🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
06-06-1443 | 10-01-2022
07-06-1443 | 11-01-2022
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
07-06-1443 | 11-01-2022
07-06-1443 | 11-01-2022
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
*📚 « امجــــدی مضــــامین » 📚*
-----------------------------------------------------------
*🕯بلعم بن باعوراء کا واقعہ🕯*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
📬 وَاتْلُ عَلَیْهِمْ نَبَاَ الَّذِیْۤ اٰتَیْنٰهُ اٰیٰتِنَا:
اور اے محبوب! انہیں اس آدمی کا حال سناؤ جسے ہم نے اپنی آیات عطا فرمائیں۔
*شانِ نزول:* حضرت عبداللہ بن عباس، عبداللہ بن مسعود اور امام مجاہد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم فرماتے ہیں:
’’ یہ آیت بلعم بن باعوراء کے بارے میں نازل ہوئی۔
*(تفسیرکبیر، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۷۵، ۵ / ۴۰۳)*
حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں کہ جب حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے جَبّارین سے جنگ کا ارادہ کیا اور سر زمینِ شام میں نزول فرمایا تو بلعم بن باعوراء کی قوم اس کے پاس آئی اور اس سے کہنے لگی کہ:
’’ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام بہت تیز مزاج ہیں اور اُن کے ساتھ بہت بڑا لشکر ہے ،وہ یہاں اس لئے آئے ہیں تاکہ ہم سے جنگ کریں اور ہمیں ہمارے شہروں سے نکال کر ہماری بجائے بنی اسرائیل کو اس سرزمین میں آباد کریں ، تیرے پاس اسمِ اعظم ہے اور تم ایسے شخص ہو کہ تمہاری ہر دعا قبول ہوتی ہے، تم نکلو اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرو کہ وہ اُنہیں یہاں سے بھگا دے۔
قوم کی بات سن کر بلعم نے کہا: افسوس ہے تم پر! حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اللہ تعالیٰ کے نبی ہیں ، اُن کے ساتھ فرشتے اور ایمان دار لوگ ہیں ،اس لئے میں اُن کے خلاف کیسے بد دعا کر سکتا ہوں ! مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو علم ملا ہے اس کا تقاضا یہ ہے کہ اگر میں نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے خلاف ایسا کیا تو میری دنیا و آخرت برباد ہوجائے گی۔ قوم نے جب گریہ وزاری کے ساتھ مسلسل اصرار کیا تو بلعم نے کہا :اچھا! میں پہلے اپنے رب کی مرضی معلوم کر لوں۔ بلعم کا یہی طریقہ تھا کہ جب کبھی کوئی دعا کرتا تو پہلے مرضی ٔالٰہی معلوم کرلیتا اور خواب میں اس کا جواب مل جاتا۔
چنانچہ اس مرتبہ اس کو یہ جواب ملا کہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور اُن کے ساتھیوں کے خلاف دعا نہ کرنا۔ چنانچہ اُس نے قوم سے کہہ دیا کہ:
’’میں نے اپنے رب سے اجازت چاہی تھی مگر میرے رب نے اُن کے خلاف بد دعا کرنے کی ممانعت فرما دی ہے۔ پھر اس کی قوم نے اسے ہدیئے اور نذرانے دیئے جنہیں اُس نے قبول کر لیا ۔اس کے بعد قوم نے دوبارہ اس سے بد دعا کرنے کی درخواست کی تو دوسری مرتبہ بلعم نے رب تبارک و تعالیٰ سے اجازت چاہی۔ اب کی بار اس کا کچھ جواب نہ ملا تو اُس نے قوم سے کہہ دیا کہ:
’’ مجھے اس مرتبہ کچھ جواب ہی نہیں ملا۔ وہ لوگ کہنے لگے کہ۔
’’اگر اللہ تعالیٰ کو منظور نہ ہوتا تو وہ پہلے کی طرح دوبارہ بھی صاف منع فرما دیتا، پھر قوم نے اور بھی زیادہ اصرار کیا حتّٰی کہ وہ ان کی باتوں میں آ گیا۔ چنانچہ بلعم بن باعوراء اپنی گدھی پر سوار ہو کر ایک پہاڑ کی طرف روانہ ہوا۔ گدھی نے اسے کئی مرتبہ گرایا اور وہ پھر سوار ہو جاتا حتّٰی کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے حکم سے گدھی نے اس سے کلام کیا اور کہا: افسوس! اے بلعم! کہاں جا رہے ہو؟
کیا تم دیکھ نہیں رہے کہ فرشتے مجھے جانے سے روک رہے ہیں۔ (شرم کرو) کیا تم اللہ تعالیٰ کے نبی اور فرشتوں کے خلاف بد دعا کرنے جا رہے ہو؟
بلعم پھر بھی باز نہ آیا اور آخر کار وہ بد دعا کرنے کے لئے اپنی قوم کے ساتھ پہاڑ پر چڑھا۔ اب بلعم جو بد دعا کرتا اللہ تعالیٰ اس کی زبان کو اس کی قوم کی طرف پھیر دیتا تھا اور اپنی قوم کے لئے جو دعائے خیر کرتا تھا تو بجائے قوم کے بنی اسرائیل کا نام اُس کی زبان پر آتا تھا۔
یہ دیکھ کر اس کی قوم نے کہا: اے بلعم! تو یہ کیا کر رہا ہے؟ بنی اسرائیل کیلئے دعا اور ہمارے لئے بد دعا کیو ں کر رہا ہے؟
بلعم نے کہا:’’ یہ میرے اختیار کی بات نہیں ،میری زبان میرے قبضہ میں نہیں ہے، اللہ تعالیٰ کی قدرت مجھ پر غالب آ گئی ہے۔ اتنا کہنے کے بعد اس کی زبان نکل کر اس کے سینے پر لٹک گئی۔
اس نے اپنی قوم سے کہا :میری تو دنیا و آخرت دونوں برباد ہوگئیں ،اب میں تمہیں ان کے خلاف ایک تدبیر بتاتا ہوں:
’’تم حسین و جمیل عورتوں کو بنا سنوار کر ان کے لشکر میں بھیج دو، اگر ان میں سے ایک شخص نے بھی بدکاری کر لی تو تمہارا کام بن جائے گا کیونکہ جو قوم زنا کرے اللہ تعالیٰ اس پر سخت ناراض ہوتا ہے اور اسے کامیاب نہیں ہونے دیتا۔
چنانچہ بلعم کی قوم نے اسی طرح کیا، جب عورتیں بن سنور کر لشکر میں پہنچیں تو ایک کنعانی عورت بنی اسرائیل کے ایک سردار کے پاس سے گزری تو وہ اپنے حسن و جمال کی وجہ سے اسے پسند آ گئی۔
حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے منع کرنے کے باوجود اس سردار نے اس عورت کے ساتھ بدکاری کی، اس کی پاداش میں اسی وقت بنی اسرائیل پر طاعون مُسلَّط کر دیا گیا۔
-----------------------------------------------------------
*🕯بلعم بن باعوراء کا واقعہ🕯*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
📬 وَاتْلُ عَلَیْهِمْ نَبَاَ الَّذِیْۤ اٰتَیْنٰهُ اٰیٰتِنَا:
اور اے محبوب! انہیں اس آدمی کا حال سناؤ جسے ہم نے اپنی آیات عطا فرمائیں۔
*شانِ نزول:* حضرت عبداللہ بن عباس، عبداللہ بن مسعود اور امام مجاہد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم فرماتے ہیں:
’’ یہ آیت بلعم بن باعوراء کے بارے میں نازل ہوئی۔
*(تفسیرکبیر، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۷۵، ۵ / ۴۰۳)*
حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں کہ جب حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے جَبّارین سے جنگ کا ارادہ کیا اور سر زمینِ شام میں نزول فرمایا تو بلعم بن باعوراء کی قوم اس کے پاس آئی اور اس سے کہنے لگی کہ:
’’ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام بہت تیز مزاج ہیں اور اُن کے ساتھ بہت بڑا لشکر ہے ،وہ یہاں اس لئے آئے ہیں تاکہ ہم سے جنگ کریں اور ہمیں ہمارے شہروں سے نکال کر ہماری بجائے بنی اسرائیل کو اس سرزمین میں آباد کریں ، تیرے پاس اسمِ اعظم ہے اور تم ایسے شخص ہو کہ تمہاری ہر دعا قبول ہوتی ہے، تم نکلو اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرو کہ وہ اُنہیں یہاں سے بھگا دے۔
قوم کی بات سن کر بلعم نے کہا: افسوس ہے تم پر! حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اللہ تعالیٰ کے نبی ہیں ، اُن کے ساتھ فرشتے اور ایمان دار لوگ ہیں ،اس لئے میں اُن کے خلاف کیسے بد دعا کر سکتا ہوں ! مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو علم ملا ہے اس کا تقاضا یہ ہے کہ اگر میں نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے خلاف ایسا کیا تو میری دنیا و آخرت برباد ہوجائے گی۔ قوم نے جب گریہ وزاری کے ساتھ مسلسل اصرار کیا تو بلعم نے کہا :اچھا! میں پہلے اپنے رب کی مرضی معلوم کر لوں۔ بلعم کا یہی طریقہ تھا کہ جب کبھی کوئی دعا کرتا تو پہلے مرضی ٔالٰہی معلوم کرلیتا اور خواب میں اس کا جواب مل جاتا۔
چنانچہ اس مرتبہ اس کو یہ جواب ملا کہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور اُن کے ساتھیوں کے خلاف دعا نہ کرنا۔ چنانچہ اُس نے قوم سے کہہ دیا کہ:
’’میں نے اپنے رب سے اجازت چاہی تھی مگر میرے رب نے اُن کے خلاف بد دعا کرنے کی ممانعت فرما دی ہے۔ پھر اس کی قوم نے اسے ہدیئے اور نذرانے دیئے جنہیں اُس نے قبول کر لیا ۔اس کے بعد قوم نے دوبارہ اس سے بد دعا کرنے کی درخواست کی تو دوسری مرتبہ بلعم نے رب تبارک و تعالیٰ سے اجازت چاہی۔ اب کی بار اس کا کچھ جواب نہ ملا تو اُس نے قوم سے کہہ دیا کہ:
’’ مجھے اس مرتبہ کچھ جواب ہی نہیں ملا۔ وہ لوگ کہنے لگے کہ۔
’’اگر اللہ تعالیٰ کو منظور نہ ہوتا تو وہ پہلے کی طرح دوبارہ بھی صاف منع فرما دیتا، پھر قوم نے اور بھی زیادہ اصرار کیا حتّٰی کہ وہ ان کی باتوں میں آ گیا۔ چنانچہ بلعم بن باعوراء اپنی گدھی پر سوار ہو کر ایک پہاڑ کی طرف روانہ ہوا۔ گدھی نے اسے کئی مرتبہ گرایا اور وہ پھر سوار ہو جاتا حتّٰی کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے حکم سے گدھی نے اس سے کلام کیا اور کہا: افسوس! اے بلعم! کہاں جا رہے ہو؟
کیا تم دیکھ نہیں رہے کہ فرشتے مجھے جانے سے روک رہے ہیں۔ (شرم کرو) کیا تم اللہ تعالیٰ کے نبی اور فرشتوں کے خلاف بد دعا کرنے جا رہے ہو؟
بلعم پھر بھی باز نہ آیا اور آخر کار وہ بد دعا کرنے کے لئے اپنی قوم کے ساتھ پہاڑ پر چڑھا۔ اب بلعم جو بد دعا کرتا اللہ تعالیٰ اس کی زبان کو اس کی قوم کی طرف پھیر دیتا تھا اور اپنی قوم کے لئے جو دعائے خیر کرتا تھا تو بجائے قوم کے بنی اسرائیل کا نام اُس کی زبان پر آتا تھا۔
یہ دیکھ کر اس کی قوم نے کہا: اے بلعم! تو یہ کیا کر رہا ہے؟ بنی اسرائیل کیلئے دعا اور ہمارے لئے بد دعا کیو ں کر رہا ہے؟
بلعم نے کہا:’’ یہ میرے اختیار کی بات نہیں ،میری زبان میرے قبضہ میں نہیں ہے، اللہ تعالیٰ کی قدرت مجھ پر غالب آ گئی ہے۔ اتنا کہنے کے بعد اس کی زبان نکل کر اس کے سینے پر لٹک گئی۔
اس نے اپنی قوم سے کہا :میری تو دنیا و آخرت دونوں برباد ہوگئیں ،اب میں تمہیں ان کے خلاف ایک تدبیر بتاتا ہوں:
’’تم حسین و جمیل عورتوں کو بنا سنوار کر ان کے لشکر میں بھیج دو، اگر ان میں سے ایک شخص نے بھی بدکاری کر لی تو تمہارا کام بن جائے گا کیونکہ جو قوم زنا کرے اللہ تعالیٰ اس پر سخت ناراض ہوتا ہے اور اسے کامیاب نہیں ہونے دیتا۔
چنانچہ بلعم کی قوم نے اسی طرح کیا، جب عورتیں بن سنور کر لشکر میں پہنچیں تو ایک کنعانی عورت بنی اسرائیل کے ایک سردار کے پاس سے گزری تو وہ اپنے حسن و جمال کی وجہ سے اسے پسند آ گئی۔
حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے منع کرنے کے باوجود اس سردار نے اس عورت کے ساتھ بدکاری کی، اس کی پاداش میں اسی وقت بنی اسرائیل پر طاعون مُسلَّط کر دیا گیا۔
Forwarded from فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا مُشیر اس وقت وہاں موجود نہ تھا جب وہ آیا تو اس نے بدکاری کا قصہ معلوم ہونے کے بعد مرد و عورت دونوں کو قتل کر دیا۔
تب طاعون کا عذاب ان سے اٹھا لیا گیا ، لیکن اس دوران ستر ہزار اسرائیلی طاعون سے ہلاک ہو چکے تھے۔ اس آیت میں اس کا بیان ہے۔
*(بغوی، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۷۵، ۲ / ۱۷۹-۱۸۰)*
https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*المرتب⬅ قاضـی شعیب رضـا تحسینی امجـدی، ممبر "فیضـانِ دارالعـلوم امجـدیہ ناگپور گروپ" 7798520672*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
تب طاعون کا عذاب ان سے اٹھا لیا گیا ، لیکن اس دوران ستر ہزار اسرائیلی طاعون سے ہلاک ہو چکے تھے۔ اس آیت میں اس کا بیان ہے۔
*(بغوی، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۷۵، ۲ / ۱۷۹-۱۸۰)*
https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*المرتب⬅ قاضـی شعیب رضـا تحسینی امجـدی، ممبر "فیضـانِ دارالعـلوم امجـدیہ ناگپور گروپ" 7798520672*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
Telegram
فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
اہلسنت و جماعت مسلک اعلیٰ حضرت کا ترجمان، وسط ہند کی عظیم درسگاہ " دارالعلوم امجدیہ ناگپور مہاراشٹرا" کے نام سے منسوب گروپ
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
*🕯 « احــکامِ شــریعت » 🕯*
-----------------------------------------------------------
*📚مخنث پر شرعی حکم نافذ ہوگا یا نہیں📚*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ مفتیان عظام کی بارگاہ میں ایک سوال ہے کیا مخنث پر شرعی حکم نافذ ہوگا*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*📝الجواب: امور دین میں ان کے معاملے میں سب سے زیادہ ( محتاط) مسئلہ اختیار کیا جاے گا*
*چاہے اس کا تعلق عورتوں سے ہو یا مردوں سے*
*📙درمختار*
*اسکی چند مثالیں مندرجہ ذیل*
*۱ نماز میں بیٹھنے کی ہیئت اور ستر وغیرہ کے بارے میں ان کے احکا م عورتوں والے ہونگے*
*📕فتاوی سراجیہ*
*۲ اگر باجماعت نماز میں حاضر ہوں تو انھیں مردوں کے پیچھے کھڑا کیا جاے گا*
*📙درمختار*
*۳ ان کے لئے نامحرم کے ساتھ خلوت اختیار کرنا ناجائز وحرام ہے ( ایضا)*
*۴ ان کے لئے ریشم اور ناجائز زیور جیسے سونا پیتل تانبہ وغیرہ کی انگوٹھی چھلے یا چاندی کی ساڑھے چارماشہ سے زیادہ کی انگوٹھی پہننا ناجائز ہے*
*۵ چونکہ ان میں عورت ہونے کا احتمال بھی موجود ہے لھذا یہ بغیر محرم کے شرعی سفر اختیار نہیں کرسکتے ( ایضا)*
*۶ اگر یہ مرتد ہوجائیں تو انھیں قتل نہ کیا جاے گا*
*📕فتاوی سراجیہ*
*۷ اگر یہ جہاد میں حصہ لیں تو باقاعدہ ان کے لئے کوئی حصہ مقرر نہیں ہاں عورتوں کی مثل تھوڑا بہت دیا جاے گا*
*📙فتاوی سراجیہ*
*۸ اگر یہ حج یاعمرہ کریں تو عورتوں والا احرام ہوگا*
*📗جوہرہ نیرہ*
*۹ مرجانے کی صورت میں انھیں غسل دیا جاے گا اگر ذی رحم محرم ہوتو پانی کے ساتھ اور اگر کوئی محرم نہ ہو تو پھر اجنبی شخص ہاتھ پر کپڑا لپیٹ کر پاک مٹی سے تیمم کراے گا*
*📗فتاوی عالمگیری*
*۱۰ ان کا جنازہ پڑھایا جاے گا*
*📕ھدایہ*
*۱۱ انھیں عورتوں کی مثل پانچ کپڑوں میں کفن دیا جاے گا*
*📗جوہرہ نیرہ*
*۱۲ اگر یہ کسی کو زناء کی تہمت لگائیں تو ان پر حدقذف جاری ہوگی*
*📙جوہرہ نیرہ*
*۱۳ اگر ان پر کوئی زناء کی تہمت لگاے تو اس پر حدقذف نہیں ایضا*
*۱۴ اگر یہ چوری کریں اور تمام شرائط پائی جائیں تو ان کا ہاتھ کاٹا جاے گا ایضا*
*۱۵ امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کے نزدیک وراثت کے مسئلے میں یہ عورت کے حکم میں ہونگے*
*📕ھدایہ*
*📗حوالہ ہمارے مسائل اور ان کا حل جلد۲ ص 232*
*واللہ اعلم*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*📝ازقلم حضرت علامہ مولانا محمد اسماعیل خان امجدی صاحب قبلہ مدظلہ العالی و النورانی خادم التدریس دارالعلوم شہید اعظم دولھا پور گونڈہ یوپی ــــــــــــــــــ📞 9918562794*
https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
-----------------------------------------------------------
*📚مخنث پر شرعی حکم نافذ ہوگا یا نہیں📚*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ مفتیان عظام کی بارگاہ میں ایک سوال ہے کیا مخنث پر شرعی حکم نافذ ہوگا*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*📝الجواب: امور دین میں ان کے معاملے میں سب سے زیادہ ( محتاط) مسئلہ اختیار کیا جاے گا*
*چاہے اس کا تعلق عورتوں سے ہو یا مردوں سے*
*📙درمختار*
*اسکی چند مثالیں مندرجہ ذیل*
*۱ نماز میں بیٹھنے کی ہیئت اور ستر وغیرہ کے بارے میں ان کے احکا م عورتوں والے ہونگے*
*📕فتاوی سراجیہ*
*۲ اگر باجماعت نماز میں حاضر ہوں تو انھیں مردوں کے پیچھے کھڑا کیا جاے گا*
*📙درمختار*
*۳ ان کے لئے نامحرم کے ساتھ خلوت اختیار کرنا ناجائز وحرام ہے ( ایضا)*
*۴ ان کے لئے ریشم اور ناجائز زیور جیسے سونا پیتل تانبہ وغیرہ کی انگوٹھی چھلے یا چاندی کی ساڑھے چارماشہ سے زیادہ کی انگوٹھی پہننا ناجائز ہے*
*۵ چونکہ ان میں عورت ہونے کا احتمال بھی موجود ہے لھذا یہ بغیر محرم کے شرعی سفر اختیار نہیں کرسکتے ( ایضا)*
*۶ اگر یہ مرتد ہوجائیں تو انھیں قتل نہ کیا جاے گا*
*📕فتاوی سراجیہ*
*۷ اگر یہ جہاد میں حصہ لیں تو باقاعدہ ان کے لئے کوئی حصہ مقرر نہیں ہاں عورتوں کی مثل تھوڑا بہت دیا جاے گا*
*📙فتاوی سراجیہ*
*۸ اگر یہ حج یاعمرہ کریں تو عورتوں والا احرام ہوگا*
*📗جوہرہ نیرہ*
*۹ مرجانے کی صورت میں انھیں غسل دیا جاے گا اگر ذی رحم محرم ہوتو پانی کے ساتھ اور اگر کوئی محرم نہ ہو تو پھر اجنبی شخص ہاتھ پر کپڑا لپیٹ کر پاک مٹی سے تیمم کراے گا*
*📗فتاوی عالمگیری*
*۱۰ ان کا جنازہ پڑھایا جاے گا*
*📕ھدایہ*
*۱۱ انھیں عورتوں کی مثل پانچ کپڑوں میں کفن دیا جاے گا*
*📗جوہرہ نیرہ*
*۱۲ اگر یہ کسی کو زناء کی تہمت لگائیں تو ان پر حدقذف جاری ہوگی*
*📙جوہرہ نیرہ*
*۱۳ اگر ان پر کوئی زناء کی تہمت لگاے تو اس پر حدقذف نہیں ایضا*
*۱۴ اگر یہ چوری کریں اور تمام شرائط پائی جائیں تو ان کا ہاتھ کاٹا جاے گا ایضا*
*۱۵ امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کے نزدیک وراثت کے مسئلے میں یہ عورت کے حکم میں ہونگے*
*📕ھدایہ*
*📗حوالہ ہمارے مسائل اور ان کا حل جلد۲ ص 232*
*واللہ اعلم*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*📝ازقلم حضرت علامہ مولانا محمد اسماعیل خان امجدی صاحب قبلہ مدظلہ العالی و النورانی خادم التدریس دارالعلوم شہید اعظم دولھا پور گونڈہ یوپی ــــــــــــــــــ📞 9918562794*
https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
Telegram
فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
اہلسنت و جماعت مسلک اعلیٰ حضرت کا ترجمان، وسط ہند کی عظیم درسگاہ " دارالعلوم امجدیہ ناگپور مہاراشٹرا" کے نام سے منسوب گروپ
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
*📚 « مختصــر ســوانح حیــات » 📚*
-----------------------------------------------------------
*🕯امام المحدثین حضرت شاہ وصی احمد محدث سورتی رحمۃ اللہ علیہ🕯*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*نام و نسب:*
*اسمِ گرامی:* وصی احمد۔
*لقب:* شیخ المحدثین۔ علاقہ "سورت" کی نسبت سے سورتی کہلاتے ہیں۔
*سلسلۂ نسب اسطرح ہے:* مولانا وصی احمد محدث سورتی بن مولانا محمد طیب بن مولانا محمد طاہربن محمد قاسم بن محمد ابراہیم۔ (علیہم الرحمہ) آپ علیہ الرحمہ کا شجرۂ نسب صحابیِ رسول، حضرت سہیل بن حنیف رضی اللہ عنہ سے ملتا ہے۔ اور آپ اپنے نام کے ساتھ حنفی اور حنیفی لکھا کرتے تھے۔
*تاریخِ ولادت:* آپ کی ولادت باسعادت 1252ھ، مطابق 1836ء کو "راند یر" ضلع سورت، ہند وستان میں ہوئی۔
*تحصیل علم:* ابتدائی تعلیم اپنے والدِگرامی مولانا محمد طیب سورتی سے حاصل کی۔ مسجدِ فتح پور دہلی میں قیام کیا۔ اُس وقت مسجد فتح پور میں حضرت مفتی محمد مسعود محدث دہلوی درس و تدریس میں مصروف تھے۔ اُن کے ہی مشورے پر مدر سۂ حسین بخش میں داخلہ لیا اور علماء و فضلاء سے صرف و نحو، تفسیر و تراجم اور دیگر قرآنی علوم حاصل کیے اور ایک سال بعد 1279ھ میں" مدرسۂ فیض عام" کانپور میں داخلہ لیا اور تمام علوم میں فراغت حاصل کی۔طب کی تعلیم حکیم عبدالعزیز لکھنوی سے حاصل کی۔ آپ کے اساتذہ میں یہ نابغہ ٔروزگار ہستیاں ہیں۔ حضرت مولانا مفتی لطف اللہ علی گڑھی، حضرت مولانا احمد حسن کانپوری،حضرت شاہ فضل رحمن گنج مراد آبادی، حضرت مولانا محمد علی مونگیری، حضرت مولانا احمد علی محدث سہارنپوری۔ (علیہم الرحمہ)
*بیعت و خلافت:* اویسِ دوراں حضرت شاہ فضل رحمن گنج مراد آبادی علیہ الرحمۃ سے دوران تعلیم بیعت ہوئے اور تکمیلِ ریاضت کے بعد خلافت سر فراز ہوئے۔
*سیرت و خصائص:* امام المحدثین، استاذ المدرسین، جامع علومِ نقلیہ و عقلیہ، فقیہِ کامل، حامیِ سنتِ، دافعِ بدعت، محسنِ اہلِ سنت، محبِ اعلیٰ حضرت، وحید العصر، خادم الفقہِ والحدیث، شیخ الحدیث حضرت علامہ مولانا شاہ وصی احمدمحدث سورتی رحمۃ اللہ علیہ۔
آپ علیہ الرحمہ سراپا علم و حکمت تھے۔ تمام علوم پر مہارتِ تامہ حاصل تھی۔ باالخصوص فنِ حدیث میں وحیدِ زمانہ تھے۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ علم و فضل، تقویٰ وعمل میں اپنے اسلاف کی تصویر تھے۔ آپ نے انتہائی سادہ، نیک، باوضع، اور با اخلاق مزاج پایا تھا۔ لباس سادہ استعمال کرتے تھے اور معمولی غذا استعمال کرتے تھے۔ طلبہ سے بے پناہ محبت کرتے تھے۔غریب طلبہ کی مالی اعانت فرماتے تھے۔ عام مسلمانوں سے ہمدردی سے پیش آتے تھے۔
آپ کو غرور، تکبر، اور غیبت، بُرائی، سے شدید نفرت تھی۔تصوف سے خاص لگاؤ تھا، مگر خانقاہی زندگی اور ترک ِدنیا سے ہمیشہ گریزاں رہے۔ آپ کا دل مسجد و مدرسہ میں زیادہ لگتا تھا۔ آپ سنت کی پابندی کو سب سے بڑی کرامت اور فقیری فرماتے تھے۔ قطب الاقطاب حضرت شاہ فضل رحمن گنج مراد آبادی رحمۃ اللہ علیہ زمانۂ طالبِ علمی میں مولانا وصی احمد پر خصوصی عنایت فرماتے اور دیگر طالب علموں سے کہتے کہ ان کی عزت کیا کرو یہ ہندوستان میں فرمانِ رسولِ مقبول ﷺ کے محافظ قرار پائیں گے۔ مولانا وصی احمد جب حصن حصین کے درس سے فارغ ہوئے تو شاہ فضل رحمن نے آپ کو خلافت عطا کی اور فرمایا کہ علم کے اظہار میں کبھی بخل نہ کرنا اور حق بات چاہے اپنے اور دوسروں کے حق میں کتنی ہی کڑوی کیوں نہ ہو عوام الناس کی فلاح کیلئے عام کرنا۔
-----------------------------------------------------------
*🕯امام المحدثین حضرت شاہ وصی احمد محدث سورتی رحمۃ اللہ علیہ🕯*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*نام و نسب:*
*اسمِ گرامی:* وصی احمد۔
*لقب:* شیخ المحدثین۔ علاقہ "سورت" کی نسبت سے سورتی کہلاتے ہیں۔
*سلسلۂ نسب اسطرح ہے:* مولانا وصی احمد محدث سورتی بن مولانا محمد طیب بن مولانا محمد طاہربن محمد قاسم بن محمد ابراہیم۔ (علیہم الرحمہ) آپ علیہ الرحمہ کا شجرۂ نسب صحابیِ رسول، حضرت سہیل بن حنیف رضی اللہ عنہ سے ملتا ہے۔ اور آپ اپنے نام کے ساتھ حنفی اور حنیفی لکھا کرتے تھے۔
*تاریخِ ولادت:* آپ کی ولادت باسعادت 1252ھ، مطابق 1836ء کو "راند یر" ضلع سورت، ہند وستان میں ہوئی۔
*تحصیل علم:* ابتدائی تعلیم اپنے والدِگرامی مولانا محمد طیب سورتی سے حاصل کی۔ مسجدِ فتح پور دہلی میں قیام کیا۔ اُس وقت مسجد فتح پور میں حضرت مفتی محمد مسعود محدث دہلوی درس و تدریس میں مصروف تھے۔ اُن کے ہی مشورے پر مدر سۂ حسین بخش میں داخلہ لیا اور علماء و فضلاء سے صرف و نحو، تفسیر و تراجم اور دیگر قرآنی علوم حاصل کیے اور ایک سال بعد 1279ھ میں" مدرسۂ فیض عام" کانپور میں داخلہ لیا اور تمام علوم میں فراغت حاصل کی۔طب کی تعلیم حکیم عبدالعزیز لکھنوی سے حاصل کی۔ آپ کے اساتذہ میں یہ نابغہ ٔروزگار ہستیاں ہیں۔ حضرت مولانا مفتی لطف اللہ علی گڑھی، حضرت مولانا احمد حسن کانپوری،حضرت شاہ فضل رحمن گنج مراد آبادی، حضرت مولانا محمد علی مونگیری، حضرت مولانا احمد علی محدث سہارنپوری۔ (علیہم الرحمہ)
*بیعت و خلافت:* اویسِ دوراں حضرت شاہ فضل رحمن گنج مراد آبادی علیہ الرحمۃ سے دوران تعلیم بیعت ہوئے اور تکمیلِ ریاضت کے بعد خلافت سر فراز ہوئے۔
*سیرت و خصائص:* امام المحدثین، استاذ المدرسین، جامع علومِ نقلیہ و عقلیہ، فقیہِ کامل، حامیِ سنتِ، دافعِ بدعت، محسنِ اہلِ سنت، محبِ اعلیٰ حضرت، وحید العصر، خادم الفقہِ والحدیث، شیخ الحدیث حضرت علامہ مولانا شاہ وصی احمدمحدث سورتی رحمۃ اللہ علیہ۔
آپ علیہ الرحمہ سراپا علم و حکمت تھے۔ تمام علوم پر مہارتِ تامہ حاصل تھی۔ باالخصوص فنِ حدیث میں وحیدِ زمانہ تھے۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ علم و فضل، تقویٰ وعمل میں اپنے اسلاف کی تصویر تھے۔ آپ نے انتہائی سادہ، نیک، باوضع، اور با اخلاق مزاج پایا تھا۔ لباس سادہ استعمال کرتے تھے اور معمولی غذا استعمال کرتے تھے۔ طلبہ سے بے پناہ محبت کرتے تھے۔غریب طلبہ کی مالی اعانت فرماتے تھے۔ عام مسلمانوں سے ہمدردی سے پیش آتے تھے۔
آپ کو غرور، تکبر، اور غیبت، بُرائی، سے شدید نفرت تھی۔تصوف سے خاص لگاؤ تھا، مگر خانقاہی زندگی اور ترک ِدنیا سے ہمیشہ گریزاں رہے۔ آپ کا دل مسجد و مدرسہ میں زیادہ لگتا تھا۔ آپ سنت کی پابندی کو سب سے بڑی کرامت اور فقیری فرماتے تھے۔ قطب الاقطاب حضرت شاہ فضل رحمن گنج مراد آبادی رحمۃ اللہ علیہ زمانۂ طالبِ علمی میں مولانا وصی احمد پر خصوصی عنایت فرماتے اور دیگر طالب علموں سے کہتے کہ ان کی عزت کیا کرو یہ ہندوستان میں فرمانِ رسولِ مقبول ﷺ کے محافظ قرار پائیں گے۔ مولانا وصی احمد جب حصن حصین کے درس سے فارغ ہوئے تو شاہ فضل رحمن نے آپ کو خلافت عطا کی اور فرمایا کہ علم کے اظہار میں کبھی بخل نہ کرنا اور حق بات چاہے اپنے اور دوسروں کے حق میں کتنی ہی کڑوی کیوں نہ ہو عوام الناس کی فلاح کیلئے عام کرنا۔
❤1