🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Mutafarriq Masail Post No : 07

دربارِ خواجہ غریب نواز میں
اعلٰی حضرت کی حاضری 💐


مجدد دین و ملت اعلٰی حضرت فاضل ہندوستان مولانا امام احمد رضا خاں صاحب قدس سرہٗ العزیز [وصال۱۳۴۰ھ/۱۹۲۱ء] بھی دو بار دربارِ خواجہ غریب نواز میں حاضر ہوئے ہیں۔ دوسری حاضری اعلٰی حضرت قدس سرہٗ کی خاص طور پر قابل ذِکر ہے۔ آپ ۱۳۲۵ھ میں حج و زیارت کی سعادت حاصل کر کے جب ساحلِ ہندوستان پر اُترے تو آپ کے فدائی مختلف بلاد وامصار سے آپ کولینے بمبئی پہنچ گئے تھے۔ علاوہ وطن کے اور بھی کئی جگہ سے تار دیے گئے کہ آپ ہمارے وطن کو اپنے قدومِ والا سے منور فرما دیں۔آپ نے کسی کی نہ سُنی، آپ سیدھے خواجہ غریب نواز کے آستانہ پر حاضر ہوئے؛ اور خواجۂ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی درباری حاضری کے بعد آپ نے ان کے شاہزادے حضرت خواجۂ ہند کے دربار میں حاضری دی۔ یہ حاضری ایسی عقیدت و محبت کی حامل تھی کہ ہم خدامِ آستانہ اور تمام مسلمانانِ اجمیر کے دلوں پر نقش ہوگئی۔ آج تک ہم خدام میں اس حاضری کے چرچے ہوتے ہیں۔ یہی وجہ تھی کہ جب اعلٰی حضرت فاضل ہندوستان کا صفر ۱۳۴۰ھ میں وصال ہوا، اورآستانہ پر ان کے وصال کی خبر پہنچی تو… اجمیر شریف کے سارے مسلمانوں نے کافی تعداد میں جمع ہو کر قرآن اور کلمۂ طیبہ سے ایصالِ ثواب کیا ۔اور اس کے بعد علماء مقررین نے ان کے زرّین کا رنامے حاضرین کے سامنے پیش کیے۔ اور دُنیائے اجمیر کو یہ بتایا کہ اعلٰی حضرت قدس سرہٗ کی علمی فوقیت کو آج دُنیائے اسلام مانتی ہے۔ علماے عرب و عجم ان کو اس صدی کا مجدد اور تمام علوم و فنون کا ماہر اور یگانۂ روزگار مانے ہوئے ہیں۔ان کا شعبۂ حیات اتباعِ سنت کی وجہ سے اسلامی زندگی کا ایک بہترین نمونہ ہے۔اور ان کے مذہبی رسائل اور کتابیں عقائد و اعمال کا -قولِ فیصل- اور- شریعتِ مطہرہ کا اس دور میں آخری فتویٰ ہیں- غرض کہ اس موقع پر مسلمانانِ اجمیر اور دیگر زائرین نے بڑی عقیدت مندی کا اظہار کیا ۔جو ایک زمانہ تک یادگار رہے گا۔

از: مولانا سید حسین علی چشتی اجمیری علیہ الرحمہ
(وکیلِ جاورہ دربارِ غریب نواز علیہ الرحمہ اجمیر شریف)

[دربارِ چشت،مطبوعہ نوری مشن مالیگاؤں ۲۰۱۵ء، ص۳۳ ]

*گستاخ جماعتوں نے دنیا کو نفرت کی راہ دی ہے، سلطان الہند خواجہ غریب نواز نے محبت کی تعلیم دی۔ نفرت والوں سے بچئے اور محبت عام کیجئے۔*

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=396778310677613&id=100010363424693

🤲 طالب دعاء 🤲
ڈاکٹر غلام مرسلین رضوی ناگپور
👍2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
*📚 « مختصــر ســوانح حیــات » 📚*
-----------------------------------------------------------
*🕯شیخ الاسلام حضرت خواجہ عثمان ہارونی رحمۃ اللّٰه علیہ🕯*


*نام و نسب:*
*اسم گرامی:* حضرت خواجہ عثمان ہارونی رحمۃ اللّٰه علیہ۔
*کنیت:* ابو النور۔
*لقب:* شیخ الاسلام۔
*سلسلہ نسب:* آپ کا سلسلہ نسب گیارہویں پشت میں حضرت مولا علی شیر خدا رضی ﷲ عنہ تک پہنچتا ہے۔
*(سیرتِ خواجہ غریب نواز:42)*

*تاریخِ ولادت:* آپ کی ولادت باسعادت اکثر مؤرخین کے نزدیک 536ھ، کو قصبہ ’’ہارون یا ہرون‘‘ خراسان میں ہوئی۔
*(اہل سنت کی آواز، خانقاہ برکاتیہ مارہرہ مطہرہ 2008ء/1429ھ، صفحہ:200)*

*ہارون یا ہروَن:* اس مقام کی وجہ سے حضرت خواجہ رحمۃ اللّٰه علیہ کو ’’ہارونی‘‘ کہا جاتا ہے۔
اس مقام کا اصل نام کیا ہے:
بعض ہروَن اور اکثر ہارون کہتے ہیں۔ خیر المجالس میں ہے: ’’صحیح تو ہَرونی ہے لیکن عوام و خواص کی قلم و زبان پر ’ہارونی‘ چڑھا ہوا ہے‘‘۔ بہت مشہور دعائیہ شعر ہے۔

؏:بحق خواجۂ عثمان ہاروں
مدد کن یا معین الدین چشتی
(ایضا:201)

*تحصیلِ علم:* آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے والد ماجد سے حاصل کی پھر اعلیٰ تعلیم کے لیے نیشاپور تشریف لے گئے۔ وہاں مشاہیر علماء و فضلاء کی سرپرستی میں علوم و فنون حاصل کیے۔ آپ کے سوانح نگاروں نے لکھا ہے کہ "آپ کا خاندان چوں کہ عمدہ تہذیب و تمدن کا گہوارہ اور علم دوست تھا۔ والد ماجد بھی جید عالم تھے، اس لیے شعور کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی علم کی طرف راغب ہو گئے اور والد ماجد کی بارگاہ میں رہ کر ابتدائی تعلیم حاصل کی، قرآن شریف حفظ کیا، پھر اعلیٰ تعلیم کے لیے اس زمانے کے علمی و فنی مرکز نیشاپور کا رخ کیا اور وقت کے مشاہیر علماء و فضلا سے اکتساب علم کر کے جملہ علوم مروجہ و متداولہ میں دسترس حاصل کی۔ جلد ہی آپ کا شمار وقت کے علماء و فضلاء میں ہونے لگا۔

*بیعت و خلافت:* ظاہری علوم کی تکمیل اس مرد باصفا کی آخری منزل نہ تھی۔ اس لئے علوم باطنیہ کی تحصیل کاعزم مصمم کیا اللہ جل شانہ نے آپ کے پرخلوص ارادے کی بدولت امام الاولیاء، قطب الاقطاب سرتاج سلسلہ عالیہ چشتیہ بہشتیہ حضرت خواجہ محمد شریف زندنی رحمہ اللّٰه کی خانقاہ معلیٰ میں پہنچا دیا۔
سلسلہ عالیہ چشتیہ میں ان کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے، اور ان کی خدمت میں رہ کر سلوک کی منازل طے کرنے لگے۔عبادت و ریاضت اور مجاہدۂ و مکاشفہ نے جب کندن بنا دیا تو نگاہ ِمرشد نے منصبِ خلافت کےلئے منتخب فرما لیا۔ سلسلہ عالیہ چشتیہ کی خلافت سے سرفراز ہوئے۔ اسی طرح حضرت خواجہ مودود چشتی رحمۃ اللّٰه علیہ سے بھی فیض یاب ہوئے۔(ایضا:202)

*سیرت و خصائص:* قطب الاقطاب، ناصرالاسلام، عارف اسرار رحمانی، واصل ذاتِ باری، محبوب صاحب ِلامکانی، شیخ الاسلام حضرت خواجہ محمد عثمان ہارونی رحمۃ اللّٰہ علیہ۔
آپ علیہ الرحمہ کا شمار اکابرین ِ امت اور کبار اولیاءِ کرام و مشائخِ عظام میں ہوتا ہے۔ علوم ظاہریہ و علوم باطنیہ ،شریعت و طریقت، تصوف و معرفت میں مجمع البحرین تھے۔ تاریخِ مشائخِ چشت میں ہے: ’’در علم ِ شریعت و طریقت و حقیقت اعلم بود‘‘۔
*(بہارِ چشت:77)*

صاحب سبع سنابل حضرت میر سید عبد الواحد بلگرامی رحمۃ اللّٰه علیہ نے بیعت و خلافت کا تذکرہ یوں فرمایا ہے لکھتے ہیں:
حضرت خواجہ عثمان ہارونی رحمۃ اللہ علیہ کی عمر کافی تھی، آپ نے سفر بھی بہت کیے، جب حضرت خواجہ شریف زندنی رحمہ اللّٰه کی خدمت میں پہنچے تو عرض کی:
بندہ عثمان کی تمنا ہے کہ حضور والا کے مریدوں میں شمار کیا جائے۔ خواجہ شریف زندنی نے قبول کیا، خلافت کی کلاہ چار ترکی عنایت کی، قینچی (بالوں پر) چلائی اور فرمایا: مصطفیٰ ﷺنے کلاہ چار ترکی استعمال فرمائی ہے، تمام کائنات کو خدا کی محبت میں چھوڑ کر فقر و فاقہ اختیار فرمایا ہے، فقیروں اور غریبوں سے محبت رکھی ہے، لہذا جو شخص کلاہ چار ترکی سر پر رکھے، اسے چاہیے کہ مصطفیٰ ﷺ کی پیروی کرے اور ہر شخص کو اپنے سے برتر جانے۔ جو شخص تکبر اختیار کرے اور اپنی فوقیت چاہے وہ درویش نہیں، نفس پرست ہے۔ راہ نما نہیں راہزن ہے۔ مشائخ کے خرقے کے لائق نہیں وہ چور ہے۔اہل نعمت نہیں بے نصیب ہے۔ مشائخ اس سے بے زار ہیں۔درویشی کا لباس اس پر حرام ہے۔ اسے خرقہ پہنانا جائز نہیں اور نہ کلاہ چار ترکی سر پر رکھنا اور مرید کرنا۔
خواجہ عثمان ہارونی رحمۃ اللّٰہ علیہ نے شیخ کی نصیحت قبول کی اور گوشہ نشیں ہو کر ذکر لا الٰہ الا اللہ میں مشغول ہو گئے۔ تین برس کے بعد خواجہ شریف زندنی نے خلافت کی کملی پہنائی اور فرمایا:
اے عثمان! تمھیں میں نے پیدا کرنے والے کی بارگاہ میں پیش کیا۔ تمھیں پسند کیا گیا ہے پھر خواجہ شریف زندنی رحمہ اللّٰه نے اسم اعظم جسے اپنے مرشد سے حاصل کیا تھا، خواجہ عثمان کو سکھادیا، جس سے علم معرفت کے اسرار اور شریعت و طریقت و حقیقت کے رموز آپ پر منکشف ہو گئے۔
*(سبع سنابل:434)*

*عبادت و ریاضت:* خواجہ عثمان ہارنی علیہ الرحمہ صاحب ِریاضت