Forwarded from فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
*📚 « امجــــدی مضــــامین » 📚*
-----------------------------------------------------------
*🕯علامہ جامی کا عشق رسول ﷺ🕯*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
📬 عشق رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کے باب میں امام عاشقاں غزالی دوراں حضرت علامہ الشاہ عبدالر حمٰن جامی رحمۃ ﷲ علیہ کا نام نہایت ہی معروف و مشہور نام ہے کیوں کہ آپ علیہ الرحمہ کی مکمل زندگی شمع عشق رسالت صلی اللہ علیہ وسلم سے روشن و تاباں تھی۔
آپ علیہ الرحمہ سچے عاشق رسول صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم تھے ۔آپ نے جس والہانہ انداز سے بارگاہ رسالت صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم میں ہدیۂ نعت پیش کیا ہے ، اس بات کا اندازہ آپ علیہ الرحمہ کے اشعار سے کیا جاسکتا ہے ۔آپ رحمۃ اﷲ علیہ کا نعتیہ کلام اگرچہ عشق رسول صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔
لیکن نثر میں بھی آپ نے اپنے عشق و محبت کا اظہار کیا ہے ۔ سیرت رسول صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم پر آپ کی جامع کتاب ’’شواہدۃ النبوۃ‘‘ ہے ، جس کا ہر لفظ ہر ہر حرف اور ہر ہر جملہ آپ کے عشق رسول صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کا عکاس ہے ۔ عشق رسول صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کا تقاضا یہ بھی ہے کہ حضور صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کی نسبت جس چیز سے ہو اس سے محبت کی جاے
چناں چہ صحابہ کرام علیہم الرضوان اور اہل بیت اطہار علیہم السلام کا ذکر خیر بھی دل نشیں انداز میں کیا جاے ۔ اہل بیت ِاطہار علیہم السلام سے بطورِ خاص محبت کا اظہار آپ کی کتاب ’’بارہ امام‘‘ سے بھی ہوتا ہے
علامہ منشا تابش قصوری لکھتے ہیں: حضرت شاہ محمد ہاشم رحمۃ اﷲ علیہ ’’جامع الشواہد‘‘ میں تحریر فرماتے ہیں۔ ’’ماہ ربیع الاوّل کی ایک پر کیف اور نورانی رات میں امام العاشقین حضرت علامہ عبدالرحمنٰ جامی قدس سرہ السامی نے ایک روح پرور اور ایمان افروز خواب دیکھا کہ محراب النبی صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کے قریب حبیب کبریا جناب احمد مجتبیٰ محمد مصطفیٰ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم جلوہ افروز ہیں، ذکر و اذکار اور حمد ونعت کا سلسلہ جاری ہے ۔
حضرت جامی رحمۃ اﷲ علیہ بھی چند نعتیہ اشعار پیش کرتے ہیں، جنہیں سرکار ابد قرار صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم منظور فرماتے ہیں۔ جب آنکھ کھلی تو جامی رحمۃ اﷲ علیہ پر وجد و سرور کی کیفیت طاری تھی ،عالم جذب میں فرمانے لگے ’’وہ نورانی رخ زیبا جو چاند سے زیادہ حسین اور روشن ہے ، جب جبینِ مقدس سے ، آپ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے موئے مبارک کو ہٹایا تو سراج منیر کی تجلیاں نمودار ہونی لگیں‘‘۔
اس کے بعد جب جامی رحمۃ اﷲ علیہ کا اپنے وطن آنا ہوا تو بے تابی کے عالم میں پکارنے لگے
نسیما جانب بطحا گزر کن
ز احوالم محمد را خبر کن
ببر ایں جان مشتاقم در آنجا
فدائے روضۂ خیر البشر کن
توئی سلطان عالم یا محمد صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم
ز روئے لطف سوئے من نظر کن
مشرف گرچہ شد جامی
زلطفش خدایا ایں کرم بار دگر کن
جامی رحمۃ اﷲ علیہ بیان کرتے ہیں کہ ایک ہفتہ بھی گزرنے نہیں پایا تھا کہ انہیں آپ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے پھر زیارت سے مشرف فرمایا۔ (اغثنی یا رسول اﷲ ،صفحہ 17,18)۔
نیز حضرت علامہ عبدالرحمنٰ جامی رحمۃ اﷲ علیہ وہ عاشق رسول صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم ہیں جن کو بارگاہ رسالت میں شرف قبولیت حاصل ہے
ایک نعت شریف لکھنے کے بعد جب حج کے لیے تشریف لے گئے تو ان کا ارادہ یہ تھا کہ روضہ اقدس کے پاس کھڑے ہوکر اس نعت پاک کو حضور پاک کے سامنے پیش کریں گے ۔
چناں چہ حج بیت اللہ شریف کے لیے تشریف لے گئے اورحج سے فارغ ہوکر مدینہ منورہ کی حاضری کا ارادہ کیا تو امیر مکہ کو خواب میں نبی کریم رؤوف الرحیم کی زیارت نصیب ہوئی ۔آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ امیر مدینہ تم سوئے ہوئے ہو جاگو اور اس شخص کو یعنی حضرت عبدالرحمن جامی کو مدینہ طیبہ کی جانب آنے سے روکو ۔ چناں چہ گورنر مدینہ نے تمام سرحدوں پر پہرے لگادیئے ۔
حضرت عبدالرحمن جامی بڑے پائے کے عاشق رسولﷺ تھے ۔ ان کے دل پر عشق نبی کریمﷺ اس قدر غالب تھا کہ چھپ کر مدینہ طیبہ کی جانب چل پڑے ۔ترکی سے آنے والے قافلے کو اپنے ساتھ لے جانے کو کہا پہلے تو قافلے نے انکار کردیا لیکن پھر چند سکوں کے عوض انہیں مدینہ پاک ساتھ لے جانے پر رضا مند ہوگئے اورعبدالرحمن جامی علیہ الرحمہ کو ایک اونٹ پر موجود صندوق میں بند کردیا ۔
جب یہ اونٹوں کاقافلہ جو کہ ترکی سے مدینہ کی جانب رواں دواں تھا جب مدینہ پاک کی سرحد پر پہنچا تو سکیورٹی پر مامور پہرہ داروں نے اس قافلے کو روک لیا اور اسے چیک کیا جانے لگا ۔
قافلے والوں نے بڑی منتیں کیں کہ ہمارے قافلے کو جانے دیا جائے لیکن انہوں نے انکار کردیا اورکہا کہ جب تک آپ لوگ اپنے اونٹوں پر لدے سامان کی مکمل چیکنگ نہیں کرواتے گورنر مدینہ نے مدینہ منورہ میں داخل ہونے سے منع کیا ہے ۔بیسیوں اونٹوں کی چیکنگ کے بعد ایک اونٹ کو جب بٹھایا گیا اور اس پر لدے ایک صندوق کو کھولا تو اس میں سے جناب عبدالرحمن جامی چھپے ہوئے نکال لیے اورانہیں واپس عراق کی طرف ڈھکیل دیا گیا۔
-----------------------------------------------------------
*🕯علامہ جامی کا عشق رسول ﷺ🕯*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
📬 عشق رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کے باب میں امام عاشقاں غزالی دوراں حضرت علامہ الشاہ عبدالر حمٰن جامی رحمۃ ﷲ علیہ کا نام نہایت ہی معروف و مشہور نام ہے کیوں کہ آپ علیہ الرحمہ کی مکمل زندگی شمع عشق رسالت صلی اللہ علیہ وسلم سے روشن و تاباں تھی۔
آپ علیہ الرحمہ سچے عاشق رسول صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم تھے ۔آپ نے جس والہانہ انداز سے بارگاہ رسالت صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم میں ہدیۂ نعت پیش کیا ہے ، اس بات کا اندازہ آپ علیہ الرحمہ کے اشعار سے کیا جاسکتا ہے ۔آپ رحمۃ اﷲ علیہ کا نعتیہ کلام اگرچہ عشق رسول صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔
لیکن نثر میں بھی آپ نے اپنے عشق و محبت کا اظہار کیا ہے ۔ سیرت رسول صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم پر آپ کی جامع کتاب ’’شواہدۃ النبوۃ‘‘ ہے ، جس کا ہر لفظ ہر ہر حرف اور ہر ہر جملہ آپ کے عشق رسول صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کا عکاس ہے ۔ عشق رسول صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کا تقاضا یہ بھی ہے کہ حضور صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کی نسبت جس چیز سے ہو اس سے محبت کی جاے
چناں چہ صحابہ کرام علیہم الرضوان اور اہل بیت اطہار علیہم السلام کا ذکر خیر بھی دل نشیں انداز میں کیا جاے ۔ اہل بیت ِاطہار علیہم السلام سے بطورِ خاص محبت کا اظہار آپ کی کتاب ’’بارہ امام‘‘ سے بھی ہوتا ہے
علامہ منشا تابش قصوری لکھتے ہیں: حضرت شاہ محمد ہاشم رحمۃ اﷲ علیہ ’’جامع الشواہد‘‘ میں تحریر فرماتے ہیں۔ ’’ماہ ربیع الاوّل کی ایک پر کیف اور نورانی رات میں امام العاشقین حضرت علامہ عبدالرحمنٰ جامی قدس سرہ السامی نے ایک روح پرور اور ایمان افروز خواب دیکھا کہ محراب النبی صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کے قریب حبیب کبریا جناب احمد مجتبیٰ محمد مصطفیٰ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم جلوہ افروز ہیں، ذکر و اذکار اور حمد ونعت کا سلسلہ جاری ہے ۔
حضرت جامی رحمۃ اﷲ علیہ بھی چند نعتیہ اشعار پیش کرتے ہیں، جنہیں سرکار ابد قرار صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم منظور فرماتے ہیں۔ جب آنکھ کھلی تو جامی رحمۃ اﷲ علیہ پر وجد و سرور کی کیفیت طاری تھی ،عالم جذب میں فرمانے لگے ’’وہ نورانی رخ زیبا جو چاند سے زیادہ حسین اور روشن ہے ، جب جبینِ مقدس سے ، آپ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے موئے مبارک کو ہٹایا تو سراج منیر کی تجلیاں نمودار ہونی لگیں‘‘۔
اس کے بعد جب جامی رحمۃ اﷲ علیہ کا اپنے وطن آنا ہوا تو بے تابی کے عالم میں پکارنے لگے
نسیما جانب بطحا گزر کن
ز احوالم محمد را خبر کن
ببر ایں جان مشتاقم در آنجا
فدائے روضۂ خیر البشر کن
توئی سلطان عالم یا محمد صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم
ز روئے لطف سوئے من نظر کن
مشرف گرچہ شد جامی
زلطفش خدایا ایں کرم بار دگر کن
جامی رحمۃ اﷲ علیہ بیان کرتے ہیں کہ ایک ہفتہ بھی گزرنے نہیں پایا تھا کہ انہیں آپ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے پھر زیارت سے مشرف فرمایا۔ (اغثنی یا رسول اﷲ ،صفحہ 17,18)۔
نیز حضرت علامہ عبدالرحمنٰ جامی رحمۃ اﷲ علیہ وہ عاشق رسول صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم ہیں جن کو بارگاہ رسالت میں شرف قبولیت حاصل ہے
ایک نعت شریف لکھنے کے بعد جب حج کے لیے تشریف لے گئے تو ان کا ارادہ یہ تھا کہ روضہ اقدس کے پاس کھڑے ہوکر اس نعت پاک کو حضور پاک کے سامنے پیش کریں گے ۔
چناں چہ حج بیت اللہ شریف کے لیے تشریف لے گئے اورحج سے فارغ ہوکر مدینہ منورہ کی حاضری کا ارادہ کیا تو امیر مکہ کو خواب میں نبی کریم رؤوف الرحیم کی زیارت نصیب ہوئی ۔آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ امیر مدینہ تم سوئے ہوئے ہو جاگو اور اس شخص کو یعنی حضرت عبدالرحمن جامی کو مدینہ طیبہ کی جانب آنے سے روکو ۔ چناں چہ گورنر مدینہ نے تمام سرحدوں پر پہرے لگادیئے ۔
حضرت عبدالرحمن جامی بڑے پائے کے عاشق رسولﷺ تھے ۔ ان کے دل پر عشق نبی کریمﷺ اس قدر غالب تھا کہ چھپ کر مدینہ طیبہ کی جانب چل پڑے ۔ترکی سے آنے والے قافلے کو اپنے ساتھ لے جانے کو کہا پہلے تو قافلے نے انکار کردیا لیکن پھر چند سکوں کے عوض انہیں مدینہ پاک ساتھ لے جانے پر رضا مند ہوگئے اورعبدالرحمن جامی علیہ الرحمہ کو ایک اونٹ پر موجود صندوق میں بند کردیا ۔
جب یہ اونٹوں کاقافلہ جو کہ ترکی سے مدینہ کی جانب رواں دواں تھا جب مدینہ پاک کی سرحد پر پہنچا تو سکیورٹی پر مامور پہرہ داروں نے اس قافلے کو روک لیا اور اسے چیک کیا جانے لگا ۔
قافلے والوں نے بڑی منتیں کیں کہ ہمارے قافلے کو جانے دیا جائے لیکن انہوں نے انکار کردیا اورکہا کہ جب تک آپ لوگ اپنے اونٹوں پر لدے سامان کی مکمل چیکنگ نہیں کرواتے گورنر مدینہ نے مدینہ منورہ میں داخل ہونے سے منع کیا ہے ۔بیسیوں اونٹوں کی چیکنگ کے بعد ایک اونٹ کو جب بٹھایا گیا اور اس پر لدے ایک صندوق کو کھولا تو اس میں سے جناب عبدالرحمن جامی چھپے ہوئے نکال لیے اورانہیں واپس عراق کی طرف ڈھکیل دیا گیا۔
👍1