حضرت خواجہ حسن بصری ❶
#حضرت_خواجہ_حسن_بصری
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَبَارَڪَ وَ تَعَالیٰ عَـنۡـهٗ
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2113443988818224&id=100004579304922
وصال ❶ رجب المرجب ۰۱۱ھ
یا ❹ محرم الحرام ۱۱۱ھ
#حضرت_خواجہ_حسن_بصری
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَبَارَڪَ وَ تَعَالیٰ عَـنۡـهٗ
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2113443988818224&id=100004579304922
وصال ❶ رجب المرجب ۰۱۱ھ
یا ❹ محرم الحرام ۱۱۱ھ
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
حضور نبیِّ کریم، رءوفٌ رَّحیم ﷺ نے فرمایا: اِنَّ اللَّهَ قَالَ: مَنْ عَادَى لِي وَلِيًّا فَقَدْ اٰذَنْتُهُ بِالحَرْبِ، وَمَا تَقَرَّبَ اِلَيَّ عَبْدِي بِشَيْءٍ اَحَبَّ اِلَيَّ مِمَّا افْتَرَضْتُ عَلَيْهِ، وَمَا يَزَالُ عَبْدِي يَتَقَرَّبُ اِلَيَّ بِالنَّوَافِلِ حَتَّى اُحِبَّهُ، فَاِذَا اَحْبَبْتُهُ كُنْتُ سَمْعَهُ الَّذِي يَسْمَعُ بِهٖ، وَبَصَرَهُ الَّذِي يُبْصِرُ بِهٖ، وَيَدَهُ الَّتِي يَبْطِشُ بِهَا، وَرِجْلَهُ الَّتِي يَمْشِي بِهَا
یعنی : اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
جو میرے کسی ولی سے دشمنی رکھے میں اس سے جنگ کا اِعلان کرتا ہوں - اور میرا بندہ جن چیزوں سے میرا قُرب حاصل کرتا ہے ان میں فرائض سے زیادہ مجھے کوئی شے پسند نہیں - اور میرا بندہ نوافل کے ذریعہ سے میرے قریب ہوتا رہتا ہے حتّٰی کہ میں اسے اپنا مَحبوب بنا لیتا ہوں - پھر جب اس سے مَحبت کرتا ہوں تو میں اس کے کان ہو جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے، اور اس کی آنکھیں ہو جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے، اور اس کے ہاتھ ہو جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے، اور اس کے پاؤں ہو جاتا ہوں جن سے وہ چلتا ہے-
[بخاری، ج4، ص248، حدیث:6502]
ولیُّ اللہ کون ہے؟
قراٰنِ عظیم میں اللہ تعالیٰ نے اپنے اولیاء کی صفات ان کلمات سے بیان فرمائی ہیں:
( اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚۖ (۶۲) الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَؕ (۶۳)
ترجمۂ کنز الایمان:
سن لو بیشک اللہ کے ولیوں پر نہ کچھ خوف ہے نہ کچھ غم (62) وہ جو ایمان لائے اور پرہیز گاری کرتے ہیں (63)
[ پ11، یونس: 62، 63 ]
علّامہ بدرُالدّین عینی علیہ رحمۃ اللہ القَوی فرماتے ہیں: ولیُّ اللہ وہ شخص ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی ذات و صِفات کا عالِم ہو، ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت و فرمانبرداری کرے اور اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مخلص ہو۔ ( عمدۃ القاری، ج15، ص576، تحت الحدیث: 6502)
حضرت علّامہ علی قاری علیہ رحمۃ اللہ البارِی فرماتے ہیں: ولیُّ اللہ وہ بندہ ہے جس کا اللہ تعالیٰ والی ہو گیا کہ اسے ایک لمحے کے لئے بھی اس کے نفس کے حوالے نہیں کرتا بلکہ خود اس سے نیک کام لیتا ہے اور وہ بندہ ہے جو خود رب تعالیٰ کی عبادت اور مسلسل اطاعت و فرماں برداری کا متولّی ہو جائے گُناہوں سے محفوظ رہے - پہلی قسم کے ولی کا نام مجذوب یا مُراد ہے اور دوسرے کا نام سالِک یا مُرید ہے
[مرقاۃ المفاتیح، ج:5،ص:40، تحت الحدیث: 2266]
دشمنِ اولیاء سے اللہ تعالیٰ کا اعلانِ جنگ اس حدیثِ قُدسی میں اللہ تعالیٰ نے دشمنِ اولیاء سے جنگ کا اعلان فرمایا ہے اور قراٰنِ پاک میں سُود خوروں سے بھی جنگ کا اعلان ہے،
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
( یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ ذَرُوْا مَا بَقِیَ مِنَ الرِّبٰۤوا اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ (۲۷۸) فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا فَاْذَنُوْا بِحَرْبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖۚ-)
ترجمۂ کنز الایمان:
اے ایمان والو اللہ سے ڈرو اور چھوڑ دو جو باقی رہ گیا ہے سود اگر مسلمان ہو پھر اگر ایسا نہ کرو تو یقین کرلو اللہ اور اللہ کے رسول سے لڑائی کا
( پارہ:3، البقرۃ، 278، 279 )
صرف انہیں دو اعمال پر ایسی سَخْت وعید اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ یہ دونوں عمل بہت خطرناک ہیں، کیونکہ جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے جنگ فرمائے گا تو اس کا خاتمہ بُرا ہوگا کہ اللہ تعالیٰ سے جنگ کرنے والا کبھی فَلاح نہیں پاسکتا۔
(مرقاۃ المفاتیح، ج5، ص41، تحت الحدیث: 2266)
حدیث شریف میں جو اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ”میں اس بندے کے کان ہوجاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے اِلٰی آخِرِہٖ“ اس کی شرح میں علّامہ خَطابی فرماتے ہیں: اس سے مراد یہ ہے کہ میں اپنے اس بندے کے لئے مذکورہ اعضاء سے مُتَعَلِّقہ افعال کو آسان کردیتا ہوں اور میں اسے ان کاموں کی توفیق دیتا ہوں۔
(مرقاۃ المفاتیح، ج5، ص41، تحت الحدیث: 2266)
حکیمُ الامّت مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ رحمۃ اللہ القَوی فرماتے ہیں: اس عبارت کا یہ مطلب نہیں کہ خدا تعالیٰ ولی میں حلول کر جاتا ہے جیسے کوئلہ میں آگ یا پھول میں رنگ و بو کہ خدا تعالیٰ حلول سے پاک ہے اور یہ عقیدہ کُفْر ہے بلکہ اس کے چند مطلب ہیں:
ایک یہ کہ ولی ﷲ کے یہ اعضاء گناہ کے لائق نہیں رہتے ہمیشہ ان سے نیک کام ہی سرزد ہوتے ہیں اس پر عبادات آسان ہوتی ہے گویا ساری عبادتیں اس سے میں کرا رہا ہوں یا یہ کہ پھر وہ بندہ ان اعضاء کو دنیا کے لئے استعمال نہیں کرتا، صرف میرے لئے استعمال کرتا ہے ہر چیز میں مجھے دیکھتا ہے ہر آواز میں میری آواز سنتا ہے، یا یہ کہ وہ بندہ فَنَا فِی ﷲ ہو جاتا ہے جس سے خُدائی طاقتیں اس کے اعضاء میں کام کرتی ہیں اور وہ ایسے کام کر لیتا ہے جو عقل سے وراء ہیں حضرت یعقوب علیہ السَّلام نے کَنْعان میں بیٹھے ہوئے مِصْر سے چلی ہوئی قمیصِ یوسفی کی خوشبو سونگھ لی،
یعنی : اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
جو میرے کسی ولی سے دشمنی رکھے میں اس سے جنگ کا اِعلان کرتا ہوں - اور میرا بندہ جن چیزوں سے میرا قُرب حاصل کرتا ہے ان میں فرائض سے زیادہ مجھے کوئی شے پسند نہیں - اور میرا بندہ نوافل کے ذریعہ سے میرے قریب ہوتا رہتا ہے حتّٰی کہ میں اسے اپنا مَحبوب بنا لیتا ہوں - پھر جب اس سے مَحبت کرتا ہوں تو میں اس کے کان ہو جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے، اور اس کی آنکھیں ہو جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے، اور اس کے ہاتھ ہو جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے، اور اس کے پاؤں ہو جاتا ہوں جن سے وہ چلتا ہے-
[بخاری، ج4، ص248، حدیث:6502]
ولیُّ اللہ کون ہے؟
قراٰنِ عظیم میں اللہ تعالیٰ نے اپنے اولیاء کی صفات ان کلمات سے بیان فرمائی ہیں:
( اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚۖ (۶۲) الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَؕ (۶۳)
ترجمۂ کنز الایمان:
سن لو بیشک اللہ کے ولیوں پر نہ کچھ خوف ہے نہ کچھ غم (62) وہ جو ایمان لائے اور پرہیز گاری کرتے ہیں (63)
[ پ11، یونس: 62، 63 ]
علّامہ بدرُالدّین عینی علیہ رحمۃ اللہ القَوی فرماتے ہیں: ولیُّ اللہ وہ شخص ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی ذات و صِفات کا عالِم ہو، ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت و فرمانبرداری کرے اور اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مخلص ہو۔ ( عمدۃ القاری، ج15، ص576، تحت الحدیث: 6502)
حضرت علّامہ علی قاری علیہ رحمۃ اللہ البارِی فرماتے ہیں: ولیُّ اللہ وہ بندہ ہے جس کا اللہ تعالیٰ والی ہو گیا کہ اسے ایک لمحے کے لئے بھی اس کے نفس کے حوالے نہیں کرتا بلکہ خود اس سے نیک کام لیتا ہے اور وہ بندہ ہے جو خود رب تعالیٰ کی عبادت اور مسلسل اطاعت و فرماں برداری کا متولّی ہو جائے گُناہوں سے محفوظ رہے - پہلی قسم کے ولی کا نام مجذوب یا مُراد ہے اور دوسرے کا نام سالِک یا مُرید ہے
[مرقاۃ المفاتیح، ج:5،ص:40، تحت الحدیث: 2266]
دشمنِ اولیاء سے اللہ تعالیٰ کا اعلانِ جنگ اس حدیثِ قُدسی میں اللہ تعالیٰ نے دشمنِ اولیاء سے جنگ کا اعلان فرمایا ہے اور قراٰنِ پاک میں سُود خوروں سے بھی جنگ کا اعلان ہے،
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
( یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ ذَرُوْا مَا بَقِیَ مِنَ الرِّبٰۤوا اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ (۲۷۸) فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا فَاْذَنُوْا بِحَرْبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖۚ-)
ترجمۂ کنز الایمان:
اے ایمان والو اللہ سے ڈرو اور چھوڑ دو جو باقی رہ گیا ہے سود اگر مسلمان ہو پھر اگر ایسا نہ کرو تو یقین کرلو اللہ اور اللہ کے رسول سے لڑائی کا
( پارہ:3، البقرۃ، 278، 279 )
صرف انہیں دو اعمال پر ایسی سَخْت وعید اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ یہ دونوں عمل بہت خطرناک ہیں، کیونکہ جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے جنگ فرمائے گا تو اس کا خاتمہ بُرا ہوگا کہ اللہ تعالیٰ سے جنگ کرنے والا کبھی فَلاح نہیں پاسکتا۔
(مرقاۃ المفاتیح، ج5، ص41، تحت الحدیث: 2266)
حدیث شریف میں جو اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ”میں اس بندے کے کان ہوجاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے اِلٰی آخِرِہٖ“ اس کی شرح میں علّامہ خَطابی فرماتے ہیں: اس سے مراد یہ ہے کہ میں اپنے اس بندے کے لئے مذکورہ اعضاء سے مُتَعَلِّقہ افعال کو آسان کردیتا ہوں اور میں اسے ان کاموں کی توفیق دیتا ہوں۔
(مرقاۃ المفاتیح، ج5، ص41، تحت الحدیث: 2266)
حکیمُ الامّت مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ رحمۃ اللہ القَوی فرماتے ہیں: اس عبارت کا یہ مطلب نہیں کہ خدا تعالیٰ ولی میں حلول کر جاتا ہے جیسے کوئلہ میں آگ یا پھول میں رنگ و بو کہ خدا تعالیٰ حلول سے پاک ہے اور یہ عقیدہ کُفْر ہے بلکہ اس کے چند مطلب ہیں:
ایک یہ کہ ولی ﷲ کے یہ اعضاء گناہ کے لائق نہیں رہتے ہمیشہ ان سے نیک کام ہی سرزد ہوتے ہیں اس پر عبادات آسان ہوتی ہے گویا ساری عبادتیں اس سے میں کرا رہا ہوں یا یہ کہ پھر وہ بندہ ان اعضاء کو دنیا کے لئے استعمال نہیں کرتا، صرف میرے لئے استعمال کرتا ہے ہر چیز میں مجھے دیکھتا ہے ہر آواز میں میری آواز سنتا ہے، یا یہ کہ وہ بندہ فَنَا فِی ﷲ ہو جاتا ہے جس سے خُدائی طاقتیں اس کے اعضاء میں کام کرتی ہیں اور وہ ایسے کام کر لیتا ہے جو عقل سے وراء ہیں حضرت یعقوب علیہ السَّلام نے کَنْعان میں بیٹھے ہوئے مِصْر سے چلی ہوئی قمیصِ یوسفی کی خوشبو سونگھ لی،
حضرت سلیمان علیہ السَّلام نے تین میل کے فاصلہ سے چیونٹی کی آواز سن لی حضرت آصف برخیا نے پلک جھپکنے سے پہلے یمن سے تختِ بلقیس لاکر شام میں حاضِر کردیا۔ حضرت عمر نے مدینۂ منوّرہ سے خطبہ پڑھتے ہوئے نہاوند تک اپنی آواز پہنچادی۔ حضورِ انور ﷺ نے قِیامت تک کے واقعات بچشم ملاحظہ فرمالئے، یہ سب اسی طاقت کے کرشمے ہیں۔ آج نار (آگ) کی طاقت سے ریڈیو تار، وائرلیس، ٹیلی ویژن عجیب کرشمے دکھا رہے ہیں تو نور کی طاقت کا کیا پوچھنا - اس حدیث سے وہ لوگ عبرت پکڑیں جو طاقتِ اولیا کے منکر ہیں۔
[ مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ج3، ص308 ]
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
٭…دارالافتاءاہل سنت،مرکزالاولیاءلاہور
https://www.dawateislami.net/magazine/ur/hadees-shareef-aur-iski-sharah/alan-e-jang
[ مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ج3، ص308 ]
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
٭…دارالافتاءاہل سنت،مرکزالاولیاءلاہور
https://www.dawateislami.net/magazine/ur/hadees-shareef-aur-iski-sharah/alan-e-jang
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#فیضان_خواجہ_غریب_نواز ❶
خواجہ معین الدین چشتیاجمیری
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَـبَـارَڪَ وَ تَـعَـالیٰ عَـنۡـهٗ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
ولادت 14 رجب | وصال 6 رجب
روضہ مبارکہ خواجہ غریب نواز
مختصر حیات خواجہ غریب نواز
मुख़्तस़र सवानेह़ ग़रीब नवाज़
سوانح حیات خواجہ غریب نواز
جائےولادت قصبہسجز سجستان
شجرۂ نسب 📜 #ضیاء_طیبہ
شان اجمیر کی غریب نواز منقبت
آپکی کرامت 📜 انا ساگر کا پانی
پیشانی پر نقش = اخبار الاخیار
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2113513365477953&id=100004579304922
خواجہ معین الدین چشتیاجمیری
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَـبَـارَڪَ وَ تَـعَـالیٰ عَـنۡـهٗ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
ولادت 14 رجب | وصال 6 رجب
روضہ مبارکہ خواجہ غریب نواز
مختصر حیات خواجہ غریب نواز
मुख़्तस़र सवानेह़ ग़रीब नवाज़
سوانح حیات خواجہ غریب نواز
جائےولادت قصبہسجز سجستان
شجرۂ نسب 📜 #ضیاء_طیبہ
شان اجمیر کی غریب نواز منقبت
آپکی کرامت 📜 انا ساگر کا پانی
پیشانی پر نقش = اخبار الاخیار
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2113513365477953&id=100004579304922
❤1
تذکرۂ صالحین : خواجہ معین الدین چشتی اجمیری کی دینی خدمات
✍ آصف جہان زیب عطاری مدنی
📖 ماہنامہ رجب المرجب 1438
https://www.dawateislami.net/magazine/ur/tazkira-e-saliheen/khawaja-gharib-nawaz-ki-deeni-khidmat
سَرزمینِ ہِندمیں جہاں عرصۂ دراز سے کفر وشرک کا دَوْر دَوْرَہ تھا، اور ظُلْم و جَوْر کی فَضا قائم تھی اور لوگ اَخلاق و کِردار کی پستی کا شِکار تھے۔ اِس خطّے کے لوگوں کو نورِ ہدایت سے روشناس کروانے، ظُلْم و سِتَم سے نجات دلانے اور لوگوں کے عقائد واَعمال کی اِصلاح کرنے والے بُزرگانِ دین میں حضرت خواجہ مُعینُ الدِّین سیّدحَسَن چشتی اَجمیری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کا اِسمِ گرامی بہت نُمایاں ہے۔
آپ کی وِلادت 537ھ بمطابق 1142ء کو سِجِسْتان یا سِیْسْتان کے علاقے سَنْجَر میں ایک پاکیزہ اور علمی گھرانے میں ہوئی۔ (اقتباس الانوار ، ص345 ، ملخصاً)
نام و لقب:
آپ کا اسمِ گرامی حسن ہے اور آپ نَجِیبُ الطَّرَفَیْن سیِّد ہیں۔ آپ کے مشہور اَلقابات میں مُعینُ الدّین ، غریب نواز ، سلطانُ الہِنْد اور عطائے رسول شامل ہیں۔ (معین الہند حضرت خواجہ معین الدین اجمیری ، ص18 ملخصاً)
حُصُولِ عِلْم کے لئے آپ نے شام ، بغداد اور کِرمان وغیرہ کا سفر بھی اِختیار فرمایا نیز کثیر بزرگانِ دین سے اِکْتِسابِ فیض کیا جن میں آپ کے پیر و مُرشِد حضرت خواجہ عثمان ہارْوَنی اور پیرانِ پیر حُضُور غوثِ پاک حضرت شیخ سیِّد عبد القادِر جیلانی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کے اَسماء قابلِ ذِکْر ہیں۔
زیارتِ حَرَمَیْن کےدوران بارگاہِ رِسالت ﷺ سے آپ کو ہند کی وِلایت عطا ہوئی اور وہاں دین کی خدمت بجا لانے کا حکم ملا۔ (سیر الاقطاب ، ص142 ، ملخصاً)
چنانچہ آپ سر زمینِ ہِند تشریف لائے اور اَجمیر شریف (راجِستھان) کو اپنا مُسْتَقِل مسکن بناتے ہوئے دینِ اسلام کی تَرْوِیج و اِشَاعَت کا آغاز فرمایا۔
خواجہ غریب نواز رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی دینی خدمات میں سب سے اَہَم کارنامہ یہ ہے کہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اپنے اَخْلاق ، کِرْدَار اور گُفْتَار سے اس خطّے میں اسلام کا بول بالا فرمایا ۔ لاکھوں لوگ آپ کی نگاہِ فیض سے متاثّر ہو کر کفر کی اندھیریوں سے نکل کر اسلام کے نور میں داخل ہو گئے ، یہاں تک کہ جادوگر سادھو رام ، سادو اَجے پال اور حاکم سبزوار جیسے ظالم و سَرْکَش بھی آپ کے حلقۂ اِرادت (مریدوں) میں شامل ہو گئے۔ (معین الہند حضرت خواجہ معین الدین اجمیری ، ص56 ملخصاً)
ہِند میں خواجہ غریب نواز رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی آمد ایک زبردست اسلامی ، روحانی اور سماجی اِنقلاب کا پَیْش خَیْمَہ ثابت ہوئی۔ خواجہ غریب نواز ہی کے طُفیل ہِندمیں سِلسِلۂ چِشتیہ کا آغازہوا۔ (تاریخ مشائخ چشت ، ص136)
آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اِصلاح و تبلیغ کے ذریعے تَلَامِذَہ و خُلَفَا کی ایسی جماعت تیار کی جس نے بَرِّ عظیم (پاک و ہند) کے کونے کونے میں خدمتِ دین کا عظیم فَرِیْضہ سَرْ اَنْجَام دیا۔ دِہلی میں آپ کے خلیفہ حضرت شیخ قُطْبُ الدِّین بَخْتیار کاکی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَاقِی نے اور ناگور میں قاضی حمیدُ الدِّین ناگوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے خدمتِ دین کے فرائض سَر اَنْجَام دئیے۔ (تاریخ مشائخ چشت ، ص139 تا 142ملخصاً)
خواجہ غریب نواز رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے اس مِشَنْ کو عُرُوْج تک پہنچانے میں آپ کے خُلَفَا کے خُلَفَا نے بھی بھر پور حصّہ ملایا ، حضرت بابا فرید گَنْجِ شَکَر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے پاکپتن کو ، شیخ جمالُ الدِّین ہَانْسْوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے ہَانْسی کو اور شیخ نِظامُ الدِّین اَوْلِیا رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے دِہلی کو مرکز بنا کر اِصلاح و تبلیغ کی خدمت سَرْ اَنْجَام دی۔ (تاریخ مشائخ چشت ، ص 147 تا 156 ملخصاً)
خواجہ غریب نواز رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے تحریر و تصنیف کے ذریعے بھی اِشاعتِ دین اور مخلوقِ خدا کی اِصلاح کا فریضہ سر اَنجام دیا۔
آپ کی تصانیف میں اَنِیْسُ الاَرْوَاح ، کَشْفُ الاَسْرَار ، گَنْجُ الاَسْرَار اور دیوانِ مُعِیْن کا تذکرہ ملتا ہے۔ (معین الہند حضرت خواجہ معین الدین اجمیری ، ص103ملخصاً)
خواجہ غریب نواز رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے تقریباً 45 سال سر زمینِ ہِند پر دینِ اِسْلام کی خدمت سَرْ اَنْجَام دی اور ہِند کے ظُلْمت کَدے میں اسلام کا اُجالا پھیلایا۔
آپ کا وِصال 6 رجب 627ھ کو اَجمیر شریف (راجِستھان ، ہند) میں ہوا اور یہیں مزارشریف بنا۔
آج برِّ عظیم پاک و ہِند میں ایمان و اسلام کی جو بہار نظر آرہی ہے اِس میں حضرت خواجہ غریب نواز رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی سعی بے مثال کا بھی بہت بڑا حصہ ہے۔
✍ آصف جہان زیب عطاری مدنی
📖 ماہنامہ رجب المرجب 1438
https://www.dawateislami.net/magazine/ur/tazkira-e-saliheen/khawaja-gharib-nawaz-ki-deeni-khidmat
سَرزمینِ ہِندمیں جہاں عرصۂ دراز سے کفر وشرک کا دَوْر دَوْرَہ تھا، اور ظُلْم و جَوْر کی فَضا قائم تھی اور لوگ اَخلاق و کِردار کی پستی کا شِکار تھے۔ اِس خطّے کے لوگوں کو نورِ ہدایت سے روشناس کروانے، ظُلْم و سِتَم سے نجات دلانے اور لوگوں کے عقائد واَعمال کی اِصلاح کرنے والے بُزرگانِ دین میں حضرت خواجہ مُعینُ الدِّین سیّدحَسَن چشتی اَجمیری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کا اِسمِ گرامی بہت نُمایاں ہے۔
آپ کی وِلادت 537ھ بمطابق 1142ء کو سِجِسْتان یا سِیْسْتان کے علاقے سَنْجَر میں ایک پاکیزہ اور علمی گھرانے میں ہوئی۔ (اقتباس الانوار ، ص345 ، ملخصاً)
نام و لقب:
آپ کا اسمِ گرامی حسن ہے اور آپ نَجِیبُ الطَّرَفَیْن سیِّد ہیں۔ آپ کے مشہور اَلقابات میں مُعینُ الدّین ، غریب نواز ، سلطانُ الہِنْد اور عطائے رسول شامل ہیں۔ (معین الہند حضرت خواجہ معین الدین اجمیری ، ص18 ملخصاً)
حُصُولِ عِلْم کے لئے آپ نے شام ، بغداد اور کِرمان وغیرہ کا سفر بھی اِختیار فرمایا نیز کثیر بزرگانِ دین سے اِکْتِسابِ فیض کیا جن میں آپ کے پیر و مُرشِد حضرت خواجہ عثمان ہارْوَنی اور پیرانِ پیر حُضُور غوثِ پاک حضرت شیخ سیِّد عبد القادِر جیلانی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کے اَسماء قابلِ ذِکْر ہیں۔
زیارتِ حَرَمَیْن کےدوران بارگاہِ رِسالت ﷺ سے آپ کو ہند کی وِلایت عطا ہوئی اور وہاں دین کی خدمت بجا لانے کا حکم ملا۔ (سیر الاقطاب ، ص142 ، ملخصاً)
چنانچہ آپ سر زمینِ ہِند تشریف لائے اور اَجمیر شریف (راجِستھان) کو اپنا مُسْتَقِل مسکن بناتے ہوئے دینِ اسلام کی تَرْوِیج و اِشَاعَت کا آغاز فرمایا۔
خواجہ غریب نواز رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی دینی خدمات میں سب سے اَہَم کارنامہ یہ ہے کہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اپنے اَخْلاق ، کِرْدَار اور گُفْتَار سے اس خطّے میں اسلام کا بول بالا فرمایا ۔ لاکھوں لوگ آپ کی نگاہِ فیض سے متاثّر ہو کر کفر کی اندھیریوں سے نکل کر اسلام کے نور میں داخل ہو گئے ، یہاں تک کہ جادوگر سادھو رام ، سادو اَجے پال اور حاکم سبزوار جیسے ظالم و سَرْکَش بھی آپ کے حلقۂ اِرادت (مریدوں) میں شامل ہو گئے۔ (معین الہند حضرت خواجہ معین الدین اجمیری ، ص56 ملخصاً)
ہِند میں خواجہ غریب نواز رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی آمد ایک زبردست اسلامی ، روحانی اور سماجی اِنقلاب کا پَیْش خَیْمَہ ثابت ہوئی۔ خواجہ غریب نواز ہی کے طُفیل ہِندمیں سِلسِلۂ چِشتیہ کا آغازہوا۔ (تاریخ مشائخ چشت ، ص136)
آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اِصلاح و تبلیغ کے ذریعے تَلَامِذَہ و خُلَفَا کی ایسی جماعت تیار کی جس نے بَرِّ عظیم (پاک و ہند) کے کونے کونے میں خدمتِ دین کا عظیم فَرِیْضہ سَرْ اَنْجَام دیا۔ دِہلی میں آپ کے خلیفہ حضرت شیخ قُطْبُ الدِّین بَخْتیار کاکی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَاقِی نے اور ناگور میں قاضی حمیدُ الدِّین ناگوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے خدمتِ دین کے فرائض سَر اَنْجَام دئیے۔ (تاریخ مشائخ چشت ، ص139 تا 142ملخصاً)
خواجہ غریب نواز رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے اس مِشَنْ کو عُرُوْج تک پہنچانے میں آپ کے خُلَفَا کے خُلَفَا نے بھی بھر پور حصّہ ملایا ، حضرت بابا فرید گَنْجِ شَکَر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے پاکپتن کو ، شیخ جمالُ الدِّین ہَانْسْوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے ہَانْسی کو اور شیخ نِظامُ الدِّین اَوْلِیا رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے دِہلی کو مرکز بنا کر اِصلاح و تبلیغ کی خدمت سَرْ اَنْجَام دی۔ (تاریخ مشائخ چشت ، ص 147 تا 156 ملخصاً)
خواجہ غریب نواز رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے تحریر و تصنیف کے ذریعے بھی اِشاعتِ دین اور مخلوقِ خدا کی اِصلاح کا فریضہ سر اَنجام دیا۔
آپ کی تصانیف میں اَنِیْسُ الاَرْوَاح ، کَشْفُ الاَسْرَار ، گَنْجُ الاَسْرَار اور دیوانِ مُعِیْن کا تذکرہ ملتا ہے۔ (معین الہند حضرت خواجہ معین الدین اجمیری ، ص103ملخصاً)
خواجہ غریب نواز رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے تقریباً 45 سال سر زمینِ ہِند پر دینِ اِسْلام کی خدمت سَرْ اَنْجَام دی اور ہِند کے ظُلْمت کَدے میں اسلام کا اُجالا پھیلایا۔
آپ کا وِصال 6 رجب 627ھ کو اَجمیر شریف (راجِستھان ، ہند) میں ہوا اور یہیں مزارشریف بنا۔
آج برِّ عظیم پاک و ہِند میں ایمان و اسلام کی جو بہار نظر آرہی ہے اِس میں حضرت خواجہ غریب نواز رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی سعی بے مثال کا بھی بہت بڑا حصہ ہے۔
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM