🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Mutafarriq Masail Post No : 07

دربارِ خواجہ غریب نواز میں
اعلٰی حضرت کی حاضری 💐


مجدد دین و ملت اعلٰی حضرت فاضل ہندوستان مولانا امام احمد رضا خاں صاحب قدس سرہٗ العزیز [وصال۱۳۴۰ھ/۱۹۲۱ء] بھی دو بار دربارِ خواجہ غریب نواز میں حاضر ہوئے ہیں۔ دوسری حاضری اعلٰی حضرت قدس سرہٗ کی خاص طور پر قابل ذِکر ہے۔ آپ ۱۳۲۵ھ میں حج و زیارت کی سعادت حاصل کر کے جب ساحلِ ہندوستان پر اُترے تو آپ کے فدائی مختلف بلاد وامصار سے آپ کولینے بمبئی پہنچ گئے تھے۔ علاوہ وطن کے اور بھی کئی جگہ سے تار دیے گئے کہ آپ ہمارے وطن کو اپنے قدومِ والا سے منور فرما دیں۔آپ نے کسی کی نہ سُنی، آپ سیدھے خواجہ غریب نواز کے آستانہ پر حاضر ہوئے؛ اور خواجۂ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی درباری حاضری کے بعد آپ نے ان کے شاہزادے حضرت خواجۂ ہند کے دربار میں حاضری دی۔ یہ حاضری ایسی عقیدت و محبت کی حامل تھی کہ ہم خدامِ آستانہ اور تمام مسلمانانِ اجمیر کے دلوں پر نقش ہوگئی۔ آج تک ہم خدام میں اس حاضری کے چرچے ہوتے ہیں۔ یہی وجہ تھی کہ جب اعلٰی حضرت فاضل ہندوستان کا صفر ۱۳۴۰ھ میں وصال ہوا، اورآستانہ پر ان کے وصال کی خبر پہنچی تو… اجمیر شریف کے سارے مسلمانوں نے کافی تعداد میں جمع ہو کر قرآن اور کلمۂ طیبہ سے ایصالِ ثواب کیا ۔اور اس کے بعد علماء مقررین نے ان کے زرّین کا رنامے حاضرین کے سامنے پیش کیے۔ اور دُنیائے اجمیر کو یہ بتایا کہ اعلٰی حضرت قدس سرہٗ کی علمی فوقیت کو آج دُنیائے اسلام مانتی ہے۔ علماے عرب و عجم ان کو اس صدی کا مجدد اور تمام علوم و فنون کا ماہر اور یگانۂ روزگار مانے ہوئے ہیں۔ان کا شعبۂ حیات اتباعِ سنت کی وجہ سے اسلامی زندگی کا ایک بہترین نمونہ ہے۔اور ان کے مذہبی رسائل اور کتابیں عقائد و اعمال کا -قولِ فیصل- اور- شریعتِ مطہرہ کا اس دور میں آخری فتویٰ ہیں- غرض کہ اس موقع پر مسلمانانِ اجمیر اور دیگر زائرین نے بڑی عقیدت مندی کا اظہار کیا ۔جو ایک زمانہ تک یادگار رہے گا۔

از: مولانا سید حسین علی چشتی اجمیری علیہ الرحمہ
(وکیلِ جاورہ دربارِ غریب نواز علیہ الرحمہ اجمیر شریف)

[دربارِ چشت،مطبوعہ نوری مشن مالیگاؤں ۲۰۱۵ء، ص۳۳ ]

*گستاخ جماعتوں نے دنیا کو نفرت کی راہ دی ہے، سلطان الہند خواجہ غریب نواز نے محبت کی تعلیم دی۔ نفرت والوں سے بچئے اور محبت عام کیجئے۔*

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=396778310677613&id=100010363424693

🤲 طالب دعاء 🤲
ڈاکٹر غلام مرسلین رضوی ناگپور
👍2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
*📚 « مختصــر ســوانح حیــات » 📚*
-----------------------------------------------------------
*🕯شیخ الاسلام حضرت خواجہ عثمان ہارونی رحمۃ اللّٰه علیہ🕯*


*نام و نسب:*
*اسم گرامی:* حضرت خواجہ عثمان ہارونی رحمۃ اللّٰه علیہ۔
*کنیت:* ابو النور۔
*لقب:* شیخ الاسلام۔
*سلسلہ نسب:* آپ کا سلسلہ نسب گیارہویں پشت میں حضرت مولا علی شیر خدا رضی ﷲ عنہ تک پہنچتا ہے۔
*(سیرتِ خواجہ غریب نواز:42)*

*تاریخِ ولادت:* آپ کی ولادت باسعادت اکثر مؤرخین کے نزدیک 536ھ، کو قصبہ ’’ہارون یا ہرون‘‘ خراسان میں ہوئی۔
*(اہل سنت کی آواز، خانقاہ برکاتیہ مارہرہ مطہرہ 2008ء/1429ھ، صفحہ:200)*

*ہارون یا ہروَن:* اس مقام کی وجہ سے حضرت خواجہ رحمۃ اللّٰه علیہ کو ’’ہارونی‘‘ کہا جاتا ہے۔
اس مقام کا اصل نام کیا ہے:
بعض ہروَن اور اکثر ہارون کہتے ہیں۔ خیر المجالس میں ہے: ’’صحیح تو ہَرونی ہے لیکن عوام و خواص کی قلم و زبان پر ’ہارونی‘ چڑھا ہوا ہے‘‘۔ بہت مشہور دعائیہ شعر ہے۔

؏:بحق خواجۂ عثمان ہاروں
مدد کن یا معین الدین چشتی
(ایضا:201)

*تحصیلِ علم:* آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے والد ماجد سے حاصل کی پھر اعلیٰ تعلیم کے لیے نیشاپور تشریف لے گئے۔ وہاں مشاہیر علماء و فضلاء کی سرپرستی میں علوم و فنون حاصل کیے۔ آپ کے سوانح نگاروں نے لکھا ہے کہ "آپ کا خاندان چوں کہ عمدہ تہذیب و تمدن کا گہوارہ اور علم دوست تھا۔ والد ماجد بھی جید عالم تھے، اس لیے شعور کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی علم کی طرف راغب ہو گئے اور والد ماجد کی بارگاہ میں رہ کر ابتدائی تعلیم حاصل کی، قرآن شریف حفظ کیا، پھر اعلیٰ تعلیم کے لیے اس زمانے کے علمی و فنی مرکز نیشاپور کا رخ کیا اور وقت کے مشاہیر علماء و فضلا سے اکتساب علم کر کے جملہ علوم مروجہ و متداولہ میں دسترس حاصل کی۔ جلد ہی آپ کا شمار وقت کے علماء و فضلاء میں ہونے لگا۔

*بیعت و خلافت:* ظاہری علوم کی تکمیل اس مرد باصفا کی آخری منزل نہ تھی۔ اس لئے علوم باطنیہ کی تحصیل کاعزم مصمم کیا اللہ جل شانہ نے آپ کے پرخلوص ارادے کی بدولت امام الاولیاء، قطب الاقطاب سرتاج سلسلہ عالیہ چشتیہ بہشتیہ حضرت خواجہ محمد شریف زندنی رحمہ اللّٰه کی خانقاہ معلیٰ میں پہنچا دیا۔
سلسلہ عالیہ چشتیہ میں ان کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے، اور ان کی خدمت میں رہ کر سلوک کی منازل طے کرنے لگے۔عبادت و ریاضت اور مجاہدۂ و مکاشفہ نے جب کندن بنا دیا تو نگاہ ِمرشد نے منصبِ خلافت کےلئے منتخب فرما لیا۔ سلسلہ عالیہ چشتیہ کی خلافت سے سرفراز ہوئے۔ اسی طرح حضرت خواجہ مودود چشتی رحمۃ اللّٰه علیہ سے بھی فیض یاب ہوئے۔(ایضا:202)

*سیرت و خصائص:* قطب الاقطاب، ناصرالاسلام، عارف اسرار رحمانی، واصل ذاتِ باری، محبوب صاحب ِلامکانی، شیخ الاسلام حضرت خواجہ محمد عثمان ہارونی رحمۃ اللّٰہ علیہ۔
آپ علیہ الرحمہ کا شمار اکابرین ِ امت اور کبار اولیاءِ کرام و مشائخِ عظام میں ہوتا ہے۔ علوم ظاہریہ و علوم باطنیہ ،شریعت و طریقت، تصوف و معرفت میں مجمع البحرین تھے۔ تاریخِ مشائخِ چشت میں ہے: ’’در علم ِ شریعت و طریقت و حقیقت اعلم بود‘‘۔
*(بہارِ چشت:77)*

صاحب سبع سنابل حضرت میر سید عبد الواحد بلگرامی رحمۃ اللّٰه علیہ نے بیعت و خلافت کا تذکرہ یوں فرمایا ہے لکھتے ہیں:
حضرت خواجہ عثمان ہارونی رحمۃ اللہ علیہ کی عمر کافی تھی، آپ نے سفر بھی بہت کیے، جب حضرت خواجہ شریف زندنی رحمہ اللّٰه کی خدمت میں پہنچے تو عرض کی:
بندہ عثمان کی تمنا ہے کہ حضور والا کے مریدوں میں شمار کیا جائے۔ خواجہ شریف زندنی نے قبول کیا، خلافت کی کلاہ چار ترکی عنایت کی، قینچی (بالوں پر) چلائی اور فرمایا: مصطفیٰ ﷺنے کلاہ چار ترکی استعمال فرمائی ہے، تمام کائنات کو خدا کی محبت میں چھوڑ کر فقر و فاقہ اختیار فرمایا ہے، فقیروں اور غریبوں سے محبت رکھی ہے، لہذا جو شخص کلاہ چار ترکی سر پر رکھے، اسے چاہیے کہ مصطفیٰ ﷺ کی پیروی کرے اور ہر شخص کو اپنے سے برتر جانے۔ جو شخص تکبر اختیار کرے اور اپنی فوقیت چاہے وہ درویش نہیں، نفس پرست ہے۔ راہ نما نہیں راہزن ہے۔ مشائخ کے خرقے کے لائق نہیں وہ چور ہے۔اہل نعمت نہیں بے نصیب ہے۔ مشائخ اس سے بے زار ہیں۔درویشی کا لباس اس پر حرام ہے۔ اسے خرقہ پہنانا جائز نہیں اور نہ کلاہ چار ترکی سر پر رکھنا اور مرید کرنا۔
خواجہ عثمان ہارونی رحمۃ اللّٰہ علیہ نے شیخ کی نصیحت قبول کی اور گوشہ نشیں ہو کر ذکر لا الٰہ الا اللہ میں مشغول ہو گئے۔ تین برس کے بعد خواجہ شریف زندنی نے خلافت کی کملی پہنائی اور فرمایا:
اے عثمان! تمھیں میں نے پیدا کرنے والے کی بارگاہ میں پیش کیا۔ تمھیں پسند کیا گیا ہے پھر خواجہ شریف زندنی رحمہ اللّٰه نے اسم اعظم جسے اپنے مرشد سے حاصل کیا تھا، خواجہ عثمان کو سکھادیا، جس سے علم معرفت کے اسرار اور شریعت و طریقت و حقیقت کے رموز آپ پر منکشف ہو گئے۔
*(سبع سنابل:434)*

*عبادت و ریاضت:* خواجہ عثمان ہارنی علیہ الرحمہ صاحب ِریاضت
و مجاہدہ تھے۔ قرآن مجید کے حافظ تھے۔ روزانہ ایک قرآن شریف کی تلاوت کرتے۔سترسال کی مدت تک کسی وقت نفس کو پیٹ بھر کھانا پانی نہ دیا۔ رات کو نہ سوئے، تین چار روز کے بعد روزہ رکھتے، کبھی کبھی چار پانچ ہی لقمے پر اکتفا کر لیتے۔
حضرت میر عبد الواحد بلگرامی علیہ الرحمہ ان کا تذکرہ یوں فرماتے ہیں:
"خواجہ عثمان ہارونی رحمۃ اللّٰہ علیہ نے دس سال تک خود کو کھانا نہ دیا۔ آپ سات روز کے بعد ایک گھونٹ پانی پیتے، اور عرض کرتے:
خدایا! ہمیں نفس کے ظلم سے بچا، نفس مجھ پر غالب آنا چاہتا ہے۔ مجھ سے پانی مانگتا ہے تو میں ایک گھونٹ منہ بھر دیتا ہوں۔
خواجہ عثمان ہارونی سماع میں بہت روتے کبھی کبھی زرد پڑ جاتے۔ آنکھوں کا پانی خشک ہو جاتا، جسم مبارک میں خون نہ رہتا۔ ایک زوردار نعرہ لگاتے اور آپ پر وجد طاری ہو جاتا۔
جب خواجہ عثمان ہارونی نماز ادا کر لیتے تو غیب سے آواز آتی کہ ہم نے تمھاری نماز پسند کی۔ مانگو کیا مانگتے ہو؟
خواجہ صاحب عرض کرتے: خدایا! میں تجھے چاہتا ہوں۔ آواز آتی کہ عثمان! میں نے جمال لا زوال تمھارے نصیب کیا، کچھ اور مانگو کیا مانگتے ہو؟ عرض کرتے : الٰہی! مصطفیٰ کریم ﷺکی امت کے گناہ گاروں کو بخش دے۔
آواز آتی کہ امت محمد ﷺ کے تیس ہزار گناہ گار تمھاری وجہ سے بخش دیے، آپ کو پانچوں وقت یہ بشارت ملتی تھی۔
*(اہل سنت کی آواز:204)*

حضرت خواجہ عثمان ہارونی رحمۃ اللّٰه علیہ نے طویل سفر کے بعد مکۃ لمکرمہ جاکر معتکف ہوگئے۔ آپ نےحق تعالیٰ سے آخری عمر میں دو خصوصی دعائیں مانگی تھیں۔ ایک یہ کہ میری قبر مکۃ المعظمہ میں ہو اور اس کا نشان باقی رہے تاکہ لوگ فاتحہ کا ایصال ثواب کرتے رہیں۔ کیونکہ کثرت کی وجہ سے وہاں قبروں کا نشان نہیں رکھتے تھے۔ دوسری دعا آپ نے یہ مانگی تھی کہ میرے روحانی فرزند معین الدین نے مدت دراز تک مقام تجرید و تفرید میں بندہ کی خدمت کی ہے اسے وہ ولایت عطا فرما کہ کسی اور کو اس قسم کی ولایت عطا نہ ہوئی ہو۔ ہاتف نے آواز دی کہ تمھاری قبر مکہ میں ہوگی اور اس کا نشان کوئی نہ مٹا سکےگا، اور معین الدین کو ہندوستان کی وہ ولایت عطا ہوگی کہ جو آج تک ہم نے کسی کو نہیں دی۔لیکن انہیں چاہئے کہ پہلے مدینۃ المنورہ جائیں اور محمدﷺ کی اجازت سے ہند کی ولایت میں جاکر تصرف کریں۔
پس حضرت خواجہ عثمان رحمۃ اللّٰه علیہ نے اجابتِ دعا پر سجدۂ شکر ادا کیا۔
*(ایضا:204 بحوالہ مرآۃ الاسرار:561)*

آپ سراپا فضل و کرامت تھے۔جس پہ ایک نگاہ ڈالتے بس ایک ہی نگاہ میں اس کا باطن سنوار کر ولایت کے مقام پر فائز کر دیتے۔ کتنے کفار آپ کے دست اقدس پر مشرف بااسلام ہوئے۔بےشمار فجار و فساق تائب ہوئے۔بہت سے ولایت کے مناصب علیا پر فائز ہوئے۔ ایک مقام پر آپ تشریف لےگئے وہاں مجوسی تھے۔ وہ آگ کی پوجا کر رہے تھے۔ آپ نے انہیں دعوت توحید دی۔ انہوں نے انکارکیا۔ آپ ان کا ایک چھوٹا بچہ لےکر آگ میں داخل ہوگئے آگ نے کچھ نہیں کہا بلکہ وہ گلزار ہوگئی۔ بہت دیر تک آگ میں رہے۔ جب باہر تشریف لائے تو سارے مجوسی مسلمان ہوگئے۔ آپ کی سب سے بڑی کرامت سلطان الہند عطائے رسول حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللّٰه علیہ کی ذات گرامی ہے۔
اسی طرح شیخ الاسلام حضرت شیخ نجم الدین صغریٰ رحمہ اللّٰه، ایسے نفوس قدسیہ جن کی تبلیغ سے لاکھوں غیر مسلم مشرف بااسلام ہوئے۔
آپ کے ملفوظات ’’انیس الارواح‘‘ کے نام سے حضرت خواجہ غریب نواز رحمۃ اللّٰه علیہ نے جمع فرمائے ہیں۔ اسی طرح اللہ جل شانہ نے آپ کو ذوق شاعری بھی عطا فرمایا تھا۔
؏: نمی دانم کہ آخر چوں دمِ دیدار می رقصم
مگر نازم بایں ذوق کہ پیشِ یار می رقصم

آپ کا مشہور ِزمانہ کلام ہے۔

*تاریخِ وصال:* آپ کا وصال 5/شوال المکرم 617ھ مطابق 3/دسمبر 1220ء کو مکۃ المکرمہ میں ہوا۔ آپ کی قبر انور شریف حسین کے محل کے احاطے میں واقع ہے۔ قبر آج تک محفوظ ہے، اور اس کے گرد لکڑی کا چبوترہ ہے۔ یہ آپ کی دعا کا اثر ہے کہ نجدی و وہابی حکومت بھی آپ کی قبر کا نشان نہ مٹا سکی۔
*(انسائیکلو پیڈیا اولیاء کرام جلد نمبر 6۔*)

*ماخذ و مراجع:* سبع سنابل شریف۔ اہل سنت کی آواز مارہرہ مطہرہ2008ء۔ بہار چشت۔انسائیکلو پیدیا اولیاء کرام۔


*المرتب محــمد یـوسـف رضــا رضــوی امجــدی 📱919604397443*
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
*📚 « امجــــدی مضــــامین » 📚*
-----------------------------------------------------------
*🕯فضائل ماہ رجب المرجب🕯*

قِسط نمبـــــر 4

📬 رجب کے کونڈے:
صَدرُالشَّریعہ،بَدرُالطَّریقہ حضرتِ علّامہ مولانامفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں:ماہِ رجب میں بعض جگہ حضرتِ( سَیِّدُنا )امام جعفر صادِق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو ایصالِ ثواب کے لیے پور یوں کے کونڈے بھرے جاتے ہیں یہ بھی جائز مگر اس میں بھی اسی جگہ کھانے کی بعضوں نے پابندی کررکھی ہے یہ بے جا پابندی ہے۔ اس کونڈے کے متعلق ایک کتاب بھی ہے جس کا نام ’’داستانِ عجیب‘‘ ہے، اس موقع پر بعض لوگ اس کو پڑھواتے ہیں اس میں جو کچھ لکھا ہے اس کا کوئی ثبو ت نہیں وہ نہ پڑھی جائے فاتحہ دلا کر ایصالِ ثواب کریں۔(بہارِشریعت ج ۳ص۶۴۳)
اِسی طرح ’’دس بیبیوں کی کہانی،‘‘ ’’لکڑہارے کی کہانی‘‘ اور’’ جنابِ سیِّدہ کی کہانی‘‘ سب من گھڑت قِصّے ہیں ان کو نہ پڑھا کریں، اِس کے بجائے ایک بار سُوْرَۂ یٰسٓ پڑھ لیا کریں کہ دس قراٰنِ کریم ختم کرنے کا ثواب ملے گا ۔یہ بھی یاد رہے کہ کونڈے ہی میں کھیر کھانا ،کھلانا ضَروری نہیں، دوسرے برتن میں بھی کھا اور کھلا سکتے ہیں ۔ ایصالِ ثواب(یعنی ثواب پہنچانا) قراٰنِ کریم و احادیثِ مبارَکہ سے ثابت ہے ، ایصالِ ثواب دُعا کے ذریعے بھی کیاجاسکتا ہے اور کھاناوغیرہ پکا کر اُس پر فاتحہ دلا کر بھی ۔ کونڈوں کی نیاز بھی ایصالِ ثواب ہی کی ایک صورت ہے اِس کو ناجائز کہنا شریعت پر اِفترا (یعنی تہمت باندھنا) ہے۔ ناجائز کہنے والے پارہ 7 سُوْرَۃُ الْمَائِدہکی آیت نمبر87میں بیان کردہ حکمِ الٰہی سے عبرت پکڑیں چنانچِہ ارشاد ہوتا ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُحَرِّمُوْا طَیِّبٰتِ مَاۤ اَحَلَّ اللّٰهُ لَكُمْ وَ لَا تَعْتَدُوْاؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ(۸۷)
ترجَمۂ کنزالایمان:اے ایمان والو!حرام نہ ٹھہرا ؤ وہ ستھری چیزیں کہ اللہ نے تمہارے لئے حلال کیں اور حد سے نہ بڑھو۔ بے شک حد سے بڑھنے والےاللہ کوناپسند ہیں ۔

’’رَجَب کے کونڈے ‘‘کِس تاریخ کو کریں؟
پورے ماہِ رَجب میں بلکہ سارے سال میں جب چاہیں ایصالِ ثواب کیلئے کونڈوں کی نیاز کر سکتے ہیں، البتّہ مناسب یہ ہے کہ 15 رَجَبُ المُرَجَّب کو ’’ رَجب کے کونڈے‘‘ کئے جائیں کیوں کہ یہ آپ کا یومِ عُرس ہے جیسا کہ فتاوٰی فقیہِ ملّت جلد 2 صَفْحَہ 265 پر ہے:’’حضرتِ (سَیِّدُنا ) امام جعفرِ صادِق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی نیاز 15رجب کو کریں کہ حضرت کا وصال 15 ہی کو ہواہے۔‘‘نیز مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ کتاب شرحِ شجرۂ قادریہ ‘‘ صَفْحَہ59پر ہے:آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو68برس کی عمر میں([1]) 15 رَجَبُ المُرَجَّب([2]) ۱۴۸؁ھ کو کسی شَقِیُّ الْقَلْب(یعنی سنگ دل۔ظالم)نے زہر دیاجو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی شہادت کا سبب بنا ۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا مزارِ اقدس جنَّتُ الْبقیع (مدینۃُ المنوّرہ)میں والد محترم حضرت سیِّدُنا امام محمد باقِر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے پہلو میں ہے ۔ اللّٰہ ربُّ العزّت عَزَّ وَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور اُن کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو۔اٰمِین بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
کھانا کھلانے کے ذریعے ایصالِ ثواب کرنا سنّتِ صحابہ ہے اور رجب کے کونڈے میں بھی غذا یعنی کھانے ہی کی چیز ہوتی ہے جو کہ ایصالِ ثواب کیلئے کھلائی جاتی ہے۔
چُنانچِہ صَحابہ سات دن تک ایصالِ ثواب کرتے
حضرتِ علّامہ جلالُ الدّین سُیُوطِی شافِعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی نقل فرماتے ہیں کہ صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان سات روز تک وفات پاجانے والوں کی طرف سے کھانا کھلایا کرتے تھے ۔
(اَلْحاوِی لِلْفَتاوِی لِلسُّیُوطی ج۲ص۲۲۳)

صحابی نے ماں کی طرف سے باغ صدقہ کر دیا:
بخاری شریف میں ہے:حضرتِ سیِّدُنا سعد بن عُبادہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی امّی جان کا انتقال ہوا توانہوں نے بارگاہ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ میں حاضر ہو کر عرض کی: یَارَسُولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ! میری امّی جان کا میری غیر موجودگی میں انتقال ہو گیا ہے ،اگر میں ان کی طرف سے کچھ صَدَقہ کروں تو کیا انہیں کوئی فائدہ پہنچ سکتا ہے؟ ارشاد فرمایا: ہاں ، عرض کی: تو میں آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میر ا باغ ان کی طرف سے صَدَقہ ہے ۔ ( بُخاری ج۲ص ۲۴۱ حدیث۲۷۶۲)
معلوم ہو ا کھانا کھلانے کے علاوہ باغ یعنی مال خرچ کرنے کے ذَرِیعے بھی ایصالِ ثواب جائز ہے اور کونڈے شریف کی نیاز بھی مالی ایصالِ ثواب میں شامل ہے۔میرے آقااعلیٰ حضرت امام اَحمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں:امواتِ مسلمین (یعنی مرحومین)کے نام پر کھانا پکاکر ایصالِ ثواب کے لئے تَصَدُّق(یعنی خیرات) کرنا بلا شبہ جائز ومُسْتَحسَن(یعنی پسندیدہ)ہے اور اس پر فاتحہ (کے ذریعے )سے ایصالِ ثواب (کرنا) دوسرا مُسْتَحسَن(یعنی پسندیدہ)ہے اور دوچیزوں کا جمع کرنا زِیادتِ خیر(یعنی بھلائی میں اِضافہ) ہے(فتاوٰی رضویہ مُخَرَّجہ ج۹ ص۵۹۵)
ہر شخص کو افضل یہی کہ جو عملِ صالح (یعنی جو بھی نیک کام)کرے اُس کا ثواب اوّلین وآخِرین اَحیاء واَموات (یعنی سیِّدُنا آدم صَفِیُّ اللّٰہ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام سے لے کر تا قیامت ہونے والے)تمام مؤمنین ومؤمِنات کے لیے ہدِیَّہ(ہَ۔دی۔یہ) بھیجے (یعنی ایصالِ ثواب کرے)، سب کو ثواب پہنچے گااور اُسے(یعنی جس نے ایصالِ ثواب کیا)اُن سب کے برابر اجرملے گا۔(ایضاً ص۶۱۷) ایصالِ ثواب اچّھی نیّت سے کیا جائے اس میںنُمود و نمائش (یعنی دِکھاوا ) مقصود نہ ہو، نہ اس کی اُجرت اور مُعاوَضہ لیا گیا ہو، ورنہ نہ ثواب ہے نہ ایصالِ ثواب۔ یعنی جب ثواب ہی نہ ملا تو پہنچے گا کیسے!(ماخوذاز بہار شریعت ج۱ ص۱۲۰۱ ج۳ ص۶۴۳)

قِسط جاری۔۔۔
https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp

*پیشکش📮فیضــان دارالعــلوم امجــدیہ ناگپور گروپ 966551830750+*
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🕯ملفوظاتِ خواجہ غریب نواز🕯


اللہ کریم کے جن نیک بندوں نے اصلاحِ اُمّت اور اشاعتِ اسلام کے لئے اپنی زندگیاں وقف کیں،ان میں ایک بڑا نام سلطانُ الہند،خواجہ غریب نواز حضرت سیّد معینُ الدّین حسن سنجری چشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ کا بھی ہے۔ آپ کی ولادت 537 ہجری کو سیستان (موجودہ ایران) کے علاقہ ”سَنجر“ میں ہوئی۔

📗(اقتباس الانوار،ص345)

آپ رحمۃ اللہ علیہ نے تقریباً 81 سال راہِ خدا میں علم کے حصول اور مخلوقِ خدا کی اصلاح میں گزارے اور کئی کتابیں بھی تحریر فرمائیں۔آپ رحمۃ اللہ علیہ کا وصال 6رجب المرجب633ہجری کو ہوا۔

📗(فیضانِ خواجہ غریب نواز، ص17، 25)

خوش نصیب مسلمان ہر سال 6رجب المرجب کو چَھٹی شریف کے نام سے آپ کا عُرس مناتے اور ایصالِ ثواب کرتے ہیں۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہ عاشقانِ رسول کی مدنی تحریک دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول میں عُرسِ خواجہ غریب نوازاہتمام کے ساتھ منایا جاتاہے، رجب المرجب کے پہلے 6دنوں میں روزانہ مدنی مذاکروں کا سلسلہ ہوتا ہے،ان ایّام میں ملک و بیرونِ ملک یہ مدنی مذاکرے دیکھے جانے کے ساتھ ساتھ ہزاروں عاشقانِ رسول دعوتِ اسلامی کے عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ بابُ المدینہ کراچی میں حاضر ہوکر فیضانِ خواجہ غریب نوازکی برکتیں حاصل کرتے ہیں۔6رجب المرجب کو دُنیا بھر میں باقاعدہ ”اجتماعِ یومِ غریب نواز“ کا سلسلہ بھی ہوتا ہے۔

خواجہ غریب نواز کے ملفوظات

حضرت سیّدنا خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ کے مریدِ صادق اورخلیفۂ اکبر حضرت خواجہ قطبُ الدِّین بختیار کاکی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے پیر و مرشد کے ملفوظات پر مشتمل ایک کتاب ترتیب دی جس کا نام *’’دلیل العارفین‘‘* رکھا۔اس کتاب میں سے حضور خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ کے ملفوظات ملاحظہ کیجئے۔

٭نماز تمام مقامات سے بڑھ کر مقام ہے۔نمازحق تعالیٰ سے ملاقات کا وسیلہ ہے۔

📗(دلیل العارفین، ص75)

٭وہ لوگ کیسے مسلمان ہیں جو فرض نماز میں اس قدر تاخیر کرتے ہیں کہ نماز کا وقت ہی گزر جاتا ہے( اور پھر قضا پڑھتے ہیں) ان کی مسلمانی پر 20 ہزار مرتبہ افسوس ہے جو مولا کریم کی عبادت میں کوتاہی کرتے ہیں۔ *حکایت* ایک دفعہ یوں ارشاد فرمایا کہ میرا گزر ایک ایسے شہر سے ہوا جہاں کے لوگ وقت سے پہلے ہی نماز کے لئے تیار ہوجاتے اور بَروقت نماز کی ادائیگی کرتے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ہم جلدہی نماز کی تیاری نہیں کریں گے تو ہوسکتا ہے اس کا وقت نکل جائے پھر کل قیامت کے روز کس طرح یہ منہ رسولِ خدا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو دکھاسکیں گے؟

📗(دلیل العارفین، ص83)

٭نماز ایک امانت ہے جو اللہ پاک نے اپنے بندوں کے سپرد کی ہے،لہٰذا بندوں پر لازم ہے کہ وہ اس امانت میں کسی قسم کی خیانت نہ کریں۔

📗(دلیل العارفین، ص83)

جو شخص قراٰنِ مجید کو دیکھتا ہے اللہ کریم کے فضل سے اس کی بینائی تیز ہوجاتی ہے ،اس کی آنکھ نہ دُکھتی ہے نہ خشک ہوتی ہے۔

📗(دلیل العارفین، ص92)

٭جس نے جو کچھ پایا خدمتِ مرشد سے پایا۔ پس مُرید پر لازم ہے کہ پیر کے فرمان سے ذرّہ برابر بھی تجاوز نہ کرے۔ پیر صاحب جو کچھ اسے نماز، تسبیح اور اوراد وغیرہ کے بارے میں فرمائیں، اسے غور سے سُنے اور اس پر عمل کرے کیونکہ پیر، مُرید کو سنوارنے کے لئے اور اسے کمال تک پہنچانے کے لئے عمل کی راہ پر گامزن کرتا ہے۔

📗(دلیل العارفین، ص75)

منجانب: سوشل میڈیا دارالعلوم امجدیہ ناگپور
https://t.me/DarulUloomAmjadiaNagpurIndia
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
📚 « امجــــدی مضــــامین » 📚
-----------------------------------------------------------
🕯ملفوظاتِ خواجہ غریب نواز🕯


📬 اللّٰه کریم کے جن نیک بندوں نے اصلاحِ اُمّت اور اشاعتِ اسلام کے لئے اپنی زندگیاں وقف کیں،ان میں ایک بڑا نام سلطانُ الہند،خواجہ غریب نواز حضرت سیّد معینُ الدّین حسن سنجری چشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ کا بھی ہے۔ آپ کی ولادت 537 ہجری کو سیستان (موجودہ ایران) کے علاقہ ”سَنجر“ میں ہوئی۔
📗(اقتباس الانوار،ص345)

آپ رحمۃ اللہ علیہ نے تقریباً 81 سال راہِ خدا میں علم کے حصول اور مخلوقِ خدا کی اصلاح میں گزارے اور کئی کتابیں بھی تحریر فرمائیں۔آپ رحمۃ اللہ علیہ کا وصال 6 رجب المرجب633 ہجری کو ہوا۔
📗(فیضانِ خواجہ غریب نواز، ص17، 25)

خوش نصیب مسلمان ہر سال 6 رجب المرجب کو چَھٹی شریف کے نام سے آپ کا عُرس مناتے اور ایصالِ ثواب کرتے ہیں۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہ عاشقانِ رسول کی مدنی تحریک دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول میں عُرسِ خواجہ غریب نوازاہتمام کے ساتھ منایا جاتاہے، رجب المرجب کے پہلے 6 دنوں میں روزانہ مدنی مذاکروں کا سلسلہ ہوتا ہے،ان ایّام میں ملک و بیرونِ ملک یہ مدنی مذاکرے دیکھے جانے کے ساتھ ساتھ ہزاروں عاشقانِ رسول دعوتِ اسلامی کے عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ بابُ المدینہ کراچی میں حاضر ہوکر فیضانِ خواجہ غریب نوازکی برکتیں حاصل کرتے ہیں۔6رجب المرجب کو دُنیا بھر میں باقاعدہ ”اجتماعِ یومِ غریب نواز“ کا سلسلہ بھی ہوتا ہے۔

خواجہ غریب نواز کے ملفوظات:

حضرت سیّدنا خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ کے مریدِ صادق اورخلیفۂ اکبر حضرت خواجہ قطبُ الدِّین بختیار کاکی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے پیر و مرشد کے ملفوظات پر مشتمل ایک کتاب ترتیب دی جس کا نام ’’دلیل العارفین‘‘ رکھا۔ اس کتاب میں سے حضور خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ کے ملفوظات ملاحظہ کیجئے۔

💌 نماز تمام مقامات سے بڑھ کر مقام ہے۔نمازحق تعالیٰ سے ملاقات کا وسیلہ ہے۔
📗(دلیل العارفین، ص75)

💌 وہ لوگ کیسے مسلمان ہیں جو فرض نماز میں اس قدر تاخیر کرتے ہیں کہ نماز کا وقت ہی گزر جاتا ہے( اور پھر قضا پڑھتے ہیں) ان کی مسلمانی پر 20 ہزار مرتبہ افسوس ہے جو مولا کریم کی عبادت میں کوتاہی کرتے ہیں۔
حکایت: ایک دفعہ یوں ارشاد فرمایا کہ میرا گزر ایک ایسے شہر سے ہوا جہاں کے لوگ وقت سے پہلے ہی نماز کے لئے تیار ہوجاتے اور بَروقت نماز کی ادائیگی کرتے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ہم جلدہی نماز کی تیاری نہیں کریں گے تو ہوسکتا ہے اس کا وقت نکل جائے پھر کل قیامت کے روز کس طرح یہ منہ رسولِ خدا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو دکھاسکیں گے؟
📗(دلیل العارفین، ص83)

💌 نماز ایک امانت ہے جو اللہ پاک نے اپنے بندوں کے سپرد کی ہے،لہٰذا بندوں پر لازم ہے کہ وہ اس امانت میں کسی قسم کی خیانت نہ کریں۔
📗(دلیل العارفین، ص83)

💌 جو شخص قراٰنِ مجید کو دیکھتا ہے اللہ کریم کے فضل سے اس کی بینائی تیز ہوجاتی ہے ،اس کی آنکھ نہ دُکھتی ہے نہ خشک ہوتی ہے۔
📗(دلیل العارفین، ص92)

💌 جس نے جو کچھ پایا خدمتِ مرشد سے پایا۔ پس مُرید پر لازم ہے کہ پیر کے فرمان سے ذرّہ برابر بھی تجاوز نہ کرے۔ پیر صاحب جو کچھ اسے نماز، تسبیح اور اوراد وغیرہ کے بارے میں فرمائیں، اسے غور سے سُنے اور اس پر عمل کرے کیونکہ پیر، مُرید کو سنوارنے کے لئے اور اسے کمال تک پہنچانے کے لئے عمل کی راہ پر گامزن کرتا ہے۔
📗(دلیل العارفین، ص75)


المرتب قاضـی شعیب رضـا تحسینی امجـدی، ممبر "فیضـانِ دارالعـلوم امجـدیہ ناگپور گروپ" 7798520672

1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
📚 « امجــــدی مضــــامین » 📚
-----------------------------------------------------------
🕯️سلطان الہند حضور غریب نواز رحمۃ اللّٰه علیہ، ہند میں شوکتِ اسلامی کا نشانِ عظمت🕯️


📬 اسلام! اپنی اخلاقی تعلیمات، فطری صداقت اور پاکیزگی ولطافت کی وجہ سے دلوں میں بس گیا۔ خاتم الانبیاء رحمۃ للعالمینﷺ نے اسلام کے نور سے دلوں کو روشن فرمایا۔رحمۃ للعالمینﷺ کے اختیارات اور جود و عطا سے؛ خدائے تعالیٰ کی عطاکردہ ان عظمتوں کا اظہار ہوا؛ جس کے آگے دُنیا کی بادشاہت و جلالت اور شوکتِ امارت و حکومت سرنگوں ہوکررہ گئے۔ اسلامی عظمت و شان اور اخلاق و کردار کے وہ عظیم جلوے ظاہر ہوئے؛ جس نے قیصر وکسریٰ اور فراعنہ کے جبر واستبداد کا خاتمہ کر دیا، اور اسلام کی نور بار کرنیں عرب کی سرحدوں سے نکل کر افریقہ کے تپتے صحرا میں بسنے والے وحشیوں کو انسانی قدروں سے آشنا کرنے لگیں۔ خاتم الانبیاء رحمۃ للعالمینﷺ کے وصالِ ظاہری کے بعد صحابہ و تابعین اورداعیانِ دینِ متین نے اسلام کی اشاعت و تبلیغ کا فریضہ انجام دیا۔ حق و صداقت کی شمع دلوں کے طاق پہ فروزاں رکھی۔ ان کے بعد اولیاے اسلام وعلماے کرام کے ذریعے دین کی اشاعت ہوتی رہی۔کاروانِ صداقت آگے بڑھتا رہا۔ منزلیں طے ہوتی رہیں۔

ابتدائی صدی میں ہی اسلام کی کرنیں عرب تجار و تابعین کے ذریعے ہندوسندھ کی سر زمین کو منور کرنے لگیں۔ ساحل مالابار،کیرلا اور سندھ کے علاقے اسلام کی مقدس پناہ میں آچکے تھے۔ باب الاسلام سندھ میں خدمت حدیث کی مسندِ تدریس حضرت شیخ اسماعیل بخاری کے توسط سے سج گئی تھی۔ پنجاب کی سرزمین حضرت داتا گنج بخش ہجویری کے عرفاں سے اسلامی نور سے آشنا ہوئی؛ اور اہلِ شرک کے صنم کدوں میں اذانِ توحید گونج اُٹھی؛ جس نے دلوں کے زنگ دھو ڈالے، نبوی اخلاق سے متصف عاشقانِ صادق نے ایمان کی سوغات تقسیم کی،خطۂ پنجاب کے محسن کو دُنیا ’’داتا گنج بخش‘‘ کہہ کر یاد کرنے لگی۔جن کی عطا کا آج بھی چرچا ہے اور سخاوت کا شہرہ۔ بقول حضور غریب نواز؎

گنج بخش فیض عالم مظہر نورِ خدا
ناقصاں را پیر کامل کاملاں را رہنما

چمنِ رسالت مآبﷺ کا گُلِ تر بشکلِ معین الدیں حسن اجمیری المعروف سلطان الہند غریب نواز واردِ سندھ حاضرِبارگاہِ داتاہوتا ہے؛ اور کسبِ فیض کے بعد دہلی پہنچتا ہے، اس وقت تک اشاعتِ اسلام کا کارواں ہند میں اِس قدر وسیع نہ ہوا تھا۔ رحمتِ باری جوش پر آئی۔ خواجہ غریب نواز کے ذریعے اشاعتِ حق کا کارواں تیزگام ہوا۔ آپ نے نبوی اخلاق کا وہ عظیم مظاہرہ ہند کے اصنام زدہ ماحول میں کیا کہ ایمان کی کھیتی ہری بھری ہو گئی۔ ۹۰؍لاکھ افراد کا اسلام قبول کر لینا کوئی لمحاتی واقعہ نہ تھا۔ اس کے لیے مشیت نے خواجہ غریب نواز کو چُنا تھا جن کے دَم قدم سے ہند کی زمیں شاداب ہوئی؛ ابرِ رحمت جھوم کر برسا؛ علامہ حسنؔ رضا بریلوی نے بہت عمدہ کہا؎

گلشنِ ہند ہے شاداب کلیجے ٹھنڈے
واہ! اے ابرِ کرم زور برسنا تیرا

خواجہ غریب نواز نے اپنے اخلاقِ کریمانہ سے اسلامی تعلیمات کی عملی تصویر پیش کی۔جب دل شرک کی آماجگاہ بن جاتا ہے،تو حق قبول کروانے کو بڑی تدبیر درکار ہوتی ہے، صدیوں سے اپنے ہی ہاتھوں کے تراشیدہ اصنام کی پرستش کرنے والے یوں ہی توحید کے نغمے نہیں گنگناتے؛ اس کے لیے فضلِ باری اور عنایتِ نبوی درکار ہوتی ہے۔ یہی کچھ ہند میں ہوا خواجہ غریب نواز کے ساتھ ہوا۔ ان کے اعلیٰ اخلاق اور چمکتے کردار کے ساتھ عطائے ایزدی کی وہ بارانِ رحمت نازل ہوئی کہ تاریک فضا میں روشن انقلاب آگیا۔ ایسا انقلاب کے فکر کے غبار دُھلنے لگے، تھکی تھکی طبیعتیں کھلنے لگیں، راجستھان کا خطۂ ریگزار ہی کیا؛ شمال سے جنوب، مشرق سے مغرب تک کی فضا کلمۂ توحید ورسالت سے گونج گونج اُٹھی۔اجمیر کی زمیں سے جو پیغام صدیوں پہلے دیا گیا تھا؛ اس کی صداے دل نواز آج بھی کانوں میں رَس گھولتی محسوس ہوتی ہے، غریب نواز نے اولیاے کرام کے مقدس مشن کی ترجمانی کی، دلوں کے زنگ دھوئے، ہر دل ان کا اسیر ہوگیا، نبوی چوکھٹ سے جود وسخا کے جو دھارے رواں تھے؛ ان سے خواجہ غریب نواز نے سیرابی کی ، اسی کا فیض آج بھی اجمیر مقدس سے جاری وساری ہے۔ اُس دور میں اہلِ شرک نے توحید کااقرار کر کے حق کا کلادہ گلے میں ڈالا تھا اور آج زنگ آلود قلب عرفان ویقیں کے جام پی کر حق آشنا ہو رہے ہیں؎

خواجۂ ہند وہ دربار ہے اعلیٰ تیرا
کبھی محروم نہیں منگنے والا تیرا

اشاعتِ اسلام کا قافلہ آگے بڑھتا رہا۔ فلسفۂ یونان کا جب زور تھا تو عشق رسول کریمﷺ سے سرشار فکرِ غزالی و تعلیماتِ غوثیہ نے اسلام کی نکھری تعلیمات کی ترجمانی کی تھی۔ جب ہند میں شعبدہ بازوں نے شرک کی حمایت میں اپنے تمام حربے آزما ڈالے؛ تب استقامت کے کوہِ عظیم خواجہ غریب نواز نے اساسِ دین کی حفاظت اور دعوتِ حق کی انجام دہی کی غرض سے کرامتوں کا اظہار فرمایا۔ کرامت اُس دور کی ضرورت تھی۔ اشاعتِ اسلام کی خاطر خواجہ غریب نواز نے جے پال کے سحر کو
1
توڑا؛ جادوگروں کا سحر ٹوٹا اور وہ اسلام کے دامن میں آگئے۔
اسلام ! اخلاقی تعلیمات اور روحانی تب وتاب کے ساتھ دلوں میں گھر کر لیا۔ خواجہ غریب نواز کی روحانی فتوحات کے زیرِ اثر ہند میں اسلامی سلطنت کی بنیاد پڑی۔ تاریخ کے صفحات میں خواجہ غریب نواز کا وہ تاریخی جملہ محفوظ ہے ’’پرتھوی راج را زندہ گرفتار کردہ بہ لشکر اسلام دادیم‘‘ یعنی پرتھوی راج کو زندہ گرفتار کر کے اسلامی لشکر کے حوالے کر دیا۔ یہ مومنانہ بصیرت تھی جس نے مستقبل میں ہونے والی خوش گوار تبدیلی کا اعلان پہلے ہی کردیا، اس سے انھیں درس لینا چاہیے جو نبی کریم ﷺ کے لیے غیبی علوم میں کلام کرتے ہیں؛ عقل کے ناقص گھوڑے دوڑاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ! ایمان کی سلامتی نصیب فرمائے۔ آمین!

خواجہ غریب نواز نے جن دلوں کو ایمان کی روشنی سے معمور کیا تھا؛ آج اُن کی نسلیں ملک بھر میں پھیلی ہوئی ہیں اور اسلامی معاشرہ مستحکم بنیادوں پر قائم ہے، بعد کے اَدوار کے علما و صلحا اور اولیا و مقبولانِ بارگاہِ صمدیت کی مساعیِ جمیلہ سے دین کی اشاعت ہوتی رہی۔ کبھی تیز وتند آندھی نے تجدید واحیا کی صورت پیدا کی تو عزمِ معینی لے کر سرہند کی زمیں پر مجدد الف نے آندھیوں کی زَد پر یقیں کے چراغ جلائے، کبھی بریلی کی زمیں سے محبت رسول کریمﷺ کا درسِ زریں عام ہوا اور جس کی خوشبو سے اکنافِ عالم معمور ہوا۔ ہمیں آج کے اِس دورِ حزیں میں تعلیماتِ خواجہ غریب نواز پر عمل کی شدید ضرورت ہے، تاکہ اسلامی تعلیمات کے حسیں انقلاب سے یہود ونصاریٰ اور مشرکین کی سازشوں کا دَنداں شکن جواب دے کر حق کی شمع فروزاں رکھی جاسکے۔جو مسلم معاشرے کے استحکام کا باعث ہوگا۔ یاد رہے کہ خواجہ غریب نواز نے جس استقامت کے ساتھ شمعِ اسلام کو فروزاں رکھا؛ اسی استقامت کے مظاہرے سے ہم مشرک اقتدار کی سازشوں کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ اِس لیے اپنے عقیدہ و ایمان کی حفاظت کے لیے ناقابلِ تسخیر قوت بن جائیں؛ ان شاء اللہ وادی بھی ہماری ہوگی اور گلشنِ ہند بھی ہمارا۔


از قلم✍️ غلام مصطفیٰ رضوی، نوری مشن، مالیگاؤں، مہاراشٹرا۔

1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1