🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
*📚 « امجــــدی مضــــامین » 📚*
-----------------------------------------------------------
*🕯بلعم بن باعوراء کا واقعہ🕯*


📬 وَاتْلُ عَلَیْهِمْ نَبَاَ الَّذِیْۤ اٰتَیْنٰهُ اٰیٰتِنَا:
اور اے محبوب! انہیں اس آدمی کا حال سناؤ جسے ہم نے اپنی آیات عطا فرمائیں۔
*شانِ نزول:* حضرت عبداللہ بن عباس، عبداللہ بن مسعود اور امام مجاہد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم فرماتے ہیں:
’’ یہ آیت بلعم بن باعوراء کے بارے میں نازل ہوئی۔
*(تفسیرکبیر، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۷۵، ۵ / ۴۰۳)*

حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں کہ جب حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے جَبّارین سے جنگ کا ارادہ کیا اور سر زمینِ شام میں نزول فرمایا تو بلعم بن باعوراء کی قوم اس کے پاس آئی اور اس سے کہنے لگی کہ:
’’ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام بہت تیز مزاج ہیں اور اُن کے ساتھ بہت بڑا لشکر ہے ،وہ یہاں اس لئے آئے ہیں تاکہ ہم سے جنگ کریں اور ہمیں ہمارے شہروں سے نکال کر ہماری بجائے بنی اسرائیل کو اس سرزمین میں آباد کریں ، تیرے پاس اسمِ اعظم ہے اور تم ایسے شخص ہو کہ تمہاری ہر دعا قبول ہوتی ہے، تم نکلو اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرو کہ وہ اُنہیں یہاں سے بھگا دے۔
قوم کی بات سن کر بلعم نے کہا: افسوس ہے تم پر! حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اللہ تعالیٰ کے نبی ہیں ، اُن کے ساتھ فرشتے اور ایمان دار لوگ ہیں ،اس لئے میں اُن کے خلاف کیسے بد دعا کر سکتا ہوں ! مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو علم ملا ہے اس کا تقاضا یہ ہے کہ اگر میں نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے خلاف ایسا کیا تو میری دنیا و آخرت برباد ہوجائے گی۔ قوم نے جب گریہ وزاری کے ساتھ مسلسل اصرار کیا تو بلعم نے کہا :اچھا! میں پہلے اپنے رب کی مرضی معلوم کر لوں۔ بلعم کا یہی طریقہ تھا کہ جب کبھی کوئی دعا کرتا تو پہلے مرضی ٔالٰہی معلوم کرلیتا اور خواب میں اس کا جواب مل جاتا۔
چنانچہ اس مرتبہ اس کو یہ جواب ملا کہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور اُن کے ساتھیوں کے خلاف دعا نہ کرنا۔ چنانچہ اُس نے قوم سے کہہ دیا کہ:
’’میں نے اپنے رب سے اجازت چاہی تھی مگر میرے رب نے اُن کے خلاف بد دعا کرنے کی ممانعت فرما دی ہے۔ پھر اس کی قوم نے اسے ہدیئے اور نذرانے دیئے جنہیں اُس نے قبول کر لیا ۔اس کے بعد قوم نے دوبارہ اس سے بد دعا کرنے کی درخواست کی تو دوسری مرتبہ بلعم نے رب تبارک و تعالیٰ سے اجازت چاہی۔ اب کی بار اس کا کچھ جواب نہ ملا تو اُس نے قوم سے کہہ دیا کہ:
’’ مجھے اس مرتبہ کچھ جواب ہی نہیں ملا۔ وہ لوگ کہنے لگے کہ۔
’’اگر اللہ تعالیٰ کو منظور نہ ہوتا تو وہ پہلے کی طرح دوبارہ بھی صاف منع فرما دیتا، پھر قوم نے اور بھی زیادہ اصرار کیا حتّٰی کہ وہ ان کی باتوں میں آ گیا۔ چنانچہ بلعم بن باعوراء اپنی گدھی پر سوار ہو کر ایک پہاڑ کی طرف روانہ ہوا۔ گدھی نے اسے کئی مرتبہ گرایا اور وہ پھر سوار ہو جاتا حتّٰی کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے حکم سے گدھی نے اس سے کلام کیا اور کہا: افسوس! اے بلعم! کہاں جا رہے ہو؟
کیا تم دیکھ نہیں رہے کہ فرشتے مجھے جانے سے روک رہے ہیں۔ (شرم کرو) کیا تم اللہ تعالیٰ کے نبی اور فرشتوں کے خلاف بد دعا کرنے جا رہے ہو؟
بلعم پھر بھی باز نہ آیا اور آخر کار وہ بد دعا کرنے کے لئے اپنی قوم کے ساتھ پہاڑ پر چڑھا۔ اب بلعم جو بد دعا کرتا اللہ تعالیٰ اس کی زبان کو اس کی قوم کی طرف پھیر دیتا تھا اور اپنی قوم کے لئے جو دعائے خیر کرتا تھا تو بجائے قوم کے بنی اسرائیل کا نام اُس کی زبان پر آتا تھا۔
یہ دیکھ کر اس کی قوم نے کہا: اے بلعم! تو یہ کیا کر رہا ہے؟ بنی اسرائیل کیلئے دعا اور ہمارے لئے بد دعا کیو ں کر رہا ہے؟
بلعم نے کہا:’’ یہ میرے اختیار کی بات نہیں ،میری زبان میرے قبضہ میں نہیں ہے، اللہ تعالیٰ کی قدرت مجھ پر غالب آ گئی ہے۔ اتنا کہنے کے بعد اس کی زبان نکل کر اس کے سینے پر لٹک گئی۔
اس نے اپنی قوم سے کہا :میری تو دنیا و آخرت دونوں برباد ہوگئیں ،اب میں تمہیں ان کے خلاف ایک تدبیر بتاتا ہوں:
’’تم حسین و جمیل عورتوں کو بنا سنوار کر ان کے لشکر میں بھیج دو، اگر ان میں سے ایک شخص نے بھی بدکاری کر لی تو تمہارا کام بن جائے گا کیونکہ جو قوم زنا کرے اللہ تعالیٰ اس پر سخت ناراض ہوتا ہے اور اسے کامیاب نہیں ہونے دیتا۔
چنانچہ بلعم کی قوم نے اسی طرح کیا، جب عورتیں بن سنور کر لشکر میں پہنچیں تو ایک کنعانی عورت بنی اسرائیل کے ایک سردار کے پاس سے گزری تو وہ اپنے حسن و جمال کی وجہ سے اسے پسند آ گئی۔
حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے منع کرنے کے باوجود اس سردار نے اس عورت کے ساتھ بدکاری کی، اس کی پاداش میں اسی وقت بنی اسرائیل پر طاعون مُسلَّط کر دیا گیا۔
حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا مُشیر اس وقت وہاں موجود نہ تھا جب وہ آیا تو اس نے بدکاری کا قصہ معلوم ہونے کے بعد مرد و عورت دونوں کو قتل کر دیا۔
تب طاعون کا عذاب ان سے اٹھا لیا گیا ، لیکن اس دوران ستر ہزار اسرائیلی طاعون سے ہلاک ہو چکے تھے۔ اس آیت میں اس کا بیان ہے۔
*(بغوی، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۷۵، ۲ / ۱۷۹-۱۸۰)*
https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp

*المرتب قاضـی شعیب رضـا تحسینی امجـدی، ممبر "فیضـانِ دارالعـلوم امجـدیہ ناگپور گروپ" 7798520672*
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
*🕯 « احــکامِ شــریعت » 🕯*
-----------------------------------------------------------
*📚مخنث پر شرعی حکم نافذ ہوگا یا نہیں📚*


*السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ مفتیان عظام کی بارگاہ میں ایک سوال ہے کیا مخنث پر شرعی حکم نافذ ہوگا*


*📝الجواب: امور دین میں ان کے معاملے میں سب سے زیادہ ( محتاط) مسئلہ اختیار کیا جاے گا*
*چاہے اس کا تعلق عورتوں سے ہو یا مردوں سے*
*📙درمختار*

*اسکی چند مثالیں مندرجہ ذیل*

*۱ نماز میں بیٹھنے کی ہیئت اور ستر وغیرہ کے بارے میں ان کے احکا م عورتوں والے ہونگے*
*📕فتاوی سراجیہ*

*۲ اگر باجماعت نماز میں حاضر ہوں تو انھیں مردوں کے پیچھے کھڑا کیا جاے گا*
*📙درمختار*

*۳ ان کے لئے نامحرم کے ساتھ خلوت اختیار کرنا ناجائز وحرام ہے ( ایضا)*

*۴ ان کے لئے ریشم اور ناجائز زیور جیسے سونا پیتل تانبہ وغیرہ کی انگوٹھی چھلے یا چاندی کی ساڑھے چارماشہ سے زیادہ کی انگوٹھی پہننا ناجائز ہے*

*۵ چونکہ ان میں عورت ہونے کا احتمال بھی موجود ہے لھذا یہ بغیر محرم کے شرعی سفر اختیار نہیں کرسکتے ( ایضا)*

*۶ اگر یہ مرتد ہوجائیں تو انھیں قتل نہ کیا جاے گا*
*📕فتاوی سراجیہ*

*۷ اگر یہ جہاد میں حصہ لیں تو باقاعدہ ان کے لئے کوئی حصہ مقرر نہیں ہاں عورتوں کی مثل تھوڑا بہت دیا جاے گا*
*📙فتاوی سراجیہ*

*۸ اگر یہ حج یاعمرہ کریں تو عورتوں والا احرام ہوگا*
*📗جوہرہ نیرہ*

*۹ مرجانے کی صورت میں انھیں غسل دیا جاے گا اگر ذی رحم محرم ہوتو پانی کے ساتھ اور اگر کوئی محرم نہ ہو تو پھر اجنبی شخص ہاتھ پر کپڑا لپیٹ کر پاک مٹی سے تیمم کراے گا*
*📗فتاوی عالمگیری*

*۱۰ ان کا جنازہ پڑھایا جاے گا*
*📕ھدایہ*

*۱۱ انھیں عورتوں کی مثل پانچ کپڑوں میں کفن دیا جاے گا*
*📗جوہرہ نیرہ*

*۱۲ اگر یہ کسی کو زناء کی تہمت لگائیں تو ان پر حدقذف جاری ہوگی*
*📙جوہرہ نیرہ*

*۱۳ اگر ان پر کوئی زناء کی تہمت لگاے تو اس پر حدقذف نہیں ایضا*

*۱۴ اگر یہ چوری کریں اور تمام شرائط پائی جائیں تو ان کا ہاتھ کاٹا جاے گا ایضا*

*۱۵ امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کے نزدیک وراثت کے مسئلے میں یہ عورت کے حکم میں ہونگے*
*📕ھدایہ*

*📗حوالہ ہمارے مسائل اور ان کا حل جلد۲ ص 232*

*واللہ اعلم*


*📝ازقلم حضرت علامہ مولانا محمد اسماعیل خان امجدی صاحب قبلہ مدظلہ العالی و النورانی خادم التدریس دارالعلوم شہید اعظم دولھا پور گونڈہ یوپی ــــــــــــــــــ📞 9918562794*

https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp

This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
*📚 « مختصــر ســوانح حیــات » 📚*
-----------------------------------------------------------
*🕯امام المحدثین حضرت شاہ وصی احمد محدث سورتی رحمۃ اللہ علیہ🕯*


*نام و نسب:*
*اسمِ گرامی:* وصی احمد۔
*لقب:* شیخ المحدثین۔ علاقہ "سورت" کی نسبت سے سورتی کہلاتے ہیں۔
*سلسلۂ نسب اسطرح ہے:* مولانا وصی احمد محدث سورتی بن مولانا محمد طیب بن مولانا محمد طاہربن محمد قاسم بن محمد ابراہیم۔ (علیہم الرحمہ) آپ علیہ الرحمہ کا شجرۂ نسب صحابیِ رسول، حضرت سہیل بن حنیف رضی اللہ عنہ سے ملتا ہے۔ اور آپ اپنے نام کے ساتھ حنفی اور حنیفی لکھا کرتے تھے۔

*تاریخِ ولادت:* آپ کی ولادت باسعادت 1252ھ، مطابق 1836ء کو "راند یر" ضلع سورت، ہند وستان میں ہوئی۔

*تحصیل علم:* ابتدائی تعلیم اپنے والدِگرامی مولانا محمد طیب سورتی سے حاصل کی۔ مسجدِ فتح پور دہلی میں قیام کیا۔ اُس وقت مسجد فتح پور میں حضرت مفتی محمد مسعود محدث دہلوی درس و تدریس میں مصروف تھے۔ اُن کے ہی مشورے پر مدر سۂ حسین بخش میں داخلہ لیا اور علماء و فضلاء سے صرف و نحو، تفسیر و تراجم اور دیگر قرآنی علوم حاصل کیے اور ایک سال بعد 1279ھ میں" مدرسۂ فیض عام" کانپور میں داخلہ لیا اور تمام علوم میں فراغت حاصل کی۔طب کی تعلیم حکیم عبدالعزیز لکھنوی سے حاصل کی۔ آپ کے اساتذہ میں یہ نابغہ ٔروزگار ہستیاں ہیں۔ حضرت مولانا مفتی لطف اللہ علی گڑھی، حضرت مولانا احمد حسن کانپوری،حضرت شاہ فضل رحمن گنج مراد آبادی، حضرت مولانا محمد علی مونگیری، حضرت مولانا احمد علی محدث سہارنپوری۔ (علیہم الرحمہ)

*بیعت و خلافت:* اویسِ دوراں حضرت شاہ فضل رحمن گنج مراد آبادی علیہ الرحمۃ سے دوران تعلیم بیعت ہوئے اور تکمیلِ ریاضت کے بعد خلافت سر فراز ہوئے۔

*سیرت و خصائص:* امام المحدثین، استاذ المدرسین، جامع علومِ نقلیہ و عقلیہ، فقیہِ کامل، حامیِ سنتِ، دافعِ بدعت، محسنِ اہلِ سنت، محبِ اعلیٰ حضرت، وحید العصر، خادم الفقہِ والحدیث، شیخ الحدیث حضرت علامہ مولانا شاہ وصی احمدمحدث سورتی رحمۃ اللہ علیہ۔
آپ علیہ الرحمہ سراپا علم و حکمت تھے۔ تمام علوم پر مہارتِ تامہ حاصل تھی۔ باالخصوص فنِ حدیث میں وحیدِ زمانہ تھے۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ علم و فضل، تقویٰ وعمل میں اپنے اسلاف کی تصویر تھے۔ آپ نے انتہائی سادہ، نیک، باوضع، اور با اخلاق مزاج پایا تھا۔ لباس سادہ استعمال کرتے تھے اور معمولی غذا استعمال کرتے تھے۔ طلبہ سے بے پناہ محبت کرتے تھے۔غریب طلبہ کی مالی اعانت فرماتے تھے۔ عام مسلمانوں سے ہمدردی سے پیش آتے تھے۔

آپ کو غرور، تکبر، اور غیبت، بُرائی، سے شدید نفرت تھی۔تصوف سے خاص لگاؤ تھا، مگر خانقاہی زندگی اور ترک ِدنیا سے ہمیشہ گریزاں رہے۔ آپ کا دل مسجد و مدرسہ میں زیادہ لگتا تھا۔ آپ سنت کی پابندی کو سب سے بڑی کرامت اور فقیری فرماتے تھے۔ قطب الاقطاب حضرت شاہ فضل رحمن گنج مراد آبادی رحمۃ اللہ علیہ زمانۂ طالبِ علمی میں مولانا وصی احمد پر خصوصی عنایت فرماتے اور دیگر طالب علموں سے کہتے کہ ان کی عزت کیا کرو یہ ہندوستان میں فرمانِ رسولِ مقبول ﷺ کے محافظ قرار پائیں گے۔ مولانا وصی احمد جب حصن حصین کے درس سے فارغ ہوئے تو شاہ فضل رحمن نے آپ کو خلافت عطا کی اور فرمایا کہ علم کے اظہار میں کبھی بخل نہ کرنا اور حق بات چاہے اپنے اور دوسروں کے حق میں کتنی ہی کڑوی کیوں نہ ہو عوام الناس کی فلاح کیلئے عام کرنا۔
1
*خدمتِ دین:* اللہ جل شانہ نے آپ کو بہت سی صلاحیتوں سے نوازا تھا۔ ہر معاملہ میں علمی نکتے نکالنا اور ہر مسئلہ کو ایک خاص نقطۂ نظر سے پرکھنا آپ کا معمول تھا۔ مطالعہ کا اس قدر شوق تھا کہ ایک ایک کتاب کو کئی کئی مرتبہ پڑھتے حتیٰ کہ وہ حفظ ہوجایا کرتی تھی۔ حدیث و فقہ کی اکثر کتب درسیہ آپ کو زبانی یاد تھیں۔ محدثین کے سلسلے ازبر تھے۔ آپ علیہ الرحمہ نے پیلی بھیت میں"مدرسۃ الحدیث" کی بنیاد رکھی۔ اس کا سنگِ بنیاد رکھنے کے لئے اس وقت کی عظیم شخصیت مجدد اسلام حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کو مدعو کیا گیا۔ علمائے ہندوستان کی موجودگی میں امام اہلسنت نے فنِ حدیث پر تین گھنٹے بیان فرمایا۔ جس پر علماءِ کرام عش عش کر اٹھے۔حضرت محدث سورتی ہروقت درس وتدریس، تصنیف و تالیف میں مصروف رہتے تھے۔ علوم و فنون کے علاوہ آپ نے مستقل چالیس برس حدیث شریف کا درس دیا۔ آپ کےدرسِ حدیث کی دور دور تک شہرت تھی۔دہلی، سہارنپور، کانپور، رامپور، جون پور، علی گڑھ، بنگال، اور لاہور سے تحصیل ِعلوم کی غرض سے طلبہ آپ کے درس حدیث میں شرکت کےلیے پہنچتے تھے۔ نماز فجر کے بعد سے ظہر تک اور ظہر سے آدھی رات تک اور کبھی اس سےبھی زیادہ وقت تک درس جاری رہتا تھا، ہر وقت آپ با وضو رہتے تھے۔ عشقِ رسول کریم ﷺ کا یہ حال تھا کہ درس میں حضور ﷺکا نام نامی ادا کرنے کے بعد قدرے توقف فرماتے تھے، اور آنکھوں سے اشک رواں ہوجاتے تھے۔ درسِ حدیث میں مولانا احمد علی محدث سہارنپوری آپ کو اپنا جانشین کہتےتھے۔

*اصلاح عقائد کی جد و جہد:* تیرہویں صدی کے اواخر اور چودھویں صدی کے شروع میں محکوم ہندوستان میں زندگی بے لگام گھوڑے کی طرح سرپٹ دوڑ رہی تھی۔ طمع اور لالچ نے وہ جال پھیلا یا تھا کہ ہرشخص اپنے پیر چادر سے باہر دیکھنے کا آرزومند تھا۔ نت نئے مسائل اور جدّت طبع کی فراوانی تھی۔ خصوصاً مسلمانوں میں حمیت دینی روزبہ زوال اور نفس پرستی عام ہور ہی تھی۔ ایسی فضا میں کسی عالم کا روشِ دنیا سے علیحدہ رہنا اور اپنے حالات پرقناعت اختیار کرنا کرامت سے کم نہ تھا۔ پورے ہندوستان میں مغربی افکار کو فروغ دیا جارہا تھا اور کتاب و سنت کو مسجدوں اور حجروں تک محدود کرنے کی سامراجی سازش اپنے ہی دینی بھائیوں کے ہاتھوں پروان چڑھ رہی تھی اس سازش کے پیر جمانے میں مصلحت کوش علماء ، بے دین دانشور اور جاہل عوام سب ہی یکساں مصروف تھے۔ اعمالِ شریعت اور اوصافِ طریقت پر شرک و بدعت کا لیبل لگا کر سنت ِاسلاف پر عمل کرنے والوں کو کافر و بدعتی ٹھہرایا جا رہا تھا۔ مصلحت کا یہ حصار کچھ اس قدر وسیع تھا کہ اس میں خود بہت سے نام نہاد صاحب شریعت و طریقت گرفتار تھے۔

سامراجی آقاؤں کی خوشنودی حاصل کرنے کی اس کوشش میں بعض نا عاقبت اندیش علماء تو اس حد تک آگے بڑھ گئے کہ انہوں نے خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ کے اسمِ گرامی کی ادائیگی کو بھی حاضر و غائب کی شرط لگا کر محدود کر دینا چاہا۔ اظہارِ عقیدت کے ذرائع مسدودکر دینے کی ہاں تک جسارت کی گئی کہ اساتذہ کی دست بوسی بھی خلافِ شریعت قرار پائی۔ غیر فطری سوالات اور مسائل اٹھائے گئے ۔ نماز میں رسولِ مقبول ﷺ کا خیال آنا جائز ہے یا ناجائز، رسول اللہ ﷺ کو علم غیب تھا یا نہیں۔ بعد از نماز پیش امام سے مصافحہ کرنا مکروہ ہے یا مسنون، بعد از تلاوت قرآن حکیم کو بوسہ دینا حرام ہے یا حلال، غرض کہ مسلمانوں کے سامنے مذہب کو نہایت تنگ و تلخ بنا کر پیش کیا گیا تاکہ مسلمان اکتاہٹ کا شکار ہو کاس روحانی قوت سے کٹ جائیں جو تیرہ سو سال سے ان کی سرخروئی اور افضلیت کا باعث بنی ہوئی تھی۔

چنانچہ مولانا وصی احمد محدث سورتی نے اس فتنہ کی سنگینی کو محسوس کرتے ہوئے علمی کاوشوں کا جال بچھا دیا اور ہر ممکنہ وسائل کو بروئے کار لا کر عوام الناس کو اصول مذہب سے روشناس کرایا۔ سامراجی حکمرانوں کی سر پرستی میں اٹھائے گئے تمام سوالات کا مفصل جواب دیا اور ان تمام عقائد باطلہ کا رد فرمایا جو اختلافِ امت اور ترکِ مذہب کا باعث بن رہے تھے۔ مولانا وصی احمد محدث سورتی نے جو درس حدیث کے ساتھ تصنیف و تالیف کی جانب بھی مکمل توجہ دے رہے تھے اصول حدیث اور مسائل فقہ کو عام کرنے اور عوام الناس کو صحیح العقیدہ بنانے کیلئے متعدد مذہبی کتابوں پر حواشی لکھے، اورمختلف مسائل پر فتاویٰ رسائل کی صورت میں شائع کرائے۔ اور کذب و اختراع کی دیوار پر برابر کاری ضربیں لگاتے رہے۔

*وصال:* آپ کا وصال 8/جمادی الاخریٰ 1334ھ ،مطابق 12/ اپریل 1916ء، بروز بدھ، بمقام پیلی بھیت میں ہوا۔
*تاریخ وفات:* اعلیٰ حضرت شاہ احمد رضا خاں علیہ الرحمۃ نے قرآن حکیم کی درج ذیل آیتِ کریمہ سے تاریخِ وفات نکالی۔ یطاف علیھم بانیۃ من فضہ واکواب ۔ 1334ھ

*ماخذ و مراجع:* تذکرہ علمائے اہلسنت۔ تذکرہ محدث سورتی۔
https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp

*المرتب محـمد یـوسـف رضـا رضـوی امجـدی نائب مدیر "فیضـانِ دارالعـلوم امجـدیہ ناگپور گروپ" 9604397443*
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
سورۃ البقرہ کی ابتدائی آیت میں بارہ کروڑ نکات ہیں:

مولانا غلام علی آزاد بلگرامی علیہ الرحمہ الم ذلک الکتاب لاریب فیہ الایۃ کی وجوہ اعراب یعنی ترکیب لفظی جس کو انگریزی میں گرامر اور سنسکرت میں ویاکرن کہتے ہیں، بموجب علم نحو کے حضرت مخدوم علی مہائمی علیہ الرحمہ سے بارہ کروڑ تراسی لاکھ چوالیس ہزار پانچ سو چونتیس نقل فرماتے ہیں اور ہر طرز اعراب میں نیا ہی رنگ دکھاتے ہیں -
https://t.me/c/1051447665/4435
امام رازی علیہ الرحمہ تفسیر کبیر میں فرماتے ہیں کہ فقط تعوذ سے قریب دس ہزار مسائل نِکل سکتے ہیں -
📚 تفسیر میزان الادیان اول صفحہ 263
https://t.me/islaamic_Knowledge/22474
📝 حسن نوری گونڈوی
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2095077040654919&id=100004579304922
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1