تصانیف
ملک العلما کی تالیفات و تصنیفات کی تعدادستر سے زائد ہے۔ تصانیف کا سلسلہ ۱۳۲۲ھ سے شروع ہوکر تقریباً ان کی رحلت ۱۳۸۲ھ یعنی پچاس پچپن سال تک جاری رہا۔ کچھ کتابیں عربی زبان میں ہیں، لیکن زیادہ تر افادہ عام کی خاطر اردو میں لکھی گئی ہیں۔ یہ متعدد فنون اور موضوعات حدیث، اصول حدیث، فقہ، اصول فقہ، تاریخ، سیرت، فضائل، مناقب، اخلاق، نصائح، صرف، نحو، منطق، فلسلفہ، کلام، ہئیت، توقیت، تکسیر اور مناظرہ پر مشتمل ہیں۔ کچھ اب تک غیر مطبوعہ ہیں، اور کچھ زیور طباعت سے آراستہ ہوکر شائع ہوچکی ہیں:۔
حیات اعلیٰ حضرت سوانح
شرح کتاب الشفا۔۔۔ سیرت
مولود رضوی۔۔۔ سیرت
تنویر السراج۔۔۔ سیرت
التعلیق علی القدوری۔۔۔ فقہ
تحفۃ الاحباب۔۔۔ فقہ
نافع البشر فی فتاویٰ ظفر۔۔۔ فقہ
اعلام المساجد۔۔۔ فقہ
بسط الراحۃ فی الحظروالاباحۃ۔۔۔ فقہ
الفیض الرضوی۔۔۔ فقہ
نہایت المنتہی۔۔۔ فقہ
مواھب ارواح القدس۔۔۔ فقہ
نصرۃ الاصحاب۔۔۔ فقہ
عید کا چاند۔۔۔ فقہ
تنویر المصباح۔۔۔ فقہ
جامع الاقوال۔۔۔ فقہ
اصلاح الایضاح۔۔۔ فقہ
مجموعہ فتاویٰ۔۔۔ فقہ
تسہیل الوصول۔۔۔ اصول فقہ
جامع الرضوی۔۔۔ حدیث
نزول السکینۃ۔۔۔ حدیث
الافاداۃ الرضویۃ۔۔۔ اصول الحدیث
التعلیق علی شروح المغنی۔۔۔ نحو
وافیہ۔۔۔ نحو
القصر المبنی علی بناء المغنی۔۔۔ نحو
نظم المبانی۔۔۔ نحو
عافیہ۔۔۔ صرف
تذھیب۔۔۔ فلسفہ
انوار اللامعۃ من الشمس البازغۃ۔۔۔ فلسفہ
توضیح الافلاک۔۔۔ ھیئت
مشرقی اور سمت قبلہ۔۔۔ ھیئت
مشرقی کا غلط مسلک۔۔۔۔ ھیئت
الفرائض التامہ۔۔۔ کلام
تقریب۔۔۔ منطق
خیر السلوک فی نسب الملوک۔۔۔ تاریخ
اعلام الاعلام۔۔۔ تاریخ
المجمل المعددلتالیف المجدد۔۔۔ تاریخ
جواھر البیان۔۔۔ تاریخ
مبین الہدی۔۔۔ فصائل
تحفۃ المضمافی فضل العلما۔۔۔ فضائل
تحفۃ الاحبار۔۔۔ مناقب
النور والضیاء۔۔۔ مناقب
ھادی الہراۃ لترک الموالات۔۔۔ سیاست
الحسام المسلول۔۔۔ مناظرہ
نجم الکنزہ۔۔۔ مناظرہ
النبراس۔۔۔ مناظرہ
رفع الخلاف من بین الاحناف۔۔۔ مناظرہ
کشف الستور۔۔۔ مناظرہ
گنجینۂ مناظرہ۔۔۔ مناظرہ
ظفر الدین الجیر۔۔۔ مناظرہ
شکست سفاہت۔۔۔
ملک العلما کی تالیفات و تصنیفات کی تعدادستر سے زائد ہے۔ تصانیف کا سلسلہ ۱۳۲۲ھ سے شروع ہوکر تقریباً ان کی رحلت ۱۳۸۲ھ یعنی پچاس پچپن سال تک جاری رہا۔ کچھ کتابیں عربی زبان میں ہیں، لیکن زیادہ تر افادہ عام کی خاطر اردو میں لکھی گئی ہیں۔ یہ متعدد فنون اور موضوعات حدیث، اصول حدیث، فقہ، اصول فقہ، تاریخ، سیرت، فضائل، مناقب، اخلاق، نصائح، صرف، نحو، منطق، فلسلفہ، کلام، ہئیت، توقیت، تکسیر اور مناظرہ پر مشتمل ہیں۔ کچھ اب تک غیر مطبوعہ ہیں، اور کچھ زیور طباعت سے آراستہ ہوکر شائع ہوچکی ہیں:۔
حیات اعلیٰ حضرت سوانح
شرح کتاب الشفا۔۔۔ سیرت
مولود رضوی۔۔۔ سیرت
تنویر السراج۔۔۔ سیرت
التعلیق علی القدوری۔۔۔ فقہ
تحفۃ الاحباب۔۔۔ فقہ
نافع البشر فی فتاویٰ ظفر۔۔۔ فقہ
اعلام المساجد۔۔۔ فقہ
بسط الراحۃ فی الحظروالاباحۃ۔۔۔ فقہ
الفیض الرضوی۔۔۔ فقہ
نہایت المنتہی۔۔۔ فقہ
مواھب ارواح القدس۔۔۔ فقہ
نصرۃ الاصحاب۔۔۔ فقہ
عید کا چاند۔۔۔ فقہ
تنویر المصباح۔۔۔ فقہ
جامع الاقوال۔۔۔ فقہ
اصلاح الایضاح۔۔۔ فقہ
مجموعہ فتاویٰ۔۔۔ فقہ
تسہیل الوصول۔۔۔ اصول فقہ
جامع الرضوی۔۔۔ حدیث
نزول السکینۃ۔۔۔ حدیث
الافاداۃ الرضویۃ۔۔۔ اصول الحدیث
التعلیق علی شروح المغنی۔۔۔ نحو
وافیہ۔۔۔ نحو
القصر المبنی علی بناء المغنی۔۔۔ نحو
نظم المبانی۔۔۔ نحو
عافیہ۔۔۔ صرف
تذھیب۔۔۔ فلسفہ
انوار اللامعۃ من الشمس البازغۃ۔۔۔ فلسفہ
توضیح الافلاک۔۔۔ ھیئت
مشرقی اور سمت قبلہ۔۔۔ ھیئت
مشرقی کا غلط مسلک۔۔۔۔ ھیئت
الفرائض التامہ۔۔۔ کلام
تقریب۔۔۔ منطق
خیر السلوک فی نسب الملوک۔۔۔ تاریخ
اعلام الاعلام۔۔۔ تاریخ
المجمل المعددلتالیف المجدد۔۔۔ تاریخ
جواھر البیان۔۔۔ تاریخ
مبین الہدی۔۔۔ فصائل
تحفۃ المضمافی فضل العلما۔۔۔ فضائل
تحفۃ الاحبار۔۔۔ مناقب
النور والضیاء۔۔۔ مناقب
ھادی الہراۃ لترک الموالات۔۔۔ سیاست
الحسام المسلول۔۔۔ مناظرہ
نجم الکنزہ۔۔۔ مناظرہ
النبراس۔۔۔ مناظرہ
رفع الخلاف من بین الاحناف۔۔۔ مناظرہ
کشف الستور۔۔۔ مناظرہ
گنجینۂ مناظرہ۔۔۔ مناظرہ
ظفر الدین الجیر۔۔۔ مناظرہ
شکست سفاہت۔۔۔
❤1
مناظرہ
ظفر الدین الطیب۔۔۔ مناظرہ
ندوۃ العلما۔۔۔ مناظرہ
سرور القلب المحزون۔۔۔ اخلاص
دلچسپ مکالمہ۔۔۔ نصائح
الاکسیر۔۔۔ تکسیر
اطیب الاکسیر۔۔۔ تکسیر
الجواھر والیواقیت۔۔۔ توقیت
موذن الاوقات۔۔۔ توقیت
وغیرہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[1]۔ یہ خانقاہ معظم بہار شریف میں مخدوم جہاں کے سجادہ نشیں ‘‘جناب حضور’’ امین احمد علیہ الرحمۃ کے مرید خاص اور پٹنہ میں منعقدہ اہل سنت کی اس عظیم کانفرنس کے بانی تھے جس میں اعلیٰ حضرت کو ‘‘مجدد’’ کا خطاب دیا گیا تھا۔ اس وقت تک اعلیٰ حضرت کی جملہ تصانیف کا تقریبا ًنصف حصہ انھوں نے ہی طبع کرایا تھا۔ انھیں کی تحریک پر اعلیٰ حضرت نے المعقد المنتقد کا حاشیہ بنام المعتمر المستند تحریر فرمایا۔ جس میں پہلی بار دیوبندیوں کے سر غنہ مولوی اشرف علی تھانوی کی تکفیر کی۔ اعلیٰ حضرت نے ان کی نماز جنازہ بھی پڑھائی، اور ان کو قبر میں بھی اتارا۔
[2]۔ اس عبارت سے تبادر ذہنی یہ ہوتا ہے کہ وہ منظر اسلام سے براہ راست مدرسہ حنفیہ آرا پہنچے۔ حالانکہ براہ راست منظر اسلام سے آرا نہیں آئے بلکہ بریلی سے شملہ پھر شملہ سے آرا آئے۔
[3]۔ کئی سال نہیں، صرف ایک سال مدرسہ حنفیہ آرا میں رہے۔ کیوں کہ ۲۹ھ کو وہ شملہ گئے اور وہاں سے آرا آئے پھر سن ۳۰ھ کے اواخر میں مدرسہ شمس الہدیٰ پٹنہ آگئے۔
[4]۔۳۴ھ میں سہسرام گئے اور ۳۸ھ میں پھر پٹنہ آگئے، تو درمیانی مدت چارسال ہوتی ہے۔
[5]۔ ۱۳۳۸ھ مطابق ۱۹۲۰ء ہوتا ہے ۱۹۲۱ء نہیں۔ فقیر رضوی غفرلہ۔
[6]۔ شوال ۱۳۷۱ھ سے ربیع الاول ۱۳۸۰ھ تک کی درمیانی مدت ۲؍سال نہیں بلکہ ۹؍سال کچھ مہینے ہوتی ہے۔
متعلقہ
تجویزوآراء
مفصل تلاش
شخصیات
تذکرہ نگار
کتاب حوالہ
تلاش کریں
شخصیات (177)
تذکرہ نگار (30)
حضرت مولانا ظہیر الدین خلوتی(1)
حضرت بہاء الدین زکریا ملتانی(1)
حضرت شیخ نظام الدین خالدی معروف بہ شیخ نظام الدین اولیاء(1)
حضرت شیخ سیف الدین عبدالوہاب(1)
حضرت شیخ بقا بن بطور(1)
حضرت محمد الاوانی معروف بابن القاید (1)
شیخ ابو مدین مغربی (1)
حضرت ابوالحسن مغربی شناذلی(1)
حضرت امام عبد اللہ الیافعی الیمنی(1)
حضرت سیدۃ النساء فاطمۃ الزہراء(1)
حضرت مولانا ہدایت اللہ رامپوری (1)
حضرت علامہ مفتی احمد یار خان نعیمی(1)
حضرت ہارون علیہ السلام(1)
امیر المومنین حضرت علی المرتضی شیر خدا(1)
حضرت شاہ شرف الدین بو علی قلندر (3)
برہان الموحدین حضرت سید شاہ آل محمدمارہروی(1)
حضرت شیخ محمد بن اسماعیل بخاری المشہور امام بخاری(1)
حضرت سیخ عبد القدوس گنگوہی(3)
حضرت پیر جماعت علی شاہ علی پوری(3)
سیدنا اویس قرنی ابنِ عامر(1)
حضرت عبد اللہ بن عباس بن عبد المطلب(1)
سید الخلفاء حضرت مفتی سید عبدالفتاح گلشن آبادی(1)
سراج الملۃ مؤید الدین الرضی خواجہ محمد باقی(3)
حضرت مولانا ڈاکٹر فضل الرحمٰن انصاری(2)
محدث عالم حضرت شیخ محمد بن علی حصکفی(1)
حضرت علامہ مولانا مفتی محمد عبداللہ بلوچ نعیمی ش(1)
حضرت خواجہ امام علی شاہ(1)
حضرت خواجہ حذیفہ مرعشی(5)
اہل سنت حضرت مولانا علامہ محمد نور بخش توکلی قدس سرہ(2)
شہید غزوہ احد حضرت سیدنا خارجہ بن زید بن ابو زھیر الانصاری(1)
قطب مکۃ المکرمہ شیخ الد لائل محمد عبدالحق الہٰ آبادی(1)
مجاہد ملت حضرت مولانا عبدالحامد بدایونی(2)
حجۃ السلام حضرت حامد رضا خان بریلوی(2)
مفتی اعظم پاکستان علامہ ابوالبرکات سید احمد قادری (1)
مُحِبُّ النبی حضرت شاہ فخر الدین دہلوی(3)
حضرت علامہ محمد ابراہیم رضا خاں(2)
حضرت شاہ نیاز احمد بریلوی(1)
حضرت علامہ مولانا عبد الحق خیر آبادی(2)
حضرت مولانا شاہ محمد عبدالسلام جبل پوری(2)
حضرت شیخ محب اللہ اکبر آبادی(1)
مفتی اعظم آگرہ علامہ عبد الحفیظ حقانی(1)
حضرت علامہ مفتی فضل الرحمن قادری مدنی(1)
حضرت امام ابو جعفر طحاوی(1)
حضرت شیخ احمد عبدالحق رودلی (1)
حضرت خواجہ عبدالرحمن سر ہندی(1)
حضرت سیدنا لوط علیہ السلام (1)
مناظر اسلام مولانا محمد عمر اچھروی(1)
حضرت خواجہ ابراہیم بن ادھم (1)
ملک المدرسین امام المناطقہ حضرت علامہ مولانا عطاء محمد بندیالوی(1)
حضرت امام محمد بن حسن شیبانی(1)
سراج الفقہاء حضرت مولانا سراج احمد خانپوری(0)
حضرت امام موسی کاظم(1)
سراج الفقہاء حضرت مولانا سراج احمد خانپوری(1)
حضرت خواجہ قطب الدین مودود چشتی(3)
حضرت امام ابو یوسف(1)
شیخ الاسلام امام ابو الحسن دارقطنی (1)
امام العارفین حضرت خواجہ اللہ بخش(1)
حضرت خواجہ معین الدین چ
ظفر الدین الطیب۔۔۔ مناظرہ
ندوۃ العلما۔۔۔ مناظرہ
سرور القلب المحزون۔۔۔ اخلاص
دلچسپ مکالمہ۔۔۔ نصائح
الاکسیر۔۔۔ تکسیر
اطیب الاکسیر۔۔۔ تکسیر
الجواھر والیواقیت۔۔۔ توقیت
موذن الاوقات۔۔۔ توقیت
وغیرہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[1]۔ یہ خانقاہ معظم بہار شریف میں مخدوم جہاں کے سجادہ نشیں ‘‘جناب حضور’’ امین احمد علیہ الرحمۃ کے مرید خاص اور پٹنہ میں منعقدہ اہل سنت کی اس عظیم کانفرنس کے بانی تھے جس میں اعلیٰ حضرت کو ‘‘مجدد’’ کا خطاب دیا گیا تھا۔ اس وقت تک اعلیٰ حضرت کی جملہ تصانیف کا تقریبا ًنصف حصہ انھوں نے ہی طبع کرایا تھا۔ انھیں کی تحریک پر اعلیٰ حضرت نے المعقد المنتقد کا حاشیہ بنام المعتمر المستند تحریر فرمایا۔ جس میں پہلی بار دیوبندیوں کے سر غنہ مولوی اشرف علی تھانوی کی تکفیر کی۔ اعلیٰ حضرت نے ان کی نماز جنازہ بھی پڑھائی، اور ان کو قبر میں بھی اتارا۔
[2]۔ اس عبارت سے تبادر ذہنی یہ ہوتا ہے کہ وہ منظر اسلام سے براہ راست مدرسہ حنفیہ آرا پہنچے۔ حالانکہ براہ راست منظر اسلام سے آرا نہیں آئے بلکہ بریلی سے شملہ پھر شملہ سے آرا آئے۔
[3]۔ کئی سال نہیں، صرف ایک سال مدرسہ حنفیہ آرا میں رہے۔ کیوں کہ ۲۹ھ کو وہ شملہ گئے اور وہاں سے آرا آئے پھر سن ۳۰ھ کے اواخر میں مدرسہ شمس الہدیٰ پٹنہ آگئے۔
[4]۔۳۴ھ میں سہسرام گئے اور ۳۸ھ میں پھر پٹنہ آگئے، تو درمیانی مدت چارسال ہوتی ہے۔
[5]۔ ۱۳۳۸ھ مطابق ۱۹۲۰ء ہوتا ہے ۱۹۲۱ء نہیں۔ فقیر رضوی غفرلہ۔
[6]۔ شوال ۱۳۷۱ھ سے ربیع الاول ۱۳۸۰ھ تک کی درمیانی مدت ۲؍سال نہیں بلکہ ۹؍سال کچھ مہینے ہوتی ہے۔
متعلقہ
تجویزوآراء
مفصل تلاش
شخصیات
تذکرہ نگار
کتاب حوالہ
تلاش کریں
شخصیات (177)
تذکرہ نگار (30)
حضرت مولانا ظہیر الدین خلوتی(1)
حضرت بہاء الدین زکریا ملتانی(1)
حضرت شیخ نظام الدین خالدی معروف بہ شیخ نظام الدین اولیاء(1)
حضرت شیخ سیف الدین عبدالوہاب(1)
حضرت شیخ بقا بن بطور(1)
حضرت محمد الاوانی معروف بابن القاید (1)
شیخ ابو مدین مغربی (1)
حضرت ابوالحسن مغربی شناذلی(1)
حضرت امام عبد اللہ الیافعی الیمنی(1)
حضرت سیدۃ النساء فاطمۃ الزہراء(1)
حضرت مولانا ہدایت اللہ رامپوری (1)
حضرت علامہ مفتی احمد یار خان نعیمی(1)
حضرت ہارون علیہ السلام(1)
امیر المومنین حضرت علی المرتضی شیر خدا(1)
حضرت شاہ شرف الدین بو علی قلندر (3)
برہان الموحدین حضرت سید شاہ آل محمدمارہروی(1)
حضرت شیخ محمد بن اسماعیل بخاری المشہور امام بخاری(1)
حضرت سیخ عبد القدوس گنگوہی(3)
حضرت پیر جماعت علی شاہ علی پوری(3)
سیدنا اویس قرنی ابنِ عامر(1)
حضرت عبد اللہ بن عباس بن عبد المطلب(1)
سید الخلفاء حضرت مفتی سید عبدالفتاح گلشن آبادی(1)
سراج الملۃ مؤید الدین الرضی خواجہ محمد باقی(3)
حضرت مولانا ڈاکٹر فضل الرحمٰن انصاری(2)
محدث عالم حضرت شیخ محمد بن علی حصکفی(1)
حضرت علامہ مولانا مفتی محمد عبداللہ بلوچ نعیمی ش(1)
حضرت خواجہ امام علی شاہ(1)
حضرت خواجہ حذیفہ مرعشی(5)
اہل سنت حضرت مولانا علامہ محمد نور بخش توکلی قدس سرہ(2)
شہید غزوہ احد حضرت سیدنا خارجہ بن زید بن ابو زھیر الانصاری(1)
قطب مکۃ المکرمہ شیخ الد لائل محمد عبدالحق الہٰ آبادی(1)
مجاہد ملت حضرت مولانا عبدالحامد بدایونی(2)
حجۃ السلام حضرت حامد رضا خان بریلوی(2)
مفتی اعظم پاکستان علامہ ابوالبرکات سید احمد قادری (1)
مُحِبُّ النبی حضرت شاہ فخر الدین دہلوی(3)
حضرت علامہ محمد ابراہیم رضا خاں(2)
حضرت شاہ نیاز احمد بریلوی(1)
حضرت علامہ مولانا عبد الحق خیر آبادی(2)
حضرت مولانا شاہ محمد عبدالسلام جبل پوری(2)
حضرت شیخ محب اللہ اکبر آبادی(1)
مفتی اعظم آگرہ علامہ عبد الحفیظ حقانی(1)
حضرت علامہ مفتی فضل الرحمن قادری مدنی(1)
حضرت امام ابو جعفر طحاوی(1)
حضرت شیخ احمد عبدالحق رودلی (1)
حضرت خواجہ عبدالرحمن سر ہندی(1)
حضرت سیدنا لوط علیہ السلام (1)
مناظر اسلام مولانا محمد عمر اچھروی(1)
حضرت خواجہ ابراہیم بن ادھم (1)
ملک المدرسین امام المناطقہ حضرت علامہ مولانا عطاء محمد بندیالوی(1)
حضرت امام محمد بن حسن شیبانی(1)
سراج الفقہاء حضرت مولانا سراج احمد خانپوری(0)
حضرت امام موسی کاظم(1)
سراج الفقہاء حضرت مولانا سراج احمد خانپوری(1)
حضرت خواجہ قطب الدین مودود چشتی(3)
حضرت امام ابو یوسف(1)
شیخ الاسلام امام ابو الحسن دارقطنی (1)
امام العارفین حضرت خواجہ اللہ بخش(1)
حضرت خواجہ معین الدین چ
❤1
شتی(2)
حضرت مولانا غلام جیلانی میڑٹھی(2)
حضرت مولانا مفتی تقدس علی خان رضوی(1)
حضرت سید شاہ میر گیلانی (2)
حضرت سید نظام الدین قادری بھکاری(1)
حضرت شیخ عثمان زندہ پیر صابری (2)
شیخ الاسلام مخدوم محمد ہاشم ٹھٹوی(2)
حضرت خواجہ فیض محمد شاہ جمالی (2)
شیخ جمالی دہلوی سہروردی (1)
حضرت شیخ نظام الدین اورنگ آبادی(1)
حضرت مولانا شاہ ابو الحسین احمد نوری مارہروی(1)
ابوالفضل حضرت علامہ مفتی عبدالرحیم سکندری(1)
حضرت مولانا شاہ علی حسین اشرفی کچھوچھوی(1)
حضرت میرسید فضل اللہ کالپوی (1)
سلطان العارفین حضرت سلطان باہو سروری قادری(2)
حضرت علامہ سید شاہد علی نورانی(1)
حضرت مولانا سیدشاہ ظہورالحق پھلواری (1)
حضرت مولانا ابوالعباس عبدالعلی محمد بحرالعلوم لکھنوی (1)
حافظ قاری ممتاز احمد رحمانی (1)
شیخ الاسلام حضرت خواجہ سید حافظ محمد علی شاہ خیرآبادی (1)
مفتی محمد یوسف فرنگی محلی (1)
حضرت شاہ محمد اسلم خیرآبادی (1)
مولانا حافظ شاہ محمد مسعود احمد چشتی صابری دہلوی(1)
قدوۃ العارفین حضرت علامہ مولانا غلام محی الدین قصوری دائم الحضوری(1)
حضرت مرزا مظہر جانِ جاناں(1)
سیف اللہ المسلول معین الحق شاہ فضلِ رسول قادری بدایونی(3)
حضرت قاضی عبد السلام بدایونی(1)
حضرت سیدنا امام جعفر صادق (6)
تاج العلماءحضرت علامہ مفتی محمد عمر نعیمی مراد آبادی (2)
حضرت سید ابو اسحاق ابراہیم بن غوث الاعظم (1)
حضرت خواجہ علی رامتینی(1)
بیہقیِ وقت مفتی منظور احمد فیضی(0)
حضرت بابا یوسف شاہ تاجی(0)
قطبِ مدینہ شیخ العربِ والعجم حضرت علامہ شیخ ضیاءالدین احمد مدنی (1)
حضرت شیخ رکن الدین ابو الفتح (2)
حضرت عیسیٰ بن مالک عادل الخطیبی(1)
حضرت شیخ عبد الرحمن بن قاضی القضاۃ شمس الدین(1)
حضرت علامہ مولانا مفتی جلال الدین احمد امجدی(1)
حضرت شیخ صدر الدین عارف(1)
حضرت مولانا مفتی عبد الحفیظ حقانی (1)
حضرت خواجہ ابو یوسف ہمدانی(2)
حضرت خواجہ علاء الدین عطار (2)
حضرت ابو محمد عبداللہ مغربی تیونسی(1)
مہرِ طریقت حضرت شاہ غلام محی الدّین(3)
حضرت مفتی سید محمد افضل حسین رضوی(2)
حضرت علامہ مولانا گل محمد صدیق(1)
حضرت اخون ملا درویزہ چشتی(1)
حضرت سید محمد نعیم الدین مرادآبادی(1)
امام المحدثین حافظ ابنِ حجر عسقلانی (1)
حضرت مخدوم سیداشرف جہانگیرسمنانی (1)
استاذ العلماءحضرت علامہ مفتی سید مسعودعلی قادری (1)
حضرت شیخ صدرالدین عارف سہروردی (1)
حضرت مولانا شریف الحق امجدی(0)
محقق دوراں حضرت مولانا محمد جلال الدین قادری رضوی(1)
مفتی اعظم ہند حضرت علامہ مولانا محمد مصطفی رضا خان بریلوی نوری(1)
خواجہ معین الدین نقشبندی (1)
سیدنا حاتم اصم بلخی (1)
حضرت مولانا جلال الدین اودھی(1)
حضرت مولانا سید آل مصطفیٰ مارہروری مدظلہٗ (3)
محدث اعظم پاکستان حضرت مولانا محمد سردار احمدقادری (3)
مولائے روم محمد جلال الدین رومی(2)
حضرت سید غلام حیدر علی شاہ(1)
امام المجاہدین شیخ الاسلام والمسلمین حضرت مولانا اخوند عبد الغفور صاحب سواتی قادری (2)
حضرت علامہ قاری مصلح الدین رضوی صدیقی(2)
حضرت علامہ عبد الاحد محدث پیلی بھیتی (1)
Hazrat Allama Mufti Dur Muhammad Sikandari(1)
ام المؤمنین سیدہ ام حبیبہ(3)
ابو سفیان صخر بن حرب(1)
حضرت ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ(5)
سلطان العارفین حضرت بایزید بسطامی(2)
حضرت مولانا الحاج حافظ عبدالعزیز مبارک پوری(2)
حضرت غزالیٔ دوراں علامہ سید احمد سعید کاظمی، ملتان(1)
افضل البشر حضرت سیدنا ابوبکر صدیق(4)
حضرت قائد اہلِ سنّت علامہ شاہ احمد نورانی صدیقی(1)
حضرت علامہ مولانا جمیل احمد نعیمی(1)
حضرت مقرر جادوبیاں مولانا خدا بخش اظہر(1)
حضرت استاذ العلماء مفتی محمد خلیل خان برکاتی(2)
مبلّغ اعظم مولانا خورشید احمد، ظاہر پیر(1)
حضرت مخدوم اہل سنت مولانا سید زاہد علی قادری(1)
حضرت مولانا عبدالحق غور غشتوی(1)
حضرت سید شاہ تراب الحق قادری نوری(1)
حضرت فاضل یگانہ علامہ عبدالمصطفےٰ الازہری(0)
حضرت پیر مہر علی شاہ(1)
حضرت مولانا خواجہ قمر الدین سیالوی(0)
حضرت لعل شہباز قلندر(2)
حضر ت شیخ الحدیث مولانا مفتی محمد محمود الوری حیدر آباد(1)
ذو النون مصری علیہ الرحمۃ(1)
حضرت فضیل بن عیاض(0)
شیخ امدا داللہ تھانوی مہاجر مکی(2)
حضرت ابوسلیمان دارانی(1)
حضرت فتح بن علی موصلی (1)
حضرت بشر بن الحارث بن عبد الرحمن حافی (1)
حضرت حارث بن اسد المحاسبی(0)
حضرت مولانا ظفر الدین بہاری(2)
حضرت ابو حفص حداد (0)
حضرت شخ حمدون قصار(0)
حضرت خواجہ ابو احمدابدال چشتی(1)
حضرت ابو اسمٰعیل عبد اللہ بن ابی منصور محمد انصاری ہروی(1)
حضرت ابو علی فضل فارمدی طوسی(1)
حضرت امام احمد غزالی(0)
حضرت خواجہ عبد الخالق غجدوانی(1)
خواجہ عارف ریو گری (1)
حضرت خواجہ محمود الخیرفغنوی (1)
حضرت خواجہ ابو نصر پارسا (0)
حضرت مولانا یعقوب چرخی (1)
حضرت شیخ حافظ محمد صدیق قادری(1)
حضرت حافظ سید عبداللہ بلگر امی (2)
حضرت مولانا سید عبدالجلیل بلگرامی(0
حضرت مولانا غلام جیلانی میڑٹھی(2)
حضرت مولانا مفتی تقدس علی خان رضوی(1)
حضرت سید شاہ میر گیلانی (2)
حضرت سید نظام الدین قادری بھکاری(1)
حضرت شیخ عثمان زندہ پیر صابری (2)
شیخ الاسلام مخدوم محمد ہاشم ٹھٹوی(2)
حضرت خواجہ فیض محمد شاہ جمالی (2)
شیخ جمالی دہلوی سہروردی (1)
حضرت شیخ نظام الدین اورنگ آبادی(1)
حضرت مولانا شاہ ابو الحسین احمد نوری مارہروی(1)
ابوالفضل حضرت علامہ مفتی عبدالرحیم سکندری(1)
حضرت مولانا شاہ علی حسین اشرفی کچھوچھوی(1)
حضرت میرسید فضل اللہ کالپوی (1)
سلطان العارفین حضرت سلطان باہو سروری قادری(2)
حضرت علامہ سید شاہد علی نورانی(1)
حضرت مولانا سیدشاہ ظہورالحق پھلواری (1)
حضرت مولانا ابوالعباس عبدالعلی محمد بحرالعلوم لکھنوی (1)
حافظ قاری ممتاز احمد رحمانی (1)
شیخ الاسلام حضرت خواجہ سید حافظ محمد علی شاہ خیرآبادی (1)
مفتی محمد یوسف فرنگی محلی (1)
حضرت شاہ محمد اسلم خیرآبادی (1)
مولانا حافظ شاہ محمد مسعود احمد چشتی صابری دہلوی(1)
قدوۃ العارفین حضرت علامہ مولانا غلام محی الدین قصوری دائم الحضوری(1)
حضرت مرزا مظہر جانِ جاناں(1)
سیف اللہ المسلول معین الحق شاہ فضلِ رسول قادری بدایونی(3)
حضرت قاضی عبد السلام بدایونی(1)
حضرت سیدنا امام جعفر صادق (6)
تاج العلماءحضرت علامہ مفتی محمد عمر نعیمی مراد آبادی (2)
حضرت سید ابو اسحاق ابراہیم بن غوث الاعظم (1)
حضرت خواجہ علی رامتینی(1)
بیہقیِ وقت مفتی منظور احمد فیضی(0)
حضرت بابا یوسف شاہ تاجی(0)
قطبِ مدینہ شیخ العربِ والعجم حضرت علامہ شیخ ضیاءالدین احمد مدنی (1)
حضرت شیخ رکن الدین ابو الفتح (2)
حضرت عیسیٰ بن مالک عادل الخطیبی(1)
حضرت شیخ عبد الرحمن بن قاضی القضاۃ شمس الدین(1)
حضرت علامہ مولانا مفتی جلال الدین احمد امجدی(1)
حضرت شیخ صدر الدین عارف(1)
حضرت مولانا مفتی عبد الحفیظ حقانی (1)
حضرت خواجہ ابو یوسف ہمدانی(2)
حضرت خواجہ علاء الدین عطار (2)
حضرت ابو محمد عبداللہ مغربی تیونسی(1)
مہرِ طریقت حضرت شاہ غلام محی الدّین(3)
حضرت مفتی سید محمد افضل حسین رضوی(2)
حضرت علامہ مولانا گل محمد صدیق(1)
حضرت اخون ملا درویزہ چشتی(1)
حضرت سید محمد نعیم الدین مرادآبادی(1)
امام المحدثین حافظ ابنِ حجر عسقلانی (1)
حضرت مخدوم سیداشرف جہانگیرسمنانی (1)
استاذ العلماءحضرت علامہ مفتی سید مسعودعلی قادری (1)
حضرت شیخ صدرالدین عارف سہروردی (1)
حضرت مولانا شریف الحق امجدی(0)
محقق دوراں حضرت مولانا محمد جلال الدین قادری رضوی(1)
مفتی اعظم ہند حضرت علامہ مولانا محمد مصطفی رضا خان بریلوی نوری(1)
خواجہ معین الدین نقشبندی (1)
سیدنا حاتم اصم بلخی (1)
حضرت مولانا جلال الدین اودھی(1)
حضرت مولانا سید آل مصطفیٰ مارہروری مدظلہٗ (3)
محدث اعظم پاکستان حضرت مولانا محمد سردار احمدقادری (3)
مولائے روم محمد جلال الدین رومی(2)
حضرت سید غلام حیدر علی شاہ(1)
امام المجاہدین شیخ الاسلام والمسلمین حضرت مولانا اخوند عبد الغفور صاحب سواتی قادری (2)
حضرت علامہ قاری مصلح الدین رضوی صدیقی(2)
حضرت علامہ عبد الاحد محدث پیلی بھیتی (1)
Hazrat Allama Mufti Dur Muhammad Sikandari(1)
ام المؤمنین سیدہ ام حبیبہ(3)
ابو سفیان صخر بن حرب(1)
حضرت ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ(5)
سلطان العارفین حضرت بایزید بسطامی(2)
حضرت مولانا الحاج حافظ عبدالعزیز مبارک پوری(2)
حضرت غزالیٔ دوراں علامہ سید احمد سعید کاظمی، ملتان(1)
افضل البشر حضرت سیدنا ابوبکر صدیق(4)
حضرت قائد اہلِ سنّت علامہ شاہ احمد نورانی صدیقی(1)
حضرت علامہ مولانا جمیل احمد نعیمی(1)
حضرت مقرر جادوبیاں مولانا خدا بخش اظہر(1)
حضرت استاذ العلماء مفتی محمد خلیل خان برکاتی(2)
مبلّغ اعظم مولانا خورشید احمد، ظاہر پیر(1)
حضرت مخدوم اہل سنت مولانا سید زاہد علی قادری(1)
حضرت مولانا عبدالحق غور غشتوی(1)
حضرت سید شاہ تراب الحق قادری نوری(1)
حضرت فاضل یگانہ علامہ عبدالمصطفےٰ الازہری(0)
حضرت پیر مہر علی شاہ(1)
حضرت مولانا خواجہ قمر الدین سیالوی(0)
حضرت لعل شہباز قلندر(2)
حضر ت شیخ الحدیث مولانا مفتی محمد محمود الوری حیدر آباد(1)
ذو النون مصری علیہ الرحمۃ(1)
حضرت فضیل بن عیاض(0)
شیخ امدا داللہ تھانوی مہاجر مکی(2)
حضرت ابوسلیمان دارانی(1)
حضرت فتح بن علی موصلی (1)
حضرت بشر بن الحارث بن عبد الرحمن حافی (1)
حضرت حارث بن اسد المحاسبی(0)
حضرت مولانا ظفر الدین بہاری(2)
حضرت ابو حفص حداد (0)
حضرت شخ حمدون قصار(0)
حضرت خواجہ ابو احمدابدال چشتی(1)
حضرت ابو اسمٰعیل عبد اللہ بن ابی منصور محمد انصاری ہروی(1)
حضرت ابو علی فضل فارمدی طوسی(1)
حضرت امام احمد غزالی(0)
حضرت خواجہ عبد الخالق غجدوانی(1)
خواجہ عارف ریو گری (1)
حضرت خواجہ محمود الخیرفغنوی (1)
حضرت خواجہ ابو نصر پارسا (0)
حضرت مولانا یعقوب چرخی (1)
حضرت شیخ حافظ محمد صدیق قادری(1)
حضرت حافظ سید عبداللہ بلگر امی (2)
حضرت مولانا سید عبدالجلیل بلگرامی(0
❤1👍1
)
حضرت شیخ نور الدین عبدالرحمٰن اسفرانی سرقی(1)
حضرت ابو المکارم رکن الدین علاؤو الدولہ(1)
سیدالانبیاء سیدنا محّمدِ مصطفےٰ(1)
حضرت مولانا شمس الدین محمدﷺ بن علی بن ملک داؤد التبریزی(1)
حضرت شہاب الدین سہروردی(1)
حضرت نجم الدین کبریٰ(3)
بیہقیِ وقت مفتی منظور احمد فیضی (3)
ملا نظام الدین سہالوی بانیِ درسِ نظامی(2)
حضرت امام سری سقطی(2)
حضرت شیخ سید احمد کبیر رفاعی(2)
حضرت خواجہ غلام حسن پیر سواگ(1)
حضرت ام المؤمنین سیدہ حفصہ(2)
کتاب حوالہ (30)
حدائق الاصفیاء(1)
شریف التواریخ (2)
محدثینِ عُظام حیات و خدمات(1)
تذکرہِ اکابر اہلسنت(7)
(انوارِ علماءِ اہلنست سندھ)(4)
تذکرہِ عُلماءِ اہلسُنّت (7)
قومی زبان کراچی(0)
تذکرۃ الانبیاء(1)
اقتباس الانوار(4)
مناقبِ سلطانی(1)
تذکرہِ اولیاء پاک و ہند(2)
نور نور چہرے(2)
(بہقی وقت محمد منظور احمد فیضی ،انجمن ضیاء طیبہ)(2)
تاریخ مشائخِ نقشبندیہ(4)
مقامِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم(1)
مشائخِ نقشبندیہ(3)
اخبیار الاخیار(1)
تذکرہِ علمائے ہند(2)
سیر الاولیاء(1)
خاندانی برکات(1)
مقدمہ مثنوی مولائے روم (1)
ماہنامہ اشرفیہ(1)
اسد الغابۃ جلد بمبر ۱۰۔۱۱(2)
تعارفِ علماء اہلسنت(11)
الاصابۃ فی تمیز الصحابۃ(0)
نفحاتُ الاُنس(31)
انسائکلوپیڈیا اولیاء کرام(1)
خزینۃ الاصفیاء(11)
مسلمانوں کا دینی و عصری نظام تعلیم(1)
متفرق(3)
خصوصی
پسندیدہ
حضرت سید غریب اللہ چشتی صابری رحمۃ اللہ علیہ
حضرت شیخ سید محمد کالپی شریف
سید محمد المہدی السنوسی ؓ
حضرت معین الدین ابو نصر
حیات تاج الشریعہ ماہ وسال کے آئینہ میں
http://scholar.ziaetaiba.com/ur/biography/hazrat-allama-zafaruddin-bihari-2
Copyright © All Rights Reserved by Zia-e-Taiba | Designed & developed by PK SOL
http://scholar.ziaetaiba.com/ur/biography/hazrat-allama-zafaruddin-bihari-2#:~:text=28,by%20PK%20SOL
حضرت شیخ نور الدین عبدالرحمٰن اسفرانی سرقی(1)
حضرت ابو المکارم رکن الدین علاؤو الدولہ(1)
سیدالانبیاء سیدنا محّمدِ مصطفےٰ(1)
حضرت مولانا شمس الدین محمدﷺ بن علی بن ملک داؤد التبریزی(1)
حضرت شہاب الدین سہروردی(1)
حضرت نجم الدین کبریٰ(3)
بیہقیِ وقت مفتی منظور احمد فیضی (3)
ملا نظام الدین سہالوی بانیِ درسِ نظامی(2)
حضرت امام سری سقطی(2)
حضرت شیخ سید احمد کبیر رفاعی(2)
حضرت خواجہ غلام حسن پیر سواگ(1)
حضرت ام المؤمنین سیدہ حفصہ(2)
کتاب حوالہ (30)
حدائق الاصفیاء(1)
شریف التواریخ (2)
محدثینِ عُظام حیات و خدمات(1)
تذکرہِ اکابر اہلسنت(7)
(انوارِ علماءِ اہلنست سندھ)(4)
تذکرہِ عُلماءِ اہلسُنّت (7)
قومی زبان کراچی(0)
تذکرۃ الانبیاء(1)
اقتباس الانوار(4)
مناقبِ سلطانی(1)
تذکرہِ اولیاء پاک و ہند(2)
نور نور چہرے(2)
(بہقی وقت محمد منظور احمد فیضی ،انجمن ضیاء طیبہ)(2)
تاریخ مشائخِ نقشبندیہ(4)
مقامِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم(1)
مشائخِ نقشبندیہ(3)
اخبیار الاخیار(1)
تذکرہِ علمائے ہند(2)
سیر الاولیاء(1)
خاندانی برکات(1)
مقدمہ مثنوی مولائے روم (1)
ماہنامہ اشرفیہ(1)
اسد الغابۃ جلد بمبر ۱۰۔۱۱(2)
تعارفِ علماء اہلسنت(11)
الاصابۃ فی تمیز الصحابۃ(0)
نفحاتُ الاُنس(31)
انسائکلوپیڈیا اولیاء کرام(1)
خزینۃ الاصفیاء(11)
مسلمانوں کا دینی و عصری نظام تعلیم(1)
متفرق(3)
خصوصی
پسندیدہ
حضرت سید غریب اللہ چشتی صابری رحمۃ اللہ علیہ
حضرت شیخ سید محمد کالپی شریف
سید محمد المہدی السنوسی ؓ
حضرت معین الدین ابو نصر
حیات تاج الشریعہ ماہ وسال کے آئینہ میں
http://scholar.ziaetaiba.com/ur/biography/hazrat-allama-zafaruddin-bihari-2
Copyright © All Rights Reserved by Zia-e-Taiba | Designed & developed by PK SOL
http://scholar.ziaetaiba.com/ur/biography/hazrat-allama-zafaruddin-bihari-2#:~:text=28,by%20PK%20SOL
❤1
حضرت ملک العلماء مولانا محمد ظفر الدین بہاری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
پیدائش نام وطن شجرہ :
میجرہ ضلع عظیم آباد پٹنہ کے ساکن، حضرت سید محمد ابراہیم ملک بیوطہاری سے نسلی علاقہ، والد کا نام عبد الرزاق، ۱۴؍محرم ۱۳۰۳ھ پیداہوئے، غلام حیدر تاریخی نام ہوا، جس سے سنہ فصلی کے ۱۲۹۱ھ بر آمد ہوتے ہیں، ابتدائی کتابیں والد ماجد سے پڑھیں،جو فارسی کے دبیر تھے،دس برس کی عمر میں اپنی نانہال موضع بین کے مدرسہ غوثیہ حنفیہ میں داخل ہوکر مولانا معین الدین اشرف،مولانا بدر ا ارین اشرف، مولانا معین الدین ازہر سے درس نظامی کی متوسطات تک تعلیم پائی،
۱۳۲۰ھ میں حضرت مولانا قاضی عبد الوحید رئیس لودی کٹرہ کے مدرسہ حنفیہ بخشی محلہ پٹنہ میں حضرت مولانا شاہ وصی احمد محدث سورتی کے درس میں شریک ہوئے، محدث سورتی کے چلے جانے کے بعد ۱۳۲۱ھ میں آپ کانپور پہونچے، اور در العلوم میں اُستاذر من حضرت مولانا شاہ احمد حسن کانپوری سے منطق کی کابیں پڑھیں،اور مولانا احمد حسن کے شاگرد رشید مولانا عبید اللہ سے ہدایہ اخیرین ختم کی،مولانا قاضی عبد الرزاق کانپوری تلمیذ رشید اُستاذ زمن سےبھی علمی استفادہ کیا کچھ دنوں پیلی بھیت میں حضرت محدث سورتی کے درس میں شریک ہوکر حدیث پاک کی سماعت وقرأت کی۔۔۔۔یہاں سے بریلی پہونچے،اس وقت وہاں مولوی غلام یٰسین خام سرائی نے اہل سنت کے روپ میں فاضل بریلوی کی حمایت و تائید سے مصباح التہذیب کے نام سے مدرسہ قائم کر کے درس کا سلسلہ شروع کر رکھا تھا،اس لیے آپ اُن کے درس میں شریک ہوگئے اور اعلیٰ حضرت کی خدمت میں بھی حاضر ہوتے رہے،آپ کےہی ذریعہ سے یہ بات ظاہر ہوئی کہ مولوی یٰسین صاحب در پردہ وہابی ہیں۔
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ آپ ہی کی کوششوں سے مدرسہ منظر اسلام قائم ہوا جسکی تفصیل یوں ہے،کہ آپ نے حضرت مولانا حسن رضا بریلوی ومولانا حامد رضا خاں کو ہم خیال کر کے حضرت مولانا حکیم سید محمد امیر اللہ شاہ بریلوی کو ان کی سیادت کےپیش نظر منتخب کیا، کہ اعلیٰ حضرت سید ہونےکی وجہ سے ان کی بات نہ ٹالیں گے،۔۔۔۔۔۔حکیم صاحب اعلیٰ حضرت کےپاس پہونچے اور سب کی طرف سے مدرسہ قائم کرنے کی درخواست پیش کی، اعلیٰ حضرت نے اپنی تصنیفی مصروفیات کی بناء پر اتکار فرمایا،تب حکیم صاحب نے کہا،قیامت کے دن اگر پوچھا گیا کہ بریلی میں دیوبندیت کو کس نے فروغ دیا، تو میں آپ کا نام لوں گا،۔ اعلیٰ حضرت نے دریافت فرمایا یہ کیوں؟ حکیم صاحب نے کہا،آپ مدرسہ نہیں قائم کرتے، اس لیے، ۔۔۔۔۔۔ اعلیٰ حضرت نے فرمایا، میں اپنی تصنیفی مصروفیات کی بنا پر چندہ فراہمی اور انتظامی امور گی دیکھ بھال نہیں کر سکتا، حکیم صاحب نےفوراً کہا، ہم لوگ مدرسہ قائم کرتے ہیں، آپ تائید فرمادیں، ۔۔۔رحیم یارخاں کے مکان پر مولانا ظفر الدین صاحب اور مولانا عبد الرشید صاحب عظیم آبادی دو طلبہ سے مدرسہ کا افتتاح ہوا، اور اعلیٰ حضرت نے جاکر بخاری کا سبق شروع کرایا، ‘‘منظر اسلام’’ مدرسہ کا تاریخی نام حضرت مولانا حسن رضابرادر خورد اعلیٰ حضرت نے تجویز فرمایا، اور حضرت حسن رضا ہی مدرسہ کے پہلے مقیم مقرر ہوئے [1] اسی مدرسہ میں مولانا ظفر الدین صاحب نےمولانا حکیم محمد امیر اللہ شاہ بریلوی تلمیذ والد ماجد فاضل بریلوی، ومولانا حامد حسن رام پوری شاگر خاص مولانا شاہ ارشاد حسین رام پوری، ومولانا بشیر احمد علی گڑھی شاگرد مولانا لطف اللہ علی گڑھی سے درسیات کا تکملہ کیا، اور فاضل بریلوی سے بخاری شریف، اقلیدس کےچھ مقالے، تصریح تشریح الافلاک، شرح چغمنی تمام کرکے علم توقیت وجفر ویکسر حاصل کیا، تصوف کی کتاب عوارف المعارف، رسالہ قتبریہ پڑھا، شعبان ۱۳۲۵ھ میں کثیر مجمع علماء میں بروز محواست فاضل بریلوی حضرت مخدوم شاہ حیات احمد قدس سرہٗ سجادہ نشین رودولی شریف نے دستار فضیلت باندھی اور سند مرحمت فرمائی۔
مدرسی کی ابتداء مدرسہ منظر اسلام سےہوئی، ۱۳۲۹ھ تک یہاں درس دیا، اسی سنہ میں شملہ کی جامع مسجد کے خطیب ہوکر گئے پھر مولانا حکیم عبد الوہاب الہ آبادی کے مدرسہ حنفیہ آرہ میں صدر مدرس ہوئے،اس کے بعد جب جامعہ شمس الہدیٰ پٹنہ ۱۹۱۳ھ میں قائم ہوا تو یہ حیثیت مدرس حدیث آپ کا تقرر ہوا،اس کے بعد ررس فقہ وتفسیر ہوئے،مدرس اول کے منصب پر فائز تھے،کہ ۱۹۱۶ھ میں حضرت سید شاہ ملیح الدین احمد سجادہ نشین خانقاہ کبیریہ سہسرام کےمدرسہ میں مدرس اول ہوکر گئے، ۱۳۲۸ھ ۱۹۲۱ء میں جب شمس الہدی گورنمنٹ کے زیر انتظام آیا تو سینیر مدرس ہوکر واپس آئے ۱۳۶۵ھ ۱۹۴۸ء میں جامعہ کےپرنسپل ہوئے،۲۲؍نومبر ۱۹۴۹ھ سے رخصت لے کر آرام کیا، ۱۹۵۰ھ میں پرنسپل کےعہدے سے سبکدوش ہوئے، ۱۳۶۷ھ تک خضر منزل شاہ گنج پٹنہ مقیم رہے،حضرت سید شاہ شاہد حسین سجادہ نشین تکیہ حضرت شاہ رکن الدین عشق پٹنہ المتوفی ۱۲۰۳ھ قدس سرہٗ کی استدعاء پر ۲۱؍شوال المکرم ۱۳۲۱ھ میں کیٹھہار م یں جامعہ لطیفیہ بحر العلومکا افتتاح کیا،اور صدر مدرس کے عہدہ کو رونق بخشی،۔۔۔۔۔۔۔
پیدائش نام وطن شجرہ :
میجرہ ضلع عظیم آباد پٹنہ کے ساکن، حضرت سید محمد ابراہیم ملک بیوطہاری سے نسلی علاقہ، والد کا نام عبد الرزاق، ۱۴؍محرم ۱۳۰۳ھ پیداہوئے، غلام حیدر تاریخی نام ہوا، جس سے سنہ فصلی کے ۱۲۹۱ھ بر آمد ہوتے ہیں، ابتدائی کتابیں والد ماجد سے پڑھیں،جو فارسی کے دبیر تھے،دس برس کی عمر میں اپنی نانہال موضع بین کے مدرسہ غوثیہ حنفیہ میں داخل ہوکر مولانا معین الدین اشرف،مولانا بدر ا ارین اشرف، مولانا معین الدین ازہر سے درس نظامی کی متوسطات تک تعلیم پائی،
۱۳۲۰ھ میں حضرت مولانا قاضی عبد الوحید رئیس لودی کٹرہ کے مدرسہ حنفیہ بخشی محلہ پٹنہ میں حضرت مولانا شاہ وصی احمد محدث سورتی کے درس میں شریک ہوئے، محدث سورتی کے چلے جانے کے بعد ۱۳۲۱ھ میں آپ کانپور پہونچے، اور در العلوم میں اُستاذر من حضرت مولانا شاہ احمد حسن کانپوری سے منطق کی کابیں پڑھیں،اور مولانا احمد حسن کے شاگرد رشید مولانا عبید اللہ سے ہدایہ اخیرین ختم کی،مولانا قاضی عبد الرزاق کانپوری تلمیذ رشید اُستاذ زمن سےبھی علمی استفادہ کیا کچھ دنوں پیلی بھیت میں حضرت محدث سورتی کے درس میں شریک ہوکر حدیث پاک کی سماعت وقرأت کی۔۔۔۔یہاں سے بریلی پہونچے،اس وقت وہاں مولوی غلام یٰسین خام سرائی نے اہل سنت کے روپ میں فاضل بریلوی کی حمایت و تائید سے مصباح التہذیب کے نام سے مدرسہ قائم کر کے درس کا سلسلہ شروع کر رکھا تھا،اس لیے آپ اُن کے درس میں شریک ہوگئے اور اعلیٰ حضرت کی خدمت میں بھی حاضر ہوتے رہے،آپ کےہی ذریعہ سے یہ بات ظاہر ہوئی کہ مولوی یٰسین صاحب در پردہ وہابی ہیں۔
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ آپ ہی کی کوششوں سے مدرسہ منظر اسلام قائم ہوا جسکی تفصیل یوں ہے،کہ آپ نے حضرت مولانا حسن رضا بریلوی ومولانا حامد رضا خاں کو ہم خیال کر کے حضرت مولانا حکیم سید محمد امیر اللہ شاہ بریلوی کو ان کی سیادت کےپیش نظر منتخب کیا، کہ اعلیٰ حضرت سید ہونےکی وجہ سے ان کی بات نہ ٹالیں گے،۔۔۔۔۔۔حکیم صاحب اعلیٰ حضرت کےپاس پہونچے اور سب کی طرف سے مدرسہ قائم کرنے کی درخواست پیش کی، اعلیٰ حضرت نے اپنی تصنیفی مصروفیات کی بناء پر اتکار فرمایا،تب حکیم صاحب نے کہا،قیامت کے دن اگر پوچھا گیا کہ بریلی میں دیوبندیت کو کس نے فروغ دیا، تو میں آپ کا نام لوں گا،۔ اعلیٰ حضرت نے دریافت فرمایا یہ کیوں؟ حکیم صاحب نے کہا،آپ مدرسہ نہیں قائم کرتے، اس لیے، ۔۔۔۔۔۔ اعلیٰ حضرت نے فرمایا، میں اپنی تصنیفی مصروفیات کی بنا پر چندہ فراہمی اور انتظامی امور گی دیکھ بھال نہیں کر سکتا، حکیم صاحب نےفوراً کہا، ہم لوگ مدرسہ قائم کرتے ہیں، آپ تائید فرمادیں، ۔۔۔رحیم یارخاں کے مکان پر مولانا ظفر الدین صاحب اور مولانا عبد الرشید صاحب عظیم آبادی دو طلبہ سے مدرسہ کا افتتاح ہوا، اور اعلیٰ حضرت نے جاکر بخاری کا سبق شروع کرایا، ‘‘منظر اسلام’’ مدرسہ کا تاریخی نام حضرت مولانا حسن رضابرادر خورد اعلیٰ حضرت نے تجویز فرمایا، اور حضرت حسن رضا ہی مدرسہ کے پہلے مقیم مقرر ہوئے [1] اسی مدرسہ میں مولانا ظفر الدین صاحب نےمولانا حکیم محمد امیر اللہ شاہ بریلوی تلمیذ والد ماجد فاضل بریلوی، ومولانا حامد حسن رام پوری شاگر خاص مولانا شاہ ارشاد حسین رام پوری، ومولانا بشیر احمد علی گڑھی شاگرد مولانا لطف اللہ علی گڑھی سے درسیات کا تکملہ کیا، اور فاضل بریلوی سے بخاری شریف، اقلیدس کےچھ مقالے، تصریح تشریح الافلاک، شرح چغمنی تمام کرکے علم توقیت وجفر ویکسر حاصل کیا، تصوف کی کتاب عوارف المعارف، رسالہ قتبریہ پڑھا، شعبان ۱۳۲۵ھ میں کثیر مجمع علماء میں بروز محواست فاضل بریلوی حضرت مخدوم شاہ حیات احمد قدس سرہٗ سجادہ نشین رودولی شریف نے دستار فضیلت باندھی اور سند مرحمت فرمائی۔
مدرسی کی ابتداء مدرسہ منظر اسلام سےہوئی، ۱۳۲۹ھ تک یہاں درس دیا، اسی سنہ میں شملہ کی جامع مسجد کے خطیب ہوکر گئے پھر مولانا حکیم عبد الوہاب الہ آبادی کے مدرسہ حنفیہ آرہ میں صدر مدرس ہوئے،اس کے بعد جب جامعہ شمس الہدیٰ پٹنہ ۱۹۱۳ھ میں قائم ہوا تو یہ حیثیت مدرس حدیث آپ کا تقرر ہوا،اس کے بعد ررس فقہ وتفسیر ہوئے،مدرس اول کے منصب پر فائز تھے،کہ ۱۹۱۶ھ میں حضرت سید شاہ ملیح الدین احمد سجادہ نشین خانقاہ کبیریہ سہسرام کےمدرسہ میں مدرس اول ہوکر گئے، ۱۳۲۸ھ ۱۹۲۱ء میں جب شمس الہدی گورنمنٹ کے زیر انتظام آیا تو سینیر مدرس ہوکر واپس آئے ۱۳۶۵ھ ۱۹۴۸ء میں جامعہ کےپرنسپل ہوئے،۲۲؍نومبر ۱۹۴۹ھ سے رخصت لے کر آرام کیا، ۱۹۵۰ھ میں پرنسپل کےعہدے سے سبکدوش ہوئے، ۱۳۶۷ھ تک خضر منزل شاہ گنج پٹنہ مقیم رہے،حضرت سید شاہ شاہد حسین سجادہ نشین تکیہ حضرت شاہ رکن الدین عشق پٹنہ المتوفی ۱۲۰۳ھ قدس سرہٗ کی استدعاء پر ۲۱؍شوال المکرم ۱۳۲۱ھ میں کیٹھہار م یں جامعہ لطیفیہ بحر العلومکا افتتاح کیا،اور صدر مدرس کے عہدہ کو رونق بخشی،۔۔۔۔۔۔۔
❤1
ربیع الاوّل ۱۳۸۰ھ میں علالت کی وجہ سے ظفر منزل پٹنہ آگئے، ۱۹؍جمادی الاخریٰ ۱۳۸۲ھ مطابق ۱۸؍ نومبر ۱۹۶۲ھ شب دو شنبہ سپیدۂ سحر نمود ہونے سے پہلے ذکر جہر اللہ اللہ کرتے جان جاں آفریں کےسپرد کر کےواصل الی اللہ ہوئے،حضرت شاہ ایوب ابدالی شاہدی رشیدی اسلام پوری نے جنازہ کی نماز پڑھائی،راقم سطور نے ‘‘فاضل بہار’’ تاریخی فقرہ کہا۔
محرم الحرام ۱۳۲۱ھ میں اعلیٰ حضرت مولانا شاہ احمد رضا بریلوی سے مرید ہوئےاور بعد فراغت تمام سلاسل میں مجاز مطلق ہوئے،آپ نےدرجنوں کتابیں تالیف وتصنیف کیں،احناف کی مؤید حدیثوں کا مجموعہ چوبیس جزو اور چھ جلدوں میں بنام جامع الرضوی المعروف بصحیح البھادی مشہور و معروف ہے، فاضل بریلوی نے ‘‘ملک العلماء’’ لاخطاب دیا،
علی گڑھ مسلم یونورسٹی کے صدر شعبۂع ربی پروفیسر ڈاکٹر مختار الدین احمد آرزو آپ کی تنہا یادگار اور فرزند ہیں۔
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
[1] ۔ قیام مدرسہ کے یہ واقعات حضرت مفتئ اعظم ہند مدظلہٗ العالی نے راقم مطور کو مکہ معظمہ میں ۱۳۹۰ بہ ماہ ذی الحجہ میں بتائے۔
http://scholar.ziaetaiba.com/ur/biography/hazrat-allama-zafaruddin-bihari-1
محرم الحرام ۱۳۲۱ھ میں اعلیٰ حضرت مولانا شاہ احمد رضا بریلوی سے مرید ہوئےاور بعد فراغت تمام سلاسل میں مجاز مطلق ہوئے،آپ نےدرجنوں کتابیں تالیف وتصنیف کیں،احناف کی مؤید حدیثوں کا مجموعہ چوبیس جزو اور چھ جلدوں میں بنام جامع الرضوی المعروف بصحیح البھادی مشہور و معروف ہے، فاضل بریلوی نے ‘‘ملک العلماء’’ لاخطاب دیا،
علی گڑھ مسلم یونورسٹی کے صدر شعبۂع ربی پروفیسر ڈاکٹر مختار الدین احمد آرزو آپ کی تنہا یادگار اور فرزند ہیں۔
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
[1] ۔ قیام مدرسہ کے یہ واقعات حضرت مفتئ اعظم ہند مدظلہٗ العالی نے راقم مطور کو مکہ معظمہ میں ۱۳۹۰ بہ ماہ ذی الحجہ میں بتائے۔
http://scholar.ziaetaiba.com/ur/biography/hazrat-allama-zafaruddin-bihari-1
❤1
ملِکُ العلماء حضرت علامہ محمد ظفر الدین بہاری اور علمِ توقیت:
ولادت:
بارگاہِ اعلیٰ حضرت علیہ رحمۃ ربِّ العزت سے فیض یافتہ، باکمال و باعمل عالمِ دین، ملِکُ العلماء حضرت علامہ محمدظفر الدین بہاری علیہ رحمۃ اللہ الوَالی 10محرم الحرام 1303 ہجری کو صوبۂ بہار (ہند) ضلع پٹنہ (موجودہ نام نالندہ، ہند) میں پیدا ہوئے۔
آپ کا نام:
ظفرالدین نام اعلیٰ حضرت علیہ رحمۃ ربِّ العزت کی بارگاہ سے ملا اور اسی نام سے شہرت پائی۔ (حیاتِ ملک العلماء، ص9)
علمِ توقیت میں مہارت:
کئی علوم و فنون میں مہارت کے ساتھ ساتھ آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کوعلمِ توقیت میں بھی مہارتِ تامّہ اور معاصرین میں امتیازی خصوصیت حاصل تھی۔ یہی وجہ ہے کہ اعلیٰ حضرت علیہ رحمۃ ربِّ العزت نے آپ کے بارے میں فرمایا: (مولانا محمد ظفر الدین قادری) علمائے زمانہ میں علمِ توقیت سے تنہا آگاہ ہیں۔ (ملک العلماء، ص204)
علّامہ محمد ظفرالدین بہاری کی توقیت دانی انہی کی زبانی:
آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں: تقریباً گیارہ سال سے خاکسار (عاجز) برادرانِ دینی کی خدمت اور ان کے روزوں کی درستی و صحت کے لئے ہر سال رمضان شریف کے نقشۂ اوقاتِ صوم و صلاۃ زیچ و توقیت کے قواعدِ خاصہ (خاص قواعد) سے ترتیب دیتا ہے اور مخلصِ قدیم (سچے دوست) حاجی محمد لعل خاں صاحب مدراسی شائع کرتے ہیں، باقی گیارہ مہینوں میں نمازوں کی اَبْتَری (بد حالی) دیکھ دیکھ کر دل پریشان ہوتا تھا کہ اوقاتِ نماز صحیح طور پر معلوم نہ ہونے کے سبب بعض لوگ تاخیر کو انتہا تک پہنچا دیتے ہیں اور اکثر لوگ جلدی کرتے ہیں کہ قبل از وقت نماز پڑھ لیتے ہیں،خصوصاًعصر وعشاء میں تو قبل از وقت حنفی نماز پڑھنا ہندوستان میں عام طور پر رائج ہوگیا ہے۔
ان ہی ضَرورتوں کے پیشِ نظر میں نے ایک رسالہ مُسَمّٰی بنامِ تاریخی ” بَدْرُ الْاِسْلَامِ لِمِیْقَاتِ کُلِّ الصَّلوٰۃِ وَالصِّیَامِ “ تصنیف کیا۔ (حیاتِ ملک العلماء ص18)
علمِ توقیت پر آپ کی تصانیف:
علمِ توقیت پر آپ کی کُتُب میں اَلْجَواہِرُ وَ الْیَواقِیتُ فِی عِلْمِ التَّوْقِیت، بَدْرُالْاِسْلَامِ لِمِیْقَاتِ کُلِّ الصَّلوٰۃِ وَالصِّیَامِ، تَوْضِیْحُ الْاَفْلَاک معروف بہ سُلَّمُ السَّمَاءِ، مؤذن الاوقات جیسی قیمتی اور نادِر تصانیف آپ کی توقیت دانی میں مہارتِ تامّہ کا مُنہ بولتا ثبوت ہیں۔ (ملک العلماء، ص204ملخصاً)
حفیظ الرحمٰن عطاری مدنی،نارتھ ناظم آباد، باب المدینہ کراچی
https://www.dawateislami.net/magazine/ur/faizan-e-jamia-tul-madina/hazrat-allama-muhammad-zafaruddin-bihari
ولادت:
بارگاہِ اعلیٰ حضرت علیہ رحمۃ ربِّ العزت سے فیض یافتہ، باکمال و باعمل عالمِ دین، ملِکُ العلماء حضرت علامہ محمدظفر الدین بہاری علیہ رحمۃ اللہ الوَالی 10محرم الحرام 1303 ہجری کو صوبۂ بہار (ہند) ضلع پٹنہ (موجودہ نام نالندہ، ہند) میں پیدا ہوئے۔
آپ کا نام:
ظفرالدین نام اعلیٰ حضرت علیہ رحمۃ ربِّ العزت کی بارگاہ سے ملا اور اسی نام سے شہرت پائی۔ (حیاتِ ملک العلماء، ص9)
علمِ توقیت میں مہارت:
کئی علوم و فنون میں مہارت کے ساتھ ساتھ آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کوعلمِ توقیت میں بھی مہارتِ تامّہ اور معاصرین میں امتیازی خصوصیت حاصل تھی۔ یہی وجہ ہے کہ اعلیٰ حضرت علیہ رحمۃ ربِّ العزت نے آپ کے بارے میں فرمایا: (مولانا محمد ظفر الدین قادری) علمائے زمانہ میں علمِ توقیت سے تنہا آگاہ ہیں۔ (ملک العلماء، ص204)
علّامہ محمد ظفرالدین بہاری کی توقیت دانی انہی کی زبانی:
آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں: تقریباً گیارہ سال سے خاکسار (عاجز) برادرانِ دینی کی خدمت اور ان کے روزوں کی درستی و صحت کے لئے ہر سال رمضان شریف کے نقشۂ اوقاتِ صوم و صلاۃ زیچ و توقیت کے قواعدِ خاصہ (خاص قواعد) سے ترتیب دیتا ہے اور مخلصِ قدیم (سچے دوست) حاجی محمد لعل خاں صاحب مدراسی شائع کرتے ہیں، باقی گیارہ مہینوں میں نمازوں کی اَبْتَری (بد حالی) دیکھ دیکھ کر دل پریشان ہوتا تھا کہ اوقاتِ نماز صحیح طور پر معلوم نہ ہونے کے سبب بعض لوگ تاخیر کو انتہا تک پہنچا دیتے ہیں اور اکثر لوگ جلدی کرتے ہیں کہ قبل از وقت نماز پڑھ لیتے ہیں،خصوصاًعصر وعشاء میں تو قبل از وقت حنفی نماز پڑھنا ہندوستان میں عام طور پر رائج ہوگیا ہے۔
ان ہی ضَرورتوں کے پیشِ نظر میں نے ایک رسالہ مُسَمّٰی بنامِ تاریخی ” بَدْرُ الْاِسْلَامِ لِمِیْقَاتِ کُلِّ الصَّلوٰۃِ وَالصِّیَامِ “ تصنیف کیا۔ (حیاتِ ملک العلماء ص18)
علمِ توقیت پر آپ کی تصانیف:
علمِ توقیت پر آپ کی کُتُب میں اَلْجَواہِرُ وَ الْیَواقِیتُ فِی عِلْمِ التَّوْقِیت، بَدْرُالْاِسْلَامِ لِمِیْقَاتِ کُلِّ الصَّلوٰۃِ وَالصِّیَامِ، تَوْضِیْحُ الْاَفْلَاک معروف بہ سُلَّمُ السَّمَاءِ، مؤذن الاوقات جیسی قیمتی اور نادِر تصانیف آپ کی توقیت دانی میں مہارتِ تامّہ کا مُنہ بولتا ثبوت ہیں۔ (ملک العلماء، ص204ملخصاً)
حفیظ الرحمٰن عطاری مدنی،نارتھ ناظم آباد، باب المدینہ کراچی
https://www.dawateislami.net/magazine/ur/faizan-e-jamia-tul-madina/hazrat-allama-muhammad-zafaruddin-bihari
❤1
Forwarded from فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
*📚 « مختصــر ســوانح حیــات » 📚*
-----------------------------------------------------------
*🕯ملک العلماء حضرت مولانا محمد ظفر الدین بہاری رضوی رحمۃ اللّٰه علیہ🕯*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*نام و نسب:*
*نام:* محمد ظفر الدین بن عبد الرزاق۔
*کنیت:* ابوالبرکات۔
*لقب:* ملک العلما۔
آپکے مورثِ اعلیٰ سید ابراہیم بن سید ابو بکر غزنوی ملقب بہ مدار الملک ہیں۔ ان کا نسب ساتویں پشت میں حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ تک پہنچتا ہے۔
*تاریخِ ولادت:* آپ رسول پور میجرا ضلع پٹنہ (اب ضلع نالندہ) صوبہ بہار میں ۱۰؍ محرم الحرام ۱۳۰۳ھ؍مطابق ۱۹؍اکتوبر ۱۸۸۰ء کو صبح صادق کے وقت پیدا ہوئے۔
*تحصیلِ علم:* چار سال کی عمر میں رسم بسم اللہ حضرت شاہ چاند صاحب کے مبارک ہاتھوں سے انجام پائی۔ ابتدائی تعلیم والد ماجد سے حاصل کی، ابتدائی فارسی کتب حافظ مخدوم اشرف، مولانا کبیر الدین اور مولانا عبداللطیف سے پڑھیں۔ پھر مدرسہ "حنفیہ " میں مولانا شاہ وصی احمد محدث سورتی سے مسند امام اعظم، مشکوٰۃ شریف اور ملا جلال پڑھی۔ پھر منڈی کان پور میں مولانا قاضی عبدالرزاق اور مولانا احمد حسن کانپوری اور مولانا شاہ عبید اللہ پنجابی کانپوری سے تعلیم حاصل کی ۔اس کے بعد خوب سے خوب تر کی تلاش انھیں بریلی شریف لے گئی۔ بریلی میں مولانا حکیم محمد امیر اللہ شاہ بریلوی، مولانا حامد حسن رام پوری، مولانا سید بشیر احمد علی گڑھی اور اعلیٰ حضرت امام اہل سنّت مولانا احمد رضا خان فاضل بریلوی علیہم الرحمہ سے علومِ نقلیہ وعقلیہ کی تکمیل ہوئی۔
*بیعت و خلافت:* محرم الحرام ۱۳۲۱ھ میں اعلیٰ حضرت سے مرید ہوئے اور تمام سلاسل میں اجازتِ عام عطا فرمائی ۔
*سیرت و خصائص:* اعلیٰ حضرت امامِ اہلِ سنت نے خلیفہ تاج الدین احمد ،ناظم انجمن نعمانیہ لاہور کو اپنی رحلت سے بارہ سال پہلے ۵؍شعبان المکرّم ۱۳۲۸ھ کو آپکی ذات کے بارے میں ایک مکتوب تحریر کیا تھا: اس مکتوب شریف سے بطورِ تبرک وہی الفاظ نقل کرتا ہوں!
"مولانا مولوی محمد ظفر الدین صاحب قادری سلمہ فقیر کے یہاں کے اعز طلبہ سے ہیں اور میرے بجان عزیز۔ ابتدائی کتب کے بعد یہیں تحصیل علوم کی اور اب کئی سال سے میرے مدرسہ میں مدرس اور اس کے علاوہ کار افتا میں میرے معین ہیں۔ میں یہ نہیں کہتا کہ جتنی درخواستیں آئی ہوں سب سے یہ زائد ہیں مگر اتنا ضرور کہوں گا: سنی خالص مخلص نہایت صحیح العقیدہ ہادی مہدی ہیں۔ عام درسیات میں بفضلہٖ تعالیٰ عاجز نہیں، مفتی ہیں، مصنف ہیں، واعظ ہیں، مناظرہ بعونہ تعالیٰ کر سکتے ہیں۔ علمائے زمانہ میں علم توقیت سے تنہا آگاہ ہیں۔
امام ابن حجر مکی نے زواجر میں اس علم کو فرض کفایہ لکھا ہے اور اب ہند بلکہ عام بلاد میں یہ علم علما، بلکہ عام مسلمین سے اٹھ گیا۔ فقیر نے بتوفیق قدیر اس کا احیاء کیا اور سات صاحب بنانا چاہے جن میں بعض نے انتقال کیا، اکثر اس کی صعوبت سے چھوڑ کر بیٹھے۔ انھوں نے بقدر کفایت اخذ کیا اور اب میرے یہاں کے اوقات طلوع و غروب و نصف النہار ہر روز و تاریخ کے لیے اور جملہ اوقات ماہ مبارک رمضان شریف کے بھی بناتے ہیں۔ فقیر آپ کے مدرسے کو اپنے نفس پر ایثار کر کے انھیں آپ کے لیے پیش کرتا ہے۔"
*وصال:* شب دو شنبہ ۱۹؍جمادی الثانی ۱۳۸۲ھ؍ ۱۸؍نومبر ۱۹۶۲ء کو ذکرِ جہر کرتے ہوئے واصل بحق ہوئے۔
میرے ظفر کو اپنی ظفر دے
اس سے شکستیں کھاتے یہ ہیں
https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*المرتب⬅ محـمد یـوسـف رضـا رضـوی امجـدی نائب مدیر "فیضـانِ دارالعـلوم امجـدیہ ناگپور گروپ" 9604397443*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
-----------------------------------------------------------
*🕯ملک العلماء حضرت مولانا محمد ظفر الدین بہاری رضوی رحمۃ اللّٰه علیہ🕯*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*نام و نسب:*
*نام:* محمد ظفر الدین بن عبد الرزاق۔
*کنیت:* ابوالبرکات۔
*لقب:* ملک العلما۔
آپکے مورثِ اعلیٰ سید ابراہیم بن سید ابو بکر غزنوی ملقب بہ مدار الملک ہیں۔ ان کا نسب ساتویں پشت میں حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ تک پہنچتا ہے۔
*تاریخِ ولادت:* آپ رسول پور میجرا ضلع پٹنہ (اب ضلع نالندہ) صوبہ بہار میں ۱۰؍ محرم الحرام ۱۳۰۳ھ؍مطابق ۱۹؍اکتوبر ۱۸۸۰ء کو صبح صادق کے وقت پیدا ہوئے۔
*تحصیلِ علم:* چار سال کی عمر میں رسم بسم اللہ حضرت شاہ چاند صاحب کے مبارک ہاتھوں سے انجام پائی۔ ابتدائی تعلیم والد ماجد سے حاصل کی، ابتدائی فارسی کتب حافظ مخدوم اشرف، مولانا کبیر الدین اور مولانا عبداللطیف سے پڑھیں۔ پھر مدرسہ "حنفیہ " میں مولانا شاہ وصی احمد محدث سورتی سے مسند امام اعظم، مشکوٰۃ شریف اور ملا جلال پڑھی۔ پھر منڈی کان پور میں مولانا قاضی عبدالرزاق اور مولانا احمد حسن کانپوری اور مولانا شاہ عبید اللہ پنجابی کانپوری سے تعلیم حاصل کی ۔اس کے بعد خوب سے خوب تر کی تلاش انھیں بریلی شریف لے گئی۔ بریلی میں مولانا حکیم محمد امیر اللہ شاہ بریلوی، مولانا حامد حسن رام پوری، مولانا سید بشیر احمد علی گڑھی اور اعلیٰ حضرت امام اہل سنّت مولانا احمد رضا خان فاضل بریلوی علیہم الرحمہ سے علومِ نقلیہ وعقلیہ کی تکمیل ہوئی۔
*بیعت و خلافت:* محرم الحرام ۱۳۲۱ھ میں اعلیٰ حضرت سے مرید ہوئے اور تمام سلاسل میں اجازتِ عام عطا فرمائی ۔
*سیرت و خصائص:* اعلیٰ حضرت امامِ اہلِ سنت نے خلیفہ تاج الدین احمد ،ناظم انجمن نعمانیہ لاہور کو اپنی رحلت سے بارہ سال پہلے ۵؍شعبان المکرّم ۱۳۲۸ھ کو آپکی ذات کے بارے میں ایک مکتوب تحریر کیا تھا: اس مکتوب شریف سے بطورِ تبرک وہی الفاظ نقل کرتا ہوں!
"مولانا مولوی محمد ظفر الدین صاحب قادری سلمہ فقیر کے یہاں کے اعز طلبہ سے ہیں اور میرے بجان عزیز۔ ابتدائی کتب کے بعد یہیں تحصیل علوم کی اور اب کئی سال سے میرے مدرسہ میں مدرس اور اس کے علاوہ کار افتا میں میرے معین ہیں۔ میں یہ نہیں کہتا کہ جتنی درخواستیں آئی ہوں سب سے یہ زائد ہیں مگر اتنا ضرور کہوں گا: سنی خالص مخلص نہایت صحیح العقیدہ ہادی مہدی ہیں۔ عام درسیات میں بفضلہٖ تعالیٰ عاجز نہیں، مفتی ہیں، مصنف ہیں، واعظ ہیں، مناظرہ بعونہ تعالیٰ کر سکتے ہیں۔ علمائے زمانہ میں علم توقیت سے تنہا آگاہ ہیں۔
امام ابن حجر مکی نے زواجر میں اس علم کو فرض کفایہ لکھا ہے اور اب ہند بلکہ عام بلاد میں یہ علم علما، بلکہ عام مسلمین سے اٹھ گیا۔ فقیر نے بتوفیق قدیر اس کا احیاء کیا اور سات صاحب بنانا چاہے جن میں بعض نے انتقال کیا، اکثر اس کی صعوبت سے چھوڑ کر بیٹھے۔ انھوں نے بقدر کفایت اخذ کیا اور اب میرے یہاں کے اوقات طلوع و غروب و نصف النہار ہر روز و تاریخ کے لیے اور جملہ اوقات ماہ مبارک رمضان شریف کے بھی بناتے ہیں۔ فقیر آپ کے مدرسے کو اپنے نفس پر ایثار کر کے انھیں آپ کے لیے پیش کرتا ہے۔"
*وصال:* شب دو شنبہ ۱۹؍جمادی الثانی ۱۳۸۲ھ؍ ۱۸؍نومبر ۱۹۶۲ء کو ذکرِ جہر کرتے ہوئے واصل بحق ہوئے۔
میرے ظفر کو اپنی ظفر دے
اس سے شکستیں کھاتے یہ ہیں
https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*المرتب⬅ محـمد یـوسـف رضـا رضـوی امجـدی نائب مدیر "فیضـانِ دارالعـلوم امجـدیہ ناگپور گروپ" 9604397443*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
Telegram
فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
اہلسنت و جماعت مسلک اعلیٰ حضرت کا ترجمان، وسط ہند کی عظیم درسگاہ " دارالعلوم امجدیہ ناگپور مہاراشٹرا" کے نام سے منسوب گروپ
❤1