🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
28-06-1443 | 01-02-2022
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
👍1
*📚 « امجــــدی مضــــامین » 📚*
-----------------------------------------------------------
*🕯علامہ جامی کا عشق رسول ﷺ🕯*


📬 عشق رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کے باب میں امام عاشقاں غزالی دوراں حضرت علامہ الشاہ عبدالر حمٰن جامی رحمۃ ﷲ علیہ کا نام نہایت ہی معروف و مشہور نام ہے کیوں کہ آپ علیہ الرحمہ کی مکمل زندگی شمع عشق رسالت صلی اللہ علیہ وسلم سے روشن و تاباں تھی۔

آپ علیہ الرحمہ سچے عاشق رسول صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم تھے ۔آپ نے جس والہانہ انداز سے بارگاہ رسالت صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم میں ہدیۂ نعت پیش کیا ہے ، اس بات کا اندازہ آپ علیہ الرحمہ کے اشعار سے کیا جاسکتا ہے ۔آپ رحمۃ اﷲ علیہ کا نعتیہ کلام اگرچہ عشق رسول صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔

لیکن نثر میں بھی آپ نے اپنے عشق و محبت کا اظہار کیا ہے ۔ سیرت رسول صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم پر آپ کی جامع کتاب ’’شواہدۃ النبوۃ‘‘ ہے ، جس کا ہر لفظ ہر ہر حرف اور ہر ہر جملہ آپ کے عشق رسول صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کا عکاس ہے ۔ عشق رسول صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کا تقاضا یہ بھی ہے کہ حضور صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کی نسبت جس چیز سے ہو اس سے محبت کی جاے

چناں چہ صحابہ کرام علیہم الرضوان اور اہل بیت اطہار علیہم السلام کا ذکر خیر بھی دل نشیں انداز میں کیا جاے ۔ اہل بیت ِاطہار علیہم السلام سے بطورِ خاص محبت کا اظہار آپ کی کتاب ’’بارہ امام‘‘ سے بھی ہوتا ہے

علامہ منشا تابش قصوری لکھتے ہیں: حضرت شاہ محمد ہاشم رحمۃ اﷲ علیہ ’’جامع الشواہد‘‘ میں تحریر فرماتے ہیں۔ ’’ماہ ربیع الاوّل کی ایک پر کیف اور نورانی رات میں امام العاشقین حضرت علامہ عبدالرحمنٰ جامی قدس سرہ السامی نے ایک روح پرور اور ایمان افروز خواب دیکھا کہ محراب النبی صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کے قریب حبیب کبریا جناب احمد مجتبیٰ محمد مصطفیٰ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم جلوہ افروز ہیں، ذکر و اذکار اور حمد ونعت کا سلسلہ جاری ہے ۔

حضرت جامی رحمۃ اﷲ علیہ بھی چند نعتیہ اشعار پیش کرتے ہیں، جنہیں سرکار ابد قرار صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم منظور فرماتے ہیں۔ جب آنکھ کھلی تو جامی رحمۃ اﷲ علیہ پر وجد و سرور کی کیفیت طاری تھی ،عالم جذب میں فرمانے لگے ’’وہ نورانی رخ زیبا جو چاند سے زیادہ حسین اور روشن ہے ، جب جبینِ مقدس سے ، آپ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے موئے مبارک کو ہٹایا تو سراج منیر کی تجلیاں نمودار ہونی لگیں‘‘۔

اس کے بعد جب جامی رحمۃ اﷲ علیہ کا اپنے وطن آنا ہوا تو بے تابی کے عالم میں پکارنے لگے

نسیما جانب بطحا گزر کن

ز احوالم محمد را خبر کن

ببر ایں جان مشتاقم در آنجا

فدائے روضۂ خیر البشر کن

توئی سلطان عالم یا محمد صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم

ز روئے لطف سوئے من نظر کن

مشرف گرچہ شد جامی

زلطفش خدایا ایں کرم بار دگر کن

جامی رحمۃ اﷲ علیہ بیان کرتے ہیں کہ ایک ہفتہ بھی گزرنے نہیں پایا تھا کہ انہیں آپ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے پھر زیارت سے مشرف فرمایا۔ (اغثنی یا رسول اﷲ ،صفحہ 17,18)۔

نیز حضرت علامہ عبدالرحمنٰ جامی رحمۃ اﷲ علیہ وہ عاشق رسول صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم ہیں جن کو بارگاہ رسالت میں شرف قبولیت حاصل ہے

ایک نعت شریف لکھنے کے بعد جب حج کے لیے تشریف لے گئے تو ان کا ارادہ یہ تھا کہ روضہ اقدس کے پاس کھڑے ہوکر اس نعت پاک کو حضور پاک کے سامنے پیش کریں گے ۔

چناں چہ حج بیت اللہ شریف کے لیے تشریف لے گئے اورحج سے فارغ ہوکر مدینہ منورہ کی حاضری کا ارادہ کیا تو امیر مکہ کو خواب میں نبی کریم رؤوف الرحیم کی زیارت نصیب ہوئی ۔آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ امیر مدینہ تم سوئے ہوئے ہو جاگو اور اس شخص کو یعنی حضرت عبدالرحمن جامی کو مدینہ طیبہ کی جانب آنے سے روکو ۔ چناں چہ گورنر مدینہ نے تمام سرحدوں پر پہرے لگادیئے ۔

حضرت عبدالرحمن جامی بڑے پائے کے عاشق رسولﷺ تھے ۔ ان کے دل پر عشق نبی کریمﷺ اس قدر غالب تھا کہ چھپ کر مدینہ طیبہ کی جانب چل پڑے ۔ترکی سے آنے والے قافلے کو اپنے ساتھ لے جانے کو کہا پہلے تو قافلے نے انکار کردیا لیکن پھر چند سکوں کے عوض انہیں مدینہ پاک ساتھ لے جانے پر رضا مند ہوگئے اورعبدالرحمن جامی علیہ الرحمہ کو ایک اونٹ پر موجود صندوق میں بند کردیا ۔

جب یہ اونٹوں کاقافلہ جو کہ ترکی سے مدینہ کی جانب رواں دواں تھا جب مدینہ پاک کی سرحد پر پہنچا تو سکیورٹی پر مامور پہرہ داروں نے اس قافلے کو روک لیا اور اسے چیک کیا جانے لگا ۔

قافلے والوں نے بڑی منتیں کیں کہ ہمارے قافلے کو جانے دیا جائے لیکن انہوں نے انکار کردیا اورکہا کہ جب تک آپ لوگ اپنے اونٹوں پر لدے سامان کی مکمل چیکنگ نہیں کرواتے گورنر مدینہ نے مدینہ منورہ میں داخل ہونے سے منع کیا ہے ۔بیسیوں اونٹوں کی چیکنگ کے بعد ایک اونٹ کو جب بٹھایا گیا اور اس پر لدے ایک صندوق کو کھولا تو اس میں سے جناب عبدالرحمن جامی چھپے ہوئے نکال لیے اورانہیں واپس عراق کی طرف ڈھکیل دیا گیا۔
👍1
حضرت عبدالرحمن جامی رحمہ اللہ علیہ بڑے غمگین ہوئے اور رونے لگے ۔ پھر دوبارہ عبدالرحمن جامی نے مدینہ کا قصد کیا اورایک بھیڑ بکریوں کے ریوڑ کے ساتھ چل پڑے ، موصل سے یہ بھیڑ بکریوں کا ریوڑ طائف کی طرف رواں دواں تھا علامہ جامی نے اس قافلے والے سے اجازت طلب کی کہ میں آپ کی ان بھیڑ بکریوں کی ساتھ حفاظت کروں گا آپ مجھے بھی ساتھ لے چلیں ۔

وہ قافلہ راضی ہوگیا اور علامہ جامی کو اپنے ساتھ لے آیا جب مدینہ کے قریب سرحد پر پہنچے تو آپ نے ایک بھیڑ کی کھال پہن کر سرحد کے دروازے سے مدینہ پاک میں داخل ہو رہے تھے کہ اچانک ایک نقاب پوش گھڑ سوار نے آپ کو پکڑ لیا اور لے کر گورنر کی سپرد کردیا اورگورنر نے انہیں قیدخانے میں ڈال دیا ۔

اسی رات گورنر مدینہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت نصیب ہوئی اورفرمایا کہ تم نے جامی کو قید میں کیوں ڈالا وہ کوئی مجرم نہیں ہے اسے فوراً رہا کرو کیوں کہ وہ صرف عاشق رسول ﷺ ہے ۔

اگر عبدالرحمن جامی مدینہ پاک میں داخل ہوگیا تو مجھے قانون قدرت کو توڑ کر اس کے ساتھ ہاتھ ملانے کے لیے روضہ انور سے باہر آنا پڑے گا ۔

ایک اور روایت کے مطابق عبدالرحمن جامی اس وفد کے لیڈر تھے جو کئی دن کی مسافت کے بعد روضہ رسول ﷺ پہ حاضری دینے کے لیے اپنے گھروں سے نکلے تھے۔ ان کا نام امام عبدالرحمٰن جامی رحمتہ اللہ علیہ تھا۔ جن کا نام آج بھی تاریخ میں عشق رسول ﷺ کے حوالے سے زندہ ہے۔

انہوں نے مدینہ سے باہر چند میل کے فاصلے پہ پڑا ڈالا۔ وہ سارا دن ادھر ہی رہے۔ قافلے والوں نے دیکھا کہ ایک گھڑ سوار ان کی طرف آ رہا ہے، گھڑ سوار ان کے درمیان میں پہنچا اور قافلے والوں سے پوچھا کہ تم میں سے جامی کون ہے؟ لوگوں نے امام کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ یہ امام عبدالرحمن جامی ہیں اور یہ ہمارے قافلے کے لیڈر ہیں اور گھڑ سوار جامی رحمتہ اللہ علیہ کی طرف مڑ گیا اور السلام علیکم کہا۔ جامی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا وعلیکم السلام! آپ کون ہیں ؟ کہاں سے آئے ہیں؟ اور کس لیے آئے ہیں؟ اس آنے والے گھڑ سوار (جو کہ شکل و صورت سے ایک صوفی معلوم ہوتا تھا)۔ نے کہا کہ میں مدینہ سے آیا ہوں۔

یہ الفاظ سننا تھے کہ حضرت جامی رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی پگڑی اتار کر اس گھڑ سوار آدمی کے قدموں میں رکھ دی اور فرمایا کہ میں ان قدموں پہ قربان جو میرے محبوب نبی پاکﷺ کے مقدس شہر سے آ رہے ہیں۔ جامی رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی بات جاری رکھی اور پوچھا کہ آپ یہاں کس مقصد سے تشریف لائے ہیں؟

آدمی کچھ دیر کے لیے خاموش رہا پھر جواب دیا کہ جامی رحمتہ اللہ علیہ مجھ سے وعدہ کرو جو کچھ میں تمہیں بتاوں گا تم اسے دل تھام کے سنو گے! جامی رحمتہ اللہ علیہ نے آہستہ آواز سے فرمایا کہ ٹھیک ہے۔ آدمی نے اپنی بات جاری کرتے ہوئے کہا کہ مجھے تمہارے پاس نبی آخر زماں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے بھیجا ہے۔

جامی رحمتہ اللہ علیہ نے اس کی بات کاٹتے ہوئے فرمایا کہ میرے آقا ﷺ نے کیا فرمایا ہے! آدمی نے کہا کہ نبی پاک نے آپ کو مدینہ شریف آنے سے اور ملاقات سے منع فرمایا ہے۔ یہ الفاظ جامی رحمتہ اللہ علیہ کے دل پر تیر کی طرح لگے اور آپ کا سر چکرانا شروع ہو گیا اور تھوڑی دیر بعد بے ہوش ہو کر زمین پر گر گئے۔

ان کے ساتھی یہ دیکھ کر پریشان ہو گئے کہ ان کے امام گزر گئے ہیں۔ لیکن کچھ گھنٹوں بعد آپ کو ہوش آ گیا ۔ آدمی ابھی ادھر ہی تھا۔ جامی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ مجھے بتا کہ کیوں میرے آقا ﷺ نے مجھے مدینہ شریف داخل ہونے سے روکا ہے!۔

میں نے کیا گناہ کیا ہے کہ میرے آقا ﷺ مجھ سے ناراض ہو گئے ہیں! آدمی نے جواب دیا کہ آقا ﷺ آپ سے ناراض نہیں ہیں بلکہ وہ تو آپ سے بے حد راضی ہیں۔تو پھر کیوں میرے آقا ﷺ نے مجھے مدینہ آنے سے روکا ۔ آدمی بولا کہ آقا ﷺ نے فرما یا ہے کہ جامی سے کہو کہ اگر وہ میرے لیے اپنے دل میں اتنی محبت لے کر مدینہ آیا تو یہ میرے لیے لازم ہو جائے گا کہ میں روضہ سے نکل کر خود استقبال کروں اور اس سے مصافحہ کروں۔ اس لیے جامی سے کہو کہ وہ مدینہ شریف میں داخل نہ ہو میں خود اس سے ملوں گا۔

جامی سے کہو کہ ادھر نہ آئے اور نہ مجھ سے ملے میں خود اس سے ملاقات کروں گا۔ یوں جامی دربار رسالت پہ حاضری دئیے بغیر حاضری کی خواہش اپنے دل میں لیے روتے ہوئے واپس لوٹ گئے۔

قارئین جانتے وہ کلام کون سا ہے جس کے متعلق یہ واقعہ پیش آیا وہ مشہور زمانہ کلام یہ ہے

تنم فرسودہ جاں پارہ زِھِجراں یا رسول اللہ

میرا جسم ناکارہ اور ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا ہے آپ کی جدائی میں،اے اللہ کے پیارے نبی

دِلم پژ مردہ آوارہ زِعصیاں یارسول اللہ

میرا دل بھٹک رہا اور دل کا پھول مرجھا چکا ہے گناہوں کہ بوجھ سے،اے اللہ کے پیارے نبی

چوں سوئے من گزر آرِی منِ مِسکیں زِ ناداری

کبھی خواب میں اپنا جلوہ دکھا دیں اس عاجِز مِسکین اور غریب نادار سائل کو

فِدائے نقشِ نعلینت کنم جاں یا رسول اللہ

( تو میں پھر آپ کے(جوتی کے)نقشِ پا پر فدا ہو جاں گا

اے اللہ کے پیارے نبی )۔
👍1
زِکردہ خویش حیرانم سِیاہ شد روز عِصیانم

میں نے جو کچھ کیا ہے بہت حیران ہوں روزِحساب میرا اعمال نامہ گناہوں کی بہتات سے سیاہ ہوگا

پشیمانم پشیمانم پشِیماں یا رسول اللہ۔۔

میں انتہائی پشیماں اور سخت شرمندہ ہوں پشیمان ہی پشیمان ہوں،اے اللہ کے پیارے نبی۔

زِجامِ حبِ تومستم بہ زنجیرِ تو دِل بستم۔۔

آپ کی محبت میں،میں مست ہوں آپ کے عشق کی زنجیر سے میرا دل بندھا ہوا ہے

نمی گویم کہ من ھستم سخن داں یا رسول اللہ

میں عاجز اور مِسکین کوئی دعوی نہیں کرتا کہ میں ایک بہت بڑا شاعرہوں،اے اللہ کے پیارے نبی

چوں بازوئے شفاعت را کشائی بر گناہ گاراں

جب روزِ قیامت آپ اپنی شفاعت کا بازو لمبا کرکے گناہ گاروں کے سر پر پھیلا دیں گے

مکن محرومِ جامی را درا آں یا رسول اللہ

اس روز اِس عاجز جامی کو محروم نہ رکھیے گا اس جان جوکھوں کی نازک گھڑی میں،اے اللہ کے پیارے نبی

اللہ کریم ہمیں بھی علامہ جامی کے عشق رسول کا صدقہ عطا فرمائے آمین بجاہ طہ و یس صلی اللہ علیہ وسلم
https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp

*از قلم✍🏻 نازش المدنی مرادآبادی۔*
*+91 83203 46510*
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
گوروں کا آکسفورڈ بمقابلہ شاہجہاں کا تاج محل۔
۔
لوگ کہتے ہیں جس وقت انگریز آکسفورڈ یونیورسٹی بنا رہے تھے اُس وقت شاہجہان بادشاہ اپنے محبوبہ کی یاد میں عظیم الشان محل "تاج محل "بنوارہا تھا ۔
۔
مسلمان بادشاہوں نے تعلیم کےلئے کوئی کردار ادا نہیں کیا سو بادشاہ اور مولوی علم دشمن ہیں ۔
۔
مولوی صاحب سے متعلق پروفیسر صاحب سے ایسی بات سننے کے بعد میرے سکولی بچے۔۔۔۔۔کالج دے مُنڈے حیران ہوجاتے ہیں کہ کیا واقعی ایسا ہے؟؟؟؟؟؟؟اگر ایسا ہے تو پھر انگریز بہت اچھے ہیں کہ اُنہوں نے انسانی فلاح وبہبود کےلئے بڑے کارنامے انجام دیئے، نت نئ تحقیقات سے دنیا کو روشناس کرایا ۔۔
۔
ایسی باتیں سننے کے بعد مسلمان اسٹوڈنٹس شرمانے کی بجائے فخر محسوس کرتے ہیں۔بے حیا پروفیسر اور منہ پھٹ صحافی کی چِکْنی چُپڑی باتوں میں آکر علمائے دین اور مسلمان بادشاہوں پر طنزیہ فقرے کستے ہیں۔
۔
سنو!!!! ہم بھی منہ میں زبان رکھتے ہیں میں آپ سے پوچھتا ہوں! انگریز کی تعلیم پاکر ذھنی غلام بننے والے صاحب ۔۔۔۔جب انگریز آکسفورڈ یونیورسٹی بنارہے تھے تو کیا شاہجہان کے محل کا نقشہ انگریز انجینئر تیار کررہے تھے؟
۔
کیا شاہجہان کے محل کی تعمیر کےلئے مٹیریل انگریزوں کے لگائ گئ فیکٹریوں سے آرہی تھی؟
۔
کیا شاہجہان کے محل کے مِعْمَار (بلڈر)انگریز تھے؟
۔
اُس عالیشان محل کو تعمیر کرنے والے مسلمان ہی تو تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔بتائیے انہوں نے اتنی عظیم تعلیم کس آکسفورڈ یونیورسٹی سے حاصل کی؟
۔
بات یہ ہے جن اقوام کے ہاتھ اقتدار کی طاقت نہ رہے اور وہ محکوم بن جائیں پھر اُن کی خوبیاں بھی خامیاں بن جاتی ہیں ایسے ہی مسلمانوں کے ساتھ ہوا کہ ایک سنہری تاریخ رکھنے کے باوجود بھی بدنام ہیں ۔
۔
انگریز اور اُس کی جمھوریت نے جب سے ہمارا اقتدار چھینا تب سے ہماری اصل تعلیم بھی چھن گئ ہے ۔
۔

✍️ ابوحاتم
21/03/2021/
نشرِ مکرّر
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
بالخصوص نیو مدارس بورڈ والے یہ کالم ضرور پڑھیں ۔
۔
عنوان :مُسْلْمَانانِ برّصغیر کے رُسوخْ فِیْ الْعِلْم کی کہانی تاجِ برطانیہ کے ایک سرکاری مُبَصّرْ کی زبانی ۔
۔
پروفیسر ڈاکٹر غلام یحيٰ اپنی کتاب دینی مدارس اور عہدِ حاضر کے تقاضے صفحہ 6/7 پر برطانوی دور کے مشہور مُبَصّرْ (civel servant) سر ولیم ہنٹر کی کتاب (The indien Musalmans :Trubne and Company) کے حوالے سے مُسَلْمانانِ برصغیر کے متعلق لکھتے ہیں ۔
ترجمہ ۔
۔
ہندستانی مسلم! ہندوستان پر ہمارے اقتدار سے پہلے بھی نہ صرف سیاسی طور پر بلکہ علمی طور پر بھی طاقت ور قوت کی حیثیت رکھتے تھے ۔مجھے یہ کہنے میں رکاوٹ نہیں ہے کہ اُن کا نظامِ تعلیم ہمارے نظامِ تعلیم سے کئ گنا بہتر تھا ۔ہم جتنا بھی اِس حقیقت کو جھٹلائیں نہیں جھٹلا سکتے کہ مسلم سماج علمی اور فکری تربیت کے ایسے اصولوں پر مبنی تھا کہ ایک تو اِس سے شخصیت میں نکھار پیدا ہوتا اور دوسرا وہ کسی بھی لحاظ سے غیر معتبر نہیں تھا ۔ہاں البتہ میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ اُن کی طرزِ زیست میں (زندگی میں) کوئی تَعَیُّشْ نہیں تھا ۔تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود اُن کی زندگی میں سادگی تھی ۔۔
۔
مسلم نظامِ تعلیم ہندُسْتان کے دیگر نظام ہائے تعلیم کی بہ نسبت غیر معمولی طور پر اعلیٰ اور قدرِ بہتر تھا ۔یہ ایک ایسا نظامِ تعلیم تھا جس سے نہ صرف اُنہیں علمی فوائد مُیَسّرْ آتے تھے بلکہ دیناوی بالادستی کا حصول بھی اُن کےلئے ممکن تھا ۔
۔
قارئینِ محترم! بتائیے کہ انگریزوں سے پہلے برصغیر میں کون سے سکول اور کالج قائم تھے؟ ۔
۔
کیا انگریزوں کی آمد سے پہلے مسلمان اپنے بچوں کو پڑھانے کےلئے آکسفورڈ یونیورسٹی سے فارغ التحصیل انگریزوں کو ٹیچرز مقرر کرتے تھے کہ سر ولیم ہنٹر کی مطابق مسلمانوں کی نظامِ تعلیم بہتر تھی ۔۔۔۔۔۔۔ایسا کچھ بھی نہیں تھا بلکہ مسلمان تمام علوم وفنون مسجد ومدرسہ سے ہی سیکھتے تھے ۔مدرسہ کی چٹائ پر بیٹھ کر پڑھانے والا عالم دین ہی ماہر فنون ہوا کرتا تھا۔
۔
مجھے افسوس ہوتا ہے اُن مذہبی رہنماؤں پر جو زبان سے کہہ رہے ہوتے ہیں "البرکۃ مع اکابرکم " لیکن عملی طور پر اِس کا الٹ کرتے ہیں ۔اکابرین کی نظامِ تعلیم چھوڑ کر اپنی پسندیدہ نظامِ تعلیم یا پھر علی گڑھی ماہرینِ تعلیم کو فالو کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔
✍️ابو حاتم۔
02/01/2021/
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
28-06-1443 | 01-02-2022
29-06-1443 | 02-02-2022
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
حضرت سیدنا لوط علیہ السلام
یوم وصال ۲۹ جمادی الثانی
https://scholar.ziaetaiba.com/ur/biography/holy-prophet-hazrat-loot-1
سوانح حیات یہاں↑پڑھیں!
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM