Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
*📚 « امجــــدی مضــــامین » 📚*
-----------------------------------------------------------
*🕯فضائل ماہ رجب المرجب🕯*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
قِسط نمبــــر ۱
📬 بصرہ کی ایک نیک خاتون نے بو قتِ وفات اپنے بیٹے کو وصیّت کی:’’ مجھے اُس کپڑے کا کفَن دینا جسے پہن کر میں رَجَبُ الْمُرَجَّب میں عبادت کیا کرتی تھی۔ بعد اَز وفات بیٹے نے کسی اور کپڑے میں کفنا کر دَفْنا دیا۔ جب وہ قبرستان سے گھر آیا تودیکھاکہ جو کفَن اُس نے پہنایا تھا وہ گھرمیں موجود تھا! اُس نے گھبرا کر ماں کی وصیّت والے کپڑے تلاش کئے تو وہ اپنی جگہ سے غائب تھے۔اِتنے میں ایک غیبی آواز گونج اٹھی: ’’اپنا کفَن واپس لے لو (جس کی اُس نے وصیّت کی تھی) ہم نے اُس کو اُسی کپڑے میں کفنایا ہے (کیوں کہ) جو رجب کے روزے رکھتاہے ہم اُس کو قبرمیں رنجیدہ نہیں رہنے دیتے۔‘‘(نُزہَۃُ المَجالِس ج۱ ص۲۰۸ )
اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور اُن کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو۔ اٰمِین بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
رَجَب میں یہ دعا پڑھنا سنّت ہے!
جب رَجب کا مہینا آتاتو نبیِّ اکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَیہ دُعا پڑھتے تھے:اَللّٰھُمَّ بَارِکْ لَنَا فِیْ رَجَبٍ وَّشَعْبَانَ وَبَلِّغْنَارَمَضَان۔یعنی اے اللہ عَزَّوَجَلَّ!تو ہمارے لیے رَجب اور شعبان میں بَرَکتیں عطا فرمااور ہمیں رَمَضان تک پہنچا۔ (اَلْمُعْجَمُ الْاَ وْسَط لِلطّبَرانی،ج۳،ص۸۵،الحدیث: ۳۹۳۹)
اللّہ کا مہینا:
فرمانِ مصطَفٰےصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ:رَجَبٌ شَہْرُ اللّٰہِ تَعَالٰی وَشَعْبَانُ شَہْرِیْ وَ رَمَضَانُ شَہْرُ اُمَّتِیْ۔ یعنی رَجب اللّٰہ تعالٰی کا مہینا اور شعبان میرا مہینا اوررَمضان میری اُمت کا مہینا ہے۔(اَلْفِردَوس بمأثور الْخِطاب ج۲ص۲۷۵ حدیث ۳۲۷۶)
رجب کے مختلف نام اور معانی:
’’رجب ‘‘دراصل تَرجِیْب سے مُشْتَق (یعنی نکلا ) ہے اِس کے معنٰی ہیں :’’ تعظیم کرنا۔‘‘
اِس کو اَلْاَصَبْ(یعنی تیز بہاؤ) بھی کہتے ہیں اِس لئے کہ اس ماہِ مبارَک میں توبہ کرنے والوں پر رَحمت کا بہاؤ تیز ہوجاتا اور عبادت کرنے والوں پر قَبولِیَّت کے انوار کا فیضان ہوتا ہے ۔ اسے اَلْاَصَمّ(یعنی بَہرا) بھی کہتے ہیں کیونکہ اِس میں جنگ و جَدَل کی آوازبِالکل سنائی نہیں دیتی۔(مُکاشَفۃُ الْقُلوب ص۳۰۱ )اس ماہ کو ’’شَہرِرجم‘‘بھی کہتے ہیں کیونکہ اِس میں شیطانوں کو رجم کیا جاتا ہے (یعنی پتھر مارے جاتے ہیں )تاکہ وہ مسلمانوں کو اِیذاء نہ دیں۔(غُنْیَۃُ الطّا لِبِیْن ج۱ ص۳۱۹،۳۲۰)
رجب کے تین حروف کی بھی کیا بات ہے!
سُبحٰن اللہ عَزَّ وَجَلَّ ! میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!ماہِ رَجبُ المُرَجَّب کی بہاروں کی توکیا بات ہے! ’’مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب‘‘میں ہے، بُزُرگانِ دین رَحمَہُمُ اللہُ الْمُبِین فرماتے ہیں : ’’رجب‘‘ میں تین حُرُوف ہیں۔ ر،ج،ب ، ’’ر‘‘سے مُراد رَحمتِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ ، ’’ج‘‘ سے مُراد بندے کا جُرم،’’ب‘‘ سے مُراد بِرّ یعنی اِحسان و بھلائی ۔ گویا اللہ عَزَّوَجَلَّ فرماتا ہے : میرے بندے کے جُرم کو میری رَحمت اور بھلائی کے درمِیان کردو۔(مُکاشَفۃُ الْقُلوب ص۳۰۱)
عصیاں سے کبھی ہم نے کَنارا نہ کیا
پَر تو نے دل آزُردَہ ہمارا نہ کیا
ہم نے تو جہنَّم کی بَہُت کی تجویز لیکن تِری رَحمت نے گوارا نہ کیا
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
عبادت کا بیج بونے کا مہینا:
حضرتِ سَیِّدُنا علّامہ صَفُّوری رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں :رَجَبُ الْمُرَجَّب بِیج بونے کا ،شَعْبانُ الْمُعَظَّم آبپاشی(یعنی پانی دینے ) کا اور رَمَضانُ الْمُبارَک فَصل کاٹنے کا مہینا ہے۔لہٰذا جو رَجَبُ الْمُرَجَّبمیں عبادت کا بیج نہ بوئے اور شَعْبانُ الْمُعَظَّممیں اُسےآنسوؤں سے سَیراب نہ کرے وہ رَمَضانُ الْمُبارَکمیں فصلِ رَحمت کیوں کر کاٹ سکے گا؟مزید فرماتے ہیں : رَجَبُ الْمُرَجَّب جسم کو ، شَعْبانُ الْمُعَظَّم دل کو اور رَمَضانُ الْمُبارَک رُوح کو پاک کرتا ہے۔(نُزْہَۃُ الْمَجالِس ج۱ص۲۰۹)
ایک جنّتی نہر کا نام رجب ہے:
حضرتِ سَیِّدُنا اَنَس بن مالِک رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’جنت میں ایک نَہر ہے جسے ’’رجب‘‘ کہا جا تا ہے جو دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھی ہے تو جو کوئی رجب کا ایک روزہ رکھے تو اللہ عَزَّوَجَل اسے اس نَہر سے سیرَ اب کر ے گا۔‘‘(شُعَبُ الْاِیمان ج۳ص۳۶۷حدیث۳۸۰۰)
جنّتی محل:
تابِعی بُزُرگ حضرتِ سَیِّدُنا ابوقِلابہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں:رجبکے روزہ داروں کیلئے جنت میں ایک مَحَل ہے۔(شُعَبُ الْاِیمان ج۳ص۳۶۸حدیث۳۸۰۲)
قِسط جاری۔۔۔
-----------------------------------------------------------
*🕯فضائل ماہ رجب المرجب🕯*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
قِسط نمبــــر ۱
📬 بصرہ کی ایک نیک خاتون نے بو قتِ وفات اپنے بیٹے کو وصیّت کی:’’ مجھے اُس کپڑے کا کفَن دینا جسے پہن کر میں رَجَبُ الْمُرَجَّب میں عبادت کیا کرتی تھی۔ بعد اَز وفات بیٹے نے کسی اور کپڑے میں کفنا کر دَفْنا دیا۔ جب وہ قبرستان سے گھر آیا تودیکھاکہ جو کفَن اُس نے پہنایا تھا وہ گھرمیں موجود تھا! اُس نے گھبرا کر ماں کی وصیّت والے کپڑے تلاش کئے تو وہ اپنی جگہ سے غائب تھے۔اِتنے میں ایک غیبی آواز گونج اٹھی: ’’اپنا کفَن واپس لے لو (جس کی اُس نے وصیّت کی تھی) ہم نے اُس کو اُسی کپڑے میں کفنایا ہے (کیوں کہ) جو رجب کے روزے رکھتاہے ہم اُس کو قبرمیں رنجیدہ نہیں رہنے دیتے۔‘‘(نُزہَۃُ المَجالِس ج۱ ص۲۰۸ )
اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور اُن کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو۔ اٰمِین بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
رَجَب میں یہ دعا پڑھنا سنّت ہے!
جب رَجب کا مہینا آتاتو نبیِّ اکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَیہ دُعا پڑھتے تھے:اَللّٰھُمَّ بَارِکْ لَنَا فِیْ رَجَبٍ وَّشَعْبَانَ وَبَلِّغْنَارَمَضَان۔یعنی اے اللہ عَزَّوَجَلَّ!تو ہمارے لیے رَجب اور شعبان میں بَرَکتیں عطا فرمااور ہمیں رَمَضان تک پہنچا۔ (اَلْمُعْجَمُ الْاَ وْسَط لِلطّبَرانی،ج۳،ص۸۵،الحدیث: ۳۹۳۹)
اللّہ کا مہینا:
فرمانِ مصطَفٰےصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ:رَجَبٌ شَہْرُ اللّٰہِ تَعَالٰی وَشَعْبَانُ شَہْرِیْ وَ رَمَضَانُ شَہْرُ اُمَّتِیْ۔ یعنی رَجب اللّٰہ تعالٰی کا مہینا اور شعبان میرا مہینا اوررَمضان میری اُمت کا مہینا ہے۔(اَلْفِردَوس بمأثور الْخِطاب ج۲ص۲۷۵ حدیث ۳۲۷۶)
رجب کے مختلف نام اور معانی:
’’رجب ‘‘دراصل تَرجِیْب سے مُشْتَق (یعنی نکلا ) ہے اِس کے معنٰی ہیں :’’ تعظیم کرنا۔‘‘
اِس کو اَلْاَصَبْ(یعنی تیز بہاؤ) بھی کہتے ہیں اِس لئے کہ اس ماہِ مبارَک میں توبہ کرنے والوں پر رَحمت کا بہاؤ تیز ہوجاتا اور عبادت کرنے والوں پر قَبولِیَّت کے انوار کا فیضان ہوتا ہے ۔ اسے اَلْاَصَمّ(یعنی بَہرا) بھی کہتے ہیں کیونکہ اِس میں جنگ و جَدَل کی آوازبِالکل سنائی نہیں دیتی۔(مُکاشَفۃُ الْقُلوب ص۳۰۱ )اس ماہ کو ’’شَہرِرجم‘‘بھی کہتے ہیں کیونکہ اِس میں شیطانوں کو رجم کیا جاتا ہے (یعنی پتھر مارے جاتے ہیں )تاکہ وہ مسلمانوں کو اِیذاء نہ دیں۔(غُنْیَۃُ الطّا لِبِیْن ج۱ ص۳۱۹،۳۲۰)
رجب کے تین حروف کی بھی کیا بات ہے!
سُبحٰن اللہ عَزَّ وَجَلَّ ! میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!ماہِ رَجبُ المُرَجَّب کی بہاروں کی توکیا بات ہے! ’’مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب‘‘میں ہے، بُزُرگانِ دین رَحمَہُمُ اللہُ الْمُبِین فرماتے ہیں : ’’رجب‘‘ میں تین حُرُوف ہیں۔ ر،ج،ب ، ’’ر‘‘سے مُراد رَحمتِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ ، ’’ج‘‘ سے مُراد بندے کا جُرم،’’ب‘‘ سے مُراد بِرّ یعنی اِحسان و بھلائی ۔ گویا اللہ عَزَّوَجَلَّ فرماتا ہے : میرے بندے کے جُرم کو میری رَحمت اور بھلائی کے درمِیان کردو۔(مُکاشَفۃُ الْقُلوب ص۳۰۱)
عصیاں سے کبھی ہم نے کَنارا نہ کیا
پَر تو نے دل آزُردَہ ہمارا نہ کیا
ہم نے تو جہنَّم کی بَہُت کی تجویز لیکن تِری رَحمت نے گوارا نہ کیا
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
عبادت کا بیج بونے کا مہینا:
حضرتِ سَیِّدُنا علّامہ صَفُّوری رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں :رَجَبُ الْمُرَجَّب بِیج بونے کا ،شَعْبانُ الْمُعَظَّم آبپاشی(یعنی پانی دینے ) کا اور رَمَضانُ الْمُبارَک فَصل کاٹنے کا مہینا ہے۔لہٰذا جو رَجَبُ الْمُرَجَّبمیں عبادت کا بیج نہ بوئے اور شَعْبانُ الْمُعَظَّممیں اُسےآنسوؤں سے سَیراب نہ کرے وہ رَمَضانُ الْمُبارَکمیں فصلِ رَحمت کیوں کر کاٹ سکے گا؟مزید فرماتے ہیں : رَجَبُ الْمُرَجَّب جسم کو ، شَعْبانُ الْمُعَظَّم دل کو اور رَمَضانُ الْمُبارَک رُوح کو پاک کرتا ہے۔(نُزْہَۃُ الْمَجالِس ج۱ص۲۰۹)
ایک جنّتی نہر کا نام رجب ہے:
حضرتِ سَیِّدُنا اَنَس بن مالِک رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’جنت میں ایک نَہر ہے جسے ’’رجب‘‘ کہا جا تا ہے جو دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھی ہے تو جو کوئی رجب کا ایک روزہ رکھے تو اللہ عَزَّوَجَل اسے اس نَہر سے سیرَ اب کر ے گا۔‘‘(شُعَبُ الْاِیمان ج۳ص۳۶۷حدیث۳۸۰۰)
جنّتی محل:
تابِعی بُزُرگ حضرتِ سَیِّدُنا ابوقِلابہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں:رجبکے روزہ داروں کیلئے جنت میں ایک مَحَل ہے۔(شُعَبُ الْاِیمان ج۳ص۳۶۸حدیث۳۸۰۲)
قِسط جاری۔۔۔
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
01-07-1443 | 03-02-2022
02-07-1443 🗓 04-02-2022
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM