Forwarded from ️مسلم انسٹیٹیوٹ
سائنس وٹیکنالوجی اور مسلمان سلاطین 👑
۔
انگریزی تہذیب سے متاثر کئ سارے کلمہ گو مسلمان اپنی مُسَلْمَانِیت پر شرماتے ہیں کہ ہمارے مسلم سلاطین کے زمانے میں سائنسی ترقیاں کیوں نہیں ہوئیں ؟پہلے یہ تعداد صرف مذہبی تعلیم سے دور رہنے والے مسلمانوں تک محدود تھی لیکن اب بہت سارے مذھبی تعلیم یافتہ مسلمان بھی اِس مکروہ صف میں کھڑے ہوچکے ہیں ۔بات بات پر سلف پر طعن وتشنیع کرنا اُن کا وطیرہ بن چکا ہے (عادت بن چکی ہے)
۔
جدید تہذیب والے لوگ پوچھتے ہیں کہ مسلمان کم وبیش ایک ہزار سال تک سلطنتوں کے مالک رہے۔ مسلمان بادشاہوں کے دور میں سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبے ترقیاں کیوں نہیں ہوئیں ؟
۔
اِس سوال کے دو جواب ہیں ۔۔۔۔
نمبر 1 ۔۔۔
الزامی جواب۔۔۔۔۔ مسلمان بادشاہوں کے ساتھ دیگر اقوام یعنی انگریز، ہندو، سکھ یا دیگر کمیونٹی کے افراد بھی دنیا کے کئ علاقوں کے بادشاہ تھے تو اُن غیر مسلم سلاطین نے اُس وقت اِس موجودہ زمانے کی ٹیکنالوجی متعارف کیوں نہیں کرائ ؟
۔
تحقیقی جواب ۔
فطرتی اصول ہے "کُلُّ شَیْئٍ مَرْھُوْنٌ بِاَوْقَاتِھَا" اردو میں کہتے ہیں ہر شئ کا ایک وقت مقرر ہے ۔
۔
انسانی ذھن نے علوم میں بتدیج ترقی پائ ۔ہر زمانہ میں وقت کے حساب سے نت نئ چیزیں دریافت ہوتی رہیں۔
۔
اِس وقت دنیا میں انگریزوں کا راج ہے ۔کہیں صدارتی تو کہیں جمھوری نظام کے نام پر دراصل گورنمنٹ انگریزوں کی ہے ۔باقی سارے لوگ اُن کے باج گزار ہیں ۔۔۔۔
۔
اگر آج دنیا میں مسلمان بادشاہوں کی حکومت ہوتی تو سائنس وٹیکنالوجی کے شعبے میں بھی مسلمانوں کی راج ہوتی ۔۔۔۔۔
۔
یقین نہیں آتا تو پڑھئے وائس آف امریکہ کے ایک کالم کا یہ رپورٹ ۔۔۔۔۔۔۔
۔
ٹیپو سلطان 1782 میں میسور کے حکمران بنے۔ انہیں تاریخی طور پر ’شیرِ میسور‘ بھی کہا جاتا ہے۔ ٹیپو سلطان کے دورِ حکومت کو جنگ میں ٹیکنالوجی کے استعمال اور انتطامی سطح پر کئی نئے تصورات متعارف کرانے کے لیے یادگار تصور کیا جاتا ہے۔
۔
برصغیر میں ٹیپو سلطان کو جنگ میں راکٹ کے استعمال کا بانی قرار دیا جاتا ہے۔ سن 1780 اور 1790 میں ٹیپو سلطان نے برطانیہ سے ہونے والی جنگوں میں راکٹوں کا استعمال کیا تھا۔
۔
مؤرخین کے مطابق ٹیپو سلطان کو باغبانی اور زراعت سے خاص دلچسپی تھی اور انہوں نے بنگلور میں 40 ایکڑ پر پھیلا ہوا لال باغ بنایا تھا۔ اراضی کے انتظام سے متعلق سلطان کے قوانین کی وجہ سے میسور میں ریشم کی صنعت کو فروغ ملا اور یہ ریاست ایک اہم معاشی مرکز میں تبدیل ہو گئی تھی۔
۔
رپورٹ کے اِس حصہ کو بغور پڑھئے پھر سوچئے کہ ٹیپو سلطان نے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کہاں سے سیکھا؟
ٹیپو کے زمانے میں انگریزی اسکولیں نہیں تھیں۔اور نہ ہی ٹیپو تعلیم حاصل کرنے آکسفورڈ گیا ۔پھر بھی جنگ میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال ۔کیا شان تھی مسلمان مدارس کی جہاں ہر قسم کی تعلیم دی جاتی تھی جسکی بناپر ٹیپو میسور کا سلطان بنا ۔۔۔۔۔
۔
ٹیپو نے کسی انگریز سائنس دان تھے کی مدد سے جنگ میں راکٹ کا استعمال نہیں کیا ۔ٹیپو نے کسی انگریز ایگریکلچر ماہر کو باغباں مقرر نہیں کیا ۔۔۔۔میسور میں ریشم کی صنعت میں ترقی انگریزوں کی مہربانی کا صدقہ نہیں تھی ۔بلکہ یہ سب کچھ اسلامی مدارس کی اصل تعلیم کی بدولت تھی ۔
۔
مدارس کے منتظمین کےلئے سوچنے کی بات ہے۔ورلڈبینک اور دیگر سودی اداروں کی بوجھ تلی گورنمنٹوں کی باتیں مان کر نئے نئے نظام متعارف کرنے، نئے تجربات کرکے مسلمان بچوں کی زندگی کو تختہ مشق بنانے سے ترقیاں ہرگز نہیں ملیں گی ۔ مدارس میں اصل اسلامی تعلیم کو بحال کریں تو ٹیپو جیسی شخصیات آج بھی پیدا ہوسکتی ہیں ۔۔۔
۔
اس موضوع سے متعلق پڑھئے ہمارے دو اور کالم
"گوروں کا آکسفورڈ بمقابلہ شاہجہاں کا تاج محل"
۔
"مُسْلْمَانانِ برّصغیر کے رُسوخْ فِیْ الْعِلْم کی کہانی تاجِ برطانیہ کے ایک سرکاری مُبَصّرْ کی زبانی"
✍️ ابو حاتم
31/01/2022/
۔
انگریزی تہذیب سے متاثر کئ سارے کلمہ گو مسلمان اپنی مُسَلْمَانِیت پر شرماتے ہیں کہ ہمارے مسلم سلاطین کے زمانے میں سائنسی ترقیاں کیوں نہیں ہوئیں ؟پہلے یہ تعداد صرف مذہبی تعلیم سے دور رہنے والے مسلمانوں تک محدود تھی لیکن اب بہت سارے مذھبی تعلیم یافتہ مسلمان بھی اِس مکروہ صف میں کھڑے ہوچکے ہیں ۔بات بات پر سلف پر طعن وتشنیع کرنا اُن کا وطیرہ بن چکا ہے (عادت بن چکی ہے)
۔
جدید تہذیب والے لوگ پوچھتے ہیں کہ مسلمان کم وبیش ایک ہزار سال تک سلطنتوں کے مالک رہے۔ مسلمان بادشاہوں کے دور میں سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبے ترقیاں کیوں نہیں ہوئیں ؟
۔
اِس سوال کے دو جواب ہیں ۔۔۔۔
نمبر 1 ۔۔۔
الزامی جواب۔۔۔۔۔ مسلمان بادشاہوں کے ساتھ دیگر اقوام یعنی انگریز، ہندو، سکھ یا دیگر کمیونٹی کے افراد بھی دنیا کے کئ علاقوں کے بادشاہ تھے تو اُن غیر مسلم سلاطین نے اُس وقت اِس موجودہ زمانے کی ٹیکنالوجی متعارف کیوں نہیں کرائ ؟
۔
تحقیقی جواب ۔
فطرتی اصول ہے "کُلُّ شَیْئٍ مَرْھُوْنٌ بِاَوْقَاتِھَا" اردو میں کہتے ہیں ہر شئ کا ایک وقت مقرر ہے ۔
۔
انسانی ذھن نے علوم میں بتدیج ترقی پائ ۔ہر زمانہ میں وقت کے حساب سے نت نئ چیزیں دریافت ہوتی رہیں۔
۔
اِس وقت دنیا میں انگریزوں کا راج ہے ۔کہیں صدارتی تو کہیں جمھوری نظام کے نام پر دراصل گورنمنٹ انگریزوں کی ہے ۔باقی سارے لوگ اُن کے باج گزار ہیں ۔۔۔۔
۔
اگر آج دنیا میں مسلمان بادشاہوں کی حکومت ہوتی تو سائنس وٹیکنالوجی کے شعبے میں بھی مسلمانوں کی راج ہوتی ۔۔۔۔۔
۔
یقین نہیں آتا تو پڑھئے وائس آف امریکہ کے ایک کالم کا یہ رپورٹ ۔۔۔۔۔۔۔
۔
ٹیپو سلطان 1782 میں میسور کے حکمران بنے۔ انہیں تاریخی طور پر ’شیرِ میسور‘ بھی کہا جاتا ہے۔ ٹیپو سلطان کے دورِ حکومت کو جنگ میں ٹیکنالوجی کے استعمال اور انتطامی سطح پر کئی نئے تصورات متعارف کرانے کے لیے یادگار تصور کیا جاتا ہے۔
۔
برصغیر میں ٹیپو سلطان کو جنگ میں راکٹ کے استعمال کا بانی قرار دیا جاتا ہے۔ سن 1780 اور 1790 میں ٹیپو سلطان نے برطانیہ سے ہونے والی جنگوں میں راکٹوں کا استعمال کیا تھا۔
۔
مؤرخین کے مطابق ٹیپو سلطان کو باغبانی اور زراعت سے خاص دلچسپی تھی اور انہوں نے بنگلور میں 40 ایکڑ پر پھیلا ہوا لال باغ بنایا تھا۔ اراضی کے انتظام سے متعلق سلطان کے قوانین کی وجہ سے میسور میں ریشم کی صنعت کو فروغ ملا اور یہ ریاست ایک اہم معاشی مرکز میں تبدیل ہو گئی تھی۔
۔
رپورٹ کے اِس حصہ کو بغور پڑھئے پھر سوچئے کہ ٹیپو سلطان نے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کہاں سے سیکھا؟
ٹیپو کے زمانے میں انگریزی اسکولیں نہیں تھیں۔اور نہ ہی ٹیپو تعلیم حاصل کرنے آکسفورڈ گیا ۔پھر بھی جنگ میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال ۔کیا شان تھی مسلمان مدارس کی جہاں ہر قسم کی تعلیم دی جاتی تھی جسکی بناپر ٹیپو میسور کا سلطان بنا ۔۔۔۔۔
۔
ٹیپو نے کسی انگریز سائنس دان تھے کی مدد سے جنگ میں راکٹ کا استعمال نہیں کیا ۔ٹیپو نے کسی انگریز ایگریکلچر ماہر کو باغباں مقرر نہیں کیا ۔۔۔۔میسور میں ریشم کی صنعت میں ترقی انگریزوں کی مہربانی کا صدقہ نہیں تھی ۔بلکہ یہ سب کچھ اسلامی مدارس کی اصل تعلیم کی بدولت تھی ۔
۔
مدارس کے منتظمین کےلئے سوچنے کی بات ہے۔ورلڈبینک اور دیگر سودی اداروں کی بوجھ تلی گورنمنٹوں کی باتیں مان کر نئے نئے نظام متعارف کرنے، نئے تجربات کرکے مسلمان بچوں کی زندگی کو تختہ مشق بنانے سے ترقیاں ہرگز نہیں ملیں گی ۔ مدارس میں اصل اسلامی تعلیم کو بحال کریں تو ٹیپو جیسی شخصیات آج بھی پیدا ہوسکتی ہیں ۔۔۔
۔
اس موضوع سے متعلق پڑھئے ہمارے دو اور کالم
"گوروں کا آکسفورڈ بمقابلہ شاہجہاں کا تاج محل"
۔
"مُسْلْمَانانِ برّصغیر کے رُسوخْ فِیْ الْعِلْم کی کہانی تاجِ برطانیہ کے ایک سرکاری مُبَصّرْ کی زبانی"
✍️ ابو حاتم
31/01/2022/
👍1