🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
#فیضان_خواجہ_غریب_نواز
خواجہ معین الدین چشتی‌اجمیری
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَـبَـارَڪَ وَ تَـعَـالیٰ عَـنۡـهٗ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
ولادت 14 رجب | وصال 6 رجب
روضہ مبارکہ خواجہ غریب نواز
مختصر حیات خواجہ غریب نواز
मुख़्तस़र सवानेह़ ग़रीब नवाज़
سوانح حیات خواجہ غریب نواز
جائےولادت قصبہ‌سجز سجستان
شجرۂ نسب 📜 #ضیاء_طیبہ
شان اجمیر کی غریب نواز منقبت
آپکی کرامت 📜 انا ساگر کا پانی
پیشانی پر نقش = اخبار الاخیار
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2113513365477953&id=100004579304922
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
👍1
تذکرۂ صالحین : خواجہ معین الدین چشتی اجمیری کی دینی خدمات
آصف جہان زیب عطاری مدنی
📖 ماہنامہ رجب المرجب 1438
https://www.dawateislami.net/magazine/ur/tazkira-e-saliheen/khawaja-gharib-nawaz-ki-deeni-khidmat
سَرزمینِ ہِندمیں جہاں عرصۂ دراز سے کفر وشرک کا دَوْر دَوْرَہ تھا، اور ظُلْم و جَوْر کی فَضا قائم تھی اور لوگ اَخلاق و کِردار کی پستی کا شِکار تھے۔ اِس خطّے کے لوگوں کو نورِ ہدایت سے روشناس کروانے، ظُلْم و سِتَم سے نجات دلانے اور لوگوں کے عقائد واَعمال کی اِصلاح کرنے والے بُزرگانِ دین میں حضرت خواجہ مُعینُ الدِّین سیّدحَسَن چشتی اَجمیری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کا اِسمِ گرامی بہت نُمایاں ہے۔

آپ کی وِلادت 537ھ بمطابق 1142ء کو  سِجِسْتان یا سِیْسْتان کے علاقے سَنْجَر میں ایک پاکیزہ اور علمی گھرانے میں ہوئی۔ (اقتباس الانوار ، ص345 ، ملخصاً)

نام و لقب:
آپ کا اسمِ گرامی حسن ہے اور آپ نَجِیبُ الطَّرَفَیْن سیِّد ہیں۔ آپ کے مشہور اَلقابات میں مُعینُ الدّین ، غریب نواز ، سلطانُ الہِنْد اور عطائے رسول شامل ہیں۔ (معین الہند حضرت خواجہ  معین الدین  اجمیری ، ص18 ملخصاً)

حُصُولِ عِلْم کے لئے آپ نے شام ، بغداد اور کِرمان وغیرہ کا سفر بھی اِختیار فرمایا نیز کثیر بزرگانِ دین سے اِکْتِسابِ فیض کیا جن میں آپ کے پیر و مُرشِد حضرت خواجہ عثمان ہارْوَنی اور پیرانِ پیر حُضُور غوثِ پاک حضرت شیخ  سیِّد عبد القادِر جیلانی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کے اَسماء قابلِ ذِکْر ہیں۔

زیارتِ حَرَمَیْن کےدوران بارگاہِ رِسالت ﷺ سے آپ کو ہند کی وِلایت عطا ہوئی اور وہاں دین کی خدمت بجا لانے کا حکم ملا۔ (سیر الاقطاب ، ص142 ، ملخصاً)

چنانچہ آپ سر زمینِ ہِند تشریف لائے اور اَجمیر شریف (راجِستھان) کو اپنا مُسْتَقِل مسکن بناتے ہوئے دینِ اسلام کی تَرْوِیج و اِشَاعَت کا آغاز فرمایا۔

خواجہ غریب نواز رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی دینی خدمات میں سب سے اَہَم کارنامہ یہ ہے کہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اپنے اَخْلاق ، کِرْدَار اور گُفْتَار سے اس خطّے میں اسلام کا بول بالا فرمایا ۔ لاکھوں لوگ آپ کی نگاہِ فیض سے متاثّر ہو کر کفر کی اندھیریوں سے نکل کر اسلام کے نور میں داخل ہو گئے ، یہاں تک کہ جادوگر سادھو رام ، سادو اَجے پال اور حاکم سبزوار جیسے ظالم و سَرْکَش بھی آپ کے حلقۂ اِرادت (مریدوں) میں شامل ہو گئے۔ (معین الہند حضرت  خواجہ معین الدین اجمیری ، ص56 ملخصاً)

ہِند میں خواجہ غریب نواز رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی آمد ایک زبردست  اسلامی ، روحانی اور سماجی اِنقلاب کا پَیْش خَیْمَہ ثابت ہوئی۔ خواجہ غریب نواز ہی کے طُفیل ہِندمیں سِلسِلۂ چِشتیہ کا آغازہوا۔ (تاریخ مشائخ چشت ، ص136)

آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اِصلاح و تبلیغ کے ذریعے تَلَامِذَہ و خُلَفَا کی ایسی جماعت تیار کی جس نے بَرِّ عظیم (پاک و ہند) کے کونے کونے میں خدمتِ دین کا  عظیم فَرِیْضہ سَرْ اَنْجَام دیا۔ دِہلی میں آپ کے خلیفہ حضرت شیخ  قُطْبُ الدِّین بَخْتیار کاکی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَاقِی نے اور ناگور میں قاضی حمیدُ الدِّین ناگوری  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے خدمتِ دین کے فرائض سَر اَنْجَام  دئیے۔ (تاریخ مشائخ  چشت ، ص139 تا 142ملخصاً)

خواجہ غریب نواز رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے اس مِشَنْ کو عُرُوْج تک پہنچانے میں آپ کے خُلَفَا کے خُلَفَا نے بھی بھر پور حصّہ ملایا ، حضرت بابا فرید گَنْجِ شَکَر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے پاکپتن کو ، شیخ جمالُ الدِّین ہَانْسْوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے ہَانْسی کو اور شیخ نِظامُ الدِّین اَوْلِیا رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے دِہلی کو مرکز بنا کر اِصلاح و تبلیغ کی خدمت سَرْ اَنْجَام دی۔ (تاریخ مشائخ  چشت ، ص 147 تا 156 ملخصاً)

خواجہ غریب نواز  رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے تحریر و تصنیف کے ذریعے بھی اِشاعتِ دین اور مخلوقِ خدا کی اِصلاح  کا فریضہ سر اَنجام دیا۔

آپ کی تصانیف میں اَنِیْسُ الاَرْوَاح ، کَشْفُ الاَسْرَار ، گَنْجُ الاَسْرَار اور دیوانِ مُعِیْن کا تذکرہ ملتا ہے۔ (معین الہند حضرت  خواجہ معین الدین  اجمیری ، ص103ملخصاً)

خواجہ غریب نواز رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے تقریباً 45 سال سر زمینِ ہِند پر دینِ اِسْلام کی خدمت سَرْ اَنْجَام دی اور ہِند کے ظُلْمت کَدے میں اسلام کا اُجالا پھیلایا۔

آپ کا وِصال 6 رجب 627ھ کو اَجمیر شریف (راجِستھان ، ہند) میں ہوا اور یہیں مزارشریف بنا۔

آج برِّ عظیم پاک و ہِند میں ایمان و اسلام کی جو بہار نظر آرہی ہے اِس میں حضرت خواجہ غریب نواز رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی سعی بے مثال کا بھی بہت بڑا حصہ ہے۔
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM