🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
#سلسلہ_مطلع_القمرین قسط 16 مفکرِ اسلام امام احمد رضا حنفی ماتریدی رحمۃ اللہ تعالی علیہ سورہ فاتحہ کی آیت نمبر 6کی تفسیر میں لکھتے ہیں 🖋️اھدنا الصراط المستقیم چلا ہمیں راہ سیدھی ترجمہ کنزالایمان 🌹حضرت خواجہ حسن بصری و امام ابو العالیہ کہ دونوں اجلہ علماء…
آیا اب بھی آیتِ کریمہ اپنی تفسیر پر صاف صاف نہیں کہہ رہی کہ شیخین بعد سیدالکونین کے امام متبوع و پیشواء و مقتداء و اطوع و اتقی و افضل و اکرم امت ہیں-
🌻اے عزیز اسی ارشاد کا اثر ہے کہ امیرالمومنین مولیٰ علی نے صدیق اکبر کی نعش اقدس پر فرمایا میں ان سے زیادہ کسی کی نسبت یہ نہیں چاہتا کہ ان جیسے عمل کر کے خدا سے ملوں
جل جلالہ و صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ واصحابہ وسلم و رضی اللہ تعالی عنہما
16جمادی الآخر 1443
صبح 9 بجے
محمد شرافت علی قادری رضوی
جامعہ حنیفہ رضا اسلامک ریسرچ سنٹر 437گ ب کرول سمندری
https://www.facebook.com/104955781414791/posts/420925226484510/
🌻اے عزیز اسی ارشاد کا اثر ہے کہ امیرالمومنین مولیٰ علی نے صدیق اکبر کی نعش اقدس پر فرمایا میں ان سے زیادہ کسی کی نسبت یہ نہیں چاہتا کہ ان جیسے عمل کر کے خدا سے ملوں
جل جلالہ و صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ واصحابہ وسلم و رضی اللہ تعالی عنہما
16جمادی الآخر 1443
صبح 9 بجے
محمد شرافت علی قادری رضوی
جامعہ حنیفہ رضا اسلامک ریسرچ سنٹر 437گ ب کرول سمندری
https://www.facebook.com/104955781414791/posts/420925226484510/
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#سلسلہ_مطلع_القمرین قسط 17
شیخ الاسلام مجدد اعظم امام احمد رضا خان حنفی ماتریدی رحمہ
اپنی مشہور کتاب مطلع القمرین شریف میں سورہ زمر آیت نمبر 9اور سورہ مجادلہ آیت نمبر 11کی تفسیر میں لکھتے ہیں
🖋️تو کہہ کیا برابر ہیں وہ جو جانتے ہیں اور نہیں جانتے
ترجمہ کنزالایمان زمر 9
اور سورہ مجادلہ میں
بلند کرے گا اللہ تم میں سے ایمان والوں کو اور انہیں جو علم دیےگئے درجوں میں
ترجمہ کنزالایمان مجادلہ 11
🌹اب امام اہلِ سنت کا انداز دیکھیں
🌿اقول واللہ یغفرلی
ان آیات طیبات سے ثابت کہ علم باعثِ فضل اور مثل ایمان موجبِ رفع درجات ہے ، اور پھر ظاہر ہے کہ زیادت سبب زیادت مسبب ، پس جس قدر علم بیش فضیلت افزوں ، اور احادیث و آثار سے ثابت کہ جناب شیخین رضی اللہ تعالی عنہما کے برابر صحابہ کرام میں کسی کو علم نہ تھا
🌹بلکہ اعلمیت صدیق تو قرآن عزیز سے ثابت
صحیح بخاری کی حضرت ابو بکر صدیق کی امامت والی حدیث مبارک کےلیے جو امام بخاری نے باب باندھا وہ بھی بڑا کمال ہے
باب اھلِ العلم والفضل احق الامامة
17جمادی الآخر 1443صبح 8بجکر 40منٹ
✍ محمد شرافت علی قادری رضوی
https://www.facebook.com/104955781414791/posts/421524579757908/
شیخ الاسلام مجدد اعظم امام احمد رضا خان حنفی ماتریدی رحمہ
اپنی مشہور کتاب مطلع القمرین شریف میں سورہ زمر آیت نمبر 9اور سورہ مجادلہ آیت نمبر 11کی تفسیر میں لکھتے ہیں
🖋️تو کہہ کیا برابر ہیں وہ جو جانتے ہیں اور نہیں جانتے
ترجمہ کنزالایمان زمر 9
اور سورہ مجادلہ میں
بلند کرے گا اللہ تم میں سے ایمان والوں کو اور انہیں جو علم دیےگئے درجوں میں
ترجمہ کنزالایمان مجادلہ 11
🌹اب امام اہلِ سنت کا انداز دیکھیں
🌿اقول واللہ یغفرلی
ان آیات طیبات سے ثابت کہ علم باعثِ فضل اور مثل ایمان موجبِ رفع درجات ہے ، اور پھر ظاہر ہے کہ زیادت سبب زیادت مسبب ، پس جس قدر علم بیش فضیلت افزوں ، اور احادیث و آثار سے ثابت کہ جناب شیخین رضی اللہ تعالی عنہما کے برابر صحابہ کرام میں کسی کو علم نہ تھا
🌹بلکہ اعلمیت صدیق تو قرآن عزیز سے ثابت
صحیح بخاری کی حضرت ابو بکر صدیق کی امامت والی حدیث مبارک کےلیے جو امام بخاری نے باب باندھا وہ بھی بڑا کمال ہے
باب اھلِ العلم والفضل احق الامامة
17جمادی الآخر 1443صبح 8بجکر 40منٹ
✍ محمد شرافت علی قادری رضوی
https://www.facebook.com/104955781414791/posts/421524579757908/
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#سلسلہ_مطلع_القمرین قسط 18
سرکارِ اعلیٰ امام احمد رضا خان قادری برکاتی رحمۃ اللہ تعالی علیہ
حضور پر نور سرکارِ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ کی جان نثاری و پروانہ واری کے باب میں لکھتے ہیں
🖋️اللہ جل جلالہ و عم نوالہ نے حکمت کاملہ کے مطابق صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین کو دین متین کی تائید و اعانت اور سیدالمرسلین صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کی نصرت و حمایت کے لیے پیدا کیا
اور جنہیں زیادت فضل عطا کرنا منظور ہوا ان سے وہ کارہائے خطیر لیے کہ غیر سے نہ بن پڑے ، 🌸کسی کو سیاست بلاد، و تدبیرِ جہاد ، ورعایت رعایا ، ونکایت اعداء میں وہ سلیقہ کامل بخشا کہ جس کے زورِ بازو نے قاف سے قاف ، کفر سے صاف اور دین سے معمور کردیا ۔رعیت نے جو اس کے سایہ حمایت میں آرام پایا کبھی نہ پائے گی یہاں تک کہ (حتیٰ ضرب الناس بعطن )اس کے چہرۂ کمال کا غازہ جمال ہوا
🌻کسی کو تجہیز جیشِ العسرہ ، وقفِ بیر رومہ ، زیادت مسجدِ نبوی ، فقرا کی خبر گیری میں ممتاز کیا ،اور عطیہ ماعلی عثمان ماففعل بعد ھذہ صلہ میں دیا
سرکارِ اعلیٰ امام احمد رضا خان قادری برکاتی رحمۃ اللہ تعالی علیہ
حضور پر نور سرکارِ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ کی جان نثاری و پروانہ واری کے باب میں لکھتے ہیں
🖋️اللہ جل جلالہ و عم نوالہ نے حکمت کاملہ کے مطابق صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین کو دین متین کی تائید و اعانت اور سیدالمرسلین صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کی نصرت و حمایت کے لیے پیدا کیا
اور جنہیں زیادت فضل عطا کرنا منظور ہوا ان سے وہ کارہائے خطیر لیے کہ غیر سے نہ بن پڑے ، 🌸کسی کو سیاست بلاد، و تدبیرِ جہاد ، ورعایت رعایا ، ونکایت اعداء میں وہ سلیقہ کامل بخشا کہ جس کے زورِ بازو نے قاف سے قاف ، کفر سے صاف اور دین سے معمور کردیا ۔رعیت نے جو اس کے سایہ حمایت میں آرام پایا کبھی نہ پائے گی یہاں تک کہ (حتیٰ ضرب الناس بعطن )اس کے چہرۂ کمال کا غازہ جمال ہوا
🌻کسی کو تجہیز جیشِ العسرہ ، وقفِ بیر رومہ ، زیادت مسجدِ نبوی ، فقرا کی خبر گیری میں ممتاز کیا ،اور عطیہ ماعلی عثمان ماففعل بعد ھذہ صلہ میں دیا
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
#سلسلہ_مطلع_القمرین قسط 18 سرکارِ اعلیٰ امام احمد رضا خان قادری برکاتی رحمۃ اللہ تعالی علیہ حضور پر نور سرکارِ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ کی جان نثاری و پروانہ واری کے باب میں لکھتے ہیں 🖋️اللہ جل جلالہ و عم نوالہ نے حکمت کاملہ کے مطابق صحابہ کرام…
🌺کسی کو جہادِ سنانی میں وہ کمال بخشا کہ صنادید کفار کو قتل کیا ، درخیبر سپر بنایا ، اسداللہ الغالب لقب پایا ۔ فصل قضا میں یدِ طولیٰ ملا اقضاھم علی کا تمغہ ملا ،
🌼کسی کو اصطلاح ذات بین ، حقن دمائے فریقین ، پر مامور کیا کہ ہزاروں مسلمانوں کی جانیں بچا کر خلعتِ سیادت لیا
💐💐💐💐💐💐💐مگر صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ کو شریف ترین کارہا یعنی سید المحبوبین ﷺ پر جان نثاری اور شمع جمال پر پروانہ واری سے مخصوص فرمایا کہ لوگوں کے اعمال ہزار سالہ ان کی خدمتِ یک ساعت کو نہیں پہنچے یہاں تک کہ امیرالمومنین فاروق اعظم فرماتے ہیں =
ابو بکر کا ایک دن رات عمر کی تمام عمر سے بہتر ۔۔ رات غارِ ثور کی رات اور دن وہ دن جب عرب مرتد ہوئے انکار زکوٰۃ کی وجہ سے ،
اب ہم اس دعویٰ کو کہ مصائب شدیدہ واحوال منیفہ میں حضرت ابو بکر ہی نے نصرت و حمایت کا کام کیا اور کسی نے ساتھ نہ دیا ،دس وجہ سے ثابت کرتے ہیں
صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم
رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین
18جمادی الآخر 1443
محمد شرافت علی قادری رضوی
چئیرمین رشدالایمان فاؤنڈیشن سمندری
https://www.facebook.com/104955781414791/posts/422193066357726/
🌼کسی کو اصطلاح ذات بین ، حقن دمائے فریقین ، پر مامور کیا کہ ہزاروں مسلمانوں کی جانیں بچا کر خلعتِ سیادت لیا
💐💐💐💐💐💐💐مگر صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ کو شریف ترین کارہا یعنی سید المحبوبین ﷺ پر جان نثاری اور شمع جمال پر پروانہ واری سے مخصوص فرمایا کہ لوگوں کے اعمال ہزار سالہ ان کی خدمتِ یک ساعت کو نہیں پہنچے یہاں تک کہ امیرالمومنین فاروق اعظم فرماتے ہیں =
ابو بکر کا ایک دن رات عمر کی تمام عمر سے بہتر ۔۔ رات غارِ ثور کی رات اور دن وہ دن جب عرب مرتد ہوئے انکار زکوٰۃ کی وجہ سے ،
اب ہم اس دعویٰ کو کہ مصائب شدیدہ واحوال منیفہ میں حضرت ابو بکر ہی نے نصرت و حمایت کا کام کیا اور کسی نے ساتھ نہ دیا ،دس وجہ سے ثابت کرتے ہیں
صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم
رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین
18جمادی الآخر 1443
محمد شرافت علی قادری رضوی
چئیرمین رشدالایمان فاؤنڈیشن سمندری
https://www.facebook.com/104955781414791/posts/422193066357726/
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#سلسلہ_مطلع_القمرین قسط 19
سیدی امام اہلسنت الشاہ امام احمد رضا خان حنفی ماتریدی رحمۃ اللہ تعالی علیہ
نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کے لیے مصائب برداشت کرنے کے باب میں لکھتے ہیں
🖋️امیرالمومنین علی کرم اللہ تعالی وجہہ فرماتے ہیں
اے ابو بکر خدا آپ پر رحمت کرے ، آپ رسول اللہ ﷺ کے دوست تھے اور ان کے مونس و مرجع کار ، معتمد علیہ محافظ سرور عالم ﷺ ہیں ، آپ کے برابر کوئی نہ تھا ، آپ نے ان کی تصديق کی جب لوگوں نے ان کو جھٹلایا ، اور غمخواری کی جب اوروں نے بخل کیا ، مکروہات میں ان کی خدمات پر قائم رہے جب لوگ انہیں چھوڑ گئے ، اور مصیبتوں میں ان کا ساتھ دیا
(اعلیٰ حضرت نے دس وجوہ بیان کی ہیں کہ حضرت صدیق اکبر نے کس طرح شدید مصائب میں حضور کی خدمت کی ان شاءاللہ تعالیٰ دس میں سے 9 بھی لکھی جائیں گی
صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ واصحابہ وسلم و رضی اللہ تعالی عنہما
19جمادی الآخر 1443
محمد شرافت علی قادری رضوی
جامعہ حنیفہ رضا اسلامک ریسرچ سنٹر سمندری
https://www.facebook.com/104955781414791/posts/422793119631054/
سیدی امام اہلسنت الشاہ امام احمد رضا خان حنفی ماتریدی رحمۃ اللہ تعالی علیہ
نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کے لیے مصائب برداشت کرنے کے باب میں لکھتے ہیں
🖋️امیرالمومنین علی کرم اللہ تعالی وجہہ فرماتے ہیں
اے ابو بکر خدا آپ پر رحمت کرے ، آپ رسول اللہ ﷺ کے دوست تھے اور ان کے مونس و مرجع کار ، معتمد علیہ محافظ سرور عالم ﷺ ہیں ، آپ کے برابر کوئی نہ تھا ، آپ نے ان کی تصديق کی جب لوگوں نے ان کو جھٹلایا ، اور غمخواری کی جب اوروں نے بخل کیا ، مکروہات میں ان کی خدمات پر قائم رہے جب لوگ انہیں چھوڑ گئے ، اور مصیبتوں میں ان کا ساتھ دیا
(اعلیٰ حضرت نے دس وجوہ بیان کی ہیں کہ حضرت صدیق اکبر نے کس طرح شدید مصائب میں حضور کی خدمت کی ان شاءاللہ تعالیٰ دس میں سے 9 بھی لکھی جائیں گی
صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ واصحابہ وسلم و رضی اللہ تعالی عنہما
19جمادی الآخر 1443
محمد شرافت علی قادری رضوی
جامعہ حنیفہ رضا اسلامک ریسرچ سنٹر سمندری
https://www.facebook.com/104955781414791/posts/422793119631054/
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#سلسلہ_مطلع_القمرین قسط 20
امام اہلسنت مجدد اعظم اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان قادری برکاتی رحمۃ اللہ تعالی علیہ اپنی شہرۂ آفاق کتاب مطلع القمرین میں دس وجوہات درج کرتے ہیں جن میں سرکارِ صدیق کو تفرد حاصل ہے لکھتے
🖋️وجہ دوم
ابتدائے اسلام میں جب کافروں کا نہایت غلبہ تھا اور وہ
سیدالعالمین ﷺ کو طرح طرح سے ایذاء پہنچاتے ، اس وقت سوا صدیق اکبر کے اور کون سپر ہوتا تھا ، ہر طرح حضور ﷺ کی حمایت کرتے ،
جب بوجہ تنہائی و بے کسی و کثرت اعداء کے کچھ قابو نہ چلتا ، تو ایسی باتیں کرتے کو وہ رسول اللہ ﷺ کو چھوڑ کر ان کی طرف متوجہ ہو جاتے ، اور آپ ان کی ضرب و ایذاء گوارہ کرتے اور محبوب ﷺ پر آنچ نہ آنے دیتے
💔 عقبہ بن ابی معیط نے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم کے گلوئے اقدس میں نماز پڑھتے ہوئے چادر باندھ کر نہایت زور سے کھینچی ، ابو بکر نے آ کر اس شقی کو دفع کیا اور فرمایا : کیا مار ڈالتے ہو ایک مرد کو اس امر پر کہ وہ کہتا ہے ، رب میرا اللہ ہے ، حالانکہ وہ لایا تمہارے پاس کھلی نشانیاں اپنے رب سے
امام اہلسنت مجدد اعظم اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان قادری برکاتی رحمۃ اللہ تعالی علیہ اپنی شہرۂ آفاق کتاب مطلع القمرین میں دس وجوہات درج کرتے ہیں جن میں سرکارِ صدیق کو تفرد حاصل ہے لکھتے
🖋️وجہ دوم
ابتدائے اسلام میں جب کافروں کا نہایت غلبہ تھا اور وہ
سیدالعالمین ﷺ کو طرح طرح سے ایذاء پہنچاتے ، اس وقت سوا صدیق اکبر کے اور کون سپر ہوتا تھا ، ہر طرح حضور ﷺ کی حمایت کرتے ،
جب بوجہ تنہائی و بے کسی و کثرت اعداء کے کچھ قابو نہ چلتا ، تو ایسی باتیں کرتے کو وہ رسول اللہ ﷺ کو چھوڑ کر ان کی طرف متوجہ ہو جاتے ، اور آپ ان کی ضرب و ایذاء گوارہ کرتے اور محبوب ﷺ پر آنچ نہ آنے دیتے
💔 عقبہ بن ابی معیط نے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم کے گلوئے اقدس میں نماز پڑھتے ہوئے چادر باندھ کر نہایت زور سے کھینچی ، ابو بکر نے آ کر اس شقی کو دفع کیا اور فرمایا : کیا مار ڈالتے ہو ایک مرد کو اس امر پر کہ وہ کہتا ہے ، رب میرا اللہ ہے ، حالانکہ وہ لایا تمہارے پاس کھلی نشانیاں اپنے رب سے
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
#سلسلہ_مطلع_القمرین قسط 20 امام اہلسنت مجدد اعظم اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان قادری برکاتی رحمۃ اللہ تعالی علیہ اپنی شہرۂ آفاق کتاب مطلع القمرین میں دس وجوہات درج کرتے ہیں جن میں سرکارِ صدیق کو تفرد حاصل ہے لکھتے 🖋️وجہ دوم ابتدائے اسلام میں جب کافروں کا…
وجہ سوم
کفار نے ایک بار یہاں تک ایذاء دی کہ غش آ گیا
ابو بکر نے کھڑے ہو کر ندا دی خرابی ہو تمہارے لیے کیا مار ڈالتے ہو ایک مرد کو اس بات پر کہ وہ کہتا ہے رب میرا اللہ ہے
کافر آپس میں بولے یہ کون ہے ؟کہا ابو قحافہ کا بیٹا ہے دیوانہ
اللہ اکبر جل جلالہ
صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ واصحابہ وسلم و رضی اللہ تعالی عنہ
20جمادی الآخر 1443
22جمادی الآخر کو بعد نمبر ظہر عرس مبارک سرکارِ صدیق پاک میں تشریف لائیں
محمد شرافت علی قادری رضوی
جامعہ حنیفہ رضا اسلامک ریسرچ سنٹر 437گ ب کرول نزد 177ماڑی موڑ سمندری فیصل آباد پاکستان
https://www.facebook.com/104955781414791/posts/423415686235464/
کفار نے ایک بار یہاں تک ایذاء دی کہ غش آ گیا
ابو بکر نے کھڑے ہو کر ندا دی خرابی ہو تمہارے لیے کیا مار ڈالتے ہو ایک مرد کو اس بات پر کہ وہ کہتا ہے رب میرا اللہ ہے
کافر آپس میں بولے یہ کون ہے ؟کہا ابو قحافہ کا بیٹا ہے دیوانہ
اللہ اکبر جل جلالہ
صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ واصحابہ وسلم و رضی اللہ تعالی عنہ
20جمادی الآخر 1443
22جمادی الآخر کو بعد نمبر ظہر عرس مبارک سرکارِ صدیق پاک میں تشریف لائیں
محمد شرافت علی قادری رضوی
جامعہ حنیفہ رضا اسلامک ریسرچ سنٹر 437گ ب کرول نزد 177ماڑی موڑ سمندری فیصل آباد پاکستان
https://www.facebook.com/104955781414791/posts/423415686235464/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
*📚 « امجــــدی مضــــامین » 📚*
-----------------------------------------------------------
*🕯وراثت میں کس کا کتنا حصہ ہے۔🕯*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
بســــــم اللّــہ الرحـــمٰن الرحــــیم
نحــمدہ ونصـلی علـی رســــولـہ الکـریم
📬 میـراث کـے اصـطلاحـی معنیٰ: اس عـلم کـے ذریـعہ یـہ جانا جـاتا ہـے کہ کـسی شخـص کـے انتقـال کـے بعـد اس کا وارث کـون بنے گا اور کون نہیں
نیـز وارثیـن کو کتنـا کتنـا حـصہ ملے گا۔ قـرآن کریم میں متعدد جگہوں پر میراث کے احکام بیان کـیے گـئے ہیـں
میـراث کے مسائل میں فقہا کــــرام وعلــماعــظام کا اختــلاف بہت کــم ہے
دین اسلام میں علم میراث کی بہت زیادہ اہمیت ہے چناں چہ نبی پاک ﷺ نے اس علم کو پڑھنے پڑھانے کی متعدد مرتبہ ترغیب دی ہے۔چناں چہ نبی پاک ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ عـــلمِ فــرائض سیــکھو اور لوگوں کو ســکھاؤ کیوں کہ یہ نصــف علــــــم ہے، اس کے مسائل لوگ جلدی بھول جاتے ہیں،یہ پہلا علم ہے جو میری امت سے اٹھالیا جائے گا۔‘‘ (ابن ماجہ) پیارے آقا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے علم فرائض کو نصف علم قرار دیاہے۔
حضرت عـمــــر فـاروق اعظــم رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا: ’’میراث کے مسائل کو سیکھا کرو کیوں کہ یہ تمہارے دین کا ایک حصّہ ہے (دارمی )۔
حــــــضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا: جو شخص قرآن کریم کو سیکھے اس کو چاہئے کہ وہ علمِ میراث کو بھی سیکھے۔‘‘(بیہقی و طبرانی )۔
عــــــــلم میراث کے 3 اجزاء ہیں:
۔۱مُــوَرَّث:وہ میت جس کا ساز وسامان وجائیداد دوسروں کی طرف منتقل ہورہی ہے۔
٢ وَارِثْ: وہ شخص جس کی طرف میت کا ساز وسامان وجائیداد منتقل ہورہی ہے وارث کی (جمع ورثاء آتی ہے)۔
٣ مَــــوْرُوْث:ترکہ یعنی وہ جائیداد یا ساز وسامان جو مرنے والا چھوڑ کر مرا ہے۔
میت کے سازوسامان اور جائیداد میں درجِ ذیل 4 حقوق ہیں:
۔1 میت کے مال وجائیداد میں سے سب سے پہلے اس کے کفن ودفن کا انتظام کیا جائے۔
۔2 دوسرے نمبر پر جو قرض میت کے اوپر ہے اس کو ادا کیا جائے
۔ 3 تیسرا حق یہ ہے کہ ایک تہائی حصہ تک اس کی جائز وصیتوں کو نافذ کیا جائے۔
تنبیہ
کسی وارث یا تمام وارثین کو محروم کرنے کے لیے اگر کوئی شخص وصیت کرے تو یہ گناہ ِکبیرہ ہے جیسا کہ حضور رسول الراحت ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’جس شخص نے وارث کو میراث سے محروم کیا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن جنت سے اس کو محروم رکھے گا۔‘‘ (ابن ماجہ)۔
۔ 4 چوتھا حق یہ ہے کہ باقی سازوسامان اور جائیداد کو شریعت کے مطابق وارثین میں تقسیم کردیا جائے۔
نَصِیْباً مَّفْرُوْضاً “النساء 7 ” فَرِیْضَۃً مِّنَ اللّٰہِ “النساء 11” وَصِیَّۃً مِّنَ اللّٰہِ “النساء 12 ” تِلْکَ حُدُوْدُ اللّٰہِ”النساء13″۔
سے معلوم ہوا کہ قرآن وسنت میں ذکر کئے گئے حصوں کے اعتبار سے وارثین کو میراث تقسیم کرنا واجب ہے۔
ورثا کی 3 قسمیں ہیں:
۔ 1 صاحب الفرض: وہ ورثا جو شرعی اعتبار سے ایسا معین حصہ حاصل کرتے ہیں جس میں کوئی کمی یا بیشی نہیں ہوسکتی
۔ 2عـصبہ: وہ ورثاء جو میراث میں غیر معین حصے کے حقداربنتے ہیں، یعنی اصحاب الفروض کے حصوں کی ادائیگی کے بعد باقی ساری جائیداد کے مالک بن جاتے ہیں، مثلاً بیٹا۔ حضور نبی رحمت ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’قرآن وسنت میں جن ورثاء کے حصے متعین کیے گئے ہیں ان کو دینے کے بعد جو بچے گا وہ قریب ترین رشتہ دار کو دیا جائے گا۔ (بخاری ومسلم)۔
۔3 ذوی الارحام : وہ رشتے دار جو صاحب الفرض اور عصبہ میں سے کوئی وارث نہ ہونے پر میراث میں شریک ہوتے ہیں جیسے چچا، بھتیجے اور چچازاد بھائی وغیرہ۔ اِن میں سے کوئی ایک وجہ پائے جانے پر ہی وراثت مل سکتی ہے۔
۔1 خونی رشے دار : یہ 2 انسانوں کے درمیان ولادت کا رشتہ ہے البتہ قریبی رشتہ دار کی موجودگی میں دور کے رشتہ داروں کو میراث نہیں ملے گی، مثلاً میت کے بھائی وبہن اسی صورت میں میراث میں شریک ہوسکتے ہیں جبکہ میت کی اولاد یا والدین میں سے کوئی ایک بھی حیات نہ ہو۔ یہ خونی رشتے اصول وفروع وحواشی پر مشتمل ہوتے ہیں۔ اصول (جیسے والدین ،دادا ، دادی وغیرہ) وفروع (جیسے اولاد ، پوتے،پوتی وغیرہ) وحواشی (جیسے بھائی، بہن، بھتیجے وبھانجے، چچا اور چچازاد بھائی وغیرہ)۔
وضاحت : سورۃ النساء آیت نمبر 7 “مِمَّا تَرَکَ الْوَالِدَان وَالاقْرَبُون” سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ میراث کی تقسیم ضرورت کے معیار سے نہیں بلکہ قرابت کے معیار سے ہوتی ہے اس لئے ضروری نہیں کہ رشتے داروں میں جو زیادہ حاجت مند ہو اس کو میراث کا زیادہ مستحق سمجھا جائے بلکہ جو میت کے ساتھ رشتے میں قریب تر ہوگا وہ بہ نسبت بعید کے زیادہ مستحق ہوگا۔
غرضیکہ میراث کی تقسیم’’ الاقرب فالاقرب‘‘ کے اصول پر ہوتی ہے خواہ مرد ہوں یا عورت، بالغ ہوں یا نابالغ۔
۔ 2 نکاح (میاں بیوی ایک دوسرے کی میراث میں شریک ہوتے ہیں)۔
-----------------------------------------------------------
*🕯وراثت میں کس کا کتنا حصہ ہے۔🕯*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
بســــــم اللّــہ الرحـــمٰن الرحــــیم
نحــمدہ ونصـلی علـی رســــولـہ الکـریم
📬 میـراث کـے اصـطلاحـی معنیٰ: اس عـلم کـے ذریـعہ یـہ جانا جـاتا ہـے کہ کـسی شخـص کـے انتقـال کـے بعـد اس کا وارث کـون بنے گا اور کون نہیں
نیـز وارثیـن کو کتنـا کتنـا حـصہ ملے گا۔ قـرآن کریم میں متعدد جگہوں پر میراث کے احکام بیان کـیے گـئے ہیـں
میـراث کے مسائل میں فقہا کــــرام وعلــماعــظام کا اختــلاف بہت کــم ہے
دین اسلام میں علم میراث کی بہت زیادہ اہمیت ہے چناں چہ نبی پاک ﷺ نے اس علم کو پڑھنے پڑھانے کی متعدد مرتبہ ترغیب دی ہے۔چناں چہ نبی پاک ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ عـــلمِ فــرائض سیــکھو اور لوگوں کو ســکھاؤ کیوں کہ یہ نصــف علــــــم ہے، اس کے مسائل لوگ جلدی بھول جاتے ہیں،یہ پہلا علم ہے جو میری امت سے اٹھالیا جائے گا۔‘‘ (ابن ماجہ) پیارے آقا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے علم فرائض کو نصف علم قرار دیاہے۔
حضرت عـمــــر فـاروق اعظــم رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا: ’’میراث کے مسائل کو سیکھا کرو کیوں کہ یہ تمہارے دین کا ایک حصّہ ہے (دارمی )۔
حــــــضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا: جو شخص قرآن کریم کو سیکھے اس کو چاہئے کہ وہ علمِ میراث کو بھی سیکھے۔‘‘(بیہقی و طبرانی )۔
عــــــــلم میراث کے 3 اجزاء ہیں:
۔۱مُــوَرَّث:وہ میت جس کا ساز وسامان وجائیداد دوسروں کی طرف منتقل ہورہی ہے۔
٢ وَارِثْ: وہ شخص جس کی طرف میت کا ساز وسامان وجائیداد منتقل ہورہی ہے وارث کی (جمع ورثاء آتی ہے)۔
٣ مَــــوْرُوْث:ترکہ یعنی وہ جائیداد یا ساز وسامان جو مرنے والا چھوڑ کر مرا ہے۔
میت کے سازوسامان اور جائیداد میں درجِ ذیل 4 حقوق ہیں:
۔1 میت کے مال وجائیداد میں سے سب سے پہلے اس کے کفن ودفن کا انتظام کیا جائے۔
۔2 دوسرے نمبر پر جو قرض میت کے اوپر ہے اس کو ادا کیا جائے
۔ 3 تیسرا حق یہ ہے کہ ایک تہائی حصہ تک اس کی جائز وصیتوں کو نافذ کیا جائے۔
تنبیہ
کسی وارث یا تمام وارثین کو محروم کرنے کے لیے اگر کوئی شخص وصیت کرے تو یہ گناہ ِکبیرہ ہے جیسا کہ حضور رسول الراحت ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’جس شخص نے وارث کو میراث سے محروم کیا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن جنت سے اس کو محروم رکھے گا۔‘‘ (ابن ماجہ)۔
۔ 4 چوتھا حق یہ ہے کہ باقی سازوسامان اور جائیداد کو شریعت کے مطابق وارثین میں تقسیم کردیا جائے۔
نَصِیْباً مَّفْرُوْضاً “النساء 7 ” فَرِیْضَۃً مِّنَ اللّٰہِ “النساء 11” وَصِیَّۃً مِّنَ اللّٰہِ “النساء 12 ” تِلْکَ حُدُوْدُ اللّٰہِ”النساء13″۔
سے معلوم ہوا کہ قرآن وسنت میں ذکر کئے گئے حصوں کے اعتبار سے وارثین کو میراث تقسیم کرنا واجب ہے۔
ورثا کی 3 قسمیں ہیں:
۔ 1 صاحب الفرض: وہ ورثا جو شرعی اعتبار سے ایسا معین حصہ حاصل کرتے ہیں جس میں کوئی کمی یا بیشی نہیں ہوسکتی
۔ 2عـصبہ: وہ ورثاء جو میراث میں غیر معین حصے کے حقداربنتے ہیں، یعنی اصحاب الفروض کے حصوں کی ادائیگی کے بعد باقی ساری جائیداد کے مالک بن جاتے ہیں، مثلاً بیٹا۔ حضور نبی رحمت ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’قرآن وسنت میں جن ورثاء کے حصے متعین کیے گئے ہیں ان کو دینے کے بعد جو بچے گا وہ قریب ترین رشتہ دار کو دیا جائے گا۔ (بخاری ومسلم)۔
۔3 ذوی الارحام : وہ رشتے دار جو صاحب الفرض اور عصبہ میں سے کوئی وارث نہ ہونے پر میراث میں شریک ہوتے ہیں جیسے چچا، بھتیجے اور چچازاد بھائی وغیرہ۔ اِن میں سے کوئی ایک وجہ پائے جانے پر ہی وراثت مل سکتی ہے۔
۔1 خونی رشے دار : یہ 2 انسانوں کے درمیان ولادت کا رشتہ ہے البتہ قریبی رشتہ دار کی موجودگی میں دور کے رشتہ داروں کو میراث نہیں ملے گی، مثلاً میت کے بھائی وبہن اسی صورت میں میراث میں شریک ہوسکتے ہیں جبکہ میت کی اولاد یا والدین میں سے کوئی ایک بھی حیات نہ ہو۔ یہ خونی رشتے اصول وفروع وحواشی پر مشتمل ہوتے ہیں۔ اصول (جیسے والدین ،دادا ، دادی وغیرہ) وفروع (جیسے اولاد ، پوتے،پوتی وغیرہ) وحواشی (جیسے بھائی، بہن، بھتیجے وبھانجے، چچا اور چچازاد بھائی وغیرہ)۔
وضاحت : سورۃ النساء آیت نمبر 7 “مِمَّا تَرَکَ الْوَالِدَان وَالاقْرَبُون” سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ میراث کی تقسیم ضرورت کے معیار سے نہیں بلکہ قرابت کے معیار سے ہوتی ہے اس لئے ضروری نہیں کہ رشتے داروں میں جو زیادہ حاجت مند ہو اس کو میراث کا زیادہ مستحق سمجھا جائے بلکہ جو میت کے ساتھ رشتے میں قریب تر ہوگا وہ بہ نسبت بعید کے زیادہ مستحق ہوگا۔
غرضیکہ میراث کی تقسیم’’ الاقرب فالاقرب‘‘ کے اصول پر ہوتی ہے خواہ مرد ہوں یا عورت، بالغ ہوں یا نابالغ۔
۔ 2 نکاح (میاں بیوی ایک دوسرے کی میراث میں شریک ہوتے ہیں)۔
👍1
Forwarded from فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
۔ 3 غلامیت سے چھٹکارا (اس کا وجود اب دنیا میں نہیں رہا اس لئے مضمون میں اس سے متعلق کوئی بحث نہیں کی گئی )۔ حــــــالاں کہ مــذہب اسلام نــے صنف نازک (عورتوں) اور صنفِ ضعیف (بچوں)کے حقوق کی مکمل حفاظت کی ہے اور زمانۂ جاہلیت کی رسم ورواج کے برخلاف انہیں بھی میراث میں شامل کیا ہے،
جیساکہ اللہ جل مجدہ الکریم نے قرآن کریم سورۃالنساء آیت 7 میں ذکر فرمایا ہے۔ مردوں میں سے یہ رشتے دار بیٹا،پوتا، باپ،دادا،بھائی،بھتیجا،چچا،چچا زاد بھائی، شوہر وارث بن سکتے ہیں عورتوں میں سے یہ رشتے دار بیٹی،پوتی،ماں،دادی،بہن،بیوی وارث بن سکتے ہیں نوٹ : اصول وفروع میں تیسری پشت (مثلاً پڑدادایا پڑپوتے) یا جن رشتے داروں تک عموماً وراثت کی تقسیم کی نوبت نہیں آتی ، ان کے احکام یہاں بیان نہیں کئے گئے ۔
شوہر اور بیوی کے حصے:
شوہر اور بیوی کی وراثت میں 4 شکلیں بنتی ہیں النساء12
١ بیوی کے انتقال پر: اولاد موجود نہ ہونے کی صورت میں شوہر کو 1/2ملے گا-
٢ بیوی کے انتقال پر : اولاد موجود ہونے کی صورت میں شوہر کو 1/4ملے گا۔
٣ شوہر کے انتقال پر : اولاد موجود نہ ہونے کی صورت میں بیوی کو 1/4ملے گا۔
٤ شوہر کے انتقال پر: اولاد موجود ہونے کی صورت میں بیوی کو 1/8ملے گا۔
وضاحت : اگر ایک سے زیادہ بیویاں ہیں تو یہی متعین حصہ (1/4 یا 1/8) باجماعِ امت ان کے درمیان تقسیم کیا جائے گا۔
باپ کا حصہ:
۔:1 اگر کسی شخص کی موت کے وقت اس کے والد حیات ہیں اور میت کا بیٹا یا پوتا بھی موجود ہیں تو میت کے والد کو 1/6ملے گ
٢ اگر کسی شخص کی موت کے وقت اس کے والد حیات ہیں البتہ میت کی کوئی بھی اولاد یا اولاد کی اولاد حیات نہیں تو میت کے والد عصبہ میں شمار ہوں گے،یعنی معین حصوں کی ادائیگی کے بعد باقی ساری جائیداد میت کے والد کی ہوجائے گی،
٣ اگر کسی شخص کی موت کے وقت اس کے والد حیات ہیں اور میت کی ایک یا زیادہ بیٹی یا پوتی حیات ہیں البتہ میت کا کوئی ایک بیٹا یا پوتاحیات نہیں تو میت کے والد کو 1/6ملے گا،
نیز میت کے والد عصبہ میں بھی ہوں گے، یعنی معین حصوں کی ادائیگی کے بعد باقی سب میت کے والد کا ہوگا۔
ماں کا حصہ:
۔ 1 اگر کسی شخص کی موت کے وقت اس کی ماں حیات ہیں البتہ میت کی کوئی اولاد نیز میت کا کوئی بھائی بہن حیات نہیں تو میت کی ماں کو 1/3ملے گا
٢ اگر کسی شخص کی موت کے وقت اس کی ماں حیات ہیں اور میت کی اولاد میں سے کوئی ایک یا میت کے2یا 2سے زیادہ بھائی موجود ہیں تو میت کی ماں کو 1/6ملے گا
٣ اگر کسی شخص کی موت کے وقت اس کی ماں حیات ہیں البتہ میت کی کوئی اولاد نیز میت کا کوئی بھائی بہن حیات نہیں لیکن میت کی بیوی حیات ہے تو سب سے پہلے بیوی کو 1/4ملے گا، باقی میں سے میت کی ماں کو 1/3ملے گا۔ حضرت عمر فاروق ؓ نے اسی طرح فیصلہ فرمایا تھا۔
اولاد کے حصہ:
١_ اگر کسی شخص کی موت کے وقت اس کے ایک یا زیادہ بیٹے حیات ہیں لیکن کوئی بیٹی حیات نہیں تو ذوی الفروض میں سے جو شخص (مثلاً میت کے والد یا والدہ یا شوہریابیوی) حیات ہیں ان کے حصے ادا کرنے کے بعد باقی ساری جائیداد بیٹوں میں برابر برابر تقسیم کی جائے گی
٢_اگر کسی شخص کی موت کے وقت اس کے بیٹے اور بیٹیاں حیات ہیں تو ذوی الفروض میں سے جو شخص (مثلاً میت کے والد یا والدہ یا شوہریابیوی) حیات ہیں اُن کے حصے ادا کرنے کے بعد باقی ساری جائیداد بیٹوں اور بیٹیوں میں قرآن کریم کے اصول (لڑکے کا حصہ2 لڑکیوں کے برابر) کی بنیاد پر تقسیم کی جائے گی
٣_ اگر کسی شخص کی موت کے وقت صرف اس کی بیٹیاں حیات ہیں بیٹے حیات نہیں تو ایک بیٹی کی صورت میں اسے 1/2ملے گا اور 2 یا2سے زیادہ بیٹیاں ہونے کی صورت میں انہیں 2/3ملے گا۔ وضاحت : اللہ تعالیٰ نے میراث کا ایک اہم اصول بیان کیا ہے: ’’اللہ تعالیٰ تمہیں تمہاری اولاد کے متعلق حکم کرتا ہے کہ ایک مرد کا حصہ2عورتوں کے برابر ہے۔ ‘‘النساء11 ۔
مذہب اسلام نے مرد پر ساری معاشی ذمہ داریاں عائد کی ہیں چنانچہ بیوی اور بچوں کے مکمل اخراجات عورت کے بجائے مرد کے ذمہ رکھے ہیں حتیٰ کہ عورت کے ذمہ خود اس کا خرچہ بھی نہیں رکھا۔ شادی سے قبل والد اور شادی کے بعد شوہر کے ذمہ عورت کا خرچہ رکھا گیا اس لیے مرد کا حصہ عورت سے دو گنا رکھا گیا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے لڑکیوں کو میراث دلانے کا اس قدر اہتمام کیا ہے کہ لڑکیوں کے حصہ کو اصل قرار دے کر اس کے اعتبار سے لڑکوں کا حصہ بتایاکہ لڑکوں کا حصہ 2 لڑکیوں کے برابر ہے۔ بھائی و بہن کے حصے : میت کے بہن بھائی کو اسی صورت میں میراث ملتی ہے جب کہ میت کے والدین اور اولاد میں سے کوئی بھی حیات نہ ہو۔ عموماً ایسا کم ہوتا ہے اس لیے بھائی بہن کے حصے کا تذکرہ یہاں نہیں کیا۔
جیساکہ اللہ جل مجدہ الکریم نے قرآن کریم سورۃالنساء آیت 7 میں ذکر فرمایا ہے۔ مردوں میں سے یہ رشتے دار بیٹا،پوتا، باپ،دادا،بھائی،بھتیجا،چچا،چچا زاد بھائی، شوہر وارث بن سکتے ہیں عورتوں میں سے یہ رشتے دار بیٹی،پوتی،ماں،دادی،بہن،بیوی وارث بن سکتے ہیں نوٹ : اصول وفروع میں تیسری پشت (مثلاً پڑدادایا پڑپوتے) یا جن رشتے داروں تک عموماً وراثت کی تقسیم کی نوبت نہیں آتی ، ان کے احکام یہاں بیان نہیں کئے گئے ۔
شوہر اور بیوی کے حصے:
شوہر اور بیوی کی وراثت میں 4 شکلیں بنتی ہیں النساء12
١ بیوی کے انتقال پر: اولاد موجود نہ ہونے کی صورت میں شوہر کو 1/2ملے گا-
٢ بیوی کے انتقال پر : اولاد موجود ہونے کی صورت میں شوہر کو 1/4ملے گا۔
٣ شوہر کے انتقال پر : اولاد موجود نہ ہونے کی صورت میں بیوی کو 1/4ملے گا۔
٤ شوہر کے انتقال پر: اولاد موجود ہونے کی صورت میں بیوی کو 1/8ملے گا۔
وضاحت : اگر ایک سے زیادہ بیویاں ہیں تو یہی متعین حصہ (1/4 یا 1/8) باجماعِ امت ان کے درمیان تقسیم کیا جائے گا۔
باپ کا حصہ:
۔:1 اگر کسی شخص کی موت کے وقت اس کے والد حیات ہیں اور میت کا بیٹا یا پوتا بھی موجود ہیں تو میت کے والد کو 1/6ملے گ
٢ اگر کسی شخص کی موت کے وقت اس کے والد حیات ہیں البتہ میت کی کوئی بھی اولاد یا اولاد کی اولاد حیات نہیں تو میت کے والد عصبہ میں شمار ہوں گے،یعنی معین حصوں کی ادائیگی کے بعد باقی ساری جائیداد میت کے والد کی ہوجائے گی،
٣ اگر کسی شخص کی موت کے وقت اس کے والد حیات ہیں اور میت کی ایک یا زیادہ بیٹی یا پوتی حیات ہیں البتہ میت کا کوئی ایک بیٹا یا پوتاحیات نہیں تو میت کے والد کو 1/6ملے گا،
نیز میت کے والد عصبہ میں بھی ہوں گے، یعنی معین حصوں کی ادائیگی کے بعد باقی سب میت کے والد کا ہوگا۔
ماں کا حصہ:
۔ 1 اگر کسی شخص کی موت کے وقت اس کی ماں حیات ہیں البتہ میت کی کوئی اولاد نیز میت کا کوئی بھائی بہن حیات نہیں تو میت کی ماں کو 1/3ملے گا
٢ اگر کسی شخص کی موت کے وقت اس کی ماں حیات ہیں اور میت کی اولاد میں سے کوئی ایک یا میت کے2یا 2سے زیادہ بھائی موجود ہیں تو میت کی ماں کو 1/6ملے گا
٣ اگر کسی شخص کی موت کے وقت اس کی ماں حیات ہیں البتہ میت کی کوئی اولاد نیز میت کا کوئی بھائی بہن حیات نہیں لیکن میت کی بیوی حیات ہے تو سب سے پہلے بیوی کو 1/4ملے گا، باقی میں سے میت کی ماں کو 1/3ملے گا۔ حضرت عمر فاروق ؓ نے اسی طرح فیصلہ فرمایا تھا۔
اولاد کے حصہ:
١_ اگر کسی شخص کی موت کے وقت اس کے ایک یا زیادہ بیٹے حیات ہیں لیکن کوئی بیٹی حیات نہیں تو ذوی الفروض میں سے جو شخص (مثلاً میت کے والد یا والدہ یا شوہریابیوی) حیات ہیں ان کے حصے ادا کرنے کے بعد باقی ساری جائیداد بیٹوں میں برابر برابر تقسیم کی جائے گی
٢_اگر کسی شخص کی موت کے وقت اس کے بیٹے اور بیٹیاں حیات ہیں تو ذوی الفروض میں سے جو شخص (مثلاً میت کے والد یا والدہ یا شوہریابیوی) حیات ہیں اُن کے حصے ادا کرنے کے بعد باقی ساری جائیداد بیٹوں اور بیٹیوں میں قرآن کریم کے اصول (لڑکے کا حصہ2 لڑکیوں کے برابر) کی بنیاد پر تقسیم کی جائے گی
٣_ اگر کسی شخص کی موت کے وقت صرف اس کی بیٹیاں حیات ہیں بیٹے حیات نہیں تو ایک بیٹی کی صورت میں اسے 1/2ملے گا اور 2 یا2سے زیادہ بیٹیاں ہونے کی صورت میں انہیں 2/3ملے گا۔ وضاحت : اللہ تعالیٰ نے میراث کا ایک اہم اصول بیان کیا ہے: ’’اللہ تعالیٰ تمہیں تمہاری اولاد کے متعلق حکم کرتا ہے کہ ایک مرد کا حصہ2عورتوں کے برابر ہے۔ ‘‘النساء11 ۔
مذہب اسلام نے مرد پر ساری معاشی ذمہ داریاں عائد کی ہیں چنانچہ بیوی اور بچوں کے مکمل اخراجات عورت کے بجائے مرد کے ذمہ رکھے ہیں حتیٰ کہ عورت کے ذمہ خود اس کا خرچہ بھی نہیں رکھا۔ شادی سے قبل والد اور شادی کے بعد شوہر کے ذمہ عورت کا خرچہ رکھا گیا اس لیے مرد کا حصہ عورت سے دو گنا رکھا گیا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے لڑکیوں کو میراث دلانے کا اس قدر اہتمام کیا ہے کہ لڑکیوں کے حصہ کو اصل قرار دے کر اس کے اعتبار سے لڑکوں کا حصہ بتایاکہ لڑکوں کا حصہ 2 لڑکیوں کے برابر ہے۔ بھائی و بہن کے حصے : میت کے بہن بھائی کو اسی صورت میں میراث ملتی ہے جب کہ میت کے والدین اور اولاد میں سے کوئی بھی حیات نہ ہو۔ عموماً ایسا کم ہوتا ہے اس لیے بھائی بہن کے حصے کا تذکرہ یہاں نہیں کیا۔
Forwarded from فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
ضــــــــروری تـنبیـہ : مــیراث وہ مال ہے جو انسان مرتے وقت چھوڑکر جاتا ہے اور اس میں سارے ورثاء اپنے اپنے حصے کے مطابق حق دار ہوتے ہیں۔ انتقال کے فوراً بعد مرنے والے کی ساری جائیداد ورثاء میں منتقل ہوجاتی ہے لہذا اگر کسی شخص نے میراث قرآن وسنت کے مطابق تــقسیم نہیں کی تو وہ ظلم کرنے والا ہوگا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں تــقسیم میراث کی کوتاہیوں سے بچنے والا بنائے اور تمام وارثوں کو قرآن وسنت کے مطابق میراث تــقسیم کرنے والا بنائے،آمین
نـــوٹ : انسان اپنی زندگی میں اپنے مال وسامان وجائیداد کا خود مالک ہے۔
یہاں میراث کے مسائل کو بطور اختصار بیان کیا گیا ہے تفصیلات علما کرام مفتیان عظام اور ائمہ مساجد سے معلوم کریں
اللہ تعــالــٰی کی بارگاہ میں دعا ہے کہ وہ اس کاوش کو نافع خواص و عوام فرمائے اور تقسیم میراث قرآن و حدیث کے مطابق کرنے کی توفیق خیر عطافرمائے
نــــوٹ : میراث کے مسائل مـندرجہ ذیل کتابوں میں دیکھیں
درمختــار
ردالمحتــار
فتــــاوی عالمگـــــیری
فتـــــاوی رضویـــہ
بہار شـــــــریعت
تفســـیر نعیمی جلد 4
وصیـــت اور میـــراث کے احکام
قـــــانون شــــــریعت
انعـــام شــــریعت
آداب شــــریعت
راہ شــــــریعت
نـــوٹ. کہیـں کوئی غلطی نظر آئے تو علماے کرام اصلاح فرماکر درگزر فرمائیں شـــکــریـــــــہ
https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*از قلم✍🏻 العبـد المــذہب خـبیب القـــادری مدنـاپــوری بریلـی شـریف یوپی بھـارت۔*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
نـــوٹ : انسان اپنی زندگی میں اپنے مال وسامان وجائیداد کا خود مالک ہے۔
یہاں میراث کے مسائل کو بطور اختصار بیان کیا گیا ہے تفصیلات علما کرام مفتیان عظام اور ائمہ مساجد سے معلوم کریں
اللہ تعــالــٰی کی بارگاہ میں دعا ہے کہ وہ اس کاوش کو نافع خواص و عوام فرمائے اور تقسیم میراث قرآن و حدیث کے مطابق کرنے کی توفیق خیر عطافرمائے
نــــوٹ : میراث کے مسائل مـندرجہ ذیل کتابوں میں دیکھیں
درمختــار
ردالمحتــار
فتــــاوی عالمگـــــیری
فتـــــاوی رضویـــہ
بہار شـــــــریعت
تفســـیر نعیمی جلد 4
وصیـــت اور میـــراث کے احکام
قـــــانون شــــــریعت
انعـــام شــــریعت
آداب شــــریعت
راہ شــــــریعت
نـــوٹ. کہیـں کوئی غلطی نظر آئے تو علماے کرام اصلاح فرماکر درگزر فرمائیں شـــکــریـــــــہ
https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*از قلم✍🏻 العبـد المــذہب خـبیب القـــادری مدنـاپــوری بریلـی شـریف یوپی بھـارت۔*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
Telegram
فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
اہلسنت و جماعت مسلک اعلیٰ حضرت کا ترجمان، وسط ہند کی عظیم درسگاہ " دارالعلوم امجدیہ ناگپور مہاراشٹرا" کے نام سے منسوب گروپ
❤1