🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
👍1
فاضلِ بہار، ملک العلماء، حضرت علامہ سید محمد ظفر الدین رضوی محدث بہاری رحمة الله تعالى عليه کی ولادت 10 محرم الحرام 1303ھ مطابق 19 اکتوبر 1885ء رسول پورہ ضلع پٹنہ (موجودہ ضلع نالندہ) صوبہ بہار ہند میں ہوئی۔ آپ شہزادۂ غوث اعظم، تلمیذ اعلی حضرت، عالم باعمل، مناظر اہل سنت، مفتی اسلام، ماہر علم توقیت، استاذ العلماء اور صاحب تصانیف ہیں۔ حیات اعلی حضرت اور صحیح البہاری کی تالیف آپ کا تاریخی کارنامہ ہے۔ اعلی حضرت علیہ الرحمہ آپ کو ”ولد الاعز“ یعنی اپنا سب سے پیارا بیٹا کہہ کر یاد فرماتے۔ 19 جمادی الاخری 1382ھ مطابق 18 نومبر 1962ء بروز دوشنبہ (پیر شریف) اپنے گھر ظفر منزل میں ذکر الله کرتے ہوئے وصال فرمایا۔ مزار مبارک شاہ گنج قبرستان پٹنہ (بہار) ہند میں انوار و تجلیات کا مرکز ہے۔

میرے ظفر کو اپنی ظفر دے
اس سے شکستیں کھاتے یہ ہیں

https://www.facebook.com/286386582084187/posts/974912249898280/
1
Malik al-Ulama Allama Sayyid Muhammad Zafaruddin Ridawi Muhaddith Bihari (Alayhir Rahmah) was born on 10th Muharram 1303 AH (i.e. 19 October 1885 CE) in Rasoolpura District of Patna (now Nalanda District) in Bihar Province of India. He is the descendant of Ghaus al-Azam, Student of AlaHazrat, Practicing Scholar, Debater of Ahlus Sunnah, Jurist of Islam, Authority in Ilm al-Tauqeet, Teacher of Scholars, and Prolific Author. The compilations of Hayat-e-AlaHazrat and Sahih Al-Bihari are his remarkable achievements. AlaHazrat (Alayhir Rahmah) used to remember him by calling him "Walad-ul-A'iz" meaning his dearest son. He passed away on Monday 19th of Jumad al-Akhirah 1382 AH (i.e. 18th November 1962 CE) in his house Zafar Manzil while performing dhikr of Allah. His blessed resting place in Shah Ganj Cemetery Patna (Bihar) India is the center of spirituality.

Mere Zafar Ko Allah Zafar De
is Se Shikasten Khate Ye Hain

https://www.facebook.com/286386582084187/posts/974912249898280/
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
👍1
ملک العلماء علامہ ظفر الدین بہاری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

صاحب کتاب

صاحب کتاب ملک العلما حضرت مولانا ظفر الدین رضوی علیہ الرحمۃ کے حالات پر ان کے صاحب زادہ گرامی وقار ڈاکٹر مختار الدین احمد آرزو نے مؤذن الاوقات، کے آخر میں اجمال سے اور صحیح البہاری جدید ایڈیشن کے شروع میں تفصیل سے روشنی ڈالی ہے، ہم ہر دو مضمون سے مقتبس و ملخص کر کے یہاں درج کر رہے ہیں۔

ملک العلما فاضل بہار حضرت مولانا شاہ محمد ظفر الدین قادری رضوی ہندوستان کے ان عالموں اور مصنفوں میں تھے جن کی علمی شہرت دور دور تک پھیلی، اور جن کی تصانیف سے ہندوستان اور پاکستان کے رہنے والے بڑی تعداد میں  مستفید ہوئے۔ وہ ٹھوس علمی صلاحیت رکھنے والے کامیاب اور شفیق استاذ، علمی تقریر کرنے والے شگفتہ بیان مقرر، دل نشیں باتیں کرنے والے مؤثر واعظ، اپنے منطقی  وعلمی استدلال سے فریق(مخالف) کو لاجواب کردینے والے مناظر اور پچاسوں کتابوں کے نامور مصنف تھے۔ جن کی تالیفات و تصنیفات کا دائرہ وسیع تھا، اور بہت سے علوم و فنون پر مشتمل۔ اگر وہ کم عمری میں ذہین، طباع اور سخت جدو جہد کرنے والے طالب علم تھے، تو اپنے عہد شباب و کہولت بلکہ کبر سنی میں بھی جفاکش استاذ اور سر گرم عمل مصنف رہے۔ وہ عالم با عمل تھے، شریعت کے سخت  پابند، طریقت کی راہ کے مجاہد اور حب رسول میں سرشار۔ ان کی زندگی کا نظام الاوقات سخت منضبط تھا۔ انھوں نے اپنے اوقات  اس طرح تقسیم کر رکھے  تھےکہ  گونا گوں علمی مصروفیات کے باوجودان  کا خاصہ وقت و ظائف و اوراد، اوریاد الٰہی کے لیے مخصوص تھا۔

ان کے اساتذہ میں اگر ایک طرف حضرت مولانا وصی احمد محدث سورتی اور حضرت مولانا احمد حسن کان پوری رحمہما اللہ تعالیٰ تھے تو دوسری طرف حضرت مولانا لطف اللہ علی گڑھی اور حضرت مولانا شاہ ارشاد حسین رام پوری کے تلامذہ خاص مولانا سید بشیر احمد علی گڑھی اور مولاناحامد حسن رام پوری کے اسمائے گرامی بھی نظر آتے ہیں۔  لیکن جس ذات گرامی سے انھوں نے سب  سے زیادہ علمی فیوض حاصل کیے، وہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ تھے۔ جن کی صحبت بابرکت میں وہ برسہا برس رہے، اور جو خاندان کے بزرگوں کی طرح ان پر شفقت فرماتے رہے۔ اس کا اندازہ کچھ ان مکاتیب اور مفاوضات سے ہوسکتا ہے جو شفیق استاذ نے اپنے لائق شاگرد کو لکھے ہیں، اور جن میں وہ انھیں کبھی ولدی الاعز لکھ کر مخاطب کرتے ہیں، کبھی حبیبی وولدی وقرۃ عینی لکھ کر۔ کبھی ولدی اعزل اللہ فی الدنیا والدین لکھتے ہیں۔ اور کبھی ولدی الاعز حامی السنن ماحی الفتن۔۔۔ اور ایک خط میں تو جان پدر بلکہ از جان بہتر، لکھ کر خطاب فرمایا ہے۔

امام احمد رضا کے دل میں اپنے اس شاگرد کی کیا قدر و عزت اور کیسی محبت تھی اس کا اندازہ ان کے اس مکتوب سے ہوتا ہے جو انھوں نے ان کے بارے میں خلیفہ تاج الدین احمد ناظم  انجمن نعمانیہ ہند لاہور کو اپنی رحلت سے بارہ سال پہلے  ۵؍شعبان المکرّم ۱۳۲۸ھ کو تحریر کیا ہے:۔

مولانا مولوی محمد ظفر الدین صاحب قادری سلمہ فقیر کے یہاں کے اعز طلبہ سے ہیں اور میرے بجان عزیز۔ ابتدائی کتب کے بعد یہیں تحصیل علوم کی اور اب کئی سال سے میرے مدرسہ میں مدرس اور اس کے علاوہ کار افتا میں میرے معین ہیں۔ میں یہ نہیں  کہتا کہ جتنی درخواستیں  آئی ہوں سب سے یہ زائد ہیں مگر اتنا ضرور کہوں گا:

سنی خالص مخلص  نہایت صحیح العقیدہ ہادی مہدی ہیں۔۔۔ عام درسیات میں بفضلہٖ تعالیٰ عاجز نہیں۔۔ مفتی ہیں۔۔ مصنف ہیں۔۔ واعظ ہیں۔۔ مناظرہ بعنونہ تعالیٰ کر سکتے ہیں۔۔ علمائے زمانہ میں علم توقیت سے تنہا  آگاہ ہیں۔ امام  ابن حجر مکی نے زواجر میں اس علم کو فرض کفایہ لکھا ہے اور اب ہند بلکہ عام بلاد میں یہ علم علما، بلکہ عام مسلمین سے اٹھ گیا۔ فقیر نے بتوفیق قدیر اس کا احیا کیا اور سات صاحب  بنانا چاہے جن میں بعض نے   انتقال کیا، اکثر اس کی صعوبت سے چھوڑ کر بیٹھے۔ انھوں نے بقدر کفایت اخذ کیا اور اب میرے یہاں کے اوقات طلوع و غروب و نصف  النہار ہر روز و تاریخ کے لیے اور جملہ اوقات ماہ مبارک رمضان شریف کے بھی بناتے ہیں۔

فقیر آپ کے مدرسے کو اپنے نفس پر ایثار کر کے انھیں آپ کے لیے پیش کرتا ہے۔ (مکتوبات)

یہ تو نثر ہوئی، اب نظم دیکھیے۔ امام احمد رضا کا رسالہ الاستمداد ۱۳۳۷ھ تین سو ساٹھ اردو اشعار کا قصیدہ ہے۔ جس میں ۱۳۲ قافیے تو اصلاً مکرر نہیں، باقی میں یہ التزام ہے کہ کوئی قافیہ ۹؍شعر سے پہلے مکرر نہ ہو۔ اس میں عنوان ذکر  اصحاب و دعائے احباب، کے تحت ۱۳؍ شعر درج ہیں، جن میں اپنے مخصوص خلفا وتلامذہ کا ذکر کیا ہے، چند شعر یہ ہیں:

تیرے رضا پر تری رضا ہو
اس سے غضب تھراتے یہ ہیں
بلکہ رضا کے شاگردوں کا
نام لیے گھبراتے  یہ ہیں
حامد منی انا من حامد
حمد سے ہمد کماتے یہ ہیں
عبد سلام سلامت جس سے
سخت آفات میں آتے یہ ہیں
میرے ظفر کو اپنی ظفر دے
اس سے شکستیں کھاتے یہ ہیں
          حجۃ الاسلام مولانا حامد رضا خان اور مولا
1