🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
Photo
#دینی_معلومات #اسلامک_نالج
#جامعۃ_الرضا 🌹 پوسٹ نمبر⁶⁵
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
📇 مرکز الدراسات الاسلامیہ
جامعۃ الرضا بریلی شریف UP
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
👍1
#سیدنا_ابوبکر:#صدیق_بھی_رفیق_بھی!!
ولادت سرکار پر تذکرہ یارِ غار

غلام مصطفےٰ نعیمی
روشن مستقبل دہلی

عام الفیل(570ء) کو دو سال چھ ماہ گزرے تھے کہ ابو قحافہ عثمان بن عامر کے گھر ایک سعادت مند بچے نے آنکھیں کھولیں۔نام عبدالکعبہ رکھا گیا۔جو بعد میں بدل کر عبداللہ کردیا گیا تھا۔پرورش کا زمانہ شروع ہوگیا۔یہ وہ زمانہ تھا کہ عرب معاشرے میں دنیا بھر کی ساری برائیاں عام تھیں۔شراب نوشی و زنا کاری ان کا شوق تھی اور بت پرستی ان کی فطرت!
اسی بگڑے ہوئے معاشرے میں بچے نے پروان چڑھنا شروع کیا۔ جب یہ بچہ چار سال کا ہوگیا تو ایک دن ابو قحافہ اسے اپنے ساتھ لیکر بت خانے پہنچے اور ایک بڑے بت کی جانب اشارہ کرکے سجدہ کرنے کا حکم دیا۔ننھے بچے نے ایک نظر باپ کو دیکھا اور پھر بت سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا:
"میں بھوکا ہوں مجھے کھانا دے۔میں ننگا ہوں مجھے کپڑے دے۔میں تجھے پتھر مارتا ہوں اگر تو خدا ہے تو خود کو بچالے۔"
اتنا کہہ کر پتھر اٹھایا اور بت کو دے مارا۔بھلا وہ پتھر کی مورت کیا جواب دیتی اور کیا خود کو بچاتی؟پتھر لگا اور بت اوندھے منہ گر پڑا۔ابو قحافہ نے غضب ناک ہوکر بیٹے کے چہرے تھپڑ مارا۔مارے غصے کے گھسیٹتے ہوئے ان کی والدہ ام الخیر سلمی بنت صخر کے پاس لائے اور اس حرکت کی شکایت کی۔والدہ نے نہایت اطمینان سے جواب دیا:
"ابو قحافہ! بچے کو اس کے حال پر چھوڑ دو۔جب یہ پیدا ہوا تھا تو مجھے غیب سے اس کے بارے میں اچھی باتیں بتائی گئی تھیں۔"

(سیرت خلیفۃ الرسول:ص37/38)

بت پرستی عربوں کی رگوں میں رچی بسی تھی لیکن فضل ربی نے اس بچے کو شرک کی گندگی سے محفوظ رکھا۔جانتے ہیں یہ بچہ کون تھا؟
یہ خوش نصیب بچہ کوئی اور نہیں حضور سید عالم ﷺ کے یار غار سیدنا ابو بکر صدیق اکبر رضی اللہ عنہ تھے۔
بچپن گزرا، جوانی آئی۔عربوں کی خاندانی روایت کے مطابق آپ نے بھی تجارت کرنا شروع کیا۔یہ وہ زمانہ تھا جب پورے مکہ میں محمد عربیﷺ کی شرافت اور نیک نامی کی دھوم تھی۔لوگ اس جوان کی ایمان داری اور امانت داری کی قسمیں کھاتے تھے۔اتفاق یہ ہوا کہ ایک تجارتی سفر پر صدیق اکبر کو محمد عربیﷺ کی رفاقت نصیب ہوئی۔سفر ملک شام کا تھا۔راستے میں ایک مقام پر بیری کا درخت تھا۔حضور اس کی چھاؤں میں بیٹھ گئے۔وہیں پاس میں ایک عیسائی راہب رہتا تھا۔اس نے آپ ﷺ کو دیکھا تو صدیق اکبر سے پوچھا،یہ شخص کون ہے؟
آپ نے جواب دیا:
عبد اللہ بن عبدالمطلب کے شہزادے محمد ہیں۔ﷺ
راہب نے کہا خدا کی قسم! یہ نبی ہیں۔اس درخت کے نیچے حضرت عیسٰی علیہ السلام کے بعد سے آج تک کوئی نہیں بیٹھا۔راہب کی یہ بات آپ کے دل پر نقش ہوگئی اور آپ نے حضورﷺ کی صحبت ورفاقت کو خود پر لازم کرلیا۔
(تاریخ مشائخ نقش بندیہ:ج1:ص121/122)

حضورﷺ کے اعلان نبوت سے پورے مکہ میں ایک ہنگامہ برپا تھا۔کل تک جس کی سچائی کی قسمیں کھائی جاتی تھیں آج اسے جھٹلایا جارہا تھا۔جس کی عقل وذہانت کی مثالیں دی جاتی تھیں آج اسی کو مجنون قرار دیا جارہا تھا۔جس وقت یہ معاملہ پیش آیا صدیق اکبر مکہ سے باہر گئے ہوئے تھے۔جب آپ واپس لوٹے تو حضور کے اعلان نبوت کے بارے میں خبر ملی۔خبر ملتے ہی آپ ﷺ سے ملاقات کی۔حضور ﷺ نے اسلام پیش فرمایا۔آپ نے بغیر سوچ وبچار کے فوراً ہی اسلام قبول کرلیا۔محمد بن اسحاق کہتے ہیں کہ مجھ سے محمد بن عبدالرحمٰن نے بروایت عبد اللہ بن الحصین التمیمی بیان کیا:
أن رسول الله ﷺ ـ قال: ما دعوت أحدا إلى الإسلام إلا كانت عنده كبوة و تردد و نظر، إلا أبا بكر ما عتم عنه حين دعوته، و لا تردد فيه
"رسول اللہﷺ نے فرمایا: میں نے کسی کو بھی اسلام کی دعوت دی تو اس کو تذبذب میں پایا اور اس کو تردد ہوا سوائے ابو بکر کے۔جب میں نے ان کے سامنے اسلام پیش کیا تو انہوں نے بغیر تذبذب اور تردد کے اسلام قبول کرلیا۔
(تاریخ الخلفا للسیوطی:ص32)

اللہ اکبر!
جس کے ایمان کی فضلیت خود "جان ایمان" بیان کریں اس کے مقام ومرتبے کا کون اندازہ کر سکتا ہے؟
قبل اسلام بھی صدیق اکبر عرب میں رائج برائیوں سے پاک وصاف تھے قبول اسلام کے بعد آپ کا کمال اور بڑھ گیا۔آپ نے خود کو اسلام اور پیغمبر اسلام کے لیے وقف کردیا۔اور بڑے پیمانے پر دعوت وتبلیغ کا کام شروع کردیا۔سب سے پہلے آپ نے اپنے اہل خانہ کو دین کی دعوت پیش کی۔آپ کی شہزادی حضرت اسما رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
"ہمارے بابا جس دن ایمان لائے اسی دن سب گھر والوں کو اسلام کی دعوت پیش کی۔آپ اس وقت تک مجلس سے نہیں اٹھے جب تک ہم سب نے اسلام قبول نہیں کرلیا۔"
اہل خانہ کے بعد صدیق اکبر نے اپنے دوست واحباب کے درمیان تبلیغ دین کا آغاز فرمایا۔آپ کی مخلصانہ تبلیغ اور شخصیت سے متاثر ہوکر کئی مشاہیر افراد نے اسلام قبول فرمایا، اہم افراد میں حضرت عثمان غنی،حضرت زبیر بن عوام، حضرت طلحہ بن عبیداللہ،حضرت سعد بن وقاص، حضرت عبدالرحمٰن بن عوف جیسی شخصیات شامل ہیں۔یہ پانچوں افراد "عشرہ مبشرہ" کی خوش نصیب جماعت کا حصہ ہیں۔عشرہ مبشرہ ان دس افراد کی جماعت کا نام ہے جنہیں حضورﷺ نے
دنیا میں ہی جنت کی بشارت عطا فرمائی۔ان دس خوش نصیبوں میں پانچ افراد نے حضرت ابوبکر صدیق کی دعوت پر اسلام قبول فرمایا۔
اعلان نبوت کا دسواں سال تھا کہ اللہ تعالیٰ اپنے حبیب ﷺ کو ایک ایسے سفر پر بلایا جو آپ سے پہلے اور آپ کے بعد کسی کے نصیب میں نہیں آیا۔اس سفر کا ذکر قرآن میں اس طرح بیان ہوا ہے:
سُبۡحٰنَ الَّذِیۡۤ اَسۡرٰی بِعَبۡدِہٖ لَیۡلًا مِّنَ الۡمَسۡجِدِ الۡحَرَامِ اِلَی الۡمَسۡجِدِ الۡاَقۡصَا الَّذِیۡ بٰرَکۡنَا حَوۡلَہٗ لِنُرِیَہٗ مِنۡ اٰیٰتِنَا ؕ اِنَّہٗ ہُوَ السَّمِیۡعُ الۡبَصِیۡرُ۔
﴿سورہ بنی اسرائیل:۱﴾
"پاکی ہے اسے جو اپنے بندے کو، راتوں رات لے گیا۔مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک۔جس کے گرداگرد ہم نے برکت رکھی۔کہ ہم اسے اپنی عظیم نشانیاں دکھائیں، بیشک وہ سنتا دیکھتا ہے۔"

مسجد حرام (مکہ) سے مسجد اقصی (فلسطین)تک کا سفر "اسرا" کہلاتا ہے۔ اس زمانے میں مکہ سے فلسطین کا فاصلہ تقریباً ایک مہینے سے زیادہ وقت میں طے ہوا کرتا تھا۔صدرالافاضل فرماتے ہیں:
"جس کا فاصلہ چالیس منزل یعنی سوا مہینہ سے زیادہ کی راہ ہے۔"
لیکن اللہ تعالیٰ نے یہ سفر صرف رات کے ایک حصے میں ہی کرادیا۔سفر کا اگلا مرحلہ مسجد اقصی سے آسمانوں کے سفر کا تھا۔جسے معراج کہا جاتا ہے۔سفر کا یہ مرحلہ ایک رات کے کچھ ہی حصے میں مکمل ہوا۔صبح مصطفےٰ جان رحمت نے اہل مکہ سے اس سفر کا تذکرہ فرمایا تو اہل مکہ نے آپ کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ جو سفر ایک مہینے میں طے ہوتا ہے وہ آپ نے رات کے مختصر وقت میں کیسے کرلیا؟
مکہ کا ہر انسان آپ ﷺ کو جھٹلا رہا تھا۔کیوں کہ عقلاً یہ سفر ناممکن تھا۔تیز رفتار گھوڑے اور اونٹ بھی ایک ماہ سے کم وقت میں مکہ سے فلسطین نہیں پہنچا سکتے تھے۔اس لیے کفار مکہ مسلسل آپ کے خلاف باتیں بنا رہے تھے۔مگر قربان جاؤں ابوبکر کی محبت پر کہ جب آپ نے یہ سنا تو فوراً حضور کی تصدیق فرمائی۔اسی واقعے کے بعد آپ کو بارگاہ رسالت سے صدیق اکبر کا خطاب حاصل ہوا۔ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
لما أسري بالنبي صلى الله عليه وسلم إلى المسجد الأقصى؛ أصبح يتحدث الناس بذلك؛ فارتدَّ ناس ممن كان آمنوا به وصدقوه، وسعى رجال من المشركين إلى أبي بكر رضي الله عنه، فقالوا: هل لك إلى صاحبك يزعم أنه أُسري به الليلة إلى بيت المقدس؟ قال: أو قال ذلك؟ قالوا: نعم قال: لئن قال ذلك لقد صدق، قالوا: أو تصدقه أنَّه ذهب الليلة إلى بيت المقدس، وجاء قبل أن يصبح؟ فقال: نعم، إني لأصدقه ما هو أبعد من ذلك، أصدقه في خبر السماء في غدوة أو روحة. فلذلك سُمِّي أبا بكر الصديق رضي الله عنه۔
(تاریخ الخلفا للسیوطی:ص 28)
"حضرت عائشہ فرماتی ہیں جس رات حضور کو معراج ہوئی تو صبح ہی مشرکین مکہ نے میرے والد کے پاس آکر کہا: آپ کو کچھ خبر ہے کہ آپ کے دوست یہ دعوی کرتے ہیں کہ وہ رات میں بیت المقدس پہنچا دئے گئے۔حضرت ابوبکر نے پوچھا کیا واقعی وہ ایسا کہتے ہیں؟
مشرکین نے کہا ہاں وہ یہی کہتے ہیں۔تو حضرت ابوبکر نے فرمایا وہ سچ کہتے ہیں۔اگر حضور صبح یا شام کو اس سے زیادہ آسمانوں کی سیر کی بھی خبر دیتے ہیں تو میں فوراً ہی اس کی تصدیق کرتا۔اسی تصدیق کی بنا پر آپ صدیق اکبر کے لقب سے مشہور ہوئے۔حضور سید عالم ﷺ فرماتے ہیں:
إنَّ الله بعثني إليكم، فقلتم: كذبت. في أول الأمر، وقال أبو بكر: صدقت. وواساني بنفسه وماله،
"اللہ تعالیٰ مجھے تمہاری جانب پیغمبر بنا کر بھیجا لیکن سب نے شروع میں مجھے جھٹلایا مگر ابوبکر نے میری تصدیق کی اور اپنے جان ومال کو میرے اوپر نچھاور کیا۔
عن ابي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ليلة اسري به :"ان قومي لا يصدقوني " فقال له جبريل :يصدقك أبو بكر وهو الصديق " مجمع الزوائد (19/41)
"حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا شب معراج میں نے جبریل سے کہا کہ میری قوم اس معراج کی تصدیق نہیں کرے گی۔حضرت جبریل نے عرض کیا:حضرت ابوبکر آپ کی تصدیق کریں گے وہ صدیق ہیں۔
امام حاکم نے نزال بن سبرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ ہم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ اے امیرالمومنین آپ ہمیں حضرت ابوبکر کے بارے میں بتائیے۔حضرت علی نے فرمایا:
"ذاك امرؤ سماه الله الصديق على لسان جبريل وعلى لسان محمد ، كان خليفة رسول الله- صلى الله عليه وسلم - رضيه لديننا فرضيناه لدنيانا۔(تاریخ الخلفا للسیوطی:ص 28)

"حضرت ابوبکر کی ہستی وہ ہستی ہے جس کا نام اللہ تعالیٰ نے حضرت جبریل امین اور حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ کی زبان مبارک سے صدیق رکھا۔اور وہ نماز میں رسول اللہ ﷺ کے خلیفہ تھے۔پس جس شخص سے رسول اللہ ﷺ ہمارے دینی معاملات میں راضی ہوئے ہم اس سے اپنی دنیا کے معاملات کے لیے راضی ہوگئے۔(انہیں اپنا خلیفہ منتخب کر لیا)

جسے فرشتوں کا سردار صدیق کہے ، جسے انبیا کے سردار صدیق کہہ کر پکاریں تو امت انہیں صدیق کیوں نہ کہے:
اصدق الصادقیں ، سید المتقیں
چشم و گوش وزارت پہ لاکھوں سلام

امام جلال الدین سیوطی فرم
اتے ہیں:
صحب ابوبکر النبي عليه الصلاة والسلام من حين اسلم الي حين توفي لم يفارقه سفرا ولا حضرا ،الا فيما أذن له عليه الصلاة والسلام في الخروج فيه من حج وغزو ،وشهد معه المشاهد كلها ، (التاريخ الخلفا للسيوطي :32)
"تمام علما کا اس بات پر اتفاق ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق قبول اسلام کے بعد سے حضور اقدس ﷺ کے وصال تک سفر وحضر میں ہمیشہ آپ کے ساتھ رہے۔ سوائے اس کہ رسول اللہ ﷺ کی اجازت سے آپ نے حج یا کسی غزوے میں شرکت کی ہو۔ ورنہ آپ ہر حال میں ہر وقت آپ ﷺ کے ساتھ رہتے تھے۔یہ ساتھ اتفاقی نہ تھا بلکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں خود اپنے محبوب ﷺ کا ساتھی(صاحب) بنایا تھا:
اِذۡ ہُمَا فِی الۡغَارِ اِذۡ یَقُوۡلُ لِصَاحِبِہٖ لَا تَحۡزَنۡ اِنَّ اللّٰہَ مَعَنَا۔(سورہ توبہ :40)
"جب وہ دونوں غار میں تھے تو اپنے یار سے فرماتے تھے غم نہ کھا بے شک اللہ ہمارے ساتھ ہے۔"

جسے اللہ تعالیٰ نے خود اپنے محبوب کا صاحب(رفیق) بنایا ہو بھلا وہ کیوں کر حضور ﷺ سے دور رہ سکتا تھا؟
جب آپ رات کو گھر تشریف لے جاتے تو حضور سے ملنے کی خاطر پوری رات بے چینی سے گزارتے۔جیسے ہی صبح صادق کا وقت آتا فوراً حاضر خدمت ہوجاتے۔حضور علیہ السلام سے اس قدر محبت تھی کہ اللہ تعالیٰ انہیں اسی دن اپنے پاس بلایا جس دن حضور ﷺ نے وصال فرمایا تھا۔
عن عائشة رضي اللّه عنها قالت : إن أبابكر لما حضرته الوفاة قال : أي يوم هذا؟ قالوا : يوم الاثنين، قال : فإن مت من ليلتي فلا تنتظروا بي لغد، فإن أحب الأيام والليالي إليّ أقربها من رسول اللّه صلى اللّه عليه وسلم .رواہ احمد (تاریخ الخلفا للسيوطي:68)
"ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:جس روز حضرت ابوبکر کی وفات ہوئی آپ نے پوچھا کہ آج کون سا دن ہے؟
عرض کیا گیا دوشنبہ ہے۔ فرمایا کہ آج رات میں انتقال کر جاؤں مجھے دفن کرنے میں کل تک تاخیر نہ کی جائے میں رسول اللہ ﷺ تک جتنا جلد پہنچ جاؤں اتنا ہی اچھا ہے۔"

جیسا محبوب نے چاہا ویسا ہی ہوا۔ پیر کی رات میں بعمر 63 سال آپ کا وصال ہوا اور رات میں ہی آپ کو آپ کے محبوب ﷺ کے پہلو میں دفن کردیا گیا اس طرح جدائی کا صبر آزما زمانہ ختم ہوا اور یار غار یار مزار بن گیا۔

یعنی اس افضل الخلق بعد الرسل
ثانی اثنین ہجرت پہ لاکھوں سلام

12 ربیع النور 1442ھ
30 اکتوبر 2020 بروز جمعہ

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3408332909284116&id=100003223204679
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Buzurgo Ka Urs Manana Ahadees Se Sabit Hai

Sunni Jo Buzurgo Ka Urs Manate Hain Yani Har Saal Unke Mazaraat Pe Haazir Hote Hain, Salaam Pesh Karte Hain Aur Unki Tehseen Karte Hain, Ye Sab Nabiye Kareem Sallallaho Ta'ala Alaihi Wasallam Aur Unke Sahaba Se Saabit Hai

Imam Waqidi (Mutawaffa 207 Hijri) Ka Bayaan Hai Ke :
Rasoolullah Sallallaho Ta'ala Alaihi Wasallam Har Saal Shuhada -e- Uhud Ki Qabro Ki Ziyarat Karte, Jab Aap Ghaati Mein Dakhil Hote To Ba Awaaz -e- Buland Farmate Ke Assalamo Alaikum Kyunki Tumne Sabr Kiya Pas Aakhirat Ka Ghar Kya Hi Achha Hai Phir Hazrate Abu Bakar Siddique Radiallaho Ta'ala Anho Har Saal Isi Tarah Karte The Phir Hazrate Umar Radiallaho Ta'ala Anho Har Saal Isi Tarah Karte The Phir Hazrate Usman Radiallaho Ta'ala Anho

(کتاب المغازی، ج1، ص313،
دلائل النبوۃ، ج3، ص308)

Aur Urs Ki Lafzi Asal Ye Hai Ke Hazrate Abu Hurairah Radiallaho Ta'ala Anho Bayaan Karte Hain Ke Qabr Mein Munkar Nakeer Aa Kar Sawal Karte Hain Aur Puchhte Hain Ke Tum Is Shakhs Ke Baare Mein Kya Kaha Karte The Aur Jab Murda Keh Deta Hai Ke Ye Allah Ke Bande Aur Uske Rasool Hain Aur Kalima -e- Shahadat Padhta Hai To Uski Qabr Wasee Aur Munawwar Kar Di Jaati Hai Aur Usse Kehte Hain Ke Us Uroos (Dulhe) Ki Tarah So Jao Jis Ko Uske Ahal Mein Sabse Zyada Mahboob Ke Siwa Koi Bedaar Nahin Karta

(سنن الترمذی، رقم1073)

Is Hadees Mein Momin Ke Liye Uroos Ka Lafz Waarid Hai Aur Uroos Ka Lafz Urs Se Makhooz Hai Aur Ye Urs Ki Lafzi Asal Hai
Urs Ki Haqeeqat Ye Hai Ke Saal Ke Saal Saliheen Aur Buzurgaane Deen Ke Mazaraat Ki Ziyarat Ki Jaaye, Un Par Salaam Pesh Kiya Jaaye Aur Unki Tareef Wa Tauseef Ke Kalimaat Kahe Jaayein Aur Itni Miqdaar Sunnat Hai Aur Quraan Shareef Padh Kar Aur Sadqa Wa Khairat Ka Zakheera Sawaab Pahunchana Deegar Ahadees -e- Sahiha Se Saabit Hai Aur Unke Waseele Se Dua Karna Aur Unse Apni Hajaat Mein Allah Se Dua Karne Aur Shafa'at Karne Ki Darkhwast Karna Is Ka Suboot Imam Tabrani Ki Is Hadees Se Hai Ke Jis Mein Hazrate Usman Bin Haneef Ne Ek Shakhs Ko Nabi Sallallaho Ta'ala Alaihi Wasallam Ke Wasile Se Dua Karne Aur Aapse Shafa'at Ki Darkhwast Karne Ki Hidayat Ki,
Ye Hadees Sahih Hai

(المعجم الصغیر، ج1، ص184، حافظ منذری متوفی 656ھ نے بھی اس حدیث کو صحیح کہا ہے دیکھیں الترغيب والترہیب، ج1، ص471 تا 476، ابن تیمیہ نے بھی اس حدیث کو صحیح کہا ہے دیکھوں فتاوی ابن تیمیہ، ج1، ص273، 274)

Isi Tarah Imam Ibne Abi Shayba Ne Riwayat Kiya Hai Ke Hazrate Umar Radiallaho Ta'ala Anho Ke Zamane Mein Ek Baar Qahat Pad Gaya To Hazrate Bilal Bin Haaris Radiallaho Ta'ala Anho Ne Nabi Sallallaho Ta'ala Alaihi Wasallam Ki Qabr Mubarak Par Haazir Ho Kar Arz Kiya Ya Rasoolallah Sallallaho Ta'ala Alaihi Wasallam! Ummat Ke Liye Baarish Ki Dua Kijiye Kyunki Wo Halaak Ho Rahe Hain (Al Hadees)

(المصنف، ج12، ص32، حافظ ابن حجر عسقلانی نے اس حدیث کے متعلق فرمایا کہ اس کی سند صحیح ہے، دیکھیں فتح الباری، ج12، ص495، 496)

In Tamam Baato Se Saabit Hua Ke Urs Manana Koi Bidd'at Nahin Aur Na Hi Najayez Hai Balki Quraano Sunnat Se Saabit Hai

Abde Mustafa Official
बुजु़र्गों का उर्स मनाना अहादीस से साबित है

सुन्नी जो बुजु़र्गों का उर्स मनाते हैं यानी हर साल उनके मज़ारात पे हाज़िर होते हैं, सलाम पेश करते हैं और उनकी तहसीन करते हैं, ये सब नबिये करीम सल्लल्लाहो त'आला अलैही वसल्लम और उनके सहाबा से साबित है।

इमाम वाक़िदी (मुतवफ्फा 207 हिजरी) का बयान है की :
रसूलुल्लाह सल्लल्लाहो त'आला अलैही वसल्लम हर साल शुहदा -ए- उहुद की क़ब्रो की ज़ियारत करते, जब आप घाटी में दाखिल होते तो बा आवाज -ए- बुलंद फरमाते की अस्सलामु अलैकुम क्यूँकी तुमने सब्र किया पस आखिरत का घर क्या ही अच्छा है फिर हज़रते अबू बकर सिद्दिक़ रदिअल्लाहो त'आला अन्हो हर साल इसी तरह करते थे फिर हज़रते उमर रदिअल्लाहो त'आला अन्हो हर साल इसी तरह करते थे फिर हज़रते उस्मान रदिअल्लाहो त'आला अन्हो।

(کتاب المغازی، ج1، ص313،
دلائل النبوۃ، ج3، ص308)

और उर्स की लफ्ज़ी असल ये है की हज़रते अबू हुरैराह रदिअल्लाहो त'आला अन्हो बयान करते हैं की क़ब्र में मुन्कर नकीर आ कर ऐसा सवाल करते हैं और पूछते हैं की तुम इस शख्स के बारे में क्या कहा करते थे और जब मुर्दा कह देता है की ये अल्लाह के बन्दे और उसके रसूल हैं और कलिमा -ए- शहादत पढ़ता है तो उसकी क़ब्र वसी और मुनव्वर कर दी जाती है और उस्से कहते हैं की उस उरूस (दूल्हे) की तरह सो जाओ जिस को उसके अहल में सबसे ज़्यादा महबूब के सिवा कोई बेदार नहीं करता।

(سنن الترمذی، رقم1073)

इस हदीस में मोमिन के लिये उरूस का लफ्ज़ वारिद है और उरूस का लफ्ज़ उर्स से माखूज़ है और ये उर्स की लफ्ज़ी असल है।
उर्स की हक़ीक़त ये है की साल के साल सालिहीन और बुज़ुर्गाने दीन के मज़ारात की ज़ियारत की जाये उन पर सलाम पेश किया जाये और उनकी तारीफ़ व तौसीफ़ के कलिमात कहे जायें और इतनी मिक़्दार सुन्नत है और क़ुरआन शरीफ़ पढ़ कर और सदक़ा व खैरात का ज़खीरा सवाब पहुँचाना दीगर अहादीस -ए- सहीहा से साबित है और उनके वसीले से दुआ करना और उनसे अपनी हाजत में अल्लाह से दुआ करने और शफ़ाअत करने की दरख्वास्त करना इस का सुबूत इमाम तबरानी की इस हदीस से है की जिस में हज़रते उस्मान बिन हनीफ़ ने एक शख्स को नबी सल्लल्लाहो त'आला अलैही वसल्लम के वसीले से दुआ करने और आपसे शफ़ाअत की दरख्वास्त करने की हिदायत की,
ये हदीस सहीह है।

(المعجم الصغیر، ج1، ص184، حافظ منذری متوفی 656ھ نے بھی اس حدیث کو صحیح کہا ہے دیکھیں الترغيب والترہیب، ج1، ص471 تا 476، ابن تیمیہ نے بھی اس حدیث کو صحیح کہا ہے دیکھوں فتاوی ابن تیمیہ، ج1، ص273، 274)

इसी तरह इमाम इब्ने अबी शयबा ने रिवायत किया है की हज़रते उमर रदिअल्लाहो त'आला अन्हो के ज़माने में एक बार क़हत पड़ गया तो हज़रते बिलाल बिन हारिस रदिअल्लाहो त'आला अन्हो ने नबी सल्लल्लाहो त'आला अलैही वसल्लम की क़ब्र मुबारक पर हाज़िर हो कर अर्ज़ किया या रसूलअल्लाह सल्लल्लाहो त'आला अलैही वसल्लम! उम्मत के लिये बारिश की दुआ किजीये क्यूँकी वो हलाक हो रहे हैं (अल हदीस)

(المصنف، ج12، ص32، حافظ ابن حجر عسقلانی نے اس حدیث کے متعلق فرمایا کہ اس کی سند صحیح ہے، دیکھیں فتح الباری، ج12، ص495، 496)

इन तमाम बातो से साबित हुआ की उर्स मनाना कोई बिद्दअत नहीं और ना ही नाजायेज़ है बल्कि क़ुरआनो सुन्नत से साबित है।

अब्दे मुस्तफ़ा ऑफिशियल
بزرگوں کا عرس منانا احادیث سے ثابت ہے

سنی جو بزرگوں کا عرس مناتے ہیں یعنی ہر سال ان کے مزارات پ حاضر ہوتے ہیں، سلام پیش کرتے ہیں اور ان کی تحسین کرتے ہیں، یہ سب نبیِ کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اور ان کے صحابہ سے ثابت ہے۔

امام واقدی (متوفی 207 ہجری) کا بیان ہے کہ :
رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ ہر سال شہدائے احد کی قبر کی زیارت کرتے، جب آپ گھاٹی میں داخل ہوتے تو با آواز بلند فرماتے کہ السلام علیکم کیونکہ تم نے صبر کیا پس آخرت کا گھر کیا ہی اچھا ہے پھر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ ہر سال اسی طرح کرتے تھے پھر حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ ہر سال اسی طرح کرتے پھر حضرت عثمان رضی اللہ تعالٰی عنہ۔

(کتاب المغازی، ج1، ص313، دلائل النبوۃ، ج3، ص308)

اور عرس کی لفظی اصل یہ ہے کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ بیان کرتے ہیں کہ قبر میں منکر نکیر آ کر سوال کرتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ تم اس شخص کے بارے میں کیا کہا کرتے تھے اور جب مردہ کہہ دیتا ہے کہ یہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں اور کلمۂ شہادت پڑھتا ہے تو اس کی قبر وسیع اور منور کر دی جاتی اور اس سے کہتے ہیں کہ اس عروس (دولہے) کی طرح سو جاؤ جس کو اس کے اہل میں سب سے زیادہ محبوب کے سوا کوئی بیدار نہیں کرتا۔

(سنن الترمذی، رقم1073)

اس حدیث میں مومن کے لیے عروس کا لفظ وارد ہے اور عروس کا لفظ عرس سے ماخوذ ہے اور یہ عرس کی لفظی اصل ہے۔
عرس کی حقیقت یہ ہے کہ سال کے سال صالحین اور بزرگانِ دین کے مزارات کی زیارت کی جائے، ان پر سلام پیش کیا جائے اور ان کی تعریف و توصیف کے کلمات کہے جائیں اور اتنی مقدار سنت ہے اور قرآن شریف پڑھ کر اور صدقہ و خیرات کا ذخیرہ ثواب پہنچانا دیگر احادیثِ صحیحہ سے ثابت ہے اور ان کے وسیلے سے دعا کرنا اور ان سے اپنی حاجات میں اللہ سے دعا کرنا اور شفاعت کرنے کی درخواست کرنا اس کا ثبوت امام طبرانی کی اس حدیث سے ہے کہ جس میں حضرت عثمان بن حنیف نے ایک شخص کو نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے وصیلے سے دعا کرنا اور آپ سے شفاعت کی درخواست کرنے کی ہدایت کی۔
یہ حدیث صحیح ہے۔

(المعجم الصغیر، ج1، ص184، حافظ منذری متوفی 656ھ نے بھی اس حدیث کو صحیح کہا ہے دیکھیں الترغيب والترہیب، ج1، ص471 تا 476، ابن تیمیہ نے بھی اس حدیث کو صحیح کہا ہے دیکھوں فتاوی ابن تیمیہ، ج1، ص273، 274)

اسی طرح امام ابن ابی شیبہ نے روایت کیا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کے زمانے میں ایک بار قحط پڑ گیا تو حضرت بلال بن حارث رضی اللہ تعالٰی عنہ نے نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی قبر مبارک پر حاضر ہو کر عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ! امت کے لیے بارش کی دعا کیجیے کیونکہ وہ ہلاک ہو رہے ہیں (الحدیث)

(المصنف، ج12، ص32، حافظ ابن حجر عسقلانی نے اس حدیث کے متعلق فرمایا کہ اس کی سند صحیح ہے، دیکھیں فتح الباری، ج12، ص495، 496)

ان تمام باتوں سے ثابت ہوا کہ عرس منانا کوئی بدعت نہیں اور نا ہی ناجائز ہے بلکہ قرآن و سنت سے ثابت ہے۔

عبد مصطفی آفیشل
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
آج ہمارے آقا و مولا سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا یوم ہے ۔

اللہ‌پاک نے دنیا جہان کی خوبیاں آپ رضی اللہ عنہ میں جمع فرمادی تھیں ، حدیث شریف میں ہے:

بھلائی والی تین سو ساٹھ خصلتیں ہیں ، جو ساری کی ساری ابوبکر صدیق میں جمع فرما دی گئی ہیں ۔

( انظر: مکارم‌الاخلاق ، ابن ابی الدنیا رحمہ‌اللہ ، ص 35 ، ر 29 ، ط دارالکتب العلمیۃ بیروت ، س 1421ھ )

آپ کی سب خوبیوں پر جو خوبی فوقیت لے گئی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ رسول اللہ ﷺ سے بے حد و انتہا اور لازوال محبت ہے ۔
رب تعالیٰ ہمیں بھی اس میں سے حصہ عطافرمائے ۔ ؎

ﻭﮦ ﺟﺐ ﺑﮭﯽ ﺧﺪﺍ ﺳﮯ ﺩﻋﺎ ﻣﺎﻧﮕﺘﺎ تھا
وہ ﺍﭘﻨﮯ ﻟﯿﮯ ﻣﺼﻄﻔﯽٰ ﻣﺎﻧﮕﺘﺎ تھا

ﻭﮦ ﺳﺎﺭﮮ ﮐﺎ ﺳﺎﺭﺍ ﺧُﺪﺍ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺗﮭﺎ
ﻭﮦ ﺯﻧﺪﮦ ﻓَﻘَﻂ ﻣﺼﻄﻔﯽٰ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺗﮭﺎ

( سیدنا صدیق اکبر کی شان میں آپ کو جو شعر یا منقبت یاد ہو نیچے کمینٹ کر دیں ، جزاک اللہ ! )

✍️لقمان شاہد
5-2-2021 ء

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3082204792059689&id=100008105947430
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ اور "علمِ تعبیرِ خواب"

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
تحریر : حمزہ شاہد رضوی
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ دیگر بہت سے علوم وفنون میں مہارت کے ساتھ "علمِ تعبیرِ خواب" میں بھی منصبِ امامت پر فائز تھے۔

امام جلال الدین عبد الرحمن سیوطی -رحمہ اللہ- لکھتے ہیں :

"وكان الصديق مع ذلك غاية في علم تأويل الرؤيا، وقد كان يعبر الرؤيا في زمن النبي -صلى الله عليه وسلم-
ـــــــ یعنی : حضرت صدیقِ اکبر - رضي الله عنه - ان فضائل کے ساتھ ساتھ "علمِ تعبیر خواب" میں بھی انتہائی درجۂ کمال کو پہنچے ہوئے تھے ۔ وہ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے زمانے میں بھی خوابوں کی تعبیر بتاتے تھے۔

وقد قال محمد بن سيرين -وهو المقدّم في هذا العلم بالاتفاق-: *كان أبو بكر أعبر هذه الأمة بعد النبي صلى الله عليه وسلم*. أخرجه ابن سعد .
ـــــــ یعنی : تابعی بزرگ حضرت سیدنا محمد بن سیرین - رحمة الله عليه - جنھیں اس فن میں متفقہ طور پر درجۂ تقدم حاصل ہے ؛ کہتے ہیں :
نبی کریم - ﷺ - کے بعد حضرت سیدنا أبو بَكر صدیق - رضي الله عنه - اس امت کے سب بڑے مُعبِّـر [خواب کی تعبیر بتانے والے] تھے ۔

وأخرج الديلمي في مسند الفردوس. وابن عساكر عن سمرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:
"أمرت أن أُأَوِّل الرؤيا وأن أعلمها أبا بكر" (تاريخ الخلفاء،ص37)
ترجمہ :
ـــــــ یعنی: حضرت سمرہ - رضي الله عنه - سے روایت ہے کہ نبی کریم - ﷺ - نے ارشاد فرمایا : "مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں خواب کی تعبیر بتاؤں، اور اور یہ علم ابوبکر صدیق کو سکھادوں" ۔

مزید یہ کہ اس فن میں صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی حضرت اسما - رضي الله عنها - بھی امتیازی حیثیت رکھتی تھیں۔ چناں چہ اس فن میں ان کی مہارت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ حضرت عمر فاروق - رضي الله عنه - جیسے راسخ العلم بھی بعض دفعہ ان سے خوابوں کی تعبیریں دریافت کیا کرتے تھے ۔
(الاصابۃ۔ج: 8، ص16)

حتی کہ معروف محدث، امام المعبرین ، امام محمد بن سیرین جن کی اس فن میں مہارت مسلم ہے، ان کا سلسلۂ علمِ تعبیر بھی حضرت اسماء سے ہوکر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ تک پہنچتا ہے ۔

امام قسطلانی لکھتے ہیں :
وكانت عارفة بتعبير الرؤيا حتى قيل: أخذ ابن سيرين التعبير عن ابن المسيب، وأخذه ابن المسيب عن أسماء، وأخذته أسماء عن أبيها.
(ارشاد الساري،ج1،ص295)
ـــــــ یعنی : حضرت اسما - رضي الله عنها - علم تعبیر خواب کی معرفت رکھتی تھیں ۔ یہاں تک کہا گیا ہے کہ حضرت ابن سیرین نے یہ علم حضرت سعید بن مسیب سے اخذ کیا، حضرت ابن مسیب نے حضرت اسما سے، اور حضرت اسما نے اپنے والد گرامی سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہم سے۔ !!

ـــــــ
تحریر : حمزہ شاہد رضوی
٢١ ؍ جمادی الآخرہ ٢٤٤١؁ھ

https://www.facebook.com/388280455075812/posts/859156677988185/
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
افضلیتِ صدیقِ اکبر ــ احادیثِ طیبہ کی روشنی میں
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

از : فیضان سرور مصباحی
جامعۃ المدینہ ـــــ نیپال
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
اہلِ اسلام کے نزدیک ایک جملہ بولا جاتا ہے : "أفضل البشر بعد الأنبياء بالتحقيق ؛ أمير المؤمنين أبي بكر الصديق " یعنی : یہ بات تحقیق سے ثابت شدہ ہے کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ انبیاء کرام کے بعد انسانوں میں سب سے افضل ہیں۔ یہ جملہ دراصل متعدد احادیثِ کریمہ اور تحقیقاتِ فقہا و متکلمین کا نچوڑ ہے. اور اہل سنت وجماعت کے اجماعی عقیدے :" افضلیت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ" کی ترجمانی پر مشتمل ہے۔

اہل سنت وجماعت کا عقیدہ ہے کہ جس طرح نبی کریم ﷺ تمام انبیائے کرام علیہم السلام پر فضیلت رکھتے ہیں، یوں ہی آپ کی امت کو سابقہ تمام امتوں پر فضیلت کا شرف حاصل ہے. پھر تمام امت محمدیہ میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین سب سے افضل قرار پائے، پھر حضرات صحابۂ کرام میں وہ مہاجرین جنھیں سابقین اولین ہونے کا شرف حاصل ہے. پھر ان میں بھی وہ دس خوش نصیب حضرات جنھوں نے زبانِ رسالت مآب ﷺ سے دنیا ہی میں جنتی ہونے کا مژدہ پایا، پھر ان عشرۂ مبشرہ میں حضرات خلفائے راشدین رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کو تمام پر فضیلت حاصل ہے. اور ان چار یاروں میں بھی یارغار حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ کو تمام پر فضیلت حاصل ہے۔ یہ باتیں یوں ہی نہیں کہی جاتیں، بلکہ ان کے پیچھے ٹھوس اور مستحکم دلائل موجود ہیں. تفصیل کے لیے اس موضوع پر موجود سینکڑوں کتب کا مطالعہ کیا جاسکتا ہے۔
الحاصل : *أفضل البشر بعد الأنبياء بالتحقيق* اسی عقیدۂ اہل سنت کو مختصر لفظوں میں بیان کردیتا ہے۔
آنے والی سطروں میں ہم احادیث کریمہ کی روشنی میں اس پر کچھ روشنی ڈالتے ہیں ۔

💎 نبی کریم ﷺ کا فرمان کہ میرے نزدیک "ابو بکر صدیق" سب سے پیارے ہیں ۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

حضرت عمرو بن العاص رضي الله عنه سے روایت ہے کہ جب انھوں نے نبی کریم ﷺ سے استفسار کیا کہ
: آپ کے نزدیک مردوں میں سب زیادہ محبوب کون ہے؟ تو آپ ﷺ نے إرشاد فرمایا : أبوبکر. حدیث کے الفاظ یہ ہیں :

أن النبي صلى الله عليه وسلم بعثه على جيش ذات السلاسل فأتيته.

فقلت: أي الناس أحب إليك؟
قال ﷺ : "عائشة"

فقلت من الرجال؟
قال ﷺ: "أبوها"

قلت: ثم من؟
قال ﷺ: " ثم عمر بن الخطاب"

فعد رجالاً .[رواہ الشیخان البخاری والمسلم ]

💎حضرت عمر کی شہادت کہ حضرت ابوبکر صدیق ہم میں سب سے بہتر ہیں ۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

⚡️ حضرت عائشة رضي الله عنها کی روایت ہے کہ سقيفۂ بنی ساعدہ کے موقع پر امیر المومنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے بارے میں ارشاد فرمایا :
*آپ ہمارے سردار، ہم میں سب سے بہتر اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سب زیادہ محبوب ہیں۔*

یہ ایک طویل حدیث ہے جس کے بعض الفاظ ہیں :

وفيه أن أبا بكر قال للأنصار: ( ولكنا الأمراء وأنتم الوزراء هم أوسط العرب دارا، وأعربهم أحسانا، فبايعوا عمر بن الخطاب أو أبا عبيدة بن الجراح.
فقال عمر بل نبايعك أنت ۔
*فأنت سيدنا ، وخيرنا، وأحبنا إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم. فأخذ عمر بيده فبايعه وبايعه الناس. (رواہ البخاری )

💎حضرت علی کی شہادت کہ رسول اللہ ﷺ کے بعد سب سے بہتر ابو بکر صدیق ہیں ۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
چوتھے خلیفۂ راشد باب العلم حضرت علی رضی اللہ عنہ سے جب ان کے صاحبزادے حضرت محمد بن الحنفیہ نے پوچھا کہ رسول اللہ ﷺ کے بعد لوگوں میں کون سب سے بہتر ہے.؟
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : *ابوبکر*
حدیث کے متعلقہ الفاظ ہیں :
محمد بن الحنفية قال: *قلت: لأبي: أي الناس خير بعد رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: أبو بكر* قلت: ثم من؟ قال: عمر .(رواہ البخاری )

مسند احمد بن حنبل میں ہے کہ حضرت علي رضي الله عنه نے فرمایا کہ نبی کریم ﷺ کے بعد اس امت میں سب سے افضل حضرت ابوبکر صدیق ہیں۔
حدیث کے الفاظ ہیں :
عن علی رضی اللہ عنه أنه قال لأبي جحيفة: يا أبا جحيفة ألا أخبرك بأفضل هذه الأمة بعد نبيها قال: قلت: بلى ولم أكن أرى أن أحدا أفضل منه، قال: *أفضل هذه الأمة بعد نبيها أبو بكر* وبعد أبي بكر عمر وبعدهما آخر ثالث ولم يسمه .(روى الإمام أحمد بإسناده)

ـــــــ خلاصۂ بحث :
اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ انبیاء کرام علیہم السلام کے بعد لوگوں میں سب سے افضل اور نبی کریم ﷺ کو سب سے زیادہ محبوب ہیں ۔
بخاری ومسلم شریف کی روایت میں آپ نے ملاحظہ کیا کہ خود نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ محبوبیت کا درجہ ابو بکر ہی کو حاصل ہے۔ بخاری شریف ہی کی روایت میں آپ نے پڑھا کہ خلیفہ راشد حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی یہی فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکر سب سے افضل اور حضورِ اکرم ﷺ کو سب سے زیادہ پیارے ہیں۔ اور پھر اس باب میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی شہادت تو سب سے بڑھ کر ہے؛ کہ انہیں کے نام سے انتشار وافتراق پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ چناں چہ ابھی ابھی بخاری شریف میں، بلکہ مسند احمد بن حنبل میں بھی حضرت علی کے حوالے سے شہادت گزری کہ *أفضل هذه الأمة بعد نبيها أبو بكر* ۔ اسی لیے تو اہل سنت وجماعت کے افراد آج تک اسی عقیدے پر قائم ودائم ہیں ۔ اور علانیہ کہتے ہیں :
أفضل البشر بعد الأنبياء بالتحقيق ؛ أمير المؤمنين أبي بكر الصديق " یعنی : تحقیق سے ثابت شدہ موقف ہے کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ انبیاء کرام کے بعد انسانوں میں سب سے افضل ہیں۔

از :
فیضان سرور مصباحی
جامعۃ المدینہ ـــــ نیپال
١٦/ جمادی الآخرۃ ١٤٤٢ھ

fb://photo/856379544932565?set=a.415369752366882
fb://photo/856379544932565?set=a.415369752366882
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
قبلہ استاد گرامی رحمہ‌اللہ نے تجوید پڑھانی شروع کی تو ہمیں فرمایا:

" سارے قرآن میں صرف 29 حروف استعمال ہوئے ہیں ، جو الف سے لے کر ی تک ہیں ۔
تم روزانہ ایک حرف کا‌ بھی تلفظ درست کر لو تو 29 دنوں میں تمھارا سارے قرآن کا تلفظ ٹھیک ہوجائے گا ۔ "

ہم دنیا جہان کی کسی بھی چیز کا نام لے لیں ، اس میں وہی حروف آئیں گے جو الف سے لے کر ی تک ہیں ۔
گویا سارے جہان کی چیزیں انھی حروف میں مَحصُور ( گِھری ہُوئی ) ہیں ۔

کسی شاعر نے اِسی نسبت کے پیشِ نظر ایک تخیل پیش کیا ہے کہ:

سیدنا ابو بکر صدیق کا نامِ پاک " الف " سے شروع ہوتا ہے ، اور سیدنا علی کریم کا نامِ پاک " ی " پر ختم ہوتا ہے ۔
جس طرح الف حروف تہجی میں پہلا حرف ہے ، اسی طرح ابوبکر صدیق چاروں خلفا میں پہلے ہیں ؛ اور جس طرح ی آخری حرف ہے ، اسی طرح علی پاک آخری خلیفہ ہیں ۔

اب ابوبکر کے الف ، اور علی کی ی میں " جہانِ ایمان " گِھرا ہوا ہے ، مسلمان اس سے نکل سکتا ہی نہیں ؛
جیسے کوئی بھی لفظ الف تا ی سے نہیں نکل سکتا ۔

اب قطعہ ملاحظہ کریں ؏

اَبوبکر یَک سُو ، علی ایک جانِب
کہ مَحصور ہے جن میں ساری خُدائی

یہ تَشبِیہ ہے واقعی تو جگہ بھی ۔۔۔۔۔۔۔
" الف " اور " یے " نے یہ ترتیب پائی

وہ اَول خلیفہ کے " اول " میں آیا
یہ آخِر خلیفہ کے " آخِر" میں آئی

✍️لقمان شاہد
13-9-2020 ء