Forwarded from فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
جن گناہوں کا تعلق حقوق اللہ (اللہ کے حقوق)سے ہے جیسے نماز ،روزہ،زکوٰۃ اور حج کی ادائیگی میں کوتاہی، اللہ تعالیٰ سے سچی توبہ کرنے پر اللہ تعالیٰ ان گناہوں کو معاف فرمادیے گا (انشاء اللہ ) ۔لیکن جن گناہوں کا تعلق حقوق العباد (بندوں کے حقوق)سے ہے مثلاًکسی شخص کا سامان چرایا ،یا کسی شخص کو کوئی تکلیف دی ،یا کسی شخص کا حق مارا ،کسی کی زمین جائداد پر نا جائز قبضہ کیا تو قرآن و حدیث کی روشنی میں اکثر علما و فقہا اس بات پر متفق ہیں کہ اس کی معافی کے لئے سب سے پہلے ضروری ہے کہ جس بندے کا ہمارے اوپر حق ہے اس کا حق ادا کریں ،یا اس سے حق معاف کروائیں ۔پھر اللہ تعالیٰ کی طرف توبہ و استغفار کے لیے رجوع کریں ۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا : ”شہید کے تمام گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں مگر کسی شخص کا قرض “(مسلم شریف ج/۲ص/ ۱۳۵ مجلس برکات)یعنی اگر کسی شخص کا کوئی قرض کسی کے ذمہ ہے تو جب تک ادا نہیں کر دیا جاے گا و ہ ذمہ میں باقی رہے گا ،چاہے جتنا بھی نیک عمل کر لیا جاے مشہور محدث حضرت امام نووی علیہ الرحمہ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں کہ قرض سے مراد تمام حقوق العباد ہیں یعنی اللہ کے راستے میں شہید ہونے سے حقوق اللہ تو سب معاف ہو جاتے ہیں لیکن حقوق العباد معاف نہیں ہوتے (شرح مسلم)۔
لہٰذا ہمیں حقوق العباد کی ادائیگی کو اپنی اہم ذمہ داری سمجھتے ہوئے ہمیں اپنے معاملات کا جائزہ لینا چاہیے کہ کہیں ہماری طرف سے بھی حقوق العباد ادا کرنے میں کوتاہی تو نہیں ہو رہی ہے ؟کہیں ہم بھی دانستہ (جان بوجھ کر)یا غیر دانستہ (انجانے میں)کسی کا حق تو نہیں مار رہے؟ کہیں اور کبھی کسی سے قرض لیا ہو اور ابھی تک اسے ادا کرنے کے بارے میں سوچا بھی نہ ہو؟یا کسی کی زمین ہتھیالی ہو؟
ہمیں غیر جانب دارانہ طور پر غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے ،اپنے پچھلے معاملات اور موجودہ حالات دونوں کی جانچ پڑتال کرنا چاہیے،خرید و فروخت میں، تجارت میں آپس کی تجارتی شرکت میں ،اگر کوئی حق کسی کا ہمارے ذمہ باقی رہ گیا تو اس کو فوراً صاف کرلینا چاہیے یا ہمارے ذمہ کوئی قرض ہے تو اس کی ادائیگی کی فکر کرنی چاہیئے
اس گمان میں نہیں رہنا چاہیے کہ اولاد ادا کرے گی ۔ جائداد ہے تو اپنے شرکت داروں کو شریعت کے مقررہ طریقے کے مطابق ان کا حق دینا چاہیے ،یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ ہمارے بہن بھائی ہیں ،آپس کی بات ہے ،میدان محشر میں نہ کوئی کسی کا بیٹا ہوگا ،نہ بھائی بہن ،ہر شخص اپنی فکر میں پریشان و حیران ہوگا ،اسی طرح اگر کسی پر تہمت (الزام)لگائی ہے ،کسی کو پریشان کیا ہے ،کسی کی غیبت کی ہے ،کسی کو کسی طرح سے نقصان پہنچایا ہے تو اس کو اس کی زندگی میں سب سے اہم کام سمجھ کر معاملا ت کو صاف کر لینا چاہیئے ،معاف کرائے یا اس کا حق اس کو دے ،
اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا ہے کہ امت مسلمہ کو راہ استقامت عطا فرمائے ،اور حقوق العباد کی ادائیگی پر دھیان دینے کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین
https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*از قلم✍🏻 حبیب اللہ قادری انواری، دارالعلوم انوار مصطفیٰ سہلاؤ شریف، باڑمیر، راجستھان ۔*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
نبی کریم ﷺ نے فرمایا : ”شہید کے تمام گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں مگر کسی شخص کا قرض “(مسلم شریف ج/۲ص/ ۱۳۵ مجلس برکات)یعنی اگر کسی شخص کا کوئی قرض کسی کے ذمہ ہے تو جب تک ادا نہیں کر دیا جاے گا و ہ ذمہ میں باقی رہے گا ،چاہے جتنا بھی نیک عمل کر لیا جاے مشہور محدث حضرت امام نووی علیہ الرحمہ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں کہ قرض سے مراد تمام حقوق العباد ہیں یعنی اللہ کے راستے میں شہید ہونے سے حقوق اللہ تو سب معاف ہو جاتے ہیں لیکن حقوق العباد معاف نہیں ہوتے (شرح مسلم)۔
لہٰذا ہمیں حقوق العباد کی ادائیگی کو اپنی اہم ذمہ داری سمجھتے ہوئے ہمیں اپنے معاملات کا جائزہ لینا چاہیے کہ کہیں ہماری طرف سے بھی حقوق العباد ادا کرنے میں کوتاہی تو نہیں ہو رہی ہے ؟کہیں ہم بھی دانستہ (جان بوجھ کر)یا غیر دانستہ (انجانے میں)کسی کا حق تو نہیں مار رہے؟ کہیں اور کبھی کسی سے قرض لیا ہو اور ابھی تک اسے ادا کرنے کے بارے میں سوچا بھی نہ ہو؟یا کسی کی زمین ہتھیالی ہو؟
ہمیں غیر جانب دارانہ طور پر غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے ،اپنے پچھلے معاملات اور موجودہ حالات دونوں کی جانچ پڑتال کرنا چاہیے،خرید و فروخت میں، تجارت میں آپس کی تجارتی شرکت میں ،اگر کوئی حق کسی کا ہمارے ذمہ باقی رہ گیا تو اس کو فوراً صاف کرلینا چاہیے یا ہمارے ذمہ کوئی قرض ہے تو اس کی ادائیگی کی فکر کرنی چاہیئے
اس گمان میں نہیں رہنا چاہیے کہ اولاد ادا کرے گی ۔ جائداد ہے تو اپنے شرکت داروں کو شریعت کے مقررہ طریقے کے مطابق ان کا حق دینا چاہیے ،یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ ہمارے بہن بھائی ہیں ،آپس کی بات ہے ،میدان محشر میں نہ کوئی کسی کا بیٹا ہوگا ،نہ بھائی بہن ،ہر شخص اپنی فکر میں پریشان و حیران ہوگا ،اسی طرح اگر کسی پر تہمت (الزام)لگائی ہے ،کسی کو پریشان کیا ہے ،کسی کی غیبت کی ہے ،کسی کو کسی طرح سے نقصان پہنچایا ہے تو اس کو اس کی زندگی میں سب سے اہم کام سمجھ کر معاملا ت کو صاف کر لینا چاہیئے ،معاف کرائے یا اس کا حق اس کو دے ،
اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا ہے کہ امت مسلمہ کو راہ استقامت عطا فرمائے ،اور حقوق العباد کی ادائیگی پر دھیان دینے کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین
https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*از قلم✍🏻 حبیب اللہ قادری انواری، دارالعلوم انوار مصطفیٰ سہلاؤ شریف، باڑمیر، راجستھان ۔*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
Telegram
فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
اہلسنت و جماعت مسلک اعلیٰ حضرت کا ترجمان، وسط ہند کی عظیم درسگاہ " دارالعلوم امجدیہ ناگپور مہاراشٹرا" کے نام سے منسوب گروپ
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلَّم کا فرمان ہے: خَيْرُكُمْ مَن تَعَلَّمَ القُرْآنَ وعَلَّمَهُ ترجمہ: تم میں سے بہتر وہ ہے جو قرآن سیکھے اور سکھائے۔ (صحيح البخاری: 5027 )
اس روایت کے اگلے حصے میں ہے کہ حضرت ابو عبد الرحمن سلمی رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانہ خلافت سے حجاج کے گورنر بننے تک قرآن پڑھایا اور فرمایا کہ
یہی حدیث ہے جس نے مجھے یہاں بیٹھا رکھا ہے۔
فتح الباری میں اس حدیث کی شرح میں ہے : قرآن مجید اشرف العلوم ہے پس جو شخص قرآن مجید سیکھے اور دوسروں کو سکھائے وہ اس سے زیادہ شرف والا ہو گا۔جو غیر قرآن کو سیکھے اور سکھائے ۔بلاشبہ جو قرآن کو سیکھنے اور سیکھانے کو جمع کرنے والا ہے وہ اپنی بھی تکمیل کرتا ہے اور دوسروں کی بھی ۔وہ نفع قاصر اور نفع متعدی کو جمع کرتا ہے اس وجہ سے وہ سب سے افضل ۔
(فتح الباری بشرح البخاری، جلد 15،ص152،مطبوعہ الرسالۃ العالمیہ)
وَ مَنْ اَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّنْ دَعَاۤ اِلَى اللّٰهِ وَ عَمِلَ صَالِحًا وَّ قَالَ اِنَّنِیْ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ(۳۳)
ترجمہ کنز الایمان: اور اس سے زیادہ کس کی بات اچھی جو اللہ کی طرف بلائے اور نیکی کرے اور کہے میں مسلمان ہوں۔ (حم السجدۃ : 33)
ان امور کی دعوت دینے میں قرآن مجید بھی ہے۔
تو معلوم ہوا کہ قرآن کی تعلیم دینے والا بہترین لوگوں میں سے ہے۔
خیر الکلام کلام اللہ ، یعنی کہ سب سے اچھا کلام اللہ کا کلام ہے، اس کلام کو سیکھنے سکھانے والا خیر الناس ہوا ، یعنی لوگوں میں سے بہترین ۔
بندے کو رب سے قریب کرنے والی چیزوں میں سے ایک اہم کام تلاوت قرآن ہے تو گویا قرآن سیکھانے والا دوسرے مسلمان کو رب سے قریب کرنے میں مددگار ہوتا ہے۔
قرآن پڑھنے والے کو ہر ہر حرف پر دس نیکیاں ملتی ہیں اور سیکھانے والا بھی اجر کا مستحق ہوتا ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلَّم کا فرمان ہے:مَن دَلَّ على خَيْرٍ فَلَهُ مِثْلُ أَجْرِ فاعِلِهِ ۔ ترجمہ:جس شخص نے نیکی کی طرف رہنمائی کی تو اس کو اس نیک کام کرنے والے کی مثل اجر ملے گا۔(الصحیح المسلم :1893)
تو سیکھ کر پڑھنے والا جب تک پڑھتا رہے گا سیکھانے والا اجر پاتا رہے گا۔
ایک حدیث شریف میں ہے: جس شخص نے کتابُ اللہ کی ایک آیت یا علم کا ایک باب سیکھایا اللہ عَزَّوَجَلَّ تا قِیا مت اس کا اجر بڑھا تا رہیگا۔ (تاریخ دمشق لابن عساکِر ج۵۹ ص۲۹۰)
ذُوالنُّورین، جامع القراٰن حضرتِ سیِّدُنا عثمان ابنِ عفّان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے رِوایت ہے کہ تا جدارِ مدینۂ منوّرہ، سلطانِ مکّۂ مکرّمہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اِرشاد فرمایا : جس نے قراٰنِ مُبین کی ایک آیت سیکھائی اس کے لیے سیکھنے والے سے دُگنا ثواب ہے۔
ایک اور حدیثِ پاک میں حضرتِ سیِّدُنااَنَس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے رِوایت ہے کہ خاتَمُ الْمُرْسَلین، شفیعُ الْمُذْنِبیْن، رَحمَۃٌ لِّلْعٰلمین صلی اﷲ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم فرماتے ہیں : جس نے قراٰنِ عظیم کی ایک آیت سکھائی جب تک اس آیت کی تلاوت ہوتی رہے گی اس کے لیے ثواب جاری رہے گا۔ (جَمْعُ الْجَوامِع ج۷ ص ۲۸۲، ۲۲۴۵۵۔ ۲۲۴۵۶،تلاوت کی فضیلت، مطبوعہ مکتبہ المدینہ )
حضرت عاصم بن کلیب اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے مسجد میں لوگوں کے قرآن پڑھنے اور پڑھانے کی آوازیں سنیں تو آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا : یہ وہ لوگ ہیں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلَّم کو سب سے زیادہ پسند ہیں ۔
(العجم الاوسط للطبرانی، 121)
تو قرآن پڑھانے والا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا پسندیدہ ہے۔
خیرکم والی حدیث کی شرح میں مفتی احمد یار خان نعیمی مراۃ المناجیح میں لکھتے ہیں : قرآن سیکھنے سکھانے میں بہت وسعت ہے ۔بچوں کو قرآن کے ہجے روزانہ سکھانا، قاریوں کا تجوید سیکھنا سکھانا ، علما کا قرآنی احکام بذریعہ حدیث و فقہ سیکھنا سکھانا، صوفیا کرام کا اسرار و رموز قرآن بسلسلہ طریقت سیکھنا سکھانا ، سب قرآن ہی کی تعلیم ہے۔(مرآۃ المناجیح، جلد 3، ص230)
#QuranePak #UrduTahrerOfficial
اس روایت کے اگلے حصے میں ہے کہ حضرت ابو عبد الرحمن سلمی رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانہ خلافت سے حجاج کے گورنر بننے تک قرآن پڑھایا اور فرمایا کہ
یہی حدیث ہے جس نے مجھے یہاں بیٹھا رکھا ہے۔
فتح الباری میں اس حدیث کی شرح میں ہے : قرآن مجید اشرف العلوم ہے پس جو شخص قرآن مجید سیکھے اور دوسروں کو سکھائے وہ اس سے زیادہ شرف والا ہو گا۔جو غیر قرآن کو سیکھے اور سکھائے ۔بلاشبہ جو قرآن کو سیکھنے اور سیکھانے کو جمع کرنے والا ہے وہ اپنی بھی تکمیل کرتا ہے اور دوسروں کی بھی ۔وہ نفع قاصر اور نفع متعدی کو جمع کرتا ہے اس وجہ سے وہ سب سے افضل ۔
(فتح الباری بشرح البخاری، جلد 15،ص152،مطبوعہ الرسالۃ العالمیہ)
وَ مَنْ اَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّنْ دَعَاۤ اِلَى اللّٰهِ وَ عَمِلَ صَالِحًا وَّ قَالَ اِنَّنِیْ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ(۳۳)
ترجمہ کنز الایمان: اور اس سے زیادہ کس کی بات اچھی جو اللہ کی طرف بلائے اور نیکی کرے اور کہے میں مسلمان ہوں۔ (حم السجدۃ : 33)
ان امور کی دعوت دینے میں قرآن مجید بھی ہے۔
تو معلوم ہوا کہ قرآن کی تعلیم دینے والا بہترین لوگوں میں سے ہے۔
خیر الکلام کلام اللہ ، یعنی کہ سب سے اچھا کلام اللہ کا کلام ہے، اس کلام کو سیکھنے سکھانے والا خیر الناس ہوا ، یعنی لوگوں میں سے بہترین ۔
بندے کو رب سے قریب کرنے والی چیزوں میں سے ایک اہم کام تلاوت قرآن ہے تو گویا قرآن سیکھانے والا دوسرے مسلمان کو رب سے قریب کرنے میں مددگار ہوتا ہے۔
قرآن پڑھنے والے کو ہر ہر حرف پر دس نیکیاں ملتی ہیں اور سیکھانے والا بھی اجر کا مستحق ہوتا ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلَّم کا فرمان ہے:مَن دَلَّ على خَيْرٍ فَلَهُ مِثْلُ أَجْرِ فاعِلِهِ ۔ ترجمہ:جس شخص نے نیکی کی طرف رہنمائی کی تو اس کو اس نیک کام کرنے والے کی مثل اجر ملے گا۔(الصحیح المسلم :1893)
تو سیکھ کر پڑھنے والا جب تک پڑھتا رہے گا سیکھانے والا اجر پاتا رہے گا۔
ایک حدیث شریف میں ہے: جس شخص نے کتابُ اللہ کی ایک آیت یا علم کا ایک باب سیکھایا اللہ عَزَّوَجَلَّ تا قِیا مت اس کا اجر بڑھا تا رہیگا۔ (تاریخ دمشق لابن عساکِر ج۵۹ ص۲۹۰)
ذُوالنُّورین، جامع القراٰن حضرتِ سیِّدُنا عثمان ابنِ عفّان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے رِوایت ہے کہ تا جدارِ مدینۂ منوّرہ، سلطانِ مکّۂ مکرّمہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اِرشاد فرمایا : جس نے قراٰنِ مُبین کی ایک آیت سیکھائی اس کے لیے سیکھنے والے سے دُگنا ثواب ہے۔
ایک اور حدیثِ پاک میں حضرتِ سیِّدُنااَنَس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے رِوایت ہے کہ خاتَمُ الْمُرْسَلین، شفیعُ الْمُذْنِبیْن، رَحمَۃٌ لِّلْعٰلمین صلی اﷲ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم فرماتے ہیں : جس نے قراٰنِ عظیم کی ایک آیت سکھائی جب تک اس آیت کی تلاوت ہوتی رہے گی اس کے لیے ثواب جاری رہے گا۔ (جَمْعُ الْجَوامِع ج۷ ص ۲۸۲، ۲۲۴۵۵۔ ۲۲۴۵۶،تلاوت کی فضیلت، مطبوعہ مکتبہ المدینہ )
حضرت عاصم بن کلیب اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے مسجد میں لوگوں کے قرآن پڑھنے اور پڑھانے کی آوازیں سنیں تو آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا : یہ وہ لوگ ہیں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلَّم کو سب سے زیادہ پسند ہیں ۔
(العجم الاوسط للطبرانی، 121)
تو قرآن پڑھانے والا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا پسندیدہ ہے۔
خیرکم والی حدیث کی شرح میں مفتی احمد یار خان نعیمی مراۃ المناجیح میں لکھتے ہیں : قرآن سیکھنے سکھانے میں بہت وسعت ہے ۔بچوں کو قرآن کے ہجے روزانہ سکھانا، قاریوں کا تجوید سیکھنا سکھانا ، علما کا قرآنی احکام بذریعہ حدیث و فقہ سیکھنا سکھانا، صوفیا کرام کا اسرار و رموز قرآن بسلسلہ طریقت سیکھنا سکھانا ، سب قرآن ہی کی تعلیم ہے۔(مرآۃ المناجیح، جلد 3، ص230)
#QuranePak #UrduTahrerOfficial
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
قراٰنِ حکیم وہ کتاب ہے جسے اس کائنات کے خالق و مالک نے اشرف الانبیاء حضرت محمد صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم پر نازل فرمایا۔ قراٰنِ پاک کی تلاوت کے بےشمار فضائل ہیں ۔
قراٰن پاک میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: وَ نُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا هُوَ شِفَآءٌ وَّ رَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَۙ-
ترجمۂ کنز الایمان: اور ہم قرآن میں اتارتے ہیں وہ چیز جو ایمان والوں کے لیے شفا اور رحمت ہے۔(پ15،بنی اسرآءیل:82)
قراٰنِ کریم میں ربِّ کعبہ نے خود فرمایا کہ قراٰن رحمت اور شفاء ہے۔ آج ہمارا کیا حال ہے؟ ہم بیماریوں کی دوا کرنے کے لئے طبیبوں (ڈاکٹروں) کے پاس تو جاتے ہیں لیکن قراٰن پاک پڑھتے تو کیا کھول کردیکھتے بھی نہیں ہیں، ہمیں دوا کے ساتھ ساتھ تلاوت قراٰن سے بھی لازمی برکتیں لینی چاہئیں۔ ہمیں غور کرنا چاہئے کہ آج ہمارے گھر میں بیماریاں اور پریشانیاں قراٰن کی تلاوت نہ کرنے کے سبب تو نہیں؟
ارشادِ باری تعالیٰ ہے: شِفَآءٌ لِّمَا فِی الصُّدُوْرِۙ۬-
ترجمۂ کنزالایمان:(قراٰن) دلوں کی صحت (پ11،یونس:57)
قراٰن دلوں کا سکون ہے، قراٰن دلوں کا چین ہے، قراٰن کی تلاوت کرنے سے بیماریوں سے شفا ملتی ہے نیز احادث مبارکہ میں بھی قراٰن کی تلاوت کے بے شمار فضائل ذکر کئے گئے جیساکہ بیھقی شریف کی ایک حدیثِ مبارکہ ہے: نبیِّ کریم علیہ السَّلام نے ارشاد فرمایا: قراٰن کریم کی تلاوت اور اللہ تعالیٰ کے ذکر کا اہتمام کیا کرو اس عمل سے آسمانوں میں تمہارا ذکر ہوگا اور یہ عمل زمین میں تمہارے لئے ہدایت کا نور ہوگا۔(بیھقی)
اب قراٰنِ پاک کی تلاوت کے فضائل پر فرضی حکایت پیش کی جاتی ہے:
اسد بہت بیمار رہنے لگا تھا، بہت سے ڈاکٹروں سے علاج کروایا مگر افاقہ نہ ہوا شب و روز گزرتے گئے اس کی بیماری میں اضافہ ہوتا گیا اور اس کی پڑھائی کا بھی کافی نقصان ہورہا تھا اس کے والدین بہت پریشان رہنے لگے کہ آیا ہم کیا کریں کہ ہمارا بیٹا پھر صحت مند ہوجائے اور پڑھائی کے میدان میں قدم رکھے ۔ اسد بھی بہت دعائیں کرتا تھا۔ آخر کار اس کی دعائیں رنگ لے آئیں۔ ہوا کچھ یوں کہ اسد کا ایک دوست جوکہ اس کا پڑوسی بھی تھا وہ دعوتِ اسلامی کے جامعہ میں عالم بن رہا تھا اس نے اسد سے کہا کہ آپ سورۃ الفاتحہ پڑھا کریں کیونکہ سورۃ الفاتحہ ہر طرح کی جسمانی اور روحانی بیماریوں کی دوا ہے۔ اسد نے بلاناغہ ہر روز سورۃ الفاتحہ کی تلاوت کرنا شروع کردیا اور اللہ کے فضل و کرم سے وہ دوبارہ سے تندرست ہوگیا بس یہی نہیں اسد نے اپنا اسکول چھوڑ کر جامعۃ المدینہ میں داخلہ لے لیا اور دین کی تعلیم حاصل کرنے لگا۔
دیکھا آپ نے اسد کو کس طرح سورۃ الفاتحہ کی تلاوت کی برکت سے شفا ملی، ہمیں بھی چاہئے کہ قراٰن کی تلاوت کا معمول بنائیں اور ہر پریشانی و مشکلات میں قراٰن سے مدد لیں۔
اب قراٰن کی تلاوت کے وہ فضائل بیان کئے جاتے ہیں احادیث سے ثابت ہیں(بحوالہ تفسیر نعیمی):
حدیث شریف میں ہے: جس گھر میں روزانہ سورۃ البقرۃ پڑھی جائے وہ گھر شیطان سے محفوظ رہتا ہے۔
سورۃ الواقعہ جو شخص ہر رات پڑھا کرے اللہ کے فضل سے کبھی فاقہ نہ ہوگا۔
الہٰی خوب دے دے شوق قراٰن کی تلاوت کا
شرف دے گنبدِ خضرا کے سائے میں شہادت کا
#QuranePak #UrduTahrerOfficial
قراٰن پاک میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: وَ نُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا هُوَ شِفَآءٌ وَّ رَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَۙ-
ترجمۂ کنز الایمان: اور ہم قرآن میں اتارتے ہیں وہ چیز جو ایمان والوں کے لیے شفا اور رحمت ہے۔(پ15،بنی اسرآءیل:82)
قراٰنِ کریم میں ربِّ کعبہ نے خود فرمایا کہ قراٰن رحمت اور شفاء ہے۔ آج ہمارا کیا حال ہے؟ ہم بیماریوں کی دوا کرنے کے لئے طبیبوں (ڈاکٹروں) کے پاس تو جاتے ہیں لیکن قراٰن پاک پڑھتے تو کیا کھول کردیکھتے بھی نہیں ہیں، ہمیں دوا کے ساتھ ساتھ تلاوت قراٰن سے بھی لازمی برکتیں لینی چاہئیں۔ ہمیں غور کرنا چاہئے کہ آج ہمارے گھر میں بیماریاں اور پریشانیاں قراٰن کی تلاوت نہ کرنے کے سبب تو نہیں؟
ارشادِ باری تعالیٰ ہے: شِفَآءٌ لِّمَا فِی الصُّدُوْرِۙ۬-
ترجمۂ کنزالایمان:(قراٰن) دلوں کی صحت (پ11،یونس:57)
قراٰن دلوں کا سکون ہے، قراٰن دلوں کا چین ہے، قراٰن کی تلاوت کرنے سے بیماریوں سے شفا ملتی ہے نیز احادث مبارکہ میں بھی قراٰن کی تلاوت کے بے شمار فضائل ذکر کئے گئے جیساکہ بیھقی شریف کی ایک حدیثِ مبارکہ ہے: نبیِّ کریم علیہ السَّلام نے ارشاد فرمایا: قراٰن کریم کی تلاوت اور اللہ تعالیٰ کے ذکر کا اہتمام کیا کرو اس عمل سے آسمانوں میں تمہارا ذکر ہوگا اور یہ عمل زمین میں تمہارے لئے ہدایت کا نور ہوگا۔(بیھقی)
اب قراٰنِ پاک کی تلاوت کے فضائل پر فرضی حکایت پیش کی جاتی ہے:
اسد بہت بیمار رہنے لگا تھا، بہت سے ڈاکٹروں سے علاج کروایا مگر افاقہ نہ ہوا شب و روز گزرتے گئے اس کی بیماری میں اضافہ ہوتا گیا اور اس کی پڑھائی کا بھی کافی نقصان ہورہا تھا اس کے والدین بہت پریشان رہنے لگے کہ آیا ہم کیا کریں کہ ہمارا بیٹا پھر صحت مند ہوجائے اور پڑھائی کے میدان میں قدم رکھے ۔ اسد بھی بہت دعائیں کرتا تھا۔ آخر کار اس کی دعائیں رنگ لے آئیں۔ ہوا کچھ یوں کہ اسد کا ایک دوست جوکہ اس کا پڑوسی بھی تھا وہ دعوتِ اسلامی کے جامعہ میں عالم بن رہا تھا اس نے اسد سے کہا کہ آپ سورۃ الفاتحہ پڑھا کریں کیونکہ سورۃ الفاتحہ ہر طرح کی جسمانی اور روحانی بیماریوں کی دوا ہے۔ اسد نے بلاناغہ ہر روز سورۃ الفاتحہ کی تلاوت کرنا شروع کردیا اور اللہ کے فضل و کرم سے وہ دوبارہ سے تندرست ہوگیا بس یہی نہیں اسد نے اپنا اسکول چھوڑ کر جامعۃ المدینہ میں داخلہ لے لیا اور دین کی تعلیم حاصل کرنے لگا۔
دیکھا آپ نے اسد کو کس طرح سورۃ الفاتحہ کی تلاوت کی برکت سے شفا ملی، ہمیں بھی چاہئے کہ قراٰن کی تلاوت کا معمول بنائیں اور ہر پریشانی و مشکلات میں قراٰن سے مدد لیں۔
اب قراٰن کی تلاوت کے وہ فضائل بیان کئے جاتے ہیں احادیث سے ثابت ہیں(بحوالہ تفسیر نعیمی):
حدیث شریف میں ہے: جس گھر میں روزانہ سورۃ البقرۃ پڑھی جائے وہ گھر شیطان سے محفوظ رہتا ہے۔
سورۃ الواقعہ جو شخص ہر رات پڑھا کرے اللہ کے فضل سے کبھی فاقہ نہ ہوگا۔
الہٰی خوب دے دے شوق قراٰن کی تلاوت کا
شرف دے گنبدِ خضرا کے سائے میں شہادت کا
#QuranePak #UrduTahrerOfficial
Forwarded from ️مسلم انسٹیٹیوٹ
سائنس وٹیکنالوجی اور مسلمان سلاطین 👑
۔
انگریزی تہذیب سے متاثر کئ سارے کلمہ گو مسلمان اپنی مُسَلْمَانِیت پر شرماتے ہیں کہ ہمارے مسلم سلاطین کے زمانے میں سائنسی ترقیاں کیوں نہیں ہوئیں ؟پہلے یہ تعداد صرف مذہبی تعلیم سے دور رہنے والے مسلمانوں تک محدود تھی لیکن اب بہت سارے مذھبی تعلیم یافتہ مسلمان بھی اِس مکروہ صف میں کھڑے ہوچکے ہیں ۔بات بات پر سلف پر طعن وتشنیع کرنا اُن کا وطیرہ بن چکا ہے (عادت بن چکی ہے)
۔
جدید تہذیب والے لوگ پوچھتے ہیں کہ مسلمان کم وبیش ایک ہزار سال تک سلطنتوں کے مالک رہے۔ مسلمان بادشاہوں کے دور میں سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبے ترقیاں کیوں نہیں ہوئیں ؟
۔
اِس سوال کے دو جواب ہیں ۔۔۔۔
نمبر 1 ۔۔۔
الزامی جواب۔۔۔۔۔ مسلمان بادشاہوں کے ساتھ دیگر اقوام یعنی انگریز، ہندو، سکھ یا دیگر کمیونٹی کے افراد بھی دنیا کے کئ علاقوں کے بادشاہ تھے تو اُن غیر مسلم سلاطین نے اُس وقت اِس موجودہ زمانے کی ٹیکنالوجی متعارف کیوں نہیں کرائ ؟
۔
تحقیقی جواب ۔
فطرتی اصول ہے "کُلُّ شَیْئٍ مَرْھُوْنٌ بِاَوْقَاتِھَا" اردو میں کہتے ہیں ہر شئ کا ایک وقت مقرر ہے ۔
۔
انسانی ذھن نے علوم میں بتدیج ترقی پائ ۔ہر زمانہ میں وقت کے حساب سے نت نئ چیزیں دریافت ہوتی رہیں۔
۔
اِس وقت دنیا میں انگریزوں کا راج ہے ۔کہیں صدارتی تو کہیں جمھوری نظام کے نام پر دراصل گورنمنٹ انگریزوں کی ہے ۔باقی سارے لوگ اُن کے باج گزار ہیں ۔۔۔۔
۔
اگر آج دنیا میں مسلمان بادشاہوں کی حکومت ہوتی تو سائنس وٹیکنالوجی کے شعبے میں بھی مسلمانوں کی راج ہوتی ۔۔۔۔۔
۔
یقین نہیں آتا تو پڑھئے وائس آف امریکہ کے ایک کالم کا یہ رپورٹ ۔۔۔۔۔۔۔
۔
ٹیپو سلطان 1782 میں میسور کے حکمران بنے۔ انہیں تاریخی طور پر ’شیرِ میسور‘ بھی کہا جاتا ہے۔ ٹیپو سلطان کے دورِ حکومت کو جنگ میں ٹیکنالوجی کے استعمال اور انتطامی سطح پر کئی نئے تصورات متعارف کرانے کے لیے یادگار تصور کیا جاتا ہے۔
۔
برصغیر میں ٹیپو سلطان کو جنگ میں راکٹ کے استعمال کا بانی قرار دیا جاتا ہے۔ سن 1780 اور 1790 میں ٹیپو سلطان نے برطانیہ سے ہونے والی جنگوں میں راکٹوں کا استعمال کیا تھا۔
۔
مؤرخین کے مطابق ٹیپو سلطان کو باغبانی اور زراعت سے خاص دلچسپی تھی اور انہوں نے بنگلور میں 40 ایکڑ پر پھیلا ہوا لال باغ بنایا تھا۔ اراضی کے انتظام سے متعلق سلطان کے قوانین کی وجہ سے میسور میں ریشم کی صنعت کو فروغ ملا اور یہ ریاست ایک اہم معاشی مرکز میں تبدیل ہو گئی تھی۔
۔
رپورٹ کے اِس حصہ کو بغور پڑھئے پھر سوچئے کہ ٹیپو سلطان نے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کہاں سے سیکھا؟
ٹیپو کے زمانے میں انگریزی اسکولیں نہیں تھیں۔اور نہ ہی ٹیپو تعلیم حاصل کرنے آکسفورڈ گیا ۔پھر بھی جنگ میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال ۔کیا شان تھی مسلمان مدارس کی جہاں ہر قسم کی تعلیم دی جاتی تھی جسکی بناپر ٹیپو میسور کا سلطان بنا ۔۔۔۔۔
۔
ٹیپو نے کسی انگریز سائنس دان تھے کی مدد سے جنگ میں راکٹ کا استعمال نہیں کیا ۔ٹیپو نے کسی انگریز ایگریکلچر ماہر کو باغباں مقرر نہیں کیا ۔۔۔۔میسور میں ریشم کی صنعت میں ترقی انگریزوں کی مہربانی کا صدقہ نہیں تھی ۔بلکہ یہ سب کچھ اسلامی مدارس کی اصل تعلیم کی بدولت تھی ۔
۔
مدارس کے منتظمین کےلئے سوچنے کی بات ہے۔ورلڈبینک اور دیگر سودی اداروں کی بوجھ تلی گورنمنٹوں کی باتیں مان کر نئے نئے نظام متعارف کرنے، نئے تجربات کرکے مسلمان بچوں کی زندگی کو تختہ مشق بنانے سے ترقیاں ہرگز نہیں ملیں گی ۔ مدارس میں اصل اسلامی تعلیم کو بحال کریں تو ٹیپو جیسی شخصیات آج بھی پیدا ہوسکتی ہیں ۔۔۔
۔
اس موضوع سے متعلق پڑھئے ہمارے دو اور کالم
"گوروں کا آکسفورڈ بمقابلہ شاہجہاں کا تاج محل"
۔
"مُسْلْمَانانِ برّصغیر کے رُسوخْ فِیْ الْعِلْم کی کہانی تاجِ برطانیہ کے ایک سرکاری مُبَصّرْ کی زبانی"
✍️ ابو حاتم
31/01/2022/
۔
انگریزی تہذیب سے متاثر کئ سارے کلمہ گو مسلمان اپنی مُسَلْمَانِیت پر شرماتے ہیں کہ ہمارے مسلم سلاطین کے زمانے میں سائنسی ترقیاں کیوں نہیں ہوئیں ؟پہلے یہ تعداد صرف مذہبی تعلیم سے دور رہنے والے مسلمانوں تک محدود تھی لیکن اب بہت سارے مذھبی تعلیم یافتہ مسلمان بھی اِس مکروہ صف میں کھڑے ہوچکے ہیں ۔بات بات پر سلف پر طعن وتشنیع کرنا اُن کا وطیرہ بن چکا ہے (عادت بن چکی ہے)
۔
جدید تہذیب والے لوگ پوچھتے ہیں کہ مسلمان کم وبیش ایک ہزار سال تک سلطنتوں کے مالک رہے۔ مسلمان بادشاہوں کے دور میں سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبے ترقیاں کیوں نہیں ہوئیں ؟
۔
اِس سوال کے دو جواب ہیں ۔۔۔۔
نمبر 1 ۔۔۔
الزامی جواب۔۔۔۔۔ مسلمان بادشاہوں کے ساتھ دیگر اقوام یعنی انگریز، ہندو، سکھ یا دیگر کمیونٹی کے افراد بھی دنیا کے کئ علاقوں کے بادشاہ تھے تو اُن غیر مسلم سلاطین نے اُس وقت اِس موجودہ زمانے کی ٹیکنالوجی متعارف کیوں نہیں کرائ ؟
۔
تحقیقی جواب ۔
فطرتی اصول ہے "کُلُّ شَیْئٍ مَرْھُوْنٌ بِاَوْقَاتِھَا" اردو میں کہتے ہیں ہر شئ کا ایک وقت مقرر ہے ۔
۔
انسانی ذھن نے علوم میں بتدیج ترقی پائ ۔ہر زمانہ میں وقت کے حساب سے نت نئ چیزیں دریافت ہوتی رہیں۔
۔
اِس وقت دنیا میں انگریزوں کا راج ہے ۔کہیں صدارتی تو کہیں جمھوری نظام کے نام پر دراصل گورنمنٹ انگریزوں کی ہے ۔باقی سارے لوگ اُن کے باج گزار ہیں ۔۔۔۔
۔
اگر آج دنیا میں مسلمان بادشاہوں کی حکومت ہوتی تو سائنس وٹیکنالوجی کے شعبے میں بھی مسلمانوں کی راج ہوتی ۔۔۔۔۔
۔
یقین نہیں آتا تو پڑھئے وائس آف امریکہ کے ایک کالم کا یہ رپورٹ ۔۔۔۔۔۔۔
۔
ٹیپو سلطان 1782 میں میسور کے حکمران بنے۔ انہیں تاریخی طور پر ’شیرِ میسور‘ بھی کہا جاتا ہے۔ ٹیپو سلطان کے دورِ حکومت کو جنگ میں ٹیکنالوجی کے استعمال اور انتطامی سطح پر کئی نئے تصورات متعارف کرانے کے لیے یادگار تصور کیا جاتا ہے۔
۔
برصغیر میں ٹیپو سلطان کو جنگ میں راکٹ کے استعمال کا بانی قرار دیا جاتا ہے۔ سن 1780 اور 1790 میں ٹیپو سلطان نے برطانیہ سے ہونے والی جنگوں میں راکٹوں کا استعمال کیا تھا۔
۔
مؤرخین کے مطابق ٹیپو سلطان کو باغبانی اور زراعت سے خاص دلچسپی تھی اور انہوں نے بنگلور میں 40 ایکڑ پر پھیلا ہوا لال باغ بنایا تھا۔ اراضی کے انتظام سے متعلق سلطان کے قوانین کی وجہ سے میسور میں ریشم کی صنعت کو فروغ ملا اور یہ ریاست ایک اہم معاشی مرکز میں تبدیل ہو گئی تھی۔
۔
رپورٹ کے اِس حصہ کو بغور پڑھئے پھر سوچئے کہ ٹیپو سلطان نے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کہاں سے سیکھا؟
ٹیپو کے زمانے میں انگریزی اسکولیں نہیں تھیں۔اور نہ ہی ٹیپو تعلیم حاصل کرنے آکسفورڈ گیا ۔پھر بھی جنگ میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال ۔کیا شان تھی مسلمان مدارس کی جہاں ہر قسم کی تعلیم دی جاتی تھی جسکی بناپر ٹیپو میسور کا سلطان بنا ۔۔۔۔۔
۔
ٹیپو نے کسی انگریز سائنس دان تھے کی مدد سے جنگ میں راکٹ کا استعمال نہیں کیا ۔ٹیپو نے کسی انگریز ایگریکلچر ماہر کو باغباں مقرر نہیں کیا ۔۔۔۔میسور میں ریشم کی صنعت میں ترقی انگریزوں کی مہربانی کا صدقہ نہیں تھی ۔بلکہ یہ سب کچھ اسلامی مدارس کی اصل تعلیم کی بدولت تھی ۔
۔
مدارس کے منتظمین کےلئے سوچنے کی بات ہے۔ورلڈبینک اور دیگر سودی اداروں کی بوجھ تلی گورنمنٹوں کی باتیں مان کر نئے نئے نظام متعارف کرنے، نئے تجربات کرکے مسلمان بچوں کی زندگی کو تختہ مشق بنانے سے ترقیاں ہرگز نہیں ملیں گی ۔ مدارس میں اصل اسلامی تعلیم کو بحال کریں تو ٹیپو جیسی شخصیات آج بھی پیدا ہوسکتی ہیں ۔۔۔
۔
اس موضوع سے متعلق پڑھئے ہمارے دو اور کالم
"گوروں کا آکسفورڈ بمقابلہ شاہجہاں کا تاج محل"
۔
"مُسْلْمَانانِ برّصغیر کے رُسوخْ فِیْ الْعِلْم کی کہانی تاجِ برطانیہ کے ایک سرکاری مُبَصّرْ کی زبانی"
✍️ ابو حاتم
31/01/2022/
👍1