🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
*📚 « امجــــدی مضــــامین » 📚*
-----------------------------------------------------------
*🕯ہے زندگی کا مقصد اوروں کے کام آنا🕯*


📬 اسلام صرف چند عبادتوں(نماز،روزہ،زکوٰۃ،حج وغیرہ کی ادائیگی )کے مجموعے کا نام نہیں ہے۔بلکہ یہ زندگی گزارنے کا مکمل سانچہ ہمارے سامنے پیش کرتا ہے۔

جس کے مطابق زندگی گزار کر ہی ہم کام یابی وکامرانی سے ہم کنار ہوسکتے ہیں۔ اسلام سراسرخیر خواہی کا مذہب ہے۔

قرآن مقدس میں جگہ جگہ پر حقوق العباد کی فضیلت و اہمیت کو بیا ن کیا گیا ہے۔ دوسروں کا ساتھ دینا ،ضرورت مندوں کی امداد کرنا اور حاجت مندوں کی حاجت روائی کرنا اسلام کا بنیادی درس ہے۔

دین اسلام نے مذکورہ امور کی ادائیگی کو کار ثواب اور رب کو راضی کرنے کا نسخہ بتایا ہے۔

لیکن ہم نے اسلامی تعلیمات کو پس پشت ڈال دیا۔ بالخصوص حقوق العباد کو تو عبادت ہی تصور نہیں کرتے۔

بس یہی وجہ ہے کہ ہم میں اتحاد و اتفاق نہیں ہے۔ اخوت و محبت، رواداری اور بھائی چارہ کا احساس ختم ہوگیا ہے۔ ہم اتنے خود غرض ہوگیے ہیں کہ ہمیں اپنی ذات کے سوا کچھ نظر نہیں آتا۔

ہم اپنے ہی ہاتھوں اپنی جڑیں کاٹ رہے ہیں۔ یقین جانیں! دنیا میں جو انسانیت سسک رہی ہے ہم سب اس میں برابر کے شریک ہیں۔

وہ معاشرہ ترقی یافتہ اور خوش حال کیسے ہوسکتا ہے؟ جس معاشرے میں عدم مساوات، رشوت خوری، کام چوری، جھوٹ و چغلی، تکبر و حسد اور سیاسی خود غرضی جیسے رجحانات پائے جاتے ہوں۔

مذکورہ اسباب کی سب سے پہلی وجہ اللہ رب العزت کا خوف دل میں نہ ہونا ہے۔ اور یہی وہ بنیادی نکتہ ہے جہاں سے معاشرے کے تنزلی کی شروعات ہوتی ہے۔

اللہ رب العزت ارشاد فرماتا ہے: اِنَّمَا الْمُؤمِنُوْنَ اِخْوَۃٌ فَاَصْلِحُوْا بَیْنَ اَخَوَیْکُمْ ۔(الحجرات،آیت ۱۰)۔

ترجمہ:مسلمان مسلمان بھائی ہیں (کہ آپس میں دینی رابطہ اور اسلامی محبت کے ساتھ مربوط (جوڑے ہوئے) ہیں یہ رشتہ تمام دنیوی رشتوں سے قوی تر ہے) تو اپنے دو بھائیوں میں صلح کرو(جب کبھی ان میں نزاع(رنجش)واقع ہو )۔(کنز الایمان؍خزائن العرفان)۔

ایک مقام پر ارشاد فرماتا ہے
یَسْئَلُوْنَکَ مَاذَا یُنْفِقُوْنَ،قُلْ مَآاَنْفَقْتُمْ مِّنْ خَیْرٍ فَلِلْوَالِدَیْنِ وَالْاَقْرَبِیْنَ وَالْیَتٰمیٰ وَ الْمَسٰکِیْنِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِ،وَمَاتَفْعَلُوْا مِنْ خَیْرٍ فَاِنَّ اللہَ بِہٖ عَلِیْمٌ ۔(البقرۃ،آیت۲۱۵

ترجمہ:(اے محبوب)تم سے پوچھتے ہیں کیا خرچ کریں؟تم فرماؤجو کچھ مال نیکی میں خرچ کرو تو وہ ماں باپ اور قریب کے رشتہ داروں اور یتیموں اور محتاجوں اور راہ گیر کے لیے ہے۔اور جو بھلائی کرو بے شک اللہ اسے جانتا ہے۔(کنز الایمان)۔

اور بخاری شریف میں ہے،نبی کریم ﷺ ارشاد فرماتے ہیں : اَلْمُسْلِمُ اَخُو الْمُسْلِمِ لَایَظْلِمُہٗ وَ لَا یُسْلِمُہٗ وَمَنْ کَانَ فِیْ حَاجَۃِ اَخِیْہِ کَانَ اللہُ فِیْ حَاجَتَہٖ وَمَنْ فَرَّجَ عَنْ مُسْلِمٍ کُرْبَۃً فَرَّجَ اللہُ عَنْہُ کُرْبَۃً مِنْ کُرُبَاتِ یَوْمِ الْقِیَامَۃِ وَمَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا سَتَرَہُ اللہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔

ترجمہ: مسلمان مسلمان کا بھائی ہے ۔نہ اس پر ظلم کرے نہ اس پر ظلم ہونے دے۔اور جو اپنے بھائی کی حاجت میں رہے گا اللہ تعالیٰ اس کی حاجت روائی فرمائےگا ۔

اور جو کسی مسلمان کی کوئی تکلیف دور کرےگا ،اللہ تعالیٰ اس کی قیامت کی تکلیفوں میں سے کوئی تکلیف دور کرےگا اور جوکوئی مسلمان کی پردہ پوشی کرےگا ،اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی پردہ پوشی فرمائے گا۔ (صحیح بخاری،کتاب المظالم،باب لایظلم المسلم المسلم ولا یسلمہ،ج:۱،ص:۳۳۰)۔

ارشاد باری تعالیٰ و ارشاد رسول ﷺ کا تیور بتارہا ہے کہ حقوق اللہ کے ساتھ ساتھ حقوق العباد بھی ہے ۔ جو ہر مسلمان کو اخوت کے رشتہ میں باندھ رہاہے۔ اور وہی اخوت انسانی و ایمانی تمام مسلمانوں کو پابند کررہا ہے کہ ایک دوسرے کی مدد کرے، خوشی وغم میں باہم شریک رہے۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : الْمُؤْمِنُ مِرْاٰۃُ الْمُؤْمِنِ وَ الْمُؤمِنُ اَخُوْ الْمُؤمِنِ یَکُفُّ عَلَیْہِ ضَیْعَتَہٗ وَ یَحُوْطُہٗ مِنْ وَّ رَائِہٖ
ترجمہ: مومن مومن کا آئینہ ہے۔مومن مومن کا بھائی ہے۔جہاں بھی ملے اسے نقصان سے بچاتا اور پیٹھ پیچھے اس کی حفاظت کرتا ہے۔ (سنن ابودائود،کتاب الادب،باب فی النصیحۃ،ص:۶۷۳)۔

نبی کریم ﷺ پر جب پہلی وحی نازل ہوئی تو آپ ﷺ نے اس کیفیت کو حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے بیان فرمایا،تو حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے آپﷺ کی پوری زندگی کو چند جملوں میں بیان کردیا۔اور وہ جملے حقوق العباد ،دوسروں کے کام آنے اور اعانت و استعانت سے مربوط تھے۔ وہ مندرجہ ذیل جملے تھے

۔(۱) اِنَّکَ لَتَصِلَ الرَّحِمَ (آپ ﷺ صلح رحمی فرماتے ہیں)۔
۔(۲) وَ تَحْمِلُ الْکُلَّ (اور لوگوں کا بار اٹھاتے ہیں)۔