Forwarded from فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
جب اہل اسلام نے مکہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی تو اس وقت مہاجرین چونکہ انتہائی بے سروسامانی کی حالت میں بالکل خالی ہاتھ اپنے اہل و عیال کو چھوڑ کر مدینہ آئے تھے اس لیے پردیس میں مفلسی کے ساتھ وحشت اور بیگانگی اور اپنے اہل و عیال کی جدائی کا صدمہ محسوس کرتے تھے۔ حالانکہ انصار نے ان مہاجرین کی مہمان نوازی اور دلجوئی میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی تھی۔
لیکن مہاجرین دیر تک دوسروں کے سہارے زندگی بسر کرنا پسند نہیں کرتے تھے اس لیے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیال فرمایا کے انصار و مہاجرین میں رشتہ اخوت قائم کرکے ان کو بھائی بھائی بنا دیا جائے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے مکان میں انصار و مہاجرین کو جمع فرمایا اس وقت تک مہاجرین کی تعداد 45 سے50 تھی ۔
حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے انصار کو مخاطب کر کے فرمایا کہ یہ مہاجرین تمہارے بھائی ہیں پھر مہاجرین و انصار میں سے دو دو شخص کو فرماتے گئے کہ یہ اور تم بھائی بھائی ہیںحضور علیہ السلام کے ارشاد فرماتے ہیں یہ رشتہ اخوت بالکل حقیقی بھائی جیسا رشتہ بن گیا چنانچہ انصار نے مہاجرین کو ساتھ لے جاکر اپنے گھر کی ایک ایک چیز سامنے لا کر رکھ دی۔
اور کہہ دیا کہ آپ ہمارے بھائی ہیں اس لیے ان سب سامانوں میں آدھا آپ کا اور آدھا ہمارا ہے حد تو تب ہو گئی کہ حضرت سعد بن ربیع انصاری جو حضرت عبدالرحمن بن عوف مہاجر کے بھائی قرار پائے تھے۔ ان کی دو بیویاں تھیں حضرت سعد بن ربیع انصاری رضی اللہ عنہ نے حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے کہا کہ میری ایک بیوی جیسے آپ پسند کریں میں اس کو طلاق دے دوں۔ اور آپ اس سے نکاح کر لیں۔
الله اکبر!!! اس میں شک نہیں کہ انصار کا یہ ایثار ایک ایسا بے مثال شاہکار ہے کہ اقوام عالم کی تاریخ میں اس کی مثال مشکل ہی ہےسے ملے گی۔ مگر مہاجرین نے جو طرز عمل اختیار کیا یہ بھی ایک قابل تقلید تاریخی کارنامہ ہے۔
اور بھی بہت سی مثالیں تاریخ اسلام میں موجود ہیں آخر میں یہی کہوں گا کہ اہل اسلام اگر آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ نرم ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ کوئی بھی گستاخ آزادی رائے کو سامنے رکھتے ہوئے ہمارے آقا ﷺ کی شان میں ادنی سی بھی گستاخی کرے ۔ ورنہ تو ہمارے پاس أَشِدَّاء عَلَى الْكُفَّارِ کا پہلو بھی موجود ہے جس کا انجام ابو جہل اور دوسرے کفارہ مکہ ہی جانتے ہیں
ہو حلقہ ٔ یاراں تو بریشم کی طرح نرم
رزمِ حق و باطل ہو تو فولاد ہے مؤمن
https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*از قلم✍🏻 مفتی محمد فہیم جیلانی مصباحی، معصوم پوری مرادآباد، یوپی، انڈیا۔*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
لیکن مہاجرین دیر تک دوسروں کے سہارے زندگی بسر کرنا پسند نہیں کرتے تھے اس لیے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیال فرمایا کے انصار و مہاجرین میں رشتہ اخوت قائم کرکے ان کو بھائی بھائی بنا دیا جائے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے مکان میں انصار و مہاجرین کو جمع فرمایا اس وقت تک مہاجرین کی تعداد 45 سے50 تھی ۔
حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے انصار کو مخاطب کر کے فرمایا کہ یہ مہاجرین تمہارے بھائی ہیں پھر مہاجرین و انصار میں سے دو دو شخص کو فرماتے گئے کہ یہ اور تم بھائی بھائی ہیںحضور علیہ السلام کے ارشاد فرماتے ہیں یہ رشتہ اخوت بالکل حقیقی بھائی جیسا رشتہ بن گیا چنانچہ انصار نے مہاجرین کو ساتھ لے جاکر اپنے گھر کی ایک ایک چیز سامنے لا کر رکھ دی۔
اور کہہ دیا کہ آپ ہمارے بھائی ہیں اس لیے ان سب سامانوں میں آدھا آپ کا اور آدھا ہمارا ہے حد تو تب ہو گئی کہ حضرت سعد بن ربیع انصاری جو حضرت عبدالرحمن بن عوف مہاجر کے بھائی قرار پائے تھے۔ ان کی دو بیویاں تھیں حضرت سعد بن ربیع انصاری رضی اللہ عنہ نے حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے کہا کہ میری ایک بیوی جیسے آپ پسند کریں میں اس کو طلاق دے دوں۔ اور آپ اس سے نکاح کر لیں۔
الله اکبر!!! اس میں شک نہیں کہ انصار کا یہ ایثار ایک ایسا بے مثال شاہکار ہے کہ اقوام عالم کی تاریخ میں اس کی مثال مشکل ہی ہےسے ملے گی۔ مگر مہاجرین نے جو طرز عمل اختیار کیا یہ بھی ایک قابل تقلید تاریخی کارنامہ ہے۔
اور بھی بہت سی مثالیں تاریخ اسلام میں موجود ہیں آخر میں یہی کہوں گا کہ اہل اسلام اگر آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ نرم ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ کوئی بھی گستاخ آزادی رائے کو سامنے رکھتے ہوئے ہمارے آقا ﷺ کی شان میں ادنی سی بھی گستاخی کرے ۔ ورنہ تو ہمارے پاس أَشِدَّاء عَلَى الْكُفَّارِ کا پہلو بھی موجود ہے جس کا انجام ابو جہل اور دوسرے کفارہ مکہ ہی جانتے ہیں
ہو حلقہ ٔ یاراں تو بریشم کی طرح نرم
رزمِ حق و باطل ہو تو فولاد ہے مؤمن
https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*از قلم✍🏻 مفتی محمد فہیم جیلانی مصباحی، معصوم پوری مرادآباد، یوپی، انڈیا۔*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
Telegram
فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
اہلسنت و جماعت مسلک اعلیٰ حضرت کا ترجمان، وسط ہند کی عظیم درسگاہ " دارالعلوم امجدیہ ناگپور مہاراشٹرا" کے نام سے منسوب گروپ
❤1