🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
حضرت ملک العلماء مولانا محمد ظفر الدین بہاری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

پیدائش نام وطن شجرہ :
میجرہ ضلع عظیم آباد پٹنہ کے ساکن، حضرت سید محمد ابراہیم ملک بیوطہاری سے نسلی علاقہ، والد کا نام عبد الرزاق، ۱۴؍محرم ۱۳۰۳ھ پیداہوئے، غلام حیدر تاریخی نام ہوا، جس سے سنہ فصلی کے ۱۲۹۱ھ بر آمد ہوتے ہیں، ابتدائی کتابیں والد ماجد سے پڑھیں،جو فارسی کے دبیر تھے،دس برس کی عمر میں اپنی نانہال موضع بین کے مدرسہ غوثیہ حنفیہ میں داخل ہوکر مولانا معین الدین اشرف،مولانا بدر ا ارین اشرف، مولانا معین الدین ازہر سے درس نظامی کی متوسطات تک تعلیم پائی،

۱۳۲۰؁ھ میں حضرت مولانا قاضی عبد الوحید رئیس لودی کٹرہ کے مدرسہ حنفیہ بخشی محلہ پٹنہ میں حضرت مولانا شاہ وصی احمد محدث سورتی کے درس میں شریک ہوئے، محدث سورتی کے چلے جانے کے بعد ۱۳۲۱ھ میں آپ کانپور پہونچے، اور در العلوم میں اُستاذر من حضرت مولانا شاہ احمد حسن کانپوری سے منطق کی کابیں پڑھیں،اور مولانا احمد حسن کے شاگرد رشید مولانا عبید اللہ سے ہدایہ اخیرین ختم کی،مولانا قاضی عبد الرزاق کانپوری تلمیذ رشید اُستاذ زمن سےبھی علمی استفادہ کیا کچھ دنوں پیلی بھیت میں حضرت محدث سورتی کے درس میں شریک ہوکر حدیث پاک کی سماعت وقرأت کی۔۔۔۔یہاں سے بریلی پہونچے،اس وقت وہاں مولوی غلام یٰسین خام سرائی نے اہل سنت کے روپ میں فاضل بریلوی کی حمایت و تائید سے مصباح التہذیب کے نام سے مدرسہ قائم کر کے درس کا سلسلہ شروع کر رکھا تھا،اس لیے آپ اُن کے درس میں شریک ہوگئے اور اعلیٰ حضرت کی خدمت میں بھی حاضر ہوتے رہے،آپ کےہی ذریعہ سے یہ بات ظاہر ہوئی کہ مولوی یٰسین صاحب در پردہ وہابی ہیں۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ آپ ہی کی کوششوں سے مدرسہ منظر اسلام قائم ہوا جسکی تفصیل یوں ہے،کہ آپ نے حضرت مولانا حسن رضا بریلوی ومولانا حامد رضا خاں کو ہم خیال کر کے حضرت مولانا حکیم سید محمد امیر اللہ شاہ بریلوی کو ان کی سیادت کےپیش نظر منتخب کیا، کہ اعلیٰ حضرت سید ہونےکی وجہ سے ان کی بات نہ ٹالیں گے،۔۔۔۔۔۔حکیم صاحب اعلیٰ حضرت کےپاس پہونچے اور سب کی طرف سے مدرسہ قائم کرنے کی درخواست پیش کی، اعلیٰ حضرت نے اپنی تصنیفی مصروفیات کی بناء پر اتکار فرمایا،تب حکیم صاحب نے کہا،قیامت کے دن اگر پوچھا گیا کہ بریلی میں دیوبندیت کو کس نے فروغ دیا، تو میں آپ کا نام لوں گا،۔ اعلیٰ حضرت نے دریافت فرمایا یہ کیوں؟ حکیم صاحب نے کہا،آپ مدرسہ نہیں قائم کرتے، اس لیے، ۔۔۔۔۔۔ اعلیٰ حضرت نے فرمایا، میں اپنی تصنیفی مصروفیات کی بنا پر چندہ فراہمی اور انتظامی امور گی دیکھ بھال نہیں کر سکتا، حکیم صاحب نےفوراً کہا، ہم لوگ مدرسہ قائم کرتے ہیں، آپ تائید فرمادیں، ۔۔۔رحیم یارخاں کے مکان پر مولانا ظفر الدین صاحب اور مولانا عبد الرشید صاحب عظیم آبادی دو طلبہ سے مدرسہ کا افتتاح ہوا، اور اعلیٰ حضرت نے جاکر بخاری کا سبق شروع کرایا، ‘‘منظر اسلام’’ مدرسہ کا تاریخی نام حضرت مولانا حسن رضابرادر خورد اعلیٰ حضرت نے تجویز فرمایا، اور حضرت حسن رضا ہی مدرسہ کے پہلے مقیم مقرر ہوئے [1] اسی مدرسہ میں مولانا ظفر الدین صاحب نےمولانا حکیم محمد امیر اللہ شاہ بریلوی تلمیذ والد ماجد فاضل بریلوی، ومولانا حامد حسن رام پوری شاگر خاص مولانا شاہ ارشاد حسین رام پوری، ومولانا بشیر احمد علی گڑھی شاگرد مولانا لطف اللہ علی گڑھی سے درسیات کا تکملہ کیا، اور فاضل بریلوی سے بخاری شریف، اقلیدس کےچھ مقالے، تصریح تشریح الافلاک، شرح چغمنی تمام کرکے علم توقیت وجفر ویکسر حاصل کیا، تصوف کی کتاب عوارف المعارف، رسالہ قتبریہ پڑھا، شعبان ۱۳۲۵ھ میں کثیر مجمع علماء میں بروز محواست فاضل بریلوی حضرت مخدوم شاہ حیات احمد قدس سرہٗ سجادہ نشین رودولی شریف نے دستار فضیلت باندھی اور سند مرحمت فرمائی۔

مدرسی کی ابتداء مدرسہ منظر اسلام سےہوئی، ۱۳۲۹ھ تک یہاں درس دیا، اسی سنہ میں شملہ کی جامع مسجد کے خطیب ہوکر گئے پھر مولانا حکیم عبد الوہاب الہ آبادی کے مدرسہ حنفیہ آرہ میں صدر مدرس ہوئے،اس کے بعد جب جامعہ شمس الہدیٰ پٹنہ ۱۹۱۳ھ میں قائم ہوا تو یہ حیثیت مدرس حدیث آپ کا تقرر ہوا،اس کے بعد ررس فقہ وتفسیر ہوئے،مدرس اول کے منصب پر فائز تھے،کہ ۱۹۱۶ھ میں حضرت سید شاہ ملیح الدین احمد سجادہ نشین خانقاہ کبیریہ سہسرام کےمدرسہ میں مدرس اول ہوکر گئے، ۱۳۲۸ھ ۱۹۲۱ء میں جب شمس الہدی گورنمنٹ کے زیر انتظام آیا تو سینیر مدرس ہوکر واپس آئے ۱۳۶۵ھ ۱۹۴۸ء میں جامعہ کےپرنسپل ہوئے،۲۲؍نومبر ۱۹۴۹ھ سے رخصت لے کر آرام کیا، ۱۹۵۰ھ میں پرنسپل کےعہدے سے سبکدوش ہوئے، ۱۳۶۷؁ھ تک خضر منزل شاہ گنج پٹنہ مقیم رہے،حضرت سید شاہ شاہد حسین سجادہ نشین تکیہ حضرت شاہ رکن الدین عشق پٹنہ المتوفی ۱۲۰۳ھ قدس سرہٗ کی استدعاء پر ۲۱؍شوال المکرم ۱۳۲۱؁ھ میں کیٹھہار م یں جامعہ لطیفیہ بحر العلومکا افتتاح کیا،اور صدر مدرس کے عہدہ کو رونق بخشی،۔۔۔۔۔۔۔
1
ربیع الاوّل ۱۳۸۰ھ میں علالت کی وجہ سے ظفر منزل پٹنہ آگئے، ۱۹؍جمادی الاخریٰ ۱۳۸۲ھ مطابق ۱۸؍ نومبر ۱۹۶۲ھ شب دو شنبہ سپیدۂ سحر نمود ہونے سے پہلے ذکر جہر اللہ اللہ کرتے جان جاں آفریں کےسپرد کر کےواصل الی اللہ ہوئے،حضرت شاہ ایوب ابدالی شاہدی رشیدی اسلام پوری نے جنازہ کی نماز پڑھائی،راقم سطور نے ‘‘فاضل بہار’’ تاریخی فقرہ کہا۔

محرم الحرام ۱۳۲۱؁ھ میں اعلیٰ حضرت مولانا شاہ احمد رضا بریلوی سے مرید ہوئےاور بعد فراغت تمام سلاسل میں مجاز مطلق ہوئے،آپ نےدرجنوں کتابیں تالیف وتصنیف کیں،احناف کی مؤید حدیثوں کا مجموعہ چوبیس جزو اور چھ جلدوں میں بنام جامع الرضوی المعروف بصحیح البھادی مشہور و معروف ہے، فاضل بریلوی نے ‘‘ملک العلماء’’ لاخطاب دیا،

علی گڑھ مسلم یونورسٹی کے صدر شعبۂع ربی پروفیسر ڈاکٹر مختار الدین احمد آرزو آپ کی تنہا یادگار اور فرزند ہیں۔
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
[1] ۔ قیام مدرسہ کے یہ واقعات حضرت مفتئ اعظم ہند مدظلہٗ العالی نے راقم مطور کو مکہ معظمہ میں ۱۳۹۰ بہ ماہ ذی الحجہ میں بتائے۔

http://scholar.ziaetaiba.com/ur/biography/hazrat-allama-zafaruddin-bihari-1
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
👍1
ملِکُ العلماء حضرت علامہ محمد ظفر الدین بہاری اور علمِ توقیت:

ولادت:
بارگاہِ اعلیٰ حضرت علیہ رحمۃ ربِّ العزت سے فیض یافتہ، باکمال و باعمل عالمِ دین، ملِکُ العلماء حضرت علامہ محمدظفر الدین بہاری علیہ رحمۃ اللہ  الوَالی  10محرم الحرام 1303 ہجری کو صوبۂ بہار (ہند) ضلع پٹنہ (موجودہ نام نالندہ، ہند) میں پیدا ہوئے۔

آپ کا نام:
ظفرالدین نام اعلیٰ حضرت  علیہ رحمۃ ربِّ العزت  کی بارگاہ سے ملا اور اسی نام سے شہرت پائی۔ (حیاتِ ملک العلماء، ص9)

علمِ توقیت میں مہارت:
کئی علوم و فنون میں مہارت کے ساتھ ساتھ آپ رحمۃ  اللہ  تعالٰی علیہ کوعلمِ توقیت میں بھی مہارتِ تامّہ اور معاصرین میں امتیازی خصوصیت حاصل تھی۔ یہی وجہ ہے کہ اعلیٰ حضرت علیہ رحمۃ ربِّ العزت نے  آپ کے بارے میں فرمایا: (مولانا محمد ظفر الدین قادری) علمائے زمانہ میں علمِ توقیت سے تنہا آگاہ ہیں۔ (ملک العلماء، ص204)

علّامہ محمد ظفرالدین بہاری کی توقیت دانی انہی کی زبانی:
آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں: تقریباً گیارہ سال سے خاکسار (عاجز) برادرانِ دینی کی خدمت اور ان کے روزوں کی درستی و صحت کے لئے ہر سال رمضان شریف کے نقشۂ اوقاتِ صوم و صلاۃ زیچ و توقیت کے قواعدِ خاصہ (خاص قواعد) سے ترتیب دیتا ہے اور مخلصِ قدیم (سچے دوست)  حاجی محمد لعل خاں صاحب مدراسی شائع کرتے ہیں، باقی گیارہ مہینوں میں نمازوں کی اَبْتَری (بد حالی) دیکھ دیکھ کر دل پریشان ہوتا تھا کہ اوقاتِ نماز صحیح طور پر معلوم نہ ہونے کے سبب بعض لوگ تاخیر کو انتہا تک پہنچا دیتے ہیں اور اکثر لوگ جلدی کرتے ہیں کہ قبل از وقت نماز پڑھ لیتے ہیں،خصوصاًعصر وعشاء میں تو قبل از وقت حنفی نماز پڑھنا ہندوستان میں عام طور پر رائج ہوگیا ہے۔

ان ہی ضَرورتوں کے پیشِ نظر میں نے ایک رسالہ مُسَمّٰی بنامِ تاریخی ” بَدْرُ الْاِسْلَامِ لِمِیْقَاتِ کُلِّ الصَّلوٰۃِ وَالصِّیَامِ “ تصنیف کیا۔ (حیاتِ ملک العلماء ص18)

علمِ توقیت پر آپ کی تصانیف:
علمِ توقیت پر آپ کی کُتُب میں اَلْجَواہِرُ وَ الْیَواقِیتُ فِی عِلْمِ التَّوْقِیت،  بَدْرُالْاِسْلَامِ لِمِیْقَاتِ کُلِّ الصَّلوٰۃِ وَالصِّیَامِ، تَوْضِیْحُ الْاَفْلَاک معروف بہ سُلَّمُ السَّمَاءِ، مؤذن الاوقات جیسی قیمتی  اور نادِر تصانیف آپ کی توقیت دانی میں مہارتِ تامّہ کا مُنہ بولتا ثبوت ہیں۔ (ملک العلماء، ص204ملخصاً)

حفیظ الرحمٰن عطاری مدنی،نارتھ ناظم آباد، باب المدینہ کراچی

https://www.dawateislami.net/magazine/ur/faizan-e-jamia-tul-madina/hazrat-allama-muhammad-zafaruddin-bihari
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
👍1
*📚 « مختصــر ســوانح حیــات » 📚*
-----------------------------------------------------------
*🕯ملک العلماء حضرت مولانا محمد ظفر الدین بہاری رضوی رحمۃ اللّٰه علیہ🕯*


*نام و نسب:*
*نام:* محمد ظفر الدین بن عبد الرزاق۔
*کنیت:* ابوالبرکات۔
*لقب:* ملک العلما۔
آپکے مورثِ اعلیٰ سید ابراہیم بن سید ابو بکر غزنوی ملقب بہ مدار الملک ہیں۔ ان کا نسب ساتویں پشت میں حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ تک پہنچتا ہے۔

*تاریخِ ولادت:* آپ رسول پور میجرا ضلع پٹنہ (اب ضلع نالندہ) صوبہ بہار میں ۱۰؍ محرم الحرام ۱۳۰۳ھ؍مطابق ۱۹؍اکتوبر ۱۸۸۰ء کو صبح صادق کے وقت پیدا ہوئے۔

*تحصیلِ علم:* چار سال کی عمر میں رسم بسم اللہ حضرت شاہ چاند صاحب کے مبارک ہاتھوں سے انجام پائی۔ ابتدائی تعلیم والد ماجد سے حاصل کی، ابتدائی فارسی کتب حافظ مخدوم اشرف، مولانا کبیر الدین اور مولانا عبداللطیف سے پڑھیں۔ پھر مدرسہ "حنفیہ " میں مولانا شاہ وصی احمد محدث سورتی سے مسند امام اعظم، مشکوٰۃ شریف اور ملا جلال پڑھی۔ پھر منڈی کان پور میں مولانا قاضی عبدالرزاق اور مولانا احمد حسن کانپوری اور مولانا شاہ عبید اللہ پنجابی کانپوری سے تعلیم حاصل کی ۔اس کے بعد خوب سے خوب تر کی تلاش انھیں بریلی شریف لے گئی۔ بریلی میں مولانا حکیم محمد امیر اللہ شاہ بریلوی، مولانا حامد حسن رام پوری، مولانا سید بشیر احمد علی گڑھی اور اعلیٰ حضرت امام اہل سنّت مولانا احمد رضا خان فاضل بریلوی علیہم الرحمہ سے علومِ نقلیہ وعقلیہ کی تکمیل ہوئی۔

*بیعت و خلافت:* محرم الحرام ۱۳۲۱ھ میں اعلیٰ حضرت سے مرید ہوئے اور تمام سلاسل میں اجازتِ عام عطا فرمائی ۔

*سیرت و خصائص:* اعلیٰ حضرت امامِ اہلِ سنت نے خلیفہ تاج الدین احمد ،ناظم انجمن نعمانیہ لاہور کو اپنی رحلت سے بارہ سال پہلے ۵؍شعبان المکرّم ۱۳۲۸ھ کو آپکی ذات کے بارے میں ایک مکتوب تحریر کیا تھا: اس مکتوب شریف سے بطورِ تبرک وہی الفاظ نقل کرتا ہوں!
"مولانا مولوی محمد ظفر الدین صاحب قادری سلمہ فقیر کے یہاں کے اعز طلبہ سے ہیں اور میرے بجان عزیز۔ ابتدائی کتب کے بعد یہیں تحصیل علوم کی اور اب کئی سال سے میرے مدرسہ میں مدرس اور اس کے علاوہ کار افتا میں میرے معین ہیں۔ میں یہ نہیں کہتا کہ جتنی درخواستیں آئی ہوں سب سے یہ زائد ہیں مگر اتنا ضرور کہوں گا: سنی خالص مخلص نہایت صحیح العقیدہ ہادی مہدی ہیں۔ عام درسیات میں بفضلہٖ تعالیٰ عاجز نہیں، مفتی ہیں، مصنف ہیں، واعظ ہیں، مناظرہ بعونہ تعالیٰ کر سکتے ہیں۔ علمائے زمانہ میں علم توقیت سے تنہا آگاہ ہیں۔

امام ابن حجر مکی نے زواجر میں اس علم کو فرض کفایہ لکھا ہے اور اب ہند بلکہ عام بلاد میں یہ علم علما، بلکہ عام مسلمین سے اٹھ گیا۔ فقیر نے بتوفیق قدیر اس کا احیاء کیا اور سات صاحب بنانا چاہے جن میں بعض نے انتقال کیا، اکثر اس کی صعوبت سے چھوڑ کر بیٹھے۔ انھوں نے بقدر کفایت اخذ کیا اور اب میرے یہاں کے اوقات طلوع و غروب و نصف النہار ہر روز و تاریخ کے لیے اور جملہ اوقات ماہ مبارک رمضان شریف کے بھی بناتے ہیں۔ فقیر آپ کے مدرسے کو اپنے نفس پر ایثار کر کے انھیں آپ کے لیے پیش کرتا ہے۔"

*وصال:* شب دو شنبہ ۱۹؍جمادی الثانی ۱۳۸۲ھ؍ ۱۸؍نومبر ۱۹۶۲ء کو ذکرِ جہر کرتے ہوئے واصل بحق ہوئے۔

میرے ظفر کو اپنی ظفر دے
اس سے شکستیں کھاتے یہ ہیں
https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp

*المرتب محـمد یـوسـف رضـا رضـوی امجـدی نائب مدیر "فیضـانِ دارالعـلوم امجـدیہ ناگپور گروپ" 9604397443*
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
👍1