🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
28-06-1443 | 01-02-2022
29-06-1443 | 02-02-2022
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
حضرت سیدنا لوط علیہ السلام
یوم وصال ۲۹ جمادی الثانی
https://scholar.ziaetaiba.com/ur/biography/holy-prophet-hazrat-loot-1
سوانح حیات یہاں↑پڑھیں!
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌙🌙🌙🌙🌙🌙🌙🌙🌙
Aaj 29 Jamadil Aakhir thi.
Mumbai mein chand ki aam ruyat huwi hai..
Lehaaza All India Sunni Jamiatul Ulema Ruyate Hilaal Committee Mumbai ki jaanib se *Qazi e Shaher Hazrat Allama Mufti Mehmood Akhtar Sahab qibla ne kal baroz Jumeraat 3 February ko *1 Rajab ul Murajjab* hone ka ailaan farmaaya hai...
🌙🌙🌙🌙🌙🌙🌙🌙

*Maah e Chishtiya Aalam e Islaam ko Mubaarak ho..!!*
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
ماہِ رجب کی فضیلت و اہمیت حصّہ اوّل
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
محترم قارئینِ کرام : اسلامی سال کے بارہ مہینے اپنے اندر کوئی نہ کوئی تاریخی اہمیت ضرور رکھتے ہیں ۔ اسی طرح ان بارہ مہینوں پر مشتمل سال کی بھی ایک اہمیت ہے ۔ قرآن کریم نے بارہ ماہ کے سال کی اہمیت بتاتے ہوئے کہا ہے : یعنی یقینا (ایک سال کے) مہینوں کی تعداد بارہ‘ اللہ کی کتاب (لوح محفوظ) میں ہے (اور یہ اس وقت سے مقرر ہے) جب اللہ نے آسمان و زمین کو بنایا ۔ ان میں سے چار مہینے حرمت والے ہیں ۔ (القرآن‘ سورۃ التوبہ‘آیت 36)
نبی اکرم ﷺ نے سال کے بارہ مہینوں میں سے چار (ذوالقعدہ‘ ذوالحجہ‘ محرم اور رجب) کی حرمت و عظمت بیان کرتے ہوئے حجتہ الوداع کے موقع پر یوم نحر کو اپنے ایک تاریخی خطاب میں ارشاد فرمایا تھا کہ : زمانہ لوٹ کر اپنی جگہ واپس آگیا اور اب مہینوں کی ترتیب وہی ہوگئی ہے‘ جو اللہ نے تخلیق ارض و سماء کے وقت مقرر کی تھی ۔ (صحیح البخاری کتاب التفسیر باب705‘ حدیث،1773،چشتی)
رجب کی عظمت و رحمت کے سارے عرب قائل تھے۔ مگر اسلام نے اس ماہ مبارک کی فضیلت یعض تاریخی واقعات کی بناء پر اور بڑھا دی۔
لغت کی کتابوں میں رجب کے معنی ’’عظمت و بزرگی‘‘ کے بیان ہوئے ہیں اور ترجیب بمعنی تعظیم آیا ہے (ابن منظور افریقی‘ لسان العرب‘ زیر مادہ ’’رجب‘‘)
زمانہ جاہلیت میں اس ماہ کی تعظیم کے پیش نظر اس میں جدال و قتال منع تھا۔ قبیلہ مضر کے لوگ بطور خاص اس ماہ کی تعظیم کرتے اور قتل و غارت گری کو اس ماہ میں انتہائی معیوب جانتے تھے۔ اس لئے لغت کی بعض کتابوں میں رجب کو رجب مضر بھی کہا گیا ہے (ابن منظور افریقی‘ لسان العرب‘ زیر مادہ ’’رجب‘‘)
نبی اکرم ﷺ نے بھی اپنے خطبہ یوم النحر حجتہ الوداع میں اسے رجب مضر ہی فرمایا ۔ (بخاری و مسلم)

رجب میں قربانی

رجب کے مہینے میں زمانہ جاہلیت میں قربانی کرنے کا رواج بھی تھا اور یہ قربانی عتیرہ اور رجبیہ کہلاتی تھی۔ اسلام میں اس قربانی کے بارے میں نبی اکرم ﷺ سے پوچھا گیا۔ چنانچہ سنن ترمذی میں ایک روایت اس طرح ملتی ہے کہ حضرت ابو ذر بن لقیط بن عامر عقیلی کہتے ہیں میں نے دریافت کیا یارسول ﷲ ﷺ ! ہم زمانہ جاہلیت میں رجب کے مہینے میں قربانی کیا کرتے تھے‘ جسے ہم خود بھی کھاتے اور جو کوئی ہمارے پاس آتا اسے بھی کھلاتے تھے۔ حضور ﷺ نے اس کے جواب میں فرمایا۔ اس میں کوئی حرج نہیں ( سنن نسائی کتاب الاضحیتہ‘ حدیث 4556‘ نیز سنن ابی دائود‘ کتاب الاضحیہ، چشتی)

زمانہ جاہلیت میں لوگ رجب کی قربانی بتوں کے تقرب کے لئے کرتے تھے‘ اس لیے حضور ﷺ نے اس سے ایک موقع پر منع بھی فرمایا مگر اس ممانعت کا مقصد دراصل بتوں کےلیے ذبح کرنے سے منع کرنا تھا‘ نہ کہ مطلقا رجب میں ذبیحہ سے منع کرنا ۔ (شرح صحیح مسلم‘ ج 3‘ ص 171‘ بحوالہ ملا علی قاری، چشتی)

اہل اسلام کےلیے ہر ماہ میں ﷲ کی رضا اور خوشنودی کی خاطر ذبح کرنے کی اجازت ہے ۔ بعض علماء نے اسے مباح کہا ہے بلکہ علامہ ابن سیرین تو رجب میں باقاعدگی سے ’’رجبی‘‘ کرتے تھے (علامہ بدر الدین عینی‘ عمدۃ القاری‘ ج 1ص 89‘ مطبوعہ مصر) جس کی صورت یہ ہوتی کہ جانور ذبح کیا جاتا اور دعوت عام ہوتی ۔

ملا علی قاری اور علامہ عینی نے رجب کی قربانی کو ممنوع قرار دیا ہے ۔ (ملا علی قاری‘ مرقات‘ ج 3‘ ص 315‘ مطبوعہ ملتان)

رجب میں قتال

قریش کے ہاں ماہ رجب میں قتال کو سخت ناپسند کیا جاتا تھا‘ اس لئے جب غزوہ بدر سے قبل نبی اکرمﷺ نے حضرت عبدﷲ بن حجش اسدی رضی ﷲ عنہ کی قیادت میں ماہ رجب میں ایک سریہ کےلیے صحابہ کو روانہ فرمایا اور انہوں نے بطن نخلہ میں قریش کے ایک قافلہ کو پایا جو عراق کی طرف جارہا تھا تو اس پر حملہ کرنے میں انہیں تردد ہوا۔ مسئلہ یہ تھا کہ اگر حملہ کرتے تو رجب کی تعظیم و حرمت کے پیش نظر یہ مناسب نہ تھا اور حملہ نہ کرتے تو اگلے ہی روز قافلہ حدود حرم میں داخل ہوجاتا پھر تو حملہ کرنا اور بھی نامناسب ہوتا۔ چنانچہ صحابہ نے کثرت رائے سے فیصلہ کرکے حملہ کردیا۔ مگر نتیجہ یہ ہوا کہ اگرچہ قافلہ کا سامان تو مسلمانوں کے ہاتھ لگ گیا لیکن کفار کو یہ شور مچانے کا موقع مل گیا کہ نبی اکرمﷺ نے حرمت والے مہینوں کی حرمت و وقار کا بھی خیال نہیں کیا۔ نبی اکرمﷺ کو علم ہوا تو آپ بھی صحابہ کے اس عمل سے ناخوش ہوئے ( ضیاء النبی ج 3‘ ص 376) مگر ﷲ تبارک وتعالیٰ نے نبی اکرم ﷺ کی تسکین قلب اور صحابہ کی دلجوئی و عزت افزائی فرماتے ہوئے یہ آیات نازل فرمائیں ۔
ترجمہ: وہ پوچھتے ہیں آپ سے کہ ماہ حرام میں جنگ کرنے کا کیا حکم ہے‘ آپ فرمایئے کہ لڑائی کرنا اس میں بڑا گناہ ہے‘ لیکن روک دینا ﷲ کی راہ سے اور کفر کرنا اس کے ساتھ اور (روک دینا) مسجد حرام سے اور نکال دینا اس میں بسنے والوں کو اس سے بڑے گناہ ہیں ﷲ کے نزدیک اور فتنہ و فساد قتل سے بھی بڑا گناہ ہے ۔ (القرآن‘ البقرہ آیت 217) ۔ اس واقعہ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اشہر حرام اور رجب کی فضیلت کو اسلام نے خاص اہمیت دی ہے ۔

رجب میں عمرہ
👍2