Forwarded from فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
پیارے آقا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ایک مرتبہ یوں ارشاد فرمایا: جس شخص کی صحبت اور مال نے مجھے سب لوگوں سے زیادہ فائدہ پہنچایا وہ ابوبکر ہے اور اگر میں اپنی اُمّت میں سے میں کسی کو خلیل( گہرا دوست) بناتا تو ابوبکر کو بناتا لیکن اسلامی اخوت قائم ہے۔([9])
(12)حوضِ کوثر پر رَفاقت:
پیارے نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ایک دفعہ حضرت صدیق رضیَ اللہُ عنہ سے فرمایا: تم میرے صاحب ہوحوضِ کوثر پر اور تم میرے صاحب ہو غار میں۔([10])
(13)سب سے زیادہ مہربان:
شفیعِ اُمّت صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے حضرت سیّدنا جبریلِ امین علیہِ السَّلام سے اِسْتِفْسار فرمایا: میرے ساتھ ہجرت کون کرے گا؟ تو سیّدنا جبریلِ امین علیہِ السَّلام نے عرض کی: ابو بکر (آپ کے ساتھ ہجرت کریں گے)، وہ آپ کے بعد آپ کی اُمّت کے معاملات سنبھالیں گے اور وہ اُمّت میں سے سب سے افضل اوراُمّت پر سب سے زیادہ مہربان ہیں۔([11])
(14)صدیقِ اکبر کے احسانات:
نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: مجھ پر جس کسی کا احسان تھا میں نے اس کا بدلہ چُکا دیا ہے، مگر ابوبکر کے مجھ پر وہ احسانات ہیں جن کا بدلہ اللہ پاک اُنہیں روزِ قیامت عطا فرمائے گا۔([12])
(15)خاص تجلّی:
پیارے حبیب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم غارِ ثور تشریف لے جانے لگے تو حضرت ابوبکر صدیق رضیَ اللہُ عنہ نے اُونٹنی پیش کرتے ہوئے عرض کی: یا رسولَ اللہ!اس پر سوار ہوجائیے۔ آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سوار ہوگئے پھر آپ نے حضرت ابوبکر صدیق رضیَ اللہُ عنہ کی طرف متوجہ ہوکر ارشاد فرمایا: اے ابوبکر! اللہ پاک تمہیں رضوانِ اکبر عطا فرمائے۔ عرض کی: وہ کیا ہے؟ آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: اللہ پاک تمام بندوں پر عام تجلّی اور تم پر خاص تجلّی فرمائے گا۔([13])
وصال و مدفن:
آپ رضی اللہ عنہ کا وصال 22 جُمادَی الاخریٰ 13ھ شب سہ شنبہ (یعنی پیر اور منگل کی درمیانی رات) مدینۂ منورہ (میں) مغرب و عشاء کے درمیان تریسٹھ (63) سال کی عمر میں ہوا۔ حضرت سیّدنا عمر بن خطّاب رضی اللہ عنہ نے نمازِ جنازہ پڑھائی([14]) اور آپ رضی اللہ عنہ کوپیارے آقا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے پہلو میں دفن کیا گیا۔([15])
اللہ پاک کی ان پر رحمت ہو اور ان کے صدقے ہماری مغفرت ہو ۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
([1]) بخاری،ج2،ص522، حدیث:36717
([2]) پ10، التوبۃ:40
([3]) تاریخ الخلفاء، ص: 46ملتقطاً
([4]) بخاری،ج 1،ص177، حدیث:466،تفہیم البخاری،ج 1،ص818
([5]) ابو داؤد،ج 4، ص280، حدیث:4652
([6]) الحاوی للفتاویٰ،ج 2،ص51
([7]) فضائل الخلفاء لابی نعیم، ص38، حدیث:10
([8]) بخاری،ج 1،ص180، حدیث:476، تفہیم البخاری،ج 1،ص829
([9]) بخاری،ج 2،ص591، حدیث: 3904
([10]) ترمذی،ج 5،ص378، حدیث:3690
([11]) جمع الجوامع،ج 11،ص39، حدیث:160
([12]) ترمذی،ج5،ص374، حدیث:3681
([13]) الریاض النضرۃ،ج 1،ص166
([14]) کتاب العقائد، ص43
([15]) طبقاتِ ابن سعد،ج3،ص157
https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*از قلم✍️ عدنان احمد عطاری مدنی۔*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
(12)حوضِ کوثر پر رَفاقت:
پیارے نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ایک دفعہ حضرت صدیق رضیَ اللہُ عنہ سے فرمایا: تم میرے صاحب ہوحوضِ کوثر پر اور تم میرے صاحب ہو غار میں۔([10])
(13)سب سے زیادہ مہربان:
شفیعِ اُمّت صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے حضرت سیّدنا جبریلِ امین علیہِ السَّلام سے اِسْتِفْسار فرمایا: میرے ساتھ ہجرت کون کرے گا؟ تو سیّدنا جبریلِ امین علیہِ السَّلام نے عرض کی: ابو بکر (آپ کے ساتھ ہجرت کریں گے)، وہ آپ کے بعد آپ کی اُمّت کے معاملات سنبھالیں گے اور وہ اُمّت میں سے سب سے افضل اوراُمّت پر سب سے زیادہ مہربان ہیں۔([11])
(14)صدیقِ اکبر کے احسانات:
نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: مجھ پر جس کسی کا احسان تھا میں نے اس کا بدلہ چُکا دیا ہے، مگر ابوبکر کے مجھ پر وہ احسانات ہیں جن کا بدلہ اللہ پاک اُنہیں روزِ قیامت عطا فرمائے گا۔([12])
(15)خاص تجلّی:
پیارے حبیب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم غارِ ثور تشریف لے جانے لگے تو حضرت ابوبکر صدیق رضیَ اللہُ عنہ نے اُونٹنی پیش کرتے ہوئے عرض کی: یا رسولَ اللہ!اس پر سوار ہوجائیے۔ آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سوار ہوگئے پھر آپ نے حضرت ابوبکر صدیق رضیَ اللہُ عنہ کی طرف متوجہ ہوکر ارشاد فرمایا: اے ابوبکر! اللہ پاک تمہیں رضوانِ اکبر عطا فرمائے۔ عرض کی: وہ کیا ہے؟ آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: اللہ پاک تمام بندوں پر عام تجلّی اور تم پر خاص تجلّی فرمائے گا۔([13])
وصال و مدفن:
آپ رضی اللہ عنہ کا وصال 22 جُمادَی الاخریٰ 13ھ شب سہ شنبہ (یعنی پیر اور منگل کی درمیانی رات) مدینۂ منورہ (میں) مغرب و عشاء کے درمیان تریسٹھ (63) سال کی عمر میں ہوا۔ حضرت سیّدنا عمر بن خطّاب رضی اللہ عنہ نے نمازِ جنازہ پڑھائی([14]) اور آپ رضی اللہ عنہ کوپیارے آقا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے پہلو میں دفن کیا گیا۔([15])
اللہ پاک کی ان پر رحمت ہو اور ان کے صدقے ہماری مغفرت ہو ۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
([1]) بخاری،ج2،ص522، حدیث:36717
([2]) پ10، التوبۃ:40
([3]) تاریخ الخلفاء، ص: 46ملتقطاً
([4]) بخاری،ج 1،ص177، حدیث:466،تفہیم البخاری،ج 1،ص818
([5]) ابو داؤد،ج 4، ص280، حدیث:4652
([6]) الحاوی للفتاویٰ،ج 2،ص51
([7]) فضائل الخلفاء لابی نعیم، ص38، حدیث:10
([8]) بخاری،ج 1،ص180، حدیث:476، تفہیم البخاری،ج 1،ص829
([9]) بخاری،ج 2،ص591، حدیث: 3904
([10]) ترمذی،ج 5،ص378، حدیث:3690
([11]) جمع الجوامع،ج 11،ص39، حدیث:160
([12]) ترمذی،ج5،ص374، حدیث:3681
([13]) الریاض النضرۃ،ج 1،ص166
([14]) کتاب العقائد، ص43
([15]) طبقاتِ ابن سعد،ج3،ص157
https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*از قلم✍️ عدنان احمد عطاری مدنی۔*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
Telegram
فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
اہلسنت و جماعت مسلک اعلیٰ حضرت کا ترجمان، وسط ہند کی عظیم درسگاہ " دارالعلوم امجدیہ ناگپور مہاراشٹرا" کے نام سے منسوب گروپ
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM