This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
تاریخ سلسلہ چشتیہ اور حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیر رحمۃ اللہ علیہ
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
محترم قارئینِ کرام : اللہ تعالیٰ نے ہندوستان میں لوگوں کی روحانی تربیت اور اسلام کی تبلیغ و اشاعت اور تحفظ و استحکام کے لیے طریقت کے جس خاندان کو منتخب فرمایا وہ سلسلۂ چشت ہے اس سلسلہ کی نامور اور بزرگ ہستی خواجہ غریب نواز حضرت معین الدین چشتی رحمۃ اللہ علیہ کو ہندوستان میں اسلامی حکومت کی بنیاد سے پہلے ہی اس بات کا غیبی طور پر اشارا مل چکا تھا کہ وہ سرزمینِ ہند کو اپنی تبلیغی و اشاعتی سرگرمیوں کا مرکز بنائیں ۔
چشت جس کی جانب اس سلسلہ کو منسوب کیا جاتا ہے وہ خراسان میں ہرات کے قریب ایک مشہور شہر ہے جہاں اللہ تعالیٰ کے کچھ نیک بندوں نے انسانوں کی روحانی تربیت اور تزکیۂ نفس کے لیے ایک بڑا مرکز قائم کیا۔ ان حضرات کے طریقۂ تبلیغ اور رشد و ہدایت نے پوری دنیا میں شہرت و مقبولیت حاصل کرلی اور اسے اس شہر چشت کی نسبت سے ’’چشتیہ‘‘ کہا جانے لگا۔ چشت موجودہ جغرافیہ کے مطابق افغانستان میں ہرات کے قریب واقع ہے ۔
سلسلۂ چشتیہ کے بانی حضرت ابو اسحاق شامی رحمۃ اللہ علیہ ہیں ۔ سب سے پہلے لفظ ’’چشتی‘‘ ان ہی کے نام کا جز بنا، لیکن حضرت خواجہ معین الدین چشتی حسن سنجری رحمۃ اللہ علیہ کی شخصیت نے اس سلسلہ کے پرچم تلے دعوتِ حق کا جو کام انجام دیا اور آپ کو جو شہرت و مقبولیت حاصل ہوئی اس سے لفظ ’’چشتی‘‘ دنیا بھر میں بے پناہ مشہور و مقبول ہوا۔ طریقت کے دیگر سلاسل کی طرح یہ سلسلہ بھی حضرت علی مرتضیٰ کرم اللہ تعالیٰ وجہہ سے ملتا ہے ۔
نام و نسب
سر زمینِ ہند میں سلسلۂ چشتیہ کے بانی اور اسلام کی تبلیغ و اشاعت کے سر خیل اور سالار حضرت خواجہ غریب نوازمعین الدین چشتی حسن سنجری اجمیری رحمۃ اللہ علیہ کا نام ’’معین الدین‘‘ ہے، والدین محبت سے آپ کو’’ حسن ‘‘کہہ کر پکارتے تھے، آپ حسنی اور حسینی سید تھے۔ آپ کا سلسلۂ نسب بارہویں پُشت میں حضرت علیِ مرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے جاملتا ہے ۔
پدری سلسلۂ نسب
خواجہ معین الدین بن غیاث الدین بن کمال الدین بن احمد حسین بن نجم الدین طاہر بن عبدالعزیز بن ابراہیم بن امام علی رضا بن موسیٰ کاظم بن امام جعفر صادق بن محمد باقر بن امام علی زین العابدین بن سیدناامام حسین بن علیِ مرتضیٰ رضوان اللہ علیہم اجمعین و رحمہم اللہ تعالیٰ ۔
مادری سلسلۂ نسب
بی بی ام الورع موسوم بہ بی بی ماہ نور بنت سید داود بن سید عبداللہ حنبلی بن سید یحییٰ زاہد بن سید محمد روحی بن سید داود بن سید موسیٰ ثانی بن سید عبداللہ ثانی بن سید موسیٰ اخوند بن سید عبداللہ بن سید حسن مثنیٰ بن سیدنا امام حسن بن سیدنا علیِ مرتضیٰ رضوان اللہ علیہم اجمعین و ررحمہم اللہ تعالیٰ ۔
ولادت اور مقامِ ولات
حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت ِ باسعات ۵۳۷ ہجری بہ مطابق ۱۱۴۲ عیسوی کو سجستان جسے ’’سیستان‘‘ بھی کہا جاتا ہے ، کے قصبۂ سنجر میں ہوئی۔ اسی لیے حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ کوحضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری سنجری بھی کہا جاتا ہے۔ آپ کی ولادت پوری دنیا کے لیے باعثِ رحمت اور سعادت بنی۔ آپ نے اس دنیا میں عرفانِ خداوندی، خشیتِ ربانی اور عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا چرچا کیا اور کفر و شرک کی گھٹا ٹوپ کو اسلام و ایمان کی روشنی سے جگمگا دیا۔ آپ کی والدہ ماجدہ بیان کرتی ہیں :’’جب معین الدین میرے شکم (پیٹ) میں تھے تو میںاچھے خواب دیکھا کرتی تھی گھر میں خیر و برکت تھی ، دشمن دوست بن گئے تھے۔ ولادت کے وقت سارا مکان انوارِالٰہی سے روشن تھا ۔ (مرأۃ الاسرار)
بچپن
آپ کی پرورش اور تعلیم و تربیت خراسان میں ہوئی ، ابتدائی تعلیم والدِ گرامی کے زیرِ سایا ہوئی جو بہت بڑے عالم تھے۔ نو برس کی عمر میں قرآن شریف حفظ کرلیا پھر ایک مدرسہ میں داخل ہوکر تفسیر و حدیث اور فقہ (اسلامی قانون) کی تعلیم حاصل کی، خداداد ذہانت و ذکاوت، بلا کی قوتِ یادداشت اور غیر معمولی فہم وفراست کی وجہ انتہائی کم مدت میں بہت زیادہ علم حاصل کرلیا۔ حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ گیارہ برس کی عمر تک نہایت ناز و نعم اور لاڈ پیار میں پروان چرھتے رہے۔ جب حضرت خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ کی عمر پندرہ سال کی ہوئی تو آپ کے والد حضرت غیاث الدین حسن صاحب علیہ الرحمہ کا سایۂ شفقت و محبت سر سے اُٹھ گیا لیکن باہمت والدۂ ماجدہ بی بی ماہ نور نے آپ کو باپ کی کمی کا احساس نہیں ہونے دیا۔ والدِ گرامی کے اس دارِ فانی سے کوچ کرنے کے بعد ترکہ میں ایک باغ اور ایک پن چکی ملی۔ جوانی کے عالم میں اسی ترکہ کو اپنے لیے ذریعۂ معاش بنایا خود ہی باغ کی دیکھ بھال کرتے اور اس کے درختوں کو پانی دیتے اور باغ کی صفائی ستھرائی کا بھی خود ہی خیال رکھتے۔ اسی طرح پن چکی کا سارا نظام بھی خود سنبھالتے ، جس سے زندگی بڑی آسودہ اور خوش حال بسر ہورہی تھی۔ لیکن اللہ
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
محترم قارئینِ کرام : اللہ تعالیٰ نے ہندوستان میں لوگوں کی روحانی تربیت اور اسلام کی تبلیغ و اشاعت اور تحفظ و استحکام کے لیے طریقت کے جس خاندان کو منتخب فرمایا وہ سلسلۂ چشت ہے اس سلسلہ کی نامور اور بزرگ ہستی خواجہ غریب نواز حضرت معین الدین چشتی رحمۃ اللہ علیہ کو ہندوستان میں اسلامی حکومت کی بنیاد سے پہلے ہی اس بات کا غیبی طور پر اشارا مل چکا تھا کہ وہ سرزمینِ ہند کو اپنی تبلیغی و اشاعتی سرگرمیوں کا مرکز بنائیں ۔
چشت جس کی جانب اس سلسلہ کو منسوب کیا جاتا ہے وہ خراسان میں ہرات کے قریب ایک مشہور شہر ہے جہاں اللہ تعالیٰ کے کچھ نیک بندوں نے انسانوں کی روحانی تربیت اور تزکیۂ نفس کے لیے ایک بڑا مرکز قائم کیا۔ ان حضرات کے طریقۂ تبلیغ اور رشد و ہدایت نے پوری دنیا میں شہرت و مقبولیت حاصل کرلی اور اسے اس شہر چشت کی نسبت سے ’’چشتیہ‘‘ کہا جانے لگا۔ چشت موجودہ جغرافیہ کے مطابق افغانستان میں ہرات کے قریب واقع ہے ۔
سلسلۂ چشتیہ کے بانی حضرت ابو اسحاق شامی رحمۃ اللہ علیہ ہیں ۔ سب سے پہلے لفظ ’’چشتی‘‘ ان ہی کے نام کا جز بنا، لیکن حضرت خواجہ معین الدین چشتی حسن سنجری رحمۃ اللہ علیہ کی شخصیت نے اس سلسلہ کے پرچم تلے دعوتِ حق کا جو کام انجام دیا اور آپ کو جو شہرت و مقبولیت حاصل ہوئی اس سے لفظ ’’چشتی‘‘ دنیا بھر میں بے پناہ مشہور و مقبول ہوا۔ طریقت کے دیگر سلاسل کی طرح یہ سلسلہ بھی حضرت علی مرتضیٰ کرم اللہ تعالیٰ وجہہ سے ملتا ہے ۔
نام و نسب
سر زمینِ ہند میں سلسلۂ چشتیہ کے بانی اور اسلام کی تبلیغ و اشاعت کے سر خیل اور سالار حضرت خواجہ غریب نوازمعین الدین چشتی حسن سنجری اجمیری رحمۃ اللہ علیہ کا نام ’’معین الدین‘‘ ہے، والدین محبت سے آپ کو’’ حسن ‘‘کہہ کر پکارتے تھے، آپ حسنی اور حسینی سید تھے۔ آپ کا سلسلۂ نسب بارہویں پُشت میں حضرت علیِ مرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے جاملتا ہے ۔
پدری سلسلۂ نسب
خواجہ معین الدین بن غیاث الدین بن کمال الدین بن احمد حسین بن نجم الدین طاہر بن عبدالعزیز بن ابراہیم بن امام علی رضا بن موسیٰ کاظم بن امام جعفر صادق بن محمد باقر بن امام علی زین العابدین بن سیدناامام حسین بن علیِ مرتضیٰ رضوان اللہ علیہم اجمعین و رحمہم اللہ تعالیٰ ۔
مادری سلسلۂ نسب
بی بی ام الورع موسوم بہ بی بی ماہ نور بنت سید داود بن سید عبداللہ حنبلی بن سید یحییٰ زاہد بن سید محمد روحی بن سید داود بن سید موسیٰ ثانی بن سید عبداللہ ثانی بن سید موسیٰ اخوند بن سید عبداللہ بن سید حسن مثنیٰ بن سیدنا امام حسن بن سیدنا علیِ مرتضیٰ رضوان اللہ علیہم اجمعین و ررحمہم اللہ تعالیٰ ۔
ولادت اور مقامِ ولات
حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت ِ باسعات ۵۳۷ ہجری بہ مطابق ۱۱۴۲ عیسوی کو سجستان جسے ’’سیستان‘‘ بھی کہا جاتا ہے ، کے قصبۂ سنجر میں ہوئی۔ اسی لیے حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ کوحضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری سنجری بھی کہا جاتا ہے۔ آپ کی ولادت پوری دنیا کے لیے باعثِ رحمت اور سعادت بنی۔ آپ نے اس دنیا میں عرفانِ خداوندی، خشیتِ ربانی اور عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا چرچا کیا اور کفر و شرک کی گھٹا ٹوپ کو اسلام و ایمان کی روشنی سے جگمگا دیا۔ آپ کی والدہ ماجدہ بیان کرتی ہیں :’’جب معین الدین میرے شکم (پیٹ) میں تھے تو میںاچھے خواب دیکھا کرتی تھی گھر میں خیر و برکت تھی ، دشمن دوست بن گئے تھے۔ ولادت کے وقت سارا مکان انوارِالٰہی سے روشن تھا ۔ (مرأۃ الاسرار)
بچپن
آپ کی پرورش اور تعلیم و تربیت خراسان میں ہوئی ، ابتدائی تعلیم والدِ گرامی کے زیرِ سایا ہوئی جو بہت بڑے عالم تھے۔ نو برس کی عمر میں قرآن شریف حفظ کرلیا پھر ایک مدرسہ میں داخل ہوکر تفسیر و حدیث اور فقہ (اسلامی قانون) کی تعلیم حاصل کی، خداداد ذہانت و ذکاوت، بلا کی قوتِ یادداشت اور غیر معمولی فہم وفراست کی وجہ انتہائی کم مدت میں بہت زیادہ علم حاصل کرلیا۔ حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ گیارہ برس کی عمر تک نہایت ناز و نعم اور لاڈ پیار میں پروان چرھتے رہے۔ جب حضرت خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ کی عمر پندرہ سال کی ہوئی تو آپ کے والد حضرت غیاث الدین حسن صاحب علیہ الرحمہ کا سایۂ شفقت و محبت سر سے اُٹھ گیا لیکن باہمت والدۂ ماجدہ بی بی ماہ نور نے آپ کو باپ کی کمی کا احساس نہیں ہونے دیا۔ والدِ گرامی کے اس دارِ فانی سے کوچ کرنے کے بعد ترکہ میں ایک باغ اور ایک پن چکی ملی۔ جوانی کے عالم میں اسی ترکہ کو اپنے لیے ذریعۂ معاش بنایا خود ہی باغ کی دیکھ بھال کرتے اور اس کے درختوں کو پانی دیتے اور باغ کی صفائی ستھرائی کا بھی خود ہی خیال رکھتے۔ اسی طرح پن چکی کا سارا نظام بھی خود سنبھالتے ، جس سے زندگی بڑی آسودہ اور خوش حال بسر ہورہی تھی۔ لیکن اللہ
تعالیٰ نے آپ کو انسانوں کی تعلیم و تربیت اور کائنات کے گلشن کی اصلاح و تذکیر کےلیے منتخب فرمالیا تھا۔ لہٰذا آپ کی زندگی میں ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس سے آپ نے دنیا سے کنارہ کشی اختیار کرلی اور طریقت و سلوک کے مراتب طَے کرتے ہوئے وہ مقامِ بلند حاصل کیا کہ آج بھی آپ کی روحانیت کو ایک جہان تسلیم کررہا ہے۔ حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ کی زندگی کا وہ واقعہ ذیل میں ملاحظہ فرمائیے جس نے آپ کی دنیا بدل دی ۔(چشتی)
مجذوبِ وقت ابراہیم قندوزی کی آمد اور حضرت خواجہ کا ترکِ دنیا کرنا
ایک دن ترکے میں ملے ہوئے باغ میں آپ درختوں کو پانی دے رہے تھے کہ اس بستی کے ایک مجذوب ابراہیم قندوزی اشارۂ غیبی پر باغ میں تشریف لائے۔ جب حضرت خواجہ کی نظر اِس صاحبِ باطن مجذوب پر پڑی تو ادب و احترام کے ساتھ ان کے قریب گئے اور ایک سایا دار درخت کے نیچے آپ کو بٹھا دیا اور تازہ انگور کا ایک خوشہ سامنے لاکر رکھ دیا ، خود دوزانو ہوکر بیٹھ گئے۔ حضرت ابراہیم قندوزی نے انگور کھائے اور خوش ہوکر بغل سے روٹی کا ایک ٹکڑا نکالا اور اپنے منہ میں ڈالا دانتوں سے چبا کر حضرت خواجہ غریب نواز کے منہ میں ڈال دیا اس طرح حق و صداقت اور عرفانِ خداوندی کے طالبِ حقیقی کو ان لذّتوں سے فیض یاب کردیا۔ روٹی کا حلق میں اترنا تھا کہ دل کی دنیا بدل گئی۔ روح کی گہرائیوں میں انورِ الٰہی کی روشنی پھوٹ پڑی ، جتنے بھی شکوک و شبہات تھے سب کے سب اک آن میں ختم ہوگئے ،دنیا سے نفرت اور بے زاری پیدا ہوگئی اور آپ نے دنیاوی محبت کے سارے امور سے کنارہ کشی اختیار کرلی، باغ، پن چکی اور دوسرے ساز و سامان کو بیچ ڈالا، ساری قیمت فقیروں اور مسکینوں میں بانٹ دی اور طالبِ حق بن کر وطن کو چھوڑ دیااور سیر و سیاحت شروع کردی ۔
علمِ شریعت کا حصول
زمانۂ قدیم سے یہ دستور چلا آرہا ہے کہ علمِ طریقت کی تحصیل کے خواہش مند پہلے علمِ شریعت کو حاصل کرکے اس میں کمال پیداکرتے ہوئے عمل کی دشوار گزار وادی میں دیوانہ وار اور مستانہ وار چلتے رہتے ہیں اور بعد میں علمِ طریقت کا حصول کرتے ہیں۔ چناں چہ حضرت خواجہ معین الدین چشتی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اسی طریقۂ کار کو اپنایا اور وطن سے نکل کر سمرقند و بخارا کا رخ کیا جو کہ اس وقت پورے عالمِ اسلام میں علم و فن کے مراکز کے طور پر جانے جاتے تھے جہاں بڑی بڑی علمی ودینی درس گاہیں تھیں جن میں اپنے زمانے کے ممتاز اور جید اساتذۂ کرام درس و تدریس کے فرائض انجام دیا کرتے تھے۔ ان درس گاہوں میں دنیا بھر سے علمِ دین کی طلب رکھنے والے افراد کھنچ کھنچ کر آتے اور اپنی تشنگی کو بجھاتے تھے۔ حضرت خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ بھی یہاں آکر پورے ذوق و شوق اور لگن کے ساتھ طلبِ علم میں مصروف ہوگئے۔ تفسیر، حدیث، فقہ، کلام اور دیگر ضروری علوم کا درس لیا اور کامل مہارت حاصل کرلی ، آپ کے اساتذہ میں نمایاں طور پر مولانا حسام الدین بخاری اور مولانا شرف الدین صاحب شرع الاسلام کے نام لیے جاتے ہیں ۔
پیرِ کامل کی تلاش
سمر قند اور بخارا کی ممتاز درس گاہوں میں جید اساتذۂ کرام کے زیرِسایا رہ کر حضرت خواجہ معین الدین چشتی رحمۃ اللہ علیہ نے علومِ شریعت کی تکمیل کرنے کے بعد روحانی علوم کی تحصیل کے لیے اپنے سفر کا آغاز کیا۔ اس زمانے میں علمِ طریقت کے مراکز کے طور پر پوری دنیاے اسلام میں عراق و حجازِ مقدس مشہور و معروف تھے، جہاں صالحین اور صوفیاے کاملین کی ایک کثیر تعداد بادۂ وحدت اور روحانیت و معرفت کے پیاسوں کی سیرابی کا کام کررہی تھی۔ حضرت خواجہ غریب نوازرحمۃ اللہ علیہ کائناتِ ارضی میں اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی مختلف اشیا کا مشاہدہ و تفکراور اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں اولیا و علما اور صلحا و صوفیہ کی زیارت کرتے ہوئے بغداد، مکہ اورمدینہ کی سیر و سیاحت اور زیارت کی سعادتیں حاصل کیں۔ پھر پیرِ کامل کی تلاش و جستجو میں مشرق کی سمت کا رُخ کیا اورعلاقۂ نیشاپور کے قصبۂ ہارون پہنچے جہاں ہادیِ طریقت حضرت خواجہ عثمان ہارونی رحمۃ اللہ علیہ کی خانقاہ میں روحانی وعرفانی مجلسیں آراستہ ہوتی تھیں۔ خانقاہِ عثمانی میں پہنچ کر حضرت خواجہ غریب نوا رحمۃ اللہ علیہ کو منزلِ مقصود حاصل ہوگئی اور آپ مرشدِ کامل حضرت خواجہ عثمان ہارونی رحمۃ اللہ علیہ کے حلقۂ ارادت میں شامل ہوگئے اور ان کے مبارک ہاتھوں پر بیعت کی ۔
حضرت خواجہ رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی بیعت کے واقعہ کو اس طرح بیان کیا ہے : ایسی صحبت میں جس میں بڑے بڑے معظم و محترم مشائخِ کبار جمع تھے میں ادب سے حاضر ہو ا اور روے نیاز زمین پر رکھ دیا ، حضرت مرشد نے فرمایا : دو رکعت نماز ادا کر ، میں نے فوراً تکمیل کی ۔ رو بہ قبلہ بیٹھ ، میں ادب سے قبلہ کی طرف منہ کرکے بیٹھ گیا، پھر ارشاد ہوا سورۂ بقرہ پڑھ ، میں نے خلوص و عقیدت سے پوری سورت پڑھی ، تب فرمایا : ساٹھ بار کلمۂ سبحان اللہ کہو، میں نے اس کی بھی تعمیل کی ، ان مدارج کے بعد حضرت مرشد
مجذوبِ وقت ابراہیم قندوزی کی آمد اور حضرت خواجہ کا ترکِ دنیا کرنا
ایک دن ترکے میں ملے ہوئے باغ میں آپ درختوں کو پانی دے رہے تھے کہ اس بستی کے ایک مجذوب ابراہیم قندوزی اشارۂ غیبی پر باغ میں تشریف لائے۔ جب حضرت خواجہ کی نظر اِس صاحبِ باطن مجذوب پر پڑی تو ادب و احترام کے ساتھ ان کے قریب گئے اور ایک سایا دار درخت کے نیچے آپ کو بٹھا دیا اور تازہ انگور کا ایک خوشہ سامنے لاکر رکھ دیا ، خود دوزانو ہوکر بیٹھ گئے۔ حضرت ابراہیم قندوزی نے انگور کھائے اور خوش ہوکر بغل سے روٹی کا ایک ٹکڑا نکالا اور اپنے منہ میں ڈالا دانتوں سے چبا کر حضرت خواجہ غریب نواز کے منہ میں ڈال دیا اس طرح حق و صداقت اور عرفانِ خداوندی کے طالبِ حقیقی کو ان لذّتوں سے فیض یاب کردیا۔ روٹی کا حلق میں اترنا تھا کہ دل کی دنیا بدل گئی۔ روح کی گہرائیوں میں انورِ الٰہی کی روشنی پھوٹ پڑی ، جتنے بھی شکوک و شبہات تھے سب کے سب اک آن میں ختم ہوگئے ،دنیا سے نفرت اور بے زاری پیدا ہوگئی اور آپ نے دنیاوی محبت کے سارے امور سے کنارہ کشی اختیار کرلی، باغ، پن چکی اور دوسرے ساز و سامان کو بیچ ڈالا، ساری قیمت فقیروں اور مسکینوں میں بانٹ دی اور طالبِ حق بن کر وطن کو چھوڑ دیااور سیر و سیاحت شروع کردی ۔
علمِ شریعت کا حصول
زمانۂ قدیم سے یہ دستور چلا آرہا ہے کہ علمِ طریقت کی تحصیل کے خواہش مند پہلے علمِ شریعت کو حاصل کرکے اس میں کمال پیداکرتے ہوئے عمل کی دشوار گزار وادی میں دیوانہ وار اور مستانہ وار چلتے رہتے ہیں اور بعد میں علمِ طریقت کا حصول کرتے ہیں۔ چناں چہ حضرت خواجہ معین الدین چشتی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اسی طریقۂ کار کو اپنایا اور وطن سے نکل کر سمرقند و بخارا کا رخ کیا جو کہ اس وقت پورے عالمِ اسلام میں علم و فن کے مراکز کے طور پر جانے جاتے تھے جہاں بڑی بڑی علمی ودینی درس گاہیں تھیں جن میں اپنے زمانے کے ممتاز اور جید اساتذۂ کرام درس و تدریس کے فرائض انجام دیا کرتے تھے۔ ان درس گاہوں میں دنیا بھر سے علمِ دین کی طلب رکھنے والے افراد کھنچ کھنچ کر آتے اور اپنی تشنگی کو بجھاتے تھے۔ حضرت خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ بھی یہاں آکر پورے ذوق و شوق اور لگن کے ساتھ طلبِ علم میں مصروف ہوگئے۔ تفسیر، حدیث، فقہ، کلام اور دیگر ضروری علوم کا درس لیا اور کامل مہارت حاصل کرلی ، آپ کے اساتذہ میں نمایاں طور پر مولانا حسام الدین بخاری اور مولانا شرف الدین صاحب شرع الاسلام کے نام لیے جاتے ہیں ۔
پیرِ کامل کی تلاش
سمر قند اور بخارا کی ممتاز درس گاہوں میں جید اساتذۂ کرام کے زیرِسایا رہ کر حضرت خواجہ معین الدین چشتی رحمۃ اللہ علیہ نے علومِ شریعت کی تکمیل کرنے کے بعد روحانی علوم کی تحصیل کے لیے اپنے سفر کا آغاز کیا۔ اس زمانے میں علمِ طریقت کے مراکز کے طور پر پوری دنیاے اسلام میں عراق و حجازِ مقدس مشہور و معروف تھے، جہاں صالحین اور صوفیاے کاملین کی ایک کثیر تعداد بادۂ وحدت اور روحانیت و معرفت کے پیاسوں کی سیرابی کا کام کررہی تھی۔ حضرت خواجہ غریب نوازرحمۃ اللہ علیہ کائناتِ ارضی میں اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی مختلف اشیا کا مشاہدہ و تفکراور اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں اولیا و علما اور صلحا و صوفیہ کی زیارت کرتے ہوئے بغداد، مکہ اورمدینہ کی سیر و سیاحت اور زیارت کی سعادتیں حاصل کیں۔ پھر پیرِ کامل کی تلاش و جستجو میں مشرق کی سمت کا رُخ کیا اورعلاقۂ نیشاپور کے قصبۂ ہارون پہنچے جہاں ہادیِ طریقت حضرت خواجہ عثمان ہارونی رحمۃ اللہ علیہ کی خانقاہ میں روحانی وعرفانی مجلسیں آراستہ ہوتی تھیں۔ خانقاہِ عثمانی میں پہنچ کر حضرت خواجہ غریب نوا رحمۃ اللہ علیہ کو منزلِ مقصود حاصل ہوگئی اور آپ مرشدِ کامل حضرت خواجہ عثمان ہارونی رحمۃ اللہ علیہ کے حلقۂ ارادت میں شامل ہوگئے اور ان کے مبارک ہاتھوں پر بیعت کی ۔
حضرت خواجہ رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی بیعت کے واقعہ کو اس طرح بیان کیا ہے : ایسی صحبت میں جس میں بڑے بڑے معظم و محترم مشائخِ کبار جمع تھے میں ادب سے حاضر ہو ا اور روے نیاز زمین پر رکھ دیا ، حضرت مرشد نے فرمایا : دو رکعت نماز ادا کر ، میں نے فوراً تکمیل کی ۔ رو بہ قبلہ بیٹھ ، میں ادب سے قبلہ کی طرف منہ کرکے بیٹھ گیا، پھر ارشاد ہوا سورۂ بقرہ پڑھ ، میں نے خلوص و عقیدت سے پوری سورت پڑھی ، تب فرمایا : ساٹھ بار کلمۂ سبحان اللہ کہو، میں نے اس کی بھی تعمیل کی ، ان مدارج کے بعد حضرت مرشد
قبلہ خود کھڑے ہوئے اور میرا ہاتھ اپنے دستِ مبارک میں لیا آسمان کی طرف نظر اٹھا کے دیکھا اور فرمایا میں نے تجھے خدا تک پہنچا دیا ان جملہ امور کے بعد حضرت مرشد قبلہ نے ایک خاص وضع کی ترکی ٹوپی جو کلاہِ چارتَرکی کہلاتی ہے میرے سر پر رکھی ، اپنی خاص کملی مجھے اوڑھائی اور فرمایا بیٹھ میں فوراً بیٹھ گیا ، اب ارشاد ہوا ہزار بار سورۂ اخلاص پڑھ میں اس کو بھی ختم کرچکا تو فرمایا ہمارے مشائخ کے طبقات میں بس یہی ایک شب و روز کا مجاہدہ ہے لہٰذا جا اور کامل ایک شب و روز کا مجاہدہ کر، اس حکم کے بہ موجب میں نے پورا دن اور رات عبادتِ الٰہی اور نماز و طاعت میں بسر کی دوسرے دن حاضر ہوکے ، روے نیاز زمین پر رکھا تو ارشاد ہوا بیٹھ جا، میں بیٹھ گیا، پھر ارشاد ہو ا اوپر دیکھ میں نے آسمان کی طرف نظر اٹھائی تو دریافت فرمایا کہاں تک دیکھتا ہے ، عرض کیا عرشِ معلا تک ، تب ارشاد ہوا نیچے دیکھ میں نے آنکھیں زمین کی طرف پھیری تو پھر وہی سوال کیا کہاں تک دیکھتا ہے عرض کیا تحت الثریٰ تک حکم ہوا پھر ہزار بار سورۂ اخلاص پڑھ اور جب اس حکم کی بھی تعمیل ہو چکی تو ارشاد ہو اکہ آسمان کی طرف دیکھ اور بتا کہاں تک دیکھتا ہے میں نے دیکھ کر عرض کیا حجابِ عظمت تک ، اب فرمایا آنکھیں بند کر ، میں نے بند کرلی ، ارشاد فرمایا ا ب کھول دے میں نے کھل دی تب حضرت نے اپنی دونوں انگلیاں میری نظر کے سامنے کی اور پوچھا کیا دیکھتا ہے ؟ عرض کیا اٹھارہ ہزار عالم دیکھ رہا ہوں ، جب میری زبان سے یہ کلمہ سنا تو ارشاد فرمایا بس تیرا کام پورا ہوگیا پھر ایک اینٹ کی طرف دیکھ کر فرمایا اسے اٹھا میں نے اٹھایا تو اس کے نیچے سے کچھ دینار نکلے ، فرمایا انھیں لے جاکے درویشوں میں خیرات کر۔ چناں چہ میں نے ایسا ہی کیا ۔ (انیس الارواح ملفوظاتِ خواجہ صفحہ نمبر ۱/ ۲،چشتی)
حضرت خواجہ معین الدین چشتی رحمۃ اللہ علیہ کی خلافت و جانشینی
جب حضرت خواجہ معین الدین چشتی رحمۃ اللہ علیہ کو آپ کے پیر ومرشد نے ولایت اور روحانیت کے تمام علوم و فنون سے آراستہ کرکے مرتبۂ قطبیت پر فائز کر دیا تو بارگاہِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی حج کے بعد حضرت خواجہ کو قبولیت کی سند مل گئی۔ اس واقعہ کے بعد پیرو مرشد نے فرمایا کہ اب کام مکمل ہوگیا ، چناں چہ اس کے بعد بغداد میں ۵۸۲ھ / ۱۱۸۶ء کو حضرت خواجہ عثمان ہارونی رحمۃ اللہ علیہ نے آپ کو اپنا نائب اور جانشین بنا دیا ۔ اس ضمن میں خود حضرت مرشدِ کامل نے یوں اظہارِ خیال فرمایا ہے : معین الدین محبوبِ خدا ہے اور مجھے اس کی خلافت پر ناز ہے ۔
حضرت خواجہ رحمۃ اللہ علیہ کی سیر و سیاحت اور ہندوستان کی بشارت
حضرت خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ کو پیر ومرشد نے اپنی خلافت و اجازت سے نواز کر رخصت کیا۔ آپ نے مرشدِ کامل سے فیض حاصل کر کے اللہ جل شانہ کی کائنات کا مشاہدہ اور اہل اللہ کی زیارت اور ملاقات کی غرض سے سیر وسیاحت کا آغاز کیا۔ سفر کے دوران آپ نے اپنے پیرومرشد کی ہدایت پر مکمل طور پر عمل کیا۔ چوں کہ حضرت خواجہ نے اپنی یہ سیاحت علومِ باطنی وظاہری کی مزید تحصیل کی غرض سے اختیار کی اس لیے وہ وہیں جاتے جہاں علما و صلحا اور صوفیہ و مشائخ رہتے۔ سنجان میں آپ نے حضرت شیخ نجم الدین کبرا رحمۃ اللہ علیہ اور جیلان میں بڑے پیرحضرت سیدنا عبدالقادر جیلانی بغدادی رحمۃ اللہ علیہ اور بغداد میں حضرت شیخ ضیاء الدین کی زیارت کی اور ان سے معرفت و ولایت کے علوم و فنون حاصل کیے ۔ (چشتی)
بغداد کے بعد حضرت خواجہ اصفہان پہنچے تو یہاں حضرت شیخ محمود اصفہانی سے ملاقات فرمائی حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی ان دنوں اصفہان میں موجود تھے۔ جب آپ نے حضرت خواجہ کے چہرۂ زیبا کی زیارت کی تو بہت متاثر ہوئے دل کی دنیا بدل گئی اور آپ پر نثار ہوکر مریدوں میں شامل ہوگئے اور حضرت خواجہ کی اتنی خدمت کی کہ بعد میں وہی آپ کے جانشین ہوئے۔ اصفہان سے حضرت خواجہ ۵۸۳ھ / ۱۱۸۷ء میں مکۂ مکرمہ پہنچے اور زیارت و طوافِ خانۂ کعبہ سے سرفراز ہوئے۔ ایک روز حرم شریف کے اندر ذکرِ الٰہی میں مصروف تھے کہ غیب سے آپ نے ایک آواز سنی کہ : اے معین الدین ! ہم تجھ سے خوش ہیں تجھے بخش دیا جو کچھ چاہے مانگ ، تاکہ عطا کروں۔ ‘ حضرت خواجہ صاحب نے جب یہ ندا سنی تو بے حد خوش ہوئے اور بارگاہِ الٰہی میں سجدۂ شکر بجالایااور عاجزی سے عرض کیا کہ ، خداوندا! معین الدین کے مریدوں کو بخش دے۔ آواز آئی کہ اے معین الدین تو ہماری مِلک ہے جو تیرے مرید اور تیرے سلسلہ میں مرید ہوں گے انھیں بخش دوں گا ۔
حضرت خواجہ معین الدین چشتی رحمۃ اللہ علیہ نے مزید کچھ دن مکہ میں قیام کیا اور حج کے بعد مدینۂ منورہ کے لیے روانہ ہوئے۔ مدینۂ منورہ میں حضرت خواجہ ، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مزارِ پاک کی زیارت سے مشرف ہوئے۔ یہاں آپ اپنے روز و شب عبادت و ریاضت ، ذکرِ الٰہی اور درود وسلام میں بسر کرتے ، ایک دن بارگاہِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے
حضرت خواجہ معین الدین چشتی رحمۃ اللہ علیہ کی خلافت و جانشینی
جب حضرت خواجہ معین الدین چشتی رحمۃ اللہ علیہ کو آپ کے پیر ومرشد نے ولایت اور روحانیت کے تمام علوم و فنون سے آراستہ کرکے مرتبۂ قطبیت پر فائز کر دیا تو بارگاہِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی حج کے بعد حضرت خواجہ کو قبولیت کی سند مل گئی۔ اس واقعہ کے بعد پیرو مرشد نے فرمایا کہ اب کام مکمل ہوگیا ، چناں چہ اس کے بعد بغداد میں ۵۸۲ھ / ۱۱۸۶ء کو حضرت خواجہ عثمان ہارونی رحمۃ اللہ علیہ نے آپ کو اپنا نائب اور جانشین بنا دیا ۔ اس ضمن میں خود حضرت مرشدِ کامل نے یوں اظہارِ خیال فرمایا ہے : معین الدین محبوبِ خدا ہے اور مجھے اس کی خلافت پر ناز ہے ۔
حضرت خواجہ رحمۃ اللہ علیہ کی سیر و سیاحت اور ہندوستان کی بشارت
حضرت خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ کو پیر ومرشد نے اپنی خلافت و اجازت سے نواز کر رخصت کیا۔ آپ نے مرشدِ کامل سے فیض حاصل کر کے اللہ جل شانہ کی کائنات کا مشاہدہ اور اہل اللہ کی زیارت اور ملاقات کی غرض سے سیر وسیاحت کا آغاز کیا۔ سفر کے دوران آپ نے اپنے پیرومرشد کی ہدایت پر مکمل طور پر عمل کیا۔ چوں کہ حضرت خواجہ نے اپنی یہ سیاحت علومِ باطنی وظاہری کی مزید تحصیل کی غرض سے اختیار کی اس لیے وہ وہیں جاتے جہاں علما و صلحا اور صوفیہ و مشائخ رہتے۔ سنجان میں آپ نے حضرت شیخ نجم الدین کبرا رحمۃ اللہ علیہ اور جیلان میں بڑے پیرحضرت سیدنا عبدالقادر جیلانی بغدادی رحمۃ اللہ علیہ اور بغداد میں حضرت شیخ ضیاء الدین کی زیارت کی اور ان سے معرفت و ولایت کے علوم و فنون حاصل کیے ۔ (چشتی)
بغداد کے بعد حضرت خواجہ اصفہان پہنچے تو یہاں حضرت شیخ محمود اصفہانی سے ملاقات فرمائی حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی ان دنوں اصفہان میں موجود تھے۔ جب آپ نے حضرت خواجہ کے چہرۂ زیبا کی زیارت کی تو بہت متاثر ہوئے دل کی دنیا بدل گئی اور آپ پر نثار ہوکر مریدوں میں شامل ہوگئے اور حضرت خواجہ کی اتنی خدمت کی کہ بعد میں وہی آپ کے جانشین ہوئے۔ اصفہان سے حضرت خواجہ ۵۸۳ھ / ۱۱۸۷ء میں مکۂ مکرمہ پہنچے اور زیارت و طوافِ خانۂ کعبہ سے سرفراز ہوئے۔ ایک روز حرم شریف کے اندر ذکرِ الٰہی میں مصروف تھے کہ غیب سے آپ نے ایک آواز سنی کہ : اے معین الدین ! ہم تجھ سے خوش ہیں تجھے بخش دیا جو کچھ چاہے مانگ ، تاکہ عطا کروں۔ ‘ حضرت خواجہ صاحب نے جب یہ ندا سنی تو بے حد خوش ہوئے اور بارگاہِ الٰہی میں سجدۂ شکر بجالایااور عاجزی سے عرض کیا کہ ، خداوندا! معین الدین کے مریدوں کو بخش دے۔ آواز آئی کہ اے معین الدین تو ہماری مِلک ہے جو تیرے مرید اور تیرے سلسلہ میں مرید ہوں گے انھیں بخش دوں گا ۔
حضرت خواجہ معین الدین چشتی رحمۃ اللہ علیہ نے مزید کچھ دن مکہ میں قیام کیا اور حج کے بعد مدینۂ منورہ کے لیے روانہ ہوئے۔ مدینۂ منورہ میں حضرت خواجہ ، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مزارِ پاک کی زیارت سے مشرف ہوئے۔ یہاں آپ اپنے روز و شب عبادت و ریاضت ، ذکرِ الٰہی اور درود وسلام میں بسر کرتے ، ایک دن بارگاہِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے
آپ کو ہندوستان کی ولایت و قطبیت کی بشارت اس طرح حاصل ہوئی کہ : اے معین الدین تو میرے دین کا معین ہے میں نے تجھے ہندوستان کی ولایت عطا کی وہاں کفر کی ظلمت پھیلی ہوئی ہے تو اجمیر جا تیرے وجود سے کفر کا اندھیرا دور ہوگا اور اسلام کا نور ہر سو پھیلے گا ۔ (سیر الاقطاب ص ۱۲۴)
جب حضرت خواجہ نے یہ ایمان افروز بشارت سنی تو آپ پر وجد و سرور طاری ہوگیا۔ آپ کی خوشی و مسرت کی کوئی انتہا نہ رہی۔ حضور رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ نے جب مقبولیت اور ہندوستان کی خوش خبری حاصل کرلی تو تھوڑا حیرا ن ہوئے کہ اجمیر کہاں ہے؟ یہی سوچتے ہوئے آپ کو نیند آگئی ، خواب میں کیا دیکھتے ہیں کہ سرکارِ مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ہوئے ہیں۔ پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو خواب کی حالت میں ایک ہی نظر میں مشرق سے مغرب تک سارے عالم کو دکھا دیا، دنیا کے تمام شہر اور قصبے آپ کی نظروں میں تھے یہاں تک کہ آپ نے اجمیر ، اجمیر کا قلعہ اور پہاڑیاں بھی دیکھ لیں۔ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خواجہ کو ایک انار عطا کرکے ارشاد فرمایا کہ ہم تجھ کو خدا کے سپرد کرتے ہیں ۔ (مونس الارواح ص ۳۰)
نیند سے بیدار ہونے کے بعد آپ نے چالیس اولیا کے ہمراہ ہندوستان (اجمیر) کا قصد کیا ۔
حضر ت خواجہ رحمۃ اللہ علیہ کی اجمیر میں آمد
حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ کس سن میں اجمیر تشریف لائے اس سلسلے میں آپ کے تذکرہ نگاروں کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے ۔ ویسے زیادہ تر اس بات پر متفق ہیں کہ آپ ۵۸۷ھ / ۱۱۹۱ء کو اجمیر شہر پہنچے۔ جہاں پہلے ہی دن سے آپ نے اپنی مؤثر تبلیغ ،حُسنِ اَخلاق، اعلا سیرت و کردار اور باطل شکن کرامتوں سے لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرلیا۔ اہلِ اجمیر نے جب اس بوریہ نشین فقیر کی روحانی عظمتوں کا اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کیا تو جوق در جوق مسلمان ہونے لگے۔ اس طرح رفتہ رفتہ اجمیر جو کبھی کفر و شرک اور بت پرستی کا مرکز تھا ، اسلام و ایمان کا گہوارہ بن گیا ۔
حضرت خواجہ کا وصالِ پُر ملال
عطاے رسول حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیر ی رحمۃ اللہ علیہ نے تبلیغِ اسلام اور دعوتِ حق کے لیے ہندوستان کی سرزمین پر تقریباً ۴۵ سال گذارے۔ آپ کی کوششوں سے ہندوستان میں جہاں کفر و شرک اور بت پرستی میں مصروف لوگ مسلمان ہوتے گئے وہیں ایک مستحکم اور مضبوط اسلامی حکومت کی بنیاد بھی پڑ گئی۔ تاریخ کی کتابوں میں آتا ہے کہ حضرت خواجہ کی روحانی کوششوں سے تقریباً نوے لاکھ لوگوں نے کلمہ پڑھ کر اسلام قبول کیا۔ جو کہ ایک طرح کا ناقابلِ فراموش کارنامہ ہے۔ اخیر عمر میں حضرت خواجہ کو محبوبِ حقیقی جل شانہ سے ملاقات کا شوق و ذوق بے حد زیادہ ہوگیا اور آپ یادِ الٰہی اور ذکرِ و فکر الٰہی میں اپنے زیادہ تر اوقات بسر کرنے لگے۔ آخری ایام میں ایک مجلس میں جب کہ اہل اللہ کا مجمع تھا آپ نے ارشاد فرمایا:’’اللہ والے سورج کی طرح ہیں ان کا نور تمام کائنات پر نظر رکھتا ہے اور انھیںکی ضیا پاشیوں سے ہستی کا ذرّہ ذرّہ جگمگا رہا ہے۔۔۔ اس سرزمین میں مجھے جو پہنچایا گیا ہے تو اس کا سبب یہی ہے کہ یہیں میری قبر بنے گی چند روز اور باقی ہیں پھر سفر درپیش ہے ۔ (دلیل العارفین ص ۵۸،چشتی)
عطاے رسول سلطان الہند حضرت خواجہ معین الدین چشتی رحمۃ اللہ نے جس روز اس دارِ فانی سے دارِ بقا کی طر ف سفر اختیار فرمایاوہ ۶ رجب المرجب ۶۳۳ھ بہ مطابق ۱۶ مارچ ۱۲۳۶ء بروز پیر کی رات تھی۔ عشا کی نماز کے بعد آپ اپنے حجرہ میں تشریف لے گئے اور خادموں کو ہدایت فرمائی کہ کوئی یہاں نہ آئے۔ جو خادم دروازہ پر موجود تھے ساری رات وجد کے عالم میں پیر پٹکنے کی آواز سنتے رہے۔ رات کے آخری پہر میں یہ آواز آنا بند ہوگئی۔ صبح صادق کے وقت جب نمازِ فجر کے لیے دستک دی گئی تو دروازہ نہ کھلا چناں چہ جب خادموں نے دروازہ کھولا تو دیکھا کہ حضرت خواجہ معین الدین چشتی اپنے مالکِ حقیقی کے وصال کی لذت سے ہم کنار ہوچکے ہیں۔ اور آپ کی پیشانی پر یہ غیبی عبارت لکھی ہوئی ہے : ہٰذا حبیبُ اللہ ماتَ فِی حُب اللہ ۔
آپ کے صاحب زادے حضرت خواجہ فخر الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ نے نمازِ جنازہ پڑھائی اور آپ کا جسمِ مبارک اسی حجرے میں دفن کیا گیا جہاں آپ کی قیام گاہ تھی ۔
ازواج و اولاد
پہلی شادی : حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمۃاللہ علیہ کو دین کی تبلیغ و اشاعت کی مصروفیت کی بنا پر ازدواجی زندگی کے لیے وقت نہ مل سکا ایک مرتبہ آپ کو خواب میں سرکارِ مدینہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زیارت ہوئی ۔ آپ نے فرمایا : اے معین الدین! توہمارے دین کا معین ہے پھر بھی تو ہماری سنتوں سے ایک سنت چھوڑ رہا ہے ۔ بیدار ہونے کے بعد آپ کو فکر دامن گیر ہوئی ۔ اور آپ نے ۵۹۰ھ / ۱۱۹۴ء میں بی بی امۃ اللہ سے پہلا نکاح فرمایا ۔
دوسری شادی : ۶۲۰ھ / ۱۲۲۳ء کو سید وجیہ الدین مشہدی کی دخترِ نیک اختر بی بی عصمۃ اللہ سے دوسرا نکاح فرمایا ۔
جب حضرت خواجہ نے یہ ایمان افروز بشارت سنی تو آپ پر وجد و سرور طاری ہوگیا۔ آپ کی خوشی و مسرت کی کوئی انتہا نہ رہی۔ حضور رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ نے جب مقبولیت اور ہندوستان کی خوش خبری حاصل کرلی تو تھوڑا حیرا ن ہوئے کہ اجمیر کہاں ہے؟ یہی سوچتے ہوئے آپ کو نیند آگئی ، خواب میں کیا دیکھتے ہیں کہ سرکارِ مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ہوئے ہیں۔ پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو خواب کی حالت میں ایک ہی نظر میں مشرق سے مغرب تک سارے عالم کو دکھا دیا، دنیا کے تمام شہر اور قصبے آپ کی نظروں میں تھے یہاں تک کہ آپ نے اجمیر ، اجمیر کا قلعہ اور پہاڑیاں بھی دیکھ لیں۔ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خواجہ کو ایک انار عطا کرکے ارشاد فرمایا کہ ہم تجھ کو خدا کے سپرد کرتے ہیں ۔ (مونس الارواح ص ۳۰)
نیند سے بیدار ہونے کے بعد آپ نے چالیس اولیا کے ہمراہ ہندوستان (اجمیر) کا قصد کیا ۔
حضر ت خواجہ رحمۃ اللہ علیہ کی اجمیر میں آمد
حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ کس سن میں اجمیر تشریف لائے اس سلسلے میں آپ کے تذکرہ نگاروں کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے ۔ ویسے زیادہ تر اس بات پر متفق ہیں کہ آپ ۵۸۷ھ / ۱۱۹۱ء کو اجمیر شہر پہنچے۔ جہاں پہلے ہی دن سے آپ نے اپنی مؤثر تبلیغ ،حُسنِ اَخلاق، اعلا سیرت و کردار اور باطل شکن کرامتوں سے لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرلیا۔ اہلِ اجمیر نے جب اس بوریہ نشین فقیر کی روحانی عظمتوں کا اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کیا تو جوق در جوق مسلمان ہونے لگے۔ اس طرح رفتہ رفتہ اجمیر جو کبھی کفر و شرک اور بت پرستی کا مرکز تھا ، اسلام و ایمان کا گہوارہ بن گیا ۔
حضرت خواجہ کا وصالِ پُر ملال
عطاے رسول حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیر ی رحمۃ اللہ علیہ نے تبلیغِ اسلام اور دعوتِ حق کے لیے ہندوستان کی سرزمین پر تقریباً ۴۵ سال گذارے۔ آپ کی کوششوں سے ہندوستان میں جہاں کفر و شرک اور بت پرستی میں مصروف لوگ مسلمان ہوتے گئے وہیں ایک مستحکم اور مضبوط اسلامی حکومت کی بنیاد بھی پڑ گئی۔ تاریخ کی کتابوں میں آتا ہے کہ حضرت خواجہ کی روحانی کوششوں سے تقریباً نوے لاکھ لوگوں نے کلمہ پڑھ کر اسلام قبول کیا۔ جو کہ ایک طرح کا ناقابلِ فراموش کارنامہ ہے۔ اخیر عمر میں حضرت خواجہ کو محبوبِ حقیقی جل شانہ سے ملاقات کا شوق و ذوق بے حد زیادہ ہوگیا اور آپ یادِ الٰہی اور ذکرِ و فکر الٰہی میں اپنے زیادہ تر اوقات بسر کرنے لگے۔ آخری ایام میں ایک مجلس میں جب کہ اہل اللہ کا مجمع تھا آپ نے ارشاد فرمایا:’’اللہ والے سورج کی طرح ہیں ان کا نور تمام کائنات پر نظر رکھتا ہے اور انھیںکی ضیا پاشیوں سے ہستی کا ذرّہ ذرّہ جگمگا رہا ہے۔۔۔ اس سرزمین میں مجھے جو پہنچایا گیا ہے تو اس کا سبب یہی ہے کہ یہیں میری قبر بنے گی چند روز اور باقی ہیں پھر سفر درپیش ہے ۔ (دلیل العارفین ص ۵۸،چشتی)
عطاے رسول سلطان الہند حضرت خواجہ معین الدین چشتی رحمۃ اللہ نے جس روز اس دارِ فانی سے دارِ بقا کی طر ف سفر اختیار فرمایاوہ ۶ رجب المرجب ۶۳۳ھ بہ مطابق ۱۶ مارچ ۱۲۳۶ء بروز پیر کی رات تھی۔ عشا کی نماز کے بعد آپ اپنے حجرہ میں تشریف لے گئے اور خادموں کو ہدایت فرمائی کہ کوئی یہاں نہ آئے۔ جو خادم دروازہ پر موجود تھے ساری رات وجد کے عالم میں پیر پٹکنے کی آواز سنتے رہے۔ رات کے آخری پہر میں یہ آواز آنا بند ہوگئی۔ صبح صادق کے وقت جب نمازِ فجر کے لیے دستک دی گئی تو دروازہ نہ کھلا چناں چہ جب خادموں نے دروازہ کھولا تو دیکھا کہ حضرت خواجہ معین الدین چشتی اپنے مالکِ حقیقی کے وصال کی لذت سے ہم کنار ہوچکے ہیں۔ اور آپ کی پیشانی پر یہ غیبی عبارت لکھی ہوئی ہے : ہٰذا حبیبُ اللہ ماتَ فِی حُب اللہ ۔
آپ کے صاحب زادے حضرت خواجہ فخر الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ نے نمازِ جنازہ پڑھائی اور آپ کا جسمِ مبارک اسی حجرے میں دفن کیا گیا جہاں آپ کی قیام گاہ تھی ۔
ازواج و اولاد
پہلی شادی : حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمۃاللہ علیہ کو دین کی تبلیغ و اشاعت کی مصروفیت کی بنا پر ازدواجی زندگی کے لیے وقت نہ مل سکا ایک مرتبہ آپ کو خواب میں سرکارِ مدینہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زیارت ہوئی ۔ آپ نے فرمایا : اے معین الدین! توہمارے دین کا معین ہے پھر بھی تو ہماری سنتوں سے ایک سنت چھوڑ رہا ہے ۔ بیدار ہونے کے بعد آپ کو فکر دامن گیر ہوئی ۔ اور آپ نے ۵۹۰ھ / ۱۱۹۴ء میں بی بی امۃ اللہ سے پہلا نکاح فرمایا ۔
دوسری شادی : ۶۲۰ھ / ۱۲۲۳ء کو سید وجیہ الدین مشہدی کی دخترِ نیک اختر بی بی عصمۃ اللہ سے دوسرا نکاح فرمایا ۔
اولاد و امجاد : حضرت خواجہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی اولاد میں تین لڑکے : (1) خواجہ فخر الدین چشتی اجمیری (وفات ۵ شعبان المعظم ۶۶۱ھ) (2) خواجہ ضیاء الدین ابو سعید (3) خواجہ حسام الدین ، جو بچپن میں ابدالوں کے زمرے میں شامل ہوکر غائب ہوگئے ۔ اور ایک دختر حافظہ بی بی جمال تھیں ۔ (رحمہم اللہ علیہم اجمعین)
(ماخذ : حضرت خواجہ غیرب نواز، سیرت غریب نواز ، ہند کے راجہ ، مراۃ الاسرار ، اقتباس الانوار)۔
(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/286333433602703/
(ماخذ : حضرت خواجہ غیرب نواز، سیرت غریب نواز ، ہند کے راجہ ، مراۃ الاسرار ، اقتباس الانوار)۔
(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/286333433602703/
تاریخ سلسلہ چشتیہ اور حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیر رحمۃ اللہ علیہ
https://t.me/islaamic_Knowledge/24142
سلطان الہند حضرت خواجہ غریب نواز
خواجہ معین الدین حسن چشتی علیہالرحمہ
https://t.me/islaamic_Knowledge/24149
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2112689542227002&id=100004579304922
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/286333433602703/
https://t.me/islaamic_Knowledge/24142
سلطان الہند حضرت خواجہ غریب نواز
خواجہ معین الدین حسن چشتی علیہالرحمہ
https://t.me/islaamic_Knowledge/24149
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2112689542227002&id=100004579304922
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/286333433602703/
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
سلطان الہند حضرت خواجہ غریب نواز
خواجہ معین الدین حسن چشتی علیہالرحمہ
https://t.me/islaamic_Knowledge/24149
محترم قارئینِ کرام : سلطان الہند، عطاء رسول ، خواجہ خواجگان حضرت خواجہ معین الدین حسن چشتی سنجری رحمۃ اللہ علیہ موضع سنجر خراسان 537 ھجری میں پیدا ہوئے ۔ سنجر قندہار سے پورب جانب ، 24 گھنٹے کے راستے میں واقع ہے ۔ یہ گاؤں اب تک موجود ہے ۔ اسی کو سبحستان بھی کہتے ہیں ۔ آپ کے والد ماجد کا اسم گرامی حضرت غیاث الدین حسن رحمۃ اللہ علیہ ہے یہ آٹھویں پشت میں عارف حق موسٰی کاظم رحمۃ اللہ علیہ کے پوتے ہوتے ہیں ۔
والدہ محترمہ کا نام بی بی ام الورع ہے اور بی بی ماہ نور رحمۃ اللہ علیہا سے مشہور تھیں جو چند واسطوں سے حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کی پوتی تھیں ۔ اس لیے آپ والدہ کی طرف سے حسینی اور والدہ کی طرف سے حسنی سید ہیں ۔
آپ کی والدہ کا بیان ہے کہ جس وقت میرا نور نظر لخت جگر میرے شکم میں آیا میرا سارا گھر خیروبرکت سے معمور ہو گیا ۔ ہمارے دشمن بھی شفقت و محبت سے پیش آنے لگے ۔ کبھی کبھی مجھے بہترین خواب نظر آتے اور جس وقت سے میرے رب نے آپ کے جسم اطہر میں جان ڈالی تو اس وقت سے معمول ہو گیا تھا کہ آدھی رات سے صُبح تک میرے شکم سے تسبیح و تہلیل کی آواز آتی تھی میں اس مبارک آواز میں گم ہو جایا کرتی تھی جب آپ کی ولادت ہوئی میرا گھر نور سے بھر گیا ۔
ابتدائی تعلیم گھر پر ہوئی ۔ آپ کے والد بزرگوار حضرت غیاث الدین حسن رحمۃ اللہ علیہ ایک بڑے جید عالم تھے ۔ خواجہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے نو سال کی عمر میں قرآن مجید حفظ فرما لیا اور اس کے بعد سنجر کے ایک مکتب میں داخلہ ہوا ۔ آپ نے یہاں ابتدائی طور سے تفسیر، فقہ اور حدیث کی تعلیم پائی اور تھوڑی ہی عرصے میں آپ نے تمام علوم میں مہارت حاصل کرلیا ۔
سیدنا خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ بچپن ہی میں اپنے والد کے سایہ سے محروم ہوگئے ۔ ابھی آپ کی عمر 15 سال بھی نہ ہوئی تھی کہ والد ماجد رحمۃ اللہ علیہ جاں بحق ہوگئے ۔ والد کا وصال شعبان المکرم 544ھ میں ہوا ۔ (میراةالعارفین صفحہ 5،چشتی)
والد کے ترکہ میں سے حضرت خواجہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کو ایک پن چکی اور ایک باغ ۔ یہ دو چیزیں ملیں جس کی آمدنی سے آپ گزر اوقات فرماتے ۔ ایک مجذوب نے زندگی میں انقلاب پیدا دیا ۔
سرکار خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ اپنے باغ کی دیکھ بھال خود فرماتے تھے ۔ ایک دن اپنے باغ کو پانی دے رہے تھے کہ اچانک ایک مجذوب حضرت ابراہیم قندوزی رحمۃ اللہ علیہ باغ میں داخل ہوگئے ۔ خواجہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کو بچپن ہی سے صوفیوں اور درویشوں سے بے پناہ لگاؤ تھا ۔ اس لیے نہایت ہی خنداں لبی سے ان کا استقبال کیا اور بہت ہی منکسر المزاجی سے پیش آئے اور انگور کا ایک خوشہ توڑ کر حضرت ابراہیم قندوزی رحمۃ اللہ علیہ کے حضور پیش کیا ۔ حضرت ابراہیم قندوزی رحمۃ اللہ علیہ تو سمجھ ہی رہے تھے کہ حسن رحمۃ اللہ علیہ کو رہنما کی تلاش ہے جو ان کو حق تک پہنچا دے اور آپ اچھی طرح جان رہے تھے کہ آج کا یہ انوکھا باغبان کل تک لوگوں کے دلوں میں باغبانی کرے گا اور جانے کتنوں کی روحانی پیاس بجھائے گا اور لاکھوں کو مئے توحید کو متوالا بنا دے گا اور جو بھی اس کی ایک نظر سے جام پی لے گا وہ عشق الہٰی میں سرمست ہو جائے گا ۔
اس لیے آپ نے کھل کا ایک ٹکڑا نکالا اور اس کو چبا کر حضرت خواجہ رحمۃ اللہ علیہ کو عنایت فرما دیا ۔ اب کیا تھا ۔ کھاتے ہی دل کی دنیا بدل گئی حجابات اٹھتے دکھائی دے رہے تھے ۔ حضرت ابراہیم قندوزی رحمۃ اللہ علیہ تو تشریف لے گئے لیکن سیدنا خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ نے اپنا باغ فروخت کر کے فقراء مساکین میں تقسیم فرما دیا اور خود تلاش حق کےلیے چل پڑے ۔
آپ سب سے پہلے خراسان تشریف لائے ۔ بعدہ سمر قندو بخارا کا سفر فرمایا ۔ آخر الذکر دونوں مقامات میں 544 ھجری سے 550 ھجری تک علوم ظاہری کی تکمیل فرمائی ۔ یہ وہ زمانہ تھا کہ بغداد ، سمر قند اور بخارا اسلامی علوم و فنون کے مرکز تھا ۔ مولانا حسام الدین بخاری رحمۃ اللہ علیہ شرع الاسلام مولانا اشرف الدین رحمۃ اللہ علیہ جیسی مشہور اور جلیل القدر ہستیوں سے حضرت خواجہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ سے علم حاصل کیا۔ (احسن المیر صفحہ نمبر 134،چشتی)
بغداد مقدس سے آپ حرمین تشریف لے گئے ۔ یہ سفر آپ نے 551 ھجری میں کیا ۔
قریہ ہارون ایک چھوٹی سی بستی تھی لیکن اللہ کی شان کہ یہ چھوٹی سی بستی نور و نکہت میں بسی ہوئی تھی ۔ وہاں ایک عاشقِ رسول حضرت خواجہ عثمان ہارونی رحمۃ اللہ علیہ رونق افروز تھے اور تمام بستی خیر و برکت سے معمور تھی ۔ حضرت عثمان ھارونی رحمۃ اللہ علیہ مشائخ کبار میں سے تھے اور آپ کا فیض دور دور تک جاری تھا ۔ متلاشیانِ حق اور حاجت مندان گوہر مراد سے اپنا دامن بھر لیتے تھے ۔ جس وقت خواجہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی نظر اپنے شیخ کامل رحمۃ اللہ علیہ پر پڑی ان کی خوشی کی انتہا نہ رہی کیونکہ انہیں اب چشمہ آبِ بقا مل گیا تھا ۔
خواجہ معین الدین حسن چشتی علیہالرحمہ
https://t.me/islaamic_Knowledge/24149
محترم قارئینِ کرام : سلطان الہند، عطاء رسول ، خواجہ خواجگان حضرت خواجہ معین الدین حسن چشتی سنجری رحمۃ اللہ علیہ موضع سنجر خراسان 537 ھجری میں پیدا ہوئے ۔ سنجر قندہار سے پورب جانب ، 24 گھنٹے کے راستے میں واقع ہے ۔ یہ گاؤں اب تک موجود ہے ۔ اسی کو سبحستان بھی کہتے ہیں ۔ آپ کے والد ماجد کا اسم گرامی حضرت غیاث الدین حسن رحمۃ اللہ علیہ ہے یہ آٹھویں پشت میں عارف حق موسٰی کاظم رحمۃ اللہ علیہ کے پوتے ہوتے ہیں ۔
والدہ محترمہ کا نام بی بی ام الورع ہے اور بی بی ماہ نور رحمۃ اللہ علیہا سے مشہور تھیں جو چند واسطوں سے حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کی پوتی تھیں ۔ اس لیے آپ والدہ کی طرف سے حسینی اور والدہ کی طرف سے حسنی سید ہیں ۔
آپ کی والدہ کا بیان ہے کہ جس وقت میرا نور نظر لخت جگر میرے شکم میں آیا میرا سارا گھر خیروبرکت سے معمور ہو گیا ۔ ہمارے دشمن بھی شفقت و محبت سے پیش آنے لگے ۔ کبھی کبھی مجھے بہترین خواب نظر آتے اور جس وقت سے میرے رب نے آپ کے جسم اطہر میں جان ڈالی تو اس وقت سے معمول ہو گیا تھا کہ آدھی رات سے صُبح تک میرے شکم سے تسبیح و تہلیل کی آواز آتی تھی میں اس مبارک آواز میں گم ہو جایا کرتی تھی جب آپ کی ولادت ہوئی میرا گھر نور سے بھر گیا ۔
ابتدائی تعلیم گھر پر ہوئی ۔ آپ کے والد بزرگوار حضرت غیاث الدین حسن رحمۃ اللہ علیہ ایک بڑے جید عالم تھے ۔ خواجہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے نو سال کی عمر میں قرآن مجید حفظ فرما لیا اور اس کے بعد سنجر کے ایک مکتب میں داخلہ ہوا ۔ آپ نے یہاں ابتدائی طور سے تفسیر، فقہ اور حدیث کی تعلیم پائی اور تھوڑی ہی عرصے میں آپ نے تمام علوم میں مہارت حاصل کرلیا ۔
سیدنا خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ بچپن ہی میں اپنے والد کے سایہ سے محروم ہوگئے ۔ ابھی آپ کی عمر 15 سال بھی نہ ہوئی تھی کہ والد ماجد رحمۃ اللہ علیہ جاں بحق ہوگئے ۔ والد کا وصال شعبان المکرم 544ھ میں ہوا ۔ (میراةالعارفین صفحہ 5،چشتی)
والد کے ترکہ میں سے حضرت خواجہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کو ایک پن چکی اور ایک باغ ۔ یہ دو چیزیں ملیں جس کی آمدنی سے آپ گزر اوقات فرماتے ۔ ایک مجذوب نے زندگی میں انقلاب پیدا دیا ۔
سرکار خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ اپنے باغ کی دیکھ بھال خود فرماتے تھے ۔ ایک دن اپنے باغ کو پانی دے رہے تھے کہ اچانک ایک مجذوب حضرت ابراہیم قندوزی رحمۃ اللہ علیہ باغ میں داخل ہوگئے ۔ خواجہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کو بچپن ہی سے صوفیوں اور درویشوں سے بے پناہ لگاؤ تھا ۔ اس لیے نہایت ہی خنداں لبی سے ان کا استقبال کیا اور بہت ہی منکسر المزاجی سے پیش آئے اور انگور کا ایک خوشہ توڑ کر حضرت ابراہیم قندوزی رحمۃ اللہ علیہ کے حضور پیش کیا ۔ حضرت ابراہیم قندوزی رحمۃ اللہ علیہ تو سمجھ ہی رہے تھے کہ حسن رحمۃ اللہ علیہ کو رہنما کی تلاش ہے جو ان کو حق تک پہنچا دے اور آپ اچھی طرح جان رہے تھے کہ آج کا یہ انوکھا باغبان کل تک لوگوں کے دلوں میں باغبانی کرے گا اور جانے کتنوں کی روحانی پیاس بجھائے گا اور لاکھوں کو مئے توحید کو متوالا بنا دے گا اور جو بھی اس کی ایک نظر سے جام پی لے گا وہ عشق الہٰی میں سرمست ہو جائے گا ۔
اس لیے آپ نے کھل کا ایک ٹکڑا نکالا اور اس کو چبا کر حضرت خواجہ رحمۃ اللہ علیہ کو عنایت فرما دیا ۔ اب کیا تھا ۔ کھاتے ہی دل کی دنیا بدل گئی حجابات اٹھتے دکھائی دے رہے تھے ۔ حضرت ابراہیم قندوزی رحمۃ اللہ علیہ تو تشریف لے گئے لیکن سیدنا خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ نے اپنا باغ فروخت کر کے فقراء مساکین میں تقسیم فرما دیا اور خود تلاش حق کےلیے چل پڑے ۔
آپ سب سے پہلے خراسان تشریف لائے ۔ بعدہ سمر قندو بخارا کا سفر فرمایا ۔ آخر الذکر دونوں مقامات میں 544 ھجری سے 550 ھجری تک علوم ظاہری کی تکمیل فرمائی ۔ یہ وہ زمانہ تھا کہ بغداد ، سمر قند اور بخارا اسلامی علوم و فنون کے مرکز تھا ۔ مولانا حسام الدین بخاری رحمۃ اللہ علیہ شرع الاسلام مولانا اشرف الدین رحمۃ اللہ علیہ جیسی مشہور اور جلیل القدر ہستیوں سے حضرت خواجہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ سے علم حاصل کیا۔ (احسن المیر صفحہ نمبر 134،چشتی)
بغداد مقدس سے آپ حرمین تشریف لے گئے ۔ یہ سفر آپ نے 551 ھجری میں کیا ۔
قریہ ہارون ایک چھوٹی سی بستی تھی لیکن اللہ کی شان کہ یہ چھوٹی سی بستی نور و نکہت میں بسی ہوئی تھی ۔ وہاں ایک عاشقِ رسول حضرت خواجہ عثمان ہارونی رحمۃ اللہ علیہ رونق افروز تھے اور تمام بستی خیر و برکت سے معمور تھی ۔ حضرت عثمان ھارونی رحمۃ اللہ علیہ مشائخ کبار میں سے تھے اور آپ کا فیض دور دور تک جاری تھا ۔ متلاشیانِ حق اور حاجت مندان گوہر مراد سے اپنا دامن بھر لیتے تھے ۔ جس وقت خواجہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی نظر اپنے شیخ کامل رحمۃ اللہ علیہ پر پڑی ان کی خوشی کی انتہا نہ رہی کیونکہ انہیں اب چشمہ آبِ بقا مل گیا تھا ۔
حضرت خواجہ رحمۃ اللہ علیہ نے خواجہ عثمان ہارونی رحمۃ اللہ علیہ کے دستِ حق پرست پر بیعت کی ۔ حضرت خواجہ رحمۃ اللہ علیہ مرید ہونے کا واقعہ خود ان الفاظ میں بیان فرماتے ہیں : میں ایک صحبت میں جس میں جلیل القدر بزرگ جمع تھے نہایت ادب سے حاضر ہوا اور سر نیاز زمین ادب پر جھکا دیا ۔ حضور نے حکم فرمایا ۔ “دو رکعت نماز ادا کرو“ میں نے تعمیل حکم کی پھر حکم ہوا “رو بقبلہ بیٹھ جاؤ“ میں ادب سے رو بقبلہ بیٹھ گیا ۔ پھر ارشاد فرمایا ۔ “سورہ بقرہ کی تلاوت کرو“ میں نے ادب کے ساتھ تلاوت کی ۔ پھر حکم ہوا ۔ “ساٹھ مرتبہ سبحان اللہ پڑھو“ میں نے پڑھا ۔ پھر حضور والا نے میرا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا اور آسمان کی طرف نگاہ اٹھا کر دیکھا اور زبانِ مبارک سے یہ ارشاد فرمایا : “میں نے تجھے خدا تک پہنچا دیا ۔“ ان تمام امور کے بعد حضرت شیخ نے ایک خاص قسم کی ٹوپی میرے سر پر رکھی جو “کلاہ چہارتر کی“ کہلاتی ہے ۔ اور چغہ مبارک مجھے پہنا دیا۔ پھر فرمایا ۔ “بیٹھ جاؤ“ میں فوراً بیٹھ گیا اور پھر حکم ہوا “ہزار بار سورہ اخلاص پڑھو“ جب میں اس سے فارغ ہوا تو فرمایا۔ “ہمارے مشائخ کے یہاں صرف ایک دن رات کا مجاہدہ ہے ۔ اس لئے جاؤ ایک دن رات کا مجاہدہ کرو۔“ یہ سن کر میں نے ایک دن رات پوری عبادتِ الٰہی اور نماز میں گزار دی ۔ دوسرے دن خدمت میں حاضر ہوکر قدم بوسی کی دولت حاصل کی اور حکم کے مطابق بیٹھ گیا ۔ ارشاد فرمایا “ادھر دیکھو“ آسمان کی طرف اشارہ کر کے ۔ میں نے آسمان کی طرف نظر اٹھائی ۔ آپ نے دریافت فرمایا ۔ کہاں تک دیکھتا ہے ؟ میں نے عرض کیا ۔ عرش معلٰی تک ۔ پھر ارشاد ہوا ۔ “نیچے دیکھو“ میں نے نیچے دیکھا تو پھر وہی فرمایا ۔ “کہاں تک دیکھتا ہے ؟“ میں نے عرض کیا ۔ تحت الثرٰی تک ۔ پھر حکم ہوا ہزار بار سورہ اخلاص پڑھو میں نے حکم کی تعمیل کی تو پھر حضرت نے ارشاد فرمایا “آسمان کی طرف دیکھو“ میں نے عرض کیا ۔ حجاب عظمت تک صاف نظر آ رہا ہے ۔ فرمایا “آنکھیں بند کرو“ میں نے آنکھیں بند کرلیں پھر حکم دیا “کھول دو“۔ میں نے آنکھیں کھول دیں ۔ اس کے بعد آپ نے دو انگلیاں میرے سامنے کیں اور دریافت فرمایا ۔ کیا دکھائی دیتا ہے ؟“ میں نے عرض کیا ۔ اٹھارہ ہزار عالم میری آنکھوں کے سامنے ہیں ۔ جب میری زبان سے یہ جملہ ادا ہوا تو آپ نے ارشاد فرمایا “پس اب تیرا کام ہوگیا“ ۔ (انیس الارواح ملفوظات خواجہ)
فائدہ : یہ تو ایک ولی کے علم کا حال ہے تو پھر نبی کے علم کا حال کیا ہوگا۔ اور کیا دنیا خواجہ عثمان ہارونی کے ان دو انگلیوں کا جواب دے سکتی ہے۔ نہیں ہرگز نہیں۔ تو نبی کے پنجاب رحمت کا جواب دنیا کہاں سے لا سکے گی۔
انگلیاں تھیں فیض پر ٹوٹے ہیں پیاسے جھوم کر
ندیاں پنجاب رحمت کی ہیں جاری واہ واہ
بعد ازاں ایک اینٹ کی طرف جو سامنے پڑی تھی اشارہ کرکے فرمایا “اس کو اٹھا“ میں نے اٹھایا تو اس کے نیچے کچھ دینار نکلے جن کے متعلق حکم ہوا۔ انھیں لے جا اور قفراء و مساکین میں تقسیم کردے ۔ چنانچہ میں نے حکم کی تعمیل کی اور خدمت بابرکت میں حاضر ہوا ارشاد ہوا۔ “چند روز ہمارے صُحبت میں رہو۔“ عرض کیا حاضر ہوں ۔
حضرت سیدنا خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ اب اپنے پیر و مرشد کے اس قدر متعدد اور شیدائی ہوگئے تھے کہ وقت سفر اور حضر اپنے پیر و مرشد کی خدمت میں حاضر رہتے ۔ پیر کا بستہ ، توشہ ، پانی کا مشکیزہ دیگر ضروری سامان اپنے سر اور کندھوں پر رکھ کر ہم سفر ہوتے تھے ۔ کامل بیس سال تک اپنے پیرو مُرشد کی خدمت کرکے معرفت و حقیقت کی تمام منزلیں طے فرمالیں اور فقیری کے رموز و اسرار سے واقف ہوگئے ۔
خواجہ خواجگان حضرت معین الدین حسن سنجری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : بعد ازاں میں چند روز پیر و مرشد کی خدمت میں رہا ۔ پیر حضرت نے اس دعاگو کو ساتھ لیکر خانہ کعبہ کا سفر اختیار کیا ۔ الحاصل ایک شہر میں پہنچے یہاں ایک جماعت درویشوں کی دیکھی جو شراب عشق الہی میں سرشار عالم سکر و حیرت میں از خور رفتہ تھی ۔ چند دن اُن کی صُحبت میں رہنا ہوا مگر وہ حضرات عالم صحو میں نہ آئے۔(انیس الارواح،چشتی)
بعد ازاں مکہ معظمہ کی راہ لی ۔ مکہ مکرمہ پہنچ کر زیارت و طواف خانہ کعبہ سے مشرف ہوئے ۔ حضرت خواجہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: پیرو مُرشد نے یہاں بھی میرا ہاتھ پکڑا ۔ اور حق تعالٰی کے سپرد کیا اور زیر ناؤ دان خانہ کعبہ دعاء گو ہوئے۔ مناجات کی ندا آئی۔ “ہم نے معین الدین کو قبول کیا“ بعد ازاں مدینہ منورہ آئے اور حرم نبوی میں حاضری دی ۔ مجھ سے فرمایا: “سلام کر“ میں نے سلام عرض کیا۔ آواز آئی وعلیکم السلام یاقطب المشائخ بر و بحر (یہاں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی حیات کا مسئلہ حل ہوگیا) اگر نبی مر کر معاذاللہ مٹی میں مل گئے ہوتے جیسا کہ فرقہ باطلہ کا عقیدہ ہے تو جواب ناممکن تھا۔ حدیث شریف میں ہے ان اللہ حرم علی الارض ان تاکل اجساد الانبیاء فنبی اللہ حیی یرزق ۔ (بیشک اللہ تعالٰی نے زمین پر انبیاء کے جسموں کو حرام کر دیا ہے کہ وہ کھائے تو اللہ
فائدہ : یہ تو ایک ولی کے علم کا حال ہے تو پھر نبی کے علم کا حال کیا ہوگا۔ اور کیا دنیا خواجہ عثمان ہارونی کے ان دو انگلیوں کا جواب دے سکتی ہے۔ نہیں ہرگز نہیں۔ تو نبی کے پنجاب رحمت کا جواب دنیا کہاں سے لا سکے گی۔
انگلیاں تھیں فیض پر ٹوٹے ہیں پیاسے جھوم کر
ندیاں پنجاب رحمت کی ہیں جاری واہ واہ
بعد ازاں ایک اینٹ کی طرف جو سامنے پڑی تھی اشارہ کرکے فرمایا “اس کو اٹھا“ میں نے اٹھایا تو اس کے نیچے کچھ دینار نکلے جن کے متعلق حکم ہوا۔ انھیں لے جا اور قفراء و مساکین میں تقسیم کردے ۔ چنانچہ میں نے حکم کی تعمیل کی اور خدمت بابرکت میں حاضر ہوا ارشاد ہوا۔ “چند روز ہمارے صُحبت میں رہو۔“ عرض کیا حاضر ہوں ۔
حضرت سیدنا خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ اب اپنے پیر و مرشد کے اس قدر متعدد اور شیدائی ہوگئے تھے کہ وقت سفر اور حضر اپنے پیر و مرشد کی خدمت میں حاضر رہتے ۔ پیر کا بستہ ، توشہ ، پانی کا مشکیزہ دیگر ضروری سامان اپنے سر اور کندھوں پر رکھ کر ہم سفر ہوتے تھے ۔ کامل بیس سال تک اپنے پیرو مُرشد کی خدمت کرکے معرفت و حقیقت کی تمام منزلیں طے فرمالیں اور فقیری کے رموز و اسرار سے واقف ہوگئے ۔
خواجہ خواجگان حضرت معین الدین حسن سنجری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : بعد ازاں میں چند روز پیر و مرشد کی خدمت میں رہا ۔ پیر حضرت نے اس دعاگو کو ساتھ لیکر خانہ کعبہ کا سفر اختیار کیا ۔ الحاصل ایک شہر میں پہنچے یہاں ایک جماعت درویشوں کی دیکھی جو شراب عشق الہی میں سرشار عالم سکر و حیرت میں از خور رفتہ تھی ۔ چند دن اُن کی صُحبت میں رہنا ہوا مگر وہ حضرات عالم صحو میں نہ آئے۔(انیس الارواح،چشتی)
بعد ازاں مکہ معظمہ کی راہ لی ۔ مکہ مکرمہ پہنچ کر زیارت و طواف خانہ کعبہ سے مشرف ہوئے ۔ حضرت خواجہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: پیرو مُرشد نے یہاں بھی میرا ہاتھ پکڑا ۔ اور حق تعالٰی کے سپرد کیا اور زیر ناؤ دان خانہ کعبہ دعاء گو ہوئے۔ مناجات کی ندا آئی۔ “ہم نے معین الدین کو قبول کیا“ بعد ازاں مدینہ منورہ آئے اور حرم نبوی میں حاضری دی ۔ مجھ سے فرمایا: “سلام کر“ میں نے سلام عرض کیا۔ آواز آئی وعلیکم السلام یاقطب المشائخ بر و بحر (یہاں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی حیات کا مسئلہ حل ہوگیا) اگر نبی مر کر معاذاللہ مٹی میں مل گئے ہوتے جیسا کہ فرقہ باطلہ کا عقیدہ ہے تو جواب ناممکن تھا۔ حدیث شریف میں ہے ان اللہ حرم علی الارض ان تاکل اجساد الانبیاء فنبی اللہ حیی یرزق ۔ (بیشک اللہ تعالٰی نے زمین پر انبیاء کے جسموں کو حرام کر دیا ہے کہ وہ کھائے تو اللہ
کا نبی زندہ ہے اور رزق دیا جاتا ہے۔)
یہ آواز سن کر مُرشد نے فرمایا ۔ اب تو درجہ کمال کو پہنچ گیا ۔ اس کے بعد آپ نے اپنے پیر کے ہمراہ بخارا شریف تشریف لے گئے ۔ وہ بخارا کے صدر المشائخ سے ملے جن کے بارے میں خواجہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ۔ یہ بزرگ دوسرے عالم میں تھے ان کی تعریف و توصیف حّد بیان سے باہر ہے ۔
اس سفر کے بارے میں حضرت خواجہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ۔ ایک وقت عثمان ہارونی کے ہمراہ سیوستان کے سفر میں تھا ۔ یہاں صومعہ (گرجا گھر) میں ایک بزرگ تھے ان بزرگ کا نام صدر الدین محمد سیوستان تھا رحمۃ اللہ علیہ بڑے مشغول بزرگ تھے چند دن ان کے پاس رہنا ہوا جو شخص ان کے صومعہ میں آتا محروم نہ جاتا ۔ عالمِ غیب سے کوئی چیز لاکر دیتے اور کہتے اس درویش کو ایمان کی سلامتی کی دعاء سے یاد کرو کیونکہ اگر گور میں اپنا ایمان سلامت لے گیا تو بڑا کام کیا۔“ یہ بزرگ جب ہیبت گور کا تذکرہ سنتے تو مثل بید کے کانپنے لگتے۔ آنکھوں سے خون کے آنسو پانی کے چشمے کی طرح جاری ہو جاتے۔ سات دن تک روتے رہتے اور اپنی آنکھیں ہوا میں کھول کر کھڑے ہو جاتے۔ ہمیں ان کے رونے سے رونا آ جاتا اور کہتے یہ کیسا بزرگ ہے۔ جب وہ اس کام سے فارغ ہوتے تو ہماری طرف منہ کرکے کہتے۔ “اے عزیزان ! مجھے مرگ در پیش ہے جس کا ملک الموت حریف ہو اور قیامت جیسا دن پیش نظر ہو اس کو سونے اور خوش دلی اور خندگی سے کیا کام اور کیسے کسی کام میں مشغول ہونا اچھا معلوم ہو ۔ (دلیل العارفین)
پھر انہوں نے فرمایا ۔ اے عزیزان ! اگر تمہیں مٹی کے نیچے سونے والے جواسیر موردمار ہیں اور زندان خاک میں محبوس ہیں کا حال ذرہ بھر معلوم ہو جائے تو نمک کی طرح پانی ہو جاؤ۔
اس کے بعد آپ نے یہ حکایت بیان کی۔ ایک وقت میں نے بصرہ میں ایک بزرگ کو دیکھا۔ بہت مشغول تھے میں اور وہ بزرگ گورستان میں ایک قبر کے پاس بیٹھے تھے۔ وہ بزرگ صاحب کشف تھے۔ انہیں معلوم ہوگیا کہ اس قبر کے مُردے پر سخت عذاب ہو رہا ہے۔ دیکھ کر وہ بزرگ نعرہ مار کر واصل بحق ہو گئے۔ تھوڑی دیر میں مثل نمک کے پگھل کر پانی ہو کر ناپید ہو گئے۔ جیسا خوف میں نے ان بزرگ میں دیکھا ویسا نہ آج تک کسی میں دیکھا نہ سنا۔ پھر فرمایا، میں ہیبت گور کی وجہ سے گوشہء تنہائی میں ہوں تم سے آج تیس سال کے بعد گفتگو کی ہے اور یہ حکایت بیان کی ہے۔
“پس اے عزیزان ! مخلوق کے ساتھ وقت گزارنے سے یادِ حق میں وقت صَرف کرنا بہتر ہے ۔ کیونکہ جتنی دیر لوگ خلق میں مشغول رہتے ہیں۔ خدا سے باز رہتے ہیں۔ پس صحبت خلق سے باز رہنا چاہئیے اور زادِ راہ کا انتظام کرنا چاہئیے۔ ہم سب کو وہ دن درپیش ہے۔ ایمان سلامت لے جانا چاہئیے۔ یہ کہہ کر دو خرمے میرے (خواجہ غریب نواز) ہاتھ میں دئیے اور اٹھ کر چلے گئے۔ ان پر گریہ طاری ہوا اور عالم تحّیر میں مشغول ہوگئے۔ اس کے بعد خواجہ غریب نواز اپنے پیر کے ہمراہ دمشق اور سنجار ہوتے ہوئے بغداد پہنچے، جس کو خود خواجہ کی زبان سنئیے۔
بعد ازاں حضرت خواجہ عثمان ہارونی قدس سرہ، بغداد واپس تشریف لاکر معتکف ہوگئے اور دعاء گو سے ارشاد فرمایا۔ “اس مقام سے چند روز تک باہر نہ آؤں گا مگر تو چاشت کے وقت آیا کر کہ تجھ سے ترغیب فقر بیان کروں تاکہ مُریدوں اور فرزندوں کیلئے میرے بعد یادگار ہو۔“ یہ فقیر روزانہ حاضر خدمت ہوتا رہا۔ جو کچھ مُرشدوں کی زبان فیض ترجمان سے سنتا قلمبند کر لیتا تھا۔“ اس طرح خواجہ غریب نواز نے ایک رسالہ مرتب کیا جو اٹھائیس مجلسوں پر مُشتمل ہے۔ اس رسالہ کا نام “انیس الارواح“ رکھا ۔
خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ اپنے پیرِ کامل خواجہ عثمان ہارونی رحمۃ اللہ علیہ سے بغداد میں رخصت ہوئے ۔ اوش ہوتے ہوئے اصفہان پہنچ کر ولی کامل شیخ محمود اصفہانی رحمۃ اللہ علیہ سے ملے خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رحمۃ اللہ علیہ کو مُرید کیا ۔ اصفہان سے مکہ معظّمہ پہنچے ۔ ساتھ میں مُریدِ خاص خواجہ قطب الدین بختیار کاکی بھی تھے۔ حج ادا فرمایا اور مدینہ منورہ پہنچے ۔
انیس بیکساں ، چارہ ساز درد منداں رحمت عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دربار سے بشارت ہوئی۔ اے معین الدین ! تُو میرے دین کا معین ہے۔ میں نے ہندوستان کی ولایت تجھ کو عطا کی، تو اجمیر جا۔ سرور عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ کو جنت کا ایک انار عطا فرمایا۔ حضرت خواجہ بصد احترام و ادب روضہء پاک سے باہر نکلے۔ آپ پر ایک خاص کیفیت طاری تھی۔ جب وجدانی کیفیت نے قلب کو سکون بخشا تو فرمانِ رسالت یاد آیا مگر متحّیر تھے کہ ہندوستان کدھر ہے اور کہاں ؟ اس فکر میں تھے کہ شام ہوئی۔ سورج ڈوب گیا۔ بعدِ نماز عشاء آنکھ لگی اور آپ سو گئے۔ عالمِ خواب میں تمام ہندوستان کا نقشہ اور اجمیر کا منظر آپ کے سامنے تھا۔ جب آنکھ کھلی سجدہء شکر ادا کیا اور روضہء اطہر پر حاضر ہوکر تحفہء درود و سلام پیش کرکے ہندوستان کی جانب روانہ ہوگئے۔
یہ آواز سن کر مُرشد نے فرمایا ۔ اب تو درجہ کمال کو پہنچ گیا ۔ اس کے بعد آپ نے اپنے پیر کے ہمراہ بخارا شریف تشریف لے گئے ۔ وہ بخارا کے صدر المشائخ سے ملے جن کے بارے میں خواجہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ۔ یہ بزرگ دوسرے عالم میں تھے ان کی تعریف و توصیف حّد بیان سے باہر ہے ۔
اس سفر کے بارے میں حضرت خواجہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ۔ ایک وقت عثمان ہارونی کے ہمراہ سیوستان کے سفر میں تھا ۔ یہاں صومعہ (گرجا گھر) میں ایک بزرگ تھے ان بزرگ کا نام صدر الدین محمد سیوستان تھا رحمۃ اللہ علیہ بڑے مشغول بزرگ تھے چند دن ان کے پاس رہنا ہوا جو شخص ان کے صومعہ میں آتا محروم نہ جاتا ۔ عالمِ غیب سے کوئی چیز لاکر دیتے اور کہتے اس درویش کو ایمان کی سلامتی کی دعاء سے یاد کرو کیونکہ اگر گور میں اپنا ایمان سلامت لے گیا تو بڑا کام کیا۔“ یہ بزرگ جب ہیبت گور کا تذکرہ سنتے تو مثل بید کے کانپنے لگتے۔ آنکھوں سے خون کے آنسو پانی کے چشمے کی طرح جاری ہو جاتے۔ سات دن تک روتے رہتے اور اپنی آنکھیں ہوا میں کھول کر کھڑے ہو جاتے۔ ہمیں ان کے رونے سے رونا آ جاتا اور کہتے یہ کیسا بزرگ ہے۔ جب وہ اس کام سے فارغ ہوتے تو ہماری طرف منہ کرکے کہتے۔ “اے عزیزان ! مجھے مرگ در پیش ہے جس کا ملک الموت حریف ہو اور قیامت جیسا دن پیش نظر ہو اس کو سونے اور خوش دلی اور خندگی سے کیا کام اور کیسے کسی کام میں مشغول ہونا اچھا معلوم ہو ۔ (دلیل العارفین)
پھر انہوں نے فرمایا ۔ اے عزیزان ! اگر تمہیں مٹی کے نیچے سونے والے جواسیر موردمار ہیں اور زندان خاک میں محبوس ہیں کا حال ذرہ بھر معلوم ہو جائے تو نمک کی طرح پانی ہو جاؤ۔
اس کے بعد آپ نے یہ حکایت بیان کی۔ ایک وقت میں نے بصرہ میں ایک بزرگ کو دیکھا۔ بہت مشغول تھے میں اور وہ بزرگ گورستان میں ایک قبر کے پاس بیٹھے تھے۔ وہ بزرگ صاحب کشف تھے۔ انہیں معلوم ہوگیا کہ اس قبر کے مُردے پر سخت عذاب ہو رہا ہے۔ دیکھ کر وہ بزرگ نعرہ مار کر واصل بحق ہو گئے۔ تھوڑی دیر میں مثل نمک کے پگھل کر پانی ہو کر ناپید ہو گئے۔ جیسا خوف میں نے ان بزرگ میں دیکھا ویسا نہ آج تک کسی میں دیکھا نہ سنا۔ پھر فرمایا، میں ہیبت گور کی وجہ سے گوشہء تنہائی میں ہوں تم سے آج تیس سال کے بعد گفتگو کی ہے اور یہ حکایت بیان کی ہے۔
“پس اے عزیزان ! مخلوق کے ساتھ وقت گزارنے سے یادِ حق میں وقت صَرف کرنا بہتر ہے ۔ کیونکہ جتنی دیر لوگ خلق میں مشغول رہتے ہیں۔ خدا سے باز رہتے ہیں۔ پس صحبت خلق سے باز رہنا چاہئیے اور زادِ راہ کا انتظام کرنا چاہئیے۔ ہم سب کو وہ دن درپیش ہے۔ ایمان سلامت لے جانا چاہئیے۔ یہ کہہ کر دو خرمے میرے (خواجہ غریب نواز) ہاتھ میں دئیے اور اٹھ کر چلے گئے۔ ان پر گریہ طاری ہوا اور عالم تحّیر میں مشغول ہوگئے۔ اس کے بعد خواجہ غریب نواز اپنے پیر کے ہمراہ دمشق اور سنجار ہوتے ہوئے بغداد پہنچے، جس کو خود خواجہ کی زبان سنئیے۔
بعد ازاں حضرت خواجہ عثمان ہارونی قدس سرہ، بغداد واپس تشریف لاکر معتکف ہوگئے اور دعاء گو سے ارشاد فرمایا۔ “اس مقام سے چند روز تک باہر نہ آؤں گا مگر تو چاشت کے وقت آیا کر کہ تجھ سے ترغیب فقر بیان کروں تاکہ مُریدوں اور فرزندوں کیلئے میرے بعد یادگار ہو۔“ یہ فقیر روزانہ حاضر خدمت ہوتا رہا۔ جو کچھ مُرشدوں کی زبان فیض ترجمان سے سنتا قلمبند کر لیتا تھا۔“ اس طرح خواجہ غریب نواز نے ایک رسالہ مرتب کیا جو اٹھائیس مجلسوں پر مُشتمل ہے۔ اس رسالہ کا نام “انیس الارواح“ رکھا ۔
خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ اپنے پیرِ کامل خواجہ عثمان ہارونی رحمۃ اللہ علیہ سے بغداد میں رخصت ہوئے ۔ اوش ہوتے ہوئے اصفہان پہنچ کر ولی کامل شیخ محمود اصفہانی رحمۃ اللہ علیہ سے ملے خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رحمۃ اللہ علیہ کو مُرید کیا ۔ اصفہان سے مکہ معظّمہ پہنچے ۔ ساتھ میں مُریدِ خاص خواجہ قطب الدین بختیار کاکی بھی تھے۔ حج ادا فرمایا اور مدینہ منورہ پہنچے ۔
انیس بیکساں ، چارہ ساز درد منداں رحمت عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دربار سے بشارت ہوئی۔ اے معین الدین ! تُو میرے دین کا معین ہے۔ میں نے ہندوستان کی ولایت تجھ کو عطا کی، تو اجمیر جا۔ سرور عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ کو جنت کا ایک انار عطا فرمایا۔ حضرت خواجہ بصد احترام و ادب روضہء پاک سے باہر نکلے۔ آپ پر ایک خاص کیفیت طاری تھی۔ جب وجدانی کیفیت نے قلب کو سکون بخشا تو فرمانِ رسالت یاد آیا مگر متحّیر تھے کہ ہندوستان کدھر ہے اور کہاں ؟ اس فکر میں تھے کہ شام ہوئی۔ سورج ڈوب گیا۔ بعدِ نماز عشاء آنکھ لگی اور آپ سو گئے۔ عالمِ خواب میں تمام ہندوستان کا نقشہ اور اجمیر کا منظر آپ کے سامنے تھا۔ جب آنکھ کھلی سجدہء شکر ادا کیا اور روضہء اطہر پر حاضر ہوکر تحفہء درود و سلام پیش کرکے ہندوستان کی جانب روانہ ہوگئے۔
بارگاہِ رسالت سے رُخصت حاصل کرکے خواجہ غریب نواز واپس بغداد شریف پہنچے۔ ان دنوں آپ کے پیرو و مُرشد حضرت خواجہ عثمان ہارونی بغداد میں قیام پذیر تھے۔ خدمت میں حاضر ہوکر خواجہ بزرگ نے ارشاد نبوی سے مطلع فرمایا۔ فرطِ مسرت سے آپ کے ہونٹوں پر مسکراہٹ کھیلنے لگی اور آپ نے فرمایا۔ ہم معتکف ہوتے ہیں۔ اور حُجرے سے باہر نہیں آئیں گے۔ ملاقات کے آخری روز حضرت شیخ خواجہ صاحب کو اپنا عصائے مبارک، مصلٰی، خرقہء عظمٰی عطا فرمایا۔ نیز وہ تمام تبرکات مصطفوی جو خاندانِ چشت میں سلسلہ بہ سلسلہ اب تک چلے آ رہے تھے۔ آپ کو سُپرد کرکے فرمایا، لیجئے یہ میری یادگار ہیں۔ ان کو اپنے پاس بحفاظت رکھنا۔ جس طرح میں نے رکھا اور تم جس کو اہل سمجھنا دینا۔ فرزند ! خلف وہی ہے جو اپنے پیر کے ارشادات کو اپنے ہوش بگوش میں جگہ دے اور اِس پر عمل کرے۔ یہ کہہ کر آپ نے اپنے مُرید حضرت خواجہ معین الدین کو رُخصت فرمایا اور خود عالم تحّیر میں مشغول ہوگئے۔
پیرو مُرشد سے رخصت ہوکر بغداد سے روانہ ہوئے۔ اثنائے سفر میں بدخشاں، ہرات اور سبزوار بھی گئے۔ بلخ سے گزرتے ہوئے آپ نے ولی کامل شیخ احمد خضرویہ علیہ الرحمہ کی مقدس خانقاہ میں چند روز قیام فرمایا۔ حضرت خواجہ کی عادت کریمہ تھی کہ سفر میں اپنے ساتھ تیر و کمان چقماق اور نمکدان ضرور رکھتے تھے تاکہ کسی طرح تکلیف نہ ہو۔ جب بھوک زیادہ لگتی جنگل سے کوئی پرند شکار کرکے طعام فرما لیتے۔ ایک دن آپ نے ایک کلنگ کا شکار کرکے خادم کو ذبح کرکے دیدیا تاکہ بھون لے اور خود نماز میں مشغول ہو گئے، جہاں آپ نماز پڑھ رہے تھے اس کے قریب ہی ایک مشہور فلسفی اور حکیم کی رہائش گاہ تھی۔ ان کا مکتب جاری تھا اور حُصول تعلیم کےلیے دور دراز سے طلباء آتے رہتے تھے۔ ان حکیم صاحب کا نام ضیاء الدین تھا۔ انہیں اپنے علم فلسفہ پر بڑا ناز تھا۔ اسی لئے اولیاء کا ذکر بڑے مضحکہ خیز انداز میں کیا کرتے تھے جس کا لوگوں پر بڑا اثر پڑتا تھا۔ جہاں خواجہ صاحب نماز پڑھ رہے تھے وہاں سے حکیم گزرا۔ جونہی حضرت خواجہ پر نظر پڑی ٹھٹھک کر رہ گیا۔ جب خواجہ صاحب نماز سے فارغ ہوئے تو اس نے آپ کی پیشانی میں کچھ ایسا جلوہ دیکھا کہ فلسفہ و حکمت کی تمام باتیں بھول گیا۔ اور سلام کرکے ادب سے بیٹھ گیا۔ اتنے میں خادم نے کلنگ بھون کر پیش کیا حضرت خواجہ نے ازراہ کرم اس کی ایک ٹانگ حکیم صاحب کو دی اور دوسری ران کا گوشت خود تناول فرمانے لگے۔ باقی خادم کے حوالے کردیا۔
حکیم ضیاء الدین نے ابھی پہلا ہی لقمہ کھایا تھا کہ باطل کا پردہ چاک ہوگیا اور حقیقت معرفت کے آئینے سامنے آ گئے۔ عقل و فلسفہ کے سبب جو بُرے خیالات ان کے دماغ میں بھرے ہوئے تھے سب نکل گئے۔ قلب پر ایسا خوف طاری ہوا کہ بے ہوش ہو گئے خواجہ صاحب نے ایک لقمہ ان کے منہ میں ڈال دیا۔ جونہی یہ لقمہ حلق سے نیچے اُترا ہوش میں آ گئے۔ اپنے گذشتہ خیالات پر نادم ہوئے اور اپنے تمام شاگردوں کے ساتھ حضرت خواجہ کے حلقہء ارادت میں داخل ہوگئے۔ جب خواجہ صاحب بدخشاں پہنچے تو وہاں ان کی ملاقات ایک معمر بزرگ سے ہوئی جن کی عُمر ایک سو چالیس سال تھی اور حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ کی اولاد سے تھے۔ ایک پیر کٹا ہوا تھا۔ دریافت کرنے پر بتایا کہ مجاہدہ نفسانی میں مشغول تھا کہ ایک دن خواہش نفسانی نے مجبور کیا اور یہ پاؤں جو کٹا ہوا ہے آگے بڑھایا ہی تھا کہ غیب سے نداء آئی۔اے مدعی ! یہی وعدہ تھا جو فراموش کردیا۔ بس یہ آواز سن کر بے قرار ہوگیا اور اس پاؤں کو کاٹ کر پھینک دیا۔ اس واقعے کو چالیس سال گزر چکے ہیں لیکن یہ خیال دل میں بار بار آتا ہے کہ کل قیامت کے دن درویشوں کے سامنے کیا منہ دکھاؤں گا۔ اس کے بعد ہزار پہنچ کر خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ حضرت عبیداللہ انصاری رحمۃ اللہ علیہ کے مزارِ اقدس پر حاضر ہوئے۔ اس مزارِ مبارک پر ہیبت خداوندی کا نزول تھا، اس لیے آپ بہت مُحتاط رہتے تھے۔ وہاں آپ نے کافی عرصہ مجاہدہ نفس میں گزارا۔ رات بھر عبادت و ریاضت میں مشغول رہتے اور اکثر عشاء کے وضو سے فجر کی نماز ادا کرتے۔ جب ہرات میں آپ کے شہرت بڑھ گئی اور لوگ جوق در جوق حاضر ہونے لگے تو آپ نے وہاں سے کوچ فرمایا اور سیدھے ہندوستان کی طرف چل پڑے۔
سبزوار سے روانہ ہوکر آپ غزنی پہنچے۔سلطان المشائخ عبدالواحد رحمۃ اللہ علیہ سے ملاقات فرمائی ۔ آپ کے ساتھ خواجہ قطب الدین بختیار کاکی ، حضرت محمد یادگار اور حضرت خواجہ فضرالدین گردیزی بھی تھے۔ اللہ والوں کا یہ نورانی قافلہ ہندوستان کی سرحدی علاقہ پنجاب میں داخل ہوا۔ جس وقت حضرت خواجہ ہندوستان میں داخل ہوئے سلطان شہاب الدین محمد غوری رحمۃ اللہ علیہ اور اس کی فوج پرتھوی راج سے شکست کھاکر غزنی کی طرف واپس بھاگ رہے تھے۔ ان لوگوں نے خواجہ صاحب کو منع بھی کیا کہ مسلمان کے بادشاہ کو شکست ہوگئی ہے اس لیے اس وقت جانا مناسب نہیں ہے لیکن ان حضرات نے جواب دیا کہ تم تلوار کے بھروسے پر گئے تھے اور ہم اللہ کے بھروسے پر جا رہے ہیں۔ اس طرح یہ قافلہ قلعہ
پیرو مُرشد سے رخصت ہوکر بغداد سے روانہ ہوئے۔ اثنائے سفر میں بدخشاں، ہرات اور سبزوار بھی گئے۔ بلخ سے گزرتے ہوئے آپ نے ولی کامل شیخ احمد خضرویہ علیہ الرحمہ کی مقدس خانقاہ میں چند روز قیام فرمایا۔ حضرت خواجہ کی عادت کریمہ تھی کہ سفر میں اپنے ساتھ تیر و کمان چقماق اور نمکدان ضرور رکھتے تھے تاکہ کسی طرح تکلیف نہ ہو۔ جب بھوک زیادہ لگتی جنگل سے کوئی پرند شکار کرکے طعام فرما لیتے۔ ایک دن آپ نے ایک کلنگ کا شکار کرکے خادم کو ذبح کرکے دیدیا تاکہ بھون لے اور خود نماز میں مشغول ہو گئے، جہاں آپ نماز پڑھ رہے تھے اس کے قریب ہی ایک مشہور فلسفی اور حکیم کی رہائش گاہ تھی۔ ان کا مکتب جاری تھا اور حُصول تعلیم کےلیے دور دراز سے طلباء آتے رہتے تھے۔ ان حکیم صاحب کا نام ضیاء الدین تھا۔ انہیں اپنے علم فلسفہ پر بڑا ناز تھا۔ اسی لئے اولیاء کا ذکر بڑے مضحکہ خیز انداز میں کیا کرتے تھے جس کا لوگوں پر بڑا اثر پڑتا تھا۔ جہاں خواجہ صاحب نماز پڑھ رہے تھے وہاں سے حکیم گزرا۔ جونہی حضرت خواجہ پر نظر پڑی ٹھٹھک کر رہ گیا۔ جب خواجہ صاحب نماز سے فارغ ہوئے تو اس نے آپ کی پیشانی میں کچھ ایسا جلوہ دیکھا کہ فلسفہ و حکمت کی تمام باتیں بھول گیا۔ اور سلام کرکے ادب سے بیٹھ گیا۔ اتنے میں خادم نے کلنگ بھون کر پیش کیا حضرت خواجہ نے ازراہ کرم اس کی ایک ٹانگ حکیم صاحب کو دی اور دوسری ران کا گوشت خود تناول فرمانے لگے۔ باقی خادم کے حوالے کردیا۔
حکیم ضیاء الدین نے ابھی پہلا ہی لقمہ کھایا تھا کہ باطل کا پردہ چاک ہوگیا اور حقیقت معرفت کے آئینے سامنے آ گئے۔ عقل و فلسفہ کے سبب جو بُرے خیالات ان کے دماغ میں بھرے ہوئے تھے سب نکل گئے۔ قلب پر ایسا خوف طاری ہوا کہ بے ہوش ہو گئے خواجہ صاحب نے ایک لقمہ ان کے منہ میں ڈال دیا۔ جونہی یہ لقمہ حلق سے نیچے اُترا ہوش میں آ گئے۔ اپنے گذشتہ خیالات پر نادم ہوئے اور اپنے تمام شاگردوں کے ساتھ حضرت خواجہ کے حلقہء ارادت میں داخل ہوگئے۔ جب خواجہ صاحب بدخشاں پہنچے تو وہاں ان کی ملاقات ایک معمر بزرگ سے ہوئی جن کی عُمر ایک سو چالیس سال تھی اور حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ کی اولاد سے تھے۔ ایک پیر کٹا ہوا تھا۔ دریافت کرنے پر بتایا کہ مجاہدہ نفسانی میں مشغول تھا کہ ایک دن خواہش نفسانی نے مجبور کیا اور یہ پاؤں جو کٹا ہوا ہے آگے بڑھایا ہی تھا کہ غیب سے نداء آئی۔اے مدعی ! یہی وعدہ تھا جو فراموش کردیا۔ بس یہ آواز سن کر بے قرار ہوگیا اور اس پاؤں کو کاٹ کر پھینک دیا۔ اس واقعے کو چالیس سال گزر چکے ہیں لیکن یہ خیال دل میں بار بار آتا ہے کہ کل قیامت کے دن درویشوں کے سامنے کیا منہ دکھاؤں گا۔ اس کے بعد ہزار پہنچ کر خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ حضرت عبیداللہ انصاری رحمۃ اللہ علیہ کے مزارِ اقدس پر حاضر ہوئے۔ اس مزارِ مبارک پر ہیبت خداوندی کا نزول تھا، اس لیے آپ بہت مُحتاط رہتے تھے۔ وہاں آپ نے کافی عرصہ مجاہدہ نفس میں گزارا۔ رات بھر عبادت و ریاضت میں مشغول رہتے اور اکثر عشاء کے وضو سے فجر کی نماز ادا کرتے۔ جب ہرات میں آپ کے شہرت بڑھ گئی اور لوگ جوق در جوق حاضر ہونے لگے تو آپ نے وہاں سے کوچ فرمایا اور سیدھے ہندوستان کی طرف چل پڑے۔
سبزوار سے روانہ ہوکر آپ غزنی پہنچے۔سلطان المشائخ عبدالواحد رحمۃ اللہ علیہ سے ملاقات فرمائی ۔ آپ کے ساتھ خواجہ قطب الدین بختیار کاکی ، حضرت محمد یادگار اور حضرت خواجہ فضرالدین گردیزی بھی تھے۔ اللہ والوں کا یہ نورانی قافلہ ہندوستان کی سرحدی علاقہ پنجاب میں داخل ہوا۔ جس وقت حضرت خواجہ ہندوستان میں داخل ہوئے سلطان شہاب الدین محمد غوری رحمۃ اللہ علیہ اور اس کی فوج پرتھوی راج سے شکست کھاکر غزنی کی طرف واپس بھاگ رہے تھے۔ ان لوگوں نے خواجہ صاحب کو منع بھی کیا کہ مسلمان کے بادشاہ کو شکست ہوگئی ہے اس لیے اس وقت جانا مناسب نہیں ہے لیکن ان حضرات نے جواب دیا کہ تم تلوار کے بھروسے پر گئے تھے اور ہم اللہ کے بھروسے پر جا رہے ہیں۔ اس طرح یہ قافلہ قلعہ
شادمان اور ملتان ہوتا ہوا دریائے راوی کے کنارے جا پہنچا۔ لاہور میں حضرت علی بن عثمان ہجویری المعروف داتا گنج بخش رحمۃ اللہ علیہ کے مزار پُر انوار پر قیام فرما کر برکات اور فیوض باطنی حاصل کیا اور بوقت رُخصت یہ شعر پڑھا : ⬇
گنج بخش فیض عالم مظہر نورِ خدا
نا قصاں را پیر کامل کاملاں رہنما
وہاں سے روانہ ہوکر پٹیالہ ہوتے ہوئے آپ دہلی تشریف لائے۔ پہنچ کر راجہ کھانڈے راؤ کے محل کے سامنے تھوڑا فاصلے پر رشد و ہدایت کا کام شروع کردیا۔ آپ کا اندازِ تبلیغ اتنا دل نشیں اور ذات اتنی پُر کشش تھی کہ آپ کے پاس آنے والوں میں اکثر لوگ آپ کے دستِ حق پر ایمان لے آتے۔ دھیرے دھیرے مسلمانوں کی تعداد بڑھنی شروع ہوگئی۔ اور تھوڑے ہی عرصہ میں دہلی میں اسلام کے فروغ سے تہلکہ مچ گیا۔ معززین شہر کا ایک گروہ حاکم شہر کے پاس پہنچا اور عرض کی۔ ان مسلمان کی آمد کی وجہ سے ہمارے دیوتا ناراض ہوگئے ہیں۔ اگر فوراً انہیں یہاں سے نہ نکالا گیا تو ڈر ہے کہ دیوتاؤں کا قہر سلطنت کی تباہی کا سبب نہ بن جائے۔ اور کھانڈے راؤ نے حکم جاری کیا کہ ان فقیروں کو دہلی سے فوراً نکال دیا جائے لیکن اس کی کوئی تدبیر کارگر نہ ہوئی کیونکہ حکومت کے لوگ جب عملی کاروائی کرنے آپ کے پاس آتے تو آپ کے حسن اخلاق، اعلٰی کردار اور حق یانی سے متاثر ہوکر قبولِ اسلام کر لیتے۔ کھانڈے راؤ نے ایک بدمعاش کو لالچ دے کر تیار کیا کہ وہ معتقد بن کو جائے اور قتل کردے۔
چنانچہ وہ شخص عقیدت مند بن کر حاضر ہوا۔ آپ پر اس کی آمد کا حال منکشف ہوگیا اور آپ نے فرمایا اس عقیدت مندی سے کیا فائدہ جس کام کے لئے آیا ہے وہ کیوں نہیں کرتا۔ یہ سن کر اس کے بدن میں لرزہ پڑ گیا اور خنجر زمین پر آ گرا اور وہ شخص بھی آپ کے دامن سے وابستہ ہو کر مسلمان ہوگیا۔ جب حضرت خواجہ نے دیکھا کہ دہلی میں کافی تعداد میں مسلمان ہو چکے ہیں تو آپ نے خلیفہء اکبر حضرت قطب الدین بختیار کاکی کو رشد و ہدایت کیلئے وہاں چھوڑا اور خود مع اپنے چالیس جانثاروں کے اجمیر کیلئے روانہ ہوگئے۔ اس سفر میں بھی اجمیر پہنچتے پہنچتے سیکڑوں آدمی آپ کے دستِ حق پرست پر ایمان لائے۔(چشتی)
اجمیر پہنچ کر ایک درخت کے نیچے آپ نے قیام فرمایا۔ درخت سایہ دار تھا۔ ابھی آپ بیٹھے ہی تھے کہ چند ساربانوں نے آکر منع کیا اور کہا۔ یہاں راجہ کے اونٹ بیٹھتے ہیں۔ آپ نے فرمایا، بہت سی جگہیں ہیں اونٹ کہیں بھی بیٹھائے جا سکتے ہیں لیکن ساربان تشدد پر اُتر آئے۔ حضرت خواجہ یہ کہہ کر اٹھ کھڑے ہوئے لو بابا ہم یہاں سے اٹھ جاتے ہیں، تمہارے اونٹ ہی بیٹھیں رہیں۔ وہاں سے اٹھ کر آپ اپنے مُریدوں کے ساتھ اناساگر کے قریب پہاڑی پر ٹھہر گئے دوسرے دن ساربانوں نے لاکھ کوشش کی مگر اونٹ کھڑے نہ ہو سکے۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ جیسے زمین نے انھیں پکڑ لیا ہو۔ ساربان سخت پریشان ہوئے۔ کوئی تدبیر کارگر نہ ہوئی تو مجبوراً راجہ کے دربار میں حاضر ہوئے۔ جب ان کی زبانی اس نے یہ عجیب و غریب واقعہ سنا تو حیرت میں پڑ گیا۔ ناچار اس نے حکم دیا۔ جاؤ اس فقیر سے معافی مانگو جس کی بددعاء کا یہ نتیجہ ہے۔ ساربانوں نے جاکر عاجزی و انکساری سے معافی مانگی۔ آپ نے کمال مہربانی سے فرمایا جاؤ خدا کی مہربانی سے تمہارے اونٹ کھڑے ہو جائیں گے۔ ساربانوں نے واپس آکر دیکھا تو سب کے سب اونٹ کھڑے تھے۔ ان کی خوشی اور تعجب کی کوئی انتہا نہ رہی۔ اس واقعے سے آپ اندازہ لگائیں کہ اولیاء کرام کتنے با اختیار ہوتے ہیں اور ولی کو جب اتنا اختیار ہے تو پھر نبی کو کتنا اختیار ہوگا۔ لٰہذا جو کہے کہ جن کا نام محمد و علی ہے وہ کسی چیز کے مالک و مختار نہیں، وہ گمراہ ہے۔
حضرت خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ اجمیر مقیم تھے تبلیغ و ہدایت میں مشغول تھے کہ حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رحمۃ اللہ علیہ کا دہلی سے ایک عریضہ ملا جس میں انہوں نے اجمیر آنے اور قدم بوسی کی خواہش ظاہر کی تھی۔ جس کے جواب میں خواجہ صاحب نے لکھا ہم خود دہلی آئیں گے اور خواجہ صاحب خود دہلی تشریف لے گئے۔ قطب الدین صاحب کی خانقاہ میں قیام کیا۔ سلطان شمس الدین التمش کو جو اطلاع ملی تو خواجہ صاحب کی خدمت بابرکت میں حاضر ہوکر گلہائے عقیدت پیش کئے۔ امراء، علماء، مشائخ، عوام و خواص سب ہی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور حضرت کے فیوض و برکات سے مالا مال ہوئے۔
بابا فرید الدین گنج شکر رحمۃ اللہ علیہ دہلی میں تھے۔ چلہ میں بیٹھے تھے۔ جب خواجہ صاحب کو معلوم ہوا چلّے میں تشریف لے گئے اور حضرت خواجہ صاحب نے بابا فرید کےلیے دعاء فرمائی۔ “خدایا ! ہمارے فرید کو قبول فرما اور اکمل درویش کے مرتبہ پر پہنچا۔“ غیب سے نداء آئی۔ ہم نے فرید کو قبول کیا۔ وہ وحید عصر ہوگا۔
گنج بخش فیض عالم مظہر نورِ خدا
نا قصاں را پیر کامل کاملاں رہنما
وہاں سے روانہ ہوکر پٹیالہ ہوتے ہوئے آپ دہلی تشریف لائے۔ پہنچ کر راجہ کھانڈے راؤ کے محل کے سامنے تھوڑا فاصلے پر رشد و ہدایت کا کام شروع کردیا۔ آپ کا اندازِ تبلیغ اتنا دل نشیں اور ذات اتنی پُر کشش تھی کہ آپ کے پاس آنے والوں میں اکثر لوگ آپ کے دستِ حق پر ایمان لے آتے۔ دھیرے دھیرے مسلمانوں کی تعداد بڑھنی شروع ہوگئی۔ اور تھوڑے ہی عرصہ میں دہلی میں اسلام کے فروغ سے تہلکہ مچ گیا۔ معززین شہر کا ایک گروہ حاکم شہر کے پاس پہنچا اور عرض کی۔ ان مسلمان کی آمد کی وجہ سے ہمارے دیوتا ناراض ہوگئے ہیں۔ اگر فوراً انہیں یہاں سے نہ نکالا گیا تو ڈر ہے کہ دیوتاؤں کا قہر سلطنت کی تباہی کا سبب نہ بن جائے۔ اور کھانڈے راؤ نے حکم جاری کیا کہ ان فقیروں کو دہلی سے فوراً نکال دیا جائے لیکن اس کی کوئی تدبیر کارگر نہ ہوئی کیونکہ حکومت کے لوگ جب عملی کاروائی کرنے آپ کے پاس آتے تو آپ کے حسن اخلاق، اعلٰی کردار اور حق یانی سے متاثر ہوکر قبولِ اسلام کر لیتے۔ کھانڈے راؤ نے ایک بدمعاش کو لالچ دے کر تیار کیا کہ وہ معتقد بن کو جائے اور قتل کردے۔
چنانچہ وہ شخص عقیدت مند بن کر حاضر ہوا۔ آپ پر اس کی آمد کا حال منکشف ہوگیا اور آپ نے فرمایا اس عقیدت مندی سے کیا فائدہ جس کام کے لئے آیا ہے وہ کیوں نہیں کرتا۔ یہ سن کر اس کے بدن میں لرزہ پڑ گیا اور خنجر زمین پر آ گرا اور وہ شخص بھی آپ کے دامن سے وابستہ ہو کر مسلمان ہوگیا۔ جب حضرت خواجہ نے دیکھا کہ دہلی میں کافی تعداد میں مسلمان ہو چکے ہیں تو آپ نے خلیفہء اکبر حضرت قطب الدین بختیار کاکی کو رشد و ہدایت کیلئے وہاں چھوڑا اور خود مع اپنے چالیس جانثاروں کے اجمیر کیلئے روانہ ہوگئے۔ اس سفر میں بھی اجمیر پہنچتے پہنچتے سیکڑوں آدمی آپ کے دستِ حق پرست پر ایمان لائے۔(چشتی)
اجمیر پہنچ کر ایک درخت کے نیچے آپ نے قیام فرمایا۔ درخت سایہ دار تھا۔ ابھی آپ بیٹھے ہی تھے کہ چند ساربانوں نے آکر منع کیا اور کہا۔ یہاں راجہ کے اونٹ بیٹھتے ہیں۔ آپ نے فرمایا، بہت سی جگہیں ہیں اونٹ کہیں بھی بیٹھائے جا سکتے ہیں لیکن ساربان تشدد پر اُتر آئے۔ حضرت خواجہ یہ کہہ کر اٹھ کھڑے ہوئے لو بابا ہم یہاں سے اٹھ جاتے ہیں، تمہارے اونٹ ہی بیٹھیں رہیں۔ وہاں سے اٹھ کر آپ اپنے مُریدوں کے ساتھ اناساگر کے قریب پہاڑی پر ٹھہر گئے دوسرے دن ساربانوں نے لاکھ کوشش کی مگر اونٹ کھڑے نہ ہو سکے۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ جیسے زمین نے انھیں پکڑ لیا ہو۔ ساربان سخت پریشان ہوئے۔ کوئی تدبیر کارگر نہ ہوئی تو مجبوراً راجہ کے دربار میں حاضر ہوئے۔ جب ان کی زبانی اس نے یہ عجیب و غریب واقعہ سنا تو حیرت میں پڑ گیا۔ ناچار اس نے حکم دیا۔ جاؤ اس فقیر سے معافی مانگو جس کی بددعاء کا یہ نتیجہ ہے۔ ساربانوں نے جاکر عاجزی و انکساری سے معافی مانگی۔ آپ نے کمال مہربانی سے فرمایا جاؤ خدا کی مہربانی سے تمہارے اونٹ کھڑے ہو جائیں گے۔ ساربانوں نے واپس آکر دیکھا تو سب کے سب اونٹ کھڑے تھے۔ ان کی خوشی اور تعجب کی کوئی انتہا نہ رہی۔ اس واقعے سے آپ اندازہ لگائیں کہ اولیاء کرام کتنے با اختیار ہوتے ہیں اور ولی کو جب اتنا اختیار ہے تو پھر نبی کو کتنا اختیار ہوگا۔ لٰہذا جو کہے کہ جن کا نام محمد و علی ہے وہ کسی چیز کے مالک و مختار نہیں، وہ گمراہ ہے۔
حضرت خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ اجمیر مقیم تھے تبلیغ و ہدایت میں مشغول تھے کہ حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رحمۃ اللہ علیہ کا دہلی سے ایک عریضہ ملا جس میں انہوں نے اجمیر آنے اور قدم بوسی کی خواہش ظاہر کی تھی۔ جس کے جواب میں خواجہ صاحب نے لکھا ہم خود دہلی آئیں گے اور خواجہ صاحب خود دہلی تشریف لے گئے۔ قطب الدین صاحب کی خانقاہ میں قیام کیا۔ سلطان شمس الدین التمش کو جو اطلاع ملی تو خواجہ صاحب کی خدمت بابرکت میں حاضر ہوکر گلہائے عقیدت پیش کئے۔ امراء، علماء، مشائخ، عوام و خواص سب ہی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور حضرت کے فیوض و برکات سے مالا مال ہوئے۔
بابا فرید الدین گنج شکر رحمۃ اللہ علیہ دہلی میں تھے۔ چلہ میں بیٹھے تھے۔ جب خواجہ صاحب کو معلوم ہوا چلّے میں تشریف لے گئے اور حضرت خواجہ صاحب نے بابا فرید کےلیے دعاء فرمائی۔ “خدایا ! ہمارے فرید کو قبول فرما اور اکمل درویش کے مرتبہ پر پہنچا۔“ غیب سے نداء آئی۔ ہم نے فرید کو قبول کیا۔ وہ وحید عصر ہوگا۔
حضرت خواجہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے پیر و مُرشد خواجہ عثمان ہارونی رحمۃ اللہ علیہ نے 611 ھجری میں دہلی کو زینت بخشی ۔ خواجہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ اپنے پیرو مُرشد کی بارگاہ میں حاضر رہے اور پیر کی صحبت میں رہ کر مُرشد کی تربیت و تلقین سے مستفید ہوئے۔ سلطان شمس الدین التمش کو طالب صادق اور مومن کامل پاکر حضرت خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے مُرشد کے فرمان کے مطابق سلطان شمس الدین کی استقامت و تربیت کےلیے ایک کتاب ترتیب دی جس کا نام “گنج اسرار“ رکھا ۔ اسی زمانہ میں حضرت شیخ سعدی رحمۃ اللہ علیہ مصنف “گلستان و بوستاں“ بھی دہلی تشریف لائے اور دونوں بزرگوں سے ملاقات ہوئی ۔ حضور خواجہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کچھ دنوں اور دہلی میں قیام فرما کر اجمیر واپس آئے۔ اور رشد و ہدایت میں مشغول ہوگئے۔ اور حضرت خواجہ عثمان ہارونی رحمۃ اللہ علیہ بھی دہلی سے تشریف لے گئے ۔
کسان کی سفارش کےلیے دہلی جانا
حضرت خواجہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ دوسری بار سلطان شمس الدین التمش کے عہد میں 631ھ میں دہلی تشریف لے گئے۔ ایک کسان استمراری یا معیادی فرمان چاہتا تھا۔ کسان کے پیداوار کو حاکم شہر نے ضبط کر لیا تھا۔ شاہی فرمان سے کسان کی مقصد برآری ہوتی تھی۔ کسان یہ چاہتا تھا کہ حضرت ایک سفارشی خط قطب صاحب کو لکھ دیں۔ حضرت نے تھوڑی دیر سوچا پھر فرمایا اگرچہ سفارش سے تیری مقصد برآری آسان ہے مگر اللہ تعالٰی نے مجھے تیرے کام کےلیے متعین کیا ہے لہٰذا میرے ساتھ چل۔
حضرت خواجہ رحمۃ اللہ علیہ جب روانہ ہونے لگے تو حضرت کے صاحبزادے حضرت خواجہ فخرالدین رحمۃ اللہ علیہ نے بھی عرض کیا کہ موضع باندن کی معافی کےلیے سلطان شمس الدین سے میری سفارش فرما دیں۔ حضرت دہلی پہنچ گئے۔ قطب صاحب نے کہا۔ حضرت کا بغیر کسی اطلاع کے کیسے آنا ہوا ؟ بعد میں دریافت کرنے پر خواجہ صاحب نے آمد کی وجہ بتائی۔ حضرت قطب صاحب خود سلطان التمش کے پاس گئے اور کسان کا معاملہ کسان کے حق میں طے کراکے اور موضع باندن کی معافی کا فرمان خواجہ فخرالدین کے حق میں لیکر حضرت خواجہ غریب نواز کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ دہلی میں قیام کے دوران سب ہی آپ سے ملنے آئے۔ مگر نجم الدین صغرٰی نہیں آئے حالانکہ خراسان میں مل چکے تھے۔ خواجہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ خود ان کے مکان پر تشریف لے گئے۔ لیکن نجم الدین صغرٰی نے کوئی التفات نہیں برتا حضرت خواجہ صاحب کو ناگوار ہوئی۔ حضرت نے ان سے مخاطب ہوکر فرمایا کہ افسوس ہے کہ شیخ الاسلام کے نشے میں راہ و رسم دیرینہ اور وضع داری قدیم کو یکبارگی ترک کردیا۔ شیخ نجم الدین صغرٰی نے حضرت قطب الدین کی دہلی میں موجودگی پر اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کیا اور کہا کہ تمام مخلوق اس کی طرف رجوع ہے۔ میں برائے نام شیخ الاسلام ہوں۔ خواجہ صاحب نے فرمایا۔ یہ کوئی ایسی بات نہیں ہے میں ان کو (قطب الدین صاحب) اپنے ہمراہ لے جاؤنگا۔
خواجہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ قطب صاحب رحمۃ اللہ علیہ کو لیکر اجمیر روانہ ہوئے۔ جب لوگوں کو معلوم ہوا تو وہ گریاں و حیراں آپ کے پیچھے ہو لیے ۔ سلطان التمس حاضر ہو کر خواجہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ سے استدعا کی کہ قطب صاحب کو دہلی میں چھوڑ دیا جائے۔ لوگوں کی حیرانی و پریشانی دیکھ کر قطب صاحب کو دہلی میں چھوڑ کر خود اجمیر شریف روانہ ہوگئے۔ اور باقی دن اجمیر ہی میں رشد و ہدایت کے کام میں گزار دئیے ۔
وصال مبارک : 633 ھجری شروع ہوتے ہی خواجہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کو علم ہوگیا کہ یہ آخری سال ہے ۔ آپ نے مُریدوں کو ضروری ہدایتیں اور وصیتیں فرمائیں ۔ جو خلافت کے اہل تھے انہیں خلافت سے نوازا اور خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رحمۃ اللہ علیہ کو اجمیر بلا بھیجا ۔ خواجہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی جامع مسجد میں تشریف فرما تھے ۔ مقرربین اور احباب حاضر تھے ۔ ملک الموت تقریر دل پذیر کا موضوع تھے کہ اچانک شیخ علی سنجری سے مخاطب ہوئے اور خواجہ قطب الدین کی خلافت کا فرمان لکھایا۔ قطب صاحب حاضر خدمت تھے۔ حضور غریب نواز نے اپنا کلاہ مبارک قطب صاحب کے سر پر رکھا۔ اپنے ہاتھ سے عمامہ باندھا ۔ خرقہ اقدس پہنایا ۔ عصائے مبارک ہاتھ میں دیا۔ مصلٰی کلام پاک، نعلین مبارک مرحمت فرما کر ارشاد فرمایا۔ یہ نعمتیں میرے بزرگوں سے سلسلہ بہ سلسلہ فقیر تک پہنچی ہیں۔ اب میرا آخری وقت آ پہنچا ہے یہ امانتیں تمہارے سپرد کرتا ہوں۔ حق امانت حتی الامکان ادا کرنا تاکہ قیامت کے دن مجھے اپنے بزرگوں کے سامنے شرمندہ نہ ہونا پڑے۔ پھر اور بہت سی نصیحتیں فرما کر رخصت کیا۔“
233 ھجری میں5 / 6/ رجب کی درمیانی شب میں حسب معمول عشاء کی نماز کے بعد آپ اپنے حُجرے میں داخل ہوئے اور اندر سے دروازہ بند کرلیا۔ رات بھر دُرود اور ذکر کی آواز آتی رہی ۔ صُبح ہونے سے پہلے یہ آواز بند ہوگئی۔آخر مجبوراً دروازہ کھلا تو خدام نے دستکیں دیں اس پر بھی کوئی جواب نہ آیا تو لوگوں کی پریشانی بڑھ گئی۔ سورج نکلنے پر دروازہ توڑ کر اندر داخل ہوئے۔ دیکھا کہ آپ واصل بحق ہو چکے ہیں۔ اور آپ کی نورانی
کسان کی سفارش کےلیے دہلی جانا
حضرت خواجہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ دوسری بار سلطان شمس الدین التمش کے عہد میں 631ھ میں دہلی تشریف لے گئے۔ ایک کسان استمراری یا معیادی فرمان چاہتا تھا۔ کسان کے پیداوار کو حاکم شہر نے ضبط کر لیا تھا۔ شاہی فرمان سے کسان کی مقصد برآری ہوتی تھی۔ کسان یہ چاہتا تھا کہ حضرت ایک سفارشی خط قطب صاحب کو لکھ دیں۔ حضرت نے تھوڑی دیر سوچا پھر فرمایا اگرچہ سفارش سے تیری مقصد برآری آسان ہے مگر اللہ تعالٰی نے مجھے تیرے کام کےلیے متعین کیا ہے لہٰذا میرے ساتھ چل۔
حضرت خواجہ رحمۃ اللہ علیہ جب روانہ ہونے لگے تو حضرت کے صاحبزادے حضرت خواجہ فخرالدین رحمۃ اللہ علیہ نے بھی عرض کیا کہ موضع باندن کی معافی کےلیے سلطان شمس الدین سے میری سفارش فرما دیں۔ حضرت دہلی پہنچ گئے۔ قطب صاحب نے کہا۔ حضرت کا بغیر کسی اطلاع کے کیسے آنا ہوا ؟ بعد میں دریافت کرنے پر خواجہ صاحب نے آمد کی وجہ بتائی۔ حضرت قطب صاحب خود سلطان التمش کے پاس گئے اور کسان کا معاملہ کسان کے حق میں طے کراکے اور موضع باندن کی معافی کا فرمان خواجہ فخرالدین کے حق میں لیکر حضرت خواجہ غریب نواز کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ دہلی میں قیام کے دوران سب ہی آپ سے ملنے آئے۔ مگر نجم الدین صغرٰی نہیں آئے حالانکہ خراسان میں مل چکے تھے۔ خواجہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ خود ان کے مکان پر تشریف لے گئے۔ لیکن نجم الدین صغرٰی نے کوئی التفات نہیں برتا حضرت خواجہ صاحب کو ناگوار ہوئی۔ حضرت نے ان سے مخاطب ہوکر فرمایا کہ افسوس ہے کہ شیخ الاسلام کے نشے میں راہ و رسم دیرینہ اور وضع داری قدیم کو یکبارگی ترک کردیا۔ شیخ نجم الدین صغرٰی نے حضرت قطب الدین کی دہلی میں موجودگی پر اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کیا اور کہا کہ تمام مخلوق اس کی طرف رجوع ہے۔ میں برائے نام شیخ الاسلام ہوں۔ خواجہ صاحب نے فرمایا۔ یہ کوئی ایسی بات نہیں ہے میں ان کو (قطب الدین صاحب) اپنے ہمراہ لے جاؤنگا۔
خواجہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ قطب صاحب رحمۃ اللہ علیہ کو لیکر اجمیر روانہ ہوئے۔ جب لوگوں کو معلوم ہوا تو وہ گریاں و حیراں آپ کے پیچھے ہو لیے ۔ سلطان التمس حاضر ہو کر خواجہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ سے استدعا کی کہ قطب صاحب کو دہلی میں چھوڑ دیا جائے۔ لوگوں کی حیرانی و پریشانی دیکھ کر قطب صاحب کو دہلی میں چھوڑ کر خود اجمیر شریف روانہ ہوگئے۔ اور باقی دن اجمیر ہی میں رشد و ہدایت کے کام میں گزار دئیے ۔
وصال مبارک : 633 ھجری شروع ہوتے ہی خواجہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کو علم ہوگیا کہ یہ آخری سال ہے ۔ آپ نے مُریدوں کو ضروری ہدایتیں اور وصیتیں فرمائیں ۔ جو خلافت کے اہل تھے انہیں خلافت سے نوازا اور خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رحمۃ اللہ علیہ کو اجمیر بلا بھیجا ۔ خواجہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی جامع مسجد میں تشریف فرما تھے ۔ مقرربین اور احباب حاضر تھے ۔ ملک الموت تقریر دل پذیر کا موضوع تھے کہ اچانک شیخ علی سنجری سے مخاطب ہوئے اور خواجہ قطب الدین کی خلافت کا فرمان لکھایا۔ قطب صاحب حاضر خدمت تھے۔ حضور غریب نواز نے اپنا کلاہ مبارک قطب صاحب کے سر پر رکھا۔ اپنے ہاتھ سے عمامہ باندھا ۔ خرقہ اقدس پہنایا ۔ عصائے مبارک ہاتھ میں دیا۔ مصلٰی کلام پاک، نعلین مبارک مرحمت فرما کر ارشاد فرمایا۔ یہ نعمتیں میرے بزرگوں سے سلسلہ بہ سلسلہ فقیر تک پہنچی ہیں۔ اب میرا آخری وقت آ پہنچا ہے یہ امانتیں تمہارے سپرد کرتا ہوں۔ حق امانت حتی الامکان ادا کرنا تاکہ قیامت کے دن مجھے اپنے بزرگوں کے سامنے شرمندہ نہ ہونا پڑے۔ پھر اور بہت سی نصیحتیں فرما کر رخصت کیا۔“
233 ھجری میں5 / 6/ رجب کی درمیانی شب میں حسب معمول عشاء کی نماز کے بعد آپ اپنے حُجرے میں داخل ہوئے اور اندر سے دروازہ بند کرلیا۔ رات بھر دُرود اور ذکر کی آواز آتی رہی ۔ صُبح ہونے سے پہلے یہ آواز بند ہوگئی۔آخر مجبوراً دروازہ کھلا تو خدام نے دستکیں دیں اس پر بھی کوئی جواب نہ آیا تو لوگوں کی پریشانی بڑھ گئی۔ سورج نکلنے پر دروازہ توڑ کر اندر داخل ہوئے۔ دیکھا کہ آپ واصل بحق ہو چکے ہیں۔ اور آپ کی نورانی