🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
Photo
#دینی_معلومات #اسلامک_نالج
#جامعۃ_الرضا 🌹 پوسٹ نمبر ⁶⁴
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
مرکز الدراسات الاسلامیہ جامعۃ الرضا
#جامعۃ_الرضا 🌹 پوسٹ نمبر ⁶⁴
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
مرکز الدراسات الاسلامیہ جامعۃ الرضا
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
Photo
#دینی_معلومات #اسلامک_نالج
#جامعۃ_الرضا 🌹 پوسٹ نمبر⁶⁵
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
📇 مرکز الدراسات الاسلامیہ
جامعۃ الرضا بریلی شریف UP
#جامعۃ_الرضا 🌹 پوسٹ نمبر⁶⁵
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
📇 مرکز الدراسات الاسلامیہ
جامعۃ الرضا بریلی شریف UP
❤1
#سیدنا_ابوبکر:#صدیق_بھی_رفیق_بھی!!
ولادت سرکار پر تذکرہ یارِ غار
غلام مصطفےٰ نعیمی
روشن مستقبل دہلی
عام الفیل(570ء) کو دو سال چھ ماہ گزرے تھے کہ ابو قحافہ عثمان بن عامر کے گھر ایک سعادت مند بچے نے آنکھیں کھولیں۔نام عبدالکعبہ رکھا گیا۔جو بعد میں بدل کر عبداللہ کردیا گیا تھا۔پرورش کا زمانہ شروع ہوگیا۔یہ وہ زمانہ تھا کہ عرب معاشرے میں دنیا بھر کی ساری برائیاں عام تھیں۔شراب نوشی و زنا کاری ان کا شوق تھی اور بت پرستی ان کی فطرت!
اسی بگڑے ہوئے معاشرے میں بچے نے پروان چڑھنا شروع کیا۔ جب یہ بچہ چار سال کا ہوگیا تو ایک دن ابو قحافہ اسے اپنے ساتھ لیکر بت خانے پہنچے اور ایک بڑے بت کی جانب اشارہ کرکے سجدہ کرنے کا حکم دیا۔ننھے بچے نے ایک نظر باپ کو دیکھا اور پھر بت سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا:
"میں بھوکا ہوں مجھے کھانا دے۔میں ننگا ہوں مجھے کپڑے دے۔میں تجھے پتھر مارتا ہوں اگر تو خدا ہے تو خود کو بچالے۔"
اتنا کہہ کر پتھر اٹھایا اور بت کو دے مارا۔بھلا وہ پتھر کی مورت کیا جواب دیتی اور کیا خود کو بچاتی؟پتھر لگا اور بت اوندھے منہ گر پڑا۔ابو قحافہ نے غضب ناک ہوکر بیٹے کے چہرے تھپڑ مارا۔مارے غصے کے گھسیٹتے ہوئے ان کی والدہ ام الخیر سلمی بنت صخر کے پاس لائے اور اس حرکت کی شکایت کی۔والدہ نے نہایت اطمینان سے جواب دیا:
"ابو قحافہ! بچے کو اس کے حال پر چھوڑ دو۔جب یہ پیدا ہوا تھا تو مجھے غیب سے اس کے بارے میں اچھی باتیں بتائی گئی تھیں۔"
(سیرت خلیفۃ الرسول:ص37/38)
بت پرستی عربوں کی رگوں میں رچی بسی تھی لیکن فضل ربی نے اس بچے کو شرک کی گندگی سے محفوظ رکھا۔جانتے ہیں یہ بچہ کون تھا؟
یہ خوش نصیب بچہ کوئی اور نہیں حضور سید عالم ﷺ کے یار غار سیدنا ابو بکر صدیق اکبر رضی اللہ عنہ تھے۔
بچپن گزرا، جوانی آئی۔عربوں کی خاندانی روایت کے مطابق آپ نے بھی تجارت کرنا شروع کیا۔یہ وہ زمانہ تھا جب پورے مکہ میں محمد عربیﷺ کی شرافت اور نیک نامی کی دھوم تھی۔لوگ اس جوان کی ایمان داری اور امانت داری کی قسمیں کھاتے تھے۔اتفاق یہ ہوا کہ ایک تجارتی سفر پر صدیق اکبر کو محمد عربیﷺ کی رفاقت نصیب ہوئی۔سفر ملک شام کا تھا۔راستے میں ایک مقام پر بیری کا درخت تھا۔حضور اس کی چھاؤں میں بیٹھ گئے۔وہیں پاس میں ایک عیسائی راہب رہتا تھا۔اس نے آپ ﷺ کو دیکھا تو صدیق اکبر سے پوچھا،یہ شخص کون ہے؟
آپ نے جواب دیا:
عبد اللہ بن عبدالمطلب کے شہزادے محمد ہیں۔ﷺ
راہب نے کہا خدا کی قسم! یہ نبی ہیں۔اس درخت کے نیچے حضرت عیسٰی علیہ السلام کے بعد سے آج تک کوئی نہیں بیٹھا۔راہب کی یہ بات آپ کے دل پر نقش ہوگئی اور آپ نے حضورﷺ کی صحبت ورفاقت کو خود پر لازم کرلیا۔
(تاریخ مشائخ نقش بندیہ:ج1:ص121/122)
حضورﷺ کے اعلان نبوت سے پورے مکہ میں ایک ہنگامہ برپا تھا۔کل تک جس کی سچائی کی قسمیں کھائی جاتی تھیں آج اسے جھٹلایا جارہا تھا۔جس کی عقل وذہانت کی مثالیں دی جاتی تھیں آج اسی کو مجنون قرار دیا جارہا تھا۔جس وقت یہ معاملہ پیش آیا صدیق اکبر مکہ سے باہر گئے ہوئے تھے۔جب آپ واپس لوٹے تو حضور کے اعلان نبوت کے بارے میں خبر ملی۔خبر ملتے ہی آپ ﷺ سے ملاقات کی۔حضور ﷺ نے اسلام پیش فرمایا۔آپ نے بغیر سوچ وبچار کے فوراً ہی اسلام قبول کرلیا۔محمد بن اسحاق کہتے ہیں کہ مجھ سے محمد بن عبدالرحمٰن نے بروایت عبد اللہ بن الحصین التمیمی بیان کیا:
أن رسول الله ﷺ ـ قال: ما دعوت أحدا إلى الإسلام إلا كانت عنده كبوة و تردد و نظر، إلا أبا بكر ما عتم عنه حين دعوته، و لا تردد فيه
"رسول اللہﷺ نے فرمایا: میں نے کسی کو بھی اسلام کی دعوت دی تو اس کو تذبذب میں پایا اور اس کو تردد ہوا سوائے ابو بکر کے۔جب میں نے ان کے سامنے اسلام پیش کیا تو انہوں نے بغیر تذبذب اور تردد کے اسلام قبول کرلیا۔
(تاریخ الخلفا للسیوطی:ص32)
اللہ اکبر!
جس کے ایمان کی فضلیت خود "جان ایمان" بیان کریں اس کے مقام ومرتبے کا کون اندازہ کر سکتا ہے؟
قبل اسلام بھی صدیق اکبر عرب میں رائج برائیوں سے پاک وصاف تھے قبول اسلام کے بعد آپ کا کمال اور بڑھ گیا۔آپ نے خود کو اسلام اور پیغمبر اسلام کے لیے وقف کردیا۔اور بڑے پیمانے پر دعوت وتبلیغ کا کام شروع کردیا۔سب سے پہلے آپ نے اپنے اہل خانہ کو دین کی دعوت پیش کی۔آپ کی شہزادی حضرت اسما رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
"ہمارے بابا جس دن ایمان لائے اسی دن سب گھر والوں کو اسلام کی دعوت پیش کی۔آپ اس وقت تک مجلس سے نہیں اٹھے جب تک ہم سب نے اسلام قبول نہیں کرلیا۔"
اہل خانہ کے بعد صدیق اکبر نے اپنے دوست واحباب کے درمیان تبلیغ دین کا آغاز فرمایا۔آپ کی مخلصانہ تبلیغ اور شخصیت سے متاثر ہوکر کئی مشاہیر افراد نے اسلام قبول فرمایا، اہم افراد میں حضرت عثمان غنی،حضرت زبیر بن عوام، حضرت طلحہ بن عبیداللہ،حضرت سعد بن وقاص، حضرت عبدالرحمٰن بن عوف جیسی شخصیات شامل ہیں۔یہ پانچوں افراد "عشرہ مبشرہ" کی خوش نصیب جماعت کا حصہ ہیں۔عشرہ مبشرہ ان دس افراد کی جماعت کا نام ہے جنہیں حضورﷺ نے
ولادت سرکار پر تذکرہ یارِ غار
غلام مصطفےٰ نعیمی
روشن مستقبل دہلی
عام الفیل(570ء) کو دو سال چھ ماہ گزرے تھے کہ ابو قحافہ عثمان بن عامر کے گھر ایک سعادت مند بچے نے آنکھیں کھولیں۔نام عبدالکعبہ رکھا گیا۔جو بعد میں بدل کر عبداللہ کردیا گیا تھا۔پرورش کا زمانہ شروع ہوگیا۔یہ وہ زمانہ تھا کہ عرب معاشرے میں دنیا بھر کی ساری برائیاں عام تھیں۔شراب نوشی و زنا کاری ان کا شوق تھی اور بت پرستی ان کی فطرت!
اسی بگڑے ہوئے معاشرے میں بچے نے پروان چڑھنا شروع کیا۔ جب یہ بچہ چار سال کا ہوگیا تو ایک دن ابو قحافہ اسے اپنے ساتھ لیکر بت خانے پہنچے اور ایک بڑے بت کی جانب اشارہ کرکے سجدہ کرنے کا حکم دیا۔ننھے بچے نے ایک نظر باپ کو دیکھا اور پھر بت سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا:
"میں بھوکا ہوں مجھے کھانا دے۔میں ننگا ہوں مجھے کپڑے دے۔میں تجھے پتھر مارتا ہوں اگر تو خدا ہے تو خود کو بچالے۔"
اتنا کہہ کر پتھر اٹھایا اور بت کو دے مارا۔بھلا وہ پتھر کی مورت کیا جواب دیتی اور کیا خود کو بچاتی؟پتھر لگا اور بت اوندھے منہ گر پڑا۔ابو قحافہ نے غضب ناک ہوکر بیٹے کے چہرے تھپڑ مارا۔مارے غصے کے گھسیٹتے ہوئے ان کی والدہ ام الخیر سلمی بنت صخر کے پاس لائے اور اس حرکت کی شکایت کی۔والدہ نے نہایت اطمینان سے جواب دیا:
"ابو قحافہ! بچے کو اس کے حال پر چھوڑ دو۔جب یہ پیدا ہوا تھا تو مجھے غیب سے اس کے بارے میں اچھی باتیں بتائی گئی تھیں۔"
(سیرت خلیفۃ الرسول:ص37/38)
بت پرستی عربوں کی رگوں میں رچی بسی تھی لیکن فضل ربی نے اس بچے کو شرک کی گندگی سے محفوظ رکھا۔جانتے ہیں یہ بچہ کون تھا؟
یہ خوش نصیب بچہ کوئی اور نہیں حضور سید عالم ﷺ کے یار غار سیدنا ابو بکر صدیق اکبر رضی اللہ عنہ تھے۔
بچپن گزرا، جوانی آئی۔عربوں کی خاندانی روایت کے مطابق آپ نے بھی تجارت کرنا شروع کیا۔یہ وہ زمانہ تھا جب پورے مکہ میں محمد عربیﷺ کی شرافت اور نیک نامی کی دھوم تھی۔لوگ اس جوان کی ایمان داری اور امانت داری کی قسمیں کھاتے تھے۔اتفاق یہ ہوا کہ ایک تجارتی سفر پر صدیق اکبر کو محمد عربیﷺ کی رفاقت نصیب ہوئی۔سفر ملک شام کا تھا۔راستے میں ایک مقام پر بیری کا درخت تھا۔حضور اس کی چھاؤں میں بیٹھ گئے۔وہیں پاس میں ایک عیسائی راہب رہتا تھا۔اس نے آپ ﷺ کو دیکھا تو صدیق اکبر سے پوچھا،یہ شخص کون ہے؟
آپ نے جواب دیا:
عبد اللہ بن عبدالمطلب کے شہزادے محمد ہیں۔ﷺ
راہب نے کہا خدا کی قسم! یہ نبی ہیں۔اس درخت کے نیچے حضرت عیسٰی علیہ السلام کے بعد سے آج تک کوئی نہیں بیٹھا۔راہب کی یہ بات آپ کے دل پر نقش ہوگئی اور آپ نے حضورﷺ کی صحبت ورفاقت کو خود پر لازم کرلیا۔
(تاریخ مشائخ نقش بندیہ:ج1:ص121/122)
حضورﷺ کے اعلان نبوت سے پورے مکہ میں ایک ہنگامہ برپا تھا۔کل تک جس کی سچائی کی قسمیں کھائی جاتی تھیں آج اسے جھٹلایا جارہا تھا۔جس کی عقل وذہانت کی مثالیں دی جاتی تھیں آج اسی کو مجنون قرار دیا جارہا تھا۔جس وقت یہ معاملہ پیش آیا صدیق اکبر مکہ سے باہر گئے ہوئے تھے۔جب آپ واپس لوٹے تو حضور کے اعلان نبوت کے بارے میں خبر ملی۔خبر ملتے ہی آپ ﷺ سے ملاقات کی۔حضور ﷺ نے اسلام پیش فرمایا۔آپ نے بغیر سوچ وبچار کے فوراً ہی اسلام قبول کرلیا۔محمد بن اسحاق کہتے ہیں کہ مجھ سے محمد بن عبدالرحمٰن نے بروایت عبد اللہ بن الحصین التمیمی بیان کیا:
أن رسول الله ﷺ ـ قال: ما دعوت أحدا إلى الإسلام إلا كانت عنده كبوة و تردد و نظر، إلا أبا بكر ما عتم عنه حين دعوته، و لا تردد فيه
"رسول اللہﷺ نے فرمایا: میں نے کسی کو بھی اسلام کی دعوت دی تو اس کو تذبذب میں پایا اور اس کو تردد ہوا سوائے ابو بکر کے۔جب میں نے ان کے سامنے اسلام پیش کیا تو انہوں نے بغیر تذبذب اور تردد کے اسلام قبول کرلیا۔
(تاریخ الخلفا للسیوطی:ص32)
اللہ اکبر!
جس کے ایمان کی فضلیت خود "جان ایمان" بیان کریں اس کے مقام ومرتبے کا کون اندازہ کر سکتا ہے؟
قبل اسلام بھی صدیق اکبر عرب میں رائج برائیوں سے پاک وصاف تھے قبول اسلام کے بعد آپ کا کمال اور بڑھ گیا۔آپ نے خود کو اسلام اور پیغمبر اسلام کے لیے وقف کردیا۔اور بڑے پیمانے پر دعوت وتبلیغ کا کام شروع کردیا۔سب سے پہلے آپ نے اپنے اہل خانہ کو دین کی دعوت پیش کی۔آپ کی شہزادی حضرت اسما رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
"ہمارے بابا جس دن ایمان لائے اسی دن سب گھر والوں کو اسلام کی دعوت پیش کی۔آپ اس وقت تک مجلس سے نہیں اٹھے جب تک ہم سب نے اسلام قبول نہیں کرلیا۔"
اہل خانہ کے بعد صدیق اکبر نے اپنے دوست واحباب کے درمیان تبلیغ دین کا آغاز فرمایا۔آپ کی مخلصانہ تبلیغ اور شخصیت سے متاثر ہوکر کئی مشاہیر افراد نے اسلام قبول فرمایا، اہم افراد میں حضرت عثمان غنی،حضرت زبیر بن عوام، حضرت طلحہ بن عبیداللہ،حضرت سعد بن وقاص، حضرت عبدالرحمٰن بن عوف جیسی شخصیات شامل ہیں۔یہ پانچوں افراد "عشرہ مبشرہ" کی خوش نصیب جماعت کا حصہ ہیں۔عشرہ مبشرہ ان دس افراد کی جماعت کا نام ہے جنہیں حضورﷺ نے