This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ اور "علمِ تعبیرِ خواب"
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
تحریر : حمزہ شاہد رضوی
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ دیگر بہت سے علوم وفنون میں مہارت کے ساتھ "علمِ تعبیرِ خواب" میں بھی منصبِ امامت پر فائز تھے۔
امام جلال الدین عبد الرحمن سیوطی -رحمہ اللہ- لکھتے ہیں :
"وكان الصديق مع ذلك غاية في علم تأويل الرؤيا، وقد كان يعبر الرؤيا في زمن النبي -صلى الله عليه وسلم-
ـــــــ یعنی : حضرت صدیقِ اکبر - رضي الله عنه - ان فضائل کے ساتھ ساتھ "علمِ تعبیر خواب" میں بھی انتہائی درجۂ کمال کو پہنچے ہوئے تھے ۔ وہ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے زمانے میں بھی خوابوں کی تعبیر بتاتے تھے۔
وقد قال محمد بن سيرين -وهو المقدّم في هذا العلم بالاتفاق-: *كان أبو بكر أعبر هذه الأمة بعد النبي صلى الله عليه وسلم*. أخرجه ابن سعد .
ـــــــ یعنی : تابعی بزرگ حضرت سیدنا محمد بن سیرین - رحمة الله عليه - جنھیں اس فن میں متفقہ طور پر درجۂ تقدم حاصل ہے ؛ کہتے ہیں :
نبی کریم - ﷺ - کے بعد حضرت سیدنا أبو بَكر صدیق - رضي الله عنه - اس امت کے سب بڑے مُعبِّـر [خواب کی تعبیر بتانے والے] تھے ۔
وأخرج الديلمي في مسند الفردوس. وابن عساكر عن سمرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:
"أمرت أن أُأَوِّل الرؤيا وأن أعلمها أبا بكر" (تاريخ الخلفاء،ص37)
ترجمہ :
ـــــــ یعنی: حضرت سمرہ - رضي الله عنه - سے روایت ہے کہ نبی کریم - ﷺ - نے ارشاد فرمایا : "مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں خواب کی تعبیر بتاؤں، اور اور یہ علم ابوبکر صدیق کو سکھادوں" ۔
مزید یہ کہ اس فن میں صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی حضرت اسما - رضي الله عنها - بھی امتیازی حیثیت رکھتی تھیں۔ چناں چہ اس فن میں ان کی مہارت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ حضرت عمر فاروق - رضي الله عنه - جیسے راسخ العلم بھی بعض دفعہ ان سے خوابوں کی تعبیریں دریافت کیا کرتے تھے ۔
(الاصابۃ۔ج: 8، ص16)
حتی کہ معروف محدث، امام المعبرین ، امام محمد بن سیرین جن کی اس فن میں مہارت مسلم ہے، ان کا سلسلۂ علمِ تعبیر بھی حضرت اسماء سے ہوکر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ تک پہنچتا ہے ۔
امام قسطلانی لکھتے ہیں :
وكانت عارفة بتعبير الرؤيا حتى قيل: أخذ ابن سيرين التعبير عن ابن المسيب، وأخذه ابن المسيب عن أسماء، وأخذته أسماء عن أبيها.
(ارشاد الساري،ج1،ص295)
ـــــــ یعنی : حضرت اسما - رضي الله عنها - علم تعبیر خواب کی معرفت رکھتی تھیں ۔ یہاں تک کہا گیا ہے کہ حضرت ابن سیرین نے یہ علم حضرت سعید بن مسیب سے اخذ کیا، حضرت ابن مسیب نے حضرت اسما سے، اور حضرت اسما نے اپنے والد گرامی سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہم سے۔ !!
ـــــــ
تحریر : حمزہ شاہد رضوی
٢١ ؍ جمادی الآخرہ ٢٤٤١ھ
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/859156677988185/
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
تحریر : حمزہ شاہد رضوی
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ دیگر بہت سے علوم وفنون میں مہارت کے ساتھ "علمِ تعبیرِ خواب" میں بھی منصبِ امامت پر فائز تھے۔
امام جلال الدین عبد الرحمن سیوطی -رحمہ اللہ- لکھتے ہیں :
"وكان الصديق مع ذلك غاية في علم تأويل الرؤيا، وقد كان يعبر الرؤيا في زمن النبي -صلى الله عليه وسلم-
ـــــــ یعنی : حضرت صدیقِ اکبر - رضي الله عنه - ان فضائل کے ساتھ ساتھ "علمِ تعبیر خواب" میں بھی انتہائی درجۂ کمال کو پہنچے ہوئے تھے ۔ وہ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے زمانے میں بھی خوابوں کی تعبیر بتاتے تھے۔
وقد قال محمد بن سيرين -وهو المقدّم في هذا العلم بالاتفاق-: *كان أبو بكر أعبر هذه الأمة بعد النبي صلى الله عليه وسلم*. أخرجه ابن سعد .
ـــــــ یعنی : تابعی بزرگ حضرت سیدنا محمد بن سیرین - رحمة الله عليه - جنھیں اس فن میں متفقہ طور پر درجۂ تقدم حاصل ہے ؛ کہتے ہیں :
نبی کریم - ﷺ - کے بعد حضرت سیدنا أبو بَكر صدیق - رضي الله عنه - اس امت کے سب بڑے مُعبِّـر [خواب کی تعبیر بتانے والے] تھے ۔
وأخرج الديلمي في مسند الفردوس. وابن عساكر عن سمرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:
"أمرت أن أُأَوِّل الرؤيا وأن أعلمها أبا بكر" (تاريخ الخلفاء،ص37)
ترجمہ :
ـــــــ یعنی: حضرت سمرہ - رضي الله عنه - سے روایت ہے کہ نبی کریم - ﷺ - نے ارشاد فرمایا : "مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں خواب کی تعبیر بتاؤں، اور اور یہ علم ابوبکر صدیق کو سکھادوں" ۔
مزید یہ کہ اس فن میں صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی حضرت اسما - رضي الله عنها - بھی امتیازی حیثیت رکھتی تھیں۔ چناں چہ اس فن میں ان کی مہارت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ حضرت عمر فاروق - رضي الله عنه - جیسے راسخ العلم بھی بعض دفعہ ان سے خوابوں کی تعبیریں دریافت کیا کرتے تھے ۔
(الاصابۃ۔ج: 8، ص16)
حتی کہ معروف محدث، امام المعبرین ، امام محمد بن سیرین جن کی اس فن میں مہارت مسلم ہے، ان کا سلسلۂ علمِ تعبیر بھی حضرت اسماء سے ہوکر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ تک پہنچتا ہے ۔
امام قسطلانی لکھتے ہیں :
وكانت عارفة بتعبير الرؤيا حتى قيل: أخذ ابن سيرين التعبير عن ابن المسيب، وأخذه ابن المسيب عن أسماء، وأخذته أسماء عن أبيها.
(ارشاد الساري،ج1،ص295)
ـــــــ یعنی : حضرت اسما - رضي الله عنها - علم تعبیر خواب کی معرفت رکھتی تھیں ۔ یہاں تک کہا گیا ہے کہ حضرت ابن سیرین نے یہ علم حضرت سعید بن مسیب سے اخذ کیا، حضرت ابن مسیب نے حضرت اسما سے، اور حضرت اسما نے اپنے والد گرامی سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہم سے۔ !!
ـــــــ
تحریر : حمزہ شاہد رضوی
٢١ ؍ جمادی الآخرہ ٢٤٤١ھ
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/859156677988185/
Facebook
Log in to Facebook
Log in to Facebook to start sharing and connecting with your friends, family and people you know.
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
افضلیتِ صدیقِ اکبر ــ احادیثِ طیبہ کی روشنی میں
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
از : فیضان سرور مصباحی
جامعۃ المدینہ ـــــ نیپال
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
اہلِ اسلام کے نزدیک ایک جملہ بولا جاتا ہے : "أفضل البشر بعد الأنبياء بالتحقيق ؛ أمير المؤمنين أبي بكر الصديق " یعنی : یہ بات تحقیق سے ثابت شدہ ہے کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ انبیاء کرام کے بعد انسانوں میں سب سے افضل ہیں۔ یہ جملہ دراصل متعدد احادیثِ کریمہ اور تحقیقاتِ فقہا و متکلمین کا نچوڑ ہے. اور اہل سنت وجماعت کے اجماعی عقیدے :" افضلیت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ" کی ترجمانی پر مشتمل ہے۔
اہل سنت وجماعت کا عقیدہ ہے کہ جس طرح نبی کریم ﷺ تمام انبیائے کرام علیہم السلام پر فضیلت رکھتے ہیں، یوں ہی آپ کی امت کو سابقہ تمام امتوں پر فضیلت کا شرف حاصل ہے. پھر تمام امت محمدیہ میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین سب سے افضل قرار پائے، پھر حضرات صحابۂ کرام میں وہ مہاجرین جنھیں سابقین اولین ہونے کا شرف حاصل ہے. پھر ان میں بھی وہ دس خوش نصیب حضرات جنھوں نے زبانِ رسالت مآب ﷺ سے دنیا ہی میں جنتی ہونے کا مژدہ پایا، پھر ان عشرۂ مبشرہ میں حضرات خلفائے راشدین رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کو تمام پر فضیلت حاصل ہے. اور ان چار یاروں میں بھی یارغار حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ کو تمام پر فضیلت حاصل ہے۔ یہ باتیں یوں ہی نہیں کہی جاتیں، بلکہ ان کے پیچھے ٹھوس اور مستحکم دلائل موجود ہیں. تفصیل کے لیے اس موضوع پر موجود سینکڑوں کتب کا مطالعہ کیا جاسکتا ہے۔
الحاصل : *أفضل البشر بعد الأنبياء بالتحقيق* اسی عقیدۂ اہل سنت کو مختصر لفظوں میں بیان کردیتا ہے۔
آنے والی سطروں میں ہم احادیث کریمہ کی روشنی میں اس پر کچھ روشنی ڈالتے ہیں ۔
💎 نبی کریم ﷺ کا فرمان کہ میرے نزدیک "ابو بکر صدیق" سب سے پیارے ہیں ۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
⚡ حضرت عمرو بن العاص رضي الله عنه سے روایت ہے کہ جب انھوں نے نبی کریم ﷺ سے استفسار کیا کہ
: آپ کے نزدیک مردوں میں سب زیادہ محبوب کون ہے؟ تو آپ ﷺ نے إرشاد فرمایا : أبوبکر. حدیث کے الفاظ یہ ہیں :
أن النبي صلى الله عليه وسلم بعثه على جيش ذات السلاسل فأتيته.
فقلت: أي الناس أحب إليك؟
قال ﷺ : "عائشة"
فقلت من الرجال؟
قال ﷺ: "أبوها"
قلت: ثم من؟
قال ﷺ: " ثم عمر بن الخطاب"
فعد رجالاً .[رواہ الشیخان البخاری والمسلم ]
💎حضرت عمر کی شہادت کہ حضرت ابوبکر صدیق ہم میں سب سے بہتر ہیں ۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
⚡️ حضرت عائشة رضي الله عنها کی روایت ہے کہ سقيفۂ بنی ساعدہ کے موقع پر امیر المومنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے بارے میں ارشاد فرمایا :
*آپ ہمارے سردار، ہم میں سب سے بہتر اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سب زیادہ محبوب ہیں۔*
یہ ایک طویل حدیث ہے جس کے بعض الفاظ ہیں :
وفيه أن أبا بكر قال للأنصار: ( ولكنا الأمراء وأنتم الوزراء هم أوسط العرب دارا، وأعربهم أحسانا، فبايعوا عمر بن الخطاب أو أبا عبيدة بن الجراح.
فقال عمر بل نبايعك أنت ۔
*فأنت سيدنا ، وخيرنا، وأحبنا إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم. فأخذ عمر بيده فبايعه وبايعه الناس. (رواہ البخاری )
💎حضرت علی کی شہادت کہ رسول اللہ ﷺ کے بعد سب سے بہتر ابو بکر صدیق ہیں ۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
✨ چوتھے خلیفۂ راشد باب العلم حضرت علی رضی اللہ عنہ سے جب ان کے صاحبزادے حضرت محمد بن الحنفیہ نے پوچھا کہ رسول اللہ ﷺ کے بعد لوگوں میں کون سب سے بہتر ہے.؟
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : *ابوبکر*
حدیث کے متعلقہ الفاظ ہیں :
محمد بن الحنفية قال: *قلت: لأبي: أي الناس خير بعد رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: أبو بكر* قلت: ثم من؟ قال: عمر .(رواہ البخاری )
✨ مسند احمد بن حنبل میں ہے کہ حضرت علي رضي الله عنه نے فرمایا کہ نبی کریم ﷺ کے بعد اس امت میں سب سے افضل حضرت ابوبکر صدیق ہیں۔
حدیث کے الفاظ ہیں :
عن علی رضی اللہ عنه أنه قال لأبي جحيفة: يا أبا جحيفة ألا أخبرك بأفضل هذه الأمة بعد نبيها قال: قلت: بلى ولم أكن أرى أن أحدا أفضل منه، قال: *أفضل هذه الأمة بعد نبيها أبو بكر* وبعد أبي بكر عمر وبعدهما آخر ثالث ولم يسمه .(روى الإمام أحمد بإسناده)
ـــــــ خلاصۂ بحث :
اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ انبیاء کرام علیہم السلام کے بعد لوگوں میں سب سے افضل اور نبی کریم ﷺ کو سب سے زیادہ محبوب ہیں ۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
از : فیضان سرور مصباحی
جامعۃ المدینہ ـــــ نیپال
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
اہلِ اسلام کے نزدیک ایک جملہ بولا جاتا ہے : "أفضل البشر بعد الأنبياء بالتحقيق ؛ أمير المؤمنين أبي بكر الصديق " یعنی : یہ بات تحقیق سے ثابت شدہ ہے کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ انبیاء کرام کے بعد انسانوں میں سب سے افضل ہیں۔ یہ جملہ دراصل متعدد احادیثِ کریمہ اور تحقیقاتِ فقہا و متکلمین کا نچوڑ ہے. اور اہل سنت وجماعت کے اجماعی عقیدے :" افضلیت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ" کی ترجمانی پر مشتمل ہے۔
اہل سنت وجماعت کا عقیدہ ہے کہ جس طرح نبی کریم ﷺ تمام انبیائے کرام علیہم السلام پر فضیلت رکھتے ہیں، یوں ہی آپ کی امت کو سابقہ تمام امتوں پر فضیلت کا شرف حاصل ہے. پھر تمام امت محمدیہ میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین سب سے افضل قرار پائے، پھر حضرات صحابۂ کرام میں وہ مہاجرین جنھیں سابقین اولین ہونے کا شرف حاصل ہے. پھر ان میں بھی وہ دس خوش نصیب حضرات جنھوں نے زبانِ رسالت مآب ﷺ سے دنیا ہی میں جنتی ہونے کا مژدہ پایا، پھر ان عشرۂ مبشرہ میں حضرات خلفائے راشدین رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کو تمام پر فضیلت حاصل ہے. اور ان چار یاروں میں بھی یارغار حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ کو تمام پر فضیلت حاصل ہے۔ یہ باتیں یوں ہی نہیں کہی جاتیں، بلکہ ان کے پیچھے ٹھوس اور مستحکم دلائل موجود ہیں. تفصیل کے لیے اس موضوع پر موجود سینکڑوں کتب کا مطالعہ کیا جاسکتا ہے۔
الحاصل : *أفضل البشر بعد الأنبياء بالتحقيق* اسی عقیدۂ اہل سنت کو مختصر لفظوں میں بیان کردیتا ہے۔
آنے والی سطروں میں ہم احادیث کریمہ کی روشنی میں اس پر کچھ روشنی ڈالتے ہیں ۔
💎 نبی کریم ﷺ کا فرمان کہ میرے نزدیک "ابو بکر صدیق" سب سے پیارے ہیں ۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
⚡ حضرت عمرو بن العاص رضي الله عنه سے روایت ہے کہ جب انھوں نے نبی کریم ﷺ سے استفسار کیا کہ
: آپ کے نزدیک مردوں میں سب زیادہ محبوب کون ہے؟ تو آپ ﷺ نے إرشاد فرمایا : أبوبکر. حدیث کے الفاظ یہ ہیں :
أن النبي صلى الله عليه وسلم بعثه على جيش ذات السلاسل فأتيته.
فقلت: أي الناس أحب إليك؟
قال ﷺ : "عائشة"
فقلت من الرجال؟
قال ﷺ: "أبوها"
قلت: ثم من؟
قال ﷺ: " ثم عمر بن الخطاب"
فعد رجالاً .[رواہ الشیخان البخاری والمسلم ]
💎حضرت عمر کی شہادت کہ حضرت ابوبکر صدیق ہم میں سب سے بہتر ہیں ۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
⚡️ حضرت عائشة رضي الله عنها کی روایت ہے کہ سقيفۂ بنی ساعدہ کے موقع پر امیر المومنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے بارے میں ارشاد فرمایا :
*آپ ہمارے سردار، ہم میں سب سے بہتر اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سب زیادہ محبوب ہیں۔*
یہ ایک طویل حدیث ہے جس کے بعض الفاظ ہیں :
وفيه أن أبا بكر قال للأنصار: ( ولكنا الأمراء وأنتم الوزراء هم أوسط العرب دارا، وأعربهم أحسانا، فبايعوا عمر بن الخطاب أو أبا عبيدة بن الجراح.
فقال عمر بل نبايعك أنت ۔
*فأنت سيدنا ، وخيرنا، وأحبنا إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم. فأخذ عمر بيده فبايعه وبايعه الناس. (رواہ البخاری )
💎حضرت علی کی شہادت کہ رسول اللہ ﷺ کے بعد سب سے بہتر ابو بکر صدیق ہیں ۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
✨ چوتھے خلیفۂ راشد باب العلم حضرت علی رضی اللہ عنہ سے جب ان کے صاحبزادے حضرت محمد بن الحنفیہ نے پوچھا کہ رسول اللہ ﷺ کے بعد لوگوں میں کون سب سے بہتر ہے.؟
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : *ابوبکر*
حدیث کے متعلقہ الفاظ ہیں :
محمد بن الحنفية قال: *قلت: لأبي: أي الناس خير بعد رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: أبو بكر* قلت: ثم من؟ قال: عمر .(رواہ البخاری )
✨ مسند احمد بن حنبل میں ہے کہ حضرت علي رضي الله عنه نے فرمایا کہ نبی کریم ﷺ کے بعد اس امت میں سب سے افضل حضرت ابوبکر صدیق ہیں۔
حدیث کے الفاظ ہیں :
عن علی رضی اللہ عنه أنه قال لأبي جحيفة: يا أبا جحيفة ألا أخبرك بأفضل هذه الأمة بعد نبيها قال: قلت: بلى ولم أكن أرى أن أحدا أفضل منه، قال: *أفضل هذه الأمة بعد نبيها أبو بكر* وبعد أبي بكر عمر وبعدهما آخر ثالث ولم يسمه .(روى الإمام أحمد بإسناده)
ـــــــ خلاصۂ بحث :
اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ انبیاء کرام علیہم السلام کے بعد لوگوں میں سب سے افضل اور نبی کریم ﷺ کو سب سے زیادہ محبوب ہیں ۔
بخاری ومسلم شریف کی روایت میں آپ نے ملاحظہ کیا کہ خود نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ محبوبیت کا درجہ ابو بکر ہی کو حاصل ہے۔ بخاری شریف ہی کی روایت میں آپ نے پڑھا کہ خلیفہ راشد حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی یہی فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکر سب سے افضل اور حضورِ اکرم ﷺ کو سب سے زیادہ پیارے ہیں۔ اور پھر اس باب میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی شہادت تو سب سے بڑھ کر ہے؛ کہ انہیں کے نام سے انتشار وافتراق پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ چناں چہ ابھی ابھی بخاری شریف میں، بلکہ مسند احمد بن حنبل میں بھی حضرت علی کے حوالے سے شہادت گزری کہ *أفضل هذه الأمة بعد نبيها أبو بكر* ۔ اسی لیے تو اہل سنت وجماعت کے افراد آج تک اسی عقیدے پر قائم ودائم ہیں ۔ اور علانیہ کہتے ہیں :
أفضل البشر بعد الأنبياء بالتحقيق ؛ أمير المؤمنين أبي بكر الصديق " یعنی : تحقیق سے ثابت شدہ موقف ہے کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ انبیاء کرام کے بعد انسانوں میں سب سے افضل ہیں۔
از :
فیضان سرور مصباحی
جامعۃ المدینہ ـــــ نیپال
١٦/ جمادی الآخرۃ ١٤٤٢ھ
fb://photo/856379544932565?set=a.415369752366882
أفضل البشر بعد الأنبياء بالتحقيق ؛ أمير المؤمنين أبي بكر الصديق " یعنی : تحقیق سے ثابت شدہ موقف ہے کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ انبیاء کرام کے بعد انسانوں میں سب سے افضل ہیں۔
از :
فیضان سرور مصباحی
جامعۃ المدینہ ـــــ نیپال
١٦/ جمادی الآخرۃ ١٤٤٢ھ
fb://photo/856379544932565?set=a.415369752366882
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
قبلہ استاد گرامی رحمہاللہ نے تجوید پڑھانی شروع کی تو ہمیں فرمایا:
" سارے قرآن میں صرف 29 حروف استعمال ہوئے ہیں ، جو الف سے لے کر ی تک ہیں ۔
تم روزانہ ایک حرف کا بھی تلفظ درست کر لو تو 29 دنوں میں تمھارا سارے قرآن کا تلفظ ٹھیک ہوجائے گا ۔ "
ہم دنیا جہان کی کسی بھی چیز کا نام لے لیں ، اس میں وہی حروف آئیں گے جو الف سے لے کر ی تک ہیں ۔
گویا سارے جہان کی چیزیں انھی حروف میں مَحصُور ( گِھری ہُوئی ) ہیں ۔
کسی شاعر نے اِسی نسبت کے پیشِ نظر ایک تخیل پیش کیا ہے کہ:
سیدنا ابو بکر صدیق کا نامِ پاک " الف " سے شروع ہوتا ہے ، اور سیدنا علی کریم کا نامِ پاک " ی " پر ختم ہوتا ہے ۔
جس طرح الف حروف تہجی میں پہلا حرف ہے ، اسی طرح ابوبکر صدیق چاروں خلفا میں پہلے ہیں ؛ اور جس طرح ی آخری حرف ہے ، اسی طرح علی پاک آخری خلیفہ ہیں ۔
اب ابوبکر کے الف ، اور علی کی ی میں " جہانِ ایمان " گِھرا ہوا ہے ، مسلمان اس سے نکل سکتا ہی نہیں ؛
جیسے کوئی بھی لفظ الف تا ی سے نہیں نکل سکتا ۔
اب قطعہ ملاحظہ کریں ؏
اَبوبکر یَک سُو ، علی ایک جانِب
کہ مَحصور ہے جن میں ساری خُدائی
یہ تَشبِیہ ہے واقعی تو جگہ بھی ۔۔۔۔۔۔۔
" الف " اور " یے " نے یہ ترتیب پائی
وہ اَول خلیفہ کے " اول " میں آیا
یہ آخِر خلیفہ کے " آخِر" میں آئی
✍️لقمان شاہد
13-9-2020 ء
" سارے قرآن میں صرف 29 حروف استعمال ہوئے ہیں ، جو الف سے لے کر ی تک ہیں ۔
تم روزانہ ایک حرف کا بھی تلفظ درست کر لو تو 29 دنوں میں تمھارا سارے قرآن کا تلفظ ٹھیک ہوجائے گا ۔ "
ہم دنیا جہان کی کسی بھی چیز کا نام لے لیں ، اس میں وہی حروف آئیں گے جو الف سے لے کر ی تک ہیں ۔
گویا سارے جہان کی چیزیں انھی حروف میں مَحصُور ( گِھری ہُوئی ) ہیں ۔
کسی شاعر نے اِسی نسبت کے پیشِ نظر ایک تخیل پیش کیا ہے کہ:
سیدنا ابو بکر صدیق کا نامِ پاک " الف " سے شروع ہوتا ہے ، اور سیدنا علی کریم کا نامِ پاک " ی " پر ختم ہوتا ہے ۔
جس طرح الف حروف تہجی میں پہلا حرف ہے ، اسی طرح ابوبکر صدیق چاروں خلفا میں پہلے ہیں ؛ اور جس طرح ی آخری حرف ہے ، اسی طرح علی پاک آخری خلیفہ ہیں ۔
اب ابوبکر کے الف ، اور علی کی ی میں " جہانِ ایمان " گِھرا ہوا ہے ، مسلمان اس سے نکل سکتا ہی نہیں ؛
جیسے کوئی بھی لفظ الف تا ی سے نہیں نکل سکتا ۔
اب قطعہ ملاحظہ کریں ؏
اَبوبکر یَک سُو ، علی ایک جانِب
کہ مَحصور ہے جن میں ساری خُدائی
یہ تَشبِیہ ہے واقعی تو جگہ بھی ۔۔۔۔۔۔۔
" الف " اور " یے " نے یہ ترتیب پائی
وہ اَول خلیفہ کے " اول " میں آیا
یہ آخِر خلیفہ کے " آخِر" میں آئی
✍️لقمان شاہد
13-9-2020 ء
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from 🌹 شرعی عدالت چینل 🌸
*🌹خطبہ میں حضرت ابو بکر کے والد کا ذکر کیوں نہی ہے*🌹
*السلام علیکم ورحمت اللہ وبر کاتہ سوا ل یہ ہے کی جب جمعہ کا خطبہ پڑ ھا جا تا ہے تو خطبہ میں چا رو خلیفہ کا ذ کر ہے جس میں حضر ت عمر اور حضر ت عثمان اور حضر ت علی کے والد کا ذ کر ہے اور حضر ت ابو بکر کے والد ذ کر کیوں نہی ہے جواب عنا یت فر ما ئیں مہر با نی ہو گی*
*★ــــــــــــــــــ🔶🎨🔶ــــــــــــــــــــ★*
*وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ*
*📝الجواب بعون الملک الوہاب*
*کسی کے باپ کا نام اس لئے ذکر کیا جاتا ہے کہ مخاطب کو اس شخص کے تعین میں پریشانی نہ ہو اس لئے کہ ایک نام کے بہت سے لوگ ہوتے ہیں اور جب کسی شخص کا لقب اور تخلص مشہور بین الناس ہوتا ہے تو اس لقب اور تخلص کے بعد باپ کے نام کے ذکر کی حاجت باقی نہیں رہ جاتی جب یہ قاعدہ معلوم ہوگیا تو واضح ہو کہ عمر عثمان علی نام کے بہت سے صحابہ تابعین تبع تابعین بزرگان دین ہوۓ ہیں اگر خطبہ میں خلفاء ثلاثہ کے نام کے ساتھ ان کے باپ کا ذکر نہ کیا جائے تو سامعین کو شبہ ہوسکتا ہے*
*لیکن حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ میں آپ کا لقب صدیق ایسا مشہور بین السماء والارض ہے کہ اس لقب کا ذکر کردینے کے بعد باپ کے نام کے ذکر کرنے کی حاجت باقی نہیں رہ جاتی اس لئے کہ ابوبکر بہت گذرے ہیں مگر ان میں کوئی صدیق نہیں*
*لیکن پھر کوئی خطیب اگر خطبہ میں ان کے باپ ابو قحافہ رضی اللہ عنہ کا نام لیں تو بلا شبہ جائز ہے کوئی حرج نہیں*
*📚فتاوی فیض الرسول جلد اول صفحہ ٤٢٠*
*🌹واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب*🌹
*★ـــــــــــــــــــ🔶🎨🔶ــــــــــــــــــ★*
*✍از قلم حضرت علامہ ومولانا مفتی محمد مظہر علی رضوی صاحب قبلہ مد ظلہ العالی والنورانی خادم التدریس مدرسہ غوثیہ حبیبیہ بریل دربھنگہ بہار* *فیضــــان غــــوث وخواجہ گروپ میں ایڈ کے لئے*
*+918051028089*
*+917800878771*
*★ـــــــــــــــــــ🔶🎨🔶ـــــــــــــــــــ★*
*🖥المـرتـــب گدائے اولیائے کرام*
*محمــــــد ایــوب رضـا خان علوی*
*★ـــــــــــــــــــ🔶🔴🔶ـــــــــــــــــــ★*
*السلام علیکم ورحمت اللہ وبر کاتہ سوا ل یہ ہے کی جب جمعہ کا خطبہ پڑ ھا جا تا ہے تو خطبہ میں چا رو خلیفہ کا ذ کر ہے جس میں حضر ت عمر اور حضر ت عثمان اور حضر ت علی کے والد کا ذ کر ہے اور حضر ت ابو بکر کے والد ذ کر کیوں نہی ہے جواب عنا یت فر ما ئیں مہر با نی ہو گی*
*★ــــــــــــــــــ🔶🎨🔶ــــــــــــــــــــ★*
*وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ*
*📝الجواب بعون الملک الوہاب*
*کسی کے باپ کا نام اس لئے ذکر کیا جاتا ہے کہ مخاطب کو اس شخص کے تعین میں پریشانی نہ ہو اس لئے کہ ایک نام کے بہت سے لوگ ہوتے ہیں اور جب کسی شخص کا لقب اور تخلص مشہور بین الناس ہوتا ہے تو اس لقب اور تخلص کے بعد باپ کے نام کے ذکر کی حاجت باقی نہیں رہ جاتی جب یہ قاعدہ معلوم ہوگیا تو واضح ہو کہ عمر عثمان علی نام کے بہت سے صحابہ تابعین تبع تابعین بزرگان دین ہوۓ ہیں اگر خطبہ میں خلفاء ثلاثہ کے نام کے ساتھ ان کے باپ کا ذکر نہ کیا جائے تو سامعین کو شبہ ہوسکتا ہے*
*لیکن حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ میں آپ کا لقب صدیق ایسا مشہور بین السماء والارض ہے کہ اس لقب کا ذکر کردینے کے بعد باپ کے نام کے ذکر کرنے کی حاجت باقی نہیں رہ جاتی اس لئے کہ ابوبکر بہت گذرے ہیں مگر ان میں کوئی صدیق نہیں*
*لیکن پھر کوئی خطیب اگر خطبہ میں ان کے باپ ابو قحافہ رضی اللہ عنہ کا نام لیں تو بلا شبہ جائز ہے کوئی حرج نہیں*
*📚فتاوی فیض الرسول جلد اول صفحہ ٤٢٠*
*🌹واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب*🌹
*★ـــــــــــــــــــ🔶🎨🔶ــــــــــــــــــ★*
*✍از قلم حضرت علامہ ومولانا مفتی محمد مظہر علی رضوی صاحب قبلہ مد ظلہ العالی والنورانی خادم التدریس مدرسہ غوثیہ حبیبیہ بریل دربھنگہ بہار* *فیضــــان غــــوث وخواجہ گروپ میں ایڈ کے لئے*
*+918051028089*
*+917800878771*
*★ـــــــــــــــــــ🔶🎨🔶ـــــــــــــــــــ★*
*🖥المـرتـــب گدائے اولیائے کرام*
*محمــــــد ایــوب رضـا خان علوی*
*★ـــــــــــــــــــ🔶🔴🔶ـــــــــــــــــــ★*
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from چینل تحریک اصلاح عقائد
*فضائل صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ*
*سلسلہ نمبر: 1*
✨✨✨✨✨✨✨✨✨✨✨
بارگاہِ رسالت میں مقام ومرتبہ
حضرت سیدنا عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہماسے روایت ہے کہ میں نے دیکھا کہ خَاتَمُ الْمُرْسَلِیْن، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم حضرت سیدنا علی المرتضی شیر خدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کے ساتھ کھڑے تھے اتنے میں حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ تشریف لے آئے تو رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے آگے بڑھ کر ان سے مصافحہ فرمایا پھرگلے لگاکر آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے منہ کو چوم لیا اور حضرت سیدنا علی المرتضی شیر خدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے ارشاد فرمایا: *’’اے ابوالحسن! میرے نزدیک ابوبکر کا وہی مقام ہے جو اللہ کے ہاں میرا مقام ہے۔‘‘* (الریاض النضرۃ، ج۱، ص۱۸۵)
*ستاروں کے مثل نیکیاں*
حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاسے روایت ہے فرماتی ہیں کہ ایک باراللہ 1 کے محبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا سر مبارک میری گود میں تھا اور رات روشن تھی، میں نے عرض کیا:یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! کیا کسی کی نیکیاں آسمان کے ستاروں جتنی ہوں گی؟ تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:’’ جی ہاں ! وہ عمر ہیں ، جن کی نیکیاں ان ستاروں جتنی ہیں ۔‘‘حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں :’’میں نے عرض کیا: *’’یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! پھر میرے والد ماجد سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی نیکیاں کس درجہ میں ہیں ؟‘‘* آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:’’عمر کی تمام نیکیاں ابوبکر کی نیکیوں میں سے صرف ایک نیکی کے برابر ہیں ۔‘‘
*(مشکوٰۃالمصابیح، کتاب المناقب، الفصل الثالث، الحدیث:۶۰۶۸، ج۳، ص۳۴۹)*
*ترسیل سلوک ⬇️*
محمد رمضان رضا
🔸🔹🔸🔹🔸🔹🔸🔹🔸🔹🔸
📝 *منجانب :- شعبہ نشرو اشاعت* 📝
🏮 *اعلیحضرت فاؤنڈیشن مالیگاؤں* 🏮
➿➿➿➿➿➿➿➿➿➿➿
*بریلی شریف سے حضور تاج الشریعہ کے اعلان پر*
شام کے مظلوم مسلمانوں کے لیے درگاہ شہنشاہ مالیگاﺅں مولانا اسحاق نقشبندی رحمة الله تعالى عليه کے آستانہ مبارک پر 8 مارچ بروز جمعرات بعد نماز مغرب اجتماعی دعا کی مجلس کا انعقاد رکھا گیا ہے.
*لہذا عوام الناس کثیر تعداد میں شرکت فرمائیں.*
*سلسلہ نمبر: 1*
✨✨✨✨✨✨✨✨✨✨✨
بارگاہِ رسالت میں مقام ومرتبہ
حضرت سیدنا عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہماسے روایت ہے کہ میں نے دیکھا کہ خَاتَمُ الْمُرْسَلِیْن، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم حضرت سیدنا علی المرتضی شیر خدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کے ساتھ کھڑے تھے اتنے میں حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ تشریف لے آئے تو رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے آگے بڑھ کر ان سے مصافحہ فرمایا پھرگلے لگاکر آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے منہ کو چوم لیا اور حضرت سیدنا علی المرتضی شیر خدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے ارشاد فرمایا: *’’اے ابوالحسن! میرے نزدیک ابوبکر کا وہی مقام ہے جو اللہ کے ہاں میرا مقام ہے۔‘‘* (الریاض النضرۃ، ج۱، ص۱۸۵)
*ستاروں کے مثل نیکیاں*
حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاسے روایت ہے فرماتی ہیں کہ ایک باراللہ 1 کے محبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا سر مبارک میری گود میں تھا اور رات روشن تھی، میں نے عرض کیا:یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! کیا کسی کی نیکیاں آسمان کے ستاروں جتنی ہوں گی؟ تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:’’ جی ہاں ! وہ عمر ہیں ، جن کی نیکیاں ان ستاروں جتنی ہیں ۔‘‘حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں :’’میں نے عرض کیا: *’’یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! پھر میرے والد ماجد سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی نیکیاں کس درجہ میں ہیں ؟‘‘* آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:’’عمر کی تمام نیکیاں ابوبکر کی نیکیوں میں سے صرف ایک نیکی کے برابر ہیں ۔‘‘
*(مشکوٰۃالمصابیح، کتاب المناقب، الفصل الثالث، الحدیث:۶۰۶۸، ج۳، ص۳۴۹)*
*ترسیل سلوک ⬇️*
محمد رمضان رضا
🔸🔹🔸🔹🔸🔹🔸🔹🔸🔹🔸
📝 *منجانب :- شعبہ نشرو اشاعت* 📝
🏮 *اعلیحضرت فاؤنڈیشن مالیگاؤں* 🏮
➿➿➿➿➿➿➿➿➿➿➿
*بریلی شریف سے حضور تاج الشریعہ کے اعلان پر*
شام کے مظلوم مسلمانوں کے لیے درگاہ شہنشاہ مالیگاﺅں مولانا اسحاق نقشبندی رحمة الله تعالى عليه کے آستانہ مبارک پر 8 مارچ بروز جمعرات بعد نماز مغرب اجتماعی دعا کی مجلس کا انعقاد رکھا گیا ہے.
*لہذا عوام الناس کثیر تعداد میں شرکت فرمائیں.*
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from چینل تحریک اصلاح عقائد
*فضائل صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ*
*سلسلہ نمبر: 2*
✨✨✨✨✨✨✨✨✨✨✨
بارگاہ رسالت میں صدیق اکبر کی اہمیت
حضرت سیدنا عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ جنگ اُحد میں حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اپنے بیٹےعبدالرحمن کو(جو اس وقت مسلمان نہیں ہوئے تھے اور کفار کی طرف سے لڑرہے تھے )مقابلے کے لئے للکارا تو رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے آپ کو بیٹھنے کا حکم ارشاد فرمایا۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی
عَنْہ نےسرکار صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں عرض کی: ’’یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!مجھے اجازت عطا فرمائیں ، میں ان کے اوّل دستے میں گھس جاؤں گا۔‘‘تو نبیٔ کریم رؤفٌ رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سےارشاد فرمایا:’’اے ابوبکر!ابھی تو ہمیں تمہاری ذات سے بہت سے فائدے اٹھانے ہیں اور تمہیں معلوم نہیں کہ میرے نزدیک تمہاری حیثیت بمنزلہ کان اور آنکھ کے ہے۔‘‘
*( روح البیان، المجادلۃ:۲۲، ج۹،ص۴۱۳، روح المعانی، الجزء: ۲۸، المجادلۃ: ۲۲، ص۳۲۳، الریاض النضرۃ، ج۱، ص۱۸۵، ۱۸۶)*
*صدیق اکبر اور جنت*
جنت کے تما م دروازوں سے بلاوا
حضرت سیدناابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ نورکے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا :’’ جس نے اللہ کی راہ میں کوئی چیز دو دو کر کے خرچ کی اسے جنت کے دروازوں سے اس طرح آواز آئے گی:’’اے اللہکے بندے!یہ دروازہ تیرے لیے بہتر ہے۔‘‘پس نمازی کوباب الصلوۃسے، اہل جہاد کو باب الجھادسے، صدقات و خیرات کرنے والے کو باب الصدقۃسے اور روزہ دار کو باب الریانسے بلایا جائے گا۔‘‘ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے عرض کیا: ’’یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!میرے ماں باپ آپ پر قربان! کسی کو ان تمام دروازوں سے پکارا جائے اس کی ضرورت تونہیں (کیونکہ مقصود تو جنت میں داخلہ ہے اوروہ کسی ایک دروازے سے بھی پورا ہوجائے گا)لیکن کیا ایسے لوگ بھی ہوں گے جنہیں ان دروازوں سے بلایاجائے گا؟‘‘آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا: ’’اے ابوبکر!ہاں ! اوریقیناً تم ان ہی لوگوں میں سے ہو۔‘‘
*(صحیح البخاری ،کتاب الصوم،الریان للصائمین، الحدیث :۱۸۹۷،ج۱،ص۶۲۵)*
🔸🔹🔸🔹🔸🔹🔸🔹🔸🔹🔸
*ترسیل سلوک⬇*
محمد رمضان رضا
📝 *منجانب :- شعبہ نشرو اشاعت* 📝
🏮 *اعلیحضرت فاؤنڈیشن مالیگاؤں* 🏮
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
*بریلی شریف سے حضور تاج الشریعہ کے اعلان پر*
*شام کے مظلوم مسلمانوں کے لیے درگاہ شہنشاہ مالیگاﺅں مولانا اسحاق نقشبندی رحمة الله تعالى عليه کے آستانے پر 8 مارچ بروز جمعرات بعد نماز مغرب اجتماعی دعا کی مجلس کا انعقاد رکھا گیا ہے.*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*اسی طرح 8 مارچ کو ہی بعد نماز عشاء 9:30 بجے پاٹنہ شریف کی درگاہ میں آرام فرمودہ بزرگ سید شاہ داد چشتی نظامی نور اللہ مرقدہ کے آستانہ پر مظلوم مسلمانوں کے حق میں علمائے اہلسنت کی سرپرستی میں خصوصی دعائیہ مجلس کا انعقاد آل انڈیا سنی جمعتہ العلماء مالیگاؤں اور رضا اکیڈمی مالیگاؤں و دیگر سنی تنظیموں کے توسط سے کیا جائے گا لہذا عوام الناس سے گزارش ہے کہ اپنا دینی و مذہبی فریضہ سمجھتے ہوئے مقررہ وقت پر شرکت فرمائیں....*
*سلسلہ نمبر: 2*
✨✨✨✨✨✨✨✨✨✨✨
بارگاہ رسالت میں صدیق اکبر کی اہمیت
حضرت سیدنا عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ جنگ اُحد میں حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اپنے بیٹےعبدالرحمن کو(جو اس وقت مسلمان نہیں ہوئے تھے اور کفار کی طرف سے لڑرہے تھے )مقابلے کے لئے للکارا تو رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے آپ کو بیٹھنے کا حکم ارشاد فرمایا۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی
عَنْہ نےسرکار صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں عرض کی: ’’یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!مجھے اجازت عطا فرمائیں ، میں ان کے اوّل دستے میں گھس جاؤں گا۔‘‘تو نبیٔ کریم رؤفٌ رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سےارشاد فرمایا:’’اے ابوبکر!ابھی تو ہمیں تمہاری ذات سے بہت سے فائدے اٹھانے ہیں اور تمہیں معلوم نہیں کہ میرے نزدیک تمہاری حیثیت بمنزلہ کان اور آنکھ کے ہے۔‘‘
*( روح البیان، المجادلۃ:۲۲، ج۹،ص۴۱۳، روح المعانی، الجزء: ۲۸، المجادلۃ: ۲۲، ص۳۲۳، الریاض النضرۃ، ج۱، ص۱۸۵، ۱۸۶)*
*صدیق اکبر اور جنت*
جنت کے تما م دروازوں سے بلاوا
حضرت سیدناابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ نورکے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا :’’ جس نے اللہ کی راہ میں کوئی چیز دو دو کر کے خرچ کی اسے جنت کے دروازوں سے اس طرح آواز آئے گی:’’اے اللہکے بندے!یہ دروازہ تیرے لیے بہتر ہے۔‘‘پس نمازی کوباب الصلوۃسے، اہل جہاد کو باب الجھادسے، صدقات و خیرات کرنے والے کو باب الصدقۃسے اور روزہ دار کو باب الریانسے بلایا جائے گا۔‘‘ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے عرض کیا: ’’یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!میرے ماں باپ آپ پر قربان! کسی کو ان تمام دروازوں سے پکارا جائے اس کی ضرورت تونہیں (کیونکہ مقصود تو جنت میں داخلہ ہے اوروہ کسی ایک دروازے سے بھی پورا ہوجائے گا)لیکن کیا ایسے لوگ بھی ہوں گے جنہیں ان دروازوں سے بلایاجائے گا؟‘‘آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا: ’’اے ابوبکر!ہاں ! اوریقیناً تم ان ہی لوگوں میں سے ہو۔‘‘
*(صحیح البخاری ،کتاب الصوم،الریان للصائمین، الحدیث :۱۸۹۷،ج۱،ص۶۲۵)*
🔸🔹🔸🔹🔸🔹🔸🔹🔸🔹🔸
*ترسیل سلوک⬇*
محمد رمضان رضا
📝 *منجانب :- شعبہ نشرو اشاعت* 📝
🏮 *اعلیحضرت فاؤنڈیشن مالیگاؤں* 🏮
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
*بریلی شریف سے حضور تاج الشریعہ کے اعلان پر*
*شام کے مظلوم مسلمانوں کے لیے درگاہ شہنشاہ مالیگاﺅں مولانا اسحاق نقشبندی رحمة الله تعالى عليه کے آستانے پر 8 مارچ بروز جمعرات بعد نماز مغرب اجتماعی دعا کی مجلس کا انعقاد رکھا گیا ہے.*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*اسی طرح 8 مارچ کو ہی بعد نماز عشاء 9:30 بجے پاٹنہ شریف کی درگاہ میں آرام فرمودہ بزرگ سید شاہ داد چشتی نظامی نور اللہ مرقدہ کے آستانہ پر مظلوم مسلمانوں کے حق میں علمائے اہلسنت کی سرپرستی میں خصوصی دعائیہ مجلس کا انعقاد آل انڈیا سنی جمعتہ العلماء مالیگاؤں اور رضا اکیڈمی مالیگاؤں و دیگر سنی تنظیموں کے توسط سے کیا جائے گا لہذا عوام الناس سے گزارش ہے کہ اپنا دینی و مذہبی فریضہ سمجھتے ہوئے مقررہ وقت پر شرکت فرمائیں....*
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from چینل تحریک اصلاح عقائد
*فضائل صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ*
*سلسلہ نمبر: 3*
✨✨✨✨✨✨✨✨✨✨✨
*صدیق اکبر رَضِىَ اللهُ تَعَالٰی عَـنْهُ کی جنت میں انبیاءکرام کی معیت*
حضرت سیدناجابربن عبد اللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ نبیٔ کریم رؤفٌ رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا:’’ فرشتے ابوبکر صدیق کو روز قیامت لائیں گے ، اور انبیاء و صدیقین کے ساتھ جنت میں جگہ دیں گے۔“
*(کنز العمال،فضل ابی بکر الصدیق،الحدیث: ۳۲۶۲۴، ج۶،الجزء:۱۱، ص۲۵۵)*
*صدیق اکبر رَضِىَ اللهُ تَعَالٰی عَـنْهُ اورجنتی موٹے تازے پرندے*
حضرت سیدناانس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ دو عالم کے مالِک و مختار، مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا: ’’بے شک جنت میں کچھ پرندے بختی اونٹوں کی طرح بڑےاورموٹے تازے ہوں گے اور (جس طرح اونٹ درختوں سےچرتے ہیں ویسے ہی وہ پرندے) جنتی درختوں سے چرتے ہوں گے۔‘‘ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے عرض کیا: ’’یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! وہ تو موٹے تازے پرندے ہوں گے۔‘‘ سرکارصَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا: ’’ہاں ! ان کو کھانے والا بھی ان کی طرح آسودہ(یعنی موٹاتازہ) ہوگااورمجھے یقین ہے کہ تم ان موٹے تازے جنتی پرندے کھانے والوں میں سے ہو۔‘‘
*(مسند امام احمد ،مسند انس بن مالک،الحدیث:۱۳۳۱۰، ج۴، ص۴۴۱)*
🔹🔸🔹🔸🔹🔸🔹🔸🔹🔸🔹
*ترسیل سلوک ⬇️*
محمد رمضان رضا
📝 *منجانب :- شعبہ نشرو اشاعت* 📝
🏮 *اعلیحضرت فاؤنڈیشن مالیگاؤں* 🏮
*سلسلہ نمبر: 3*
✨✨✨✨✨✨✨✨✨✨✨
*صدیق اکبر رَضِىَ اللهُ تَعَالٰی عَـنْهُ کی جنت میں انبیاءکرام کی معیت*
حضرت سیدناجابربن عبد اللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ نبیٔ کریم رؤفٌ رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا:’’ فرشتے ابوبکر صدیق کو روز قیامت لائیں گے ، اور انبیاء و صدیقین کے ساتھ جنت میں جگہ دیں گے۔“
*(کنز العمال،فضل ابی بکر الصدیق،الحدیث: ۳۲۶۲۴، ج۶،الجزء:۱۱، ص۲۵۵)*
*صدیق اکبر رَضِىَ اللهُ تَعَالٰی عَـنْهُ اورجنتی موٹے تازے پرندے*
حضرت سیدناانس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ دو عالم کے مالِک و مختار، مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا: ’’بے شک جنت میں کچھ پرندے بختی اونٹوں کی طرح بڑےاورموٹے تازے ہوں گے اور (جس طرح اونٹ درختوں سےچرتے ہیں ویسے ہی وہ پرندے) جنتی درختوں سے چرتے ہوں گے۔‘‘ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے عرض کیا: ’’یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! وہ تو موٹے تازے پرندے ہوں گے۔‘‘ سرکارصَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا: ’’ہاں ! ان کو کھانے والا بھی ان کی طرح آسودہ(یعنی موٹاتازہ) ہوگااورمجھے یقین ہے کہ تم ان موٹے تازے جنتی پرندے کھانے والوں میں سے ہو۔‘‘
*(مسند امام احمد ،مسند انس بن مالک،الحدیث:۱۳۳۱۰، ج۴، ص۴۴۱)*
🔹🔸🔹🔸🔹🔸🔹🔸🔹🔸🔹
*ترسیل سلوک ⬇️*
محمد رمضان رضا
📝 *منجانب :- شعبہ نشرو اشاعت* 📝
🏮 *اعلیحضرت فاؤنڈیشن مالیگاؤں* 🏮
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from چینل تحریک اصلاح عقائد
*فضائل صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ*
*قســط نمبر:4*
✨✨✨✨✨✨✨✨✨✨✨
*بیاں ہوں کس زباں سے مرتبہ صدیق اکبر کا*
*ہے یار غار محبوب خدا صدیق اکبر کا*
*الہی رحم فرما خادم صدیق اکبر ہوں*
*تری رحمت کے صدقے واسطہ صدیق اکبر کا*
*🌹صدیق اکبرکا جنت میں بلند و بالامحل*
حضرت سیدنا انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ نورکے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا: ’’معراج کی رات جب میں جنت میں داخل ہوا تو میں نےوہاں ایک بلند وبالا محل دیکھا جس پر ریشم کے پردے لگے ہوئے تھے، میں نے کہا:’’ جبریل ! یہ کس کے لئےہے؟‘‘ انہوں نے عرض کیا :’’یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!یہ آپ کے غلام وعاشق صادق سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کا ہے۔‘‘
*(الریاض النضرۃ،ج۱، ص۱۸۳)*
*🌹صدیق اکبر کے لیے گلاب جیسی چار سوحُوریں*
حضرت سیدناعمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ اللہ کے ایک محبوب، دانائے غیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا :’’اللہ تعالٰی نے کچھ جنتی حوروں کو پھولوں سے پیدا فرمایا ہے اور انہیں گلابی حوریں کہا جاتا ہے، ان سے صرف نبی یا صدیق یا شہید ہی نکاح کرسکتے ہیں ، اور ابوبکر کوایسی چار سو( ۴۰۰)حوریں دی جائیں گی۔“
*(الریاض النضرۃ، ج۱، ص۱۸۴)*
🔹🔸🔹🔸🔹🔸🔹🔸🔹🔸🔹
*ترسیل سلوک ⬇️*
محمد رمضان رضا
📝 *منجانب :- شعبہ نشرو اشاعت* 📝
🏮 *اعلیحضرت فاؤنڈیشن مالیگاؤں* 🏮
*قســط نمبر:4*
✨✨✨✨✨✨✨✨✨✨✨
*بیاں ہوں کس زباں سے مرتبہ صدیق اکبر کا*
*ہے یار غار محبوب خدا صدیق اکبر کا*
*الہی رحم فرما خادم صدیق اکبر ہوں*
*تری رحمت کے صدقے واسطہ صدیق اکبر کا*
*🌹صدیق اکبرکا جنت میں بلند و بالامحل*
حضرت سیدنا انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ نورکے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا: ’’معراج کی رات جب میں جنت میں داخل ہوا تو میں نےوہاں ایک بلند وبالا محل دیکھا جس پر ریشم کے پردے لگے ہوئے تھے، میں نے کہا:’’ جبریل ! یہ کس کے لئےہے؟‘‘ انہوں نے عرض کیا :’’یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!یہ آپ کے غلام وعاشق صادق سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کا ہے۔‘‘
*(الریاض النضرۃ،ج۱، ص۱۸۳)*
*🌹صدیق اکبر کے لیے گلاب جیسی چار سوحُوریں*
حضرت سیدناعمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ اللہ کے ایک محبوب، دانائے غیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا :’’اللہ تعالٰی نے کچھ جنتی حوروں کو پھولوں سے پیدا فرمایا ہے اور انہیں گلابی حوریں کہا جاتا ہے، ان سے صرف نبی یا صدیق یا شہید ہی نکاح کرسکتے ہیں ، اور ابوبکر کوایسی چار سو( ۴۰۰)حوریں دی جائیں گی۔“
*(الریاض النضرۃ، ج۱، ص۱۸۴)*
🔹🔸🔹🔸🔹🔸🔹🔸🔹🔸🔹
*ترسیل سلوک ⬇️*
محمد رمضان رضا
📝 *منجانب :- شعبہ نشرو اشاعت* 📝
🏮 *اعلیحضرت فاؤنڈیشن مالیگاؤں* 🏮
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from چینل تحریک اصلاح عقائد
*فضائل صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ*
*قسط نمبر:5*
✨✨✨✨✨✨✨✨✨✨✨
صدیق اکبر کا جنت میں پُرتپاک استقبال
حضرت سیدنا عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہما سے روایت ہے کہ حضورنبی ٔرحمت، شفیعِ اُمت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا : *’’جنت میں ایک ایسا شخص داخل ہوگا کہ تمام جنت والے اسے پکار پکار کر کہیں گے: مرحبا! مرحبا! یہاں تشریف لائیے، یہاں تشریف لائیے۔‘*‘ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ،نے بڑے تعجب سے پوچھا: ’’یارسول اللہ،صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!کیا ہم بھی اس شخص کو دیکھ سکیں گے؟‘‘آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ’’اے ابوبکر ! وہ جنتی شخص تم ہی تو ہو۔‘‘
*(صحیح ابن حبان، اخبارہ عن مناقب الصحابۃ، ذکر ترحیب اھل الجنۃ بابی بکر، الحدیث: ۶۸۲۸، ج۶، الجزء: ۹، ص۷)*
*تمام آسمانوں میں آپ کا نام*
حضرت سیدناابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ دو عالم کے مالِک و مختار، مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا:’’مجھے آسمانوں کی سیر کرائی گئی پس میرا جس آسمان سے گزر ہوا میں نے وہاں اپنانام لکھا ہوا پایا اور اپنے بعد ابو بکر کا نام بھی لکھا ہواپایا۔“
*(مجمع الزوائد،کتاب المناقب،باب ماجاء فی ابی بکر الصدیق، الحدیث:۱۴۲۹۶، ج۹، ص۱۹، تاریخ الخلفاء، ص۴۳)*
*نورانی قلم سے لکھا ہوا نام*
حضرت سیدناابودرداء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ سرکارِ نامدار، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا:’’میں نے شب معراج عرش اعظم کے گرد سبز جواہر پر نورانی قلم سے لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہ اَبُوْ بَکْر الصِدِّیْقْ لکھا دیکھا۔‘‘
*(الریاض النضرۃ، ج۱، ص۱۶۷)*
*۲۲؍ جمادی الاخـریٰ یـوم وصـال ســیدنا صـدیـق اکـبر رَضِىَ اللهُ تَعَالٰی عَـنْهُ*
🔸🔹🔸🔹🔸🔹🔸🔹🔸🔹🔸
*ترسیل سلوک ⬇️*
محمد رمضان رضا
📝 *منجانب :- شعبہ نشرو اشاعت* 📝
🏮 *اعلیحضرت فاؤنڈیشن مالیگاؤں* 🏮
*قسط نمبر:5*
✨✨✨✨✨✨✨✨✨✨✨
صدیق اکبر کا جنت میں پُرتپاک استقبال
حضرت سیدنا عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہما سے روایت ہے کہ حضورنبی ٔرحمت، شفیعِ اُمت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا : *’’جنت میں ایک ایسا شخص داخل ہوگا کہ تمام جنت والے اسے پکار پکار کر کہیں گے: مرحبا! مرحبا! یہاں تشریف لائیے، یہاں تشریف لائیے۔‘*‘ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ،نے بڑے تعجب سے پوچھا: ’’یارسول اللہ،صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!کیا ہم بھی اس شخص کو دیکھ سکیں گے؟‘‘آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ’’اے ابوبکر ! وہ جنتی شخص تم ہی تو ہو۔‘‘
*(صحیح ابن حبان، اخبارہ عن مناقب الصحابۃ، ذکر ترحیب اھل الجنۃ بابی بکر، الحدیث: ۶۸۲۸، ج۶، الجزء: ۹، ص۷)*
*تمام آسمانوں میں آپ کا نام*
حضرت سیدناابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ دو عالم کے مالِک و مختار، مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا:’’مجھے آسمانوں کی سیر کرائی گئی پس میرا جس آسمان سے گزر ہوا میں نے وہاں اپنانام لکھا ہوا پایا اور اپنے بعد ابو بکر کا نام بھی لکھا ہواپایا۔“
*(مجمع الزوائد،کتاب المناقب،باب ماجاء فی ابی بکر الصدیق، الحدیث:۱۴۲۹۶، ج۹، ص۱۹، تاریخ الخلفاء، ص۴۳)*
*نورانی قلم سے لکھا ہوا نام*
حضرت سیدناابودرداء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ سرکارِ نامدار، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا:’’میں نے شب معراج عرش اعظم کے گرد سبز جواہر پر نورانی قلم سے لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہ اَبُوْ بَکْر الصِدِّیْقْ لکھا دیکھا۔‘‘
*(الریاض النضرۃ، ج۱، ص۱۶۷)*
*۲۲؍ جمادی الاخـریٰ یـوم وصـال ســیدنا صـدیـق اکـبر رَضِىَ اللهُ تَعَالٰی عَـنْهُ*
🔸🔹🔸🔹🔸🔹🔸🔹🔸🔹🔸
*ترسیل سلوک ⬇️*
محمد رمضان رضا
📝 *منجانب :- شعبہ نشرو اشاعت* 📝
🏮 *اعلیحضرت فاؤنڈیشن مالیگاؤں* 🏮
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM