلہ بھی ہوتا ہے۔
خواجہ غریب نواز کے ملفوظات
حضرت سیّدنا خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ کے مریدِ صادق اورخلیفۂ اکبر حضرت خواجہ قطبُ الدِّین بختیار کاکی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے پیر و مرشد کے ملفوظات پر مشتمل ایک کتاب ترتیب دی جس کا نام *’’دلیل العارفین‘‘* رکھا۔اس کتاب میں سے حضور خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ کے ملفوظات ملاحظہ کیجئے۔
٭نماز تمام مقامات سے بڑھ کر مقام ہے۔نمازحق تعالیٰ سے ملاقات کا وسیلہ ہے۔
📗(دلیل العارفین، ص75)
٭وہ لوگ کیسے مسلمان ہیں جو فرض نماز میں اس قدر تاخیر کرتے ہیں کہ نماز کا وقت ہی گزر جاتا ہے( اور پھر قضا پڑھتے ہیں) ان کی مسلمانی پر 20 ہزار مرتبہ افسوس ہے جو مولا کریم کی عبادت میں کوتاہی کرتے ہیں۔ *حکایت* ایک دفعہ یوں ارشاد فرمایا کہ میرا گزر ایک ایسے شہر سے ہوا جہاں کے لوگ وقت سے پہلے ہی نماز کے لئے تیار ہوجاتے اور بَروقت نماز کی ادائیگی کرتے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ہم جلدہی نماز کی تیاری نہیں کریں گے تو ہوسکتا ہے اس کا وقت نکل جائے پھر کل قیامت کے روز کس طرح یہ منہ رسولِ خدا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو دکھاسکیں گے؟
📗(دلیل العارفین، ص83)
٭نماز ایک امانت ہے جو اللہ پاک نے اپنے بندوں کے سپرد کی ہے،لہٰذا بندوں پر لازم ہے کہ وہ اس امانت میں کسی قسم کی خیانت نہ کریں۔
📗(دلیل العارفین، ص83)
جو شخص قراٰنِ مجید کو دیکھتا ہے اللہ کریم کے فضل سے اس کی بینائی تیز ہوجاتی ہے ،اس کی آنکھ نہ دُکھتی ہے نہ خشک ہوتی ہے۔
📗(دلیل العارفین، ص92)
٭جس نے جو کچھ پایا خدمتِ مرشد سے پایا۔ پس مُرید پر لازم ہے کہ پیر کے فرمان سے ذرّہ برابر بھی تجاوز نہ کرے۔ پیر صاحب جو کچھ اسے نماز، تسبیح اور اوراد وغیرہ کے بارے میں فرمائیں، اسے غور سے سُنے اور اس پر عمل کرے کیونکہ پیر، مُرید کو سنوارنے کے لئے اور اسے کمال تک پہنچانے کے لئے عمل کی راہ پر گامزن کرتا ہے۔
📗(دلیل العارفین، ص75)
منجانب: سوشل میڈیا دارالعلوم امجدیہ ناگپور
https://t.me/DarulUloomAmjadiaNagpurIndia
اللہ کریم کے جن نیک بندوں نے اصلاحِ اُمّت اور اشاعتِ اسلام کے لئے اپنی زندگیاں وقف کیں،ان میں ایک بڑا نام سلطانُ الہند،خواجہ غریب نواز حضرت سیّد معینُ الدّین حسن سنجری چشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ کا بھی ہے۔ آپ کی ولادت 537 ہجری کو سیستان (موجودہ ایران) کے علاقہ ”سَنجر“ میں ہوئی۔
📗(اقتباس الانوار،ص345)
آپ رحمۃ اللہ علیہ نے تقریباً 81 سال راہِ خدا میں علم کے حصول اور مخلوقِ خدا کی اصلاح میں گزارے اور کئی کتابیں بھی تحریر فرمائیں۔آپ رحمۃ اللہ علیہ کا وصال 6رجب المرجب633ہجری کو ہوا۔
📗(فیضانِ خواجہ غریب نواز، ص17، 25)
خوش نصیب مسلمان ہر سال 6رجب المرجب کو چَھٹی شریف کے نام سے آپ کا عُرس مناتے اور ایصالِ ثواب کرتے ہیں۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہ عاشقانِ رسول کی مدنی تحریک دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول میں عُرسِ خواجہ غریب نوازاہتمام کے ساتھ منایا جاتاہے، رجب المرجب کے پہلے 6دنوں میں روزانہ مدنی مذاکروں کا سلسلہ ہوتا ہے،ان ایّام میں ملک و بیرونِ ملک یہ مدنی مذاکرے دیکھے جانے کے ساتھ ساتھ ہزاروں عاشقانِ رسول دعوتِ اسلامی کے عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ بابُ المدینہ کراچی میں حاضر ہوکر فیضانِ خواجہ غریب نوازکی برکتیں حاصل کرتے ہیں۔6رجب المرجب کو دُنیا بھر میں باقاعدہ ”اجتماعِ یومِ غریب نواز“ کا سلسلہ بھی ہوتا ہے۔
خواجہ غریب نواز کے ملفوظات
حضرت سیّدنا خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ کے مریدِ صادق اورخلیفۂ اکبر حضرت خواجہ قطبُ الدِّین بختیار کاکی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے پیر و مرشد کے ملفوظات پر مشتمل ایک کتاب ترتیب دی جس کا نام *’’دلیل العارفین‘‘* رکھا۔اس کتاب میں سے حضور خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ کے ملفوظات ملاحظہ کیجئے۔
٭نماز تمام مقامات سے بڑھ کر مقام ہے۔نمازحق تعالیٰ سے ملاقات کا وسیلہ ہے۔
📗(دلیل العارفین، ص75)
٭وہ لوگ کیسے مسلمان ہیں جو فرض نماز میں اس قدر تاخیر کرتے ہیں کہ نماز کا وقت ہی گزر جاتا ہے( اور پھر قضا پڑھتے ہیں) ان کی مسلمانی پر 20 ہزار مرتبہ افسوس ہے جو مولا کریم کی عبادت میں کوتاہی کرتے ہیں۔ *حکایت* ایک دفعہ یوں ارشاد فرمایا کہ میرا گزر ایک ایسے شہر سے ہوا جہاں کے لوگ وقت سے پہلے ہی نماز کے لئے تیار ہوجاتے اور بَروقت نماز کی ادائیگی کرتے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ہم جلدہی نماز کی تیاری نہیں کریں گے تو ہوسکتا ہے اس کا وقت نکل جائے پھر کل قیامت کے روز کس طرح یہ منہ رسولِ خدا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو دکھاسکیں گے؟
📗(دلیل العارفین، ص83)
٭نماز ایک امانت ہے جو اللہ پاک نے اپنے بندوں کے سپرد کی ہے،لہٰذا بندوں پر لازم ہے کہ وہ اس امانت میں کسی قسم کی خیانت نہ کریں۔
📗(دلیل العارفین، ص83)
جو شخص قراٰنِ مجید کو دیکھتا ہے اللہ کریم کے فضل سے اس کی بینائی تیز ہوجاتی ہے ،اس کی آنکھ نہ دُکھتی ہے نہ خشک ہوتی ہے۔
📗(دلیل العارفین، ص92)
٭جس نے جو کچھ پایا خدمتِ مرشد سے پایا۔ پس مُرید پر لازم ہے کہ پیر کے فرمان سے ذرّہ برابر بھی تجاوز نہ کرے۔ پیر صاحب جو کچھ اسے نماز، تسبیح اور اوراد وغیرہ کے بارے میں فرمائیں، اسے غور سے سُنے اور اس پر عمل کرے کیونکہ پیر، مُرید کو سنوارنے کے لئے اور اسے کمال تک پہنچانے کے لئے عمل کی راہ پر گامزن کرتا ہے۔
📗(دلیل العارفین، ص75)
منجانب: سوشل میڈیا دارالعلوم امجدیہ ناگپور
https://t.me/DarulUloomAmjadiaNagpurIndia
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
📚 « امجــــدی مضــــامین » 📚
-----------------------------------------------------------
🕯ملفوظاتِ خواجہ غریب نواز🕯
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
📬 اللّٰه کریم کے جن نیک بندوں نے اصلاحِ اُمّت اور اشاعتِ اسلام کے لئے اپنی زندگیاں وقف کیں،ان میں ایک بڑا نام سلطانُ الہند،خواجہ غریب نواز حضرت سیّد معینُ الدّین حسن سنجری چشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ کا بھی ہے۔ آپ کی ولادت 537 ہجری کو سیستان (موجودہ ایران) کے علاقہ ”سَنجر“ میں ہوئی۔
📗(اقتباس الانوار،ص345)
آپ رحمۃ اللہ علیہ نے تقریباً 81 سال راہِ خدا میں علم کے حصول اور مخلوقِ خدا کی اصلاح میں گزارے اور کئی کتابیں بھی تحریر فرمائیں۔آپ رحمۃ اللہ علیہ کا وصال 6 رجب المرجب633 ہجری کو ہوا۔
📗(فیضانِ خواجہ غریب نواز، ص17، 25)
خوش نصیب مسلمان ہر سال 6 رجب المرجب کو چَھٹی شریف کے نام سے آپ کا عُرس مناتے اور ایصالِ ثواب کرتے ہیں۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہ عاشقانِ رسول کی مدنی تحریک دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول میں عُرسِ خواجہ غریب نوازاہتمام کے ساتھ منایا جاتاہے، رجب المرجب کے پہلے 6 دنوں میں روزانہ مدنی مذاکروں کا سلسلہ ہوتا ہے،ان ایّام میں ملک و بیرونِ ملک یہ مدنی مذاکرے دیکھے جانے کے ساتھ ساتھ ہزاروں عاشقانِ رسول دعوتِ اسلامی کے عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ بابُ المدینہ کراچی میں حاضر ہوکر فیضانِ خواجہ غریب نوازکی برکتیں حاصل کرتے ہیں۔6رجب المرجب کو دُنیا بھر میں باقاعدہ ”اجتماعِ یومِ غریب نواز“ کا سلسلہ بھی ہوتا ہے۔
خواجہ غریب نواز کے ملفوظات:
حضرت سیّدنا خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ کے مریدِ صادق اورخلیفۂ اکبر حضرت خواجہ قطبُ الدِّین بختیار کاکی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے پیر و مرشد کے ملفوظات پر مشتمل ایک کتاب ترتیب دی جس کا نام ’’دلیل العارفین‘‘ رکھا۔ اس کتاب میں سے حضور خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ کے ملفوظات ملاحظہ کیجئے۔
💌 نماز تمام مقامات سے بڑھ کر مقام ہے۔نمازحق تعالیٰ سے ملاقات کا وسیلہ ہے۔
📗(دلیل العارفین، ص75)
💌 وہ لوگ کیسے مسلمان ہیں جو فرض نماز میں اس قدر تاخیر کرتے ہیں کہ نماز کا وقت ہی گزر جاتا ہے( اور پھر قضا پڑھتے ہیں) ان کی مسلمانی پر 20 ہزار مرتبہ افسوس ہے جو مولا کریم کی عبادت میں کوتاہی کرتے ہیں۔
حکایت: ایک دفعہ یوں ارشاد فرمایا کہ میرا گزر ایک ایسے شہر سے ہوا جہاں کے لوگ وقت سے پہلے ہی نماز کے لئے تیار ہوجاتے اور بَروقت نماز کی ادائیگی کرتے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ہم جلدہی نماز کی تیاری نہیں کریں گے تو ہوسکتا ہے اس کا وقت نکل جائے پھر کل قیامت کے روز کس طرح یہ منہ رسولِ خدا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو دکھاسکیں گے؟
📗(دلیل العارفین، ص83)
💌 نماز ایک امانت ہے جو اللہ پاک نے اپنے بندوں کے سپرد کی ہے،لہٰذا بندوں پر لازم ہے کہ وہ اس امانت میں کسی قسم کی خیانت نہ کریں۔
📗(دلیل العارفین، ص83)
💌 جو شخص قراٰنِ مجید کو دیکھتا ہے اللہ کریم کے فضل سے اس کی بینائی تیز ہوجاتی ہے ،اس کی آنکھ نہ دُکھتی ہے نہ خشک ہوتی ہے۔
📗(دلیل العارفین، ص92)
💌 جس نے جو کچھ پایا خدمتِ مرشد سے پایا۔ پس مُرید پر لازم ہے کہ پیر کے فرمان سے ذرّہ برابر بھی تجاوز نہ کرے۔ پیر صاحب جو کچھ اسے نماز، تسبیح اور اوراد وغیرہ کے بارے میں فرمائیں، اسے غور سے سُنے اور اس پر عمل کرے کیونکہ پیر، مُرید کو سنوارنے کے لئے اور اسے کمال تک پہنچانے کے لئے عمل کی راہ پر گامزن کرتا ہے۔
📗(دلیل العارفین، ص75)
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
المرتب⬅ قاضـی شعیب رضـا تحسینی امجـدی، ممبر "فیضـانِ دارالعـلوم امجـدیہ ناگپور گروپ" 7798520672
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
-----------------------------------------------------------
🕯ملفوظاتِ خواجہ غریب نواز🕯
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
📬 اللّٰه کریم کے جن نیک بندوں نے اصلاحِ اُمّت اور اشاعتِ اسلام کے لئے اپنی زندگیاں وقف کیں،ان میں ایک بڑا نام سلطانُ الہند،خواجہ غریب نواز حضرت سیّد معینُ الدّین حسن سنجری چشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ کا بھی ہے۔ آپ کی ولادت 537 ہجری کو سیستان (موجودہ ایران) کے علاقہ ”سَنجر“ میں ہوئی۔
📗(اقتباس الانوار،ص345)
آپ رحمۃ اللہ علیہ نے تقریباً 81 سال راہِ خدا میں علم کے حصول اور مخلوقِ خدا کی اصلاح میں گزارے اور کئی کتابیں بھی تحریر فرمائیں۔آپ رحمۃ اللہ علیہ کا وصال 6 رجب المرجب633 ہجری کو ہوا۔
📗(فیضانِ خواجہ غریب نواز، ص17، 25)
خوش نصیب مسلمان ہر سال 6 رجب المرجب کو چَھٹی شریف کے نام سے آپ کا عُرس مناتے اور ایصالِ ثواب کرتے ہیں۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہ عاشقانِ رسول کی مدنی تحریک دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول میں عُرسِ خواجہ غریب نوازاہتمام کے ساتھ منایا جاتاہے، رجب المرجب کے پہلے 6 دنوں میں روزانہ مدنی مذاکروں کا سلسلہ ہوتا ہے،ان ایّام میں ملک و بیرونِ ملک یہ مدنی مذاکرے دیکھے جانے کے ساتھ ساتھ ہزاروں عاشقانِ رسول دعوتِ اسلامی کے عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ بابُ المدینہ کراچی میں حاضر ہوکر فیضانِ خواجہ غریب نوازکی برکتیں حاصل کرتے ہیں۔6رجب المرجب کو دُنیا بھر میں باقاعدہ ”اجتماعِ یومِ غریب نواز“ کا سلسلہ بھی ہوتا ہے۔
خواجہ غریب نواز کے ملفوظات:
حضرت سیّدنا خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ کے مریدِ صادق اورخلیفۂ اکبر حضرت خواجہ قطبُ الدِّین بختیار کاکی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے پیر و مرشد کے ملفوظات پر مشتمل ایک کتاب ترتیب دی جس کا نام ’’دلیل العارفین‘‘ رکھا۔ اس کتاب میں سے حضور خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ کے ملفوظات ملاحظہ کیجئے۔
💌 نماز تمام مقامات سے بڑھ کر مقام ہے۔نمازحق تعالیٰ سے ملاقات کا وسیلہ ہے۔
📗(دلیل العارفین، ص75)
💌 وہ لوگ کیسے مسلمان ہیں جو فرض نماز میں اس قدر تاخیر کرتے ہیں کہ نماز کا وقت ہی گزر جاتا ہے( اور پھر قضا پڑھتے ہیں) ان کی مسلمانی پر 20 ہزار مرتبہ افسوس ہے جو مولا کریم کی عبادت میں کوتاہی کرتے ہیں۔
حکایت: ایک دفعہ یوں ارشاد فرمایا کہ میرا گزر ایک ایسے شہر سے ہوا جہاں کے لوگ وقت سے پہلے ہی نماز کے لئے تیار ہوجاتے اور بَروقت نماز کی ادائیگی کرتے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ہم جلدہی نماز کی تیاری نہیں کریں گے تو ہوسکتا ہے اس کا وقت نکل جائے پھر کل قیامت کے روز کس طرح یہ منہ رسولِ خدا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو دکھاسکیں گے؟
📗(دلیل العارفین، ص83)
💌 نماز ایک امانت ہے جو اللہ پاک نے اپنے بندوں کے سپرد کی ہے،لہٰذا بندوں پر لازم ہے کہ وہ اس امانت میں کسی قسم کی خیانت نہ کریں۔
📗(دلیل العارفین، ص83)
💌 جو شخص قراٰنِ مجید کو دیکھتا ہے اللہ کریم کے فضل سے اس کی بینائی تیز ہوجاتی ہے ،اس کی آنکھ نہ دُکھتی ہے نہ خشک ہوتی ہے۔
📗(دلیل العارفین، ص92)
💌 جس نے جو کچھ پایا خدمتِ مرشد سے پایا۔ پس مُرید پر لازم ہے کہ پیر کے فرمان سے ذرّہ برابر بھی تجاوز نہ کرے۔ پیر صاحب جو کچھ اسے نماز، تسبیح اور اوراد وغیرہ کے بارے میں فرمائیں، اسے غور سے سُنے اور اس پر عمل کرے کیونکہ پیر، مُرید کو سنوارنے کے لئے اور اسے کمال تک پہنچانے کے لئے عمل کی راہ پر گامزن کرتا ہے۔
📗(دلیل العارفین، ص75)
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
المرتب⬅ قاضـی شعیب رضـا تحسینی امجـدی، ممبر "فیضـانِ دارالعـلوم امجـدیہ ناگپور گروپ" 7798520672
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
❤1
Forwarded from فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
📚 « امجــــدی مضــــامین » 📚
-----------------------------------------------------------
🕯️سلطان الہند حضور غریب نواز رحمۃ اللّٰه علیہ، ہند میں شوکتِ اسلامی کا نشانِ عظمت🕯️
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
📬 اسلام! اپنی اخلاقی تعلیمات، فطری صداقت اور پاکیزگی ولطافت کی وجہ سے دلوں میں بس گیا۔ خاتم الانبیاء رحمۃ للعالمینﷺ نے اسلام کے نور سے دلوں کو روشن فرمایا۔رحمۃ للعالمینﷺ کے اختیارات اور جود و عطا سے؛ خدائے تعالیٰ کی عطاکردہ ان عظمتوں کا اظہار ہوا؛ جس کے آگے دُنیا کی بادشاہت و جلالت اور شوکتِ امارت و حکومت سرنگوں ہوکررہ گئے۔ اسلامی عظمت و شان اور اخلاق و کردار کے وہ عظیم جلوے ظاہر ہوئے؛ جس نے قیصر وکسریٰ اور فراعنہ کے جبر واستبداد کا خاتمہ کر دیا، اور اسلام کی نور بار کرنیں عرب کی سرحدوں سے نکل کر افریقہ کے تپتے صحرا میں بسنے والے وحشیوں کو انسانی قدروں سے آشنا کرنے لگیں۔ خاتم الانبیاء رحمۃ للعالمینﷺ کے وصالِ ظاہری کے بعد صحابہ و تابعین اورداعیانِ دینِ متین نے اسلام کی اشاعت و تبلیغ کا فریضہ انجام دیا۔ حق و صداقت کی شمع دلوں کے طاق پہ فروزاں رکھی۔ ان کے بعد اولیاے اسلام وعلماے کرام کے ذریعے دین کی اشاعت ہوتی رہی۔کاروانِ صداقت آگے بڑھتا رہا۔ منزلیں طے ہوتی رہیں۔
ابتدائی صدی میں ہی اسلام کی کرنیں عرب تجار و تابعین کے ذریعے ہندوسندھ کی سر زمین کو منور کرنے لگیں۔ ساحل مالابار،کیرلا اور سندھ کے علاقے اسلام کی مقدس پناہ میں آچکے تھے۔ باب الاسلام سندھ میں خدمت حدیث کی مسندِ تدریس حضرت شیخ اسماعیل بخاری کے توسط سے سج گئی تھی۔ پنجاب کی سرزمین حضرت داتا گنج بخش ہجویری کے عرفاں سے اسلامی نور سے آشنا ہوئی؛ اور اہلِ شرک کے صنم کدوں میں اذانِ توحید گونج اُٹھی؛ جس نے دلوں کے زنگ دھو ڈالے، نبوی اخلاق سے متصف عاشقانِ صادق نے ایمان کی سوغات تقسیم کی،خطۂ پنجاب کے محسن کو دُنیا ’’داتا گنج بخش‘‘ کہہ کر یاد کرنے لگی۔جن کی عطا کا آج بھی چرچا ہے اور سخاوت کا شہرہ۔ بقول حضور غریب نواز؎
گنج بخش فیض عالم مظہر نورِ خدا
ناقصاں را پیر کامل کاملاں را رہنما
چمنِ رسالت مآبﷺ کا گُلِ تر بشکلِ معین الدیں حسن اجمیری المعروف سلطان الہند غریب نواز واردِ سندھ حاضرِبارگاہِ داتاہوتا ہے؛ اور کسبِ فیض کے بعد دہلی پہنچتا ہے، اس وقت تک اشاعتِ اسلام کا کارواں ہند میں اِس قدر وسیع نہ ہوا تھا۔ رحمتِ باری جوش پر آئی۔ خواجہ غریب نواز کے ذریعے اشاعتِ حق کا کارواں تیزگام ہوا۔ آپ نے نبوی اخلاق کا وہ عظیم مظاہرہ ہند کے اصنام زدہ ماحول میں کیا کہ ایمان کی کھیتی ہری بھری ہو گئی۔ ۹۰؍لاکھ افراد کا اسلام قبول کر لینا کوئی لمحاتی واقعہ نہ تھا۔ اس کے لیے مشیت نے خواجہ غریب نواز کو چُنا تھا جن کے دَم قدم سے ہند کی زمیں شاداب ہوئی؛ ابرِ رحمت جھوم کر برسا؛ علامہ حسنؔ رضا بریلوی نے بہت عمدہ کہا؎
گلشنِ ہند ہے شاداب کلیجے ٹھنڈے
واہ! اے ابرِ کرم زور برسنا تیرا
خواجہ غریب نواز نے اپنے اخلاقِ کریمانہ سے اسلامی تعلیمات کی عملی تصویر پیش کی۔جب دل شرک کی آماجگاہ بن جاتا ہے،تو حق قبول کروانے کو بڑی تدبیر درکار ہوتی ہے، صدیوں سے اپنے ہی ہاتھوں کے تراشیدہ اصنام کی پرستش کرنے والے یوں ہی توحید کے نغمے نہیں گنگناتے؛ اس کے لیے فضلِ باری اور عنایتِ نبوی درکار ہوتی ہے۔ یہی کچھ ہند میں ہوا خواجہ غریب نواز کے ساتھ ہوا۔ ان کے اعلیٰ اخلاق اور چمکتے کردار کے ساتھ عطائے ایزدی کی وہ بارانِ رحمت نازل ہوئی کہ تاریک فضا میں روشن انقلاب آگیا۔ ایسا انقلاب کے فکر کے غبار دُھلنے لگے، تھکی تھکی طبیعتیں کھلنے لگیں، راجستھان کا خطۂ ریگزار ہی کیا؛ شمال سے جنوب، مشرق سے مغرب تک کی فضا کلمۂ توحید ورسالت سے گونج گونج اُٹھی۔اجمیر کی زمیں سے جو پیغام صدیوں پہلے دیا گیا تھا؛ اس کی صداے دل نواز آج بھی کانوں میں رَس گھولتی محسوس ہوتی ہے، غریب نواز نے اولیاے کرام کے مقدس مشن کی ترجمانی کی، دلوں کے زنگ دھوئے، ہر دل ان کا اسیر ہوگیا، نبوی چوکھٹ سے جود وسخا کے جو دھارے رواں تھے؛ ان سے خواجہ غریب نواز نے سیرابی کی ، اسی کا فیض آج بھی اجمیر مقدس سے جاری وساری ہے۔ اُس دور میں اہلِ شرک نے توحید کااقرار کر کے حق کا کلادہ گلے میں ڈالا تھا اور آج زنگ آلود قلب عرفان ویقیں کے جام پی کر حق آشنا ہو رہے ہیں؎
خواجۂ ہند وہ دربار ہے اعلیٰ تیرا
کبھی محروم نہیں منگنے والا تیرا
اشاعتِ اسلام کا قافلہ آگے بڑھتا رہا۔ فلسفۂ یونان کا جب زور تھا تو عشق رسول کریمﷺ سے سرشار فکرِ غزالی و تعلیماتِ غوثیہ نے اسلام کی نکھری تعلیمات کی ترجمانی کی تھی۔ جب ہند میں شعبدہ بازوں نے شرک کی حمایت میں اپنے تمام حربے آزما ڈالے؛ تب استقامت کے کوہِ عظیم خواجہ غریب نواز نے اساسِ دین کی حفاظت اور دعوتِ حق کی انجام دہی کی غرض سے کرامتوں کا اظہار فرمایا۔ کرامت اُس دور کی ضرورت تھی۔ اشاعتِ اسلام کی خاطر خواجہ غریب نواز نے جے پال کے سحر کو
-----------------------------------------------------------
🕯️سلطان الہند حضور غریب نواز رحمۃ اللّٰه علیہ، ہند میں شوکتِ اسلامی کا نشانِ عظمت🕯️
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
📬 اسلام! اپنی اخلاقی تعلیمات، فطری صداقت اور پاکیزگی ولطافت کی وجہ سے دلوں میں بس گیا۔ خاتم الانبیاء رحمۃ للعالمینﷺ نے اسلام کے نور سے دلوں کو روشن فرمایا۔رحمۃ للعالمینﷺ کے اختیارات اور جود و عطا سے؛ خدائے تعالیٰ کی عطاکردہ ان عظمتوں کا اظہار ہوا؛ جس کے آگے دُنیا کی بادشاہت و جلالت اور شوکتِ امارت و حکومت سرنگوں ہوکررہ گئے۔ اسلامی عظمت و شان اور اخلاق و کردار کے وہ عظیم جلوے ظاہر ہوئے؛ جس نے قیصر وکسریٰ اور فراعنہ کے جبر واستبداد کا خاتمہ کر دیا، اور اسلام کی نور بار کرنیں عرب کی سرحدوں سے نکل کر افریقہ کے تپتے صحرا میں بسنے والے وحشیوں کو انسانی قدروں سے آشنا کرنے لگیں۔ خاتم الانبیاء رحمۃ للعالمینﷺ کے وصالِ ظاہری کے بعد صحابہ و تابعین اورداعیانِ دینِ متین نے اسلام کی اشاعت و تبلیغ کا فریضہ انجام دیا۔ حق و صداقت کی شمع دلوں کے طاق پہ فروزاں رکھی۔ ان کے بعد اولیاے اسلام وعلماے کرام کے ذریعے دین کی اشاعت ہوتی رہی۔کاروانِ صداقت آگے بڑھتا رہا۔ منزلیں طے ہوتی رہیں۔
ابتدائی صدی میں ہی اسلام کی کرنیں عرب تجار و تابعین کے ذریعے ہندوسندھ کی سر زمین کو منور کرنے لگیں۔ ساحل مالابار،کیرلا اور سندھ کے علاقے اسلام کی مقدس پناہ میں آچکے تھے۔ باب الاسلام سندھ میں خدمت حدیث کی مسندِ تدریس حضرت شیخ اسماعیل بخاری کے توسط سے سج گئی تھی۔ پنجاب کی سرزمین حضرت داتا گنج بخش ہجویری کے عرفاں سے اسلامی نور سے آشنا ہوئی؛ اور اہلِ شرک کے صنم کدوں میں اذانِ توحید گونج اُٹھی؛ جس نے دلوں کے زنگ دھو ڈالے، نبوی اخلاق سے متصف عاشقانِ صادق نے ایمان کی سوغات تقسیم کی،خطۂ پنجاب کے محسن کو دُنیا ’’داتا گنج بخش‘‘ کہہ کر یاد کرنے لگی۔جن کی عطا کا آج بھی چرچا ہے اور سخاوت کا شہرہ۔ بقول حضور غریب نواز؎
گنج بخش فیض عالم مظہر نورِ خدا
ناقصاں را پیر کامل کاملاں را رہنما
چمنِ رسالت مآبﷺ کا گُلِ تر بشکلِ معین الدیں حسن اجمیری المعروف سلطان الہند غریب نواز واردِ سندھ حاضرِبارگاہِ داتاہوتا ہے؛ اور کسبِ فیض کے بعد دہلی پہنچتا ہے، اس وقت تک اشاعتِ اسلام کا کارواں ہند میں اِس قدر وسیع نہ ہوا تھا۔ رحمتِ باری جوش پر آئی۔ خواجہ غریب نواز کے ذریعے اشاعتِ حق کا کارواں تیزگام ہوا۔ آپ نے نبوی اخلاق کا وہ عظیم مظاہرہ ہند کے اصنام زدہ ماحول میں کیا کہ ایمان کی کھیتی ہری بھری ہو گئی۔ ۹۰؍لاکھ افراد کا اسلام قبول کر لینا کوئی لمحاتی واقعہ نہ تھا۔ اس کے لیے مشیت نے خواجہ غریب نواز کو چُنا تھا جن کے دَم قدم سے ہند کی زمیں شاداب ہوئی؛ ابرِ رحمت جھوم کر برسا؛ علامہ حسنؔ رضا بریلوی نے بہت عمدہ کہا؎
گلشنِ ہند ہے شاداب کلیجے ٹھنڈے
واہ! اے ابرِ کرم زور برسنا تیرا
خواجہ غریب نواز نے اپنے اخلاقِ کریمانہ سے اسلامی تعلیمات کی عملی تصویر پیش کی۔جب دل شرک کی آماجگاہ بن جاتا ہے،تو حق قبول کروانے کو بڑی تدبیر درکار ہوتی ہے، صدیوں سے اپنے ہی ہاتھوں کے تراشیدہ اصنام کی پرستش کرنے والے یوں ہی توحید کے نغمے نہیں گنگناتے؛ اس کے لیے فضلِ باری اور عنایتِ نبوی درکار ہوتی ہے۔ یہی کچھ ہند میں ہوا خواجہ غریب نواز کے ساتھ ہوا۔ ان کے اعلیٰ اخلاق اور چمکتے کردار کے ساتھ عطائے ایزدی کی وہ بارانِ رحمت نازل ہوئی کہ تاریک فضا میں روشن انقلاب آگیا۔ ایسا انقلاب کے فکر کے غبار دُھلنے لگے، تھکی تھکی طبیعتیں کھلنے لگیں، راجستھان کا خطۂ ریگزار ہی کیا؛ شمال سے جنوب، مشرق سے مغرب تک کی فضا کلمۂ توحید ورسالت سے گونج گونج اُٹھی۔اجمیر کی زمیں سے جو پیغام صدیوں پہلے دیا گیا تھا؛ اس کی صداے دل نواز آج بھی کانوں میں رَس گھولتی محسوس ہوتی ہے، غریب نواز نے اولیاے کرام کے مقدس مشن کی ترجمانی کی، دلوں کے زنگ دھوئے، ہر دل ان کا اسیر ہوگیا، نبوی چوکھٹ سے جود وسخا کے جو دھارے رواں تھے؛ ان سے خواجہ غریب نواز نے سیرابی کی ، اسی کا فیض آج بھی اجمیر مقدس سے جاری وساری ہے۔ اُس دور میں اہلِ شرک نے توحید کااقرار کر کے حق کا کلادہ گلے میں ڈالا تھا اور آج زنگ آلود قلب عرفان ویقیں کے جام پی کر حق آشنا ہو رہے ہیں؎
خواجۂ ہند وہ دربار ہے اعلیٰ تیرا
کبھی محروم نہیں منگنے والا تیرا
اشاعتِ اسلام کا قافلہ آگے بڑھتا رہا۔ فلسفۂ یونان کا جب زور تھا تو عشق رسول کریمﷺ سے سرشار فکرِ غزالی و تعلیماتِ غوثیہ نے اسلام کی نکھری تعلیمات کی ترجمانی کی تھی۔ جب ہند میں شعبدہ بازوں نے شرک کی حمایت میں اپنے تمام حربے آزما ڈالے؛ تب استقامت کے کوہِ عظیم خواجہ غریب نواز نے اساسِ دین کی حفاظت اور دعوتِ حق کی انجام دہی کی غرض سے کرامتوں کا اظہار فرمایا۔ کرامت اُس دور کی ضرورت تھی۔ اشاعتِ اسلام کی خاطر خواجہ غریب نواز نے جے پال کے سحر کو
❤1
Forwarded from فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
توڑا؛ جادوگروں کا سحر ٹوٹا اور وہ اسلام کے دامن میں آگئے۔
اسلام ! اخلاقی تعلیمات اور روحانی تب وتاب کے ساتھ دلوں میں گھر کر لیا۔ خواجہ غریب نواز کی روحانی فتوحات کے زیرِ اثر ہند میں اسلامی سلطنت کی بنیاد پڑی۔ تاریخ کے صفحات میں خواجہ غریب نواز کا وہ تاریخی جملہ محفوظ ہے ’’پرتھوی راج را زندہ گرفتار کردہ بہ لشکر اسلام دادیم‘‘ یعنی پرتھوی راج کو زندہ گرفتار کر کے اسلامی لشکر کے حوالے کر دیا۔ یہ مومنانہ بصیرت تھی جس نے مستقبل میں ہونے والی خوش گوار تبدیلی کا اعلان پہلے ہی کردیا، اس سے انھیں درس لینا چاہیے جو نبی کریم ﷺ کے لیے غیبی علوم میں کلام کرتے ہیں؛ عقل کے ناقص گھوڑے دوڑاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ! ایمان کی سلامتی نصیب فرمائے۔ آمین!
خواجہ غریب نواز نے جن دلوں کو ایمان کی روشنی سے معمور کیا تھا؛ آج اُن کی نسلیں ملک بھر میں پھیلی ہوئی ہیں اور اسلامی معاشرہ مستحکم بنیادوں پر قائم ہے، بعد کے اَدوار کے علما و صلحا اور اولیا و مقبولانِ بارگاہِ صمدیت کی مساعیِ جمیلہ سے دین کی اشاعت ہوتی رہی۔ کبھی تیز وتند آندھی نے تجدید واحیا کی صورت پیدا کی تو عزمِ معینی لے کر سرہند کی زمیں پر مجدد الف نے آندھیوں کی زَد پر یقیں کے چراغ جلائے، کبھی بریلی کی زمیں سے محبت رسول کریمﷺ کا درسِ زریں عام ہوا اور جس کی خوشبو سے اکنافِ عالم معمور ہوا۔ ہمیں آج کے اِس دورِ حزیں میں تعلیماتِ خواجہ غریب نواز پر عمل کی شدید ضرورت ہے، تاکہ اسلامی تعلیمات کے حسیں انقلاب سے یہود ونصاریٰ اور مشرکین کی سازشوں کا دَنداں شکن جواب دے کر حق کی شمع فروزاں رکھی جاسکے۔جو مسلم معاشرے کے استحکام کا باعث ہوگا۔ یاد رہے کہ خواجہ غریب نواز نے جس استقامت کے ساتھ شمعِ اسلام کو فروزاں رکھا؛ اسی استقامت کے مظاہرے سے ہم مشرک اقتدار کی سازشوں کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ اِس لیے اپنے عقیدہ و ایمان کی حفاظت کے لیے ناقابلِ تسخیر قوت بن جائیں؛ ان شاء اللہ وادی بھی ہماری ہوگی اور گلشنِ ہند بھی ہمارا۔
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
از قلم✍️ غلام مصطفیٰ رضوی، نوری مشن، مالیگاؤں، مہاراشٹرا۔
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
اسلام ! اخلاقی تعلیمات اور روحانی تب وتاب کے ساتھ دلوں میں گھر کر لیا۔ خواجہ غریب نواز کی روحانی فتوحات کے زیرِ اثر ہند میں اسلامی سلطنت کی بنیاد پڑی۔ تاریخ کے صفحات میں خواجہ غریب نواز کا وہ تاریخی جملہ محفوظ ہے ’’پرتھوی راج را زندہ گرفتار کردہ بہ لشکر اسلام دادیم‘‘ یعنی پرتھوی راج کو زندہ گرفتار کر کے اسلامی لشکر کے حوالے کر دیا۔ یہ مومنانہ بصیرت تھی جس نے مستقبل میں ہونے والی خوش گوار تبدیلی کا اعلان پہلے ہی کردیا، اس سے انھیں درس لینا چاہیے جو نبی کریم ﷺ کے لیے غیبی علوم میں کلام کرتے ہیں؛ عقل کے ناقص گھوڑے دوڑاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ! ایمان کی سلامتی نصیب فرمائے۔ آمین!
خواجہ غریب نواز نے جن دلوں کو ایمان کی روشنی سے معمور کیا تھا؛ آج اُن کی نسلیں ملک بھر میں پھیلی ہوئی ہیں اور اسلامی معاشرہ مستحکم بنیادوں پر قائم ہے، بعد کے اَدوار کے علما و صلحا اور اولیا و مقبولانِ بارگاہِ صمدیت کی مساعیِ جمیلہ سے دین کی اشاعت ہوتی رہی۔ کبھی تیز وتند آندھی نے تجدید واحیا کی صورت پیدا کی تو عزمِ معینی لے کر سرہند کی زمیں پر مجدد الف نے آندھیوں کی زَد پر یقیں کے چراغ جلائے، کبھی بریلی کی زمیں سے محبت رسول کریمﷺ کا درسِ زریں عام ہوا اور جس کی خوشبو سے اکنافِ عالم معمور ہوا۔ ہمیں آج کے اِس دورِ حزیں میں تعلیماتِ خواجہ غریب نواز پر عمل کی شدید ضرورت ہے، تاکہ اسلامی تعلیمات کے حسیں انقلاب سے یہود ونصاریٰ اور مشرکین کی سازشوں کا دَنداں شکن جواب دے کر حق کی شمع فروزاں رکھی جاسکے۔جو مسلم معاشرے کے استحکام کا باعث ہوگا۔ یاد رہے کہ خواجہ غریب نواز نے جس استقامت کے ساتھ شمعِ اسلام کو فروزاں رکھا؛ اسی استقامت کے مظاہرے سے ہم مشرک اقتدار کی سازشوں کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ اِس لیے اپنے عقیدہ و ایمان کی حفاظت کے لیے ناقابلِ تسخیر قوت بن جائیں؛ ان شاء اللہ وادی بھی ہماری ہوگی اور گلشنِ ہند بھی ہمارا۔
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
از قلم✍️ غلام مصطفیٰ رضوی، نوری مشن، مالیگاؤں، مہاراشٹرا۔
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
❤1
Forwarded from فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
📚 « امجــــدی مضــــامین » 📚
-----------------------------------------------------------
🕯️حضرت خواجہ غریب نواز قدس سرہٗ کے اقوالِ زرین🕯️
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
📬 حضرت خواجہ معین الدین چشتی رحمۃ اللہ علیہ کا مقصد اسلام کی تبلیغ و اشاعت اور اس کے اصولوں سے لوگوں کو متعارف کرانا تھا، چناں چہ آپ کی مجالس میں تزکیہ و طہارت اور معرفت و سلوک کی باتیں ہوتی رہتی تھیں۔ آپ کے ارشادات اور اقوال کو حضرت کے جانشین خواجہ قطب الدین بختیار کاکی نے ’’دلیل العارفین ‘‘ کے نام سے قلم بند کر لیا تھا، یہ کتاب مختلف دینی مسائل کا سرچشمہ ہے، ذیل میں اسی کتاب سے حضرت خواجہ کے چند اقوالِ زریں نقل کیے جاتے ہیں۔
٭ نماز بندوں کے لیے خدا کی امانت ہے پس بندوں کو چاہیے کہ اس کا حق ادا کریں کہ اس میں کوئی خیانت نہ پیدا ہو۔ نماز ایک راز ہے جو بندہ اپنے پروردگار سے کہتا ہے۔
٭ قیامت کے روز سب سے پہلے نماز کا حساب انبیا و اولیا اور ہر مسلمان سے ہو گا جو اس حساب سے عہدہ بر آ نہیں ہوسکے گا وہ عذابِ دوزخ کا شکار ہو گا۔
٭ جو بھوکے کو کھانا کھلاتا ہے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسکے اور جہنم کے درمیان سات پردے حائل کر دیگا۔
٭ اس سے بڑھ کر کوئی گناہِ کبیرہ نہیں کہ مسلمان بھائی کو بِلا وجہ ستایا جائے اس سے خدا و رسول دونوں ناراض ہوتے ہیں۔
٭ کون سی چیز ہے جو اللہ تعالیٰ کی قدرت میں نہیں ہے مرد کو چاہیے کہ احکامِ الٰہی بجا لانے میں کمی نہ کرے پھر جو کچھ چاہے گا مِل جائے گا۔
٭ قبرستان میں جان بوجھ کر کھانا یا پانی پینا گناہِ کبیرہ ہے۔ جو ایسا کرے وہ ملعون اور منافق ہے کیوں کہ قبرستان عبرت کی جگہ ہے نہ کہ جائے حرص و ہَوا۔
٭ جس نے جھوٹی قسم کھائی گویا اس نے اپنے خاندان کو ویران کر دیا اس گھر سے برکت اٹھا لی جاتی ہے۔
٭ گناہ تم کو اتنا نقصان نہیں پہنچا سکتا جتنا مسلمان بھائی کو ذلیل و رسو ا کرنا۔
٭ جس نے خدا کو پہچان لیا اگر و ہ خلق سے دور نہ بھاگے تو سمجھ لو کہ اس میں کوئی نعمت نہیں۔
٭ عارف وہ شخص ہوتا ہے جو کچھ اس کے اندر ہو اسے دل سے نکال دے تاکہ اپنے دوست کی طرح یگانہ ہو جائے پھر اللہ تعالیٰ اس پر کسی چیز کو مخفی نہ رکھے گا اور وہ دونوں جہاں سے بے نیاز ہو جائے گا۔
٭ اگر قیامت کے دن کوئی چیز جنت میں لے جائے گی تو وہ زہد ہے نہ کہ علم۔
٭ جو شخص عشقِ الٰہی کی راہ میں قدم رکھتا ہے اس کا نام و نشان نہیں ملتا۔
٭ اہلِ عرفان یادِ الٰہی کے علاوہ کوئی اور بات اپنی زبان سے نہیں نکالتے اور اللہ کے خیال کے سوا دل میں کسی دوسرے کا خیال نہیں لاتے۔
٭ اگر کسی شخص میں تین خصلتیں پائی جائیں تو سمجھ لو کہ اللہ تعالیٰ اسے دوست رکھتا ہے (۱) سخاوت (۲) شفقت (۳) تواضع (عاجزی)، سخاوت دریا جیسی، شفقت آفتاب کی طرح اور تواضع زمین کی مانند۔
٭ نیکوں کی صحبت نیک کام سے بہتر ہے اور بروں کی صحبت برے کام سے بری ہے۔
٭ دنیا میں تین افراد بہترین کہلانے کے مستحق ہیں (۱) عالم جو اپنے علم سے بات کہے(۲) جو لالچ نہ رکھے (۳) وہ عارف جو ہمیشہ دوست کی تعریف و توصیف کرتا رہے۔
٭ حق شناسی کی علامت لوگوں سے راہِ فرار اختیار کرنا اور معرفت میں خاموشی اختیار کرنا ہے۔
٭ عارف سورج کی طرح ہوتا ہے جو سارے جہان کو روشنی بخشتا ہے جس کی روشنی سے کوئی چیز خالی نہیں رہتی۔
٭ توکل یہ ہے کہ اللہ کے علاوہ کسی اور پر توکل نہ ہو اور نہ کسی چیز کی طرف توجہ کی جائے۔
٭ سچی توبہ کے لیے تین باتیں ضروری ہیں (۱) کم کھانا (۲) کم سونا(۳) کم بولنا، پہلے سے خوفِ خدا، دوسرے اور تیسرے سے محبتِ الٰہی پیدا ہوتی ہے۔
٭ اہلِ طریقت کے لیے دس شرطیں لازم ہیں (۱) طلبِ حق (۲) طلبِ مرشد (۳) ادب (۴) رضا (۵) محبت اور ترکِ فضول (۶) تقوا (۷) شریعت پر استقامت (۸) کم کھانا کم سونا کم بولنا (۹) خلق سے دوری اور تنہائی اختیار کرنا(۱۰) روزہ و نماز کی ہر حال میں پابندی۔
٭ پانچ چیزوں کو دیکھنا عبادت ہے (۱) اپنے والدین کے چہرے کو دیکھنا حدیث میں ہے، جو فرزند اپنے والدین کا چہر ہ دیکھتا ہے اس کے نامۂ اعمال میں حج کا ثواب لکھا جاتا ہے(۲) کلامِ مجید کا دیکھنا (۳) کسی عالمِ با عمل کا چہرہ عزت و احترام سے دیکھنا (۴) خانۂ کعبہ کے دروازے کی زیارت اور کعبہ شریف کو دیکھنا (۵) اپنے پیر و مرشد کے چہرے کو دیکھنا اور ان کی خدمت کرنا۔
اللّٰه کریم ہمیں حضرت خواجہ غریب نواز قدس سرہٗ کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے، آمین بجاہ النبی الامین الاشرف الافضل النجیب صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وصحبہ وبارک وسلم
(ماخوذ: خواجہ معین الدین چشتی از محمد حسین مشاہد رضوی)
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
از قلم✍️ ڈاکٹر محمد حسین مشاہد رضوی صاحب مالیگاؤں مہاراشٹرا
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
-----------------------------------------------------------
🕯️حضرت خواجہ غریب نواز قدس سرہٗ کے اقوالِ زرین🕯️
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
📬 حضرت خواجہ معین الدین چشتی رحمۃ اللہ علیہ کا مقصد اسلام کی تبلیغ و اشاعت اور اس کے اصولوں سے لوگوں کو متعارف کرانا تھا، چناں چہ آپ کی مجالس میں تزکیہ و طہارت اور معرفت و سلوک کی باتیں ہوتی رہتی تھیں۔ آپ کے ارشادات اور اقوال کو حضرت کے جانشین خواجہ قطب الدین بختیار کاکی نے ’’دلیل العارفین ‘‘ کے نام سے قلم بند کر لیا تھا، یہ کتاب مختلف دینی مسائل کا سرچشمہ ہے، ذیل میں اسی کتاب سے حضرت خواجہ کے چند اقوالِ زریں نقل کیے جاتے ہیں۔
٭ نماز بندوں کے لیے خدا کی امانت ہے پس بندوں کو چاہیے کہ اس کا حق ادا کریں کہ اس میں کوئی خیانت نہ پیدا ہو۔ نماز ایک راز ہے جو بندہ اپنے پروردگار سے کہتا ہے۔
٭ قیامت کے روز سب سے پہلے نماز کا حساب انبیا و اولیا اور ہر مسلمان سے ہو گا جو اس حساب سے عہدہ بر آ نہیں ہوسکے گا وہ عذابِ دوزخ کا شکار ہو گا۔
٭ جو بھوکے کو کھانا کھلاتا ہے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسکے اور جہنم کے درمیان سات پردے حائل کر دیگا۔
٭ اس سے بڑھ کر کوئی گناہِ کبیرہ نہیں کہ مسلمان بھائی کو بِلا وجہ ستایا جائے اس سے خدا و رسول دونوں ناراض ہوتے ہیں۔
٭ کون سی چیز ہے جو اللہ تعالیٰ کی قدرت میں نہیں ہے مرد کو چاہیے کہ احکامِ الٰہی بجا لانے میں کمی نہ کرے پھر جو کچھ چاہے گا مِل جائے گا۔
٭ قبرستان میں جان بوجھ کر کھانا یا پانی پینا گناہِ کبیرہ ہے۔ جو ایسا کرے وہ ملعون اور منافق ہے کیوں کہ قبرستان عبرت کی جگہ ہے نہ کہ جائے حرص و ہَوا۔
٭ جس نے جھوٹی قسم کھائی گویا اس نے اپنے خاندان کو ویران کر دیا اس گھر سے برکت اٹھا لی جاتی ہے۔
٭ گناہ تم کو اتنا نقصان نہیں پہنچا سکتا جتنا مسلمان بھائی کو ذلیل و رسو ا کرنا۔
٭ جس نے خدا کو پہچان لیا اگر و ہ خلق سے دور نہ بھاگے تو سمجھ لو کہ اس میں کوئی نعمت نہیں۔
٭ عارف وہ شخص ہوتا ہے جو کچھ اس کے اندر ہو اسے دل سے نکال دے تاکہ اپنے دوست کی طرح یگانہ ہو جائے پھر اللہ تعالیٰ اس پر کسی چیز کو مخفی نہ رکھے گا اور وہ دونوں جہاں سے بے نیاز ہو جائے گا۔
٭ اگر قیامت کے دن کوئی چیز جنت میں لے جائے گی تو وہ زہد ہے نہ کہ علم۔
٭ جو شخص عشقِ الٰہی کی راہ میں قدم رکھتا ہے اس کا نام و نشان نہیں ملتا۔
٭ اہلِ عرفان یادِ الٰہی کے علاوہ کوئی اور بات اپنی زبان سے نہیں نکالتے اور اللہ کے خیال کے سوا دل میں کسی دوسرے کا خیال نہیں لاتے۔
٭ اگر کسی شخص میں تین خصلتیں پائی جائیں تو سمجھ لو کہ اللہ تعالیٰ اسے دوست رکھتا ہے (۱) سخاوت (۲) شفقت (۳) تواضع (عاجزی)، سخاوت دریا جیسی، شفقت آفتاب کی طرح اور تواضع زمین کی مانند۔
٭ نیکوں کی صحبت نیک کام سے بہتر ہے اور بروں کی صحبت برے کام سے بری ہے۔
٭ دنیا میں تین افراد بہترین کہلانے کے مستحق ہیں (۱) عالم جو اپنے علم سے بات کہے(۲) جو لالچ نہ رکھے (۳) وہ عارف جو ہمیشہ دوست کی تعریف و توصیف کرتا رہے۔
٭ حق شناسی کی علامت لوگوں سے راہِ فرار اختیار کرنا اور معرفت میں خاموشی اختیار کرنا ہے۔
٭ عارف سورج کی طرح ہوتا ہے جو سارے جہان کو روشنی بخشتا ہے جس کی روشنی سے کوئی چیز خالی نہیں رہتی۔
٭ توکل یہ ہے کہ اللہ کے علاوہ کسی اور پر توکل نہ ہو اور نہ کسی چیز کی طرف توجہ کی جائے۔
٭ سچی توبہ کے لیے تین باتیں ضروری ہیں (۱) کم کھانا (۲) کم سونا(۳) کم بولنا، پہلے سے خوفِ خدا، دوسرے اور تیسرے سے محبتِ الٰہی پیدا ہوتی ہے۔
٭ اہلِ طریقت کے لیے دس شرطیں لازم ہیں (۱) طلبِ حق (۲) طلبِ مرشد (۳) ادب (۴) رضا (۵) محبت اور ترکِ فضول (۶) تقوا (۷) شریعت پر استقامت (۸) کم کھانا کم سونا کم بولنا (۹) خلق سے دوری اور تنہائی اختیار کرنا(۱۰) روزہ و نماز کی ہر حال میں پابندی۔
٭ پانچ چیزوں کو دیکھنا عبادت ہے (۱) اپنے والدین کے چہرے کو دیکھنا حدیث میں ہے، جو فرزند اپنے والدین کا چہر ہ دیکھتا ہے اس کے نامۂ اعمال میں حج کا ثواب لکھا جاتا ہے(۲) کلامِ مجید کا دیکھنا (۳) کسی عالمِ با عمل کا چہرہ عزت و احترام سے دیکھنا (۴) خانۂ کعبہ کے دروازے کی زیارت اور کعبہ شریف کو دیکھنا (۵) اپنے پیر و مرشد کے چہرے کو دیکھنا اور ان کی خدمت کرنا۔
اللّٰه کریم ہمیں حضرت خواجہ غریب نواز قدس سرہٗ کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے، آمین بجاہ النبی الامین الاشرف الافضل النجیب صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وصحبہ وبارک وسلم
(ماخوذ: خواجہ معین الدین چشتی از محمد حسین مشاہد رضوی)
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
از قلم✍️ ڈاکٹر محمد حسین مشاہد رضوی صاحب مالیگاؤں مہاراشٹرا
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
❤1
Forwarded from فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
📚 « امجــــدی مضــــامین » 📚
-----------------------------------------------------------
🕯️ہند میں شوکتِ اسلام کے نظارے اور خواجہ غریب نواز کے فیض کی جلوہ باریاں🕯️
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
📬 برصغیر میں اسلام کی اشاعت و تبلیغ صوفیۂ کرام و اولیاے اسلام کی کوششوں سے ہوئی۔ ہند کی تاریخ کا مطالعہ کیجیے۔ اشاعتِ اسلام کے کارواں کا تاریخی نظروں سے مشاہدہ کیجیے۔ مسلم سلاطین کا اقتدار صدیوں رہا؛ لیکن ہند میں اسلام کی بہاریں سلاطین کی رہین منت نہیں بلکہ اولیاے کرام کی کد و کاوش اور مساعی جمیلہ کا نتیجہ ہے۔ ان کی بارگاہیں ہمیشہ دعوت و تبلیغ کا مسکن بنی رہیں۔ ان کے یہاں سے کتاب و سنت کی تعلیم عام ہوئی۔ دلوں کی دُنیا میں انقلاب آیا۔ فکروں میں تبدیلی واقع ہوئی۔گمرہی کی تہیں چاک ہوئیں۔ اس پہلو سے مولانا محمد عبدالمبین نعمانی لکھتے ہیں:
’’اِس حقیقت سے کسی کو انکار نہیں ہونا چاہیے کہ برصغیر میں اگرچہ مسلم حکمراں مدت تک حکمرانی کرتے رہے، لیکن اسلام کی روشنی اور روحانیت کا اُجالا صوفیۂ کرام ہی نے پھیلایا، مسلم حکمراں تو حکومت کے دبدبے سے بھی کسی کو مسلمان نہ بنا سکے، مگر اولیا اور صوفیہ نے لاکھوں کے دلوں میں اسلام کا نور بھر دیا جیسا کہ خود غریب نواز کی زندگی کا مطالعہ کرنے والا ہر حقیقت پسند اس کا اعتراف کیے بغیر نہ رہے گا۔
حضرت خواجہ غریب نواز نے تلوار نہیں اُٹھائی، مگر اخلاق و کردار اور کشف و کرامات کی ایسی ضرب لگائی کہ دلوں کی دُنیا زیر و زبر ہو گئی، اندر چھپی ہوئی کفر و شرک کی غلاظت چھٹتی نظر آئی اور آج پورے پاک و ہند اور بنگلہ دیش میں اسلام کا نام لینے والوں کی جو کھیپ ہے، ان میں زیادہ تر افراد کا وجود خواجہ غریب نواز کی مساعی تبلیغ اور ارشاد و ہدایت کا ہی مرہونِ منت ہے۔‘‘ (برکاتِ خواجہ، مطبوعہ نوری مشن مالیگاؤں)
ہند میں دعوت و تبلیغِ اسلام کا نظام خواجہ غریب نوازکے وجودِ مسعود سے مستحکم ہوا۔ گرچہ آپ کی آمد سے قبل کیرلا، سندھ و گجرات اور بعض علاقوں میں اسلام کی کرنیں پھیل چکی تھیں؛ تاہم مجموعی طور پر پورے ہند میں اسلامی نور خواجہ غریب نواز اور ان کے فیض یافتگان کے توسط سے عام ہوا۔ آپ نے اس نظام میں استحکام کے لیے اپنے خلفا و تلامذہ، مریدین و مسترشدین کو تیار کیا۔ جن کی کاوش ، جدوجہد اور عملی زندگی سے صالح انقلاب برپا ہوا۔ طبیعتیں کشاں کشاں کھنچی چلی آئیں۔ شوریدہ افکار پاکیزہ ہو گئے۔ بجھی بجھی طبیعتیں کھل اُٹھیں۔ خزاں دور ہوئی۔ بہاروں کے جھونکے چلنے لگے۔ جو بادل اجمیر مقدس سے اُٹھے تھے؛ وہ کشورِ ہند پر چھا گئے۔ ابرِ کرم برسا۔ زور برسا۔ ایسا کہ وادیاں جَل تھل ہو گئیں۔
دہلی میں فیضانِ خواجۂ ہند برسا۔ خواجہ قطب الدین بختیار کاکی نے دہلی و نواحِ دہلی میں دعوتی نظام پھیلایا۔ لوگ جوق در جوق تائب ہوتے گئے۔ شرک کی فضا سمٹتی گئی۔ نورِ ایمان بستا گیا۔ خیالات کی وادیاں سیراب ہوئیں۔
خواجہ قطب الدین بختیار کاکی کے فیض یافتہ و خلیفہ خواجہ فرید الدین گنج شکر نے پنجاب و مضافات کو منور کیا۔ ان کے نظام نے بھی اپنے خوش گوار نتائج سے وادیوں کو سرشار کیا۔ خزاں رسیدہ ماحول باغ و بہار ہو گیا۔
حضرت گنج شکر کے خلیفۂ خاص حضرت محبوبِ الٰہی نظام الحق والدین کے ذریعے چشتیت کے جام دہلی سے دور دور پہنچے۔ سمتوں میں فیض کے بادل گھرے۔ شرق و غرب، شمال و جنوب میں فیض کی بارش ہونے لگی۔ بڑے بڑے شرکیہ مراکز میں اوس پڑ گئی۔چراغِ کفر بجھنے لگے۔ شر کے مراکز میں اندھیرا چھا گیا۔ خیر کا غلغلہ ہوا۔ اذانِ سحر گونج گونج اُٹھی۔ وہ علاقے جہاں گھنٹیاں بجتی تھیں؛ فضا گدلی تھی؛ آلودگی چھائی ہوئی تھی؛ یکایک توحید کے نغمے بلند ہونے لگے۔ محبتِ رسول ﷺ کی سوغات بٹنے لگی۔ نعت اقدس کے مصفیٰ اشعار سے فضا مشک بار ہو گئی۔
ہمارے اسلاف نے اِس زمیں کو خونِ جگر سے سینچا۔ یہاں کی بادِ صبا اجمیر مقدس کے فیض سے معمور ہے۔ یہاں کی فضا میں خواجۂ ہند کے سوزِ دروں کا اثر ہے، نالۂ نیم شبی کا ارتعاش ہے۔ یہاں عزم کے اسباق تازہ ہیں، گرچہ پھر یورشِ اقتدارِ شرک ہے۔ لیکن ہمیں فرنگی تخیلات اور شرکیہ افکار کی تہیں چاک کر کے تعلیماتِ خواجۂ ہند سے بزم عرفاں کو سجانا ہے۔ پست ہمتوں کو توانائی اور مایوسی کو یقیں کا توشہ دینا ہے۔ ان شاء اللہ وادی بھی ہماری ہو گی اور گلشن بھی ہمارا؎
خدا اگر دل فطرت شناس دے تجھ کو
سکوتِ لالہ و گل سے کلام پیدا کر
اٹھا نہ شیشہ گرانِ فرنگ کے احساں
سفالِ ہند سے مینا و جام پیدا کر
عزائم کی سیج پر ہمیں اسلامی تعلیمات کافی ہیں۔ یاسیت کے اندھیروں میں ہمیں اسلاف کی حیات کے ابواب سے درسِ عمل ملتا ہے۔ خواجۂ ہند کی تعلیمات کی ترجمانی سفیرانِ عشقِ رسول ﷺ نے ہر عہد میں کی۔ منزل بہ منزل کاروانِ شوق کے سالار کی حیات پڑھ جائیے۔ کیسے کیسے سالار موجود ہیں۔ اِسی ہند میں مخدوم کلیر و مخدوم کچھوچھہ ہیں، خواجہ باقی باللہ ومجدد الفِ ثانی ہیں، فضل حق خیرآبادی و اعلیٰ حضرت بریلوی ہیں،
-----------------------------------------------------------
🕯️ہند میں شوکتِ اسلام کے نظارے اور خواجہ غریب نواز کے فیض کی جلوہ باریاں🕯️
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
📬 برصغیر میں اسلام کی اشاعت و تبلیغ صوفیۂ کرام و اولیاے اسلام کی کوششوں سے ہوئی۔ ہند کی تاریخ کا مطالعہ کیجیے۔ اشاعتِ اسلام کے کارواں کا تاریخی نظروں سے مشاہدہ کیجیے۔ مسلم سلاطین کا اقتدار صدیوں رہا؛ لیکن ہند میں اسلام کی بہاریں سلاطین کی رہین منت نہیں بلکہ اولیاے کرام کی کد و کاوش اور مساعی جمیلہ کا نتیجہ ہے۔ ان کی بارگاہیں ہمیشہ دعوت و تبلیغ کا مسکن بنی رہیں۔ ان کے یہاں سے کتاب و سنت کی تعلیم عام ہوئی۔ دلوں کی دُنیا میں انقلاب آیا۔ فکروں میں تبدیلی واقع ہوئی۔گمرہی کی تہیں چاک ہوئیں۔ اس پہلو سے مولانا محمد عبدالمبین نعمانی لکھتے ہیں:
’’اِس حقیقت سے کسی کو انکار نہیں ہونا چاہیے کہ برصغیر میں اگرچہ مسلم حکمراں مدت تک حکمرانی کرتے رہے، لیکن اسلام کی روشنی اور روحانیت کا اُجالا صوفیۂ کرام ہی نے پھیلایا، مسلم حکمراں تو حکومت کے دبدبے سے بھی کسی کو مسلمان نہ بنا سکے، مگر اولیا اور صوفیہ نے لاکھوں کے دلوں میں اسلام کا نور بھر دیا جیسا کہ خود غریب نواز کی زندگی کا مطالعہ کرنے والا ہر حقیقت پسند اس کا اعتراف کیے بغیر نہ رہے گا۔
حضرت خواجہ غریب نواز نے تلوار نہیں اُٹھائی، مگر اخلاق و کردار اور کشف و کرامات کی ایسی ضرب لگائی کہ دلوں کی دُنیا زیر و زبر ہو گئی، اندر چھپی ہوئی کفر و شرک کی غلاظت چھٹتی نظر آئی اور آج پورے پاک و ہند اور بنگلہ دیش میں اسلام کا نام لینے والوں کی جو کھیپ ہے، ان میں زیادہ تر افراد کا وجود خواجہ غریب نواز کی مساعی تبلیغ اور ارشاد و ہدایت کا ہی مرہونِ منت ہے۔‘‘ (برکاتِ خواجہ، مطبوعہ نوری مشن مالیگاؤں)
ہند میں دعوت و تبلیغِ اسلام کا نظام خواجہ غریب نوازکے وجودِ مسعود سے مستحکم ہوا۔ گرچہ آپ کی آمد سے قبل کیرلا، سندھ و گجرات اور بعض علاقوں میں اسلام کی کرنیں پھیل چکی تھیں؛ تاہم مجموعی طور پر پورے ہند میں اسلامی نور خواجہ غریب نواز اور ان کے فیض یافتگان کے توسط سے عام ہوا۔ آپ نے اس نظام میں استحکام کے لیے اپنے خلفا و تلامذہ، مریدین و مسترشدین کو تیار کیا۔ جن کی کاوش ، جدوجہد اور عملی زندگی سے صالح انقلاب برپا ہوا۔ طبیعتیں کشاں کشاں کھنچی چلی آئیں۔ شوریدہ افکار پاکیزہ ہو گئے۔ بجھی بجھی طبیعتیں کھل اُٹھیں۔ خزاں دور ہوئی۔ بہاروں کے جھونکے چلنے لگے۔ جو بادل اجمیر مقدس سے اُٹھے تھے؛ وہ کشورِ ہند پر چھا گئے۔ ابرِ کرم برسا۔ زور برسا۔ ایسا کہ وادیاں جَل تھل ہو گئیں۔
دہلی میں فیضانِ خواجۂ ہند برسا۔ خواجہ قطب الدین بختیار کاکی نے دہلی و نواحِ دہلی میں دعوتی نظام پھیلایا۔ لوگ جوق در جوق تائب ہوتے گئے۔ شرک کی فضا سمٹتی گئی۔ نورِ ایمان بستا گیا۔ خیالات کی وادیاں سیراب ہوئیں۔
خواجہ قطب الدین بختیار کاکی کے فیض یافتہ و خلیفہ خواجہ فرید الدین گنج شکر نے پنجاب و مضافات کو منور کیا۔ ان کے نظام نے بھی اپنے خوش گوار نتائج سے وادیوں کو سرشار کیا۔ خزاں رسیدہ ماحول باغ و بہار ہو گیا۔
حضرت گنج شکر کے خلیفۂ خاص حضرت محبوبِ الٰہی نظام الحق والدین کے ذریعے چشتیت کے جام دہلی سے دور دور پہنچے۔ سمتوں میں فیض کے بادل گھرے۔ شرق و غرب، شمال و جنوب میں فیض کی بارش ہونے لگی۔ بڑے بڑے شرکیہ مراکز میں اوس پڑ گئی۔چراغِ کفر بجھنے لگے۔ شر کے مراکز میں اندھیرا چھا گیا۔ خیر کا غلغلہ ہوا۔ اذانِ سحر گونج گونج اُٹھی۔ وہ علاقے جہاں گھنٹیاں بجتی تھیں؛ فضا گدلی تھی؛ آلودگی چھائی ہوئی تھی؛ یکایک توحید کے نغمے بلند ہونے لگے۔ محبتِ رسول ﷺ کی سوغات بٹنے لگی۔ نعت اقدس کے مصفیٰ اشعار سے فضا مشک بار ہو گئی۔
ہمارے اسلاف نے اِس زمیں کو خونِ جگر سے سینچا۔ یہاں کی بادِ صبا اجمیر مقدس کے فیض سے معمور ہے۔ یہاں کی فضا میں خواجۂ ہند کے سوزِ دروں کا اثر ہے، نالۂ نیم شبی کا ارتعاش ہے۔ یہاں عزم کے اسباق تازہ ہیں، گرچہ پھر یورشِ اقتدارِ شرک ہے۔ لیکن ہمیں فرنگی تخیلات اور شرکیہ افکار کی تہیں چاک کر کے تعلیماتِ خواجۂ ہند سے بزم عرفاں کو سجانا ہے۔ پست ہمتوں کو توانائی اور مایوسی کو یقیں کا توشہ دینا ہے۔ ان شاء اللہ وادی بھی ہماری ہو گی اور گلشن بھی ہمارا؎
خدا اگر دل فطرت شناس دے تجھ کو
سکوتِ لالہ و گل سے کلام پیدا کر
اٹھا نہ شیشہ گرانِ فرنگ کے احساں
سفالِ ہند سے مینا و جام پیدا کر
عزائم کی سیج پر ہمیں اسلامی تعلیمات کافی ہیں۔ یاسیت کے اندھیروں میں ہمیں اسلاف کی حیات کے ابواب سے درسِ عمل ملتا ہے۔ خواجۂ ہند کی تعلیمات کی ترجمانی سفیرانِ عشقِ رسول ﷺ نے ہر عہد میں کی۔ منزل بہ منزل کاروانِ شوق کے سالار کی حیات پڑھ جائیے۔ کیسے کیسے سالار موجود ہیں۔ اِسی ہند میں مخدوم کلیر و مخدوم کچھوچھہ ہیں، خواجہ باقی باللہ ومجدد الفِ ثانی ہیں، فضل حق خیرآبادی و اعلیٰ حضرت بریلوی ہیں،
❤1
Forwarded from فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
سرکارانِ مارہرہ و سرکارِ دیویٰ ہیں، اکابرِ بدایوں و محدثین دہلی ہیں۔ سبھی کاروانِ اسلام کے سپہ سالار اور جانشینانِ سلفِ صالحین ہیں، جن کے دَم قدم سے گلشن کی بہاریں ہیں۔ جن کی تعلیمات میں خواجۂ ہند کا جمال بھی ہے اور مشائخ کرام کا جلال بھی۔ جن کے نقوشِ قدم ہمارے لیے راہِ ہدایت ہیں اور نشانِ منزل ؎
ترے غلاموں کا نقشِ قدم ہے راہِ خدا
وہ کیا بہک سکے جو یہ سراغ لے کے چلے
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
از قلم✍️ غلام مصطفیٰ رضوی، نوری مشن مالیگاؤں مہاراشٹرا
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
ترے غلاموں کا نقشِ قدم ہے راہِ خدا
وہ کیا بہک سکے جو یہ سراغ لے کے چلے
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
از قلم✍️ غلام مصطفیٰ رضوی، نوری مشن مالیگاؤں مہاراشٹرا
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
❤1
Forwarded from فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
📚 « مختصــر ســوانح حیــات » 📚
-----------------------------------------------------------
🕯شیخ الاسلام سلطان الہند خواجہ سید معین الدین حسن چشتی اجمیری رحمۃ اللّٰه علیہ🕯
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
نام و نسب:
اسمِ گرامی: سید محمد حسن۔
کنیت: معین الدین۔
لقب: سلطان الہند ،خواجہ غریب نواز، عطائے رسول، نائب النبی فی الہند معروف ہیں۔
آپ نجیب الطرفین سید ہیں۔
سلسلہ نسب اسطرح ہے: خواجہ معین الدین بن سید غیاث الدین بن سید کمال الدین بن سید احمد حسین۔ (علیہم الرحمہ )
تاریخِ ولادت: آپ ۱۴/ رجب ۵۳۰ھ، بمطابق ۱۱۳۵ء ،میں بمقام "سنجر" (ایران) سید غیاث الدین کے گھر پیدا ہوئے۔ آپکی نشوو نما "خراسان" میں ہوئی۔
تحصیلِ علم: ابتدائی تعلیم اپنے گھر پر ہوئی۔ مزید حصول ِ علم کیلئے "سمرقند" اور "بخارا" کیطرف سفر کیا کیونکہ ان ایام میں یہی بلاد علوم و فنون کے مراکز تھے۔ حفظ القرآن ،اور چند ابتدائی علوم و فنون کی کتب مولانا شرف الدین علیہ الرحمہ سے پڑھیں۔ جمیع علومِ نقلیہ و عقلیہ کی تکمیل مولانا حسام الدین بخاری علیہ الرحمہ ہوئی۔
بیعت و خلافت: شیخ الاسلام حضرت خواجہ عثمان ہارونی علیہ الرحمہ سے ۵۵۸ھ میں بیعت و خلافت حاصل ہوئی۔
سیرت و خصائص: حضرت سلطان الہند محسن ہند ہیں۔برصغیر میں اسلام کی دلکش بہاریں آپ کی دعوت و تبلیغ اور رشد و ہدایت کا نتیجہ ہیں۔ آپ کے خلفاء و متوسلین خاکِ ہند کے جس خطے پر پہنچے، اسلام کا بول بالا ہوتا چلا گیا۔ نورِ ہدایت پھیلتا چلا گیا اور کفر کا اندھیرا چھٹتا چلا گیا۔ آپ کی کرامت آثار نگاہ ِفیض سے بالکل پہلی بار دہلی اور اجمیر کے ایوانوں میں مسلمانوں کی حکومت کا پرچم لہرایا۔
سیر الاولیاء کے مصنف سید کرمانی (م ۷۷۰ھ ) رقم طراز ہیں!
اس آفتاب (خواجہ ) کے طلوع ہونے سے قبل پورے ہندستان میں کفر و بت پرستی کا رواج تھا اور ہند کا ہر سر کش "انا ربکم الاعلٰی" کا دعوی کرتا تھا، اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کا شریک کہتا تھا، وہ پتھر، ڈھیلے، گھر، درخت ، چوپایوں اور گائے اور ان کے گوبر کو سجدہ کرتے تھے۔اور کفر کی تاریکی سے ان کے دلوں کے تالے اور بھی مضبوط ہو رہے تھے۔ اہل یقین کے اس آفتاب کے مبارک قدموں کی برکت سے جو رد حقیقت معین الدین تھے، اس ملک کی تاریکی اسلام کے نور سے جگمگا اٹھی۔
[سیر الاولیاء ص ۴۷]
آپ کی نگاہِ ولایت جس شخص پر پڑتی دل کی دنیا بدل جاتی، رہزن آتا رہبر بن جاتا ، قاتل آتا محافظ بن جاتا، سرکش آتا غلام بن جاتا، کافر آتا مسلمان بن جاتا، فاسق آتا متقی بن جاتا، دشمن آتا حاشیہ بردار بن جاتا، جادوگر آتا تائب ہوکر عاملِ قرآن بن جاتا۔ رسالہ "احوال پیران ِچشت" میں ہے:
‘‘نظر شیخ معین الدین بر فاسق کہ افتادے در زمان تائب شدے ، باز دگر معصیت نہ کردے’’ یعنی حضرت خواجہ معین الدین چشتی کی نگاہ جس فاسق پر پڑجاتی اسی وقت توبہ کرلیتا اور پھر گناہ کے قریب نہ بھٹکتا۔
علامہ حسن رضا بریلوی فرماتے ہیں!
خفتگانِ شب ِغفلت کوجگا دیتا ہے
سالہا سال وہ راتوں کو نہ سونا تیرا
حضرت سلطان الہند نے ہندوستان میں بلاشبہ کفر شکن تحریک برپا کی تھی۔ جو کام ہزاروں تلواریں نہیں کر سکیں، وہ ایک عارف باللہ کی خاموش اور اخلاقی تحریک نے کر دکھایا۔ آپکی کوششوں سے ہندوستان "دارا لاسلام" بن گیا۔
وصال: سلطان الہند کا وصال پر ملال ۶/رجب المرجب۶۳۳ ھ ،بمطابق ۱۲۲۹ء میں ہوا۔ وقتِ وصال آپ کی مقدس پیشانی پر یہ نقشِ جمیل ظاہر ہوا:
ھذا حبیب اللہ مات فی حب اللہ ۔
[اخبارالا خیار،ص،۶۶]
آپکا مزار اجمیر شریف (انڈیا) میں منبع فیوض و برکات ہے۔
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
المرتب⬅ محـمد یـوسـف رضـا رضـوی امجـدی نائب مدیر "فیضـانِ دارالعـلوم امجـدیہ ناگپور گروپ" 9604397443
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
-----------------------------------------------------------
🕯شیخ الاسلام سلطان الہند خواجہ سید معین الدین حسن چشتی اجمیری رحمۃ اللّٰه علیہ🕯
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
نام و نسب:
اسمِ گرامی: سید محمد حسن۔
کنیت: معین الدین۔
لقب: سلطان الہند ،خواجہ غریب نواز، عطائے رسول، نائب النبی فی الہند معروف ہیں۔
آپ نجیب الطرفین سید ہیں۔
سلسلہ نسب اسطرح ہے: خواجہ معین الدین بن سید غیاث الدین بن سید کمال الدین بن سید احمد حسین۔ (علیہم الرحمہ )
تاریخِ ولادت: آپ ۱۴/ رجب ۵۳۰ھ، بمطابق ۱۱۳۵ء ،میں بمقام "سنجر" (ایران) سید غیاث الدین کے گھر پیدا ہوئے۔ آپکی نشوو نما "خراسان" میں ہوئی۔
تحصیلِ علم: ابتدائی تعلیم اپنے گھر پر ہوئی۔ مزید حصول ِ علم کیلئے "سمرقند" اور "بخارا" کیطرف سفر کیا کیونکہ ان ایام میں یہی بلاد علوم و فنون کے مراکز تھے۔ حفظ القرآن ،اور چند ابتدائی علوم و فنون کی کتب مولانا شرف الدین علیہ الرحمہ سے پڑھیں۔ جمیع علومِ نقلیہ و عقلیہ کی تکمیل مولانا حسام الدین بخاری علیہ الرحمہ ہوئی۔
بیعت و خلافت: شیخ الاسلام حضرت خواجہ عثمان ہارونی علیہ الرحمہ سے ۵۵۸ھ میں بیعت و خلافت حاصل ہوئی۔
سیرت و خصائص: حضرت سلطان الہند محسن ہند ہیں۔برصغیر میں اسلام کی دلکش بہاریں آپ کی دعوت و تبلیغ اور رشد و ہدایت کا نتیجہ ہیں۔ آپ کے خلفاء و متوسلین خاکِ ہند کے جس خطے پر پہنچے، اسلام کا بول بالا ہوتا چلا گیا۔ نورِ ہدایت پھیلتا چلا گیا اور کفر کا اندھیرا چھٹتا چلا گیا۔ آپ کی کرامت آثار نگاہ ِفیض سے بالکل پہلی بار دہلی اور اجمیر کے ایوانوں میں مسلمانوں کی حکومت کا پرچم لہرایا۔
سیر الاولیاء کے مصنف سید کرمانی (م ۷۷۰ھ ) رقم طراز ہیں!
اس آفتاب (خواجہ ) کے طلوع ہونے سے قبل پورے ہندستان میں کفر و بت پرستی کا رواج تھا اور ہند کا ہر سر کش "انا ربکم الاعلٰی" کا دعوی کرتا تھا، اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کا شریک کہتا تھا، وہ پتھر، ڈھیلے، گھر، درخت ، چوپایوں اور گائے اور ان کے گوبر کو سجدہ کرتے تھے۔اور کفر کی تاریکی سے ان کے دلوں کے تالے اور بھی مضبوط ہو رہے تھے۔ اہل یقین کے اس آفتاب کے مبارک قدموں کی برکت سے جو رد حقیقت معین الدین تھے، اس ملک کی تاریکی اسلام کے نور سے جگمگا اٹھی۔
[سیر الاولیاء ص ۴۷]
آپ کی نگاہِ ولایت جس شخص پر پڑتی دل کی دنیا بدل جاتی، رہزن آتا رہبر بن جاتا ، قاتل آتا محافظ بن جاتا، سرکش آتا غلام بن جاتا، کافر آتا مسلمان بن جاتا، فاسق آتا متقی بن جاتا، دشمن آتا حاشیہ بردار بن جاتا، جادوگر آتا تائب ہوکر عاملِ قرآن بن جاتا۔ رسالہ "احوال پیران ِچشت" میں ہے:
‘‘نظر شیخ معین الدین بر فاسق کہ افتادے در زمان تائب شدے ، باز دگر معصیت نہ کردے’’ یعنی حضرت خواجہ معین الدین چشتی کی نگاہ جس فاسق پر پڑجاتی اسی وقت توبہ کرلیتا اور پھر گناہ کے قریب نہ بھٹکتا۔
علامہ حسن رضا بریلوی فرماتے ہیں!
خفتگانِ شب ِغفلت کوجگا دیتا ہے
سالہا سال وہ راتوں کو نہ سونا تیرا
حضرت سلطان الہند نے ہندوستان میں بلاشبہ کفر شکن تحریک برپا کی تھی۔ جو کام ہزاروں تلواریں نہیں کر سکیں، وہ ایک عارف باللہ کی خاموش اور اخلاقی تحریک نے کر دکھایا۔ آپکی کوششوں سے ہندوستان "دارا لاسلام" بن گیا۔
وصال: سلطان الہند کا وصال پر ملال ۶/رجب المرجب۶۳۳ ھ ،بمطابق ۱۲۲۹ء میں ہوا۔ وقتِ وصال آپ کی مقدس پیشانی پر یہ نقشِ جمیل ظاہر ہوا:
ھذا حبیب اللہ مات فی حب اللہ ۔
[اخبارالا خیار،ص،۶۶]
آپکا مزار اجمیر شریف (انڈیا) میں منبع فیوض و برکات ہے۔
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
المرتب⬅ محـمد یـوسـف رضـا رضـوی امجـدی نائب مدیر "فیضـانِ دارالعـلوم امجـدیہ ناگپور گروپ" 9604397443
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
#فیضان_خواجہ_غریب_نواز ❶ خواجہ معین الدین چشتیاجمیری رَضِیَ الـلّٰـهُ تَـبَـارَڪَ وَ تَـعَـالیٰ عَـنۡـهٗ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬ ولادت 14 رجب | وصال 6 رجب روضہ مبارکہ خواجہ غریب نواز مختصر حیات خواجہ غریب نواز मुख़्तस़र सवानेह़ ग़रीब नवाज़ سوانح حیات خواجہ غریب نواز…
#فیضان_خواجہ_غریب_نواز ⓭
خواجہ معین الدین چشتیاجمیری
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَـبَـارَڪَ وَ تَـعَـالیٰ عَـنۡـهٗ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
ولادت 14 رجب المرجب 537 ھ
وصال 6 رجب المرجب 627 ھ
نعرۂ چشتی: یا خواجہ غریب نواز
Urse KGN = Urse Khwaja Ghareeb Nawaz Khoob Khoob Mubarak Ho 💐
تمام سنیوں کو عرس KGN خوب خوب مبارک ہو 💐 عرس خواجہ غریب نواز رضی الله عنه 🌹❤️💐
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
سیرت خواجہ غریب نواز پر کتب
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/12652
خواجہ معین الدین چشتیاجمیری
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَـبَـارَڪَ وَ تَـعَـالیٰ عَـنۡـهٗ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
ولادت 14 رجب المرجب 537 ھ
وصال 6 رجب المرجب 627 ھ
نعرۂ چشتی: یا خواجہ غریب نواز
Urse KGN = Urse Khwaja Ghareeb Nawaz Khoob Khoob Mubarak Ho 💐
تمام سنیوں کو عرس KGN خوب خوب مبارک ہو 💐 عرس خواجہ غریب نواز رضی الله عنه 🌹❤️💐
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
سیرت خواجہ غریب نواز پر کتب
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/12652
❤1