Forwarded from د.محمد ظھور الحنفی البریلوی
"صحابہ و اہل بیت" یا "اہل بیت و صحابہ" ؟؟
تحریر : نثار مصباحی
(آج ایک واٹس ایپ گروپ میں ایک موقر سُنی عالم کے سوال پر فقیر کا جواب)
سوال :
ہم نے جلسے کے اشتہار میں "صحابۂ کرام و اہل بیتِ اطہار" لکھا.
ایک صاحب کہتے ہیں : "اہل بیت" پہلے ہونا چاہیے.
ما ذا تری ؟
جواب:
یہ "الزام ما لا یلزم" ہے. یعنی جو ضروری نہیں اسے ضروری قرار دینا.
عربی اردو دونوں زبانوں میں "واو" مطلقا دو یا چند چیزوں کو جمع کرنے کے لیے آتا ہے. اصول کی کتابوں میں تصریح ہے : الواو لمطلق الجمع.
اس لیے کوئی "صحابہ و اہل بیت" کہے یا "اہل بیت و صحابہ" کہے, دونوں صورتوں میں بات ایک ہی ہے. یعنی یہ دونوں ترکیبیں یہاں ان دونوں مقدس جماعتوں کو یکجا ذکر کرنے کے لیے ہیں. ان کی تقدیم و تاخیر سے مقصود ایک کو دوسرے سے افضل بتانا نہیں ہے.
عموما یہ لوگ جو مسلمانوں کو اس جبری تکلف میں مبتلا کرنا چاہتے ہیں وہ اہل بیت اطہار کو مطلقا صحابہ پر نہ صرف مقدم سمجھتے ہیں بلکہ رتبے میں افضل بھی مانتے ہیں. جب کہ یہ دونوں مقدس جماعتیں کلی طور پر ایک دوسرے سے ہرگز الگ نہیں. بہت سے اہل بیت "صحابہ" میں شامل ہیں, اور بہت سے صحابہ "اہل بیت" میں شامل ہیں. اس لیے جس کو بھی مقدم رکھیں گے اس میں دوسری جماعت کے حضرات بھی شامل ہوں گے.
درحقیقت اس ذہنیت کے لوگوں کی اس طلب کے پیچھے دو مقدمات ہیں:
1- اہل بیت اطہار "صحابۂ کرام" سے افضل ہیں.
2- تقدیمِ ذکر کے لیے تقدیمِ رتبہ لازم ہے.
جب کہ یہ دونوں مقدمات مسلّم ہی نہیں ہیں. خاص طور سے دوسرا مقدمہ تو صراحتا باطل ہے. اس لیے کہ "تقدیم فی الذکر, تقدیم فی الرتبہ" کو مستلزم ہی نہیں ہے.
یہی وجہ ہے کہ یہ جبری مطالبے والے لوگ بھی اپنے جملوں میں بکثرت لفظِ "انبیا و مرسلین" استعمال کرتے ہیں. اگر ان کی جبری منطق درست مان لی جائے تو یہ ترکیب بالکل غلط قرار پائے گی اور "انبیا و مرسلین" کی جگہ "مرسلین و انبیا" کہنا ضروری ہوگا, کیوں کہ مرسلین کرام بلاشبہہ انبیاے کرام سے افضل ہیں.
مگر خود ان لوگوں کا بلا کسی اشکال کے یہ ترکیب (انبیا و مرسلین) تسلسل کے ساتھ استعمال کرنا ان کے دعوے کی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے. بلکہ لاشعوری طور پر یہ خود ہی اپنے دعوے کے خلاف دلیل فراہم کرتے ہیں.
حاصل گفتگو ظاہر ہے کہ ایسے لوگوں کا یہ مطالبہ ایک بےدلیل "جبر" ہے. اور یہ ایسی چیز کو مسلمانوں پر لازم کرنا ہے جسے اللہ عزوجل اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے لازم نہیں کیا ہے.
اللہ عزوجل ہدایت دے.
یہ تفصیلات تو جبرا لازم کرنے والوں کے لیے تھیں. لیکن اگر کوئی "بہتر" کی بات کرے تو اسکے لیے عرض ہے کہ ہم اہل سنت جب صحابۂ کرام اور اہل بیتِ اطہار کا ایک ساتھ ذکر کرتے ہیں تو ان دونوں مقدس جماعتوں میں کسی قسم کے تفاضل و تقابل کا وہم و گمان بھی نہیں ہوتا. جب ہم درود شریف میں "و علی آلہ و اصحابہ" کہتے ہیں یا اپنے جملوں میں "صحابہ و اہل بیت" کہتے ہیں تب اس قسم کا کوئی تقابل یا ان میں تفاضل ہم اہل سنت میں سے کسی کے وہم و خیال میں بھی نہیں ہوتا.
اس لیے ہم اہل سنت کی نظروں میں یہ دونوں ترکیبیں یکساں ہیں.
پھر بھی اگر کوئی ان میں سے خاص اہلِ بیتِ اطہار کے لیے تقدیمِ ذکر پر اصرار کرے تو اسے درج ذیل نکات بھی پیشِ نظر رکھنا چاہیے:
* اہل بیت اطہار میں ام المؤمنین سیدتنا خدیجہ اور مولا علی کرم اللہ وجہہ کے ساتھ صحابۂ کرام خصوصا حضرتِ ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کی خدمات بھی آغازِ اسلام ہی سے ہیں.
* حجم اور مجموعی لحاظ سے صحابۂ کرام کی خدماتِ دین کو اہلِ بیتِ اطہار کی خدمات پر تقدم حاصل ہے.
* صحابہ کرام میں خلفاے راشدین بھی ہیں جو انبیا و مرسلین کے بعد علی الاطلاق تمام مسلمانوں سے افضل ہیں.
* صحابۂ کرام کا ذکر پہلے کرنے سے رافضیوں اور نیم رافضیوں کا رد ہوتا ہے.
* صحابۂ کرام کا تذکرہ قرآن حکیم میں رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے ذکر سے متصل ہے:
محمد رسول الله والذین معہ اشداء علی الکفار... الآیہ
امید ہے یہ چند سطریں کافی ہوں گی.
اللہ عزوجل صحابہ و اہل بیت کے سچے عاشقوں یعنی اہل سنت و جماعت پر اپنی خاص رحمتیں نازل فرمائے.
و صلی اللہ تعالی علی النبی الأمی و آلہ و صحبہ و بارک وسلم.
#نثارمصباحی
21 محرم 1440
2 اکتوبر 2018
تحریر : نثار مصباحی
(آج ایک واٹس ایپ گروپ میں ایک موقر سُنی عالم کے سوال پر فقیر کا جواب)
سوال :
ہم نے جلسے کے اشتہار میں "صحابۂ کرام و اہل بیتِ اطہار" لکھا.
ایک صاحب کہتے ہیں : "اہل بیت" پہلے ہونا چاہیے.
ما ذا تری ؟
جواب:
یہ "الزام ما لا یلزم" ہے. یعنی جو ضروری نہیں اسے ضروری قرار دینا.
عربی اردو دونوں زبانوں میں "واو" مطلقا دو یا چند چیزوں کو جمع کرنے کے لیے آتا ہے. اصول کی کتابوں میں تصریح ہے : الواو لمطلق الجمع.
اس لیے کوئی "صحابہ و اہل بیت" کہے یا "اہل بیت و صحابہ" کہے, دونوں صورتوں میں بات ایک ہی ہے. یعنی یہ دونوں ترکیبیں یہاں ان دونوں مقدس جماعتوں کو یکجا ذکر کرنے کے لیے ہیں. ان کی تقدیم و تاخیر سے مقصود ایک کو دوسرے سے افضل بتانا نہیں ہے.
عموما یہ لوگ جو مسلمانوں کو اس جبری تکلف میں مبتلا کرنا چاہتے ہیں وہ اہل بیت اطہار کو مطلقا صحابہ پر نہ صرف مقدم سمجھتے ہیں بلکہ رتبے میں افضل بھی مانتے ہیں. جب کہ یہ دونوں مقدس جماعتیں کلی طور پر ایک دوسرے سے ہرگز الگ نہیں. بہت سے اہل بیت "صحابہ" میں شامل ہیں, اور بہت سے صحابہ "اہل بیت" میں شامل ہیں. اس لیے جس کو بھی مقدم رکھیں گے اس میں دوسری جماعت کے حضرات بھی شامل ہوں گے.
درحقیقت اس ذہنیت کے لوگوں کی اس طلب کے پیچھے دو مقدمات ہیں:
1- اہل بیت اطہار "صحابۂ کرام" سے افضل ہیں.
2- تقدیمِ ذکر کے لیے تقدیمِ رتبہ لازم ہے.
جب کہ یہ دونوں مقدمات مسلّم ہی نہیں ہیں. خاص طور سے دوسرا مقدمہ تو صراحتا باطل ہے. اس لیے کہ "تقدیم فی الذکر, تقدیم فی الرتبہ" کو مستلزم ہی نہیں ہے.
یہی وجہ ہے کہ یہ جبری مطالبے والے لوگ بھی اپنے جملوں میں بکثرت لفظِ "انبیا و مرسلین" استعمال کرتے ہیں. اگر ان کی جبری منطق درست مان لی جائے تو یہ ترکیب بالکل غلط قرار پائے گی اور "انبیا و مرسلین" کی جگہ "مرسلین و انبیا" کہنا ضروری ہوگا, کیوں کہ مرسلین کرام بلاشبہہ انبیاے کرام سے افضل ہیں.
مگر خود ان لوگوں کا بلا کسی اشکال کے یہ ترکیب (انبیا و مرسلین) تسلسل کے ساتھ استعمال کرنا ان کے دعوے کی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے. بلکہ لاشعوری طور پر یہ خود ہی اپنے دعوے کے خلاف دلیل فراہم کرتے ہیں.
حاصل گفتگو ظاہر ہے کہ ایسے لوگوں کا یہ مطالبہ ایک بےدلیل "جبر" ہے. اور یہ ایسی چیز کو مسلمانوں پر لازم کرنا ہے جسے اللہ عزوجل اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے لازم نہیں کیا ہے.
اللہ عزوجل ہدایت دے.
یہ تفصیلات تو جبرا لازم کرنے والوں کے لیے تھیں. لیکن اگر کوئی "بہتر" کی بات کرے تو اسکے لیے عرض ہے کہ ہم اہل سنت جب صحابۂ کرام اور اہل بیتِ اطہار کا ایک ساتھ ذکر کرتے ہیں تو ان دونوں مقدس جماعتوں میں کسی قسم کے تفاضل و تقابل کا وہم و گمان بھی نہیں ہوتا. جب ہم درود شریف میں "و علی آلہ و اصحابہ" کہتے ہیں یا اپنے جملوں میں "صحابہ و اہل بیت" کہتے ہیں تب اس قسم کا کوئی تقابل یا ان میں تفاضل ہم اہل سنت میں سے کسی کے وہم و خیال میں بھی نہیں ہوتا.
اس لیے ہم اہل سنت کی نظروں میں یہ دونوں ترکیبیں یکساں ہیں.
پھر بھی اگر کوئی ان میں سے خاص اہلِ بیتِ اطہار کے لیے تقدیمِ ذکر پر اصرار کرے تو اسے درج ذیل نکات بھی پیشِ نظر رکھنا چاہیے:
* اہل بیت اطہار میں ام المؤمنین سیدتنا خدیجہ اور مولا علی کرم اللہ وجہہ کے ساتھ صحابۂ کرام خصوصا حضرتِ ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کی خدمات بھی آغازِ اسلام ہی سے ہیں.
* حجم اور مجموعی لحاظ سے صحابۂ کرام کی خدماتِ دین کو اہلِ بیتِ اطہار کی خدمات پر تقدم حاصل ہے.
* صحابہ کرام میں خلفاے راشدین بھی ہیں جو انبیا و مرسلین کے بعد علی الاطلاق تمام مسلمانوں سے افضل ہیں.
* صحابۂ کرام کا ذکر پہلے کرنے سے رافضیوں اور نیم رافضیوں کا رد ہوتا ہے.
* صحابۂ کرام کا تذکرہ قرآن حکیم میں رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے ذکر سے متصل ہے:
محمد رسول الله والذین معہ اشداء علی الکفار... الآیہ
امید ہے یہ چند سطریں کافی ہوں گی.
اللہ عزوجل صحابہ و اہل بیت کے سچے عاشقوں یعنی اہل سنت و جماعت پر اپنی خاص رحمتیں نازل فرمائے.
و صلی اللہ تعالی علی النبی الأمی و آلہ و صحبہ و بارک وسلم.
#نثارمصباحی
21 محرم 1440
2 اکتوبر 2018
Forwarded from فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
*📚 « مختصــر ســوانح حیــات » 📚*
-----------------------------------------------------------
*🕯امیر المؤمنین حضرت ابوبکر صدیق رضی اللّٰه عنہ🕯*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
نام و نسب:
اسمِ گرامی: عبداللّٰه۔
کنیت: ابوبکر۔
لقب: دو زیادہ مشہور ہیں صدیق اور عتیق۔
سلسلۂ نسب اسطرح ہے: عبد اللہ بن عثمان بن عامر بن عمرو بن کعب بن سعد بن تیم بن مرہ بن کعب۔ حضرت کعب پر جا کر آپ رضی اللہ عنہ کا سلسلہ رسولِ اکرم ﷺ کے نسب سے جا ملتا ہے۔ آپکی والدہ کا نام ام الخیر سلمیٰ بنت ِ صخر بن عامر بن عمرو بن کعب بن سعد بن تیم بن مرہ بن کعب ہے۔
قبولِ اسلام: حضرت سیدنا ابراہیم نخعی فرماتے ہیں!
"اوّل من اسلم ابوبکر الصّدّیق" یعنی سب سے پہلے اسلام قبول کرنیوالے حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں۔
(سنن الترمذی ،رقم الحدیث،۳۷۵۶)
فضائل و مناقب:
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے !
اِلَّا تَنۡصُرُوۡہُ فَقَدْ نَصَرَہُ اللہُ اِذْ اَخْرَجَہُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا ثَانِیَ اثْنَیۡنِ اِذْ ہُمَا فِی الْغَارِ اِذْ یَقُوۡلُ لِصَاحِبِہٖ لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللہَ مَعَنَا ۚ فَاَنۡزَلَ اللہُ سَکِیۡنَتَہٗ عَلَیۡہِ۔
ترجمہ کنزالایمان: اگر تم محبوب کی مدد نہ کرو تو بے شک اللہ نے ان کی مدد فرمائی جب کافروں کی شرارت سے باہر تشريف لے جانا ہوا صر ف دو جان سے جب وہ دونوں غار ميں تھے جب اپنے يار سے فرماتے تھے غم نہ کھا بیشک اللہ ہمارے ساتھ ہے تو اللہ نے اس پر اپنا سکينہ اتارا۔
(پ۱۰، التوبۃ:۴۰)
اس آیت مبارکہ سے دو مسئلے معلوم ہوئے۔۔۔۔۔
»ايک يہ کہ حضرت ابوبکر صديق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی صحابيت قطعی بحکمِ قرآنی ہے لہٰذا اس کا انکار کفر ہے۔
»دوسرا يہ کہ حضرت صديق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا درجہ حضورﷺ کے بعد سب سے بڑا ہے کہ انہيں اللہ تعالیٰ نے حضورﷺ کا ثانی فرمايا۔ اس لئے حضور ﷺ نے انہيں اپنے مصلےٰ پر امام بنايا۔
»يہ بھی معلوم ہوا کہ حضور ﷺ کے بعد خلافت صديق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لئے ہے۔ رب تعالیٰ انہيں دوسرا بنا چکا پھر انہيں تيسرا يا چوتھا کرنے والا کون ہے۔ وہ تو قبر ميں بھی دوسرے ہيں حشر ميں بھی دوسرے ہوں گے۔
یعنی اُس اَفضلُ الْخَلْقِ بَعْدَ الرُّسُل
ثَانِیَ اثْنَیْنِہِجرت پہ لاکھوں سلام
(حدائقِ بخشش )
رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا!"مجھ پر جس کسی کا احسان تھا میں نے اس کا بدلہ چکا دیا ہے، مگر ابوبکر کے مجھ پر وہ احسانات ہیں جن کا بدلہ اللہ تعالیٰ روزِ قیامت انہیں عطا فرمائیگا۔
(سنن الترمذی، رقم الحدیث ،۳۶۸۱)
خلافتِ صدیق اکبر :
ام المؤمنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی للہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہےکہ اللہ کے حبیب ﷺ نے مرضِ وفات میں مجھے ارشاد فرمایا!
"ابوبکر اور ان کے بیٹے کو بلا لاؤ تاکہ میں انہیں پروانہ (خلافت) لکھ دوں ،مجھے خوف ہے کہ کوئی تمنا کرنیوالا اپنی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے یہ نہ کہہ دے کہ میں زیادہ حقدار ہوں کیونکہ اللہ تعالیٰ اور مسلمان ابوبکر کے علاوہ کسی سے راضی نہ ہونگے۔
(صحیح مسلم،رقم ا لحدیث،۲۳۸۷)
سیدنا جبیر بن مطعم سے روایت ہے !کہ ایک عورت اپنی کسی حاجت کی وجہ سے بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوئی تو آپ ﷺ نے اسے دوبارہ آنے کا حکم ارشاد فرمایا، وہ کہنے لگی:
یا رسول اللہ ﷺ اگر میں دوبارہ آؤں اور آپکو نہ پاؤں تو؟
"گویا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے دنیا سے پردہ فرمانے کا ذکر کر رہی تھی۔
سرور ِ عالمَﷺنے ارشاد فرمایا!اگر تم مجھے نہ پاؤ تو ابوبکر کے پاس چلی جانا ۔
(صحیح البخاری،رقم الحدیث،۳۶۵۹)
افضلیتِ صدیق اکبر:
امام بخاری رحمۃ ﷲ تعالیٰ علیہ حضرت محمد بن حنفیہ صاحبزاده جناب امیر المومنین علی رضی اللہ تعالیٰ عنھما سے راویت فرماتے ہیں:
قال: قلت لأبي: أيّ الناس خیرٌ بعد النبي صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم؟ قال: أبو بکر، قال: قلت: ثم من؟ قال: عمر)۔
یعنی میں نے اپنے والد ماجد امیر المومنین مولیٰ علی کرم ﷲ وجہہ سے عرض کیا: کہ رسول ﷺکے بعد سب آدمیوں سے بہتر کون ہیں؟ ارشاد فرمایا: "ابو بکر، میں نے عرض کیا پھر کون ؟ فرمایا: عمر"
(صحیح البخاري، رقم الحدیث،۳۶۷۱)
اہلسنت و جماعت کا اجماعی عقیدہ ہے کہ بعد انبیاء و مرسلین، تمام مخلوقتِ الہی انس و جن و ملک سے افضل حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں پھر حضرت فاروق ِاعظم پھر حضرت عثمان غنی ، پھر حضرت مولیٰ علی۔
(رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین)
(بہارِ شریعت ،ج، اول، امامت کا بیان،ص،۲۴۱)
شیخین کی خلافت کا منکر کافر ہے:
شیخین کریمین کی خلافت پر صحابہ ٔکرام کا اجماع ہے لہذا انکی خلافت کا منکر دائرہ اسلام سے خارج ہے۔
(بہارِ شریعت،ج، اول، امامت کا بیان،ص،۲۵۳)
اعلیٰ حضرت عظیم البرکت، مجدد دین وملت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں:
وجیزامام کردری مطبوعہ مصر جلد ۳ ص ۳۱۸ میں ہے۔
-----------------------------------------------------------
*🕯امیر المؤمنین حضرت ابوبکر صدیق رضی اللّٰه عنہ🕯*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
نام و نسب:
اسمِ گرامی: عبداللّٰه۔
کنیت: ابوبکر۔
لقب: دو زیادہ مشہور ہیں صدیق اور عتیق۔
سلسلۂ نسب اسطرح ہے: عبد اللہ بن عثمان بن عامر بن عمرو بن کعب بن سعد بن تیم بن مرہ بن کعب۔ حضرت کعب پر جا کر آپ رضی اللہ عنہ کا سلسلہ رسولِ اکرم ﷺ کے نسب سے جا ملتا ہے۔ آپکی والدہ کا نام ام الخیر سلمیٰ بنت ِ صخر بن عامر بن عمرو بن کعب بن سعد بن تیم بن مرہ بن کعب ہے۔
قبولِ اسلام: حضرت سیدنا ابراہیم نخعی فرماتے ہیں!
"اوّل من اسلم ابوبکر الصّدّیق" یعنی سب سے پہلے اسلام قبول کرنیوالے حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں۔
(سنن الترمذی ،رقم الحدیث،۳۷۵۶)
فضائل و مناقب:
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے !
اِلَّا تَنۡصُرُوۡہُ فَقَدْ نَصَرَہُ اللہُ اِذْ اَخْرَجَہُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا ثَانِیَ اثْنَیۡنِ اِذْ ہُمَا فِی الْغَارِ اِذْ یَقُوۡلُ لِصَاحِبِہٖ لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللہَ مَعَنَا ۚ فَاَنۡزَلَ اللہُ سَکِیۡنَتَہٗ عَلَیۡہِ۔
ترجمہ کنزالایمان: اگر تم محبوب کی مدد نہ کرو تو بے شک اللہ نے ان کی مدد فرمائی جب کافروں کی شرارت سے باہر تشريف لے جانا ہوا صر ف دو جان سے جب وہ دونوں غار ميں تھے جب اپنے يار سے فرماتے تھے غم نہ کھا بیشک اللہ ہمارے ساتھ ہے تو اللہ نے اس پر اپنا سکينہ اتارا۔
(پ۱۰، التوبۃ:۴۰)
اس آیت مبارکہ سے دو مسئلے معلوم ہوئے۔۔۔۔۔
»ايک يہ کہ حضرت ابوبکر صديق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی صحابيت قطعی بحکمِ قرآنی ہے لہٰذا اس کا انکار کفر ہے۔
»دوسرا يہ کہ حضرت صديق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا درجہ حضورﷺ کے بعد سب سے بڑا ہے کہ انہيں اللہ تعالیٰ نے حضورﷺ کا ثانی فرمايا۔ اس لئے حضور ﷺ نے انہيں اپنے مصلےٰ پر امام بنايا۔
»يہ بھی معلوم ہوا کہ حضور ﷺ کے بعد خلافت صديق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لئے ہے۔ رب تعالیٰ انہيں دوسرا بنا چکا پھر انہيں تيسرا يا چوتھا کرنے والا کون ہے۔ وہ تو قبر ميں بھی دوسرے ہيں حشر ميں بھی دوسرے ہوں گے۔
یعنی اُس اَفضلُ الْخَلْقِ بَعْدَ الرُّسُل
ثَانِیَ اثْنَیْنِہِجرت پہ لاکھوں سلام
(حدائقِ بخشش )
رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا!"مجھ پر جس کسی کا احسان تھا میں نے اس کا بدلہ چکا دیا ہے، مگر ابوبکر کے مجھ پر وہ احسانات ہیں جن کا بدلہ اللہ تعالیٰ روزِ قیامت انہیں عطا فرمائیگا۔
(سنن الترمذی، رقم الحدیث ،۳۶۸۱)
خلافتِ صدیق اکبر :
ام المؤمنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی للہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہےکہ اللہ کے حبیب ﷺ نے مرضِ وفات میں مجھے ارشاد فرمایا!
"ابوبکر اور ان کے بیٹے کو بلا لاؤ تاکہ میں انہیں پروانہ (خلافت) لکھ دوں ،مجھے خوف ہے کہ کوئی تمنا کرنیوالا اپنی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے یہ نہ کہہ دے کہ میں زیادہ حقدار ہوں کیونکہ اللہ تعالیٰ اور مسلمان ابوبکر کے علاوہ کسی سے راضی نہ ہونگے۔
(صحیح مسلم،رقم ا لحدیث،۲۳۸۷)
سیدنا جبیر بن مطعم سے روایت ہے !کہ ایک عورت اپنی کسی حاجت کی وجہ سے بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوئی تو آپ ﷺ نے اسے دوبارہ آنے کا حکم ارشاد فرمایا، وہ کہنے لگی:
یا رسول اللہ ﷺ اگر میں دوبارہ آؤں اور آپکو نہ پاؤں تو؟
"گویا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے دنیا سے پردہ فرمانے کا ذکر کر رہی تھی۔
سرور ِ عالمَﷺنے ارشاد فرمایا!اگر تم مجھے نہ پاؤ تو ابوبکر کے پاس چلی جانا ۔
(صحیح البخاری،رقم الحدیث،۳۶۵۹)
افضلیتِ صدیق اکبر:
امام بخاری رحمۃ ﷲ تعالیٰ علیہ حضرت محمد بن حنفیہ صاحبزاده جناب امیر المومنین علی رضی اللہ تعالیٰ عنھما سے راویت فرماتے ہیں:
قال: قلت لأبي: أيّ الناس خیرٌ بعد النبي صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم؟ قال: أبو بکر، قال: قلت: ثم من؟ قال: عمر)۔
یعنی میں نے اپنے والد ماجد امیر المومنین مولیٰ علی کرم ﷲ وجہہ سے عرض کیا: کہ رسول ﷺکے بعد سب آدمیوں سے بہتر کون ہیں؟ ارشاد فرمایا: "ابو بکر، میں نے عرض کیا پھر کون ؟ فرمایا: عمر"
(صحیح البخاري، رقم الحدیث،۳۶۷۱)
اہلسنت و جماعت کا اجماعی عقیدہ ہے کہ بعد انبیاء و مرسلین، تمام مخلوقتِ الہی انس و جن و ملک سے افضل حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں پھر حضرت فاروق ِاعظم پھر حضرت عثمان غنی ، پھر حضرت مولیٰ علی۔
(رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین)
(بہارِ شریعت ،ج، اول، امامت کا بیان،ص،۲۴۱)
شیخین کی خلافت کا منکر کافر ہے:
شیخین کریمین کی خلافت پر صحابہ ٔکرام کا اجماع ہے لہذا انکی خلافت کا منکر دائرہ اسلام سے خارج ہے۔
(بہارِ شریعت،ج، اول، امامت کا بیان،ص،۲۵۳)
اعلیٰ حضرت عظیم البرکت، مجدد دین وملت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں:
وجیزامام کردری مطبوعہ مصر جلد ۳ ص ۳۱۸ میں ہے۔
❤1👍1
Forwarded from فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
"من انکرخلا فۃ ابی بکررضی ﷲ تعالٰی عنہ فھو کافرفی الصحیح ومن انکر خلافۃ عمر رضی اللہ تعالی عنہ فھو کافر فی الاصح۔
خلافتِ ابو بکر رضی اللہ تعالٰی عنہ کا منکر کافر ہے، یہی صحیح ہے، اور خلافتِ عمر فاروق رضی اللہ رتعالٰی عنہ کا منکر بھی کافر ہے، یہی صحیح تر ہے"۔
(فتاویٰ رضویہ، ج، ۱۴،ص،۲۵۱)
وصال: ۲۲جمادی الثانی۱۳ھ مطابق۲۳/اگست ۶۳۴ء بروز پیر، مغرب و عشاء کے درمیان تریسٹھ سال کی عمر میں آپکا وصال ہوا۔ آپ کی مدت خلافت دو سال ،تین ماہ اور دس دن تھی۔
بوقت وصال حضرتِ سیِّدُنا صِدِّیقِ اَکبر رضی اللہ رتعالٰی عنہ نے وصیت فرمائی کہ میرے جنازے کو میرے حبیبِﷺ کے روضۂ اَنور کے دَر کے سامنے لاکر رکھ دینا اور اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا رَسُوْلَ اللہ کہہ کر عرض کرنا! "یارسولَ اللہﷺ ابو بکر آستانۂ عالیہ پر حاضِر ہے۔ اگر دروازہ خود بخود کھل جائے تو اندر لے جانا ورنہ مسلمانوں کے قبرستان جنت البقیع میں دفن کر دینا۔ جنازۂ مبارکہ کو حسبِ وَصیت جب روضۂ اَقدس کے سامنے رکھا گیا اور عرض کیا گیا: اَلسَّلامُ عَلَیْکَ یَا رَسُوْلَ اللہ! ابوبکر حاضِر ہے۔ یہ عرض کرتے ہی دروازہ خود بخود کھل گیا اور آواز آنے لگی:
"اَدْخِلُوا الْحَبِیْبَ اِلَی الْحَبِیْبِ فَاِنَّ الْحَبِیْبَ اِلَی الْحَبِیْبِ مُشْتَاقٌ" یعنی محبوب کو محبوب سے مِلادو کہ محبوب کو محبوب کا اِشتِیاق ہے۔
(تفسیر کبیر ج۱۰ص۱۶۷ داراحیاء التراث العربی بیروت)
https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*المرتب⬅ محـمد یـوسـف رضـا رضـوی امجـدی نائب مدیر "فیضـانِ دارالعـلوم امجـدیہ ناگپور گروپ" 9604397443*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
خلافتِ ابو بکر رضی اللہ تعالٰی عنہ کا منکر کافر ہے، یہی صحیح ہے، اور خلافتِ عمر فاروق رضی اللہ رتعالٰی عنہ کا منکر بھی کافر ہے، یہی صحیح تر ہے"۔
(فتاویٰ رضویہ، ج، ۱۴،ص،۲۵۱)
وصال: ۲۲جمادی الثانی۱۳ھ مطابق۲۳/اگست ۶۳۴ء بروز پیر، مغرب و عشاء کے درمیان تریسٹھ سال کی عمر میں آپکا وصال ہوا۔ آپ کی مدت خلافت دو سال ،تین ماہ اور دس دن تھی۔
بوقت وصال حضرتِ سیِّدُنا صِدِّیقِ اَکبر رضی اللہ رتعالٰی عنہ نے وصیت فرمائی کہ میرے جنازے کو میرے حبیبِﷺ کے روضۂ اَنور کے دَر کے سامنے لاکر رکھ دینا اور اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا رَسُوْلَ اللہ کہہ کر عرض کرنا! "یارسولَ اللہﷺ ابو بکر آستانۂ عالیہ پر حاضِر ہے۔ اگر دروازہ خود بخود کھل جائے تو اندر لے جانا ورنہ مسلمانوں کے قبرستان جنت البقیع میں دفن کر دینا۔ جنازۂ مبارکہ کو حسبِ وَصیت جب روضۂ اَقدس کے سامنے رکھا گیا اور عرض کیا گیا: اَلسَّلامُ عَلَیْکَ یَا رَسُوْلَ اللہ! ابوبکر حاضِر ہے۔ یہ عرض کرتے ہی دروازہ خود بخود کھل گیا اور آواز آنے لگی:
"اَدْخِلُوا الْحَبِیْبَ اِلَی الْحَبِیْبِ فَاِنَّ الْحَبِیْبَ اِلَی الْحَبِیْبِ مُشْتَاقٌ" یعنی محبوب کو محبوب سے مِلادو کہ محبوب کو محبوب کا اِشتِیاق ہے۔
(تفسیر کبیر ج۱۰ص۱۶۷ داراحیاء التراث العربی بیروت)
https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*المرتب⬅ محـمد یـوسـف رضـا رضـوی امجـدی نائب مدیر "فیضـانِ دارالعـلوم امجـدیہ ناگپور گروپ" 9604397443*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
Telegram
فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
اہلسنت و جماعت مسلک اعلیٰ حضرت کا ترجمان، وسط ہند کی عظیم درسگاہ " دارالعلوم امجدیہ ناگپور مہاراشٹرا" کے نام سے منسوب گروپ
❤1
افضل البشر بعد الانبیاء بالتحقیق، خلیفۂ اول بلا فصل، امیر المؤمنین، امام المشاھدین لرب العالمین، حضرت سیدنا و مولانا الامام ابوبکر الصدیق رضی الله تعالی عنہ وأرضاہ کی ولادت واقعۂ فیل کے تقریباً ڈھائی سال بعد مکہ شریف میں ہوئی۔ آپ بنو تمیم کے چشم و چراغ، قریش کی مقتدر شخصیت، انبیاء و مرسلین کے بعد سب سے افضل، مَردوں میں سب سے پہلے ایمان لانے والے، سفر و حضر میں سرکار ﷺ کے رفیق اور مسلمانوں کے سب سے پہلے خلیفہ ہیں۔ آپ کی خلافت و صحابیت کا انکار کرنے والا کافر ہے۔ آپ خود، آپ کے والد، بیٹے، بیٹیاں، پوتے اور نواسے بھی صحابی ہیں۔ آپ نے رسول الله ﷺ سے (کم و بیش) 142 احادیث مبارکہ روایت کی ہیں۔ 22 جمادی الاخری 13ھ مطابق اگست 634ء بروز پیر شریف مدینۂ منورہ میں وصال فرمایا اور حضور اکرم ﷺ کے پہلو میں دفن ہوئے۔ (تاریخ الخلفاء، فتاوی رضویہ)
The best and most superior of creation after the Prophets and Messengers by absolute consensus, the very first caliph, the leader of the faithful, Our master, our benefector, and our leader Abu Bakr as-Siddiq (the truthful) RadiyAllahu Anhu wa Ardah was born in Makkah al-Mukarramah about two and a half years after the incident of elephants. He is a luminary from Banu Tamim, one the most influential personalities of the Quraysh, the best and most superior after the prophets and messengers, the first to believe in men, the closests and dearest of all companions to the Prophet ﷺ, and the first caliph of the Muslims. Whosoever denies his caliphate or companionship is out of the folds of Islam. He himself, his father, sons, daughters, grandsons are also noble companions. He has narrated (more or less) 142 hadiths from the beloved Prophet ﷺ. He left this mundane world on Monday, 22nd Jamad al-Akhirah 13 AH (August 634 CE) in Madinah Munawwarah and was laid to rest besides the most beloved and blessed Prophet ﷺ. [Tarikh al-Khulafa, Fatawa Ridawiyyah]
https://www.facebook.com/286386582084187/posts/975893009800204/
The best and most superior of creation after the Prophets and Messengers by absolute consensus, the very first caliph, the leader of the faithful, Our master, our benefector, and our leader Abu Bakr as-Siddiq (the truthful) RadiyAllahu Anhu wa Ardah was born in Makkah al-Mukarramah about two and a half years after the incident of elephants. He is a luminary from Banu Tamim, one the most influential personalities of the Quraysh, the best and most superior after the prophets and messengers, the first to believe in men, the closests and dearest of all companions to the Prophet ﷺ, and the first caliph of the Muslims. Whosoever denies his caliphate or companionship is out of the folds of Islam. He himself, his father, sons, daughters, grandsons are also noble companions. He has narrated (more or less) 142 hadiths from the beloved Prophet ﷺ. He left this mundane world on Monday, 22nd Jamad al-Akhirah 13 AH (August 634 CE) in Madinah Munawwarah and was laid to rest besides the most beloved and blessed Prophet ﷺ. [Tarikh al-Khulafa, Fatawa Ridawiyyah]
https://www.facebook.com/286386582084187/posts/975893009800204/
❤1
فہرست برائے شان صدیق اکبر ¹
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
فہرست کتب مع لنکس ↶
شان و عظمت صحابۂ کرام ❶
https://t.me/islaamic_Knowledge/22779
فہرست کتب مع لنکس ↶
شان و عظمت صحابۂ کرام ❷
https://t.me/islaamic_Knowledge/22781
فہرست کتب مع لنکس ↶
شان و عظمت صحابۂ کرام ❸
https://t.me/islaamic_Knowledge/22783
فہرست کتب مع لنکس ↶
شان و عظمت صحابیات عظام
https://t.me/islaamic_Knowledge/22785
فہرستِ کتب مع لِنکس ↶
شان و عظمت خلفائے راشدین
https://t.me/islaamic_Knowledge/22809
فہرستِ کتب مع لِنکس ↶
شان و عظمت ابو بکر و عمر
افضلیت شیخین رضیاللہعنہما
https://t.me/islaamic_Knowledge/22811
فہرستِ کتب مع لِنکس ↶
عشرۂ مبشرہ | عشرہ مبشرہ
https://t.me/islaamic_Knowledge/22835
فہرستِ کتب مع لِنکس ↶
شان و عظمت ابو بکر صدیق
https://t.me/islaamic_Knowledge/11407
🔎 शाने स़िद्दीक़े अकबर 📚
https://t.me/islaamic_Knowledge/22848
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
فہرست کتب مع لنکس ↶
شان و عظمت صحابۂ کرام ❶
https://t.me/islaamic_Knowledge/22779
فہرست کتب مع لنکس ↶
شان و عظمت صحابۂ کرام ❷
https://t.me/islaamic_Knowledge/22781
فہرست کتب مع لنکس ↶
شان و عظمت صحابۂ کرام ❸
https://t.me/islaamic_Knowledge/22783
فہرست کتب مع لنکس ↶
شان و عظمت صحابیات عظام
https://t.me/islaamic_Knowledge/22785
فہرستِ کتب مع لِنکس ↶
شان و عظمت خلفائے راشدین
https://t.me/islaamic_Knowledge/22809
فہرستِ کتب مع لِنکس ↶
شان و عظمت ابو بکر و عمر
افضلیت شیخین رضیاللہعنہما
https://t.me/islaamic_Knowledge/22811
فہرستِ کتب مع لِنکس ↶
عشرۂ مبشرہ | عشرہ مبشرہ
https://t.me/islaamic_Knowledge/22835
فہرستِ کتب مع لِنکس ↶
شان و عظمت ابو بکر صدیق
https://t.me/islaamic_Knowledge/11407
🔎 शाने स़िद्दीक़े अकबर 📚
https://t.me/islaamic_Knowledge/22848
❤1
#حضرت_ابو_بکر_صدیق ❶
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَبَارَكَ وَ تَعَالیٰ عَنۡهٗ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
مختصر تعارف صدیق اکبر
حـضـرت ابو بکر صدیق 🌹
رضی اللہ تبارک و تعالیٰ عنہ
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَبَارَكَ وَ تَعَالیٰ عَنۡهٗ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
مختصر تعارف صدیق اکبر
حـضـرت ابو بکر صدیق 🌹
رضی اللہ تبارک و تعالیٰ عنہ
❤1