🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
سید عالم ﷺ نے مکہ معظمہ کو دیکھ کر فرمایا تھا:

اللہ کی قسم ! بلاشبہ تو اللہ کی زمین میں سب سے بہتر ہے ، اور اللہ پاک کے نزدیک سب سے محبوب سر زمین ہے ۔

( ترمذی ، ر 3925 ۔ صحیح )

سیدنا حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے تھے:

روئے زمین پر مکہ مکرمہ کے علاوہ کوئی ایسا شہر نہیں جس کی طرف جمیع انبیا ، ملا ئکہ ، مرسلین اور آسمان و زمین سے اللہ کے نیک بندے اور جن جمع ہوتے ہوں ۔ ( یعنی یہ سب اسی بابرکت شہر میں جمع ہوتے ہیں )

( فضائل‌مکۃ والسکن فیھا مترجم ، ص 19 )

اللہ پاک‌اس بابرکت شہر کی محبت سے ہمارے دلوں کو کبھی محروم نہ کرے ، یہ شہر سید الانبیا ﷺ کا مسکن بھی رہا ہے ، نیز جو نبی علیہ السلام اپنی قوم کی طرف سے ستائے جاتے وہ یہیں تشریف لاتے تھے ۔
یہاں سیکڑوں انبیا کی قبریں ہیں ، بلکہ امام ابن جماعہ شافعی رحمہ اللہ نے ایک ہزار کے قریب انبیا علیھم السلام‌ کی قبور کا قول کیا ہے ۔

( انظر: ھدیۃ السالک الی المذاھب الاربعۃ فی المناسک ، فصل مابین الحجر الاسود والرکن الیمانی ۔۔۔۔۔۔۔۔ ج1 ، ص 195 )

✍️ لقمان شاہد
24-1-2022 ء

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3365571880389644&id=100008105947430
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
مشہور تابعی بزرگ امام حسن بصری رحمہ اللہ نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نےفرمایا:

جو مجھے ( ظاہری حیات میں ) نہ پا سکا اور میری بیعت نہ کر سکا ، تو وہ میری وفات کے بعد مدینہ آئے ۔۔۔۔ مجھ پر سلام بھیجے ، اور میری قبر کی زیارت کرے ۔۔۔۔۔ تو تحقیق اس نے میری بیعت کر لی ۔

( فضائل‌مکۃ والسکن فیھا ، عربی ص 37 ، اردو ترجمہ مولانا راشد مدنی ، ص 43 )

اللہ کی رحمت سے ہم‌ مدینہ منورہ میں سرکار ﷺ کی زیارت کے لیے حاضر ہوں گے ۔ 😥😥

امام مدینہ امام مالک رحمہ‌اللہ اس بات کو مکروہ سمجھتے تھے کہ کوئی یوں کہے:

میں نے رسول اللہ کی قبر کی زیارت کی ، بلکہ وہ کہتے تھے یوں کہنا چاہیے:

میں نے نبی پاکﷺ کی زیارت کی ۔

( مدارج النبوة ، ج دوم ، ص 447 ، نوریہ رضویہ پبلشنگ کمپنی لاہور )

✍️ لقمان شاہد
24-1-2022 ء

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3365805733699592&id=100008105947430
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
حجرِ اسود شریف اور رُکنِ یَمانی کے درمیان والی اِس بابرکت جگہ کو بھی " ریاض الجنہ " کہا گیا ہے ۔
رب تعالیٰ جنت کی اس پیاری کیاری کے طفیل ہمیں جنت الفردوس نصیب فرمائے !

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3366610366952462&id=100008105947430
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
یہ وہ مبارک شہر ہے جس کی قرآن پاک میں تعریف کی گئی ہے ، بلکہ قسم فرمائی گئی ہے ۔
یہاں ایک نماز کا ثواب لاکھ نماز کے برابر ہے ، ایک روزے کا اجر لاکھ روزوں کے برابر ہے ، ایک نیکی کی جزا لاکھ نیکیوں کے برابر ہے ۔

اللہ پاک اس شہر میں ہمارا رزق بڑھا دے ، ہماری ساعتوں میں اضافہ فرمادے !

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3367094060237426&id=100008105947430
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
امام ابن سیرین تابعی رحمہ اللہ فرماتے تھے:

اگر میں قسم کھاکر یہ بات کہوں تو بلا شک و شُبہ سچی ہوگی کہ:
اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے نبی ﷺ اور حضرت ابوبکر وعمر رضی اللہ عنھما کو ایک ہی مٹی سے پیدا کیا ۔۔۔۔۔۔ پھر اسی کی طرف لوٹا دیا ۔

( وفاءالوفاباخبار دارالمصطفی ، الباب الثانی فی تفضیلھا علی غیرھا من البلاد مکۃ افضل ام المدینۃ ، ج1 ، ص 34 ، ط دارالکتب العلمیۃ بیروت ، س1427 ھ )

محبوبِ ربِّ عرش ہے اِس سَبز قبّہ میں
پہلو میں جلوہ گاہ عتیق و عمر کی ہے

سعدین کا قِران ہے پہلوئے ماہ میں
جُھرمٹ کیے ہیں تارے تجلّی قمر کی ہے

✍️لقمان شاہد
30-1-2022 ء

https://www.facebook.com/100008105947430/posts/3369943159952516/
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
*📚 « امجــــدی مضــــامین » 📚*
-----------------------------------------------------------
*🕯حقوق العباد کی ادائیگی ایک اہم ذمہ داری🕯*


📬 انسان کے ذمہ اللہ تعالیٰ نے دو طرح کے حقوق رکھے ہیں ۔ایک تو وہ حقوق ہیں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بندوں کے اوپر ہیں جیسے ایمان لانا،نماز پڑھنا،روزہ رکھنا ،حج و زکوٰۃ ادا کرنا وغیرہ اور دوسرے وہ حقوق اور ذمہ داریاں ہیں جو ایک بندے کے دوسرے بندے پر عائد ہوتے ہیں ۔

پہلے کو حقوق اللہ اور دوسرے کو حقوق العباد کہاجاتا ہے ان دونوں حقوق میں حقوق العباد کو جو مقام اور اہمیت حاصل ہے وہ کسی با شعور مسلمان پر پوشیدہ نہیں ہے ۔قرآن کریم اور احادیث مبارکہ میں متعدد مقامات پر حقوق العباد کی اہمیت کو اُجاگر کیا گیا ہے اور اس سلسلے میں غفلت اور کوتاہی برتنے کو اللہ تعالیٰ کے غضب کا موجب و سبب قرار دیا گیا ہے ۔

حقوق العباد ایک بندے پر اللہ کی طرف سے عائد کردہ دوسرے بندے کے جو حقوق ہیں ان کی ادائیگی کا نام ہیں حقوق اللہ اور حقوق العباد ایک ہی تصویر کے دو رُخ ہیں دونوں حقوق ایک دوسرے سے جُڑے ہوئے ہیں ایک کی ادائیگی سے دوسرا حق بھی ادا ہوتا ہے کیوں کہ بندوں کے حقوق ادا کرنے کا حکم اللہ تعالیٰ نے دیا ہے اور اللہ کا حکم مان کر ہم حقوق اللہ و حقوق العباد کا خیال کیو ں نہیں رکھتے؟۔

جب کہ کامل مسلمان بننے اور اللہ کی رحمت و مغفرت کا مستحق بننے کے لیے ضروری ہے کہ اللہ کے حقوق کو صحیح طور پر ادا کرنے کے ساتھ ساتھ بندوں کے حقوق بھی ادا کیے جائیں ۔ بندوں کے حقوق کی ادائیگی میں کسی طرح کی کوتاہی نہ کی جاے ورنہ اندیشہ ہے کہ نماز، روزہ و دیگر فرائض کی پابندی کے با وجود رحمت و مغفرت الہٰئ سے محرومی ہمارا مقدر بن جاے جیسا کہ حضور نبی رحمت ﷺ کی ایک حدیث اس پر شاہد ہے ۔

ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ نے صحابۂ کرام سے پوچھا تم جانتے ہو مفلس کون ہے؟ صحابہ نے جواب دیا :اللہ کے رسول !مفلس وہ شخص ہے جس کے پاس درہم و دینار اور مال و دولت نہ ہو آپ نے فرمایانہیں بلکہ میری امت کا مفلس وہ شخص ہوگا جو قیامت کے دن بارگاہ الٰہی میں حاضر ہوگا دنیا میں وہ نماز پڑھتا رہا ہوگا ،روزے رکھتا رہا ہوگا،زکوٰۃ ادا کرتا رہا ہوگا ،لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس نے کسی کو گالی دی ہوگی ،کسی پر تہمت لگائی ہوگی ،کسی کا مال کھایا ہوگا ،کسی کا خون بہایا ہوگا اور کسی کو مار ا پیٹا ہوگا{تو یہ سب مظلومین بارگاہ الٰہی میں اس کے خلاف استغاثہ (فریاد)دائر کریں گے چناں چہ اللہ کے حکم سے}اس کی نیکیاں ان میں تقسیم کر دی جائیں گی

یہاں تک کی اس کی ساری نیکیاں ختم ہو جائیں گی ،لیکن اس کے ذمہ ابھی بھی دوسروں کے حقوق باقی ہوں گےتو مظلوموں کے گناہ اس کے کھاتے میں ڈال دیے جائیں گے (یوں اس کا دامن نیکیوں سے خالی ہو جاے گا اور اس کے پاس گناہ ہی گناہ باقی رہ جائیں گے بلکہ دوسروں کے گناہ کا بوجھ بھی اس پر ڈال دیا جاے گا ) پھر سوائے جہنم کا ایندھن بننے کے اس کے لیے کوئی چارۂ کار نہیں رہ جاے گا یعنی وہ جہنم میں ڈال دیا جائیگا (مسلم شریف)۔

ایسے بڑے خطرے اور نقصان سے بچنے کے لیے اور اپنا دامن حساب وکتاب سے صاف رکھنے کے لئے ہمیں اپنے معاملات کی صفائی کی بہت ضرورت ہے ۔مذکورہ حدیث رسول کریم سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ نماز روزے اور دیگر عبادات کے ساتھ ساتھ حقوق العباد کی ادائیگی بھی کتنی ضرور ی ہے ان میں کوتاہی سے ہمارای عبادتیں بھی ضائع ہو سکتی ہیں اس لیے ہمارے لیے ضروری ہے کی ہم بندوں کے حقوق کو بھی سمجھیں اور پھر انہیں صحیح طریقے سے ادا کریں ۔

اس وقت ہمارے معاشرے میں یہ رویہ عام ہے کی کچھ لوگ حقو ق اللہ کا تو اہتمام کرتے ہیں (یعنی نماز ،روزے کے پابند ہیں )مگر وہ معاملات ِزندگی میں کھوٹے ہیں ،اخلاق و کردار کی پستی میں مبتلا ہیں اور امانت و دیانت سے خالی ہیں ،اسی طرح کچھ وہ لوگ ہیں جو حقوق اللہ پر تو با قاعدہ دھیان نہیں دیتے (یعنی نماز روزے وغیرہ عبادات کا تو اہتمام نہیں کرتے ) لیکن اخلاق و کردار کے اچھے ،معاملات کے کھرے اور امانت و دیانت جیسی خوبیوں سے بہرہ ورتے ہیں ۔جب کہ اسلام کا تقاضہ یہ ہے کہ اگر ہم کامل مسلمان بننا چاہتے ہیں تو ہمیں حقوق اللہ کی ادائیگی کے ساتھ حقوق العباد کی ادائیگی پر بھی مکمل توجہ دینی ہوگی۔

حقوق العباد میں دنیا کے ہر مذہب ،ہر ذات و نسل ،ہر درجے اور ہر حیثیت کے انسانوں کے حقوق آجاتے ہیں ۔ لہٰذا اگر ہم اپنے عزیزوں ،دوست و احباب اور رشتہ داروں کے حقوق ادا کریں تو اس کے ساتھ غیروں کے بھی حقوق ادا کریں، غلام اگر مالک کی خدمت کرے تو مالک بھی غلام کا پورا پورا خیال رکھے ،والدین اگر اولاد کے لئے زندگی کی ہر آشائش (آرام)ترک کر دیں تو اولاد بھی ان کی خدمت اور عزت میں کوئی کمی نہ کریں ۔
جن گناہوں کا تعلق حقوق اللہ (اللہ کے حقوق)سے ہے جیسے نماز ،روزہ،زکوٰۃ اور حج کی ادائیگی میں کوتاہی، اللہ تعالیٰ سے سچی توبہ کرنے پر اللہ تعالیٰ ان گناہوں کو معاف فرمادیے گا (انشاء اللہ ) ۔لیکن جن گناہوں کا تعلق حقوق العباد (بندوں کے حقوق)سے ہے مثلاًکسی شخص کا سامان چرایا ،یا کسی شخص کو کوئی تکلیف دی ،یا کسی شخص کا حق مارا ،کسی کی زمین جائداد پر نا جائز قبضہ کیا تو قرآن و حدیث کی روشنی میں اکثر علما و فقہا اس بات پر متفق ہیں کہ اس کی معافی کے لئے سب سے پہلے ضروری ہے کہ جس بندے کا ہمارے اوپر حق ہے اس کا حق ادا کریں ،یا اس سے حق معاف کروائیں ۔پھر اللہ تعالیٰ کی طرف توبہ و استغفار کے لیے رجوع کریں ۔

نبی کریم ﷺ نے فرمایا : ”شہید کے تمام گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں مگر کسی شخص کا قرض “(مسلم شریف ج/۲ص/ ۱۳۵ مجلس برکات)یعنی اگر کسی شخص کا کوئی قرض کسی کے ذمہ ہے تو جب تک ادا نہیں کر دیا جاے گا و ہ ذمہ میں باقی رہے گا ،چاہے جتنا بھی نیک عمل کر لیا جاے مشہور محدث حضرت امام نووی علیہ الرحمہ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں کہ قرض سے مراد تمام حقوق العباد ہیں یعنی اللہ کے راستے میں شہید ہونے سے حقوق اللہ تو سب معاف ہو جاتے ہیں لیکن حقوق العباد معاف نہیں ہوتے (شرح مسلم)۔

لہٰذا ہمیں حقوق العباد کی ادائیگی کو اپنی اہم ذمہ داری سمجھتے ہوئے ہمیں اپنے معاملات کا جائزہ لینا چاہیے کہ کہیں ہماری طرف سے بھی حقوق العباد ادا کرنے میں کوتاہی تو نہیں ہو رہی ہے ؟کہیں ہم بھی دانستہ (جان بوجھ کر)یا غیر دانستہ (انجانے میں)کسی کا حق تو نہیں مار رہے؟ کہیں اور کبھی کسی سے قرض لیا ہو اور ابھی تک اسے ادا کرنے کے بارے میں سوچا بھی نہ ہو؟یا کسی کی زمین ہتھیالی ہو؟

ہمیں غیر جانب دارانہ طور پر غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے ،اپنے پچھلے معاملات اور موجودہ حالات دونوں کی جانچ پڑتال کرنا چاہیے،خرید و فروخت میں، تجارت میں آپس کی تجارتی شرکت میں ،اگر کوئی حق کسی کا ہمارے ذمہ باقی رہ گیا تو اس کو فوراً صاف کرلینا چاہیے یا ہمارے ذمہ کوئی قرض ہے تو اس کی ادائیگی کی فکر کرنی چاہیئے

اس گمان میں نہیں رہنا چاہیے کہ اولاد ادا کرے گی ۔ جائداد ہے تو اپنے شرکت داروں کو شریعت کے مقررہ طریقے کے مطابق ان کا حق دینا چاہیے ،یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ ہمارے بہن بھائی ہیں ،آپس کی بات ہے ،میدان محشر میں نہ کوئی کسی کا بیٹا ہوگا ،نہ بھائی بہن ،ہر شخص اپنی فکر میں پریشان و حیران ہوگا ،اسی طرح اگر کسی پر تہمت (الزام)لگائی ہے ،کسی کو پریشان کیا ہے ،کسی کی غیبت کی ہے ،کسی کو کسی طرح سے نقصان پہنچایا ہے تو اس کو اس کی زندگی میں سب سے اہم کام سمجھ کر معاملا ت کو صاف کر لینا چاہیئے ،معاف کرائے یا اس کا حق اس کو دے ،

اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا ہے کہ امت مسلمہ کو راہ استقامت عطا فرمائے ،اور حقوق العباد کی ادائیگی پر دھیان دینے کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین
https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp

*از قلم✍🏻 حبیب اللہ قادری انواری، دارالعلوم انوار مصطفیٰ سہلاؤ شریف، باڑمیر، راجستھان ۔*
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلَّم کا فرمان ہے: خَيْرُكُمْ مَن تَعَلَّمَ القُرْآنَ وعَلَّمَهُ ترجمہ: تم میں سے بہتر وہ ہے جو قرآن سیکھے اور سکھائے۔ (صحيح البخاری: 5027 )

اس روایت کے اگلے حصے میں ہے کہ حضرت ابو عبد الرحمن سلمی رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو

حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانہ خلافت سے حجاج کے گورنر بننے تک قرآن پڑھایا اور فرمایا کہ

یہی حدیث ہے جس نے مجھے یہاں بیٹھا رکھا ہے۔

فتح الباری میں اس حدیث کی شرح میں ہے : قرآن مجید اشرف العلوم ہے پس جو شخص قرآن مجید سیکھے اور دوسروں کو سکھائے وہ اس سے زیادہ شرف والا ہو گا۔جو غیر قرآن کو سیکھے اور سکھائے ۔بلاشبہ جو قرآن کو سیکھنے اور سیکھانے کو جمع کرنے والا ہے وہ اپنی بھی تکمیل کرتا ہے اور دوسروں کی بھی ۔وہ نفع قاصر اور نفع متعدی کو جمع کرتا ہے اس وجہ سے وہ سب سے افضل ۔

(فتح الباری بشرح البخاری، جلد 15،ص152،مطبوعہ الرسالۃ العالمیہ)

وَ مَنْ اَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّنْ دَعَاۤ اِلَى اللّٰهِ وَ عَمِلَ صَالِحًا وَّ قَالَ اِنَّنِیْ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ(۳۳)

ترجمہ کنز الایمان: اور اس سے زیادہ کس کی بات اچھی جو اللہ کی طرف بلائے اور نیکی کرے اور کہے میں مسلمان ہوں۔ (حم السجدۃ : 33)

ان امور کی دعوت دینے میں قرآن مجید بھی ہے۔

تو معلوم ہوا کہ قرآن کی تعلیم دینے والا بہترین لوگوں میں سے ہے۔

خیر الکلام کلام اللہ ، یعنی کہ سب سے اچھا کلام اللہ کا کلام ہے، اس کلام کو سیکھنے سکھانے والا خیر الناس ہوا ، یعنی لوگوں میں سے بہترین ۔

بندے کو رب سے قریب کرنے والی چیزوں میں سے ایک اہم کام تلاوت قرآن ہے تو گویا قرآن سیکھانے والا دوسرے مسلمان کو رب سے قریب کرنے میں مددگار ہوتا ہے۔

قرآن پڑھنے والے کو ہر ہر حرف پر دس نیکیاں ملتی ہیں اور سیکھانے والا بھی اجر کا مستحق ہوتا ہے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلَّم کا فرمان ہے:مَن دَلَّ على خَيْرٍ فَلَهُ مِثْلُ أَجْرِ فاعِلِهِ ۔ ترجمہ:جس شخص نے نیکی کی طرف رہنمائی کی تو اس کو اس نیک کام کرنے والے کی مثل اجر ملے گا۔(الصحیح المسلم :1893)

تو سیکھ کر پڑھنے والا جب تک پڑھتا رہے گا سیکھانے والا اجر پاتا رہے گا۔

ایک حدیث شریف میں ہے: جس شخص نے کتابُ اللہ کی ایک آیت یا علم کا ایک باب سیکھایا اللہ عَزَّوَجَلَّ تا قِیا مت اس کا اجر بڑھا تا رہیگا۔ (تاریخ دمشق لابن عساکِر ج۵۹ ص۲۹۰) 

ذُوالنُّورین، جامع القراٰن حضرتِ سیِّدُنا عثمان ابنِ عفّان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے رِوایت ہے کہ تا جدارِ مدینۂ منوّرہ، سلطانِ مکّۂ مکرّمہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اِرشاد فرمایا : جس نے قراٰنِ مُبین کی ایک آیت سیکھائی اس کے لیے سیکھنے والے سے دُگنا ثواب ہے۔

ایک اور حدیثِ پاک میں حضرتِ سیِّدُنااَنَس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے رِوایت ہے کہ خاتَمُ الْمُرْسَلین، شفیعُ الْمُذْنِبیْن، رَحمَۃٌ لِّلْعٰلمین صلی اﷲ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم فرماتے ہیں : جس نے قراٰنِ عظیم کی ایک آیت سکھائی جب تک اس آیت کی تلاوت ہوتی رہے گی اس کے لیے ثواب جاری رہے گا۔ (جَمْعُ الْجَوامِع ج۷ ص ۲۸۲، ۲۲۴۵۵۔ ۲۲۴۵۶،تلاوت کی فضیلت، مطبوعہ مکتبہ المدینہ )

حضرت عاصم بن کلیب اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے مسجد میں لوگوں کے قرآن پڑھنے اور پڑھانے کی آوازیں سنیں تو آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا : یہ وہ لوگ ہیں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلَّم کو سب سے زیادہ پسند ہیں ۔

(العجم الاوسط للطبرانی، 121)

تو قرآن پڑھانے والا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا پسندیدہ ہے۔

خیرکم والی حدیث کی شرح میں مفتی احمد یار خان نعیمی مراۃ المناجیح میں لکھتے ہیں : قرآن سیکھنے سکھانے میں بہت وسعت ہے ۔بچوں کو قرآن کے ہجے روزانہ سکھانا، قاریوں کا تجوید سیکھنا سکھانا ، علما کا قرآنی احکام بذریعہ حدیث و فقہ سیکھنا سکھانا، صوفیا کرام کا اسرار و رموز قرآن بسلسلہ طریقت سیکھنا سکھانا ، سب قرآن ہی کی تعلیم ہے۔(مرآۃ المناجیح، جلد 3، ص230)

#QuranePak #UrduTahrerOfficial
قرآن پاک پڑھانے کے فضائل
پوسٹ نمبر1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM