آیت بالا میں قمری مہینوں کا ذکر ہے جن کا حساب چاند سے ہوتا ہے احکام شرع کی بنا بھی قمری مہینوں پر ہے۔ مثلاً رمضان المبارک کے روزے، زکوٰۃ مناسک حج شریف وغیرہ نیز اسلامی تہوار مثلاً عید میلادالنبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم عید الفطر، عیدالاضحٰی، شب معراج، شب براءت، گیارہویں شریف،اعراس بزرگان دین رحمھم اللہ وغیرہ بھی قمری مہینوں کے حساب سے منائے جاتے ہیں۔ افسوس ! آج کل جہاں مسلمان بے شمار سنتوں سے دور جا پڑا ہے وہاں اسلامی تاریخوں سے بھی بالکل نا آشنا ہوتا جا رہا ہے۔ غالباً ایک لاکھ مسلمانوں کے اجتماع میں اگر یہ سُوال کیا جائے کہ “بتاؤ آج کس ہجری سن کے کون سے مہینے کی کتنی تاریخ ہے ؟“ تو شاید بمشکل سو مسلمان ایسے ہوں گے جو صحیح جواب دے سکیں گے۔ آیت گزشتہ کے تحت حضرت سیدنا صدر الافاضل مولیٰنا نعیم الدین مُراد آبادی رحمۃ اللہ علیہ خزائن العرفان میں فرماتے ہیں، (چار حرمت والے مہینوں سے مراد) تین متصل (یعنی یک بعد دیگرے) ذوالقعدہ، ذوالحجہ، محرم اور ایک جُدا رجب عرب لوگ زمانہ جاہلیت میں بھی ان میں قتال (یعنی جنگ) حرام جانتے تھے۔ اسلام میں مہینوں کی حرمت و عظمت اور زیادہ کی گئی ۔
سیدنا عیسٰی روح اللہ (علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام) کے دور کا واقعہ ہے کہ ایک شخص مدت سے کسی عورت پر عاشق تھا۔ ایک بار اس نے اپنی معثوقہ پر قابو پالیا۔ لوگوں کی ہلچل سے اس نے اندازہ لگایا کہ لوگ چاند دیکھ رہے ہیں اس نے اُس عورت سے پوچھا، لوگ کس ماہ کا چاند دیکھ رہے ہیں ؟ اس نے کہا، “رجب کا“۔ یہ شخص حالانکہ کافر تھا مگر رجب شریف کا نا، سنتے ہی تعظیماً فوراً الگ ہو گیا اور زِنا سے باز رہا۔ حضرت سیدنا عیسٰی روح اللہ (علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام) کو حکم ہوا کہ ہمارے فلاں بندے کی زیارت کو جاؤ۔ آپ (علیہ السلام) تشریف لے گئے اور اللہ (عزوجل) کا حکم اور اپنی تشریف آوری کا سبب ارشاد فرمایا۔ یہ سنتے ہی اس کا دل نورِ اسلام سے جگمگا اٹھا اور اُس نے فوراً اسلام قبول کر لیا۔ (انیس الواعظین ص 177 مطبوعہ مکتبہ عربیہ کوئٹہ ، چشتی)
رجب المرجب کی تعظیم کرکے ایک کافر کو ایمان کی دولت نصیب ہو گئی ۔ تو جو مسلمان ہوکر رجب المرجب کا احترام کرے گا اس کو نہ جانے کیا کیا انعام ملے گا۔ مسلمانوں کو چاہئیے کہ رجب شریف کا خوب احترام کیا کریں۔ قرآن پاک میں بھی حُرمت والے مہینوں میں اپنی جانوں پر ظلم کرنے سے روکا گیا ہے۔ “نور العرفان“ میں فلا تظلموا فیھن انفسکم : ترجمہ : تو ان مہینوں میں اپنی جان پر ظلم نہ کرو۔) کے ماتحت ہے، “یعنی خصوصیت سے ان چار مہینوں میں گناہ نہ کرو کہ ان میں گناہ کرنا اپنے اوپر ظلم ہے یا آپس میں ایک دوسرے پر ظلم نہ کرو ۔
حضرت سیدنا انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ :نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا : جس نے ماہ حرام میں تین دن جمعرات ، جمعہ اور ہفتہ کا روزہ رکھا اس کےلیے دو سال کی عبادت کا ثواب لکھا جائے گا ۔ (مجمع الزوئد ج3 ص 438 رقم الحدیث 5151 مطبوعہ دارالفکر بیروت)
یہاں ماہ حرام سے مُراد یہی چار ماہ ذوالقعدہ، ذوالحجہ، محرم الحرام اور رجب المرجب ہیں۔ ان چاروں مہینوں میں سے جس ماہ میں بھی ان تین دنوں کا روزہ رکھ لیں گے تو انشاءاللہ عزوجل دو سال کی عبادت کا ثواب پائیں گے ۔
ایک بار حضرت سیدنا عیسٰی روح اللہ (علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام) کا گزر ایک جگمگاتے نورانی پہاڑ پر ہوا۔ آپ (علیہ السلام) نے بارگاہ خداوندی میں عرض کی یااللہ (عزوجل) اس پہاڑ کو قوت گویائی عطا فرما۔ وہ پہاڑ بول پڑا، یاروح اللہ ! آپ (علیہ السلام) کیا چاہتے ہیں ؟ فرمایا، اپنا حال بیان کر۔ پہاڑ بولا، میرے اندر ایک آدمی رہتا ہے۔ سیدنا عیسٰی روح اللہ (علٰی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام) نے بارگاہ الٰہی میں عرض کی، یااللہ (عزوجل) ! اس کو مجھ پر ظاہر فرما دے۔ یکایک پہاڑ شق ہو گیا اور اس میں سے چاند سا چہرہ چمکاتے ہوئے ایک بزرگ برآمد ہوئے۔ انہوں نے عرض کیا“میں حضرت سیدنا موسٰی کلیم اللہ (علیہ السلام) کا اُمتی ہوں، میں نے اللہ (عزوجل) سے یہ دُعا کی ہوئی ہے کہ وہ مجھے اپنے پیارے محبوب نبی آخرالزماں (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت مبارکہ تک زندہ رکھے تاکہ میں ان کی زیارت بھی کروں اور ان کا اُمتی بننے کا شرف بھی حاصل کروں۔ الحمدللہ (عزوجل) میں اس پہاڑ میں چھ سو سال سے اللہ (عزوجل) کی عبادت میں مشغول ہوں۔“ حضرت سیدنا عیسٰی روح اللہ (علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام) نے بارگاہ خداوندی میں عرض کیا، یااللہ (عزوجل) ! کیا روئے زمین پر کوئی بندہ اس شخص سے بڑھ کر بھی تیرے یہاں مکرم ہے ؟ ارشاد ہوا، اے عیسٰی (علیہ السلام) ! امت محمدی (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) میں سے جو ماہ رجب کا ایک روزہ رکھ لے وہ میرے نزدیک اس سے بھی زیادہ مکرم ہے ۔ (نزہتہ المجالس جلد 1 صفحہ 155)۔
( مزید حصّہ سوم میں ان شاء اللہ )
(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)
سیدنا عیسٰی روح اللہ (علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام) کے دور کا واقعہ ہے کہ ایک شخص مدت سے کسی عورت پر عاشق تھا۔ ایک بار اس نے اپنی معثوقہ پر قابو پالیا۔ لوگوں کی ہلچل سے اس نے اندازہ لگایا کہ لوگ چاند دیکھ رہے ہیں اس نے اُس عورت سے پوچھا، لوگ کس ماہ کا چاند دیکھ رہے ہیں ؟ اس نے کہا، “رجب کا“۔ یہ شخص حالانکہ کافر تھا مگر رجب شریف کا نا، سنتے ہی تعظیماً فوراً الگ ہو گیا اور زِنا سے باز رہا۔ حضرت سیدنا عیسٰی روح اللہ (علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام) کو حکم ہوا کہ ہمارے فلاں بندے کی زیارت کو جاؤ۔ آپ (علیہ السلام) تشریف لے گئے اور اللہ (عزوجل) کا حکم اور اپنی تشریف آوری کا سبب ارشاد فرمایا۔ یہ سنتے ہی اس کا دل نورِ اسلام سے جگمگا اٹھا اور اُس نے فوراً اسلام قبول کر لیا۔ (انیس الواعظین ص 177 مطبوعہ مکتبہ عربیہ کوئٹہ ، چشتی)
رجب المرجب کی تعظیم کرکے ایک کافر کو ایمان کی دولت نصیب ہو گئی ۔ تو جو مسلمان ہوکر رجب المرجب کا احترام کرے گا اس کو نہ جانے کیا کیا انعام ملے گا۔ مسلمانوں کو چاہئیے کہ رجب شریف کا خوب احترام کیا کریں۔ قرآن پاک میں بھی حُرمت والے مہینوں میں اپنی جانوں پر ظلم کرنے سے روکا گیا ہے۔ “نور العرفان“ میں فلا تظلموا فیھن انفسکم : ترجمہ : تو ان مہینوں میں اپنی جان پر ظلم نہ کرو۔) کے ماتحت ہے، “یعنی خصوصیت سے ان چار مہینوں میں گناہ نہ کرو کہ ان میں گناہ کرنا اپنے اوپر ظلم ہے یا آپس میں ایک دوسرے پر ظلم نہ کرو ۔
حضرت سیدنا انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ :نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا : جس نے ماہ حرام میں تین دن جمعرات ، جمعہ اور ہفتہ کا روزہ رکھا اس کےلیے دو سال کی عبادت کا ثواب لکھا جائے گا ۔ (مجمع الزوئد ج3 ص 438 رقم الحدیث 5151 مطبوعہ دارالفکر بیروت)
یہاں ماہ حرام سے مُراد یہی چار ماہ ذوالقعدہ، ذوالحجہ، محرم الحرام اور رجب المرجب ہیں۔ ان چاروں مہینوں میں سے جس ماہ میں بھی ان تین دنوں کا روزہ رکھ لیں گے تو انشاءاللہ عزوجل دو سال کی عبادت کا ثواب پائیں گے ۔
ایک بار حضرت سیدنا عیسٰی روح اللہ (علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام) کا گزر ایک جگمگاتے نورانی پہاڑ پر ہوا۔ آپ (علیہ السلام) نے بارگاہ خداوندی میں عرض کی یااللہ (عزوجل) اس پہاڑ کو قوت گویائی عطا فرما۔ وہ پہاڑ بول پڑا، یاروح اللہ ! آپ (علیہ السلام) کیا چاہتے ہیں ؟ فرمایا، اپنا حال بیان کر۔ پہاڑ بولا، میرے اندر ایک آدمی رہتا ہے۔ سیدنا عیسٰی روح اللہ (علٰی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام) نے بارگاہ الٰہی میں عرض کی، یااللہ (عزوجل) ! اس کو مجھ پر ظاہر فرما دے۔ یکایک پہاڑ شق ہو گیا اور اس میں سے چاند سا چہرہ چمکاتے ہوئے ایک بزرگ برآمد ہوئے۔ انہوں نے عرض کیا“میں حضرت سیدنا موسٰی کلیم اللہ (علیہ السلام) کا اُمتی ہوں، میں نے اللہ (عزوجل) سے یہ دُعا کی ہوئی ہے کہ وہ مجھے اپنے پیارے محبوب نبی آخرالزماں (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت مبارکہ تک زندہ رکھے تاکہ میں ان کی زیارت بھی کروں اور ان کا اُمتی بننے کا شرف بھی حاصل کروں۔ الحمدللہ (عزوجل) میں اس پہاڑ میں چھ سو سال سے اللہ (عزوجل) کی عبادت میں مشغول ہوں۔“ حضرت سیدنا عیسٰی روح اللہ (علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام) نے بارگاہ خداوندی میں عرض کیا، یااللہ (عزوجل) ! کیا روئے زمین پر کوئی بندہ اس شخص سے بڑھ کر بھی تیرے یہاں مکرم ہے ؟ ارشاد ہوا، اے عیسٰی (علیہ السلام) ! امت محمدی (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) میں سے جو ماہ رجب کا ایک روزہ رکھ لے وہ میرے نزدیک اس سے بھی زیادہ مکرم ہے ۔ (نزہتہ المجالس جلد 1 صفحہ 155)۔
( مزید حصّہ سوم میں ان شاء اللہ )
(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
01-07-1443 | 03-02-2022
01-07-1443 | 03-02-2022
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
بدمذہب لڑکی سے نکاح کا وبال
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
بدمذہب لڑکی سے نکاح کا وبال