Forwarded from چینل تحریک اصلاح عقائد
*فضائل صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ*
*قسط نمبر:5*
✨✨✨✨✨✨✨✨✨✨✨
صدیق اکبر کا جنت میں پُرتپاک استقبال
حضرت سیدنا عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہما سے روایت ہے کہ حضورنبی ٔرحمت، شفیعِ اُمت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا : *’’جنت میں ایک ایسا شخص داخل ہوگا کہ تمام جنت والے اسے پکار پکار کر کہیں گے: مرحبا! مرحبا! یہاں تشریف لائیے، یہاں تشریف لائیے۔‘*‘ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ،نے بڑے تعجب سے پوچھا: ’’یارسول اللہ،صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!کیا ہم بھی اس شخص کو دیکھ سکیں گے؟‘‘آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ’’اے ابوبکر ! وہ جنتی شخص تم ہی تو ہو۔‘‘
*(صحیح ابن حبان، اخبارہ عن مناقب الصحابۃ، ذکر ترحیب اھل الجنۃ بابی بکر، الحدیث: ۶۸۲۸، ج۶، الجزء: ۹، ص۷)*
*تمام آسمانوں میں آپ کا نام*
حضرت سیدناابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ دو عالم کے مالِک و مختار، مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا:’’مجھے آسمانوں کی سیر کرائی گئی پس میرا جس آسمان سے گزر ہوا میں نے وہاں اپنانام لکھا ہوا پایا اور اپنے بعد ابو بکر کا نام بھی لکھا ہواپایا۔“
*(مجمع الزوائد،کتاب المناقب،باب ماجاء فی ابی بکر الصدیق، الحدیث:۱۴۲۹۶، ج۹، ص۱۹، تاریخ الخلفاء، ص۴۳)*
*نورانی قلم سے لکھا ہوا نام*
حضرت سیدناابودرداء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ سرکارِ نامدار، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا:’’میں نے شب معراج عرش اعظم کے گرد سبز جواہر پر نورانی قلم سے لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہ اَبُوْ بَکْر الصِدِّیْقْ لکھا دیکھا۔‘‘
*(الریاض النضرۃ، ج۱، ص۱۶۷)*
*۲۲؍ جمادی الاخـریٰ یـوم وصـال ســیدنا صـدیـق اکـبر رَضِىَ اللهُ تَعَالٰی عَـنْهُ*
🔸🔹🔸🔹🔸🔹🔸🔹🔸🔹🔸
*ترسیل سلوک ⬇️*
محمد رمضان رضا
📝 *منجانب :- شعبہ نشرو اشاعت* 📝
🏮 *اعلیحضرت فاؤنڈیشن مالیگاؤں* 🏮
*قسط نمبر:5*
✨✨✨✨✨✨✨✨✨✨✨
صدیق اکبر کا جنت میں پُرتپاک استقبال
حضرت سیدنا عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہما سے روایت ہے کہ حضورنبی ٔرحمت، شفیعِ اُمت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا : *’’جنت میں ایک ایسا شخص داخل ہوگا کہ تمام جنت والے اسے پکار پکار کر کہیں گے: مرحبا! مرحبا! یہاں تشریف لائیے، یہاں تشریف لائیے۔‘*‘ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ،نے بڑے تعجب سے پوچھا: ’’یارسول اللہ،صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!کیا ہم بھی اس شخص کو دیکھ سکیں گے؟‘‘آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ’’اے ابوبکر ! وہ جنتی شخص تم ہی تو ہو۔‘‘
*(صحیح ابن حبان، اخبارہ عن مناقب الصحابۃ، ذکر ترحیب اھل الجنۃ بابی بکر، الحدیث: ۶۸۲۸، ج۶، الجزء: ۹، ص۷)*
*تمام آسمانوں میں آپ کا نام*
حضرت سیدناابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ دو عالم کے مالِک و مختار، مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا:’’مجھے آسمانوں کی سیر کرائی گئی پس میرا جس آسمان سے گزر ہوا میں نے وہاں اپنانام لکھا ہوا پایا اور اپنے بعد ابو بکر کا نام بھی لکھا ہواپایا۔“
*(مجمع الزوائد،کتاب المناقب،باب ماجاء فی ابی بکر الصدیق، الحدیث:۱۴۲۹۶، ج۹، ص۱۹، تاریخ الخلفاء، ص۴۳)*
*نورانی قلم سے لکھا ہوا نام*
حضرت سیدناابودرداء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ سرکارِ نامدار، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا:’’میں نے شب معراج عرش اعظم کے گرد سبز جواہر پر نورانی قلم سے لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہ اَبُوْ بَکْر الصِدِّیْقْ لکھا دیکھا۔‘‘
*(الریاض النضرۃ، ج۱، ص۱۶۷)*
*۲۲؍ جمادی الاخـریٰ یـوم وصـال ســیدنا صـدیـق اکـبر رَضِىَ اللهُ تَعَالٰی عَـنْهُ*
🔸🔹🔸🔹🔸🔹🔸🔹🔸🔹🔸
*ترسیل سلوک ⬇️*
محمد رمضان رضا
📝 *منجانب :- شعبہ نشرو اشاعت* 📝
🏮 *اعلیحضرت فاؤنڈیشن مالیگاؤں* 🏮
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Muhammad IBRAHEEM
🌼 *شانِ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ*🌼
🖇️ *قسط :1*
🕋 *آیات مبارکہ*
🌹 *| وَ الَّذِیْ جَآءَ بِالصِّدْقِ وَ صَدَّقَ بِهٖۤ اُولٰٓئكَ هُمُ الْمُتَّقُوْنَ |*
*( پ 24، الزمر:33)*
*ترجمہ کنز العرفان:* اور وہ جو یہ سچ لے کر تشریف لائے اور وہ جس نے ان کی تصدیق کی یہی پرہیز گار ہیں۔
حضرت علی المرتضی کرم اللہ تعالی وجہہ الکریم اور مفسرین کی ایک جماعت سے مروی ہے کہ سچ لے کر تشریف لانے والے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں اور اس کی تصدیق کرنے والے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں۔
📙 *(تفسیر کبیر، الزمر،تحت الآیۃ ٣٣)*
🌹 *| وَ سَیُجَنَّبُهَا الْاَتْقَى |*
*(پ 30، اللیل: 17)*
*ترجمہ کنز العرفان:* اور عنقریب سب سے بڑے پرہیزگار کو اس آگ سے دور رکھا جائے گا۔
امام علی بن محمد خازن رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ’’تمام مفسرین کے نزدیک اس آیت میں سب سے بڑے پرہیزگار سے مراد حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ ہیں۔"
📘 *(خازن، واللّیل، تحت الآیۃ: ۱۹)*
🌹 *| ثَانِیَ اثْنَیْنِ اِذْ هُمَا فِی الْغَارِ اِذْ یَقُوْلُ لِصَاحِبِهٖ لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَاۚ-فَاَنْزَلَ اللّٰهُ سَكِیْنَتَهٗ عَلَیْهِ |....الآیة*
*(پ 10، التوبة: 40)*
*ترجمہ کنز العرفان:* دو میں سے دوسرے تھے، جب دونوں غار میں تھے، جب یہ اپنے ساتھی سے فرما رہے تھے غم نہ کرو، بیشک اللہ ہمارے ساتھ ہے تو اللہ نے اُس پر اپنی تسکین نازل فرمائی۔
یہ آیت مبارکہ کئی اعتبار سے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی عظمت و شان پر دلالت کرتی ہے۔
☘️ اللہ پاک کا خصوصیت کے ساتھ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ پر سکینہ نازل فرمانا بھی ان کی فضیلت کی دلیل ہے۔
☘️ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کا صحابی ہونا خود اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ،یہ شرف آپ کے علاوہ اور کسی صحابی کو عطا نہ ہوا۔
☘️ اللہ پاک نے ہجرت کے وقت رسول اکرم صلّی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں رہنے کا شرف حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے علاوہ اور کسی کو بھی عطا نہیں فرمایا۔
📙 *(تفسیر صراط الجنان، ج 4،ص 127)*
🌹 *| وَ شَاوِرْهُمْ فِی الْاَمْرِۚ |*
*(پ 4، آل عمران : 159)*
*ترجمہ کنز العرفان:* اور کاموں میں ان سے مشورہ لیتے رہو۔
حضرت عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ عنھما فرماتے ہیں کہ یہ آیت سیدنا صدیق اکبر و فاروق اعظم رضی اللہ عنھما کے متعلق نازل ہوئی چنانچہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے صدیق اکبر و فاروق اعظم رضی اللہ عنھما سے ارشاد فرمایا: " اگر تم دونوں کسی مشورے پر متفق ہوجاؤ تو میں اس کے خلاف نہیں کروں گا۔"
📗 *(تفسیر در منثور، آل عمران)*
*نوٹ:* اگلی اقساط بھی پڑھیں ثواب کی نیت سے فاروڈ کریں۔
✍🏻 *ابو بنتین محمد فراز عطاری مدنی عفی عنہ*
📲 *+92-321-2094919*
https://t.me/joinchat/A6Bw8z0ho5vtQfAwN0PpRg
🖇️ *قسط :1*
🕋 *آیات مبارکہ*
🌹 *| وَ الَّذِیْ جَآءَ بِالصِّدْقِ وَ صَدَّقَ بِهٖۤ اُولٰٓئكَ هُمُ الْمُتَّقُوْنَ |*
*( پ 24، الزمر:33)*
*ترجمہ کنز العرفان:* اور وہ جو یہ سچ لے کر تشریف لائے اور وہ جس نے ان کی تصدیق کی یہی پرہیز گار ہیں۔
حضرت علی المرتضی کرم اللہ تعالی وجہہ الکریم اور مفسرین کی ایک جماعت سے مروی ہے کہ سچ لے کر تشریف لانے والے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں اور اس کی تصدیق کرنے والے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں۔
📙 *(تفسیر کبیر، الزمر،تحت الآیۃ ٣٣)*
🌹 *| وَ سَیُجَنَّبُهَا الْاَتْقَى |*
*(پ 30، اللیل: 17)*
*ترجمہ کنز العرفان:* اور عنقریب سب سے بڑے پرہیزگار کو اس آگ سے دور رکھا جائے گا۔
امام علی بن محمد خازن رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ’’تمام مفسرین کے نزدیک اس آیت میں سب سے بڑے پرہیزگار سے مراد حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ ہیں۔"
📘 *(خازن، واللّیل، تحت الآیۃ: ۱۹)*
🌹 *| ثَانِیَ اثْنَیْنِ اِذْ هُمَا فِی الْغَارِ اِذْ یَقُوْلُ لِصَاحِبِهٖ لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَاۚ-فَاَنْزَلَ اللّٰهُ سَكِیْنَتَهٗ عَلَیْهِ |....الآیة*
*(پ 10، التوبة: 40)*
*ترجمہ کنز العرفان:* دو میں سے دوسرے تھے، جب دونوں غار میں تھے، جب یہ اپنے ساتھی سے فرما رہے تھے غم نہ کرو، بیشک اللہ ہمارے ساتھ ہے تو اللہ نے اُس پر اپنی تسکین نازل فرمائی۔
یہ آیت مبارکہ کئی اعتبار سے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی عظمت و شان پر دلالت کرتی ہے۔
☘️ اللہ پاک کا خصوصیت کے ساتھ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ پر سکینہ نازل فرمانا بھی ان کی فضیلت کی دلیل ہے۔
☘️ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کا صحابی ہونا خود اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ،یہ شرف آپ کے علاوہ اور کسی صحابی کو عطا نہ ہوا۔
☘️ اللہ پاک نے ہجرت کے وقت رسول اکرم صلّی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں رہنے کا شرف حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے علاوہ اور کسی کو بھی عطا نہیں فرمایا۔
📙 *(تفسیر صراط الجنان، ج 4،ص 127)*
🌹 *| وَ شَاوِرْهُمْ فِی الْاَمْرِۚ |*
*(پ 4، آل عمران : 159)*
*ترجمہ کنز العرفان:* اور کاموں میں ان سے مشورہ لیتے رہو۔
حضرت عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ عنھما فرماتے ہیں کہ یہ آیت سیدنا صدیق اکبر و فاروق اعظم رضی اللہ عنھما کے متعلق نازل ہوئی چنانچہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے صدیق اکبر و فاروق اعظم رضی اللہ عنھما سے ارشاد فرمایا: " اگر تم دونوں کسی مشورے پر متفق ہوجاؤ تو میں اس کے خلاف نہیں کروں گا۔"
📗 *(تفسیر در منثور، آل عمران)*
*نوٹ:* اگلی اقساط بھی پڑھیں ثواب کی نیت سے فاروڈ کریں۔
✍🏻 *ابو بنتین محمد فراز عطاری مدنی عفی عنہ*
📲 *+92-321-2094919*
https://t.me/joinchat/A6Bw8z0ho5vtQfAwN0PpRg
Forwarded from Muhammad IBRAHEEM
🌸 *شان ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ*🌸
🔗 *قسط: 2 (حصہ اول)*
📖 *احادیث طیبہ*
☘️ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا:" یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! لوگوں میں آپ کو سب سے بڑھ کر کون محبوب ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: *"عائشہ"* انہوں نے دوبارہ عرض کیا: "مردوں میں سے کون ہے؟" فرمایا : *" عائشہ کے والد"(یعنی ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ)*
📗 *(صحیح البخاری)*
☘️ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: *"فرشتے ابوبکر صدیق (رضی اللہ عنہ) کو قیامت کے دن لائیں گے، اور انبیاء و صدیقین کے ساتھ جنت میں جگہ دیں گے۔"*
📔 *(کنز العمال)*
☘️ حضرت عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ میں نے دیکھا کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم حضرت علی المرتضی کرم اللہ تعالی وجھہ الکریم کے ساتھ کھڑے تھے اتنے میں حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آگے بڑھ کر ان سے مصافحہ فرمایا پھر گلے لگا کر آپ رضی اللہ عنہ کو چوم لیا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ارشاد فرمایا: *"اے ابو الحسن! میرے نزدیک ابو بکر کا وہی مقام ہے جو اللہ کے ہاں میرا مقام ہے۔"*
📘 *(الریاض النضرہ)*
☘️ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جنت میں ایک ایسا شخص داخل ہوگا کہ تمام جنت والے اسے پکار پکار کر کہیں گے: مرحبا! مرحبا! یہاں تشریف لائیے، یہاں تشریف لائیے". سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے بڑے تعجب سے پوچھا: " یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! کیا ہم بھی اس شخص کو دیکھ سکیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: *" اے ابو بکر! وہ جنتی شخص تم ہی تو ہو۔"*
📙 *(صحیح ابن حبان)*
☘️سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں میں نے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! کیا کسی کی نیکیاں آسمان کے ستاروں جتنی ہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "جی ہاں! وہ عمر (رضی اللہ عنہ) ہیں، جن کی نیکیاں ان ستاروں جتنی ہیں۔" عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں: میں نے عرض کیا: "یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! پھر میرے والد ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی نیکیاں کس درجے میں ہیں؟ " آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: *"عمر (رضی اللہ عنہ) کی تمام نیکیاں ابو بکر (رضی اللہ عنہ) کی نیکیوں میں سے صرف ایک نیکی کے برابر ہے۔"*
📕 *(مشکاۃ المصابیح)*
☘️ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:" اللہ پاک نے کچھ جنتی حوروں کو پھولوں سے پیدا فرمایا ہے اور انہیں گلابی حوریں کہا جاتا ہے، ان سے صرف نبی یا صدیق یا شہید ہی نکاح کرسکتے ہیں اور *ابو بکر کو ایسی چار سو (400) حوریں دی جائیں گی۔"*
📒 *(الریاض النضرہ)*
*نوٹ:* یہ ساری تحریر مکتبۃ المدینہ (دعوت اسلامی) کی کتاب *فیضان صدیق اکبر* سے تیار کی گئی ہے۔
*تنبیہ:* یہ تحریر فاروڈ کرنے والوں یا اپنے پیج پر شئیر کرنے والوں سے عرض ہے کہ نام ہٹا کر شئیر نہ کریں، نام اور نمبر لکھنے کی کچھ وجوہات ہوتی ہیں۔
✍🏻 *ابو بنتین محمد فراز عطاری مدنی عفی عنہ*
📲 *+92-321-2094919*
https://t.me/joinchat/A6Bw8z0ho5vtQfAwN0PpRg
🔗 *قسط: 2 (حصہ اول)*
📖 *احادیث طیبہ*
☘️ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا:" یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! لوگوں میں آپ کو سب سے بڑھ کر کون محبوب ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: *"عائشہ"* انہوں نے دوبارہ عرض کیا: "مردوں میں سے کون ہے؟" فرمایا : *" عائشہ کے والد"(یعنی ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ)*
📗 *(صحیح البخاری)*
☘️ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: *"فرشتے ابوبکر صدیق (رضی اللہ عنہ) کو قیامت کے دن لائیں گے، اور انبیاء و صدیقین کے ساتھ جنت میں جگہ دیں گے۔"*
📔 *(کنز العمال)*
☘️ حضرت عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ میں نے دیکھا کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم حضرت علی المرتضی کرم اللہ تعالی وجھہ الکریم کے ساتھ کھڑے تھے اتنے میں حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آگے بڑھ کر ان سے مصافحہ فرمایا پھر گلے لگا کر آپ رضی اللہ عنہ کو چوم لیا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ارشاد فرمایا: *"اے ابو الحسن! میرے نزدیک ابو بکر کا وہی مقام ہے جو اللہ کے ہاں میرا مقام ہے۔"*
📘 *(الریاض النضرہ)*
☘️ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جنت میں ایک ایسا شخص داخل ہوگا کہ تمام جنت والے اسے پکار پکار کر کہیں گے: مرحبا! مرحبا! یہاں تشریف لائیے، یہاں تشریف لائیے". سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے بڑے تعجب سے پوچھا: " یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! کیا ہم بھی اس شخص کو دیکھ سکیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: *" اے ابو بکر! وہ جنتی شخص تم ہی تو ہو۔"*
📙 *(صحیح ابن حبان)*
☘️سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں میں نے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! کیا کسی کی نیکیاں آسمان کے ستاروں جتنی ہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "جی ہاں! وہ عمر (رضی اللہ عنہ) ہیں، جن کی نیکیاں ان ستاروں جتنی ہیں۔" عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں: میں نے عرض کیا: "یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! پھر میرے والد ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی نیکیاں کس درجے میں ہیں؟ " آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: *"عمر (رضی اللہ عنہ) کی تمام نیکیاں ابو بکر (رضی اللہ عنہ) کی نیکیوں میں سے صرف ایک نیکی کے برابر ہے۔"*
📕 *(مشکاۃ المصابیح)*
☘️ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:" اللہ پاک نے کچھ جنتی حوروں کو پھولوں سے پیدا فرمایا ہے اور انہیں گلابی حوریں کہا جاتا ہے، ان سے صرف نبی یا صدیق یا شہید ہی نکاح کرسکتے ہیں اور *ابو بکر کو ایسی چار سو (400) حوریں دی جائیں گی۔"*
📒 *(الریاض النضرہ)*
*نوٹ:* یہ ساری تحریر مکتبۃ المدینہ (دعوت اسلامی) کی کتاب *فیضان صدیق اکبر* سے تیار کی گئی ہے۔
*تنبیہ:* یہ تحریر فاروڈ کرنے والوں یا اپنے پیج پر شئیر کرنے والوں سے عرض ہے کہ نام ہٹا کر شئیر نہ کریں، نام اور نمبر لکھنے کی کچھ وجوہات ہوتی ہیں۔
✍🏻 *ابو بنتین محمد فراز عطاری مدنی عفی عنہ*
📲 *+92-321-2094919*
https://t.me/joinchat/A6Bw8z0ho5vtQfAwN0PpRg
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Muzammil Raza
🌴 فیضانِ حدائقِ بخشش🌴
نعت شریف *۲۱*
شعر *۱۵*
*شیخین اِدھر نثار غنی و علی اُدھر*
*غنچہ ہے بلبلوں کا یمین و شمال گُل*
*حل لغات*
شیخین۔۔ حضرت ابو بکر صدیق و حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہما
غنچہ۔۔ گنجان، جُھرمٹ، کلی
یمین۔۔ دائیں جانب
شمال۔۔ بائیں جانب
*شرح*
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس کا رنگ اور منظر بیان کیا جارہا ہے کہ دیکھو! اِدھر اگر صدیق و فاروق رضی اللہ عنہما قربان ہونے کے لئے کھڑے ہیں تو اُدھر عثمان و علی رضی اللہ عنہما بھی نثار ہونے کے منتظر ہیں گویا پھول کے گرد بلبلوں کا ہجوم ہیں
نعت شریف *۲۱*
شعر *۱۵*
*شیخین اِدھر نثار غنی و علی اُدھر*
*غنچہ ہے بلبلوں کا یمین و شمال گُل*
*حل لغات*
شیخین۔۔ حضرت ابو بکر صدیق و حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہما
غنچہ۔۔ گنجان، جُھرمٹ، کلی
یمین۔۔ دائیں جانب
شمال۔۔ بائیں جانب
*شرح*
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس کا رنگ اور منظر بیان کیا جارہا ہے کہ دیکھو! اِدھر اگر صدیق و فاروق رضی اللہ عنہما قربان ہونے کے لئے کھڑے ہیں تو اُدھر عثمان و علی رضی اللہ عنہما بھی نثار ہونے کے منتظر ہیں گویا پھول کے گرد بلبلوں کا ہجوم ہیں
Forwarded from Muzammil Raza
🌹فیضان حدائق بخشش 🌹
یوم صدیق اکبر رضی اللہ عنہ
*خاص اس سابق سیر قرب خدا*
*اوحد کاملّیت پہ لاکھوں سلام*
_الفاظ اور معنی_
سابق.. آگے گزرنے والا
سیر... چلنا حاصل کرنا
اوحد.. اکیلا
کاملیت... کمال حاصل کرنا
_مزکورہ شعر کا مفہوم_
مردوں میں سب سے پہلے اسلام قبول کر کے خدا کا قرب جس عظیم سخصیت کو حاصل ہو وہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی ذات ہے
چونکہ آپ نے حضور علیہ السلام کے ساتھ جوانی گزاری تھی لہذا آپ کے سچا ہونے پر ان کو کامل اعتماد تھا
یہی وجہ ہے جب رسالت مآب صلی اللہ علیہ و سلم نے اعلان نبوت فرمایا تو سب سے پہلے اس آواز پر لبیک کہنے والے ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ ہی تھے اس کا تزکرہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ و سلم بھی فرمایا کرتے تھے حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابو بکر اور حضرت عمر کے درمیان کسی معاملے میں ناراضگی ہو گئی حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے معازرت چاہی مگر عمر نہ مانے بعد میں حضرت عمر نے ندامت محسوس کی چل کر ابو بکر کے گھر گئے ملاقات نہ ہوئی لہذا وہ بھی حضور کی بارگاہ میں حاضر ہوئے
عمر کو دیکھتے ہی حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کے چہرہ اقدس پر ناراضگی کے آثار ظاہر ہونے لگے حضرت ابوبکر گھٹنوں کے بل کھڑے ہو کر عرض کرتے ہیں یارسول اللہ قصور وار میں ہوں یہ نہیں
تو حضور نے حضرت عمر سے مخاطب ہو کر فرمایا
*ان اللہ بعثنی الیکم فقلتم کذبت وقال ابوبکر صدقت... الخ*
جب اللہ تعالی نے مجھے آپ لوگوں کی طرف رسول بنا کر بھیجا تو تم سب نے میری تکذیب کی ابو بکر ہی تھا جس نے میری تصدیق کی جان ومال مجھ پر نثار کر دیا کیا تم میرے خاطر میرے دوست سے درگزر نہیں کر سکتے.
یوم صدیق اکبر رضی اللہ عنہ
*خاص اس سابق سیر قرب خدا*
*اوحد کاملّیت پہ لاکھوں سلام*
_الفاظ اور معنی_
سابق.. آگے گزرنے والا
سیر... چلنا حاصل کرنا
اوحد.. اکیلا
کاملیت... کمال حاصل کرنا
_مزکورہ شعر کا مفہوم_
مردوں میں سب سے پہلے اسلام قبول کر کے خدا کا قرب جس عظیم سخصیت کو حاصل ہو وہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی ذات ہے
چونکہ آپ نے حضور علیہ السلام کے ساتھ جوانی گزاری تھی لہذا آپ کے سچا ہونے پر ان کو کامل اعتماد تھا
یہی وجہ ہے جب رسالت مآب صلی اللہ علیہ و سلم نے اعلان نبوت فرمایا تو سب سے پہلے اس آواز پر لبیک کہنے والے ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ ہی تھے اس کا تزکرہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ و سلم بھی فرمایا کرتے تھے حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابو بکر اور حضرت عمر کے درمیان کسی معاملے میں ناراضگی ہو گئی حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے معازرت چاہی مگر عمر نہ مانے بعد میں حضرت عمر نے ندامت محسوس کی چل کر ابو بکر کے گھر گئے ملاقات نہ ہوئی لہذا وہ بھی حضور کی بارگاہ میں حاضر ہوئے
عمر کو دیکھتے ہی حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کے چہرہ اقدس پر ناراضگی کے آثار ظاہر ہونے لگے حضرت ابوبکر گھٹنوں کے بل کھڑے ہو کر عرض کرتے ہیں یارسول اللہ قصور وار میں ہوں یہ نہیں
تو حضور نے حضرت عمر سے مخاطب ہو کر فرمایا
*ان اللہ بعثنی الیکم فقلتم کذبت وقال ابوبکر صدقت... الخ*
جب اللہ تعالی نے مجھے آپ لوگوں کی طرف رسول بنا کر بھیجا تو تم سب نے میری تکذیب کی ابو بکر ہی تھا جس نے میری تصدیق کی جان ومال مجھ پر نثار کر دیا کیا تم میرے خاطر میرے دوست سے درگزر نہیں کر سکتے.
Forwarded from Muzammil Raza
🌹فیضان حدائق بخشش 🌹
یوم صدیق اکبر رضی اللہ عنہ
*سایہء مصطفی مایہ اصطفا*
*عزّ و ناز خلافت پہ لاکھوں سلام*
_الفاظ اور معنی_
مایہ... فخر
اصطفا... پاک باطن ہونا
عز..... عزت
خلافت.... خلیفہ بننا
_مزکورہ شعر کا مفہوم_
ان الفاظ میں حضرت ابو بکر کی دوشانوں کی طرف اشارہ ہے
1..جس طرح حضور علیہ السلام مخلوق خدا پر اللہ تعالٰی کے سایہء رحمت ہیں.. اسی طرح حضرت ابوبکر امت مسلمہ پر حضور کا سایہ ہیں.. جب حضور کے وصال کے موقع پر امت پر سب سے مشکل وقت آیا تو اس وقت حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہی تھے جنہوں نے تمام معاملات کو بہتر طریقے سے سنبھال لیا صحابہ کو تسلی دی. مرتدین کا مقابلہ کیا. مانعین زکوٰۃ اور مدعیان نبوت کے خلاف بھرپور جہاد کر کے ان کا قلع قمع کیا
2..حضرت ابوبکر حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ اس طرح رہے جس طرح کسی کا سایہ رہتا ہے وقعۃًحضور کی جو معیت حضرت ابوبکر کو حاصل ہے وہ کسی اور کے حصہ میں نہیں آئی. یہ معیت دینا میں نہیں بلکہ قبرو حشر میں بھی ہے
حضرت عبداللہ بن عمر بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اے ابو بکر
*انت صاحبی فی الغار وصاحبی علی الحوض*
تو میرا غار اور حوض (کوثر) کا ساتھی ہے...
یوم صدیق اکبر رضی اللہ عنہ
*سایہء مصطفی مایہ اصطفا*
*عزّ و ناز خلافت پہ لاکھوں سلام*
_الفاظ اور معنی_
مایہ... فخر
اصطفا... پاک باطن ہونا
عز..... عزت
خلافت.... خلیفہ بننا
_مزکورہ شعر کا مفہوم_
ان الفاظ میں حضرت ابو بکر کی دوشانوں کی طرف اشارہ ہے
1..جس طرح حضور علیہ السلام مخلوق خدا پر اللہ تعالٰی کے سایہء رحمت ہیں.. اسی طرح حضرت ابوبکر امت مسلمہ پر حضور کا سایہ ہیں.. جب حضور کے وصال کے موقع پر امت پر سب سے مشکل وقت آیا تو اس وقت حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہی تھے جنہوں نے تمام معاملات کو بہتر طریقے سے سنبھال لیا صحابہ کو تسلی دی. مرتدین کا مقابلہ کیا. مانعین زکوٰۃ اور مدعیان نبوت کے خلاف بھرپور جہاد کر کے ان کا قلع قمع کیا
2..حضرت ابوبکر حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ اس طرح رہے جس طرح کسی کا سایہ رہتا ہے وقعۃًحضور کی جو معیت حضرت ابوبکر کو حاصل ہے وہ کسی اور کے حصہ میں نہیں آئی. یہ معیت دینا میں نہیں بلکہ قبرو حشر میں بھی ہے
حضرت عبداللہ بن عمر بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اے ابو بکر
*انت صاحبی فی الغار وصاحبی علی الحوض*
تو میرا غار اور حوض (کوثر) کا ساتھی ہے...
Forwarded from Muzammil Raza
🌹فیضان حدائق بخشش 🌹
یوم صدیق اکبر رضی اللہ عنہ
*یعنی اس أفضل الخلق بعد الرسل*
*ثانی اثنین ہجرت پہ لاکھوں سلام*
_مشکل الفاظ کے معانی_
أفضل الخلق... تمام مخلوق سے افضل
بعد الرسل.... تمام رسولوں کے بعد
ثانی اثنین... دونوں میں سے دوسرا.
_مزکورہ شعر کی تشریح_
انبیاء علیہم السلام کے بعد تمام مخلوق سے افضل سیدنا صدیق اکبر کی ذات گرامی ہے حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں ایک دن حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے آگے آگے چل رہا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے دیکھا تو مجھے بلایا اور فرمایا تم ایسے سخص کے اگے آگے چل رہے ہو جو تم سب سے افضل ہے پھر فرمایا اللہ کی قسم سورج کسی ایسے شخص پر نہ طلوع ہوا اور نہ غروب ہوا جو ابو بکر سے افضل ہو...
*ثانی اثنین*
مکہ میں جب حالات نہایت ناسازگار ہوگئے تو حضور علیہ السلام نے صحابہ کو مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنے کا حکم فرمایا لیکن ابوبکر صدیق کو فرمایا تم میرے ساتھ ہجرت کروگے. آپ نے اس سفر کے لئے دو انٹنیاں خرید کر انہیں تیار کرنا شروع کر دیا تاکہ ہجرت کے موقع پر یہ کام آئیں. جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کو ہجرت کا حکم ہوا تو آپ نے حضرت علی کو بستر پر لیٹنے اور حضرت ابو بکر کو ساتھ چلنے کا حکم دیا
دونوں مکہ کے دائیں جانب غار ثور میں جاکر ٹھہرے
کفار حضور کی تلاش میں غار کے دہانے تک آ پہنچے آہٹ پا کر حضرت ابو بکر پریشان ہوئے اور آقا سے عرض کی یا رسول اللہ دشمن اس قدر قریب آگئے ہیں کہ اگر اپنے قدموں پر ان کی نظر پڑ جائے تو دیکھ لینگے تو آپ نے فرمایا گھبراؤ نہ اللہ ہمارے ساتھ ہے.
اللہ تعالی نے اس منظر کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا
*الا تنصروہ فقد نصرہ اللہ إذا اخرجہ الذين کفرواثانی اثنین اذھما فی الغار إذ یقول لصاحبہ لا تحزن إن اللہ معنا*
ترجمہ.. اگر تم محبوب کی مدد نہ کرو تو اللہ نے انکی مدد فرمائی جب کافروں کی شرارت سے انہیں باہر تشریف لے جانا ہوا صرف دو جان سے جب وہ دونوں غار میں تھے جب اپنے دوست سے فرماتے تھے غم نہ کر یقیناً اللہ ہمارے ساتھ ہے..
قرآن مجید نے حضرت ابو بکر کو *ثانی اثنین*کہا
اعلٰی حضرت نے اس لفظ کو شعر میں استعمال کیا ہے...
یوم صدیق اکبر رضی اللہ عنہ
*یعنی اس أفضل الخلق بعد الرسل*
*ثانی اثنین ہجرت پہ لاکھوں سلام*
_مشکل الفاظ کے معانی_
أفضل الخلق... تمام مخلوق سے افضل
بعد الرسل.... تمام رسولوں کے بعد
ثانی اثنین... دونوں میں سے دوسرا.
_مزکورہ شعر کی تشریح_
انبیاء علیہم السلام کے بعد تمام مخلوق سے افضل سیدنا صدیق اکبر کی ذات گرامی ہے حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں ایک دن حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے آگے آگے چل رہا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے دیکھا تو مجھے بلایا اور فرمایا تم ایسے سخص کے اگے آگے چل رہے ہو جو تم سب سے افضل ہے پھر فرمایا اللہ کی قسم سورج کسی ایسے شخص پر نہ طلوع ہوا اور نہ غروب ہوا جو ابو بکر سے افضل ہو...
*ثانی اثنین*
مکہ میں جب حالات نہایت ناسازگار ہوگئے تو حضور علیہ السلام نے صحابہ کو مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنے کا حکم فرمایا لیکن ابوبکر صدیق کو فرمایا تم میرے ساتھ ہجرت کروگے. آپ نے اس سفر کے لئے دو انٹنیاں خرید کر انہیں تیار کرنا شروع کر دیا تاکہ ہجرت کے موقع پر یہ کام آئیں. جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کو ہجرت کا حکم ہوا تو آپ نے حضرت علی کو بستر پر لیٹنے اور حضرت ابو بکر کو ساتھ چلنے کا حکم دیا
دونوں مکہ کے دائیں جانب غار ثور میں جاکر ٹھہرے
کفار حضور کی تلاش میں غار کے دہانے تک آ پہنچے آہٹ پا کر حضرت ابو بکر پریشان ہوئے اور آقا سے عرض کی یا رسول اللہ دشمن اس قدر قریب آگئے ہیں کہ اگر اپنے قدموں پر ان کی نظر پڑ جائے تو دیکھ لینگے تو آپ نے فرمایا گھبراؤ نہ اللہ ہمارے ساتھ ہے.
اللہ تعالی نے اس منظر کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا
*الا تنصروہ فقد نصرہ اللہ إذا اخرجہ الذين کفرواثانی اثنین اذھما فی الغار إذ یقول لصاحبہ لا تحزن إن اللہ معنا*
ترجمہ.. اگر تم محبوب کی مدد نہ کرو تو اللہ نے انکی مدد فرمائی جب کافروں کی شرارت سے انہیں باہر تشریف لے جانا ہوا صرف دو جان سے جب وہ دونوں غار میں تھے جب اپنے دوست سے فرماتے تھے غم نہ کر یقیناً اللہ ہمارے ساتھ ہے..
قرآن مجید نے حضرت ابو بکر کو *ثانی اثنین*کہا
اعلٰی حضرت نے اس لفظ کو شعر میں استعمال کیا ہے...
Forwarded from Muzammil Raza
🌹فیضان حدائق بخشش 🌹
یوم صدیق اکبر رضی اللہ عنہ
*أصدق الصادقیں سید المتقیں*
*چشم وگوش وزارت پہ لاکھوں سلام*
*حل لغات*
أصدق صادقین... سب سچوں میں سچے
سید المتقیں... صاحب تقوی
چشم.... آنکھ
گوش.... کان
وزارت.... نائب ہونا
*شرح*
آپ حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کے امت میں سب سے زیادہ صادق ہیں اور اسی طرح آپ سب سے زیادہ صاحب تقوی بھی ہیں
حضور علیہ السلام نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خدمات اور جاں نثاری کی وجہ سے انہیں اپنے کان آنکھیں اور وزراء قرار دیا
*ابو بکر وعمر منی بمنزلۃ السمع والبصر من الراس*
ابو بکر وعمر دونوں میری آنکھوں اور کان کے مانند ہیں...
یوم صدیق اکبر رضی اللہ عنہ
*أصدق الصادقیں سید المتقیں*
*چشم وگوش وزارت پہ لاکھوں سلام*
*حل لغات*
أصدق صادقین... سب سچوں میں سچے
سید المتقیں... صاحب تقوی
چشم.... آنکھ
گوش.... کان
وزارت.... نائب ہونا
*شرح*
آپ حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کے امت میں سب سے زیادہ صادق ہیں اور اسی طرح آپ سب سے زیادہ صاحب تقوی بھی ہیں
حضور علیہ السلام نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خدمات اور جاں نثاری کی وجہ سے انہیں اپنے کان آنکھیں اور وزراء قرار دیا
*ابو بکر وعمر منی بمنزلۃ السمع والبصر من الراس*
ابو بکر وعمر دونوں میری آنکھوں اور کان کے مانند ہیں...
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from د.محمد ظھور الحنفی البریلوی
"صحابہ و اہل بیت" یا "اہل بیت و صحابہ" ؟؟
تحریر : نثار مصباحی
(آج ایک واٹس ایپ گروپ میں ایک موقر سُنی عالم کے سوال پر فقیر کا جواب)
سوال :
ہم نے جلسے کے اشتہار میں "صحابۂ کرام و اہل بیتِ اطہار" لکھا.
ایک صاحب کہتے ہیں : "اہل بیت" پہلے ہونا چاہیے.
ما ذا تری ؟
جواب:
یہ "الزام ما لا یلزم" ہے. یعنی جو ضروری نہیں اسے ضروری قرار دینا.
عربی اردو دونوں زبانوں میں "واو" مطلقا دو یا چند چیزوں کو جمع کرنے کے لیے آتا ہے. اصول کی کتابوں میں تصریح ہے : الواو لمطلق الجمع.
اس لیے کوئی "صحابہ و اہل بیت" کہے یا "اہل بیت و صحابہ" کہے, دونوں صورتوں میں بات ایک ہی ہے. یعنی یہ دونوں ترکیبیں یہاں ان دونوں مقدس جماعتوں کو یکجا ذکر کرنے کے لیے ہیں. ان کی تقدیم و تاخیر سے مقصود ایک کو دوسرے سے افضل بتانا نہیں ہے.
عموما یہ لوگ جو مسلمانوں کو اس جبری تکلف میں مبتلا کرنا چاہتے ہیں وہ اہل بیت اطہار کو مطلقا صحابہ پر نہ صرف مقدم سمجھتے ہیں بلکہ رتبے میں افضل بھی مانتے ہیں. جب کہ یہ دونوں مقدس جماعتیں کلی طور پر ایک دوسرے سے ہرگز الگ نہیں. بہت سے اہل بیت "صحابہ" میں شامل ہیں, اور بہت سے صحابہ "اہل بیت" میں شامل ہیں. اس لیے جس کو بھی مقدم رکھیں گے اس میں دوسری جماعت کے حضرات بھی شامل ہوں گے.
درحقیقت اس ذہنیت کے لوگوں کی اس طلب کے پیچھے دو مقدمات ہیں:
1- اہل بیت اطہار "صحابۂ کرام" سے افضل ہیں.
2- تقدیمِ ذکر کے لیے تقدیمِ رتبہ لازم ہے.
جب کہ یہ دونوں مقدمات مسلّم ہی نہیں ہیں. خاص طور سے دوسرا مقدمہ تو صراحتا باطل ہے. اس لیے کہ "تقدیم فی الذکر, تقدیم فی الرتبہ" کو مستلزم ہی نہیں ہے.
یہی وجہ ہے کہ یہ جبری مطالبے والے لوگ بھی اپنے جملوں میں بکثرت لفظِ "انبیا و مرسلین" استعمال کرتے ہیں. اگر ان کی جبری منطق درست مان لی جائے تو یہ ترکیب بالکل غلط قرار پائے گی اور "انبیا و مرسلین" کی جگہ "مرسلین و انبیا" کہنا ضروری ہوگا, کیوں کہ مرسلین کرام بلاشبہہ انبیاے کرام سے افضل ہیں.
مگر خود ان لوگوں کا بلا کسی اشکال کے یہ ترکیب (انبیا و مرسلین) تسلسل کے ساتھ استعمال کرنا ان کے دعوے کی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے. بلکہ لاشعوری طور پر یہ خود ہی اپنے دعوے کے خلاف دلیل فراہم کرتے ہیں.
حاصل گفتگو ظاہر ہے کہ ایسے لوگوں کا یہ مطالبہ ایک بےدلیل "جبر" ہے. اور یہ ایسی چیز کو مسلمانوں پر لازم کرنا ہے جسے اللہ عزوجل اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے لازم نہیں کیا ہے.
اللہ عزوجل ہدایت دے.
یہ تفصیلات تو جبرا لازم کرنے والوں کے لیے تھیں. لیکن اگر کوئی "بہتر" کی بات کرے تو اسکے لیے عرض ہے کہ ہم اہل سنت جب صحابۂ کرام اور اہل بیتِ اطہار کا ایک ساتھ ذکر کرتے ہیں تو ان دونوں مقدس جماعتوں میں کسی قسم کے تفاضل و تقابل کا وہم و گمان بھی نہیں ہوتا. جب ہم درود شریف میں "و علی آلہ و اصحابہ" کہتے ہیں یا اپنے جملوں میں "صحابہ و اہل بیت" کہتے ہیں تب اس قسم کا کوئی تقابل یا ان میں تفاضل ہم اہل سنت میں سے کسی کے وہم و خیال میں بھی نہیں ہوتا.
اس لیے ہم اہل سنت کی نظروں میں یہ دونوں ترکیبیں یکساں ہیں.
پھر بھی اگر کوئی ان میں سے خاص اہلِ بیتِ اطہار کے لیے تقدیمِ ذکر پر اصرار کرے تو اسے درج ذیل نکات بھی پیشِ نظر رکھنا چاہیے:
* اہل بیت اطہار میں ام المؤمنین سیدتنا خدیجہ اور مولا علی کرم اللہ وجہہ کے ساتھ صحابۂ کرام خصوصا حضرتِ ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کی خدمات بھی آغازِ اسلام ہی سے ہیں.
* حجم اور مجموعی لحاظ سے صحابۂ کرام کی خدماتِ دین کو اہلِ بیتِ اطہار کی خدمات پر تقدم حاصل ہے.
* صحابہ کرام میں خلفاے راشدین بھی ہیں جو انبیا و مرسلین کے بعد علی الاطلاق تمام مسلمانوں سے افضل ہیں.
* صحابۂ کرام کا ذکر پہلے کرنے سے رافضیوں اور نیم رافضیوں کا رد ہوتا ہے.
* صحابۂ کرام کا تذکرہ قرآن حکیم میں رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے ذکر سے متصل ہے:
محمد رسول الله والذین معہ اشداء علی الکفار... الآیہ
امید ہے یہ چند سطریں کافی ہوں گی.
اللہ عزوجل صحابہ و اہل بیت کے سچے عاشقوں یعنی اہل سنت و جماعت پر اپنی خاص رحمتیں نازل فرمائے.
و صلی اللہ تعالی علی النبی الأمی و آلہ و صحبہ و بارک وسلم.
#نثارمصباحی
21 محرم 1440
2 اکتوبر 2018
تحریر : نثار مصباحی
(آج ایک واٹس ایپ گروپ میں ایک موقر سُنی عالم کے سوال پر فقیر کا جواب)
سوال :
ہم نے جلسے کے اشتہار میں "صحابۂ کرام و اہل بیتِ اطہار" لکھا.
ایک صاحب کہتے ہیں : "اہل بیت" پہلے ہونا چاہیے.
ما ذا تری ؟
جواب:
یہ "الزام ما لا یلزم" ہے. یعنی جو ضروری نہیں اسے ضروری قرار دینا.
عربی اردو دونوں زبانوں میں "واو" مطلقا دو یا چند چیزوں کو جمع کرنے کے لیے آتا ہے. اصول کی کتابوں میں تصریح ہے : الواو لمطلق الجمع.
اس لیے کوئی "صحابہ و اہل بیت" کہے یا "اہل بیت و صحابہ" کہے, دونوں صورتوں میں بات ایک ہی ہے. یعنی یہ دونوں ترکیبیں یہاں ان دونوں مقدس جماعتوں کو یکجا ذکر کرنے کے لیے ہیں. ان کی تقدیم و تاخیر سے مقصود ایک کو دوسرے سے افضل بتانا نہیں ہے.
عموما یہ لوگ جو مسلمانوں کو اس جبری تکلف میں مبتلا کرنا چاہتے ہیں وہ اہل بیت اطہار کو مطلقا صحابہ پر نہ صرف مقدم سمجھتے ہیں بلکہ رتبے میں افضل بھی مانتے ہیں. جب کہ یہ دونوں مقدس جماعتیں کلی طور پر ایک دوسرے سے ہرگز الگ نہیں. بہت سے اہل بیت "صحابہ" میں شامل ہیں, اور بہت سے صحابہ "اہل بیت" میں شامل ہیں. اس لیے جس کو بھی مقدم رکھیں گے اس میں دوسری جماعت کے حضرات بھی شامل ہوں گے.
درحقیقت اس ذہنیت کے لوگوں کی اس طلب کے پیچھے دو مقدمات ہیں:
1- اہل بیت اطہار "صحابۂ کرام" سے افضل ہیں.
2- تقدیمِ ذکر کے لیے تقدیمِ رتبہ لازم ہے.
جب کہ یہ دونوں مقدمات مسلّم ہی نہیں ہیں. خاص طور سے دوسرا مقدمہ تو صراحتا باطل ہے. اس لیے کہ "تقدیم فی الذکر, تقدیم فی الرتبہ" کو مستلزم ہی نہیں ہے.
یہی وجہ ہے کہ یہ جبری مطالبے والے لوگ بھی اپنے جملوں میں بکثرت لفظِ "انبیا و مرسلین" استعمال کرتے ہیں. اگر ان کی جبری منطق درست مان لی جائے تو یہ ترکیب بالکل غلط قرار پائے گی اور "انبیا و مرسلین" کی جگہ "مرسلین و انبیا" کہنا ضروری ہوگا, کیوں کہ مرسلین کرام بلاشبہہ انبیاے کرام سے افضل ہیں.
مگر خود ان لوگوں کا بلا کسی اشکال کے یہ ترکیب (انبیا و مرسلین) تسلسل کے ساتھ استعمال کرنا ان کے دعوے کی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے. بلکہ لاشعوری طور پر یہ خود ہی اپنے دعوے کے خلاف دلیل فراہم کرتے ہیں.
حاصل گفتگو ظاہر ہے کہ ایسے لوگوں کا یہ مطالبہ ایک بےدلیل "جبر" ہے. اور یہ ایسی چیز کو مسلمانوں پر لازم کرنا ہے جسے اللہ عزوجل اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے لازم نہیں کیا ہے.
اللہ عزوجل ہدایت دے.
یہ تفصیلات تو جبرا لازم کرنے والوں کے لیے تھیں. لیکن اگر کوئی "بہتر" کی بات کرے تو اسکے لیے عرض ہے کہ ہم اہل سنت جب صحابۂ کرام اور اہل بیتِ اطہار کا ایک ساتھ ذکر کرتے ہیں تو ان دونوں مقدس جماعتوں میں کسی قسم کے تفاضل و تقابل کا وہم و گمان بھی نہیں ہوتا. جب ہم درود شریف میں "و علی آلہ و اصحابہ" کہتے ہیں یا اپنے جملوں میں "صحابہ و اہل بیت" کہتے ہیں تب اس قسم کا کوئی تقابل یا ان میں تفاضل ہم اہل سنت میں سے کسی کے وہم و خیال میں بھی نہیں ہوتا.
اس لیے ہم اہل سنت کی نظروں میں یہ دونوں ترکیبیں یکساں ہیں.
پھر بھی اگر کوئی ان میں سے خاص اہلِ بیتِ اطہار کے لیے تقدیمِ ذکر پر اصرار کرے تو اسے درج ذیل نکات بھی پیشِ نظر رکھنا چاہیے:
* اہل بیت اطہار میں ام المؤمنین سیدتنا خدیجہ اور مولا علی کرم اللہ وجہہ کے ساتھ صحابۂ کرام خصوصا حضرتِ ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کی خدمات بھی آغازِ اسلام ہی سے ہیں.
* حجم اور مجموعی لحاظ سے صحابۂ کرام کی خدماتِ دین کو اہلِ بیتِ اطہار کی خدمات پر تقدم حاصل ہے.
* صحابہ کرام میں خلفاے راشدین بھی ہیں جو انبیا و مرسلین کے بعد علی الاطلاق تمام مسلمانوں سے افضل ہیں.
* صحابۂ کرام کا ذکر پہلے کرنے سے رافضیوں اور نیم رافضیوں کا رد ہوتا ہے.
* صحابۂ کرام کا تذکرہ قرآن حکیم میں رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے ذکر سے متصل ہے:
محمد رسول الله والذین معہ اشداء علی الکفار... الآیہ
امید ہے یہ چند سطریں کافی ہوں گی.
اللہ عزوجل صحابہ و اہل بیت کے سچے عاشقوں یعنی اہل سنت و جماعت پر اپنی خاص رحمتیں نازل فرمائے.
و صلی اللہ تعالی علی النبی الأمی و آلہ و صحبہ و بارک وسلم.
#نثارمصباحی
21 محرم 1440
2 اکتوبر 2018
Forwarded from فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
*📚 « مختصــر ســوانح حیــات » 📚*
-----------------------------------------------------------
*🕯امیر المؤمنین حضرت ابوبکر صدیق رضی اللّٰه عنہ🕯*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
نام و نسب:
اسمِ گرامی: عبداللّٰه۔
کنیت: ابوبکر۔
لقب: دو زیادہ مشہور ہیں صدیق اور عتیق۔
سلسلۂ نسب اسطرح ہے: عبد اللہ بن عثمان بن عامر بن عمرو بن کعب بن سعد بن تیم بن مرہ بن کعب۔ حضرت کعب پر جا کر آپ رضی اللہ عنہ کا سلسلہ رسولِ اکرم ﷺ کے نسب سے جا ملتا ہے۔ آپکی والدہ کا نام ام الخیر سلمیٰ بنت ِ صخر بن عامر بن عمرو بن کعب بن سعد بن تیم بن مرہ بن کعب ہے۔
قبولِ اسلام: حضرت سیدنا ابراہیم نخعی فرماتے ہیں!
"اوّل من اسلم ابوبکر الصّدّیق" یعنی سب سے پہلے اسلام قبول کرنیوالے حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں۔
(سنن الترمذی ،رقم الحدیث،۳۷۵۶)
فضائل و مناقب:
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے !
اِلَّا تَنۡصُرُوۡہُ فَقَدْ نَصَرَہُ اللہُ اِذْ اَخْرَجَہُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا ثَانِیَ اثْنَیۡنِ اِذْ ہُمَا فِی الْغَارِ اِذْ یَقُوۡلُ لِصَاحِبِہٖ لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللہَ مَعَنَا ۚ فَاَنۡزَلَ اللہُ سَکِیۡنَتَہٗ عَلَیۡہِ۔
ترجمہ کنزالایمان: اگر تم محبوب کی مدد نہ کرو تو بے شک اللہ نے ان کی مدد فرمائی جب کافروں کی شرارت سے باہر تشريف لے جانا ہوا صر ف دو جان سے جب وہ دونوں غار ميں تھے جب اپنے يار سے فرماتے تھے غم نہ کھا بیشک اللہ ہمارے ساتھ ہے تو اللہ نے اس پر اپنا سکينہ اتارا۔
(پ۱۰، التوبۃ:۴۰)
اس آیت مبارکہ سے دو مسئلے معلوم ہوئے۔۔۔۔۔
»ايک يہ کہ حضرت ابوبکر صديق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی صحابيت قطعی بحکمِ قرآنی ہے لہٰذا اس کا انکار کفر ہے۔
»دوسرا يہ کہ حضرت صديق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا درجہ حضورﷺ کے بعد سب سے بڑا ہے کہ انہيں اللہ تعالیٰ نے حضورﷺ کا ثانی فرمايا۔ اس لئے حضور ﷺ نے انہيں اپنے مصلےٰ پر امام بنايا۔
»يہ بھی معلوم ہوا کہ حضور ﷺ کے بعد خلافت صديق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لئے ہے۔ رب تعالیٰ انہيں دوسرا بنا چکا پھر انہيں تيسرا يا چوتھا کرنے والا کون ہے۔ وہ تو قبر ميں بھی دوسرے ہيں حشر ميں بھی دوسرے ہوں گے۔
یعنی اُس اَفضلُ الْخَلْقِ بَعْدَ الرُّسُل
ثَانِیَ اثْنَیْنِہِجرت پہ لاکھوں سلام
(حدائقِ بخشش )
رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا!"مجھ پر جس کسی کا احسان تھا میں نے اس کا بدلہ چکا دیا ہے، مگر ابوبکر کے مجھ پر وہ احسانات ہیں جن کا بدلہ اللہ تعالیٰ روزِ قیامت انہیں عطا فرمائیگا۔
(سنن الترمذی، رقم الحدیث ،۳۶۸۱)
خلافتِ صدیق اکبر :
ام المؤمنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی للہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہےکہ اللہ کے حبیب ﷺ نے مرضِ وفات میں مجھے ارشاد فرمایا!
"ابوبکر اور ان کے بیٹے کو بلا لاؤ تاکہ میں انہیں پروانہ (خلافت) لکھ دوں ،مجھے خوف ہے کہ کوئی تمنا کرنیوالا اپنی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے یہ نہ کہہ دے کہ میں زیادہ حقدار ہوں کیونکہ اللہ تعالیٰ اور مسلمان ابوبکر کے علاوہ کسی سے راضی نہ ہونگے۔
(صحیح مسلم،رقم ا لحدیث،۲۳۸۷)
سیدنا جبیر بن مطعم سے روایت ہے !کہ ایک عورت اپنی کسی حاجت کی وجہ سے بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوئی تو آپ ﷺ نے اسے دوبارہ آنے کا حکم ارشاد فرمایا، وہ کہنے لگی:
یا رسول اللہ ﷺ اگر میں دوبارہ آؤں اور آپکو نہ پاؤں تو؟
"گویا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے دنیا سے پردہ فرمانے کا ذکر کر رہی تھی۔
سرور ِ عالمَﷺنے ارشاد فرمایا!اگر تم مجھے نہ پاؤ تو ابوبکر کے پاس چلی جانا ۔
(صحیح البخاری،رقم الحدیث،۳۶۵۹)
افضلیتِ صدیق اکبر:
امام بخاری رحمۃ ﷲ تعالیٰ علیہ حضرت محمد بن حنفیہ صاحبزاده جناب امیر المومنین علی رضی اللہ تعالیٰ عنھما سے راویت فرماتے ہیں:
قال: قلت لأبي: أيّ الناس خیرٌ بعد النبي صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم؟ قال: أبو بکر، قال: قلت: ثم من؟ قال: عمر)۔
یعنی میں نے اپنے والد ماجد امیر المومنین مولیٰ علی کرم ﷲ وجہہ سے عرض کیا: کہ رسول ﷺکے بعد سب آدمیوں سے بہتر کون ہیں؟ ارشاد فرمایا: "ابو بکر، میں نے عرض کیا پھر کون ؟ فرمایا: عمر"
(صحیح البخاري، رقم الحدیث،۳۶۷۱)
اہلسنت و جماعت کا اجماعی عقیدہ ہے کہ بعد انبیاء و مرسلین، تمام مخلوقتِ الہی انس و جن و ملک سے افضل حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں پھر حضرت فاروق ِاعظم پھر حضرت عثمان غنی ، پھر حضرت مولیٰ علی۔
(رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین)
(بہارِ شریعت ،ج، اول، امامت کا بیان،ص،۲۴۱)
شیخین کی خلافت کا منکر کافر ہے:
شیخین کریمین کی خلافت پر صحابہ ٔکرام کا اجماع ہے لہذا انکی خلافت کا منکر دائرہ اسلام سے خارج ہے۔
(بہارِ شریعت،ج، اول، امامت کا بیان،ص،۲۵۳)
اعلیٰ حضرت عظیم البرکت، مجدد دین وملت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں:
وجیزامام کردری مطبوعہ مصر جلد ۳ ص ۳۱۸ میں ہے۔
-----------------------------------------------------------
*🕯امیر المؤمنین حضرت ابوبکر صدیق رضی اللّٰه عنہ🕯*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
نام و نسب:
اسمِ گرامی: عبداللّٰه۔
کنیت: ابوبکر۔
لقب: دو زیادہ مشہور ہیں صدیق اور عتیق۔
سلسلۂ نسب اسطرح ہے: عبد اللہ بن عثمان بن عامر بن عمرو بن کعب بن سعد بن تیم بن مرہ بن کعب۔ حضرت کعب پر جا کر آپ رضی اللہ عنہ کا سلسلہ رسولِ اکرم ﷺ کے نسب سے جا ملتا ہے۔ آپکی والدہ کا نام ام الخیر سلمیٰ بنت ِ صخر بن عامر بن عمرو بن کعب بن سعد بن تیم بن مرہ بن کعب ہے۔
قبولِ اسلام: حضرت سیدنا ابراہیم نخعی فرماتے ہیں!
"اوّل من اسلم ابوبکر الصّدّیق" یعنی سب سے پہلے اسلام قبول کرنیوالے حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں۔
(سنن الترمذی ،رقم الحدیث،۳۷۵۶)
فضائل و مناقب:
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے !
اِلَّا تَنۡصُرُوۡہُ فَقَدْ نَصَرَہُ اللہُ اِذْ اَخْرَجَہُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا ثَانِیَ اثْنَیۡنِ اِذْ ہُمَا فِی الْغَارِ اِذْ یَقُوۡلُ لِصَاحِبِہٖ لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللہَ مَعَنَا ۚ فَاَنۡزَلَ اللہُ سَکِیۡنَتَہٗ عَلَیۡہِ۔
ترجمہ کنزالایمان: اگر تم محبوب کی مدد نہ کرو تو بے شک اللہ نے ان کی مدد فرمائی جب کافروں کی شرارت سے باہر تشريف لے جانا ہوا صر ف دو جان سے جب وہ دونوں غار ميں تھے جب اپنے يار سے فرماتے تھے غم نہ کھا بیشک اللہ ہمارے ساتھ ہے تو اللہ نے اس پر اپنا سکينہ اتارا۔
(پ۱۰، التوبۃ:۴۰)
اس آیت مبارکہ سے دو مسئلے معلوم ہوئے۔۔۔۔۔
»ايک يہ کہ حضرت ابوبکر صديق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی صحابيت قطعی بحکمِ قرآنی ہے لہٰذا اس کا انکار کفر ہے۔
»دوسرا يہ کہ حضرت صديق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا درجہ حضورﷺ کے بعد سب سے بڑا ہے کہ انہيں اللہ تعالیٰ نے حضورﷺ کا ثانی فرمايا۔ اس لئے حضور ﷺ نے انہيں اپنے مصلےٰ پر امام بنايا۔
»يہ بھی معلوم ہوا کہ حضور ﷺ کے بعد خلافت صديق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لئے ہے۔ رب تعالیٰ انہيں دوسرا بنا چکا پھر انہيں تيسرا يا چوتھا کرنے والا کون ہے۔ وہ تو قبر ميں بھی دوسرے ہيں حشر ميں بھی دوسرے ہوں گے۔
یعنی اُس اَفضلُ الْخَلْقِ بَعْدَ الرُّسُل
ثَانِیَ اثْنَیْنِہِجرت پہ لاکھوں سلام
(حدائقِ بخشش )
رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا!"مجھ پر جس کسی کا احسان تھا میں نے اس کا بدلہ چکا دیا ہے، مگر ابوبکر کے مجھ پر وہ احسانات ہیں جن کا بدلہ اللہ تعالیٰ روزِ قیامت انہیں عطا فرمائیگا۔
(سنن الترمذی، رقم الحدیث ،۳۶۸۱)
خلافتِ صدیق اکبر :
ام المؤمنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی للہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہےکہ اللہ کے حبیب ﷺ نے مرضِ وفات میں مجھے ارشاد فرمایا!
"ابوبکر اور ان کے بیٹے کو بلا لاؤ تاکہ میں انہیں پروانہ (خلافت) لکھ دوں ،مجھے خوف ہے کہ کوئی تمنا کرنیوالا اپنی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے یہ نہ کہہ دے کہ میں زیادہ حقدار ہوں کیونکہ اللہ تعالیٰ اور مسلمان ابوبکر کے علاوہ کسی سے راضی نہ ہونگے۔
(صحیح مسلم،رقم ا لحدیث،۲۳۸۷)
سیدنا جبیر بن مطعم سے روایت ہے !کہ ایک عورت اپنی کسی حاجت کی وجہ سے بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوئی تو آپ ﷺ نے اسے دوبارہ آنے کا حکم ارشاد فرمایا، وہ کہنے لگی:
یا رسول اللہ ﷺ اگر میں دوبارہ آؤں اور آپکو نہ پاؤں تو؟
"گویا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے دنیا سے پردہ فرمانے کا ذکر کر رہی تھی۔
سرور ِ عالمَﷺنے ارشاد فرمایا!اگر تم مجھے نہ پاؤ تو ابوبکر کے پاس چلی جانا ۔
(صحیح البخاری،رقم الحدیث،۳۶۵۹)
افضلیتِ صدیق اکبر:
امام بخاری رحمۃ ﷲ تعالیٰ علیہ حضرت محمد بن حنفیہ صاحبزاده جناب امیر المومنین علی رضی اللہ تعالیٰ عنھما سے راویت فرماتے ہیں:
قال: قلت لأبي: أيّ الناس خیرٌ بعد النبي صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم؟ قال: أبو بکر، قال: قلت: ثم من؟ قال: عمر)۔
یعنی میں نے اپنے والد ماجد امیر المومنین مولیٰ علی کرم ﷲ وجہہ سے عرض کیا: کہ رسول ﷺکے بعد سب آدمیوں سے بہتر کون ہیں؟ ارشاد فرمایا: "ابو بکر، میں نے عرض کیا پھر کون ؟ فرمایا: عمر"
(صحیح البخاري، رقم الحدیث،۳۶۷۱)
اہلسنت و جماعت کا اجماعی عقیدہ ہے کہ بعد انبیاء و مرسلین، تمام مخلوقتِ الہی انس و جن و ملک سے افضل حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں پھر حضرت فاروق ِاعظم پھر حضرت عثمان غنی ، پھر حضرت مولیٰ علی۔
(رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین)
(بہارِ شریعت ،ج، اول، امامت کا بیان،ص،۲۴۱)
شیخین کی خلافت کا منکر کافر ہے:
شیخین کریمین کی خلافت پر صحابہ ٔکرام کا اجماع ہے لہذا انکی خلافت کا منکر دائرہ اسلام سے خارج ہے۔
(بہارِ شریعت،ج، اول، امامت کا بیان،ص،۲۵۳)
اعلیٰ حضرت عظیم البرکت، مجدد دین وملت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں:
وجیزامام کردری مطبوعہ مصر جلد ۳ ص ۳۱۸ میں ہے۔
❤1👍1
Forwarded from فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
"من انکرخلا فۃ ابی بکررضی ﷲ تعالٰی عنہ فھو کافرفی الصحیح ومن انکر خلافۃ عمر رضی اللہ تعالی عنہ فھو کافر فی الاصح۔
خلافتِ ابو بکر رضی اللہ تعالٰی عنہ کا منکر کافر ہے، یہی صحیح ہے، اور خلافتِ عمر فاروق رضی اللہ رتعالٰی عنہ کا منکر بھی کافر ہے، یہی صحیح تر ہے"۔
(فتاویٰ رضویہ، ج، ۱۴،ص،۲۵۱)
وصال: ۲۲جمادی الثانی۱۳ھ مطابق۲۳/اگست ۶۳۴ء بروز پیر، مغرب و عشاء کے درمیان تریسٹھ سال کی عمر میں آپکا وصال ہوا۔ آپ کی مدت خلافت دو سال ،تین ماہ اور دس دن تھی۔
بوقت وصال حضرتِ سیِّدُنا صِدِّیقِ اَکبر رضی اللہ رتعالٰی عنہ نے وصیت فرمائی کہ میرے جنازے کو میرے حبیبِﷺ کے روضۂ اَنور کے دَر کے سامنے لاکر رکھ دینا اور اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا رَسُوْلَ اللہ کہہ کر عرض کرنا! "یارسولَ اللہﷺ ابو بکر آستانۂ عالیہ پر حاضِر ہے۔ اگر دروازہ خود بخود کھل جائے تو اندر لے جانا ورنہ مسلمانوں کے قبرستان جنت البقیع میں دفن کر دینا۔ جنازۂ مبارکہ کو حسبِ وَصیت جب روضۂ اَقدس کے سامنے رکھا گیا اور عرض کیا گیا: اَلسَّلامُ عَلَیْکَ یَا رَسُوْلَ اللہ! ابوبکر حاضِر ہے۔ یہ عرض کرتے ہی دروازہ خود بخود کھل گیا اور آواز آنے لگی:
"اَدْخِلُوا الْحَبِیْبَ اِلَی الْحَبِیْبِ فَاِنَّ الْحَبِیْبَ اِلَی الْحَبِیْبِ مُشْتَاقٌ" یعنی محبوب کو محبوب سے مِلادو کہ محبوب کو محبوب کا اِشتِیاق ہے۔
(تفسیر کبیر ج۱۰ص۱۶۷ داراحیاء التراث العربی بیروت)
https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*المرتب⬅ محـمد یـوسـف رضـا رضـوی امجـدی نائب مدیر "فیضـانِ دارالعـلوم امجـدیہ ناگپور گروپ" 9604397443*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
خلافتِ ابو بکر رضی اللہ تعالٰی عنہ کا منکر کافر ہے، یہی صحیح ہے، اور خلافتِ عمر فاروق رضی اللہ رتعالٰی عنہ کا منکر بھی کافر ہے، یہی صحیح تر ہے"۔
(فتاویٰ رضویہ، ج، ۱۴،ص،۲۵۱)
وصال: ۲۲جمادی الثانی۱۳ھ مطابق۲۳/اگست ۶۳۴ء بروز پیر، مغرب و عشاء کے درمیان تریسٹھ سال کی عمر میں آپکا وصال ہوا۔ آپ کی مدت خلافت دو سال ،تین ماہ اور دس دن تھی۔
بوقت وصال حضرتِ سیِّدُنا صِدِّیقِ اَکبر رضی اللہ رتعالٰی عنہ نے وصیت فرمائی کہ میرے جنازے کو میرے حبیبِﷺ کے روضۂ اَنور کے دَر کے سامنے لاکر رکھ دینا اور اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا رَسُوْلَ اللہ کہہ کر عرض کرنا! "یارسولَ اللہﷺ ابو بکر آستانۂ عالیہ پر حاضِر ہے۔ اگر دروازہ خود بخود کھل جائے تو اندر لے جانا ورنہ مسلمانوں کے قبرستان جنت البقیع میں دفن کر دینا۔ جنازۂ مبارکہ کو حسبِ وَصیت جب روضۂ اَقدس کے سامنے رکھا گیا اور عرض کیا گیا: اَلسَّلامُ عَلَیْکَ یَا رَسُوْلَ اللہ! ابوبکر حاضِر ہے۔ یہ عرض کرتے ہی دروازہ خود بخود کھل گیا اور آواز آنے لگی:
"اَدْخِلُوا الْحَبِیْبَ اِلَی الْحَبِیْبِ فَاِنَّ الْحَبِیْبَ اِلَی الْحَبِیْبِ مُشْتَاقٌ" یعنی محبوب کو محبوب سے مِلادو کہ محبوب کو محبوب کا اِشتِیاق ہے۔
(تفسیر کبیر ج۱۰ص۱۶۷ داراحیاء التراث العربی بیروت)
https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*المرتب⬅ محـمد یـوسـف رضـا رضـوی امجـدی نائب مدیر "فیضـانِ دارالعـلوم امجـدیہ ناگپور گروپ" 9604397443*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
Telegram
فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
اہلسنت و جماعت مسلک اعلیٰ حضرت کا ترجمان، وسط ہند کی عظیم درسگاہ " دارالعلوم امجدیہ ناگپور مہاراشٹرا" کے نام سے منسوب گروپ
❤1
افضل البشر بعد الانبیاء بالتحقیق، خلیفۂ اول بلا فصل، امیر المؤمنین، امام المشاھدین لرب العالمین، حضرت سیدنا و مولانا الامام ابوبکر الصدیق رضی الله تعالی عنہ وأرضاہ کی ولادت واقعۂ فیل کے تقریباً ڈھائی سال بعد مکہ شریف میں ہوئی۔ آپ بنو تمیم کے چشم و چراغ، قریش کی مقتدر شخصیت، انبیاء و مرسلین کے بعد سب سے افضل، مَردوں میں سب سے پہلے ایمان لانے والے، سفر و حضر میں سرکار ﷺ کے رفیق اور مسلمانوں کے سب سے پہلے خلیفہ ہیں۔ آپ کی خلافت و صحابیت کا انکار کرنے والا کافر ہے۔ آپ خود، آپ کے والد، بیٹے، بیٹیاں، پوتے اور نواسے بھی صحابی ہیں۔ آپ نے رسول الله ﷺ سے (کم و بیش) 142 احادیث مبارکہ روایت کی ہیں۔ 22 جمادی الاخری 13ھ مطابق اگست 634ء بروز پیر شریف مدینۂ منورہ میں وصال فرمایا اور حضور اکرم ﷺ کے پہلو میں دفن ہوئے۔ (تاریخ الخلفاء، فتاوی رضویہ)
The best and most superior of creation after the Prophets and Messengers by absolute consensus, the very first caliph, the leader of the faithful, Our master, our benefector, and our leader Abu Bakr as-Siddiq (the truthful) RadiyAllahu Anhu wa Ardah was born in Makkah al-Mukarramah about two and a half years after the incident of elephants. He is a luminary from Banu Tamim, one the most influential personalities of the Quraysh, the best and most superior after the prophets and messengers, the first to believe in men, the closests and dearest of all companions to the Prophet ﷺ, and the first caliph of the Muslims. Whosoever denies his caliphate or companionship is out of the folds of Islam. He himself, his father, sons, daughters, grandsons are also noble companions. He has narrated (more or less) 142 hadiths from the beloved Prophet ﷺ. He left this mundane world on Monday, 22nd Jamad al-Akhirah 13 AH (August 634 CE) in Madinah Munawwarah and was laid to rest besides the most beloved and blessed Prophet ﷺ. [Tarikh al-Khulafa, Fatawa Ridawiyyah]
https://www.facebook.com/286386582084187/posts/975893009800204/
The best and most superior of creation after the Prophets and Messengers by absolute consensus, the very first caliph, the leader of the faithful, Our master, our benefector, and our leader Abu Bakr as-Siddiq (the truthful) RadiyAllahu Anhu wa Ardah was born in Makkah al-Mukarramah about two and a half years after the incident of elephants. He is a luminary from Banu Tamim, one the most influential personalities of the Quraysh, the best and most superior after the prophets and messengers, the first to believe in men, the closests and dearest of all companions to the Prophet ﷺ, and the first caliph of the Muslims. Whosoever denies his caliphate or companionship is out of the folds of Islam. He himself, his father, sons, daughters, grandsons are also noble companions. He has narrated (more or less) 142 hadiths from the beloved Prophet ﷺ. He left this mundane world on Monday, 22nd Jamad al-Akhirah 13 AH (August 634 CE) in Madinah Munawwarah and was laid to rest besides the most beloved and blessed Prophet ﷺ. [Tarikh al-Khulafa, Fatawa Ridawiyyah]
https://www.facebook.com/286386582084187/posts/975893009800204/
❤1
فہرست برائے شان صدیق اکبر ¹
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
فہرست کتب مع لنکس ↶
شان و عظمت صحابۂ کرام ❶
https://t.me/islaamic_Knowledge/22779
فہرست کتب مع لنکس ↶
شان و عظمت صحابۂ کرام ❷
https://t.me/islaamic_Knowledge/22781
فہرست کتب مع لنکس ↶
شان و عظمت صحابۂ کرام ❸
https://t.me/islaamic_Knowledge/22783
فہرست کتب مع لنکس ↶
شان و عظمت صحابیات عظام
https://t.me/islaamic_Knowledge/22785
فہرستِ کتب مع لِنکس ↶
شان و عظمت خلفائے راشدین
https://t.me/islaamic_Knowledge/22809
فہرستِ کتب مع لِنکس ↶
شان و عظمت ابو بکر و عمر
افضلیت شیخین رضیاللہعنہما
https://t.me/islaamic_Knowledge/22811
فہرستِ کتب مع لِنکس ↶
عشرۂ مبشرہ | عشرہ مبشرہ
https://t.me/islaamic_Knowledge/22835
فہرستِ کتب مع لِنکس ↶
شان و عظمت ابو بکر صدیق
https://t.me/islaamic_Knowledge/11407
🔎 शाने स़िद्दीक़े अकबर 📚
https://t.me/islaamic_Knowledge/22848
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
فہرست کتب مع لنکس ↶
شان و عظمت صحابۂ کرام ❶
https://t.me/islaamic_Knowledge/22779
فہرست کتب مع لنکس ↶
شان و عظمت صحابۂ کرام ❷
https://t.me/islaamic_Knowledge/22781
فہرست کتب مع لنکس ↶
شان و عظمت صحابۂ کرام ❸
https://t.me/islaamic_Knowledge/22783
فہرست کتب مع لنکس ↶
شان و عظمت صحابیات عظام
https://t.me/islaamic_Knowledge/22785
فہرستِ کتب مع لِنکس ↶
شان و عظمت خلفائے راشدین
https://t.me/islaamic_Knowledge/22809
فہرستِ کتب مع لِنکس ↶
شان و عظمت ابو بکر و عمر
افضلیت شیخین رضیاللہعنہما
https://t.me/islaamic_Knowledge/22811
فہرستِ کتب مع لِنکس ↶
عشرۂ مبشرہ | عشرہ مبشرہ
https://t.me/islaamic_Knowledge/22835
فہرستِ کتب مع لِنکس ↶
شان و عظمت ابو بکر صدیق
https://t.me/islaamic_Knowledge/11407
🔎 शाने स़िद्दीक़े अकबर 📚
https://t.me/islaamic_Knowledge/22848
❤1