🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
*📚 « امجــــدی مضــــامین » 📚*
-----------------------------------------------------------
*🕯رزم حق و باطل ہو تو فولاد ہے مؤمن🕯*


📬
تصویر کا پہلا رخ

مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ وَالَّذِیْنَ مَعَہٓٗ اَشِدَّآء عَلَی الْکُفَّارِ رُحَمَآء بَیْنَہُمْ : محمد اللہ کے رسول ہیں۔ اور جو ان کے ساتھ ہیں‘ وہ کافروں پر بہت بھاری اور دوسرے مقام پر اللہ رب العالمین ارشاد فرماتا ہے: اَعِزَّۃٍ عَلَی الْکٰفِرِیْنَ وہ کافروں پر بہت بھاری ہوں گے

اور کیوں نہ ہوں اس لیے کہ جب پیغمبر اسلام کو دلائل اور مواعظہ حسنہ کے ذریعہ لوگوں کو اسلام کی دعوت دینے کا حکم ہوا اور مسلمانوں کو کفار کی ایذاؤں پر صبر کا حکم ہوا تو کافروں نے مسلمانوں پر بڑے بڑے ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے۔

اور خود رسول اعظم کو بھی بہت سی تکلیفوں کا سامنا کرنا پڑاآپ فرماتے ہیں کہ اے عائشہ رضی اللہ عنہا!! وہ دن میرے لئے جنگ احد کے دن سے بھی زیادہ سخت تھا ( میدان احد میں سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ آقا علیہ السلام کے دندان مبارک اور ہونٹ مقدس زخمی ہوگئے۔ اور آپ کے چچا حضرت ہمزہ رضی اللہ عنہ اور بہت سے جانثار صحابہ بھی شہید ہوئے) جب میں نے طائف میں وہاں کے ایک سردار عبد یا لیل کو اسلام کی دعوت دی۔

اس نے دعوت اسلامی کو حقارت کے ساتھ ٹکرا دیا اور اہل طائف نے مجھ پر پتھراؤ کیا یہاں تک کہ میں لہولہان ہوگیااور پیغمبر اعظم کے قتل کے منصوبے بنایے جانے لگے یہاں تک کہ کاشانئہ نبوت کا محاصرہ کرلیا مگر مسلمانوں نے کبھی انتقام کے لیے ہتھیار نہیں اٹھایا بلکہ ہمیشہ صبر و تحمل کے ساتھ کفار کی ایذاؤں اور تکلیفوں کو برداشت کرتے رہے

لیکن ہجرت کے بعد جب سارا عرب اور یہودی ان مٹھی بھر مسلمان کے جانی دشمن ہو گئے اور ان مسلمانوں کو فنا کے گھاٹ اتار دینے کا عزم کر لیا۔ تو خداوند قدوس نے مسلمانوں کو یہ اجازت دی کہ جو لوگ تم سے جنگ کی ابتدا کریں ان سےتم بھی لڑ سکتے ہو۔

یہ آیت کریمہ نازل ہوئی (أُذِنَ لِلَّذِينَ يُقَاتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا ۚ وَإِنَّ اللَّهَ عَلَىٰ نَصْرِهِمْ لَقَدِيرٌ ) ترجمہ؛ جن سے لڑائی کی جاتی ہے (مسلمان) ان کو بھی اب لڑنے کی اجازت دی جاتی ہے کیوںکہ وہ (مسلمان) مظلوم ہیں اور خدا ان کی مدد پر یقین قادر ہے۔

پھر تو یہ ہوا کہ نو سال میں حضور ﷺ کو چھوٹی بڑی چھیاسٹھ لڑائیوں کا سامنا کرنا پڑا۔( جس میں غزوات و سرایا سبھی شامل ہیں) صحابہ کرام پوری جانثاری کے ساتھ لڑے اور اسلام کے لیے اپنی جان کی پرواہ نہ کی۔یہی وجہ تھی کہی تین سو تیرہ گیارہ سو پر بھی بھاری پڑے۔

تو کبھی باب خیبر(جس کو چالیس لوگ مل کر نہ اکھاڑ سکے) اس کو علی مشکل کشا نے تن تنہا اکھاڑ پھینکا تو کبھی نعرہ تکبیر ورسالت کی صدا بلند کر کافروں کی بنیادوں کو ہلا ڈالا پھر تو یہ ہوا کہ فتح مسلمانوں کا مقدر بن گیا اور خود بھی شہید ہوئے تو بہت سے کافروں اور گستاخ رسول ﷺ کو واصل نار بھی کیا۔ ان مٹھی بھرمسلمانوں نے بڑی سے بڑی سلطنتوں کو دھول چٹائی۔

اور صحابہ کرام اپنے اس عہد و پیمان پر کھرے اترے جو حضور ﷺ سے کیا جب سرکار نے فرمایا تھا کہ مَنْ اَطَاعَنِیْ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰہَ، وَمَنْ عَصَانِیْ فَقَدْ عَصَی اللّٰہَ، وَمَنْ اَطَاعَ اَمِیْرِیْ فَقَدْ اَطَاعَنِیْ ، وَمَنْ عَصٰی اَمِیْرِیْ فَقَدْ عَصَانِیْ)) ’’جس نے میری اطاعت کی اُس نے اللہ کی اطاعت کی اور جس نے میری نا فرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی اور جس نے میرے مقرر کردہ امیر کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی اور جس نے میرے مقرر کردہ امیر کی نافرمانی کی اس نے میری نافرمانی کی۔

تو صحابہ کرام کہنے لگے۔’’کہ ہم نے اللہ کے رسول سے بیعت کی کہ ہم سنیں گے اور اطاعت کریں گے‘ خواہ آسانی ہو یا مشکل‘ خواہ ہماری طبیعت آمادہ ہو یا ہمیں اس پر جبر کرنا پڑے‘ اور خواہ دوسروں کو ہمارے اوپر ترجیح دے دی جائے۔ ہم اصحابِ اختیار سے جھگڑیں گے نہیں‘ لیکن سچ بولیں گے جہاں کہیں بھی ہم ہوں گے‘ اور اللہ کے معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے بے خوف رہیں گے۔

ہو حلقہ ٔ یاراں تو بریشم کی طرح نرم !!!۔


تصویر کا دوسرا رخ

ہاں یہ بات بھی قرآن کریم ہی سے ثابت ہے مومنین آپس میں بہت رحم دل ہیں‘‘ جیسا کہ اللہ رب العزت نے فرمایا رُحَمَآء بَیْنَہُمْ اور اس رحم دلی کو اللہ رب العزت نے دوسری جگہ اس انداز میں بیان کیا”وہ اہل ایمان کے حق میں بہت نرم ہوں گے” (اَذِلَّۃٍ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ)۔

احادیثِ نبوی اور تواریخ اسلام بھی اس بات پر شاہد ہے کہ یقینا اہل ایمان ایک دوسرے پر نہایت ہی نرم دل اور شفقت کرنے والے ہیں ۔

اور تاریخ میں ایک باب ” انصار اور مہاجرین میں رشتئہ اخوت کا بھی ہے۔
2