Forwarded from ️مسلم انسٹیٹیوٹ
بالخصوص نیو مدارس بورڈ والے یہ کالم ضرور پڑھیں ۔
۔
عنوان :مُسْلْمَانانِ برّصغیر کے رُسوخْ فِیْ الْعِلْم کی کہانی تاجِ برطانیہ کے ایک سرکاری مُبَصّرْ کی زبانی ۔
۔
پروفیسر ڈاکٹر غلام یحيٰ اپنی کتاب دینی مدارس اور عہدِ حاضر کے تقاضے صفحہ 6/7 پر برطانوی دور کے مشہور مُبَصّرْ (civel servant) سر ولیم ہنٹر کی کتاب (The indien Musalmans :Trubne and Company) کے حوالے سے مُسَلْمانانِ برصغیر کے متعلق لکھتے ہیں ۔
ترجمہ ۔
۔
ہندستانی مسلم! ہندوستان پر ہمارے اقتدار سے پہلے بھی نہ صرف سیاسی طور پر بلکہ علمی طور پر بھی طاقت ور قوت کی حیثیت رکھتے تھے ۔مجھے یہ کہنے میں رکاوٹ نہیں ہے کہ اُن کا نظامِ تعلیم ہمارے نظامِ تعلیم سے کئ گنا بہتر تھا ۔ہم جتنا بھی اِس حقیقت کو جھٹلائیں نہیں جھٹلا سکتے کہ مسلم سماج علمی اور فکری تربیت کے ایسے اصولوں پر مبنی تھا کہ ایک تو اِس سے شخصیت میں نکھار پیدا ہوتا اور دوسرا وہ کسی بھی لحاظ سے غیر معتبر نہیں تھا ۔ہاں البتہ میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ اُن کی طرزِ زیست میں (زندگی میں) کوئی تَعَیُّشْ نہیں تھا ۔تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود اُن کی زندگی میں سادگی تھی ۔۔
۔
مسلم نظامِ تعلیم ہندُسْتان کے دیگر نظام ہائے تعلیم کی بہ نسبت غیر معمولی طور پر اعلیٰ اور قدرِ بہتر تھا ۔یہ ایک ایسا نظامِ تعلیم تھا جس سے نہ صرف اُنہیں علمی فوائد مُیَسّرْ آتے تھے بلکہ دیناوی بالادستی کا حصول بھی اُن کےلئے ممکن تھا ۔
۔
قارئینِ محترم! بتائیے کہ انگریزوں سے پہلے برصغیر میں کون سے سکول اور کالج قائم تھے؟ ۔
۔
کیا انگریزوں کی آمد سے پہلے مسلمان اپنے بچوں کو پڑھانے کےلئے آکسفورڈ یونیورسٹی سے فارغ التحصیل انگریزوں کو ٹیچرز مقرر کرتے تھے کہ سر ولیم ہنٹر کی مطابق مسلمانوں کی نظامِ تعلیم بہتر تھی ۔۔۔۔۔۔۔ایسا کچھ بھی نہیں تھا بلکہ مسلمان تمام علوم وفنون مسجد ومدرسہ سے ہی سیکھتے تھے ۔مدرسہ کی چٹائ پر بیٹھ کر پڑھانے والا عالم دین ہی ماہر فنون ہوا کرتا تھا۔
۔
مجھے افسوس ہوتا ہے اُن مذہبی رہنماؤں پر جو زبان سے کہہ رہے ہوتے ہیں "البرکۃ مع اکابرکم " لیکن عملی طور پر اِس کا الٹ کرتے ہیں ۔اکابرین کی نظامِ تعلیم چھوڑ کر اپنی پسندیدہ نظامِ تعلیم یا پھر علی گڑھی ماہرینِ تعلیم کو فالو کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔
✍️ابو حاتم۔
02/01/2021/
۔
عنوان :مُسْلْمَانانِ برّصغیر کے رُسوخْ فِیْ الْعِلْم کی کہانی تاجِ برطانیہ کے ایک سرکاری مُبَصّرْ کی زبانی ۔
۔
پروفیسر ڈاکٹر غلام یحيٰ اپنی کتاب دینی مدارس اور عہدِ حاضر کے تقاضے صفحہ 6/7 پر برطانوی دور کے مشہور مُبَصّرْ (civel servant) سر ولیم ہنٹر کی کتاب (The indien Musalmans :Trubne and Company) کے حوالے سے مُسَلْمانانِ برصغیر کے متعلق لکھتے ہیں ۔
ترجمہ ۔
۔
ہندستانی مسلم! ہندوستان پر ہمارے اقتدار سے پہلے بھی نہ صرف سیاسی طور پر بلکہ علمی طور پر بھی طاقت ور قوت کی حیثیت رکھتے تھے ۔مجھے یہ کہنے میں رکاوٹ نہیں ہے کہ اُن کا نظامِ تعلیم ہمارے نظامِ تعلیم سے کئ گنا بہتر تھا ۔ہم جتنا بھی اِس حقیقت کو جھٹلائیں نہیں جھٹلا سکتے کہ مسلم سماج علمی اور فکری تربیت کے ایسے اصولوں پر مبنی تھا کہ ایک تو اِس سے شخصیت میں نکھار پیدا ہوتا اور دوسرا وہ کسی بھی لحاظ سے غیر معتبر نہیں تھا ۔ہاں البتہ میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ اُن کی طرزِ زیست میں (زندگی میں) کوئی تَعَیُّشْ نہیں تھا ۔تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود اُن کی زندگی میں سادگی تھی ۔۔
۔
مسلم نظامِ تعلیم ہندُسْتان کے دیگر نظام ہائے تعلیم کی بہ نسبت غیر معمولی طور پر اعلیٰ اور قدرِ بہتر تھا ۔یہ ایک ایسا نظامِ تعلیم تھا جس سے نہ صرف اُنہیں علمی فوائد مُیَسّرْ آتے تھے بلکہ دیناوی بالادستی کا حصول بھی اُن کےلئے ممکن تھا ۔
۔
قارئینِ محترم! بتائیے کہ انگریزوں سے پہلے برصغیر میں کون سے سکول اور کالج قائم تھے؟ ۔
۔
کیا انگریزوں کی آمد سے پہلے مسلمان اپنے بچوں کو پڑھانے کےلئے آکسفورڈ یونیورسٹی سے فارغ التحصیل انگریزوں کو ٹیچرز مقرر کرتے تھے کہ سر ولیم ہنٹر کی مطابق مسلمانوں کی نظامِ تعلیم بہتر تھی ۔۔۔۔۔۔۔ایسا کچھ بھی نہیں تھا بلکہ مسلمان تمام علوم وفنون مسجد ومدرسہ سے ہی سیکھتے تھے ۔مدرسہ کی چٹائ پر بیٹھ کر پڑھانے والا عالم دین ہی ماہر فنون ہوا کرتا تھا۔
۔
مجھے افسوس ہوتا ہے اُن مذہبی رہنماؤں پر جو زبان سے کہہ رہے ہوتے ہیں "البرکۃ مع اکابرکم " لیکن عملی طور پر اِس کا الٹ کرتے ہیں ۔اکابرین کی نظامِ تعلیم چھوڑ کر اپنی پسندیدہ نظامِ تعلیم یا پھر علی گڑھی ماہرینِ تعلیم کو فالو کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔
✍️ابو حاتم۔
02/01/2021/
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
28-06-1443 | 01-02-2022
29-06-1443 | 02-02-2022
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
حضرت سیدنا لوط علیہ السلام
یوم وصال ۲۹ جمادی الثانی
https://scholar.ziaetaiba.com/ur/biography/holy-prophet-hazrat-loot-1
سوانح حیات یہاں↑پڑھیں!
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
حضرت سیدنا لوط علیہ السلام
یوم وصال ۲۹ جمادی الثانی
https://scholar.ziaetaiba.com/ur/biography/holy-prophet-hazrat-loot-1
سوانح حیات یہاں↑پڑھیں!
❤1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM