This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
قراٰنِ حکیم وہ کتاب ہے جسے اس کائنات کے خالق و مالک نے اشرف الانبیاء حضرت محمد صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم پر نازل فرمایا۔ قراٰنِ پاک کی تلاوت کے بےشمار فضائل ہیں ۔
قراٰن پاک میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: وَ نُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا هُوَ شِفَآءٌ وَّ رَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَۙ-
ترجمۂ کنز الایمان: اور ہم قرآن میں اتارتے ہیں وہ چیز جو ایمان والوں کے لیے شفا اور رحمت ہے۔(پ15،بنی اسرآءیل:82)
قراٰنِ کریم میں ربِّ کعبہ نے خود فرمایا کہ قراٰن رحمت اور شفاء ہے۔ آج ہمارا کیا حال ہے؟ ہم بیماریوں کی دوا کرنے کے لئے طبیبوں (ڈاکٹروں) کے پاس تو جاتے ہیں لیکن قراٰن پاک پڑھتے تو کیا کھول کردیکھتے بھی نہیں ہیں، ہمیں دوا کے ساتھ ساتھ تلاوت قراٰن سے بھی لازمی برکتیں لینی چاہئیں۔ ہمیں غور کرنا چاہئے کہ آج ہمارے گھر میں بیماریاں اور پریشانیاں قراٰن کی تلاوت نہ کرنے کے سبب تو نہیں؟
ارشادِ باری تعالیٰ ہے: شِفَآءٌ لِّمَا فِی الصُّدُوْرِۙ۬-
ترجمۂ کنزالایمان:(قراٰن) دلوں کی صحت (پ11،یونس:57)
قراٰن دلوں کا سکون ہے، قراٰن دلوں کا چین ہے، قراٰن کی تلاوت کرنے سے بیماریوں سے شفا ملتی ہے نیز احادث مبارکہ میں بھی قراٰن کی تلاوت کے بے شمار فضائل ذکر کئے گئے جیساکہ بیھقی شریف کی ایک حدیثِ مبارکہ ہے: نبیِّ کریم علیہ السَّلام نے ارشاد فرمایا: قراٰن کریم کی تلاوت اور اللہ تعالیٰ کے ذکر کا اہتمام کیا کرو اس عمل سے آسمانوں میں تمہارا ذکر ہوگا اور یہ عمل زمین میں تمہارے لئے ہدایت کا نور ہوگا۔(بیھقی)
اب قراٰنِ پاک کی تلاوت کے فضائل پر فرضی حکایت پیش کی جاتی ہے:
اسد بہت بیمار رہنے لگا تھا، بہت سے ڈاکٹروں سے علاج کروایا مگر افاقہ نہ ہوا شب و روز گزرتے گئے اس کی بیماری میں اضافہ ہوتا گیا اور اس کی پڑھائی کا بھی کافی نقصان ہورہا تھا اس کے والدین بہت پریشان رہنے لگے کہ آیا ہم کیا کریں کہ ہمارا بیٹا پھر صحت مند ہوجائے اور پڑھائی کے میدان میں قدم رکھے ۔ اسد بھی بہت دعائیں کرتا تھا۔ آخر کار اس کی دعائیں رنگ لے آئیں۔ ہوا کچھ یوں کہ اسد کا ایک دوست جوکہ اس کا پڑوسی بھی تھا وہ دعوتِ اسلامی کے جامعہ میں عالم بن رہا تھا اس نے اسد سے کہا کہ آپ سورۃ الفاتحہ پڑھا کریں کیونکہ سورۃ الفاتحہ ہر طرح کی جسمانی اور روحانی بیماریوں کی دوا ہے۔ اسد نے بلاناغہ ہر روز سورۃ الفاتحہ کی تلاوت کرنا شروع کردیا اور اللہ کے فضل و کرم سے وہ دوبارہ سے تندرست ہوگیا بس یہی نہیں اسد نے اپنا اسکول چھوڑ کر جامعۃ المدینہ میں داخلہ لے لیا اور دین کی تعلیم حاصل کرنے لگا۔
دیکھا آپ نے اسد کو کس طرح سورۃ الفاتحہ کی تلاوت کی برکت سے شفا ملی، ہمیں بھی چاہئے کہ قراٰن کی تلاوت کا معمول بنائیں اور ہر پریشانی و مشکلات میں قراٰن سے مدد لیں۔
اب قراٰن کی تلاوت کے وہ فضائل بیان کئے جاتے ہیں احادیث سے ثابت ہیں(بحوالہ تفسیر نعیمی):
حدیث شریف میں ہے: جس گھر میں روزانہ سورۃ البقرۃ پڑھی جائے وہ گھر شیطان سے محفوظ رہتا ہے۔
سورۃ الواقعہ جو شخص ہر رات پڑھا کرے اللہ کے فضل سے کبھی فاقہ نہ ہوگا۔
الہٰی خوب دے دے شوق قراٰن کی تلاوت کا
شرف دے گنبدِ خضرا کے سائے میں شہادت کا
#QuranePak #UrduTahrerOfficial
قراٰن پاک میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: وَ نُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا هُوَ شِفَآءٌ وَّ رَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَۙ-
ترجمۂ کنز الایمان: اور ہم قرآن میں اتارتے ہیں وہ چیز جو ایمان والوں کے لیے شفا اور رحمت ہے۔(پ15،بنی اسرآءیل:82)
قراٰنِ کریم میں ربِّ کعبہ نے خود فرمایا کہ قراٰن رحمت اور شفاء ہے۔ آج ہمارا کیا حال ہے؟ ہم بیماریوں کی دوا کرنے کے لئے طبیبوں (ڈاکٹروں) کے پاس تو جاتے ہیں لیکن قراٰن پاک پڑھتے تو کیا کھول کردیکھتے بھی نہیں ہیں، ہمیں دوا کے ساتھ ساتھ تلاوت قراٰن سے بھی لازمی برکتیں لینی چاہئیں۔ ہمیں غور کرنا چاہئے کہ آج ہمارے گھر میں بیماریاں اور پریشانیاں قراٰن کی تلاوت نہ کرنے کے سبب تو نہیں؟
ارشادِ باری تعالیٰ ہے: شِفَآءٌ لِّمَا فِی الصُّدُوْرِۙ۬-
ترجمۂ کنزالایمان:(قراٰن) دلوں کی صحت (پ11،یونس:57)
قراٰن دلوں کا سکون ہے، قراٰن دلوں کا چین ہے، قراٰن کی تلاوت کرنے سے بیماریوں سے شفا ملتی ہے نیز احادث مبارکہ میں بھی قراٰن کی تلاوت کے بے شمار فضائل ذکر کئے گئے جیساکہ بیھقی شریف کی ایک حدیثِ مبارکہ ہے: نبیِّ کریم علیہ السَّلام نے ارشاد فرمایا: قراٰن کریم کی تلاوت اور اللہ تعالیٰ کے ذکر کا اہتمام کیا کرو اس عمل سے آسمانوں میں تمہارا ذکر ہوگا اور یہ عمل زمین میں تمہارے لئے ہدایت کا نور ہوگا۔(بیھقی)
اب قراٰنِ پاک کی تلاوت کے فضائل پر فرضی حکایت پیش کی جاتی ہے:
اسد بہت بیمار رہنے لگا تھا، بہت سے ڈاکٹروں سے علاج کروایا مگر افاقہ نہ ہوا شب و روز گزرتے گئے اس کی بیماری میں اضافہ ہوتا گیا اور اس کی پڑھائی کا بھی کافی نقصان ہورہا تھا اس کے والدین بہت پریشان رہنے لگے کہ آیا ہم کیا کریں کہ ہمارا بیٹا پھر صحت مند ہوجائے اور پڑھائی کے میدان میں قدم رکھے ۔ اسد بھی بہت دعائیں کرتا تھا۔ آخر کار اس کی دعائیں رنگ لے آئیں۔ ہوا کچھ یوں کہ اسد کا ایک دوست جوکہ اس کا پڑوسی بھی تھا وہ دعوتِ اسلامی کے جامعہ میں عالم بن رہا تھا اس نے اسد سے کہا کہ آپ سورۃ الفاتحہ پڑھا کریں کیونکہ سورۃ الفاتحہ ہر طرح کی جسمانی اور روحانی بیماریوں کی دوا ہے۔ اسد نے بلاناغہ ہر روز سورۃ الفاتحہ کی تلاوت کرنا شروع کردیا اور اللہ کے فضل و کرم سے وہ دوبارہ سے تندرست ہوگیا بس یہی نہیں اسد نے اپنا اسکول چھوڑ کر جامعۃ المدینہ میں داخلہ لے لیا اور دین کی تعلیم حاصل کرنے لگا۔
دیکھا آپ نے اسد کو کس طرح سورۃ الفاتحہ کی تلاوت کی برکت سے شفا ملی، ہمیں بھی چاہئے کہ قراٰن کی تلاوت کا معمول بنائیں اور ہر پریشانی و مشکلات میں قراٰن سے مدد لیں۔
اب قراٰن کی تلاوت کے وہ فضائل بیان کئے جاتے ہیں احادیث سے ثابت ہیں(بحوالہ تفسیر نعیمی):
حدیث شریف میں ہے: جس گھر میں روزانہ سورۃ البقرۃ پڑھی جائے وہ گھر شیطان سے محفوظ رہتا ہے۔
سورۃ الواقعہ جو شخص ہر رات پڑھا کرے اللہ کے فضل سے کبھی فاقہ نہ ہوگا۔
الہٰی خوب دے دے شوق قراٰن کی تلاوت کا
شرف دے گنبدِ خضرا کے سائے میں شہادت کا
#QuranePak #UrduTahrerOfficial
Forwarded from ️مسلم انسٹیٹیوٹ
سائنس وٹیکنالوجی اور مسلمان سلاطین 👑
۔
انگریزی تہذیب سے متاثر کئ سارے کلمہ گو مسلمان اپنی مُسَلْمَانِیت پر شرماتے ہیں کہ ہمارے مسلم سلاطین کے زمانے میں سائنسی ترقیاں کیوں نہیں ہوئیں ؟پہلے یہ تعداد صرف مذہبی تعلیم سے دور رہنے والے مسلمانوں تک محدود تھی لیکن اب بہت سارے مذھبی تعلیم یافتہ مسلمان بھی اِس مکروہ صف میں کھڑے ہوچکے ہیں ۔بات بات پر سلف پر طعن وتشنیع کرنا اُن کا وطیرہ بن چکا ہے (عادت بن چکی ہے)
۔
جدید تہذیب والے لوگ پوچھتے ہیں کہ مسلمان کم وبیش ایک ہزار سال تک سلطنتوں کے مالک رہے۔ مسلمان بادشاہوں کے دور میں سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبے ترقیاں کیوں نہیں ہوئیں ؟
۔
اِس سوال کے دو جواب ہیں ۔۔۔۔
نمبر 1 ۔۔۔
الزامی جواب۔۔۔۔۔ مسلمان بادشاہوں کے ساتھ دیگر اقوام یعنی انگریز، ہندو، سکھ یا دیگر کمیونٹی کے افراد بھی دنیا کے کئ علاقوں کے بادشاہ تھے تو اُن غیر مسلم سلاطین نے اُس وقت اِس موجودہ زمانے کی ٹیکنالوجی متعارف کیوں نہیں کرائ ؟
۔
تحقیقی جواب ۔
فطرتی اصول ہے "کُلُّ شَیْئٍ مَرْھُوْنٌ بِاَوْقَاتِھَا" اردو میں کہتے ہیں ہر شئ کا ایک وقت مقرر ہے ۔
۔
انسانی ذھن نے علوم میں بتدیج ترقی پائ ۔ہر زمانہ میں وقت کے حساب سے نت نئ چیزیں دریافت ہوتی رہیں۔
۔
اِس وقت دنیا میں انگریزوں کا راج ہے ۔کہیں صدارتی تو کہیں جمھوری نظام کے نام پر دراصل گورنمنٹ انگریزوں کی ہے ۔باقی سارے لوگ اُن کے باج گزار ہیں ۔۔۔۔
۔
اگر آج دنیا میں مسلمان بادشاہوں کی حکومت ہوتی تو سائنس وٹیکنالوجی کے شعبے میں بھی مسلمانوں کی راج ہوتی ۔۔۔۔۔
۔
یقین نہیں آتا تو پڑھئے وائس آف امریکہ کے ایک کالم کا یہ رپورٹ ۔۔۔۔۔۔۔
۔
ٹیپو سلطان 1782 میں میسور کے حکمران بنے۔ انہیں تاریخی طور پر ’شیرِ میسور‘ بھی کہا جاتا ہے۔ ٹیپو سلطان کے دورِ حکومت کو جنگ میں ٹیکنالوجی کے استعمال اور انتطامی سطح پر کئی نئے تصورات متعارف کرانے کے لیے یادگار تصور کیا جاتا ہے۔
۔
برصغیر میں ٹیپو سلطان کو جنگ میں راکٹ کے استعمال کا بانی قرار دیا جاتا ہے۔ سن 1780 اور 1790 میں ٹیپو سلطان نے برطانیہ سے ہونے والی جنگوں میں راکٹوں کا استعمال کیا تھا۔
۔
مؤرخین کے مطابق ٹیپو سلطان کو باغبانی اور زراعت سے خاص دلچسپی تھی اور انہوں نے بنگلور میں 40 ایکڑ پر پھیلا ہوا لال باغ بنایا تھا۔ اراضی کے انتظام سے متعلق سلطان کے قوانین کی وجہ سے میسور میں ریشم کی صنعت کو فروغ ملا اور یہ ریاست ایک اہم معاشی مرکز میں تبدیل ہو گئی تھی۔
۔
رپورٹ کے اِس حصہ کو بغور پڑھئے پھر سوچئے کہ ٹیپو سلطان نے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کہاں سے سیکھا؟
ٹیپو کے زمانے میں انگریزی اسکولیں نہیں تھیں۔اور نہ ہی ٹیپو تعلیم حاصل کرنے آکسفورڈ گیا ۔پھر بھی جنگ میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال ۔کیا شان تھی مسلمان مدارس کی جہاں ہر قسم کی تعلیم دی جاتی تھی جسکی بناپر ٹیپو میسور کا سلطان بنا ۔۔۔۔۔
۔
ٹیپو نے کسی انگریز سائنس دان تھے کی مدد سے جنگ میں راکٹ کا استعمال نہیں کیا ۔ٹیپو نے کسی انگریز ایگریکلچر ماہر کو باغباں مقرر نہیں کیا ۔۔۔۔میسور میں ریشم کی صنعت میں ترقی انگریزوں کی مہربانی کا صدقہ نہیں تھی ۔بلکہ یہ سب کچھ اسلامی مدارس کی اصل تعلیم کی بدولت تھی ۔
۔
مدارس کے منتظمین کےلئے سوچنے کی بات ہے۔ورلڈبینک اور دیگر سودی اداروں کی بوجھ تلی گورنمنٹوں کی باتیں مان کر نئے نئے نظام متعارف کرنے، نئے تجربات کرکے مسلمان بچوں کی زندگی کو تختہ مشق بنانے سے ترقیاں ہرگز نہیں ملیں گی ۔ مدارس میں اصل اسلامی تعلیم کو بحال کریں تو ٹیپو جیسی شخصیات آج بھی پیدا ہوسکتی ہیں ۔۔۔
۔
اس موضوع سے متعلق پڑھئے ہمارے دو اور کالم
"گوروں کا آکسفورڈ بمقابلہ شاہجہاں کا تاج محل"
۔
"مُسْلْمَانانِ برّصغیر کے رُسوخْ فِیْ الْعِلْم کی کہانی تاجِ برطانیہ کے ایک سرکاری مُبَصّرْ کی زبانی"
✍️ ابو حاتم
31/01/2022/
۔
انگریزی تہذیب سے متاثر کئ سارے کلمہ گو مسلمان اپنی مُسَلْمَانِیت پر شرماتے ہیں کہ ہمارے مسلم سلاطین کے زمانے میں سائنسی ترقیاں کیوں نہیں ہوئیں ؟پہلے یہ تعداد صرف مذہبی تعلیم سے دور رہنے والے مسلمانوں تک محدود تھی لیکن اب بہت سارے مذھبی تعلیم یافتہ مسلمان بھی اِس مکروہ صف میں کھڑے ہوچکے ہیں ۔بات بات پر سلف پر طعن وتشنیع کرنا اُن کا وطیرہ بن چکا ہے (عادت بن چکی ہے)
۔
جدید تہذیب والے لوگ پوچھتے ہیں کہ مسلمان کم وبیش ایک ہزار سال تک سلطنتوں کے مالک رہے۔ مسلمان بادشاہوں کے دور میں سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبے ترقیاں کیوں نہیں ہوئیں ؟
۔
اِس سوال کے دو جواب ہیں ۔۔۔۔
نمبر 1 ۔۔۔
الزامی جواب۔۔۔۔۔ مسلمان بادشاہوں کے ساتھ دیگر اقوام یعنی انگریز، ہندو، سکھ یا دیگر کمیونٹی کے افراد بھی دنیا کے کئ علاقوں کے بادشاہ تھے تو اُن غیر مسلم سلاطین نے اُس وقت اِس موجودہ زمانے کی ٹیکنالوجی متعارف کیوں نہیں کرائ ؟
۔
تحقیقی جواب ۔
فطرتی اصول ہے "کُلُّ شَیْئٍ مَرْھُوْنٌ بِاَوْقَاتِھَا" اردو میں کہتے ہیں ہر شئ کا ایک وقت مقرر ہے ۔
۔
انسانی ذھن نے علوم میں بتدیج ترقی پائ ۔ہر زمانہ میں وقت کے حساب سے نت نئ چیزیں دریافت ہوتی رہیں۔
۔
اِس وقت دنیا میں انگریزوں کا راج ہے ۔کہیں صدارتی تو کہیں جمھوری نظام کے نام پر دراصل گورنمنٹ انگریزوں کی ہے ۔باقی سارے لوگ اُن کے باج گزار ہیں ۔۔۔۔
۔
اگر آج دنیا میں مسلمان بادشاہوں کی حکومت ہوتی تو سائنس وٹیکنالوجی کے شعبے میں بھی مسلمانوں کی راج ہوتی ۔۔۔۔۔
۔
یقین نہیں آتا تو پڑھئے وائس آف امریکہ کے ایک کالم کا یہ رپورٹ ۔۔۔۔۔۔۔
۔
ٹیپو سلطان 1782 میں میسور کے حکمران بنے۔ انہیں تاریخی طور پر ’شیرِ میسور‘ بھی کہا جاتا ہے۔ ٹیپو سلطان کے دورِ حکومت کو جنگ میں ٹیکنالوجی کے استعمال اور انتطامی سطح پر کئی نئے تصورات متعارف کرانے کے لیے یادگار تصور کیا جاتا ہے۔
۔
برصغیر میں ٹیپو سلطان کو جنگ میں راکٹ کے استعمال کا بانی قرار دیا جاتا ہے۔ سن 1780 اور 1790 میں ٹیپو سلطان نے برطانیہ سے ہونے والی جنگوں میں راکٹوں کا استعمال کیا تھا۔
۔
مؤرخین کے مطابق ٹیپو سلطان کو باغبانی اور زراعت سے خاص دلچسپی تھی اور انہوں نے بنگلور میں 40 ایکڑ پر پھیلا ہوا لال باغ بنایا تھا۔ اراضی کے انتظام سے متعلق سلطان کے قوانین کی وجہ سے میسور میں ریشم کی صنعت کو فروغ ملا اور یہ ریاست ایک اہم معاشی مرکز میں تبدیل ہو گئی تھی۔
۔
رپورٹ کے اِس حصہ کو بغور پڑھئے پھر سوچئے کہ ٹیپو سلطان نے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کہاں سے سیکھا؟
ٹیپو کے زمانے میں انگریزی اسکولیں نہیں تھیں۔اور نہ ہی ٹیپو تعلیم حاصل کرنے آکسفورڈ گیا ۔پھر بھی جنگ میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال ۔کیا شان تھی مسلمان مدارس کی جہاں ہر قسم کی تعلیم دی جاتی تھی جسکی بناپر ٹیپو میسور کا سلطان بنا ۔۔۔۔۔
۔
ٹیپو نے کسی انگریز سائنس دان تھے کی مدد سے جنگ میں راکٹ کا استعمال نہیں کیا ۔ٹیپو نے کسی انگریز ایگریکلچر ماہر کو باغباں مقرر نہیں کیا ۔۔۔۔میسور میں ریشم کی صنعت میں ترقی انگریزوں کی مہربانی کا صدقہ نہیں تھی ۔بلکہ یہ سب کچھ اسلامی مدارس کی اصل تعلیم کی بدولت تھی ۔
۔
مدارس کے منتظمین کےلئے سوچنے کی بات ہے۔ورلڈبینک اور دیگر سودی اداروں کی بوجھ تلی گورنمنٹوں کی باتیں مان کر نئے نئے نظام متعارف کرنے، نئے تجربات کرکے مسلمان بچوں کی زندگی کو تختہ مشق بنانے سے ترقیاں ہرگز نہیں ملیں گی ۔ مدارس میں اصل اسلامی تعلیم کو بحال کریں تو ٹیپو جیسی شخصیات آج بھی پیدا ہوسکتی ہیں ۔۔۔
۔
اس موضوع سے متعلق پڑھئے ہمارے دو اور کالم
"گوروں کا آکسفورڈ بمقابلہ شاہجہاں کا تاج محل"
۔
"مُسْلْمَانانِ برّصغیر کے رُسوخْ فِیْ الْعِلْم کی کہانی تاجِ برطانیہ کے ایک سرکاری مُبَصّرْ کی زبانی"
✍️ ابو حاتم
31/01/2022/
👍1