Forwarded from فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
ہرقسم کا مضمون رقم کرنے سے قبل مجدد ممدوح کے فیصلوں کو دیکھ لیتا ہوں۔پہلی قسم کی تحریروں میں عام طورپر مجدد موصوف کا حوالہ رقم نہیں کرتا،کیوں کہ ان کا نام آتے ہی وہ اس جانب متوجہ نہیں ہوسکتے،بلکہ عنادو ضداور تعصب وحسدکے سبب ماننے سے بھی انکار کریں گے۔
قسم دوم میں امام موصو ف کی تحریروں کو نقل کرتا ہوں،تاکہ احباب قبول فرمائیں۔
اپنی حیثیت میں نے رقم کردی کہ اسلامی تعلیم گاہوں میں داخل ہوا،پھر توفیق الٰہی سے محنت ومشقت کی تو دوچار دینی باتیں جانا اورپھر صحیح سمجھ کر بعض باتیں احباب کو شیئر کرنے لگا۔ما وشما معصوم بھی نہیں اور محفوظ بھی نہیں، اس لیے خود بھی اپنی تحریروں پر تنقیدی نظر رکھتا ہوں اوربار بار احباب سے بھی لغزش وخطا کی نشاندہی کی گزارش کرتا ہوں۔
عام طورپر اعتقادی امورسے متعلق مجددموصوف کے تلامذہ وخلفا اور ان کے وابستگان کی تحریروتقریر اور تشریح وتوضیح مجددگرامی کی تعلیمات سے ما خوذ ہوتی ہیں۔
جس طرح فقہی مسائل کی تشریح میں ان کے وابستگان کی تشریح وتوضیح میں اختلاف ممکن ہے، جیسے ماضی قریب میں ٹرین کے مسئلہ میں مجددگرامی کی تحریر کی دوتشریح پیش کی گئی۔
اسی طرح اعتقادی مسائل کی تشریح وتوضیح میں بھی عقلی طورپردوقسم کی تشریح وتوضیح کا امکان موجود ہے۔ ہا ں،یہ ضرورہے کہ قطعیات میں ایک حق ہے اور اس کے علاوہ سب باطل۔وہاں پر اصول وضوابط کی روشنی میں صحیح مفہوم تک پہنچنا ہمارے لیے ضروری ہے،اسی لیے علمائے کرام کی بارگاہ عالی میں دستگیری وعلمی تعاون کی عرضی پیش کرتا ہوں۔
ابھی میری حالیہ تحریریں خاص کر اہل مذہب کی تفہیم کے لیے ہیں۔ ان شاء اللہ تعالیٰ شب معراج اقدس تک یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ جواحباب قلت فرصت کے سبب فی الوقت نہ پڑھ سکیں۔ان شاء اللہ تعالیٰ بعد میں تصحیح کے ساتھ مجموعہ ان کی خدمت میں پیش کردوں گا۔
کچھ مشکلات وضرورات ہیں۔ امیدقوی ہے کہ جس شب مبارک کواللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے حبیب علیہ الصلوٰۃوالسلام کو بے شمارعظیم نعمتوں سے سرفراز فرمایاتھا،اس شب مبارک کو ان کے کلمہ خوانوں کو ضرور کچھ نہ کچھ عطا فرمائے گا۔
اورانعامات عظمیٰ ودرجات کبریٰ سے سرفرازی کی خوشی میں خود قاسم نعمت الٰہیہ،رب تعالیٰ کے نائب مطلق،غربا ومساکین پر خاص نظر رحمت فرمانے والے آقا،دنیا وآخرت میں ہمارے ماویٰ وملجا،رحمت مجسم (علیہ الصلوٰۃوالسلام)بھی فقیروں کے کشکول میں کچھ نہ کچھ ضرورعطا فرمائیں گے۔
دربار اعظم کا ہرایک ذرہ کوہ ہمالہ سے کئی گناعظیم تر ہوتا ہے۔مجھے تو کبھی بھیک نہیں ملی۔اتنا زیادہ ملاکہ وہ الطاف خسروانہ وانعامات شاہانہ ہیں۔میں اسے بھیک کیسے کہوں؟
جس طر ح فقیر کسی کے دروازہ پرجاتا ہے تو صدا لگاتا ہے،تاکہ اہل خانہ اس جانب متوجہ ہوں۔ اسی طرح اس سلسلہ کی ساری تحریریں ”صدائے درویش“کی مانند ہیں۔ ان صداؤں میں قوم کی بھلائی کا عنصربھی مضمر ہے۔ آپ چاہیں تو مجھے عقل مند فقیر کہہ سکتے ہیں۔اللہ ورسول (عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ تعالیٰ علیہ وسلم)
قبول فرمائیں
ع/ گرقبول افتد زہے عزوشرف
https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*از قلم✍🏻 طارق انور مصباحی، مدیر : ماہنامہ پیغام شریعت دہلی۔*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
قسم دوم میں امام موصو ف کی تحریروں کو نقل کرتا ہوں،تاکہ احباب قبول فرمائیں۔
اپنی حیثیت میں نے رقم کردی کہ اسلامی تعلیم گاہوں میں داخل ہوا،پھر توفیق الٰہی سے محنت ومشقت کی تو دوچار دینی باتیں جانا اورپھر صحیح سمجھ کر بعض باتیں احباب کو شیئر کرنے لگا۔ما وشما معصوم بھی نہیں اور محفوظ بھی نہیں، اس لیے خود بھی اپنی تحریروں پر تنقیدی نظر رکھتا ہوں اوربار بار احباب سے بھی لغزش وخطا کی نشاندہی کی گزارش کرتا ہوں۔
عام طورپر اعتقادی امورسے متعلق مجددموصوف کے تلامذہ وخلفا اور ان کے وابستگان کی تحریروتقریر اور تشریح وتوضیح مجددگرامی کی تعلیمات سے ما خوذ ہوتی ہیں۔
جس طرح فقہی مسائل کی تشریح میں ان کے وابستگان کی تشریح وتوضیح میں اختلاف ممکن ہے، جیسے ماضی قریب میں ٹرین کے مسئلہ میں مجددگرامی کی تحریر کی دوتشریح پیش کی گئی۔
اسی طرح اعتقادی مسائل کی تشریح وتوضیح میں بھی عقلی طورپردوقسم کی تشریح وتوضیح کا امکان موجود ہے۔ ہا ں،یہ ضرورہے کہ قطعیات میں ایک حق ہے اور اس کے علاوہ سب باطل۔وہاں پر اصول وضوابط کی روشنی میں صحیح مفہوم تک پہنچنا ہمارے لیے ضروری ہے،اسی لیے علمائے کرام کی بارگاہ عالی میں دستگیری وعلمی تعاون کی عرضی پیش کرتا ہوں۔
ابھی میری حالیہ تحریریں خاص کر اہل مذہب کی تفہیم کے لیے ہیں۔ ان شاء اللہ تعالیٰ شب معراج اقدس تک یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ جواحباب قلت فرصت کے سبب فی الوقت نہ پڑھ سکیں۔ان شاء اللہ تعالیٰ بعد میں تصحیح کے ساتھ مجموعہ ان کی خدمت میں پیش کردوں گا۔
کچھ مشکلات وضرورات ہیں۔ امیدقوی ہے کہ جس شب مبارک کواللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے حبیب علیہ الصلوٰۃوالسلام کو بے شمارعظیم نعمتوں سے سرفراز فرمایاتھا،اس شب مبارک کو ان کے کلمہ خوانوں کو ضرور کچھ نہ کچھ عطا فرمائے گا۔
اورانعامات عظمیٰ ودرجات کبریٰ سے سرفرازی کی خوشی میں خود قاسم نعمت الٰہیہ،رب تعالیٰ کے نائب مطلق،غربا ومساکین پر خاص نظر رحمت فرمانے والے آقا،دنیا وآخرت میں ہمارے ماویٰ وملجا،رحمت مجسم (علیہ الصلوٰۃوالسلام)بھی فقیروں کے کشکول میں کچھ نہ کچھ ضرورعطا فرمائیں گے۔
دربار اعظم کا ہرایک ذرہ کوہ ہمالہ سے کئی گناعظیم تر ہوتا ہے۔مجھے تو کبھی بھیک نہیں ملی۔اتنا زیادہ ملاکہ وہ الطاف خسروانہ وانعامات شاہانہ ہیں۔میں اسے بھیک کیسے کہوں؟
جس طر ح فقیر کسی کے دروازہ پرجاتا ہے تو صدا لگاتا ہے،تاکہ اہل خانہ اس جانب متوجہ ہوں۔ اسی طرح اس سلسلہ کی ساری تحریریں ”صدائے درویش“کی مانند ہیں۔ ان صداؤں میں قوم کی بھلائی کا عنصربھی مضمر ہے۔ آپ چاہیں تو مجھے عقل مند فقیر کہہ سکتے ہیں۔اللہ ورسول (عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ تعالیٰ علیہ وسلم)
قبول فرمائیں
ع/ گرقبول افتد زہے عزوشرف
https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*از قلم✍🏻 طارق انور مصباحی، مدیر : ماہنامہ پیغام شریعت دہلی۔*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
Telegram
فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
اہلسنت و جماعت مسلک اعلیٰ حضرت کا ترجمان، وسط ہند کی عظیم درسگاہ " دارالعلوم امجدیہ ناگپور مہاراشٹرا" کے نام سے منسوب گروپ
❤1
صاحب کتاب الشفاء، قاضی امام ابو الفضل عیاض بن موسی بن عیاض مالکی مغربی علیہ رحمۃ اللہ القوی کی ولادت مغرب اور موجودہ اسپین کے سرحد علاقے سبتہ یا سیوتا میں ماہ شعبان المعظم 476ھ مطابق 1083ء میں ہوئی۔ آپ مشہور ادیب، مؤرخ، فقیہ، محدث اور عاشق رسول ﷺ ہیں۔ یوں تو آپ کی تصانیف کی تعداد 22 کے قریب کے مگر آپ خصوصاً اپنی مایہ ناز کتاب مستطاب ”الشفاء بتعریف حقوق المصطفی“ کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہوئے۔ اس کتاب کی تقریباً 26 کے قریب شروحات و تلخیصات ہو چکی ہیں۔ علماء فرماتے ہیں کہ جس گھر میں یہ کتاب ہو وہاں جادو کا اثر نہ ہوگا اور اس کا پڑھنے والا بیماریوں، ڈوبنے اور جلنے سے محفوظ رہے گا۔ آپ کا شمار مالکی مذہب کے اساطین اور مراکش کے سات مشہور اقطاب میں ہوتا ہے۔ آپ نے 68 برس کی عمر میں 9 جمادی الاخری 544ھ مطابق 1145ء شب جمعہ کو وصال فرمایا، مزار مبارک مغرب (موروکو) کے شہر مراکش کی فصیل کے اندر ہے۔ (بستان المحدثین، کتاب الشفاء)
https://www.facebook.com/286386582084187/posts/969161807139991/
https://www.facebook.com/286386582084187/posts/969161807139991/
❤1