Forwarded from فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
پیارے پیارے ،میٹھے میٹھے آقامکّی مدنی مصطفٰےصَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کومِعراج شریف کاعظیم الشّان مُعجِز ہ عطا ہوا۔(شَرحُ الزَّرقانی عَلَی المَواہِبِ اللَّدُنِّیۃ ج۸ص۱۸) چنانچِہ 27ویں رَجَب شریف کے روزے کی بڑی فضیلت ہے ۔ جیسا کہ حضرت ِسیِّدُناسلمان فارسی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے ، اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب ، دانائے غُیُوب،مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیُوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ ذِیشان ہے:’’رجَبمیں ایک دن اور رات ہے جو اُس دن روزہ رکھے اور رات کو قِیام (عبادت )کرے تو گویا اُس نے سو سال کے روزے رکھے ، سو برس کی شب بیداری کی اور یہ رَجَب کی ستائیس(ست۔تا۔ئیس) تاریخ ہے۔‘‘ (شُعَبُ الْاِیْمَان ج۳ص۳۷۴حدیث ۳۸۱۱)
رجب میں پریشانی دور کرنے کی فضیلت:
حضرتِ سیِّدُنا عبد اللہ ابنِ زُبیر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے :’’جو ماہِ رجب میں کسی مسلمان کی پریشانی دورکرے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اُس کو جنت میں ایک ایسا محل عطا فرمائے گا جو حدِّ نظر تک وسیع ہوگا۔تم رجَب کا اکرام کرو اللہ تَعَالٰی تمہار ا ہزار کر امتوں کے ساتھ اِکرام فرمائے گا۔(غُنیۃُ الطّالِبین ج۱ ص۳۲۴،معجمُ السّفر لِلسّلفی ص۴۱۹رقم۱۴۲۱)
27 ویں شب کے12نوافل کی فضیلت:
رجب میں ایک رات ہے کہ اس میں نیک عمل کرنے والے کو سو برس کی نیکیوں کا ثواب ہے اور وہ رجب کی ستائیسویں شَب ہے ۔جو اس میں بارہ رکعت اس طرح پڑھے کہ ہر رکعت میں سُوْرَۃُ الْفَاتِحَہ اورکوئی سی ایک سُورت اور ہر دو رکعت پراَلتَّحِیّاتُ پڑھے
اور بارہ پوری ہونے پر سلام پھیرے، اس کے بعد100بار یہ پڑھے:سُبْحٰنَ اللہِ وَالْحَمْدُلِلّٰہِ وَلَآاِلٰہَ اِلَّااللہُ وَاللہُ اَکْبَر ، اِستِغفار100 بار،دُرُودشریف100بارپڑھے اوراپنی دنیاوآخِرت سے جس چیز کی چاہے دُعا مانگے اور صبح کو روزہ رکھے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کی سب دُعائیں قَبو ل فرمائے سوائے اُس دُعا کے جوگناہ کے لئے ہو۔(شُعَبُ الْاِیمان ج۳ص۳۷۴حدیث۳۸۱۲)
حُرمت والے چار مہینے:
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اللہ عَزَّوَجَل ! کے نزدیک چار مہینے خصوصیت کے ساتھ حر مت والے ہیں۔ چنانچِہ پارہ10 سُوْرَۃُالتَّوبَہ آیت 36میں ارشاد ہوتا ہے:
اِنَّ عِدَّةَ الشُّهُوْرِ عِنْدَ اللّٰهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا فِیْ كِتٰبِ اللّٰهِ یَوْمَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ مِنْهَاۤ اَرْبَعَةٌ حُرُمٌؕ-ذٰلِكَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ ﳔ فَلَا تَظْلِمُوْا فِیْهِنَّ اَنْفُسَكُمْ وَ قَاتِلُوا الْمُشْرِكِیْنَ كَآفَّةً كَمَا یُقَاتِلُوْنَكُمْ كَآفَّةًؕ-وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُتَّقِیْنَ(۳۶)
ترجَمَۂ کنزُا لایمان:بے شک مہینوں کی گنتی اللہ کے نزدیک بارہ مہینے ہیں اللہ کی کتاب میں، جب سے اس نے آسمان و زمین بنائے ان میں سے چار حُرمت والے ہیں، یہ سیدھا دین ہے تو ان مہینوں میں اپنی جان پر ظلم نہ کرو اور مشرکوں سے ہر وقت لڑو جیسا وہ تم سے ہروقت لڑتے ہیں اورجان لو کہ اللہ پرہیزگارں کے ساتھ ہے۔
بیان کردہ آیت مُبارَکہ کے تحت صدرُالْاَ فاضِل حضرت علّامہ مولانا سیِّد محمد نعیم الدین مراد آبادیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْھَادِی ’’خَزائِنُ العِرفان‘‘میں فرماتے ہیں :(چار حرمت والے مہینوں سے مراد)تین متَّصل (یعنی یکے بعد دیگرے)ذُوالْقَعدہ،ذُوالْحِجّہ،مُحَرَّم اور ایک جُدا رَجَب ۔ عرب لوگ زمانۂ جاہلیت میں بھی ان میں قتال (یعنی جنگ )حرام جانتے تھے۔اسلام میں ان مہینوں کی حُرمت وعَظَمت اور زیادہ کی گئی ۔ (خزائنُ العِرفان ص۳۶۲) میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!آیتِ مُبارَکہ میں قمری(یعنی ہجری سِن کے12) مہینوں کا ذِکر ہے جن کا حساب چاند سے ہوتا ہے ، بہت سے اَحکامِ شَرع کی بِنا(یعنی بنیاد) بھی قمری مہینوں پر ہے،مَثَلاً رَمَضانُ الْمُبارَک کے روزے،زَکوٰۃ،مَناسک حج شریف وغیرہ نیز اسلامی تہوار مَثَلاً عید میلادُ النبیصَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم، عیدُ الفطر،عیدُ الْاَضْحٰی،شبِ معراج،شب براءَت،گیارہویں شریف،اَعراسِ بزرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن وغیرہ بھی قمری مہینوں کے حساب سے منائے جاتے ہیں ۔ افسوس! آجکل مسلمان جہاں بے شمار سنتوں سے دُور جاپڑا ہے وَہاں اسلامی تاریخوں سے بھی ناآشنا ہوتا جارہا ہے ۔غالِباً ایک لاکھ مسلمانوں کے اجتماع میں اگر یہ سُوال کیا جائے کہ ’’بتاؤ آج کس ہِجری سِن کے کون سے مہینے کی کتنی تاریخ ہے ؟‘‘تو شاید بمشکل سو مسلمان ایسے ہوں گے جو صحیح جواب دے سکیں ! یادرہے کہ بہت سے مُعاملات جیسے زکوٰۃکی فرضیت وغیرہ میں قمری مہینوں کا لحاظ رکھنا فرض ہے۔
قِسط جاری۔۔۔
https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*پیشکش📮فیضــان دارالعــلوم امجــدیہ ناگپور گروپ 966551830750+*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
رجب میں پریشانی دور کرنے کی فضیلت:
حضرتِ سیِّدُنا عبد اللہ ابنِ زُبیر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے :’’جو ماہِ رجب میں کسی مسلمان کی پریشانی دورکرے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اُس کو جنت میں ایک ایسا محل عطا فرمائے گا جو حدِّ نظر تک وسیع ہوگا۔تم رجَب کا اکرام کرو اللہ تَعَالٰی تمہار ا ہزار کر امتوں کے ساتھ اِکرام فرمائے گا۔(غُنیۃُ الطّالِبین ج۱ ص۳۲۴،معجمُ السّفر لِلسّلفی ص۴۱۹رقم۱۴۲۱)
27 ویں شب کے12نوافل کی فضیلت:
رجب میں ایک رات ہے کہ اس میں نیک عمل کرنے والے کو سو برس کی نیکیوں کا ثواب ہے اور وہ رجب کی ستائیسویں شَب ہے ۔جو اس میں بارہ رکعت اس طرح پڑھے کہ ہر رکعت میں سُوْرَۃُ الْفَاتِحَہ اورکوئی سی ایک سُورت اور ہر دو رکعت پراَلتَّحِیّاتُ پڑھے
اور بارہ پوری ہونے پر سلام پھیرے، اس کے بعد100بار یہ پڑھے:سُبْحٰنَ اللہِ وَالْحَمْدُلِلّٰہِ وَلَآاِلٰہَ اِلَّااللہُ وَاللہُ اَکْبَر ، اِستِغفار100 بار،دُرُودشریف100بارپڑھے اوراپنی دنیاوآخِرت سے جس چیز کی چاہے دُعا مانگے اور صبح کو روزہ رکھے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کی سب دُعائیں قَبو ل فرمائے سوائے اُس دُعا کے جوگناہ کے لئے ہو۔(شُعَبُ الْاِیمان ج۳ص۳۷۴حدیث۳۸۱۲)
حُرمت والے چار مہینے:
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اللہ عَزَّوَجَل ! کے نزدیک چار مہینے خصوصیت کے ساتھ حر مت والے ہیں۔ چنانچِہ پارہ10 سُوْرَۃُالتَّوبَہ آیت 36میں ارشاد ہوتا ہے:
اِنَّ عِدَّةَ الشُّهُوْرِ عِنْدَ اللّٰهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا فِیْ كِتٰبِ اللّٰهِ یَوْمَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ مِنْهَاۤ اَرْبَعَةٌ حُرُمٌؕ-ذٰلِكَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ ﳔ فَلَا تَظْلِمُوْا فِیْهِنَّ اَنْفُسَكُمْ وَ قَاتِلُوا الْمُشْرِكِیْنَ كَآفَّةً كَمَا یُقَاتِلُوْنَكُمْ كَآفَّةًؕ-وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُتَّقِیْنَ(۳۶)
ترجَمَۂ کنزُا لایمان:بے شک مہینوں کی گنتی اللہ کے نزدیک بارہ مہینے ہیں اللہ کی کتاب میں، جب سے اس نے آسمان و زمین بنائے ان میں سے چار حُرمت والے ہیں، یہ سیدھا دین ہے تو ان مہینوں میں اپنی جان پر ظلم نہ کرو اور مشرکوں سے ہر وقت لڑو جیسا وہ تم سے ہروقت لڑتے ہیں اورجان لو کہ اللہ پرہیزگارں کے ساتھ ہے۔
بیان کردہ آیت مُبارَکہ کے تحت صدرُالْاَ فاضِل حضرت علّامہ مولانا سیِّد محمد نعیم الدین مراد آبادیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْھَادِی ’’خَزائِنُ العِرفان‘‘میں فرماتے ہیں :(چار حرمت والے مہینوں سے مراد)تین متَّصل (یعنی یکے بعد دیگرے)ذُوالْقَعدہ،ذُوالْحِجّہ،مُحَرَّم اور ایک جُدا رَجَب ۔ عرب لوگ زمانۂ جاہلیت میں بھی ان میں قتال (یعنی جنگ )حرام جانتے تھے۔اسلام میں ان مہینوں کی حُرمت وعَظَمت اور زیادہ کی گئی ۔ (خزائنُ العِرفان ص۳۶۲) میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!آیتِ مُبارَکہ میں قمری(یعنی ہجری سِن کے12) مہینوں کا ذِکر ہے جن کا حساب چاند سے ہوتا ہے ، بہت سے اَحکامِ شَرع کی بِنا(یعنی بنیاد) بھی قمری مہینوں پر ہے،مَثَلاً رَمَضانُ الْمُبارَک کے روزے،زَکوٰۃ،مَناسک حج شریف وغیرہ نیز اسلامی تہوار مَثَلاً عید میلادُ النبیصَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم، عیدُ الفطر،عیدُ الْاَضْحٰی،شبِ معراج،شب براءَت،گیارہویں شریف،اَعراسِ بزرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن وغیرہ بھی قمری مہینوں کے حساب سے منائے جاتے ہیں ۔ افسوس! آجکل مسلمان جہاں بے شمار سنتوں سے دُور جاپڑا ہے وَہاں اسلامی تاریخوں سے بھی ناآشنا ہوتا جارہا ہے ۔غالِباً ایک لاکھ مسلمانوں کے اجتماع میں اگر یہ سُوال کیا جائے کہ ’’بتاؤ آج کس ہِجری سِن کے کون سے مہینے کی کتنی تاریخ ہے ؟‘‘تو شاید بمشکل سو مسلمان ایسے ہوں گے جو صحیح جواب دے سکیں ! یادرہے کہ بہت سے مُعاملات جیسے زکوٰۃکی فرضیت وغیرہ میں قمری مہینوں کا لحاظ رکھنا فرض ہے۔
قِسط جاری۔۔۔
https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*پیشکش📮فیضــان دارالعــلوم امجــدیہ ناگپور گروپ 966551830750+*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
Telegram
فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
اہلسنت و جماعت مسلک اعلیٰ حضرت کا ترجمان، وسط ہند کی عظیم درسگاہ " دارالعلوم امجدیہ ناگپور مہاراشٹرا" کے نام سے منسوب گروپ
❤1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
👍1
Forwarded from فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
*📚 « امجــــدی مضــــامین » 📚*
-----------------------------------------------------------
*🕯فضائل ماہ رجب المرجب🕯*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
قِسط نمبـــــر ۳
📬 رَجَب کے احتِرام کی بَرَکت کی حکایت:
حضرتِ سَیِّدُنا عیسیٰ رُوحُ اللہ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کے دَور کا واقعہ ہے کہ ایک شخص مدت سے کسی عورت پر عاشق تھا۔ایک بار اُس نے اپنی معشوقہ پر قابو پالیا،
لوگوں کا مجمع دیکھ کر اُس نے اندازہ لگایا کہ وہ چاند دیکھ رہے ہیں ،اُس نے اُس عورت سے پوچھا:لوگ کس ماہ کا چاند دیکھ رہے ہیں؟جواب دیا:’’رجب کا۔‘‘یہ شخص حالانکہ غیر مسلم تھا مگررجب شریف کا نام سنتے ہی تعظیماً فوراً الگ ہوگیا اور’’ گندے کام‘‘ سے باز رہا ۔ حضرتِ سَیِّدُناعیسیٰ رُوحُ اللہ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کوحکم ہوا: ہما ر ے فلاں بندے کی ملاقات کرو۔‘‘آپ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام تشریف لے گئے اوراللہ عَزَّوَجَلَّ کا حکم اور اپنی تشریف آوَری کا سبب ارشاد فرمایا۔یہ سنتے ہی اُس کا دل نورِ اسلام سے جگمگا اٹھا اور اُس نے فوراً اسلام قبول کرلیا۔
(انیسُ الواعِظینص۱۷۷)
دیکھی آپ نے رجب کی بہاریں!رجَبُ المُرَجَّب کی تعظیم کرنے سے جب ایک غیر مسلم کو ایمان کی دولت نصیب ہوسکتی ہے تو جومسلمان رجَبُ الْمُرَجَّب کا احترام کرے اُس کو نہ جانے کیا کیا اِنعامات ملیں گے!قراٰنِ پاک میں حرمت(یعنی عزت) والے مہینوں میں اپنی جانوں پر ظلم کرنے سے روکا گیا ہے چنانچہ ’’نُور العرفان‘‘میں: فَلَا تَظْلِمُوْا فِیْهِنَّ اَنْفُسَكُمْ (ترجَمَۂ کنزُا لایمان: تو ان مہینوں میں اپنی جان پر ظلم نہ کرو) کے تحت ہے:’’یعنی خصوصیَّت سے ان چار مہینوں میں گناہ نہ کرو۔‘‘ (نورُالعِرفان ص۳۰۶)
دو سال کی عبادت کا ثواب:
حضرتِ سَیِّدُنا اَنس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے ، سرکارِ نامدار، دوعالَم کے مالِک ومختار بِاِذنِ پروَردَگار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ مشکبار ہے:’’جس نے ماہِ حرام میں تین دن جُمعرات، جُمُعہ اور ہفتہ (یعنی سنیچر)کے روزے رکھے ، اس کے لئے دو سال کی عبادت کا ثواب لکھا جائے گا۔‘‘(اَلْمُعْجَمُ الْاَ وْسَط لِلطّبَرانی ج۱ص۴۸۵حدیث۱۷۸۹)
یہاں ’’ماہِ حرام‘‘ سے یہی چار ماہ یعنی ذُوالْقَعدہ ، ذُوالْحِجّہ ، مُحَرَّمُ الْحرام اوررَجَبُ الْمُرَجَّب مُرادہیں ،ا ن چاروں مہینوں میں سے جس ماہ میں بھی بیان کردہ تین دنوں کا روزہ رکھ لیں گے تو اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ دوسال کی عبادت کاثواب پائیں گے ۔
تیرے کرم سے اے کریم !مجھے کون سی شے ملی نہیں
جھولی ہی میری تنگ ہے،تیرے یہاں کمی نہیں
نورانی پہاڑ:
ایک بارحضرتِ سَیِّدُنا عیسیٰ رُوحُ اللّٰہ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کا گزر ایک جگمگاتے نورانی پہاڑ پر ہوا۔ آپ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے بارگاہِ خداوندی عَزَّ وَجَلَّ میں عرض کی: يَااللہ عَزَّ وَجَلَّ !اِس پہاڑ کو قُوّتِ گویائی(یعنی بولنے کی طاقت) عطا فرما۔وہ پہاڑ بول اُٹھا: یا رُوحَ اللّٰہ!(عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام) آپ کیا چاہتے ہیں؟ فرمایا:اپنا حال بیان کر۔پہاڑ بولا :’’میرے اندر ایک آدَمی رہتا ہے۔‘‘سَیِّدُناعیسیٰ رُوحُ اللّٰہ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے بارگاہِ الٰہی عَزَّ وَجَلَّ میں عرض کی : ’’ يَااللہ عَزَّ وَجَلَّ!اُس کو مجھ پر ظاہر فرما دے۔ ‘‘یکایک پہاڑ شق ہوا(یعنی پھٹ)گیا اور اُس میں سے چاند سا چہرہ چمکاتے ایک بزرگ برآمد ہوئے اُنہوں نے عرض کی:’’میں حضرتِ سَیِّدُنا موسٰی کلیمُ اللّٰہ (عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام) کا اُمَّتی ہوں میں نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے یہ دُعا کی ہوئی ہے کہ وہ مجھے اپنے پیارے محبوب، نبیِّ آخِرُ الزَّمان صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بِعْثَتِ مُبارَکہ تک زندہ رکھے تاکہ میں اُن کی زیارت بھی کروں اور ان کا اُمَّتی بننے کا شَرَف بھی حاصِل کروں۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّمیں اس پہاڑ میں چھ سو سال سے اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ کی عبادت میں مشغول ہوں ۔ ‘‘ حضرتِ سَیِّدُناعیسیٰ رُوحُ اللّٰہ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے بارگاہِ خداوندی میں عرض کی: يَااللہ عَزَّ وَجَلَّ!کیا رُوئے زمین پر کوئی بندہ اِس شخص سے بڑھ کر بھی تیرے یہاں مکرم(یعنی عزت والا) ہے ؟ ارشاد ہوا:اے عیسیٰ( عَلَيْهِ السَّلَام) !اُمَّتِ محمدی میں سے جو ماہ ِرجب کا ایک روزہ رکھ لے وہ میرے نزدیک اِس سے بھی زیادہ مکرّم ہے ۔ (نُزْہَۃ المجالس ج۱ ص۲۰۸)اللّٰہ ربُّ العزّت عَزَّ وَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور اُن کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو۔اٰمِین بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
قِسط جاری۔۔۔
https://t.
-----------------------------------------------------------
*🕯فضائل ماہ رجب المرجب🕯*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
قِسط نمبـــــر ۳
📬 رَجَب کے احتِرام کی بَرَکت کی حکایت:
حضرتِ سَیِّدُنا عیسیٰ رُوحُ اللہ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کے دَور کا واقعہ ہے کہ ایک شخص مدت سے کسی عورت پر عاشق تھا۔ایک بار اُس نے اپنی معشوقہ پر قابو پالیا،
لوگوں کا مجمع دیکھ کر اُس نے اندازہ لگایا کہ وہ چاند دیکھ رہے ہیں ،اُس نے اُس عورت سے پوچھا:لوگ کس ماہ کا چاند دیکھ رہے ہیں؟جواب دیا:’’رجب کا۔‘‘یہ شخص حالانکہ غیر مسلم تھا مگررجب شریف کا نام سنتے ہی تعظیماً فوراً الگ ہوگیا اور’’ گندے کام‘‘ سے باز رہا ۔ حضرتِ سَیِّدُناعیسیٰ رُوحُ اللہ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کوحکم ہوا: ہما ر ے فلاں بندے کی ملاقات کرو۔‘‘آپ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام تشریف لے گئے اوراللہ عَزَّوَجَلَّ کا حکم اور اپنی تشریف آوَری کا سبب ارشاد فرمایا۔یہ سنتے ہی اُس کا دل نورِ اسلام سے جگمگا اٹھا اور اُس نے فوراً اسلام قبول کرلیا۔
(انیسُ الواعِظینص۱۷۷)
دیکھی آپ نے رجب کی بہاریں!رجَبُ المُرَجَّب کی تعظیم کرنے سے جب ایک غیر مسلم کو ایمان کی دولت نصیب ہوسکتی ہے تو جومسلمان رجَبُ الْمُرَجَّب کا احترام کرے اُس کو نہ جانے کیا کیا اِنعامات ملیں گے!قراٰنِ پاک میں حرمت(یعنی عزت) والے مہینوں میں اپنی جانوں پر ظلم کرنے سے روکا گیا ہے چنانچہ ’’نُور العرفان‘‘میں: فَلَا تَظْلِمُوْا فِیْهِنَّ اَنْفُسَكُمْ (ترجَمَۂ کنزُا لایمان: تو ان مہینوں میں اپنی جان پر ظلم نہ کرو) کے تحت ہے:’’یعنی خصوصیَّت سے ان چار مہینوں میں گناہ نہ کرو۔‘‘ (نورُالعِرفان ص۳۰۶)
دو سال کی عبادت کا ثواب:
حضرتِ سَیِّدُنا اَنس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے ، سرکارِ نامدار، دوعالَم کے مالِک ومختار بِاِذنِ پروَردَگار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ مشکبار ہے:’’جس نے ماہِ حرام میں تین دن جُمعرات، جُمُعہ اور ہفتہ (یعنی سنیچر)کے روزے رکھے ، اس کے لئے دو سال کی عبادت کا ثواب لکھا جائے گا۔‘‘(اَلْمُعْجَمُ الْاَ وْسَط لِلطّبَرانی ج۱ص۴۸۵حدیث۱۷۸۹)
یہاں ’’ماہِ حرام‘‘ سے یہی چار ماہ یعنی ذُوالْقَعدہ ، ذُوالْحِجّہ ، مُحَرَّمُ الْحرام اوررَجَبُ الْمُرَجَّب مُرادہیں ،ا ن چاروں مہینوں میں سے جس ماہ میں بھی بیان کردہ تین دنوں کا روزہ رکھ لیں گے تو اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ دوسال کی عبادت کاثواب پائیں گے ۔
تیرے کرم سے اے کریم !مجھے کون سی شے ملی نہیں
جھولی ہی میری تنگ ہے،تیرے یہاں کمی نہیں
نورانی پہاڑ:
ایک بارحضرتِ سَیِّدُنا عیسیٰ رُوحُ اللّٰہ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کا گزر ایک جگمگاتے نورانی پہاڑ پر ہوا۔ آپ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے بارگاہِ خداوندی عَزَّ وَجَلَّ میں عرض کی: يَااللہ عَزَّ وَجَلَّ !اِس پہاڑ کو قُوّتِ گویائی(یعنی بولنے کی طاقت) عطا فرما۔وہ پہاڑ بول اُٹھا: یا رُوحَ اللّٰہ!(عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام) آپ کیا چاہتے ہیں؟ فرمایا:اپنا حال بیان کر۔پہاڑ بولا :’’میرے اندر ایک آدَمی رہتا ہے۔‘‘سَیِّدُناعیسیٰ رُوحُ اللّٰہ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے بارگاہِ الٰہی عَزَّ وَجَلَّ میں عرض کی : ’’ يَااللہ عَزَّ وَجَلَّ!اُس کو مجھ پر ظاہر فرما دے۔ ‘‘یکایک پہاڑ شق ہوا(یعنی پھٹ)گیا اور اُس میں سے چاند سا چہرہ چمکاتے ایک بزرگ برآمد ہوئے اُنہوں نے عرض کی:’’میں حضرتِ سَیِّدُنا موسٰی کلیمُ اللّٰہ (عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام) کا اُمَّتی ہوں میں نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے یہ دُعا کی ہوئی ہے کہ وہ مجھے اپنے پیارے محبوب، نبیِّ آخِرُ الزَّمان صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بِعْثَتِ مُبارَکہ تک زندہ رکھے تاکہ میں اُن کی زیارت بھی کروں اور ان کا اُمَّتی بننے کا شَرَف بھی حاصِل کروں۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّمیں اس پہاڑ میں چھ سو سال سے اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ کی عبادت میں مشغول ہوں ۔ ‘‘ حضرتِ سَیِّدُناعیسیٰ رُوحُ اللّٰہ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے بارگاہِ خداوندی میں عرض کی: يَااللہ عَزَّ وَجَلَّ!کیا رُوئے زمین پر کوئی بندہ اِس شخص سے بڑھ کر بھی تیرے یہاں مکرم(یعنی عزت والا) ہے ؟ ارشاد ہوا:اے عیسیٰ( عَلَيْهِ السَّلَام) !اُمَّتِ محمدی میں سے جو ماہ ِرجب کا ایک روزہ رکھ لے وہ میرے نزدیک اِس سے بھی زیادہ مکرّم ہے ۔ (نُزْہَۃ المجالس ج۱ ص۲۰۸)اللّٰہ ربُّ العزّت عَزَّ وَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور اُن کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو۔اٰمِین بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
قِسط جاری۔۔۔
https://t.
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
Photo
#فیضان_خواجہ_غریب_نواز ⓫
خواجہ معین الدین چشتیاجمیری
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَـبَـارَڪَ وَ تَـعَـالیٰ عَـنۡـهٗ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
خواجہ معین الدین چشتیاجمیری
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَـبَـارَڪَ وَ تَـعَـالیٰ عَـنۡـهٗ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
Photo
#فیضان_خواجہ_غریب_نواز ⓬
خواجہ معین الدین چشتیاجمیری
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَـبَـارَڪَ وَ تَـعَـالیٰ عَـنۡـهٗ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
خواجہ معین الدین چشتیاجمیری
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَـبَـارَڪَ وَ تَـعَـالیٰ عَـنۡـهٗ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤2