🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
#فیضان_رجب_المرجب قسط ❼
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#فیضان_رجب_المرجب قسط ❽
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
ماہ رجب المرجب کے فضائل و عبادات
ڈاکٹر فیض احمد چشتی

https://faizahmadchishti.blogspot.com/2018/03/blog-post_21.html?m=1

اِلٰھِیْ تَعَرَّضَ لَکَ فِیْ ھٰذِہِ الَّیْلَۃَ الْمُتَعَرِّضُوْنَ وَ قَصْدَکَ الْقَاصِدُوْنَ وَاَھْلُ فَضْلِکَ وَ مَعْرُوْفِکَ الطَّالِبُوْنَ وَلَکَ فِیْ ھٰذِہِ الَّیْلَۃِ نَفَحَاتُ وَ جَوَائِزُ وَ عَطَایَا وَ مَوَاھِبَ تَمُنُّ بِھَا عَلٰی مَنْ تَشَائُ مِنْ عِبَادِکَ وَتَمْنَعُھَا مِمَّنْ لَّمْ تَسْبِقُ لَہ، الْعِنَایَۃُ مِنْکَ وَھَا اَنَا عَبْدُکَ الْفَقِیْرِ اِلَیْکَ الْمُوَمِّلُ فَضْلُ وَ مَعْرُوْفِکَ فَاِنَّ کُنْتَ یَا مَوْلَایَ تَفْضَلْتَ فِیْ ھٰذِہِ الَّیْلَۃِ عَلٰی اَحَدٍ مِّنْ خَلْقِکَ وَجَدْتُ عَلَیْہِ بِعَائِدَۃٍ مِّنْ عَطْفِکَ فَصَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّاٰلِہ وَجُدْ عَلَیَّ بِفَضْلِکَ وَ مَعْرُوْفِکَ یَا رَبَّ الْعَالَمِیْنَ۔

یا الٰہی! اس رات میں بڑھنے والے تیرے حضور میں بڑھے اور تیری طرف قصد کرنے والوں نے قصد کیا، اور طالبوں نے تیری بخشش اور تیرے احسان کی امید رکھی، اس رات میں تیری طرف سے مہربانیاں، عطیے اور بخششیں ہیں تو ہی ان پر احسان کرتا ہے جن کو چاہتا ہے اور جن پر تیری عنایت نہ ہوگی ان سے روک لے گا( میں تیرا محتاج بندہ ہوں، تیرے فضل و کرم کا امیدوار ہوں، میرے مولا! اس رات اگر تو کسی مخلوق پر فضل کرے اور اپنی عنایت سے کسی کو نوازے تو سب سے پہلے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کی آل پر رحمت نازل فرما اور اپنے فضل و احسان سے مجھ پر نوازش فرما! یا رب العالمین) روایت ہے کہ حضرت علی حیدر کرار رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا دستور تھا کہ آپ سال میں چار راتیں ہر کام سے خالی کر کے عبادت کے لئے مخصوص فرمایا کرتے تھے۔ رجب کی پہلی رات، عیدالفطر کی رات، عیدالاضحی کی رات اور شعبان کی پندرہویں شب۔ پھر ان راتوں میں یہ دعا پڑھتے تھے۔

اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّاٰلِہ مَصَابِیْحَ الْحِکْمَۃِ وَمَوَالِیَ النِّعْمَۃِ وَ مَعَادِنِ الْعِصْمَۃِ وَاعْصِمْنِیْ بِھِمْ مِّنْ کُلِّ سُوْئٍ وَّلَا تَاْخُذْنِیْ عَلٰی غَرَّۃٍ وَّلَا عَلٰی غَفْلَۃٍ وَّلَا تَجْعَدْ عَوَاقِبَ اَمْرِیْ حَسْرَۃً وَّ نَدَامَۃً وَّارْضَ عَنِّیْ فَاِنَّ مَغْفِرَتِکَ لِلظَّالِمِیْنَ وَاَنَا مِنَ الظَّالِمِیْنَ اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ مَالَا یَضُرُّکَ واَعْطِنِیْ مَالَا یَنْفَعْنِیْ فَاِنَّکَ الْوَسِیْعَۃُ رَحْمَۃَ الْبَدِیْعَۃُ حِکْمَۃُ فَاعْطِنِیْ السَّعَۃَ وَالدَّعَۃَ وَالْاَمِنُ وَالصِّحَۃُ وَالشُّکْرُ وَالْمُعَافَاۃِ وَالتَّقْوٰی وَالصَّبْرَ وَ الصِّدْقَ وَعَلَیْکَ وَعَلٰی اَوْلِیَائِکَ اَعْطِنِیْ الْیُسْرَ مَعَ الْعُسْرِ وَالْاَمْنَ بِذَالِکَ اَھْلِیْ وَوَلَدِیْ وَاِخْوَانِیْ فِیْکَ وَمِنْ وِّالْدَانِ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ وَالْمُسْلِمَاتِ وَالْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنَاتِ

(ترجمہ) یا اللہ! محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کی آل پر درود اور رحمت بھیج، یہ لوگ حکمت و دانائی کے چراغ ہیں، نعمتوں کے مالک ہیں، عصمت و پاکی کی کانیں ہیں، مجھے بھی ان کے ساتھ ہر بدی سے محفوظ رکھ، غرور اور تکبر کے سبب مجھے نہ پکڑ، میرے انجام کو حسرت و ندامت والا نہ بنا۔ تو مجھ سے راضی ہوجا، بے شک تیری مغفرت ظالموں کے لئے ہے اور میں ظالموں میں سے ہوں۔ الہٰی مجھے وہ چیز عطا فرما جو تجھے ایذا نہیں دیتی، اور مجھے وہ چیز بخش دے جو مجھے فائدہ دینے والی ہے، تیری رحمت وسیع ہے، تیری حکمت نادر ہے اور عجیب ہے، مجھے راحت اور کشادگی عطا فرما، امن و تندرستی دے، نعمت پر شکر کی توفیق دے، عافیت اور پرہیز گاری اور صبر عطا فرما ، اپنے اور اپنے دوستوں کے نزدیک مجھے راست اور لطف و عنایت فرما، سختی کے بعد آسانی دے، میرے اہل میرے فرزندوں اور میرے بھائیوں پر جو تیری راہ پر چلنے والے ہیں اور مسلمانوں کے بیٹوں اور بیٹیوں پر مسلمان مرد اور عورتوں پر اپنی رحمت عام فرما دے اور سب کو اپنی رحمت میں شامل فرما۔ آمین

رجب کے نفلی روزے اور جنت کے آٹھوں دروازے

حضرت نوح علی نبینا علیہ الصلوۃ والسلام نے جب اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کفر و طاغوتی طاقتوں کی تباہی کے لئے دعا کی اور اللہ تعالیٰ کا عذاب بصورت طوفان نازل ہونا شروع ہوا اور اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو کشتی میں اہل ایمان کے ساتھ سوار ہونے کا حکم فرمایا تو وہ رجب کا مہینہ تھا جب حضرت نوح علیہ السلام کشتی پر سوار ہوئے تو آپ نے روزہ رکھا ہوا تھا اور آپ کی ہدایت پر آپ کے ساتھیوں نے بھی روزہ رکھا تھا، اس کی برکت سے کشتی چھ ماہ چلتی رہی اور دس محرم (یوم عاشورہ) کو " جودی پہاڑ" پر ٹھہری۔ اور جب کشتی سے اترے تو آپ اور آپ کے رفقائ نے اللہ کا شکر ادا کیا اور شکرانہ کا روزہ یوم عاشورا رکھا۔ (ماثبت من السنۃ صفحہ ١٧٣)
سرکار غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ، حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کردہ طویل حدیث نقل کرتے ہیں، کہ رجب کے روزوں کا ثواب اس طرح ہوگا۔

ایک روزے کا ثواب: اللہ تعالیٰ کی خوشنودی اور فردوس اعلیٰ۔

دو روزوں کا ثواب: دو گنا اجر۔ ہر اجر کا وزن دنیا کے پہاڑوں کے برابر۔

تین روزوں کا ثواب: گہری خندق کے ذریعے جہنم ایک سال مسافت جتنی دور ہوگی۔

چار روزوں کا ثواب: امراض جذام، برص اور جنون سے محفوظ اور فتنہ دجال سے محفوظ۔

پانچ روزوں کا ثواب: عذاب قبر سے محفوظ۔

چھ روزوں کا ثواب: حشر میں چہرہ چودھویں کے چاند کی مانند۔

سات روزوں کا ثواب: دوزخ کے سات دروازے بند۔

آٹھ روزوں کا ثواب: جنت کے آٹھوں دروازے کھلیں گے۔

نو روزوں کا ثواب: کلمہ شہادت پڑھتے ہوئے قبر سے اٹھنا اور منہ جنت کی طرف۔

دس روزوں کا ثواب: پل صراط کے ہر میل پر آرام دہ بستر فراہم ہوگا۔

گیارہ روزوں کا ثواب: حشر کے دن عام لوگوں میں سب سے افضل ہوگا۔

بارہ روزوں کا ثواب: اللہ تعالیٰ روز حشر دو جوڑے پہنائے گا جس کا ایک جوڑا ہی کل متاع دنیا سے افضل اور قیمتی ہوگا۔

تیرہ روزوں کا ثواب: روز حشر سایہ عرش میں خوان نعمت (انواع و اقسام) تناول کرے گا۔

چودہ روزوں کا ثواب: روز حشر اللہ تعالیٰ کی خاص عطا، جو بصارت، سماعت، وہم و خیال سے ورائ ہوگی۔

پندرہ روزوں کا ثواب: روز حشر موقف امان میں، مقرب فرشتے یا نبی یارسول مبارک باد دیں گے۔

سولہ روزوں کا ثواب: دیدار الہٰی اور ہمکلام ہونے والوں کی پہلی صف میں شمولیت

سترہ روزوں کا ثواب: اللہ تعالیٰ پل صراط کے ہر میل پر آرامگاہ فراہم فرمائے گا۔

اٹھارہ رزوں کا ثواب: حضرت ابراہیم علیہ السلام کے قبہ میں قیام نصیب ہوگا۔

انیس روزوں کا ثواب: حضرت آدم اور حضرت ابراہیم علیہما السلام کے محلات کے روبرو ایسے محل میں قیام، جہاں اس کے سلام نیاز و عقیدت کا جواب دونوں نبی علیہما السلام دیں گے۔

بیس روزوں کا ثواب: آسمان سے ند،ا مغفرت کا مژدہ۔

ان شاء اللہ تعالیٰ و ان شاء الرسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (غنیۃ الطالبین صفحہ ٣٥٢)

رجب میں کار خیر اور صدقہ و خیرات

٭حضرت عبداللہ ابن زبیر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے انھوں نے فرمایا "جس نے اپنے مسلمان بھائی سے رجب کے مہینے میں (جو اللہ کا ماہ "اصم" ہے)غم دور کیا تو اللہ اس کو فردوس میں نگاہ کی رسائی کے بقدر (حد نظر تک) وسیع محل مرحمت فرمائے گا، خوب سن لو! تم ماہ رجب کی عزت کرو گے اللہ تعالیٰ تمہیں ہزار درجہ بزرگی عطا فرمائے گا۔" (غنیۃ الطالبین صفحہ ٣٥٥)

٭حضرت عقبہ رحمۃ اللہ علیہ بن سلامہ بن قیس نے مرفوعا روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے ماہ رجب میں صدقہ دیا تو اللہ تعالیٰ اس کو جہنم سے اتنا دور کر دے گا جتنا کوا ہوا میں پرواز کر کے اپنے آشیانہ سے اس قدر دور ہو جائے کہ اڑتے اڑتے بوڑھا ہو کر مر جائے (بیان کیا جاتا ہے کہ کوے کی عمر پانچ سو سال ہوتی ہے) (غنیۃ الطالبین صفحہ ٣٥٥)

حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے کہا حضور علیہ الصلوۃ والسلام ارشاد فرماتے ہیں، جس نے رجب میں کچھ بھی خیرات کی اس نے گویا ہزار دینار خیرات کئے اللہ تعالیٰ اس کے بدن کے ہر بال کے برابر نیکی لکھے گا اور ہزار درجہ بلند فرما کر ہزار گناہ مٹا دے گا۔ (غنیۃ الطالبین صفحہ ٣٥٧)

٭۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رجب ظلم چھوڑ دینے کا مہینہ ہے۔

٭۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رجب توبہ کا مہینہ ہے۔

٭۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رجب عبادت کا مہینہ ہے۔

٭۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رجب نیکیوں میں اضافہ کا مہینہ ہے۔

٭۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رجب کھیتی (فصل) بونے کا مہینہ ہے۔

٭۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رجب معجزات کا مہینہ ہے۔

روزہ افطار کرنے کے بعد یہ دعا پڑھیں:۔

اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ بِرَحْمَتِکَ الَّتِیْ وَسِعَتْ کُلَّ شَیْئٍ اَنْ تَغْفِرَلِیْ

الہٰی میں تجھ سے تیری رحمت کے صدقے میں جو تمام چیزوں پر محیط ہے، تجھ سے مغفرت کا طلب گار ہوں۔

حضرت خواجہ حسن بصری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے ایک مرسل روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ و الہ و صحبہ وسلم نے فرمایا " بے شک رجب عظمت کا مہینہ ہے اس میں نیکیاں دگنی کی جاتی ہیں جس نے اس کے ایک دن کا روزہ رکھا وہ سال بھر کے روزے کے برابر ہے" ۔ (جامع الاصول)

امام بیہقی علیہ الرحمہ نے ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کیا اور کہا کہ اس کا مرفوع ہونا منکر ہے " رجب بڑا مہینہ ہے اللہ تعالیٰ اس میں نیکیاں دوچند کر دیتا ہے پس جس نے رجب میں ایک دن کا روزہ رکھا گویا اس نے سال بھر روزہ رکھا اور جس نے اس میں سات دن روزے رکھے تو اس سے جہنم کے ساتوں دروازے بند کر دیئے جائیں گے اور جس نے اس کے آٹھ دن روزے رکھے تو اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیئے جائیں گے اور جس نے اس کے دس دن روزے رکھے تو وہ اللہ تعالیٰ سے جو مانگے گا ضرور عطا فرمائے گا اور جس نے اس کے پندرہ دن کے روزے رکھے تو آسمان سے منادی پکارے گا تیرے گذشتہ تمام گناہ بخش
دیئے گئے اب ازسر نو عمل کر، جس نے زیادہ عمل کیے اسے زیادہ ثواب دیا جائے گا۔ (ما ثبت من السنۃ ، ص ١٧١۔١٧٠)

فاتحہ دیجئے (٤، ٦، ٢١،٢٢ اور ٢٧ رجب کی اہمیت) :۔

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قدس سرہ العزیز نے فرمایا کہ ٤رجب کی تاریخ عرس خواجگان کے حوالہ سے معروف ہے ۔ حضرت خواجہ عبد الرحیم مشرقی ، حضرت خواجہ عبد الکریم مغربی، حضرت خواجہ عبد الرشید شمالی، حضرت خواجہ عبد الجلیل جنوبی رحمہم اللہ تعالیٰ اوتاد ہیں۔٤رجب ان کی تاریخ وصال ہے۔ ٤ رجب کو ان کی فاتحہ دلائی جائے نیز حضرت امام محمد بن ادریس شافعی علیہ الرحمہ اور حضرت مولانا عبد الباری فرنگی محلی علیہ الرحمہ کو بھی فاتحہ میں شامل کیا جائے اور ان کے وسیلے سے دعا کی جائے یہ تاریخ اوراد و وظائف اور نقوش و تعویذات کے لیے بھی نہایت اہم ہے۔

٦ رجب، حضرت سلطان الھند خواجہ غریب نواز قدس سرہ کی چھٹی شریف کے حوالہ سے دنیا بھر میں معروف ہے، اس تاریخ کو خصوصیت کے ساتھ خواجہ صاحب علیہ الرحمہ کی فاتحہ کا اہتمام کیا جائے اور اس میں ان کے سلسلہ کے تمام مشائخ (ماقبل اور ما بعد) کو شامل کرنا چاہیے خصوصاً حضرت خواجہ حسن بصری، حضرت عمر بن عبد العزیز (مجدد اول) ، حضرت مالک بن دینار، حضرت ابراہیم بن ادھم، حضرت امام مسلم اور حضرت امام نووی (شارح مسلم) رحمھم اللہ کو شامل کیجئے۔

٢١، ٢٢ اور ٢٧ رجب کو بھی شیرینی وغیرہ پر فاتحہ کا اہتمام کریں، خصوصاً ام المومنین سیدہ حفصہ بنت عمر فاروق، حضرت عباس، ام المومنین سیدہ زینب بنت جحش، ام المومنین سیدہ میمونہ، حضرت زید بن ثابت (جامع قرآن، حضرت عبد اللہ بن سلام، حضرت اسامہ بن زید بن حارثہ، حضرت امیر معاویہ، حضرت خواجہ اویس قرنی، حضرت امام جعفر صادق، حضرت امام موسیٰ کاظم، حضرت سلطان محمود غزنوی، حضرت امام قدوری، حضرت سید الطائفہ ابو القاسم جنید بغدادی، حضرت امام ابو عیسیٰ محمد ترمذی،حضرت امام علی برہان الدین حنفی قادری، حضرت حافظ موسیٰ پاک شہید چشتی، حضرت شاہ رکن عالم سہروردی ملتانی، حضرت شیخ المشائخ ابو الحسین احمد نوری، حضرت مفتی محمد تقدس علی خان، حضرت فقیہہ ملت مفتی محمد نور اللہ نعیمی، محدث اعظم پاکستان حضرت علامہ محمد سردار احمد صاحب لائلپوری، حضرت علامہ سید محمد دیدار علی شاہ الوری (خلیفہئ اعلیٰ حضرت) ، حضرت پیر عبد الرحیم بھرچونڈوی، حضرت پیر سید امین الحسنات مانکی ، اعلیٰ حضرت سید شاہ علی حسین اشرفی جیلانی (شبیہہ غوث الاعظم)، حضرت سید سالار مسعود غازی، حضرت محدث اعظم سید محمد کچھوچھوی، حضرت پیر محمد حسن جان مجددی سرہندی، حضرت مفتی شاہ محمد مسعود (جد بزرگوار ڈاکٹر محمد مسعود احمد) ، شیخ ابو الحسن شازلی، علامہ عبد الحکیم سیالکوٹی (جد اعلیٰ قطب مدینہ)، قاضی ثنائ اللہ پانی پتی (صاحب تفسیر مظہری)، شاہ عبد القادر دہلوی اور خطیب پاکستان حضرت علامہ محمد شفیع اوکاڑویعلیہم الرضوان اجمعین

ماہ رجب کی تاریخی اہمیت (تاریخ اسلام اور عالمی اہم واقعات) (کچھ ایام میں تاریخی کتب میں اختلاف بھی ہے)

یکم رجب کو حضرت نوح علیہ السلام اور ان کے رفقائ طوفان کے موقع پر کشتی میں سوار ہوئے۔ اس مہینہ کی تمام تاریخیں انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ و السلام، اولیاء، علمائ و مشائخ کی ولادت اور وصال سے منسوب ہیں اور بعض اہم واقعات (سیرت طیبہ اور تاریخ اسلام سے متعلق) بھی رونما ہوئے ۔ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ و صحبہ وسلم کے اخص خصائص معجزات میں سے واقعہئ معراج شریف رجب کی ستائیسویں شب کو پیش آیا اس تاریخ پر اکثر سیرت نگاروں اور محدثین و مؤرخین کا اتفاق ہے ۔ آیت درود شریف اور حکم نازل ہوا۔۔۔۔۔۔ ٥ھ،٭بادشاہ مقوقس نے حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں تحائف بھیجے ۔۔۔۔۔۔٧ھ،٭١٠ھ میں بنو عطفان رجب ہی میں اسلام لائے۔ ٭حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کا وصال ۔۔۔۔۔۔١٥ھ٭،شہر کوفہ کی تعمیر دور فاروقی ۔۔۔۔۔۔١٦ھ، ٭وصال حضرت اُسید بن حفیر انصاری رضی اللہ عنہ۔۔۔۔۔۔٢٠ ھ، ٭وصال حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ (عم رسول اللہ)۔۔۔۔۔۔٣٢ ھ٭جنگ صفین ٤ رجب ۔۔۔۔۔۔٣٦ھ/دسمبر ٦٥٦ء، ٭وفات مالک بن اشتر ۔۔۔۔۔۔٣٨ھ، ٭وصال ام المومنین میمونہ رضی اللہ عنہا ۔۔۔۔۔۔٣٩ھ،٭وصال ام المومنین حفصہ رضی اللہ عنہا۔۔۔۔۔۔ ٤١ھ، ٭وصال حضرت عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ ۔۔۔۔۔۔٤٣ھ، ٭وفات حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ ۔۔۔۔۔۔٤٥ھ، ٭وصال عبدالرحمن بن خالد ۔۔۔۔۔۔٤٦ھ،٭وفات حضرت عبد الرحمن بن سمرہ ۔۔۔۔۔۔٥٠ھ، ٭وفات معاویہ بن خدیج ۔۔۔۔۔۔٥٢ھ ،٭وفات حضرت اسامہ بن زید ۔۔۔۔۔۔٥٤ھ، ٭تاریخ اسلام کے خوفناک ترین ایام کا آغاز یعنی یزید کی حکمرانی کا آغاز ۔۔۔۔۔۔٦٠ھ، ٭وفات حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ۔۔۔۔۔۔ ٦٠ھ، ٭وصال حضرت عبیدۃ السلمانی ۔۔۔۔۔۔٧٢ھ،٭ عبدالملک بن مروان کی فتوحات ۔۔۔۔۔۔٧٧ھ، ٭خارجی فتنہ پرداز راس الخوارج قطری کا قتل ۔۔۔۔۔۔٧٩ھ، ٭فتح مصیصہ ۔۔۔۔۔۔٨٤ھ، ٭تعمیر جامع دمشق ۔۔۔۔۔۔٨٧ھ/جون ٧٠٥ء، ٭وفات خلیفہ راشد حضرت عمر بن عبد العزیزعلیہ الرحمہ(اول مجدد)