🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
👍1
فاضلِ بہار، ملک العلماء، حضرت علامہ سید محمد ظفر الدین رضوی محدث بہاری رحمة الله تعالى عليه کی ولادت 10 محرم الحرام 1303ھ مطابق 19 اکتوبر 1885ء رسول پورہ ضلع پٹنہ (موجودہ ضلع نالندہ) صوبہ بہار ہند میں ہوئی۔ آپ شہزادۂ غوث اعظم، تلمیذ اعلی حضرت، عالم باعمل، مناظر اہل سنت، مفتی اسلام، ماہر علم توقیت، استاذ العلماء اور صاحب تصانیف ہیں۔ حیات اعلی حضرت اور صحیح البہاری کی تالیف آپ کا تاریخی کارنامہ ہے۔ اعلی حضرت علیہ الرحمہ آپ کو ”ولد الاعز“ یعنی اپنا سب سے پیارا بیٹا کہہ کر یاد فرماتے۔ 19 جمادی الاخری 1382ھ مطابق 18 نومبر 1962ء بروز دوشنبہ (پیر شریف) اپنے گھر ظفر منزل میں ذکر الله کرتے ہوئے وصال فرمایا۔ مزار مبارک شاہ گنج قبرستان پٹنہ (بہار) ہند میں انوار و تجلیات کا مرکز ہے۔

میرے ظفر کو اپنی ظفر دے
اس سے شکستیں کھاتے یہ ہیں

https://www.facebook.com/286386582084187/posts/974912249898280/
1
Malik al-Ulama Allama Sayyid Muhammad Zafaruddin Ridawi Muhaddith Bihari (Alayhir Rahmah) was born on 10th Muharram 1303 AH (i.e. 19 October 1885 CE) in Rasoolpura District of Patna (now Nalanda District) in Bihar Province of India. He is the descendant of Ghaus al-Azam, Student of AlaHazrat, Practicing Scholar, Debater of Ahlus Sunnah, Jurist of Islam, Authority in Ilm al-Tauqeet, Teacher of Scholars, and Prolific Author. The compilations of Hayat-e-AlaHazrat and Sahih Al-Bihari are his remarkable achievements. AlaHazrat (Alayhir Rahmah) used to remember him by calling him "Walad-ul-A'iz" meaning his dearest son. He passed away on Monday 19th of Jumad al-Akhirah 1382 AH (i.e. 18th November 1962 CE) in his house Zafar Manzil while performing dhikr of Allah. His blessed resting place in Shah Ganj Cemetery Patna (Bihar) India is the center of spirituality.

Mere Zafar Ko Allah Zafar De
is Se Shikasten Khate Ye Hain

https://www.facebook.com/286386582084187/posts/974912249898280/
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
👍1
ملک العلماء علامہ ظفر الدین بہاری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

صاحب کتاب

صاحب کتاب ملک العلما حضرت مولانا ظفر الدین رضوی علیہ الرحمۃ کے حالات پر ان کے صاحب زادہ گرامی وقار ڈاکٹر مختار الدین احمد آرزو نے مؤذن الاوقات، کے آخر میں اجمال سے اور صحیح البہاری جدید ایڈیشن کے شروع میں تفصیل سے روشنی ڈالی ہے، ہم ہر دو مضمون سے مقتبس و ملخص کر کے یہاں درج کر رہے ہیں۔

ملک العلما فاضل بہار حضرت مولانا شاہ محمد ظفر الدین قادری رضوی ہندوستان کے ان عالموں اور مصنفوں میں تھے جن کی علمی شہرت دور دور تک پھیلی، اور جن کی تصانیف سے ہندوستان اور پاکستان کے رہنے والے بڑی تعداد میں  مستفید ہوئے۔ وہ ٹھوس علمی صلاحیت رکھنے والے کامیاب اور شفیق استاذ، علمی تقریر کرنے والے شگفتہ بیان مقرر، دل نشیں باتیں کرنے والے مؤثر واعظ، اپنے منطقی  وعلمی استدلال سے فریق(مخالف) کو لاجواب کردینے والے مناظر اور پچاسوں کتابوں کے نامور مصنف تھے۔ جن کی تالیفات و تصنیفات کا دائرہ وسیع تھا، اور بہت سے علوم و فنون پر مشتمل۔ اگر وہ کم عمری میں ذہین، طباع اور سخت جدو جہد کرنے والے طالب علم تھے، تو اپنے عہد شباب و کہولت بلکہ کبر سنی میں بھی جفاکش استاذ اور سر گرم عمل مصنف رہے۔ وہ عالم با عمل تھے، شریعت کے سخت  پابند، طریقت کی راہ کے مجاہد اور حب رسول میں سرشار۔ ان کی زندگی کا نظام الاوقات سخت منضبط تھا۔ انھوں نے اپنے اوقات  اس طرح تقسیم کر رکھے  تھےکہ  گونا گوں علمی مصروفیات کے باوجودان  کا خاصہ وقت و ظائف و اوراد، اوریاد الٰہی کے لیے مخصوص تھا۔

ان کے اساتذہ میں اگر ایک طرف حضرت مولانا وصی احمد محدث سورتی اور حضرت مولانا احمد حسن کان پوری رحمہما اللہ تعالیٰ تھے تو دوسری طرف حضرت مولانا لطف اللہ علی گڑھی اور حضرت مولانا شاہ ارشاد حسین رام پوری کے تلامذہ خاص مولانا سید بشیر احمد علی گڑھی اور مولاناحامد حسن رام پوری کے اسمائے گرامی بھی نظر آتے ہیں۔  لیکن جس ذات گرامی سے انھوں نے سب  سے زیادہ علمی فیوض حاصل کیے، وہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ تھے۔ جن کی صحبت بابرکت میں وہ برسہا برس رہے، اور جو خاندان کے بزرگوں کی طرح ان پر شفقت فرماتے رہے۔ اس کا اندازہ کچھ ان مکاتیب اور مفاوضات سے ہوسکتا ہے جو شفیق استاذ نے اپنے لائق شاگرد کو لکھے ہیں، اور جن میں وہ انھیں کبھی ولدی الاعز لکھ کر مخاطب کرتے ہیں، کبھی حبیبی وولدی وقرۃ عینی لکھ کر۔ کبھی ولدی اعزل اللہ فی الدنیا والدین لکھتے ہیں۔ اور کبھی ولدی الاعز حامی السنن ماحی الفتن۔۔۔ اور ایک خط میں تو جان پدر بلکہ از جان بہتر، لکھ کر خطاب فرمایا ہے۔

امام احمد رضا کے دل میں اپنے اس شاگرد کی کیا قدر و عزت اور کیسی محبت تھی اس کا اندازہ ان کے اس مکتوب سے ہوتا ہے جو انھوں نے ان کے بارے میں خلیفہ تاج الدین احمد ناظم  انجمن نعمانیہ ہند لاہور کو اپنی رحلت سے بارہ سال پہلے  ۵؍شعبان المکرّم ۱۳۲۸ھ کو تحریر کیا ہے:۔

مولانا مولوی محمد ظفر الدین صاحب قادری سلمہ فقیر کے یہاں کے اعز طلبہ سے ہیں اور میرے بجان عزیز۔ ابتدائی کتب کے بعد یہیں تحصیل علوم کی اور اب کئی سال سے میرے مدرسہ میں مدرس اور اس کے علاوہ کار افتا میں میرے معین ہیں۔ میں یہ نہیں  کہتا کہ جتنی درخواستیں  آئی ہوں سب سے یہ زائد ہیں مگر اتنا ضرور کہوں گا:

سنی خالص مخلص  نہایت صحیح العقیدہ ہادی مہدی ہیں۔۔۔ عام درسیات میں بفضلہٖ تعالیٰ عاجز نہیں۔۔ مفتی ہیں۔۔ مصنف ہیں۔۔ واعظ ہیں۔۔ مناظرہ بعنونہ تعالیٰ کر سکتے ہیں۔۔ علمائے زمانہ میں علم توقیت سے تنہا  آگاہ ہیں۔ امام  ابن حجر مکی نے زواجر میں اس علم کو فرض کفایہ لکھا ہے اور اب ہند بلکہ عام بلاد میں یہ علم علما، بلکہ عام مسلمین سے اٹھ گیا۔ فقیر نے بتوفیق قدیر اس کا احیا کیا اور سات صاحب  بنانا چاہے جن میں بعض نے   انتقال کیا، اکثر اس کی صعوبت سے چھوڑ کر بیٹھے۔ انھوں نے بقدر کفایت اخذ کیا اور اب میرے یہاں کے اوقات طلوع و غروب و نصف  النہار ہر روز و تاریخ کے لیے اور جملہ اوقات ماہ مبارک رمضان شریف کے بھی بناتے ہیں۔

فقیر آپ کے مدرسے کو اپنے نفس پر ایثار کر کے انھیں آپ کے لیے پیش کرتا ہے۔ (مکتوبات)

یہ تو نثر ہوئی، اب نظم دیکھیے۔ امام احمد رضا کا رسالہ الاستمداد ۱۳۳۷ھ تین سو ساٹھ اردو اشعار کا قصیدہ ہے۔ جس میں ۱۳۲ قافیے تو اصلاً مکرر نہیں، باقی میں یہ التزام ہے کہ کوئی قافیہ ۹؍شعر سے پہلے مکرر نہ ہو۔ اس میں عنوان ذکر  اصحاب و دعائے احباب، کے تحت ۱۳؍ شعر درج ہیں، جن میں اپنے مخصوص خلفا وتلامذہ کا ذکر کیا ہے، چند شعر یہ ہیں:

تیرے رضا پر تری رضا ہو
اس سے غضب تھراتے یہ ہیں
بلکہ رضا کے شاگردوں کا
نام لیے گھبراتے  یہ ہیں
حامد منی انا من حامد
حمد سے ہمد کماتے یہ ہیں
عبد سلام سلامت جس سے
سخت آفات میں آتے یہ ہیں
میرے ظفر کو اپنی ظفر دے
اس سے شکستیں کھاتے یہ ہیں
          حجۃ الاسلام مولانا حامد رضا خان اور مولا
1
نا عبدالسلام جبل پوری  کے بعد ملک العلما فاضل بہار کا ذکر کیا ہے۔ ان تینوں ناموں کے بعد علی الترتیب صدر الشریعہ مولانا امجد علی اعظمی﷫، سید العلما مولانا سید نعیم  الدین مراد آبادی اور مولانا محمد اشرف وغیرہم کے اسمائے گرامی آتے ہیں۔ اور اخیر میں ان سبھوں کے لیے دعائے خیر۔

          ملک العلما مولانا  ظفر الدین قادری کے مورث اعلیٰ سید ابراہیم بن سید ابو بکر غزنوی ملقب بہ مدار  الملک و مخاطب بہ ملک بیا ہیں۔ ان کا نسب  نامہ ساتویں پشت میں حضرت محبوب سبحانی، قطب ربانی، حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ تک پہنچتا ہے۔

ملک  العلما محمد ظفر الدین رسول پور میجر اضلع پٹنہ(اب ضلع نالندہ) صوبہ بہار میں ۱۰؍ محرم الحرام ۱۳۰۳ھ؍ مطابق ۱۹؍اکتوبر ۱۸۸۰ء کو صبح صادق کے وقت پیدا ہوئے۔ خاندان کے لوگوں میں نام پر اختلاف رائے ہوکر ظفیر الدین پہ اتفاق ہوا، اور وہ عرصہ تک اسی نام سے پکارے جاتے رہے۔ جب وہ امام احمد رضا کے شاگرد ہوئے تو انھوں نے ظفیر الدین پر ظفر الدین کو ترجیح دی۔ رسالہ اقلیدس کا خطی نسخہ کتب خانہ خاص میں محفوظ ہے جو شعبان ۱۳۲۲ھ  کا مکتوبہ ہے،

اس کے آخر میں بید الفقیر محمد ظفیر الدین لکھا ہوا ملتا ہے۔ ۱۳۲۳ھ کی ان کے قلم کی ایک تحریر میں ظفیر الدین احمد درج ہے۔ بعد کو وہ محمد ظفر الدین  لکھتے رہے، اور اسی نام سے وہ مشہور ہوئے۔ ان کی کنیت ابو البرکات ہے۔ جیسا کہ معتدد استفتا کے جوابات اور ان کی مملوکہ کتابوں میں ثبت  کی ہوئی مہر سے معلوم ہوتا ہے۔ بریلی کے قیام کے دوران  ان کی تحریروں میں کہیں کہیں عبید المصطفی کا اضافہ بھی نظر آتا ہے۔

ملک العلما چار سال کی عمر کے ہوئے تو ۱۳۰۷ھ میں ان کے والد ماجد نے ان کی تعلیم شروع کرادی۔ رسم بسم اللہ حضرت شاہ چاند صاحب  کے مبارک ہاتھوں سے انجام پائی۔ ابتدائی تعلیم خود والد ماجد نے دی، پھر قرآن مجید اور اردو فارسی کی کتابیں اپنے گھر پر حافظ مخدوم اشرف، مولوی کبیر الدین اور مولوی عبداللطیف سے پڑھیں۔ ۱۳۱۲ھ سے اپنی نانیہا ل موضع ‘‘بین’’ میں کئی سال رہ کر مدرسہ ‘‘غوثیہ حنفیہ’’ میں تفسیر جلالین، میر زاہد وغیرہ تک کا درس لیا۔ اساتذہ ان کی ذہانت و شوق علمی کی وجہ سے ان پر بہت شفقت فرماتے تھے۔ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ سب یاد نہ کرنے کی وجہ سے اساتذہ ان سے ناخوش ہوئے ہوں۔ اس زمانہ میں عظیم آباد (پٹنہ) علم وفن کا مرکز تھا جہاں متعدد دینی مدارس قائم تھے۔ جن میں مدرسہ حنفیہ واقع بخشی محلّہ پٹنہ سٹی ممتاز حیثیت رکھتا تھا۔ اس مدرسہ کے بانی فارسی و اردو کے مشہور محقق قاضی عبد الودود بی اے، کینٹب، بارایٹ لا (۱۸۹۶ء-۱۹۸۴ء)  کے والد گرامی قاضی عبدالوحید صدیقی فردوسی (۱۲۸۹- ۱۳۲۶ھ) تھے، جو  وہاں کے ایک دین دار رئیس اور فاضل بریلوی کے معتقدین میں تھے [1]۔ انھوں نے ۱۳۱۸ھ میں یہ دینی درسگاہ قائم کی اور ایک بڑی جائیداد اس کے اخراجات کے لیے وقف کردی۔ انھوں نے نامور اساتذہ کی خدمات حاصل کیں، اور کچھ ہی عرصہ کے بعد اس کی شہرت بہار کے قصبات و مواضع تک ہی نہیں دوسرے صوبوں تک پھیل گئی۔

اسی مدرسے کے ایک استاذ حضرت مولانا شاہ وصی احمد محدث سورتی متوفیٰ ۱۳۳۴ھ کی علمی شہرت سن کر مولانا ۲۵؍جمادی الآخرہ ۱۳۲۰ھ کو مدرسہ حنفیہ بین سے مدرسہ ‘‘حنفیہ پٹنہ’’ آگئے، جہاں انھوں نے مسند امام اعظم، مشکوٰۃ شریف اور ملا جلال پڑھی۔ کچھ ہی دنوں کے بعد محدث صاحب بوجہ علالت اوائل شعبان میں مدرسہ حنفیہ سے کنارہ کش ہوکر اپنے وطن پیلی بھیت تشریف لے گئے، تو ماہ شوال ۱۳۲۰ھ کو مولانا ظفر الدین اپنے ہم سبق حکیم ابو الحسن کے ساتھ دار العلوم کان پور پہنچے۔ ان کی بعض تحریرات سے جو خاندان میں محفوظ ہیں، معلوم ہوتا ہے کہ کتابوں اور سامان کے ساتھ سفر کا کچھ حصہ انھوں نے پیدل چل کر طے کیا۔ پاؤں میں آبلے پڑگئے، لیکن طلب و شوق میں راہ علم کا مسافر آگے ہی بڑھتا رہا۔ انھوں نے مدرسہ امداد العلوم بانس منڈی کان پور میں مولانا قاضی عبدالرزاق  متوفیٰ ۱۹۴۶ء مرید حضرت حاجی امداد اللہ  مکی و شاگرد مولانا احمد حسن کانپوری کے سلسلہ تلامذہ میں داخل ہوکر درس لینا شروع کیا۔ مدرسہ امداد العلوم کے علاوہ بعض اسباق مدرسہ احسن المدارس  اور  بعض دار العلوم میں پڑھتے رہے، گویا کان پور کے تینوں  مدارس کے اساتذہ سے انھوں نے علمی فیوض حاصل کیے۔ وہاں کے مشہور استاذ مولانا احمد حسن کانپوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ متوفیٰ ۳؍صفر ۱۳۲۲ھ سے منطق کی کتابیں پڑھیں۔ اور مولانا شاہ عبید اللہ  پنجابی کانپوری متوفیٰ ۶؍جمادی الاولیٰ ۱۳۴۳ھ سے ہدایہ آخرین ختم کی۔ پھر کان پور سے پیلی بھیت جہاں محدث سورتی پٹنہ  سے واپس آکر اپنے قائم کردہ دارالحدیث میں درس دینے لگے تھے، پہنچے اور وہاں ان سے حدیث کا درس لیا۔

اس کے بعد خوب سے خوب ترکی تلاش انھیں بریلی اعلیٰ حضرت امام اہل سنّت مولانا احمد رضا خان فاضل بریلوی (۱۲۷۲۔ ۱۳۴۰ھ) تک لے گئی۔ جن کے علم اور قلم کی طاقت کی شہرت دور دور تک پھیلی ہوئی تھی۔ وہ پہلی ہ
1
ی ملاقات میں ان سے مل کر بہت متأثر ہوئے، وہ ان سے فیض اٹھانا چاہتے تھے۔ اور ان کے علم سے متمتع ہونا چاہتے تھے، اور در سیات کی تکمیل بھی۔ لیکن فاضل بریلوی ہمہ وقت مطالعہ اور تالیف و تصنیف میں مشغول رہتے تھے، ان کے یہاں نہ باقاعدہ درس و تدریس کا کوئی سلسلہ تھا، اور نہ اس وقت کوئی مدرسہ قائم تھا۔ مولانا ظفر الدین، اعلیٰ  حضرت کے چھوٹے بھائی مولانا حسن رضا خاں حسن بریلوی (۱۲۷۶۔۱۳۲۶ھ) بڑے صاحب زادے مولانا حامد رضا خان (۱۲۹۱۔ ۱۳۶۲ھ) مولانا حکیم سید محمد امیر اللہ شاہ بریلوی اور دوسرے اصحاب سے ملے اور ان لوگوں کے مشورے اور مساعی سے ایک مدرسہ قائم کرنے کے لیے راہ ہموار ہوئی۔ ملک العلما فرماتے تھے کہ مدرسہ کے قیام میں حضرت مولانا حسن رضا خاں اور مولانا سید محمد امیر اللہ کی مساعی کو بہت دخل ہے۔ اور یہ مدرسہ انھیں کی کوششوں سے قائم ہوا۔ یوں  ۱۹۰۴ء/۱۳۲۲ھ میں مدرسہ منظر اسلام محلّہ سودا گران بریلی میں قائم ہوا۔ یہ تاریخی  نام ہے۔ اس سے ۱۳۲۲ھ کے اعداد مستخرج ہوتے ہیں۔ مولانا حسن رضا خاں اس کے پہلے ناظم مقرر ہوئے۔ مولانا ظفر الدین کے ایک دوست اور ہم وطن مولانا سید عبدالرشید عظیم آبادی بھی آگئے تھے۔ صرف انہی دو طالب علموں سے مدرسہ کا افتتاح ہوا۔ اور امام احمد رضا نے بخاری  شریف  شروع کرائی۔ اب ملک العلما نے بہار خطوط لکھ کر مدرسہ کے قیام کی اطلاع دی، اور دوستوں کو بھی بریلی بلالیا۔

مولانا نے امام احمد رضا سے صحیح بخاری شریف پڑھنی، اور فتویٰ نویسی سیکھنی شروع کی۔ انھوں نے اعلیٰ حضرت  کے کچھ فتاوے جنھیں ظاہراً وہ املا کرادیتے تھے، ایک مجموعہ میں جمع کرنا شروع کیے تھے جس کے کچھ اوراق اس وقت پیش  نظر ہیں۔ اس میں پہلا فتویٰ ۸؍رمضان ۱۳۲۲ھ کاتحریرکردہ ہے۔ بعد کو جب مدرسے میں کچھ جید علما اور مستند مدرسین کی خدمات  حاصل کی گئیں، تو انھوں نے  مولانا حکیم محمد امیر اللہ شاہ بریلوی، مولانا حامد حسن رام پوری، مولانا سید بشیر احمد علی گڑھی  سے مسلم الثبوت، صحیح مسلم شریف اور دوسری کتب درسیات کی تکمیل کی۔ اعلیٰ حضرت  سے انھوں نے صحیح بخاری، اقلیدس کے چھ مقالے تصریح، تشریح الافلاک، شرح چغمینی تمام کر کے علم ہئیت ریاضی،  توقیت، و تکسیر وغیرہ فنون حاصل کیے۔ تصوف کی کتابوں میں ان سے عوارف المعارف اور رسالہ قشیریہ کا درس بھی لیا۔ ان اسباق میں طلبہ کے علاوہ علما کی جماعت بھی شریک ہوئی تھی۔

ماہ شعبان ۱۳۲۵ھ کی کسی تاریخ کو علما کے ایک بڑے مجمع میں فاضل بریلوی کی درخواست پر چشتی مشرب کے مشہور بزرگ شیخ العالم حضرت مخدوم احمد عبدالحق ردولوی قدس سرہ العزیز کی بارگاہ  کے سجادہ نشیں  حضرت مخدوم شاہ التفات احمد قدس سرہ نے ان کے سر پر دستار فضیلت باندھی، اور سلاسل عالیہ کی اجازت و خلافت عطا فرمائی، اور ملک العلما فاضل بہار، کا خطاب۔

ملک العلما کی تدریسی زندگی کا آغاز بھی مدرسہ منظر اسلام بریلی ہی سے ہوا جہاں ان کی تعلیم کی تکمیل  ہوئی۔ تقریباً چار سال تک وہ  وہاں درس دیتے رہے، اور فاضل بریلوی کی ہدایت پر فتاویٰ نویسی کی خدمات بھی انجام دیتے رہے۔ اس زمانہ میں جو فتاوے انھوں نے لکھے ان میں سے کچھ کی نقلیں نافع البشر فی فتاویٰ ظفر میں موجود ہیں۔ ۱۳۲۹ ھ میں معززین شملہ کے اصرار و طلب اور اعلیٰ حضرت کے حکم پر عالم و خطیب کی حیثیت سے وہ شملہ گئے۔ اگلے سال مولانا عبدالوہاب الٰہ بادی نے اپنے قائم کردہ مدرسہ "حنفیہ" کے لیے جو آرا ضلع شاہ آباد بہار میں قائم ہوا تھا، اعلیٰ حضرت کو لکھا کہ وہ مولانا ظفر الدین کو  صدر مدرس کا عہدہ پیش کرنا چاہتے ہیں، آپ انھیں آمادہ کریں، اعلیٰ حضرت نے صرف اس خیال سے کہ نئے دینی مدارس کا قیام اور اس کی ترقی بھی ضروری ہے، وہاں جانے کی اجازت دے دی۔ اس طرح وہ منظر  اسلام بریلی سے مدرسہ حنفیہ آرا ضلع شاہ آباد بہار تشریف لے گئے[2]۔  جہاں وہ کئی سال[3] اپنے فرائض انجام دیتے رہے۔ ۱۳۳۰ھ/ مطابق  ۱۹۱۲ء میں عظیم  آباد میں مسٹر سید نور الہدیٰ ڈسٹرکٹ سیشن جج نے اپنے والد ماجد سید شمس الہدیٰ  کے نام پر مدرسہ اسلامیہ شمس الہدی، قائم کیا، تو اس میں بحیثیت مدرس اول ان کا تقرر عمل میں آیا، جہاں وہ تفسیر و حدیث و فقہ کا درس دینے لگے۔ ۱۳۳۴ھ، ۱۹۱۶ء میں سید شاہ ملیح الدین احمد سجادہ نشیں خانقاہ کبیریہ سہسرام کی فرمائش پر وہ صدر مدرس ہوکر سہسرام ضلع شاہ آباد بہار چلے گئے، جہاں وہ پانچ چھ سال[4] مقیم رہے۔ ۱۳۳۸۔ ۱۹۲۱ء[5] میں جب مسٹر سید نور الہدیٰ مرحوم و مغفور نے مدرسہ اسلامہ شمس الہدی کو حکومت بہار کے انتظام میں دے دیا اور حکومت نے مدرسہ  کا نظام  اپنے ہاتھ میں لے کر اس کی تنظیم جدید کی اور نئے تقررات کیے، تو مولانا ظفر الدین قادری وہاں سینئر مدرس ہوکر آگئے۔ ۱۹۴۸ء میں وہ پرنسپل کے عہدے پر سر فراز ہوئے اور ۱۹۵۰ء  میں تقریباً  تیس سال علمی خدمات انجام دے کر انھوں نے سبکدوشی حاصل کی۔

حکومت بہار کی  ملازمت سے سبکدوش ہونے کے بعد ملک العلماکو ذہنی سکون و اطمینان قلب ب
1
ھی ملا اور فراغت کا وقت بھی۔ اب وہ اطمینان سے اپنے دینی و علمی مشاغل میں مصروف ہوگئے۔ کچھ تدریس کا سلسلہ بھی جاری رہا۔

۲۱؍شوال ۱۳۷۱ھ کو شاہ شاہد حسین عرف درگاہی میاں خلف سید شاد حمید الدین سجادہ نشین تکیہ  حضرت شاہ رکن الدین عشق متوفیٰ ۱۲۰۳ھ میتن گھاٹ پٹنہ کی استدعا پر کٹیہار ضلع پورنیہ بہار میں جامعہ لطیفیہ بحر العلوم کا افتتاح فرمایا، اور صدر  مدرس کے عہدے کو رونق بخشی، صرف اس بنا پر کہ اس علاقے میں مسلمانوں کی خاصی آبادی کے باوجود کوئی قابل ذکر دینی مدرسہ نہ تھا۔

کبرسنی اور دوسری انتظامی ذمہ داریوں کے باوجود ملک العلما روزانہ چھ گھنٹے پڑھاتے تھے۔ مدرسے کا نظام الاوقات دیکھنے سے معلوم ہوا کہ انھوں نے اپنے ذمے تفسیر مدارک، بیضاوی شریف، بخاری، مسلم، ہدایہ آخرین اور مناظرہ رشیدیہ کی تدریس رکھی تھی۔ مدرسے کی نظامت و تدریس کے ساتھ فتاویٰ  نویسی تالیف و تصنیف اور مواعظ حسنہ کا سلسلہ بھی انھوں نے جاری رکھا۔

سالانہ جلسہ دستار بندی کے موقع پر  نامور علما ومقررین کو مدعوبھی  کرتے رہے۔ حضرت مولانا سید محمد محدث کچھوچھوی، مفسر قرآن مولانا ابراہیم رضا خان (جیلانی میاں) اور دوسرے علما کے مواعظ حسنہ سے بھی عوام اور مدرسہ کے طلبہ واساتذہ کو استفادہ کراتے رہے۔

جامعہ لطیفیہ کے قیام سےشمالی بہار کے مسلمانوں کو بہت فائدہ پہنچا، اور اس علاقہ میں دین کو فروغ ہوا۔ سیکڑوں طلبہ وہاں سے فارغ ہوکر دور دراز علاقوں میں پھیل گئے۔ بعضوں نے نئے مدارس بھی قائم کیے۔ کچھ اصحاب نے مواضع اور قصبات کے ان مدارس کو اپنی خدمات سے ترقی دی، جہاں اب تک محدود پیمانہ پر تعلیم کا انتظام تھا۔ اس لحاظ سے ملک العلما کا پورنیہ میں دو سالہ [6]قیام بہت مفید رہا۔ جب انھوں نے دیکھا کہ ان کا لگایا ہوا پودا مضبوط و توانا ہوکر شجر بار آور ہوگیا تو ربیع الاول شریف ۱۳۸۰ھ میں جامعہ لطیفیہ کٹیہار سے وہ ظفر منزل شاہ گنج پٹنہ آکر مقیم ہوگئے، اور یہاں انھوں نے سلسلہ رشد و ہدایت شروع کیا۔

ملک العلما سے مختلف مدارس کے جن طلبہ نے علمی فیوض حاصل کیے، ان کی تعداد بتانا آسان نہیں۔  صرف مدرسہ اسلامیہ شمس الہدی کے متخرجین کی تعداد ہزاروں تک پہنچے گی۔

متحدہ ہندوستان کے مختلف مقامات سے  فنون ہئیت و توقیت سے دلچسپی رکھنے والے حضرات خاصی تعداد میں مولانا سے بذریعہ خط و کتابت اپنا علمی شوق پورا کرتے رہے۔ ان میں مولانا مفتی محمد عمیم الاحسان استاذ مدرسہ عالیہ ڈھاکہ  اور حاجی محمد ظہور  نعیمی مراد آباد کے استفسارات کے جواب میں متعدد مخطوط مجموعہ مکتوبا ت میں محفوظ ہیں۔ جن علما  نے پٹنہ میں  قیام کر کے ان سے  یہ علوم سیکھے ان میں مولانا حافظ عبدالرؤف نائب شیخ الحدیث مدرسہ اشرفیہ مبارک پور متوری ۱۹۷۱ء، مولانا نظام الدین بلیا وی مدرس مدرسہ سبحانیہ الٰہ آباد، اور مولانا یحییٰ بلیاوی خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔

ملک العلما نے کوئی ۵۵سال تک مسلسل تدریس کا سلسلہ قائم رکھا، اور بریلی، آرا، سہسرام، پٹنہ اور کٹیہار پورنیہ کے مدارس میں ہزاروں طالبان  علم کو اپنے علمی فیوض سے سیراب کیا۔ تدریس کےساتھ افتا و مواعظ کا سلسلہ بھی  برابر جاری رہا۔

مجھے یاد آتا ہے کہ میرے بچپن میں وہ آریہ سماجیوں اور مسیحی مبلغین سے مناظرے کے لئے جلسوں میں بھی تشریف لے  جایا کرتے تھے۔ غیر مقلدین وغیرہم سے مناظرے کے لیے بھی وہ دور دراز کے علاقوں سے مدعو کیے جاتے تھے۔ ایک مناظرے کے لیے وہ ‘برما’ بھی تشریف لے گئے تھے۔

ان کی زندگی کے آخری دو سال تالیف و تصنیف، وعظ ہدایت اور افتانویسی میں بسر ہوئے۔ جس رات انھوں نے رحلت فرمائی، اس شام کو بھی انھوں نے چار خطو ط لکھے۔ والدۂ مرحومہ فرماتی تھیں کہ دو خطوں کے بارے میں تو یاد نہیں کہ کن کو لکھے گئے تھے، تیسرا خط تمہارے نام تھا اور چوتھا خط بہت طویل تھا، جو وراثت کے ایک پیچیدہ مسئلے کے بارے میں تھا۔

ملک العلما عرصہ سے فشار الدم کے مرض میں مبتلا تھے اور بہت کمزور ہوگئے تھے۔ لیکن ان کی عبادت و ریاضت میں کوئی کمی نہیں  آئی، نہ ان کے روزانہ کے معمولات میں کوئی فرق۔ زندگی کے آخری دن تک وہ علمی و دینی فرائض حسب معمول انجام دیتے رہے۔ شب دو شنبہ ۱۹؍جمادی الآخر۱۳۸۲ھ؍ ۱۸؍نومبر ۱۹۶۲ء کو ذکر جہر اللہ اللہ کرتے ہوئے انھوں نے اپنی جان جاں آفریں کو اس طرح سپرد کی کہ کچھ دیر تک اہل خانہ کو اس بات کا احساس بھی نہیں ہوا کہ وہ  واصل بحق ہوچکے  ہیں۔

دوسرے دن حضرت شاہ محمد ایوب شاہدی رشیدی سجادہ نشیں خانقاہ اسلام پور ضلع پٹنہ حسن اتفاق سے تشریف لے آئے اور انہی نے نماز جنازہ پڑھائی۔ دسویں گیارہویں صدی ہجری کے  مشہور بزرگ حضرت شاہ ارزاں متوفیٰ (۱۰۲۸ھ) کی درگاہ سے متصل شاہ گنج کے قبرستان میں تدفین عمل میں  آئی۔ ہر سال ان کے اعزہ و معتقدین و تلامذہ مختلف مقامات پر ان کے یوم ِوصال پر فاتحہ خوانی اور عرس و مواعظ حسنہ کا اہتمام کرتے ہیں۔ خدا ان کی مغفرت فرمائے، ان کی تربت ٹھندی رکھے اور انھیں جنت الفردوس میں جگہ دے۔
1
تصانیف

ملک العلما کی تالیفات و تصنیفات کی تعدادستر سے زائد ہے۔ تصانیف کا سلسلہ ۱۳۲۲ھ سے شروع ہوکر تقریباً ان کی رحلت ۱۳۸۲ھ یعنی پچاس پچپن سال تک جاری رہا۔ کچھ کتابیں عربی زبان میں ہیں، لیکن زیادہ تر افادہ عام کی خاطر اردو میں لکھی گئی ہیں۔ یہ متعدد فنون اور موضوعات حدیث، اصول حدیث، فقہ، اصول فقہ، تاریخ، سیرت، فضائل، مناقب، اخلاق، نصائح، صرف، نحو، منطق، فلسلفہ، کلام، ہئیت، توقیت، تکسیر اور مناظرہ پر مشتمل ہیں۔ کچھ اب تک غیر مطبوعہ ہیں، اور کچھ زیور طباعت سے آراستہ ہوکر شائع ہوچکی ہیں:۔

حیات اعلیٰ حضرت                                       سوانح

شرح کتاب الشفا۔۔۔                                               سیرت

مولود رضوی۔۔۔                                                  سیرت

تنویر السراج۔۔۔                                                  سیرت

التعلیق علی القدوری۔۔۔                                           فقہ

تحفۃ الاحباب۔۔۔                                                  فقہ

نافع البشر فی فتاویٰ ظفر۔۔۔                                         فقہ

اعلام المساجد۔۔۔                                                    فقہ

بسط الراحۃ فی الحظروالاباحۃ۔۔۔                                      فقہ

الفیض الرضوی۔۔۔                                                فقہ     

نہایت المنتہی۔۔۔                                                  فقہ

مواھب ارواح القدس۔۔۔                                         فقہ

نصرۃ الاصحاب۔۔۔                                                 فقہ

عید کا چاند۔۔۔                                                     فقہ

تنویر المصباح۔۔۔                                                  فقہ

جامع الاقوال۔۔۔                                                  فقہ

اصلاح الایضاح۔۔۔                                                فقہ

مجموعہ فتاویٰ۔۔۔                                                   فقہ

تسہیل الوصول۔۔۔                                              اصول فقہ

جامع الرضوی۔۔۔                                                 حدیث

نزول السکینۃ۔۔۔                                                  حدیث

الافاداۃ الرضویۃ۔۔۔                                      اصول الحدیث

التعلیق علی شروح المغنی۔۔۔                                        نحو

وافیہ۔۔۔                                                          نحو

القصر المبنی علی بناء المغنی۔۔۔                                        نحو

نظم المبانی۔۔۔                                                     نحو

عافیہ۔۔۔                                                          صرف

تذھیب۔۔۔                                                       فلسفہ

انوار اللامعۃ من الشمس البازغۃ۔۔۔                                   فلسفہ

توضیح الافلاک۔۔۔                                                 ھیئت

مشرقی اور سمت قبلہ۔۔۔                                            ھیئت

مشرقی کا غلط مسلک۔۔۔۔                                           ھیئت

الفرائض التامہ۔۔۔                                                کلام

تقریب۔۔۔                                                       منطق

خیر السلوک فی نسب الملوک۔۔۔                                    تاریخ

اعلام الاعلام۔۔۔                                                   تاریخ

المجمل المعددلتالیف المجدد۔۔۔                                                تاریخ

جواھر البیان۔۔۔                                                  تاریخ

مبین الہدی۔۔۔                                                   فصائل

تحفۃ المضمافی فضل العلما۔۔۔                                        فضائل

تحفۃ الاحبار۔۔۔                                                    مناقب

النور والضیاء۔۔۔                                                   مناقب

ھادی الہراۃ لترک الموالات۔۔۔                                     سیاست

الحسام المسلول۔۔۔                                                 مناظرہ

نجم الکنزہ۔۔۔                                                      مناظرہ

النبراس۔۔۔                                                       مناظرہ

رفع الخلاف من بین الاحناف۔۔۔                                  مناظرہ

کشف الستور۔۔۔                                                  مناظرہ

گنجینۂ مناظرہ۔۔۔                                                  مناظرہ

ظفر الدین الجیر۔۔۔                                       مناظرہ

شکست سفاہت۔۔۔                    
1
                            مناظرہ

ظفر الدین الطیب۔۔۔                                              مناظرہ

ندوۃ العلما۔۔۔                                                     مناظرہ

سرور القلب المحزون۔۔۔                                          اخلاص

دلچسپ مکالمہ۔۔۔                                                 نصائح

الاکسیر۔۔۔                                                        تکسیر

اطیب الاکسیر۔۔۔                                                  تکسیر

الجواھر والیواقیت۔۔۔                                              توقیت

موذن الاوقات۔۔۔                                               توقیت

وغیرہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

 

[1]۔ یہ خانقاہ معظم بہار شریف میں مخدوم جہاں کے سجادہ نشیں ‘‘جناب حضور’’ امین احمد علیہ الرحمۃ کے مرید خاص  اور پٹنہ میں منعقدہ اہل سنت کی اس عظیم کانفرنس کے بانی تھے جس میں اعلیٰ حضرت کو ‘‘مجدد’’ کا خطاب دیا گیا تھا۔ اس وقت تک اعلیٰ حضرت کی جملہ تصانیف کا تقریبا ًنصف حصہ انھوں نے ہی طبع کرایا تھا۔ انھیں کی تحریک پر اعلیٰ حضرت نے المعقد المنتقد کا حاشیہ بنام المعتمر المستند تحریر فرمایا۔ جس میں پہلی بار دیوبندیوں کے سر غنہ مولوی اشرف  علی تھانوی کی تکفیر کی۔ اعلیٰ حضرت نے ان کی نماز جنازہ بھی پڑھائی، اور ان کو قبر میں بھی اتارا۔

[2]۔ اس عبارت سے تبادر ذہنی یہ ہوتا ہے کہ وہ منظر اسلام سے براہ راست مدرسہ حنفیہ آرا پہنچے۔ حالانکہ براہ راست  منظر اسلام سے آرا نہیں آئے بلکہ بریلی سے شملہ پھر شملہ سے آرا آئے۔

[3]۔ کئی سال نہیں، صرف ایک سال مدرسہ حنفیہ آرا میں رہے۔ کیوں کہ ۲۹ھ کو وہ شملہ گئے اور وہاں سے آرا  آئے پھر سن ۳۰ھ کے اواخر میں مدرسہ شمس الہدیٰ پٹنہ  آگئے۔

[4]۔۳۴؁ھ میں سہسرام گئے اور ۳۸؁ھ میں پھر پٹنہ آگئے، تو درمیانی مدت چارسال ہوتی ہے۔

[5]۔ ۱۳۳۸؁ھ مطابق ۱۹۲۰؁ء ہوتا ہے ۱۹۲۱؁ء نہیں۔ فقیر رضوی غفرلہ۔

[6]۔ شوال ۱۳۷۱؁ھ سے ربیع الاول ۱۳۸۰؁ھ تک کی درمیانی مدت ۲؍سال نہیں بلکہ ۹؍سال کچھ مہینے ہوتی ہے۔

متعلقہ
تجویزوآراء


مفصل تلاش

شخصیات

تذکرہ نگار

کتاب حوالہ
تلاش کریں
شخصیات (177)
تذکرہ نگار (30)
حضرت مولانا ظہیر الدین خلوتی(1)
حضرت بہاء الدین زکریا ملتانی(1)
حضرت شیخ نظام الدین خالدی معروف بہ شیخ نظام الدین اولیاء(1)
حضرت شیخ سیف الدین عبدالوہاب(1)
حضرت شیخ بقا بن بطور(1)
حضرت محمد الاوانی معروف بابن القاید (1)
شیخ ابو مدین مغربی (1)
حضرت ابوالحسن مغربی شناذلی(1)
حضرت امام عبد اللہ الیافعی الیمنی(1)
حضرت سیدۃ النساء فاطمۃ الزہراء(1)
حضرت مولانا ہدایت اللہ رامپوری (1)
حضرت علامہ مفتی احمد یار خان نعیمی(1)
حضرت ہارون علیہ السلام(1)
امیر المومنین حضرت علی المرتضی شیر خدا(1)
حضرت شاہ شرف الدین بو علی قلندر (3)
برہان الموحدین حضرت سید شاہ آل محمدمارہروی(1)
حضرت شیخ محمد بن اسماعیل بخاری المشہور امام بخاری(1)
حضرت سیخ عبد القدوس گنگوہی(3)
حضرت پیر جماعت علی شاہ علی پوری(3)
سیدنا اویس قرنی ابنِ عامر(1)
حضرت عبد اللہ بن عباس بن عبد المطلب(1)
سید الخلفاء حضرت مفتی سید عبدالفتاح گلشن آبادی(1)
سراج الملۃ مؤید الدین الرضی خواجہ محمد باقی(3)
حضرت مولانا ڈاکٹر فضل الرحمٰن انصاری(2)
محدث عالم حضرت شیخ محمد بن علی حصکفی(1)
حضرت علامہ مولانا مفتی محمد عبداللہ بلوچ نعیمی ش(1)
حضرت خواجہ امام علی شاہ(1)
حضرت خواجہ حذیفہ مرعشی(5)
اہل سنت حضرت مولانا علامہ محمد نور بخش توکلی قدس سرہ(2)
شہید غزوہ احد حضرت سیدنا خارجہ بن زید بن ابو زھیر الانصاری(1)
قطب مکۃ المکرمہ شیخ الد لائل محمد عبدالحق الہٰ آبادی(1)
مجاہد ملت حضرت مولانا عبدالحامد بدایونی(2)
حجۃ السلام حضرت حامد رضا خان بریلوی(2)
مفتی اعظم پاکستان علامہ ابوالبرکات سید احمد قادری (1)
مُحِبُّ النبی حضرت شاہ فخر الدین دہلوی(3)
حضرت علامہ محمد ابراہیم رضا خاں(2)
حضرت شاہ نیاز احمد بریلوی(1)
حضرت علامہ مولانا عبد الحق خیر آبادی(2)
حضرت مولانا شاہ محمد عبدالسلام جبل پوری(2)
حضرت شیخ محب اللہ اکبر آبادی(1)
مفتی اعظم آگرہ علامہ عبد الحفیظ حقانی(1)
حضرت علامہ مفتی فضل الرحمن قادری مدنی(1)
حضرت امام ابو جعفر طحاوی(1)
حضرت شیخ احمد عبدالحق رودلی (1)
حضرت خواجہ عبدالرحمن سر ہندی(1)
حضرت سیدنا لوط علیہ السلام (1)
مناظر اسلام مولانا محمد عمر اچھروی(1)
حضرت خواجہ ابراہیم بن ادھم (1)
ملک المدرسین امام المناطقہ حضرت علامہ مولانا عطاء محمد بندیالوی(1)
حضرت امام محمد بن حسن شیبانی(1)
سراج الفقہاء حضرت مولانا سراج احمد خانپوری(0)
حضرت امام موسی کاظم(1)
سراج الفقہاء حضرت مولانا سراج احمد خانپوری(1)
حضرت خواجہ قطب الدین مودود چشتی(3)
حضرت امام ابو یوسف(1)
شیخ الاسلام امام ابو الحسن دارقطنی (1)
امام العارفین حضرت خواجہ اللہ بخش(1)
حضرت خواجہ معین الدین چ
1
شتی(2)
حضرت مولانا غلام جیلانی میڑٹھی(2)
حضرت مولانا مفتی تقدس علی خان رضوی(1)
حضرت سید شاہ میر گیلانی (2)
حضرت سید نظام الدین قادری بھکاری(1)
حضرت شیخ عثمان زندہ پیر صابری (2)
شیخ الاسلام مخدوم محمد ہاشم ٹھٹوی(2)
حضرت خواجہ فیض محمد شاہ جمالی (2)
شیخ جمالی دہلوی سہروردی (1)
حضرت شیخ نظام الدین اورنگ آبادی(1)
حضرت مولانا شاہ ابو الحسین احمد نوری مارہروی(1)
ابوالفضل حضرت علامہ مفتی عبدالرحیم سکندری(1)
حضرت مولانا شاہ علی حسین اشرفی کچھوچھوی(1)
حضرت میرسید فضل اللہ کالپوی (1)
سلطان العارفین حضرت سلطان باہو سروری قادری(2)
حضرت علامہ سید شاہد علی نورانی(1)
حضرت مولانا سیدشاہ ظہورالحق پھلواری (1)
حضرت مولانا ابوالعباس عبدالعلی محمد بحرالعلوم لکھنوی (1)
حافظ قاری ممتاز احمد رحمانی (1)
شیخ الاسلام حضرت خواجہ سید حافظ محمد علی شاہ خیرآبادی (1)
مفتی محمد یوسف فرنگی محلی (1)
حضرت شاہ محمد اسلم خیرآبادی (1)
مولانا حافظ شاہ محمد مسعود احمد چشتی صابری دہلوی(1)
قدوۃ العارفین حضرت علامہ مولانا غلام محی الدین قصوری دائم الحضوری(1)
حضرت مرزا مظہر جانِ جاناں(1)
سیف اللہ المسلول معین الحق شاہ فضلِ رسول قادری بدایونی(3)
حضرت قاضی عبد السلام بدایونی(1)
حضرت سیدنا امام جعفر صادق (6)
تاج العلماءحضرت علامہ مفتی محمد عمر نعیمی مراد آبادی (2)
حضرت سید ابو اسحاق ابراہیم بن غوث الاعظم (1)
حضرت خواجہ علی رامتینی(1)
بیہقیِ وقت مفتی منظور احمد فیضی(0)
حضرت بابا یوسف شاہ تاجی(0)
قطبِ مدینہ شیخ العربِ والعجم حضرت علامہ شیخ ضیاءالدین احمد مدنی (1)
حضرت شیخ رکن الدین ابو الفتح (2)
حضرت عیسیٰ بن مالک عادل الخطیبی(1)
حضرت شیخ عبد الرحمن بن قاضی القضاۃ شمس الدین(1)
حضرت علامہ مولانا مفتی جلال الدین احمد امجدی(1)
حضرت شیخ صدر الدین عارف(1)
حضرت مولانا مفتی عبد الحفیظ حقانی (1)
حضرت خواجہ ابو یوسف ہمدانی(2)
حضرت خواجہ علاء الدین عطار (2)
حضرت ابو محمد عبداللہ مغربی تیونسی(1)
مہرِ طریقت حضرت شاہ غلام محی الدّین(3)
حضرت مفتی سید محمد افضل حسین رضوی(2)
حضرت علامہ مولانا گل محمد صدیق(1)
حضرت اخون ملا درویزہ چشتی(1)
حضرت سید محمد نعیم الدین مرادآبادی(1)
امام المحدثین حافظ ابنِ حجر عسقلانی (1)
حضرت مخدوم سیداشرف جہانگیرسمنانی (1)
استاذ العلماءحضرت علامہ مفتی سید مسعودعلی قادری (1)
حضرت شیخ صدرالدین عارف سہروردی (1)
حضرت مولانا شریف الحق امجدی(0)
محقق دوراں حضرت مولانا محمد جلال الدین قادری رضوی(1)
مفتی اعظم ہند حضرت علامہ مولانا محمد مصطفی رضا خان بریلوی نوری(1)
خواجہ معین الدین نقشبندی (1)
سیدنا حاتم اصم بلخی (1)
حضرت مولانا جلال الدین اودھی(1)
حضرت مولانا سید آل مصطفیٰ مارہروری مدظلہٗ (3)
محدث اعظم پاکستان حضرت مولانا محمد سردار احمدقادری (3)
مولائے روم محمد جلال الدین رومی(2)
حضرت سید غلام حیدر علی شاہ(1)
امام المجاہدین شیخ الاسلام والمسلمین حضرت مولانا اخوند عبد الغفور صاحب سواتی قادری (2)
حضرت علامہ قاری مصلح الدین رضوی صدیقی(2)
حضرت علامہ عبد الاحد محدث پیلی بھیتی (1)
Hazrat Allama Mufti Dur Muhammad Sikandari(1)
ام المؤمنین سیدہ ام حبیبہ(3)
ابو سفیان صخر بن حرب(1)
حضرت ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ(5)
سلطان العارفین حضرت بایزید بسطامی(2)
حضرت مولانا الحاج حافظ عبدالعزیز مبارک پوری(2)
حضرت غزالیٔ دوراں علامہ سید احمد سعید کاظمی، ملتان(1)
افضل البشر حضرت سیدنا ابوبکر صدیق(4)
حضرت قائد اہلِ سنّت علامہ شاہ احمد نورانی صدیقی(1)
حضرت علامہ مولانا جمیل احمد نعیمی(1)
حضرت مقرر جادوبیاں مولانا خدا بخش اظہر(1)
حضرت استاذ العلماء مفتی محمد خلیل خان برکاتی(2)
مبلّغ اعظم مولانا خورشید احمد، ظاہر پیر(1)
حضرت مخدوم اہل سنت مولانا سید زاہد علی قادری(1)
حضرت مولانا عبدالحق غور غشتوی(1)
حضرت سید شاہ تراب الحق قادری نوری(1)
حضرت فاضل یگانہ علامہ عبدالمصطفےٰ الازہری(0)
حضرت پیر مہر علی شاہ(1)
حضرت مولانا خواجہ قمر الدین سیالوی(0)
حضرت لعل شہباز قلندر(2)
حضر ت شیخ الحدیث مولانا مفتی محمد محمود الوری حیدر آباد(1)
ذو النون مصری علیہ الرحمۃ(1)
حضرت فضیل بن عیاض(0)
شیخ امدا داللہ تھانوی مہاجر مکی(2)
حضرت ابوسلیمان دارانی(1)
حضرت فتح بن علی موصلی (1)
حضرت بشر بن الحارث بن عبد الرحمن حافی (1)
حضرت حارث بن اسد المحاسبی(0)
حضرت مولانا ظفر الدین بہاری(2)
حضرت ابو حفص حداد (0)
حضرت شخ حمدون قصار(0)
حضرت خواجہ ابو احمدابدال چشتی(1)
حضرت ابو اسمٰعیل عبد اللہ بن ابی منصور محمد انصاری ہروی(1)
حضرت ابو علی فضل فارمدی طوسی(1)
حضرت امام احمد غزالی(0)
حضرت خواجہ عبد الخالق غجدوانی(1)
خواجہ عارف ریو گری (1)
حضرت خواجہ محمود الخیرفغنوی (1)
حضرت خواجہ ابو نصر پارسا (0)
حضرت مولانا یعقوب چرخی (1)
حضرت شیخ حافظ محمد صدیق قادری(1)
حضرت حافظ سید عبداللہ بلگر امی (2)
حضرت مولانا سید عبدالجلیل بلگرامی(0
1👍1
)
حضرت شیخ نور الدین عبدالرحمٰن اسفرانی سرقی(1)
حضرت ابو المکارم رکن الدین علاؤو الدولہ(1)
سیدالانبیاء سیدنا محّمدِ مصطفےٰ(1)
حضرت مولانا شمس الدین محمدﷺ بن علی بن ملک داؤد التبریزی(1)
حضرت شہاب الدین سہروردی(1)
حضرت نجم الدین کبریٰ(3)
بیہقیِ وقت مفتی منظور احمد فیضی (3)
ملا نظام الدین سہالوی بانیِ درسِ نظامی(2)
حضرت امام سری سقطی(2)
حضرت شیخ سید احمد کبیر رفاعی(2)
حضرت خواجہ غلام حسن پیر سواگ(1)
حضرت ام المؤمنین سیدہ حفصہ(2)
کتاب حوالہ (30)
حدائق الاصفیاء(1)
شریف التواریخ (2)
محدثینِ عُظام حیات و خدمات(1)
تذکرہِ اکابر اہلسنت(7)
(انوارِ علماءِ اہلنست سندھ)(4)
تذکرہِ عُلماءِ اہلسُنّت (7)
قومی زبان کراچی(0)
تذکرۃ الانبیاء(1)
اقتباس الانوار(4)
مناقبِ سلطانی(1)
تذکرہِ اولیاء پاک و ہند(2)
نور نور چہرے(2)
(بہقی وقت محمد منظور احمد فیضی ،انجمن ضیاء طیبہ)(2)
تاریخ مشائخِ نقشبندیہ(4)
مقامِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم(1)
مشائخِ نقشبندیہ(3)
اخبیار الاخیار(1)
تذکرہِ علمائے ہند(2)
سیر الاولیاء(1)
خاندانی برکات(1)
مقدمہ مثنوی مولائے روم (1)
ماہنامہ اشرفیہ(1)
اسد الغابۃ جلد بمبر ۱۰۔۱۱(2)
تعارفِ علماء اہلسنت(11)
الاصابۃ فی تمیز الصحابۃ(0)
نفحاتُ الاُنس(31)
انسائکلوپیڈیا اولیاء کرام(1)
خزینۃ الاصفیاء(11)
مسلمانوں کا دینی و عصری نظام تعلیم(1)
متفرق(3)
خصوصی

پسندیدہ

حضرت سید غریب اللہ چشتی صابری رحمۃ اللہ علیہ

حضرت شیخ سید محمد کالپی شریف

سید محمد المہدی السنوسی ؓ

حضرت معین الدین ابو نصر

حیات تاج الشریعہ ماہ وسال کے آئینہ میں

http://scholar.ziaetaiba.com/ur/biography/hazrat-allama-zafaruddin-bihari-2

Copyright © All Rights Reserved by Zia-e-Taiba | Designed & developed by PK SOL
http://scholar.ziaetaiba.com/ur/biography/hazrat-allama-zafaruddin-bihari-2#:~:text=28,by%20PK%20SOL
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
👍1
حضرت ملک العلماء مولانا محمد ظفر الدین بہاری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

پیدائش نام وطن شجرہ :
میجرہ ضلع عظیم آباد پٹنہ کے ساکن، حضرت سید محمد ابراہیم ملک بیوطہاری سے نسلی علاقہ، والد کا نام عبد الرزاق، ۱۴؍محرم ۱۳۰۳ھ پیداہوئے، غلام حیدر تاریخی نام ہوا، جس سے سنہ فصلی کے ۱۲۹۱ھ بر آمد ہوتے ہیں، ابتدائی کتابیں والد ماجد سے پڑھیں،جو فارسی کے دبیر تھے،دس برس کی عمر میں اپنی نانہال موضع بین کے مدرسہ غوثیہ حنفیہ میں داخل ہوکر مولانا معین الدین اشرف،مولانا بدر ا ارین اشرف، مولانا معین الدین ازہر سے درس نظامی کی متوسطات تک تعلیم پائی،

۱۳۲۰؁ھ میں حضرت مولانا قاضی عبد الوحید رئیس لودی کٹرہ کے مدرسہ حنفیہ بخشی محلہ پٹنہ میں حضرت مولانا شاہ وصی احمد محدث سورتی کے درس میں شریک ہوئے، محدث سورتی کے چلے جانے کے بعد ۱۳۲۱ھ میں آپ کانپور پہونچے، اور در العلوم میں اُستاذر من حضرت مولانا شاہ احمد حسن کانپوری سے منطق کی کابیں پڑھیں،اور مولانا احمد حسن کے شاگرد رشید مولانا عبید اللہ سے ہدایہ اخیرین ختم کی،مولانا قاضی عبد الرزاق کانپوری تلمیذ رشید اُستاذ زمن سےبھی علمی استفادہ کیا کچھ دنوں پیلی بھیت میں حضرت محدث سورتی کے درس میں شریک ہوکر حدیث پاک کی سماعت وقرأت کی۔۔۔۔یہاں سے بریلی پہونچے،اس وقت وہاں مولوی غلام یٰسین خام سرائی نے اہل سنت کے روپ میں فاضل بریلوی کی حمایت و تائید سے مصباح التہذیب کے نام سے مدرسہ قائم کر کے درس کا سلسلہ شروع کر رکھا تھا،اس لیے آپ اُن کے درس میں شریک ہوگئے اور اعلیٰ حضرت کی خدمت میں بھی حاضر ہوتے رہے،آپ کےہی ذریعہ سے یہ بات ظاہر ہوئی کہ مولوی یٰسین صاحب در پردہ وہابی ہیں۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ آپ ہی کی کوششوں سے مدرسہ منظر اسلام قائم ہوا جسکی تفصیل یوں ہے،کہ آپ نے حضرت مولانا حسن رضا بریلوی ومولانا حامد رضا خاں کو ہم خیال کر کے حضرت مولانا حکیم سید محمد امیر اللہ شاہ بریلوی کو ان کی سیادت کےپیش نظر منتخب کیا، کہ اعلیٰ حضرت سید ہونےکی وجہ سے ان کی بات نہ ٹالیں گے،۔۔۔۔۔۔حکیم صاحب اعلیٰ حضرت کےپاس پہونچے اور سب کی طرف سے مدرسہ قائم کرنے کی درخواست پیش کی، اعلیٰ حضرت نے اپنی تصنیفی مصروفیات کی بناء پر اتکار فرمایا،تب حکیم صاحب نے کہا،قیامت کے دن اگر پوچھا گیا کہ بریلی میں دیوبندیت کو کس نے فروغ دیا، تو میں آپ کا نام لوں گا،۔ اعلیٰ حضرت نے دریافت فرمایا یہ کیوں؟ حکیم صاحب نے کہا،آپ مدرسہ نہیں قائم کرتے، اس لیے، ۔۔۔۔۔۔ اعلیٰ حضرت نے فرمایا، میں اپنی تصنیفی مصروفیات کی بنا پر چندہ فراہمی اور انتظامی امور گی دیکھ بھال نہیں کر سکتا، حکیم صاحب نےفوراً کہا، ہم لوگ مدرسہ قائم کرتے ہیں، آپ تائید فرمادیں، ۔۔۔رحیم یارخاں کے مکان پر مولانا ظفر الدین صاحب اور مولانا عبد الرشید صاحب عظیم آبادی دو طلبہ سے مدرسہ کا افتتاح ہوا، اور اعلیٰ حضرت نے جاکر بخاری کا سبق شروع کرایا، ‘‘منظر اسلام’’ مدرسہ کا تاریخی نام حضرت مولانا حسن رضابرادر خورد اعلیٰ حضرت نے تجویز فرمایا، اور حضرت حسن رضا ہی مدرسہ کے پہلے مقیم مقرر ہوئے [1] اسی مدرسہ میں مولانا ظفر الدین صاحب نےمولانا حکیم محمد امیر اللہ شاہ بریلوی تلمیذ والد ماجد فاضل بریلوی، ومولانا حامد حسن رام پوری شاگر خاص مولانا شاہ ارشاد حسین رام پوری، ومولانا بشیر احمد علی گڑھی شاگرد مولانا لطف اللہ علی گڑھی سے درسیات کا تکملہ کیا، اور فاضل بریلوی سے بخاری شریف، اقلیدس کےچھ مقالے، تصریح تشریح الافلاک، شرح چغمنی تمام کرکے علم توقیت وجفر ویکسر حاصل کیا، تصوف کی کتاب عوارف المعارف، رسالہ قتبریہ پڑھا، شعبان ۱۳۲۵ھ میں کثیر مجمع علماء میں بروز محواست فاضل بریلوی حضرت مخدوم شاہ حیات احمد قدس سرہٗ سجادہ نشین رودولی شریف نے دستار فضیلت باندھی اور سند مرحمت فرمائی۔

مدرسی کی ابتداء مدرسہ منظر اسلام سےہوئی، ۱۳۲۹ھ تک یہاں درس دیا، اسی سنہ میں شملہ کی جامع مسجد کے خطیب ہوکر گئے پھر مولانا حکیم عبد الوہاب الہ آبادی کے مدرسہ حنفیہ آرہ میں صدر مدرس ہوئے،اس کے بعد جب جامعہ شمس الہدیٰ پٹنہ ۱۹۱۳ھ میں قائم ہوا تو یہ حیثیت مدرس حدیث آپ کا تقرر ہوا،اس کے بعد ررس فقہ وتفسیر ہوئے،مدرس اول کے منصب پر فائز تھے،کہ ۱۹۱۶ھ میں حضرت سید شاہ ملیح الدین احمد سجادہ نشین خانقاہ کبیریہ سہسرام کےمدرسہ میں مدرس اول ہوکر گئے، ۱۳۲۸ھ ۱۹۲۱ء میں جب شمس الہدی گورنمنٹ کے زیر انتظام آیا تو سینیر مدرس ہوکر واپس آئے ۱۳۶۵ھ ۱۹۴۸ء میں جامعہ کےپرنسپل ہوئے،۲۲؍نومبر ۱۹۴۹ھ سے رخصت لے کر آرام کیا، ۱۹۵۰ھ میں پرنسپل کےعہدے سے سبکدوش ہوئے، ۱۳۶۷؁ھ تک خضر منزل شاہ گنج پٹنہ مقیم رہے،حضرت سید شاہ شاہد حسین سجادہ نشین تکیہ حضرت شاہ رکن الدین عشق پٹنہ المتوفی ۱۲۰۳ھ قدس سرہٗ کی استدعاء پر ۲۱؍شوال المکرم ۱۳۲۱؁ھ میں کیٹھہار م یں جامعہ لطیفیہ بحر العلومکا افتتاح کیا،اور صدر مدرس کے عہدہ کو رونق بخشی،۔۔۔۔۔۔۔
1
ربیع الاوّل ۱۳۸۰ھ میں علالت کی وجہ سے ظفر منزل پٹنہ آگئے، ۱۹؍جمادی الاخریٰ ۱۳۸۲ھ مطابق ۱۸؍ نومبر ۱۹۶۲ھ شب دو شنبہ سپیدۂ سحر نمود ہونے سے پہلے ذکر جہر اللہ اللہ کرتے جان جاں آفریں کےسپرد کر کےواصل الی اللہ ہوئے،حضرت شاہ ایوب ابدالی شاہدی رشیدی اسلام پوری نے جنازہ کی نماز پڑھائی،راقم سطور نے ‘‘فاضل بہار’’ تاریخی فقرہ کہا۔

محرم الحرام ۱۳۲۱؁ھ میں اعلیٰ حضرت مولانا شاہ احمد رضا بریلوی سے مرید ہوئےاور بعد فراغت تمام سلاسل میں مجاز مطلق ہوئے،آپ نےدرجنوں کتابیں تالیف وتصنیف کیں،احناف کی مؤید حدیثوں کا مجموعہ چوبیس جزو اور چھ جلدوں میں بنام جامع الرضوی المعروف بصحیح البھادی مشہور و معروف ہے، فاضل بریلوی نے ‘‘ملک العلماء’’ لاخطاب دیا،

علی گڑھ مسلم یونورسٹی کے صدر شعبۂع ربی پروفیسر ڈاکٹر مختار الدین احمد آرزو آپ کی تنہا یادگار اور فرزند ہیں۔
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
[1] ۔ قیام مدرسہ کے یہ واقعات حضرت مفتئ اعظم ہند مدظلہٗ العالی نے راقم مطور کو مکہ معظمہ میں ۱۳۹۰ بہ ماہ ذی الحجہ میں بتائے۔

http://scholar.ziaetaiba.com/ur/biography/hazrat-allama-zafaruddin-bihari-1
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
👍1
ملِکُ العلماء حضرت علامہ محمد ظفر الدین بہاری اور علمِ توقیت:

ولادت:
بارگاہِ اعلیٰ حضرت علیہ رحمۃ ربِّ العزت سے فیض یافتہ، باکمال و باعمل عالمِ دین، ملِکُ العلماء حضرت علامہ محمدظفر الدین بہاری علیہ رحمۃ اللہ  الوَالی  10محرم الحرام 1303 ہجری کو صوبۂ بہار (ہند) ضلع پٹنہ (موجودہ نام نالندہ، ہند) میں پیدا ہوئے۔

آپ کا نام:
ظفرالدین نام اعلیٰ حضرت  علیہ رحمۃ ربِّ العزت  کی بارگاہ سے ملا اور اسی نام سے شہرت پائی۔ (حیاتِ ملک العلماء، ص9)

علمِ توقیت میں مہارت:
کئی علوم و فنون میں مہارت کے ساتھ ساتھ آپ رحمۃ  اللہ  تعالٰی علیہ کوعلمِ توقیت میں بھی مہارتِ تامّہ اور معاصرین میں امتیازی خصوصیت حاصل تھی۔ یہی وجہ ہے کہ اعلیٰ حضرت علیہ رحمۃ ربِّ العزت نے  آپ کے بارے میں فرمایا: (مولانا محمد ظفر الدین قادری) علمائے زمانہ میں علمِ توقیت سے تنہا آگاہ ہیں۔ (ملک العلماء، ص204)

علّامہ محمد ظفرالدین بہاری کی توقیت دانی انہی کی زبانی:
آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں: تقریباً گیارہ سال سے خاکسار (عاجز) برادرانِ دینی کی خدمت اور ان کے روزوں کی درستی و صحت کے لئے ہر سال رمضان شریف کے نقشۂ اوقاتِ صوم و صلاۃ زیچ و توقیت کے قواعدِ خاصہ (خاص قواعد) سے ترتیب دیتا ہے اور مخلصِ قدیم (سچے دوست)  حاجی محمد لعل خاں صاحب مدراسی شائع کرتے ہیں، باقی گیارہ مہینوں میں نمازوں کی اَبْتَری (بد حالی) دیکھ دیکھ کر دل پریشان ہوتا تھا کہ اوقاتِ نماز صحیح طور پر معلوم نہ ہونے کے سبب بعض لوگ تاخیر کو انتہا تک پہنچا دیتے ہیں اور اکثر لوگ جلدی کرتے ہیں کہ قبل از وقت نماز پڑھ لیتے ہیں،خصوصاًعصر وعشاء میں تو قبل از وقت حنفی نماز پڑھنا ہندوستان میں عام طور پر رائج ہوگیا ہے۔

ان ہی ضَرورتوں کے پیشِ نظر میں نے ایک رسالہ مُسَمّٰی بنامِ تاریخی ” بَدْرُ الْاِسْلَامِ لِمِیْقَاتِ کُلِّ الصَّلوٰۃِ وَالصِّیَامِ “ تصنیف کیا۔ (حیاتِ ملک العلماء ص18)

علمِ توقیت پر آپ کی تصانیف:
علمِ توقیت پر آپ کی کُتُب میں اَلْجَواہِرُ وَ الْیَواقِیتُ فِی عِلْمِ التَّوْقِیت،  بَدْرُالْاِسْلَامِ لِمِیْقَاتِ کُلِّ الصَّلوٰۃِ وَالصِّیَامِ، تَوْضِیْحُ الْاَفْلَاک معروف بہ سُلَّمُ السَّمَاءِ، مؤذن الاوقات جیسی قیمتی  اور نادِر تصانیف آپ کی توقیت دانی میں مہارتِ تامّہ کا مُنہ بولتا ثبوت ہیں۔ (ملک العلماء، ص204ملخصاً)

حفیظ الرحمٰن عطاری مدنی،نارتھ ناظم آباد، باب المدینہ کراچی

https://www.dawateislami.net/magazine/ur/faizan-e-jamia-tul-madina/hazrat-allama-muhammad-zafaruddin-bihari
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
👍1
*📚 « مختصــر ســوانح حیــات » 📚*
-----------------------------------------------------------
*🕯ملک العلماء حضرت مولانا محمد ظفر الدین بہاری رضوی رحمۃ اللّٰه علیہ🕯*


*نام و نسب:*
*نام:* محمد ظفر الدین بن عبد الرزاق۔
*کنیت:* ابوالبرکات۔
*لقب:* ملک العلما۔
آپکے مورثِ اعلیٰ سید ابراہیم بن سید ابو بکر غزنوی ملقب بہ مدار الملک ہیں۔ ان کا نسب ساتویں پشت میں حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ تک پہنچتا ہے۔

*تاریخِ ولادت:* آپ رسول پور میجرا ضلع پٹنہ (اب ضلع نالندہ) صوبہ بہار میں ۱۰؍ محرم الحرام ۱۳۰۳ھ؍مطابق ۱۹؍اکتوبر ۱۸۸۰ء کو صبح صادق کے وقت پیدا ہوئے۔

*تحصیلِ علم:* چار سال کی عمر میں رسم بسم اللہ حضرت شاہ چاند صاحب کے مبارک ہاتھوں سے انجام پائی۔ ابتدائی تعلیم والد ماجد سے حاصل کی، ابتدائی فارسی کتب حافظ مخدوم اشرف، مولانا کبیر الدین اور مولانا عبداللطیف سے پڑھیں۔ پھر مدرسہ "حنفیہ " میں مولانا شاہ وصی احمد محدث سورتی سے مسند امام اعظم، مشکوٰۃ شریف اور ملا جلال پڑھی۔ پھر منڈی کان پور میں مولانا قاضی عبدالرزاق اور مولانا احمد حسن کانپوری اور مولانا شاہ عبید اللہ پنجابی کانپوری سے تعلیم حاصل کی ۔اس کے بعد خوب سے خوب تر کی تلاش انھیں بریلی شریف لے گئی۔ بریلی میں مولانا حکیم محمد امیر اللہ شاہ بریلوی، مولانا حامد حسن رام پوری، مولانا سید بشیر احمد علی گڑھی اور اعلیٰ حضرت امام اہل سنّت مولانا احمد رضا خان فاضل بریلوی علیہم الرحمہ سے علومِ نقلیہ وعقلیہ کی تکمیل ہوئی۔

*بیعت و خلافت:* محرم الحرام ۱۳۲۱ھ میں اعلیٰ حضرت سے مرید ہوئے اور تمام سلاسل میں اجازتِ عام عطا فرمائی ۔

*سیرت و خصائص:* اعلیٰ حضرت امامِ اہلِ سنت نے خلیفہ تاج الدین احمد ،ناظم انجمن نعمانیہ لاہور کو اپنی رحلت سے بارہ سال پہلے ۵؍شعبان المکرّم ۱۳۲۸ھ کو آپکی ذات کے بارے میں ایک مکتوب تحریر کیا تھا: اس مکتوب شریف سے بطورِ تبرک وہی الفاظ نقل کرتا ہوں!
"مولانا مولوی محمد ظفر الدین صاحب قادری سلمہ فقیر کے یہاں کے اعز طلبہ سے ہیں اور میرے بجان عزیز۔ ابتدائی کتب کے بعد یہیں تحصیل علوم کی اور اب کئی سال سے میرے مدرسہ میں مدرس اور اس کے علاوہ کار افتا میں میرے معین ہیں۔ میں یہ نہیں کہتا کہ جتنی درخواستیں آئی ہوں سب سے یہ زائد ہیں مگر اتنا ضرور کہوں گا: سنی خالص مخلص نہایت صحیح العقیدہ ہادی مہدی ہیں۔ عام درسیات میں بفضلہٖ تعالیٰ عاجز نہیں، مفتی ہیں، مصنف ہیں، واعظ ہیں، مناظرہ بعونہ تعالیٰ کر سکتے ہیں۔ علمائے زمانہ میں علم توقیت سے تنہا آگاہ ہیں۔

امام ابن حجر مکی نے زواجر میں اس علم کو فرض کفایہ لکھا ہے اور اب ہند بلکہ عام بلاد میں یہ علم علما، بلکہ عام مسلمین سے اٹھ گیا۔ فقیر نے بتوفیق قدیر اس کا احیاء کیا اور سات صاحب بنانا چاہے جن میں بعض نے انتقال کیا، اکثر اس کی صعوبت سے چھوڑ کر بیٹھے۔ انھوں نے بقدر کفایت اخذ کیا اور اب میرے یہاں کے اوقات طلوع و غروب و نصف النہار ہر روز و تاریخ کے لیے اور جملہ اوقات ماہ مبارک رمضان شریف کے بھی بناتے ہیں۔ فقیر آپ کے مدرسے کو اپنے نفس پر ایثار کر کے انھیں آپ کے لیے پیش کرتا ہے۔"

*وصال:* شب دو شنبہ ۱۹؍جمادی الثانی ۱۳۸۲ھ؍ ۱۸؍نومبر ۱۹۶۲ء کو ذکرِ جہر کرتے ہوئے واصل بحق ہوئے۔

میرے ظفر کو اپنی ظفر دے
اس سے شکستیں کھاتے یہ ہیں
https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp

*المرتب محـمد یـوسـف رضـا رضـوی امجـدی نائب مدیر "فیضـانِ دارالعـلوم امجـدیہ ناگپور گروپ" 9604397443*
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
👍1